Baaghi TV

Tag: توشہ خانہ

  • عمران خان کی سزا معطلی بشری بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟

    عمران خان کی سزا معطلی بشری بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟

    عمران خان کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کی ہے،اس پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل جاری ہے

    جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ نے عمران خان کی سزا معطلی پر کہا ہے کہ کیا عمران خان کی سزا معطلی بشری بی بی کی ملاقاتوں کا نتیجہ تو نہیں؟ سیاسی مخالفین کو این ار او کا طعنہ دینے والا عمران خان تھوڑا سا اپنی اہلیہ کی طرف نظرڈال کر بھی دیکھے ،اب بشری بی بی کس کے لیے دوست اسلامی ملک سے این ار او مانگ رہی ہیں ؟

    حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایک تحقیقاتی صحافی کی خبر نے عمران خان کا اصل چہرہ قوم کے سامنے بے نقاب کیا تھا .بشری بی بی اسلام اباد کے فائیو اسٹار ہوٹل میں اسلامی ملک کی اہم شخصیت سے کیوں ملی؟ بشری بی بی نے اس اہم شخصیت کو یہ بھی کہا کہ عمران خان ملک سے باہر جانےکو تیار ہے ،اج میں ساری قوم کو بتا دوں عمران خان اب باہر جانے کے لیے منتیں کررہا ہے

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

  • امریکا کی غلامی کرتے ہوئے عمران خان کو اندرکیا گیا،لطیف کھوسہ

    امریکا کی غلامی کرتے ہوئے عمران خان کو اندرکیا گیا،لطیف کھوسہ

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے توشہ خانہ کیس فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو ایک دن بھی توشہ خانہ کیس میں اند نہیں رہنا چاہیے تھا ،سائفر کیس سے زیادہ واہیات کیس نہیں ہوسکتا ،امریکا ہمیں معاف کرنے والا کون ہوتا ہے،پاکستان پچیس کروڑ عوام کی ریاست اور ایٹمی طاقت ہے ڈونلڈ لو کا بیان سر اسر توہین ہے دو نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میٹنگز میں اسے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا گیا قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاسوں کے بعد پاکستان نے سخت سفارتی رد عمل دیا دوسرے قومی سلامتی اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف تھا ،کون سے سائفر کو منظر عام پر لایا گیا ؟

    لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ جو کابینہ نے ڈی کلاسیفائی کیا تو کوئی سیکریسی باقی نہیں رہتی ،سائفر دفتر خارجہ کی عمارت سے باہر جا ہی نہیں سکتا ،سائفر کے ترجمے کے کاغذ پوری دنیا کے پاس موجود ہیں ،بھٹو کو ایٹم بم پروگرام بند نہ کرنے کی پاداش میں پھانسی چڑھا دیا گیا ،امریکا کی غلامی کرتے ہوئے عمران خان،شاہ محمود قریشی کو اندرکیا گیا

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس، عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر،کل پیشی کا امکان

    سائفر کیس، عمران خان جوڈیشل ریمانڈ پر،کل پیشی کا امکان

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری ہو گئی

    جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے حکم دیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں ہی قید رکھا جائے،چیئرمین پی ٹی آئی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمے میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں،30 اگست کو عدالت پیش کیا جائے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سپریٹنڈٹ اٹک جیل کو مراسلہ ارسال کر دیا،

     سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات بھی کر چکی ہے، ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، توشہ خانہ کیس میں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم

    عمران خان کی سزا معطل، اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا،تحریری فیصلے میں عدالت نے کہا کہ عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے، سزا معطلی کی درخواست منظور کرکے 5 اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے، درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے،ٹرائل کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ پر سزا کا فیصلہ سنایا

    سزا معطلی کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے قائم علی شاہ کیس کا حوالہ بھی شامل،اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے،عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے،” سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر کیس میں سزا معطل ہو ، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ضمانت دینا یا انکار کرنا ہائی کورٹ کی صوابدید ہے ، اس کیس میں دی گئی سزا کم دورانیے کی ہے ، عدالت سمجھتی ہے کہ درخواست گزار سزا معطلی اور ضمانت پر رہائی کا حقدار ہے ، سزا معطلی کی درخواست منظور کر کے پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کیا جاتا ہے درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے کے مچلکے داخل کرانے پر ضمانت پر رہا کیا جائے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی، عدالت نے ایک لاکھ کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہفیصلہ باضابطہ طور پر کمرہ عدالت میں نہیں سنا رہے، عدالت نے پی ٹی آئی کے وکلا سے کہا کہ تحریری فیصلے میں سزا معطلی کی وجوہات بتائی جائیں گی ،

    عدالت نے فیصلہ سنایا تو وکلا کی بڑی تعداد عدالت کے اندر موجود تھی، عمران خان کی بہنیں عظمیٰ خان اور علیمہ بھی کمرہ عدالت میں آئیں تا ہم 12 بج کر پچاس منٹ پر عمران خان کی بہنیں فیصلہ سنے بغیر ہی واپس چلی گئیں،،اس موقع پر عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری کمرہ عدالت کے باہر بھی تعینات کی گئی تھی،درخواست پر 9 کو اگست پہلی سماعت ہوئی تھہ آج 20 روز بعد فیصلہ سنایا گیا، عدالت نے فیصلہ سنانے کا وقت گیارہ بجے کا مقرر کیا تھا مگر فیصلہ تاخیر سے سنایا گیا،

    فیصلے کے انتظار کے دوران وکلا کمرہ عدالت میں ویڈیو بناتے رہے جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے عدالتی عملے کی جانب سے تنبیہ کی گئی اور کہا گیا کہ ویڈیو نہ بنائیں، موبائل سائلنٹ کردیں، سیٹوں پر بیٹھ جائیں، کچھ ہی دیر میں ججز آنے والے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    عمران خان نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی تھی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی جانب سے لطیف کھوسہ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے بھی اسلام آباد ہائیکورٹ کو حکم دیا تھا کہ ایک دن میں فیصلہ کریں تا ہم ایک دن میں فیصلہ نہ ہو سکا، آج عدالت نے فیصلہ سنایا ہے،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    لاڈلے کو بچانے کے لئے خود چیف جسٹس مانیٹرنگ جج بن گئے،شہباز شریف
    عدالتی فیصلے پر سابق وزیراعظم، ن لیگ کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس کا "گُڈ ٹو سی یو” اور "وشنگ یو گڈ لک” کا پیغام اسلامآباد ہائی کورٹ تک پہنچ گیا۔ فیصلہ آنے سے پہلے ہی سب کو پتہ ہو کہ فیصلہ کیا ہوگا تو یہ نظام عدل کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے ۔ اعلی عدلیہ سے واضح پیغام مل جائے تو ماتحت عدالت یہ نہ کرے تو اور کیا کرے؟

    سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی،مجرم ابھی بھی مجرم ہے
    صحافی فیصل عباسی کہتے ہیں کہ سزا معطل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سزا ختم ہو گئی ہے اور کیس سے بری کر دیا گیا ہے۔ مجرم ابھی بھی مجرم ہے اور الیکشن کے لیے نااہل ہے۔ قانون کے مطابق ٹرائل کورٹ سے تین سال کی سزا تک کو اعلی عدلیہ اس وقت تک معطل کر سکتی ہے جب تک اس کیس کا کوئی فیصلہ نہیں سنایا جاتا۔ اس عمل میں سزا پھر بھی قائم رہتی ہے اور مجرم ، مجرم ہی رہتا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کرمنل پروسیجر کوڈ کے تحت عمران خان کی سزا تب تک معطل کرے گی جب تک ان کی اپیل کا فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ سیکشن 426 کے مطابق یہ معطلی صرف اُس وقت تک ہے جب تک اسکی مین اپیل کورٹ میں پینڈنگ ہے.

  • کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکا جائے،عمران خان کی درخواست دائر

    کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکا جائے،عمران خان کی درخواست دائر

    توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر فیصلے سے قبل اہم پیشرفت سامنے آئی ہے ،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کسی بھی کیس میں گرفتاری سے روکنے کی درخواست دائر کردی، عمران خان نے وکیل سلمان صفدر کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی، جس میں عمران خان نے ایف آئی اے ، نیب اور پولیس کو گرفتاری سے روکنے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عمران خان کی طرف سے آج ہی درخواست پر سماعت کی استدعا بھی کی گئی

    دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ میں عمران خان کی سائفر کیس میں ممکنہ گرفتاری کے خلاف ضمانت قبل از وقت گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی، درخواست میں وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے

    دوسری جانب ایف آئی اے کی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر کی سربراہی میں اٹک جیل پہنچ گئی ،ایف آئی اے کی ٹیم سائفر کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے لیے پہنچی ہے ایف آئی اے تفشیش ٹیم اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہی ہے اگر اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت ہوتی ہے تو سائفر کیس میں عمران خان گرفتاری ڈال کر اٹک جیل میں ہی چئیرمین پی ٹی آئی کو بند کر دیا جائے گا

    واضح رہے کہ سائفر کیس میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور تحقیقاتی ٹیم عمران خان سے اٹک جیل میں تحقیقات بھی کر چکی ہے، ، تحقیقاتی ٹیم ایک گھنٹے تک اٹک جیل میں عمران خان کے پاس رہی، عمران خان نے اعتراف کر لیا ہے کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ہے،ایف آئی اے کی تین رکنی ٹیم ڈپٹی ڈائریکٹر ایاز خان کی سربراہی میں چیئرمین پی ٹی آئی سے پوچھ گچھ کے لیے اٹک جیل گئی تھی،، چیئرمین پی ٹی آئی اوروائس چئیرمین شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس میں ایف آئی آر درج ہوچکی ہے ،ایف آئی آر میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعہ 5 اور 9 لگائی گئی ہے اس کے علاوہ دونوں کےخلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگی ہوئی ہے،

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سائفر جلسے میں لہرایا تھا اور پھر کہا تھا کہ وہ گم ہو گیا ہے، سائفر کی ایف آئی اے میں تحقیقات جاری ہیں، چند روز قبل ایک امریکی ویب سائٹ نے سائفر شائع کرنے کا دعویٰ کیا ہے،عمران خان نے سائفر کو ہی بنیاد بنا کر امریکہ کے خلاف تحریک چلائی تھی،عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی سائفر کے حوالہ سے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں، اعظم خان نے اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے، اعظم خان اور عمران خان کی ایک آڈیو بھی سائفر کے حوالہ سے لیک ہوئی تھی جس کے بعد ایف آئی اے نے عمران خان کو طلب کیا تھا تا ہم عمران خان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی اور تحقیقات رکوانے کی کوشش کی، گزشتہ سماعت پر عدالت نے تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا،

    سائفر انکوائری اور مقدمات کی تفصیلات فراہمی کے پانچ کیسز پر سماعت

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

     اعظم خان نے سائفر ڈرامہ بے نقاب کر دیا

    عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے عمران خان کے خلاف بیان ریکارڈ کروایا تھا، اعظم خان نے کہا کہ عمران خان نے مجھ سے سائفر 9 مارچ کو لیا اور پھر کہا سائفر گم ہو گیا ہے، ایک خفیہ سرکاری دستاویز کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اور جھوٹا بیانیہ بنایا،سائفر کے جھوٹے بیانیے کا پلان عمران خان، شیریں مزاری اور دو مزید لوگوں نے بنایا

  • بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد اٹک جیل روانہ

    بشریٰ بی بی ضمانت ملنے کے بعد اٹک جیل روانہ

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی گئی

    بشریٰ بی بی توشہ خانہ کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد میں ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے پیش ہوئیں ،بشریٰ بی بی اپنے وکلاء لطیف کھوسہ اور انتظار پنجوتھہ کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئیں ،احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے رخصت پر ہونے کے باعث ڈیوٹی جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے درخواست پر سماعت کی

    احتساب عدالت نے توشہ خانہ کیس میں بشری بی بی کی 5 لاکھ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 12 ستمبر تک عبوری ضمانت منظور کر لی

    بشریٰ بی بی عدالت سے اٹک روانہ ہو گئی ہیں وہ اٹک جیل میں اپنے شوہر عمران خان سے ملاقات کریں گی، بشریٰ بی بی کی عمران خان سے اٹک جیل میں تین ملاقاتیں ہو چکی ہیں، ملاقات کے لئے منگل کا دن مقرر ہے، آج بشریٰ بی بی کی عمران خان سے چوتھی ملاقات ہو گی

    بشری بی بی کو دوبارہ نیب نے نوٹس بھیجے تھے ،آج نیب نے بھی بشریٰ بی بی کو طلب کر رکھا تھا تا ہم بشریٰ بی بی نیب میں پیش نہیں ہوئیں، نیب کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ کو غیر ملکی معززین کی جانب سے نہایت قیمتی اورلاکھوں روپے مالیت کے تحائف ملے جو انھوں نے کم دام ادا کر کے اپنے پاس رکھ لیے بشری بی بی نے بطور تحفہ 2019 میں ملنے والا ایک لاکٹ اور چین، ایک جوڑا بُندے، دو عدد انگوٹھیاں اور ایک بریسلیٹ جبکہ 2020 میں ہیروں سے جڑا سونے کا ایک ہار، ایک بریسلیٹ، ایک انگوٹھی اور بُندوں کا ایک جوڑا، جبکہ 2021 میں ایک ہار، ایک جوڑا بُندوں کا، ایک انگوٹھی اور ایک ہاتھ میں پہنی جانے والی گھڑی اپنے پاس رکھی ، یہ تمام تحائف سرکار کی ملکیت تھے جنھیں آپ نے سرکاری طور پر توشہ خانہ میں جمع نہیں کروایا گیا اور نہ ہی ان کو ملکی قوانین کے مطابق حاصل کرنے کے لیے قیمت لگوائی گئیم سابق وزیر اعظم عمران خان اوران کی اہلیہ نے نہ صرف ان سرکاری حیثیت میں ملنے ولے تحائف کو اپنے پاس رکھا بلکہ ان سے مالی فائدہ بھی حاصل کیا گیا۔ نوٹس میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اس میں درج سوالوں کے سچائی اور یمانداری پر مبنی جوابات جلد از جلد جمع کروائے جائیں

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے، جیل قوانین کے مطابق 48 گھنٹوں میں تمام سہولیات ملنی تھیں جو ابھی تک نہیں دی گئیں، بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پرائیویٹ ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کی بھی استدعا کی اور کہا کہ شوہر کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات نہ دینے پر قانونی انکوائری کا مطالبہ کرتی ہوں میرے شوہر کو بی کلاس، اڈیالہ جیل منتقلی، پرائیویٹ ڈاکٹر اور گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    nab notice

  • سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توشہ خانہ تحائف کے حوالے سے نیا قانون توثیق کیلئے صدر پاکستان کے پاس ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون بے شک نیا بن جائے ہائی کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ برقرار رہے گا، ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ توشہ خانہ تحائف عوامی ملکیت ہیں، عوامی ملکیت کے حامل تحائف کی نیلامی میں ہر شخص حصہ لے سکتا ہے، تحائف عوامی ملکیت ہیں تو ایسا ممکن نہیں کہ صرف مخصوص افراد ہی خرید سکیں،

    جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ آئین اور قانون کے مطابق درست ہے، سب سے زیادہ بولی دینے والا ہی تحفہ خریدنے کا حقدار ہوسکتا ہے،وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی پیروی کرنے یا نہ کرنے پر وقت مانگ لیا ،ڈپٹی اٹارنی جنرل ملک جاویدنے حکومت سے ہدایات لینے کی استدعا کر دی،سپریم کورٹ نے سماعت میں کچھ دیر کا وقفہ کر دیا

    وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کیس میں لاہورہائیکورٹ احکامات کیخلاف دائر اپیل واپس لے لی ، سپریم کورٹ میں توشہ خانہ تحائف کی نیلامی سے متعلق کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی تو وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کیس میں لاہور ہائیکورٹ احکامات کے خلاف دائر اپیل واپس لے لی ،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ توشہ خانہ نئے رولز کی روشنی میں اپیل واپس لینا چاہتے ہیں ،جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رولز پر نہ جائیں، توشہ خانہ پر پہلے ہی بہت شرمندگی ہو چکی ہے

    لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص لوگوں کے لیے توشہ خانہ کی اشیاء کی نیلامی کی حکومتی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا.

    پی ٹی آئی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف 2021 میں اپیل دائر کی تھی، جبکہ توشہ خانہ یا اسٹیٹ ریپازیٹری کا نام تو آپ نے اس سارے معاملے کے دوران بار بار سنا ہو گا۔ یہ دراصل ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔

    خیال رہے کہ کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جبکہ یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • توشہ خانہ  تحائف نیلامی کیس: سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ تحائف نیلامی کیس: سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر

    توشہ خانہ کے تحائف نیلامی کا کیس سپریم کورٹ میں سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا ہے جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف کل اپیل پر سماعت کرے گا اور لاہور ہائیکورٹ نے مخصوص لوگوں کے لیے توشہ خانہ کی اشیاء کی نیلامی کی حکومتی پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا تھا.

    پی ٹی آئی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف 2021 میں اپیل دائر کی تھی، جبکہ توشہ خانہ یا اسٹیٹ ریپازیٹری کا نام تو آپ نے اس سارے معاملے کے دوران بار بار سنا ہو گا۔ یہ دراصل ایک ایسا سرکاری محکمہ ہے جہاں دوسری ریاستوں کے دوروں پر جانے والے حکمران یا دیگر اعلیٰ عہدیداروں کو ملنے والے قیمتی تحائف جمع کیے جاتے ہیں۔

    خیال رہے کہ کسی بھی غیر ملکی دورے کے دوران وزارتِ خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں اور ملک واپسی پر ان کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے جبکہ یہاں جمع ہونے والے تحائف یادگار کے طور پر رکھے جاتے ہیں یا کابینہ کی منظوری سے انھیں فروحت کر دیا جاتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انٹربینک میں ڈالر 302 روپے کا ہوگیا
    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ
    نوازشریف ہی عوام کومہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے سے بچائیں گے،مریم نواز

    یاد رہے کہ پاکستان کے قوانین کے مطابق اگر کوئی تحفہ 30 ہزار روپے سے کم مالیت کا ہے تو تحفہ حاصل کرنے والا شخص اسے مفت میں اپنے پاس رکھ سکتا ہے۔ جن تحائف کی قیمت 30 ہزار سے زائد ہوتی ہے، انھیں مقررہ قیمت کا 50 فیصد جمع کروا کے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سنہ 2020 سے قبل یہ قیمت 20 فیصد تھی تاہم تحریک انصاف کے دور میں اسے 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا تھا۔ اور ان تحائف میں عام طور پر مہنگی گھڑیاں، سونے اور ہیرے سے بنے زیوارت، مخلتف ڈیکوریشن پیسز، سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔

  • جیل میں عمران خان کی صحت خراب،بشریٰ بی بی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    جیل میں عمران خان کی صحت خراب،بشریٰ بی بی سپریم کورٹ پہنچ گئی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں انہیں سزا ہوئی، جیل میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی تین الگ الگ ملاقاتیں ہو چکی ہیں،کل سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی تو سپریم کورٹ نے عمران خان کو دی جانے والی سہولیات بارے رپورٹ طلب کی آج عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے سپریم کورٹ میں بیان حلفی جمع کروایا ہے جس میں انہوں نے عدالت سے عمران خان کی خراب صحت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے

    بشریٰ بی بی نے اپنے شوہر عمران خان سے آخری ملاقات 22 اگست کو اٹک جیل میں کی تھی، بشریٰ کی جانب سے بیان حلفی حامد خان ایڈوکیٹ نے جمع کروایا جس مین کہا گیا ہے جیل میں قید عمران خان کی زندگی کو خطرہ ہے، عمران خان کا وزن بھی کم ہو گیا ہے، بیان حلفی میں بشریٰ بی بی نے کہا کہ مشکلات کے بعد 22 اگست کو اپنے شوہر سے ملاقات کی اجازت ملی،جیل میں عمران خان کے بازوؤں کے پٹھے بہت کمزور ہو چکے ہیں 70 سال کی عمر میں یہ خطرناک ہے اس سے عمران خان کی جان کو خطرہ لاحق ہے

    بشریٰ بی بی نے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے بیان حلفی میں مزید کہا کہ عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لئے کوئی بھی قربانی دینے کو تیار ہوں، سپریم کورٹ عمران خان کی خراب حالت کا نوٹس لے،

    واضح رہے کہ پانچ اگست 2023 کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو تین برس قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی جس کے بعد انہیں لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا، عمران خان اٹک جیل میں ہی قید ہیں، انہیں اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے بشریٰ بی بی نے پنجاب کے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست دائر کی گئی تھی،بشریٰ نے وزارت داخلہ پنجاب کو لکھے گئے خط میں عمران خان کو زہر دیئے جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر پر دو قاتلانہ حملے ہوئے لیکن ملزمان گرفتار نہ ہوئے، خدشہ ہے کہ انکو جیل میں زہر نہ دے دیا جائے، اسلئے انہیں گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے، جیل قوانین کے مطابق 48 گھنٹوں میں تمام سہولیات ملنی تھیں جو ابھی تک نہیں دی گئیں، بشریٰ بی بی نے عمران خان کو پرائیویٹ ڈاکٹر سے معائنہ کروانے کی بھی استدعا کی اور کہا کہ شوہر کو جیل قوانین کے مطابق سہولیات نہ دینے پر قانونی انکوائری کا مطالبہ کرتی ہوں میرے شوہر کو بی کلاس، اڈیالہ جیل منتقلی، پرائیویٹ ڈاکٹر اور گھر کے کھانے کی اجازت دی جائے

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن کا وکیل بیمار،سماعت پیر تک ملتوی

    توشہ خانہ کیس، الیکشن کمیشن کا وکیل بیمار،سماعت پیر تک ملتوی

    توشہ خانہ کیس، اسلام آباد ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے سماعت کی

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز پیش نہ ہوئے، الیکشن کمیشن کے معاون وکیل نے امجد پرویز کی طبیعت ناسازی پر آج سماعت نہ کرنے کی استدعا کی، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ضمانت اور سزا معطلی کی درخواست کیخلاف دلائل ہیں اتنا لمبا نہیں چل سکتے، معاون وکیل نے کہا کہ سر امجد پرویز چلنے کے قابل ہوتے تو آ جاتے، کل بھی امجد پرویز نے دلائل کے دوران دوائی لی، ایسے حالاتِ تو کسی کے ساتھ بھی ہوسکتے ہیں ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی نہیں ، ایسا کسی کے ساتھ نہیں ہوسکتا، میری کل طبیعت خراب تھی مگر آیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی غلط اقدام ہیں، ٹوٹل دس منٹ کے دلائل دینے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ یہ بھی سینئر وکیل ہیں اور وکالت نامہ بھی ہے، الیکشن کمیشن کے اپنے وکلاء موجود ہیں، ہم نے صرف معاونت کرنا ہے باقی آپ اللہ کو جوابدہ ہے،ایک شخص بیس دنوں سے اندر پڑا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سماعت سوموار تک ملتوی کرتے ہیں تا کہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ نے جو کرنا ہے کر لیں بے شک مجھے اندر کر دیں۔آپ نے جو کرنا ہے کریں پھر میں آپکی عدالت نہیں آؤنگا،

    لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سزا معطلی کے لیے تیار ہی نہیں، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں،یہ ایک جیل میں پڑے شخص کی زندگی کے تیں دن مانگ رہے ہیں، خدارا اس ادارے کو ایسا نہ بنائے کہ آپکا ماتحت آپکی بات نہ مانے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جو کیا غلط کیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ اس کیس میں سقم موجود ہیں ،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیلوں پر ریلیف نہ مل سکا ،لطیف کھوسہ روسٹرم چھوڑ کر چلے گئے عدالت نے ایک بار پھر کیس کی سماعت پیر تک کے لئے ملتوی کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت سوموار تک ملتوی کردی۔

    سماعت ملتوی ہونے کے بعد تحریک انصاف وکلاء اور کارکنان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی عدالت میں فکس میچ نا منظور اور شیم شیم کے نعرے بازی کی،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی