Baaghi TV

Tag: توشہ خانہ

  • جیل میں عمران خان کا ہاضمہ خراب ہو گیا

    جیل میں عمران خان کا ہاضمہ خراب ہو گیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین ،سابق وزیراعظم عمران خان کو توشہ خان کیس میں عدالت نے سزا سنائی تو انہیں زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کیا گیا، توشہ خانہ کیس کی سزا اسلام آباد ہائیکورٹ نے معطل کی تو انہیں سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، اٹک جیل سے عمران خان کو اڈیالہ جیل میں منتقل کر دیا گیا ہے،عمران خان سے جیل میں انکی اہلیہ بشریٰ بی بی، اور وکلاء کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں، عمران خان سے انکی بہنوں کی بھی ملاقات ہوئی ہے، آج بھی عمران خان کے وکیل اور ذاتی معالج جیل میں عمران خان کو ملنے گئے

    عمران خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے بعد ڈاکٹر عثمان یوسف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہ عمران خان بالکل صحت مند ہیں، انکو صرف ہاضمے کا مسئلہ ہے،وہ پہلے بھی ہوتا ہے،جیل اتھارٹی کو ایک ٹیسٹ کا کہا ہے اسکے لئے دوا بتائی ہے، انکی خوراک سادہ رہی ہے، انکی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں، میں نے آج انکا تفصیلی معائنہ کیا، مجھے خوشی ہوئی انکی صحت اچھی لگی،جب سے انکو گولی لگی پچھلے برس سے تب سے وہ ورزش کم کر رہے تھے تو انکا وزن کم ہو گیا تھا،عمرا ن خان کی فزیکل اور مینٹل صحت کے حوالہ سے مطمئن ہوں، ماشاء اللہ وہ صحت یاب ہیں،

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام بیوقوف ہیں،انکو کسی بھی طرح گمراہ کیا جا سکتا ہے ایسی افواہیں اڑائی جاتی ہیں کہ سب یقین کر لیتے ہیں،عمران خا ن کےوکیل بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ عمران خان کل کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن ہیں،عمران خان نے پیغام دیا ہے کہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے اور اسوقت ملک کو مقبول رہنما کی ضرورت ہے، مقبول لیڈر ہی معیشت کو ٹھیک کر سکتا ہے،عمران خان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے الیکشن نہیں کروائے، اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ہیں، اپیل کے حق کا فیصلہ درست فیصلہ ہے،

    عمران خان جیل میں ہیں لیکن انکا ٹویٹر اکاؤنٹ ایکٹو ہے اور مسلسل چل رہا ہے، آج عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک ٹویٹ کی گئی ہے جس کا عنوان ہے،جیل سے عمران خان کا اپنے خاندانی ذرائع سے عوام کیلئے پیغام:

    عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا گیا ہے کہ جب پانچ اگست کو مجھے اٹک جیل میں قید کیا گیا تھا تو پہلے چند روز میرے لئے خاصے مشکل تھے۔ سونے کیلئے میرے پاس بستر نہیں تھا اور مجھے فرش پہ لیٹنا پڑتا تھا جہاں دن کے وقت کیڑے مکوڑے اور رات کو مچھر ہوتے تھے۔ لیکن اب میں اس میں ایڈجسٹ ہوگیا ہوں۔

    آج کے عمران خان میں اور اُس عمران خان میں جسے پانچ اگست کے روز قید کیا گیا تھا، زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں آج روحانی، ذہنی اور جسمانی طور پر پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور طاقتور ہوں کیونکہ جیل کی تنہائی میں مجھے قرآنِ پاک کا بغور مطالعہ کرنے کا موقع ملا جس نے میرے ایمان کو مزید مستحکم کیا۔ اور قرانِ پاک کے ساتھ ساتھ میں دیگر کتب کا مطالعہ بھی کررہا ہوں اور اپنی سیاسی زندگی کے گذشتہ چند سالوں کے واقعات پہ غور بھی کررہا ہوں۔

    یہ لوگ مجھے جس جیل میں بھی رکھیں، جیسے حالات میں بھی رکھیں آپ نے گھبرانا نہیں ہے اور نہ ہی میرے متعلق پھیلائی جانے والی افواہوں سے پریشان ہونا ہے۔ میں عوام کے حقِ حاکمیت اور آئینِ پاکستان کی بنیادی ترین شرط، صاف شفاف الیکشن، کے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ جو لوگ مجھے کہ رہے ہیں کہ آپ ملک چھوڑ کر چلے جائیں انکو میراایک ہی جواب ہے کہ میرا جینا مرنا پاکستان کیساتھ ہے اور میں اپنی دھرتی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔

    جہاں تک سائفر مقدمے کا تعلق ہے، یہ مقدمہ سابق آرمی چیف جرنیل باجوہ، ڈونلڈ لو کو بچانے کیلئے گھڑا گیا ہے۔ ملک کا منتخب وزیراعظم تو میں تھا، جنرل باجوہ کے ساتھ مل کر غداری تو میرے ساتھ کی گئی اور آج مجھ پہ مقدمہ اسلئے قائم کیا گیا کہ میں نے پاکستانی عوام کو، جو کہ اس ملک کے اصل حاکم ہیں، اس غداری کی خبر دی۔

    مجھے اگر کسی چیز کی تکلیف ہے تو اُن کارکنان، خصوصاً خواتین کارکنان، کی اسیری کی تکلیف ہے جنہیں طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا چند افراد نے اپنی انا کی تسکین کیلئے کئی ماہ سے قید کیا ہوا ہے۔ میری عدلیہ سے اپیل ہے کہ ہمارے کارکنان کو رہائی دلائی جائے ۔

    آخر میں, آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔ آپ ثابت قدمی سے ڈٹے رہیں۔ یہ آزمائش کا وقت ختم ہو کر رہے گا کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ "ہر مشکل کیساتھ آسانی ہے”۔ آپ ہر فورم پہ اس غیر منتخب حکمران ٹولے اور انکے سہولتکاروں کیخلاف آواز اُٹھاتے رہیں اور ملک میں صاف شفاف الیکشن کا مطالبہ کرتے رہیں۔

    میں پیشنگوئی کررہا ہوں کہ جس دن بھی الیکشن ہوا، انشاءاللہ پاکستانی عوام کروڑوں کی تعداد میں نکلیں گے اور تحریکِ انصاف کو ووٹ ڈال کر لندن پلان والوں کو شکست دیں گے۔ یہ لوگ جتنی مرضی دھاندلی کرلیں، انکا مقدر صرف اور صرف شکست ہے۔

    پاکستان زندہ باد

    جو کام حکومتیں نہ کر سکیں،آرمی چیف کی ایک ملاقات نے کر دیا

    جنرل عاصم منیر کے نام مبشر لقمان کا اہم پیغام

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • 190 ملین پاؤنڈ کرپشن اور توشہ خانہ کیسز،عمران خان کی درخواست پر نوٹس جاری

    190 ملین پاؤنڈ کرپشن اور توشہ خانہ کیسز،عمران خان کی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،190 ملین پاؤنڈ کرپشن اور توشہ خانہ کیسز،چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم پیروی پرضمانت خارج کرنے احتساب عدالت کے فیصلے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی ،وکیل سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس کیس کو پرسوں کے لیے رکھ لیں ، یہ نہ ہو سائفر کیس میں ضمانت ہو تو اس کیس میں گرفتاری ڈال دی جائے ،،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں نہیں اندر کدھر ، اگلے ہفتے دیکھ لیتے ہیں ،

    سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ احتساب عدالت نے عدم پیروی پر ضمانت کی درخواستیں خارج کیں، دس اگست 2023 کا احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، درخواستوں پر فیصلہ آنے تک چیئرمین پی ٹی آئی کی عبوری ضمانت منظور کی جائے،درخواست میں چیئرمین نیب کو فریق بنایا گیا ہے ،توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے بعد احتساب عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کی ضمانت کی درخواستیں عدم پیروی پر خارج کی تھیں

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران خان؛  توشہ خانہ فیصلہ معطلی کی متفرق درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر

    عمران خان؛ توشہ خانہ فیصلہ معطلی کی متفرق درخواست اعتراضات کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی توشہ خانہ فیصلہ معطلی کی متفرق درخواست پر 3 اعتراضات عائد کرکے سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی ڈائری برانچ کی جانب سے اعتراضات عائد کیے گئے ہیں۔ رجسٹرار آفس نے اعتراض عائد کیا ہے کہ ایک درخواست میں 2 قسم کی استدعا کیسے کی جاسکتی ہے؟ پہلے جس درخواست پر فیصلہ ہوچکا اس میں دوبارہ کیسے ریلیف مانگ سکتے ہیں؟۔

    جبکہ رجسٹرار آفس کے مطابق سزا معطلی کی پہلی درخواست میں ریلیف نہیں مانگا، اب کیسے مانگ سکتے ہیں؟ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی درخواست کل بروز جمعے کو سماعت کے لیے مقرر کردی اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کل اعتراضات کے ساتھ درخواست پر سماعت کریں گے۔ سابق وزیراعظم عمران خان نے اپیل میں ترمیم کرکے اسٹیٹ کو فریق بنانے کی بھی استدعا کر رکھی ہے۔

    خیال رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے آج سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں متفرق درخواست دائر کی جبکہ واضح رہے کہ توشہ خانہ فوجداری کیس میں پی ٹی آئی سربراہ عمران خان کی قید اور جرمانے کی سزا معطل کردی گئی تھی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ نے فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے عمران خان کی تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا معطل کی جاتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    افغان ٹرانزٹ کے غلط استعمال کے خلاف کوششیں خوشی کا باعث ہیں. پاکستان بزنس کونسل
    آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 ، نیوزی لینڈ نے آنگلینڈ کو 9 وکٹو ں سے ہرا دیا
    فیفا ورلڈ کپ 2034 کا انعقاد؛ میزبانی کیلئے بحرین اور کویت نے سعودیہ کی حمایت کردی
    تاہم سزا معطلی کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے قائم علی شاہ کیس کا حوالہ بھی شامل کیا گیا اور کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ پر سزا کا فیصلہ سنایا، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ ضروری نہیں ہر کیس میں سزا معطل ہو، سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ ضمانت دینا یا انکار کرنا ہائی کورٹ کی صوابدید ہے۔

  • نیب نے بشریٰ بی بی کو طلب کر لیا

    نیب نے بشریٰ بی بی کو طلب کر لیا

    قومی احتساب بیورو نے توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو کل طلب کرلیا ہے جبکہ ذرائع مطابق بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس کے سلسلے میں نیب راولپنڈی کی جانب سے کل صبح 11 بجے طلب کیا گیا ہے۔

    جبکہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی نے 18 ستمبر 2020 کو ہیرے اور سونے کی انگوٹھی، بریسلٹ اور ہار حاصل کیا، لیکن وہ اسے اپنے اثاثوں میں درج کرنے میں ناکام رہی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    سعودی مملکت اور ایران کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنائیں گے. عبداللہ بن سعود
    امریکی ڈالر مزید سستا ہوگیا
    ایشیا کپ،بنگلہ دیش نے پاکستان کو 194 کا ہدف دے دیا
    سندھ کے 31 ایس ایس پیز کے تبادلوں کے احکامات جاری

    اس کے برعکس پی ٹی آئی رہنما کی اہلیہ کو 26 جون 2019 کو چین، لاکٹ اور بالیاں ملی تھیں۔سابق خاتون اول پر توشہ خانہ کے تحائف میں سے ایک لاکٹ، چین، بالیاں، دو انگوٹھیاں اور بریسلٹ رکھنے کا الزام ہے تاہم گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پی ٹی آئی کے سربراہ کو "جھوٹے بیانات اور غلط اعلان” کرنے پر نااہل قرار دینے کے بعد توشہ خانہ کا معاملہ قومی سیاست میں ایک اہم نکتہ بن گیا۔

  • توشہ خانہ کیس،فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست،سماعت ملتوی

    توشہ خانہ کیس،فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست،سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،توشہ خانہ کیس میں فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپیل واپس لینے کی دوسری سماعت ہے، ابھی آپ کیا چاہ رہے ہیں؟پہلے ہفتے میں ہی آپ کی درخواستیں سماعت کیلئے رکھ لیتے ہیں، الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف اپیل واپس لینے کی دوسری درخواست پر اعتراضات برقرار ہیں،عدالت نے دیگر کیس 13 ستمبر کو مقرر کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن سے نا اہلی اور پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی نے مرکزی درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی ،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے آرڈر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، درخواست کے زیر سماعت ہونے کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک اور شوکاز نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 7 دسمبر 2022 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ بتائیں کیوں آپ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں چیئرمین شپ سے ہٹایا نہ جائے، یہ دونوں معاملات لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے بھی زیر سماعت ہیں،ان دونوں معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں،  چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ میں پیروی کرنا چاہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قبل بھی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اب تک درخواست گزار کو اپنی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،تاکہ درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کر سکیں،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

    پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس میں عمران خان نے کی متفرق درخواست دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی الیکشن کمیشن سے نا اہلی اور پارٹی عہدے سے ہٹانے کیخلاف کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی نے مرکزی درخواست واپس لینے کیلئے متفرق درخواست دائر کردی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے 21 اکتوبر 2022 کے آرڈر کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، درخواست کے زیر سماعت ہونے کے دوران الیکشن کمیشن نے ایک اور شوکاز نوٹس جاری کردیا،الیکشن کمیشن نے چیئرمین پی ٹی آئی کو 7 دسمبر 2022 کو شوکاز نوٹس جاری کیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ بتائیں کیوں آپ کو الیکشن کمیشن کے فیصلے کے تناظر میں چیئرمین شپ سے ہٹایا نہ جائے، یہ دونوں معاملات لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ کے سامنے بھی زیر سماعت ہیں،ان دونوں معاملات پر لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے نوٹسز جاری کیے جا چکے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے بجائے لاہور ہائیکورٹ میں پیروی کرنا چاہتے ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس قبل بھی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی، تاہم اب تک درخواست گزار کو اپنی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ سے واپس لینے کی اجازت نہیں دی گئی، چیئرمین پی ٹی آئی کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے اپنی درخواست واپس لینے کی اجازت دی جائے،تاکہ درخواست گزار لاہور ہائیکورٹ میں کیس کی پیروی کر سکیں،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس اٹک جیل منتقل کرنے پر فریقین کو نوٹس جاری

    سائفر کیس اٹک جیل منتقل کرنے پر فریقین کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا سائفر کیس وزارت قانون کی جانب سے اٹک جیل منتقلی کا نوٹیفکیشن ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی، درخواست پر اعتراضات کے ساتھ سماعت ہوئی،چیئرمین پی ٹی آئی نے عدالت منتقلی کے وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کر رکھا ہے ،وکیل چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ہماری درخواست پر رجسٹرار آفس نے دو اعتراضات عائد کئے ہیں، اعتراض ہے کہ ہم نے ایک ہی درخواست میں ایک سے زیادہ استدعا کی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اِس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ میں اعتراضات دور کر دیتا ہوں، آپ میرٹ پر دلائل دیں، کیا عدالت کا وینیو تبدیل کیا گیا ہے؟

    وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کیسز کی متعلقہ عدالت مجسٹریٹ کی ہے، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمات کا اختیار دینا غلط ہے، استدعا ہے کہ نوٹس جاری کر کے اس پر بھی جواب طلب کر لیا جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں آپکی درخواست پر نوٹس جاری کر دیتا ہوں، وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ یہ جلدی والا معاملہ ہے تو کیس آئندہ ہفتے دوبارہ مقرر کر دیا جائے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے ہی کر لیں گے، سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • سائفر کیس،سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

    سائفر کیس،سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ: سائفر کیس کی سماعت اٹک جیل میں کرنے کا معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچ گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے وزارت قانون کے عدالت اٹک جیل منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن چیلنج کردیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت اٹک جیل میں منتقل کرنے کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے کلعدم قرار دیا جائے، انسداد دہشتگری عدالت نمبر ون کے جج کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت درج مقدمات کا اختیار سماعت بھی چیلنج کر دیا گیا

    چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل شیر افضل مروت کے ذریعے درخواست دائر کی ، درخواست میں سیکرٹری قانون ، سیکرٹری داخلہ ، چیف کمشنر ، آئی جی ، ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے، سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل اور سپرٹنڈنٹ اٹک جیل کو بھی درخواست میں فریق بنایا گیا ہے، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے درخواست میں کہا کہ انسداد دہشتگری عدالت ون کے جج اس معاملے میں مطلوبہ اہلیت کے بنیادی معیار پر بھی پورا نہیں اترتے ،

    دوسری جانب سائفرکیس،سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج ابوالحسنات جوڈیشل کمپلیکس پہنچ گئے، جج ابوالحسنات ذوالقرنین اٹک جیل سے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے، شاہ محمود قریشی کے عدالت پہچنے پر سائفرکیس کی سماعت شروع ہوگی،

    اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت کے بعد عمران خان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ یہ پروسیڈنگ جیل میں نہیں ہوسکتی، ہم نے ٹرائل کو چیلنج کیا ہے ،جیل ٹرائل انکے ہوتے ہیں جو خطرناک مجرم ہوں،11 ماہ میں چیئرمین پی ٹی آئی سیکڑوں سماعتوں پر آتے رہے ،چیئرمین پی ٹی آئی کو اس کیس میں 15 روز قبل گرفتار کیا گیا،آج 30 اگست ہوگئی ایف آئی اے کی ٹیم صرف 2 مرتبہ آئی، ملزم کو بھی نہیں پتا اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے،چیئرمین پی ٹی آئی کو فری ٹرائل نہیں دیا جارہا،چیئرمین پی ٹی آئی پر سائفر کے حوالے سے 2 الزامات ہیں، کہا گیا سائفر کو چھپا کر رکھا گیا اور اسکا غلط استعمال کیا گیا،

    عمران خان آج بالکل فریش اور صحت مند نظر آئے،وکیل
    عمران خان کے وکیل نعیم حیدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان آج بالکل فریش اور صحت مند نظر آئے، انہوں نے کہا کہ میں حقیقی آزادی کی جنگ جاری رکھوں گا، آزادی کے بغیر پورا پاکستان ایک جیل کی مانند ہے اور اگر آزادی نہ ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انسان جیل میں بند ہے یا باہر ہے کیونکہ اصل آزادی قانون کی حکمرانی اور آئین کی سربلندی میں ہے

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اٹک جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سائفر کیس کی جیل میں ٹرائل کی ہر گز ضرورت نہیں ہے، سکیورٹی کی بناء پر صبح 9 بجے سماعت رکھی، ہمیں مشکل سے جیل کے اندر جانے دیا گیا،ہم نے جیل ٹرائل کے خلاف درخواست جمع کرادی ہے، پیر کے روز پر سماعت ہوگی،چیئرمین پی ٹی آئی سے خوشگوار موڈ میں ملاقات ہوئی، چئیرمین پی ٹی آئی کو 15 اگست سے اس کیس میں گرفتار ظاہر کیا گیا جس کا کسی کو علم نہیں تھا ،آج سے 15 دن پہلے چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں جوڈیشل ہو چکے ہیں، اس کا بھی کسی کو علم نہیں ،چیئر مین پی ٹی آئی کو فری ٹرائل کا حق نہ دینا آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے، ہم نے ضمانت کی درخواست بھی دائر کی ہے جس کی 2 ستمبر کو سماعت ہوگی،رانا ثناءاللہ مطابق سائفر انکے پاس ہے تو پھر چیئرمین پی ٹی آئی سے کیا مانگا جا رہا ہے؟ چیئرمین پی ٹی آئی نے جیل میں ایک ہفتہ صرف دال روٹی کھائی، انہیں چھوٹے کمرے میں رکھا گیا ہے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ ہفتے میں ایک دن مرغی کا پتلا شوربہ دیا جاتا ہے چیئرمین پی ٹی کے نہانے کے لئے کوئی پردہ نہیں، پہلے3 فٹ کی دیوار تھی، اب تھوڑی سی اونچی کی گئی ہے،

    واضح رہے کہ آج اٹک جیل میں سائفر کیس کی سماعت ہوئی تھی،جج ابوالحسنات ذولقرنین نے عمران خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی،چیئرمین پی ٹی آئی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 13 ستمبر تک توسیع کر دی گئی،

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال

    عمران کی رہائی کا خواب ادھورا، نیا کٹا کھل گیا،ستمبر میں نیا بھونچال

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے یوٹیوب چینل پر ویلاگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیسے توقع تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل کر دی ہے،اسکی دو وجہ ہیں ،سپریم کورٹ نے جو ریمارکس دیئے تھے اسکے بعد ماتحت عدالت کس طرح سپریم کورٹ کی امیدوں کے خلاف فیصلہ دے،اس فیصلے میں دوچیزیں ہیں، کہ سزا معطل ، جب تک تحریری فیصلہ نہیں آتا تب تک سزا رہے گی

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ اس کیس میں دو چیزیں ہیں ایک ہے جرم اور دوسرا ہے سزا، اس نے مال سرکار میں مداخلت کی اور اس نے پیسے بٹورے، یہ اسکا جرم ثابت ہو گیا،جرم کی سزا جو جج دلاور نے دی تھی وہ دی تھی تین سال،عدالت نے سزا کو معطل کیا ہے، جرم کو نہیں، عدالت جرم کو معطل نہیں کر سکتی، جرم جب وہیں پر ہے اور سزا وہیں پر ہے ،تو اب عدالت نے یہ تعین کرنا ہے کہ تین سال کی سزا غلط ہے اصل میں ہونی کتنی چاہئے،ہونی چاہئے یا نہیں ہونی چاہئے، لیکن جرم وہیں پر ہے، اسلئے عمران خان نہ الیکشن لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی پارٹی کے چیئرمین رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ٹی وی پر آ سکتے ہیں کیونکہ وہ سزا یافتہ ہیں، اگر اسکو ختم کروانا ہے تو نئے سرے سے عمران خان کو اپیل دائر کرنا پڑے گی،مجرم ہونے کے خلاف اپیل جب وہ دائر کرےگا تو پھر کیس ایک مہینہ، ایک سال یا جب تک چلتا ہے پھر تعین ہو گا کہ وہ جرم رہتا ہے یا نہیں، جو لوگ خوشیاں منا رہے ہیں وہ یہ سن لیں کہ اگلے الیکشن میں عمران خان نہیں ہیں،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی ٹیم اٹک جیل میں پہنچی اور عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا، اب دیکھنا یہ ہے کہ ایف آئی اے والے عمران خان کو اٹک جیل میں ہی رکھتے ہیں یا اپنی کسی جیل میں لے کر جاتے ہیں،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،

  • سزا معطلی سے قیدی نمبر804 صادق اورامین نہیں بنا،فردوس عاشق اعوان

    سزا معطلی سے قیدی نمبر804 صادق اورامین نہیں بنا،فردوس عاشق اعوان

    استحکام پاکستان پارٹی کی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ سزا معطلی سے قیدی نمبر 804 صادق اور امین نہیں بنا

    اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قیدی نمبر 804 کو جیل میں جو سہولتیں میسر ہیں دیسی گھی میں مٹن فراہم کیا جارہا ہے ، کیا عمران خان کی طرح دیگر قیدیوں کو بھی کھابے دیئے جائیں گے، آج ہائیکورٹ اسلام آباد میں گڈ ٹو سی یو کی دوسری قسط دیکھنے کو ملی،سزا معطلی کسی مجرم کو محترم نہیں بنا سکتی،مجرم ہر حال میں مجرم ہی رہے گا،نطام انصاف میں پائے جانے والے خلا اسیر اٹک جیل کو جیل بدر کروانے کا باعث بن رہے ہیں،اسوقت ملک کو آفات اور مراعات نے تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کر دیا ہے

    فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ آج ایک فیصلہ آیا جس کی گونج کئی دن سے سوشل میڈیا پر تھی ایک جماعت کئی دن پہلے ہی فیصلہ سنا چکی تھی فیصلے سے متعلق مبارکبادوں کا سلسلہ کئی روز سے جاری تھا ثابت ہو گیا طاقتور جب چاہے آئین اور قانون کو روند سکتا ہے دہرا معیار کب تک چلے گا، قیدی 804 کے ساتھ چہیتوں والا سلوک ہو رہا ہے  ،جیل میں فرمائشی کھانے کھائے جا رہے پھر بھی قیدی کا رونا بند نہیں ہو رہا،نگران حکومت عوامی مسائل کے حل کے لئے کوئی لائحہ عمل مرتب کرے

    واضح رہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے فیصلہ سنایا، عدالت نے عمران خان کی سزا معطل کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ،چئیرمن پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ سزا معطلی کی درخواست منظورکر لی گئی،

    توشہ خانہ کیس میں رہائی کے حکم کے بعد سائفر مقدمے میں دوبارہ گرفتاری

     لاڈلے کی سزا معطل ہوئی ہے ختم نہیں ہوئی

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پہلے دن معطل ہو جانا چاہئے تھی ،