Baaghi TV

Tag: توشہ خانہ

  • سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں چئیرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ کا حصہ ہیں،چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر اگئے،چئیرمین پی ٹی کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں ابھی کیس کی سماعت چل رہی ہے،
    ہائی کورٹ معاملے کا حل نکال رہی ہے، یہی ہمارے نظام کی خوبصورتی ہے، ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے دیں، پھر سماعت کریں گے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں، ہمیں ابھی اس بارے میں زیادہ بات نہیں کرنی چاہیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ کل اپنے موکل سے اٹک جیل میں ملاقات کی، ملاقات کے دوران ایک پولیس والا ہمارے درمیان ڈٹ کر بیٹھا رہا، چیف جسٹس نے کہا کہ جب ہائی کورٹ کا حکم آئے گا تب دیکھ لینگے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    آپ اللہ کو جواب دے ہیں،میرا کام آپکی معاونت کرنا ہے ،انصاف کرنا نہیں،عدالت نے کیس کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے تک سماعت ملتوی کردی،سپریم کورٹ نے عمران خان کو جیل میں میسر سہولیات پر رپورٹ طلب کر لی

    دوران سماعت جسٹس جمال خان مندوخیل نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “بہت تکلیف ہوتی ہے جب وکلاء ہائیکورٹ کے خلاف بیانات دیتے ہیں، سول کورٹ، مجسٹریٹ یا ہائیکورٹ سپریم کورٹ کی ماتحت نہیں ہے، مجسٹریٹ سے لیکر ہائیکورٹ تک ہمارے لیے سب قابل احترام ہیں، کوئی بھی عدالت خود کو سپریم کورٹ کے ماتحت نہ سمجھے”۔

    بعد ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے کل جمعہ تک سماعت ملتوی کی تو سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کیس کی سماعت ملتوی کر دی گئی،سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت ملتوی کردی گئی،سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت آئندہ ہفتے ہوگی،

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    صوبہ بھر کی چئیر لفٹس کے معائنہ کی ہدایت

    آرمی ریسکیو ہیلی کاپٹر کے لفٹ کے قریب پہنچتے ہی ڈولی نے ہلنا شروع کر دیا 

  • عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    عمران خان جیل میں اہلیہ سے علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، وکیل

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    چیرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی اور ضمانت کے خلاف اپیلوں پر سماعت چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری نےکی،چیرمین پی ٹی آئی کی جانب سے سلمان اکرم راجہ، لطیف کھوسہ، بابر اعوان، بیرسٹر علی ظفر، بیرسٹر گوہر، شعیب شاہین سمیت دو درجن سے زائد وکلا عدالت پیش ہوئے، الیکشن کمیشن کی جانب سے امجد پرویز و دیگر عدالت پیش ہوئے،،دوران سماعت چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر ہمیں موصول ہوا ہے، سپریم کورٹ نے آج سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کا کہا ہے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ سب سے پہلے عدالت نے دائرہ اختیار کو طے کرنا ہے، اس کیس میں سیکرٹری الیکشن کمیشن ڈسڑکٹ الیکشن کمشنر کو اتھارٹی دے رہا ہے، سیکرٹری الیکشن کمیشن آگے اختیار نہیں دے سکتا۔

    وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ صدر پاکستان نے 14 اگست کو قیدیوں کی 6 ماہ سزا معاف کی،عمران خان کی 6 ماہ کی سزا معاف کی جا چکی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں سپریم کورٹ کا حکم مل گیا ہے ہم آج فیصلہ دینے کے پابند ہیں، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے

    سردار لطیف کھوسہ نے خواجہ حارث کا بیان حلفی عدالت میں جمع کروا دیا، لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ دائرہ کار کا معاملہ تا حال طے نہیں ہوا۔الیکشن کمیشن شکایت کر سکتی ہے ،یہاں ایک پرائیویٹ سیکریٹری نے شکایت کی ،الیکشن ایکٹ کے مطابق سیکرٹری کمشین کی تعریف پر پورا نہیں اترتا،عمران خان کی سزا معطل کر کے فوری رہا کیا جائے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کھوسہ صاحب ماتحت عدلیہ سے غلطی ہوئی ہے تو اس کو اعتماد دینے کی ضرورت ہے۔لطیف کھوسہ نے کہا کہ مائی لارڈ بس غلطی؟ سیشن کورٹ ڈائرکٹ کمپلینٹ نہیں سن سکتی،الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کا اختیار دیتا ہے۔چیئرمین الیکشن کمیشن اور چار ممبران کمیشن ہی شکایت دائر کرنے کا مجاز ہے۔میرے موکل کے خلاف شکایت سیکرٹری الیکشن کمیشن نے دائر کی۔سیکرٹری کو یہ اختیار نہیں۔ آپ کی معزز عدالت نے دو بار کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجا مگر ٹرائل کورٹ نے آرڈر کو اگنور کر دیا۔

    لطیف کھوسہ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹک جیل میں عمران خان کے سیل کے باہر ایک پولیس والا بیٹھا تھا، میں نے پوچھا تو خان صاحب نے کہا میں تو اپنی اہلیہ سے بھی علیحدگی میں بات نہیں کر سکا، یہ سر پر بیٹھا رہا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو آٹھ سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیے بغیر اپنے پہلے آرڈر کو ہی درست قرار دیا، سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کو بھی نہیں مانا،

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پتہ ہے ہم نے کیا کرنا ہے؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپ ہمیں سُن تو لیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن کا کمپلینٹ دائر کرنے کا اجازت نامہ قانون کے مطابق نہیں؟ وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جی بالکل، وہ اجازت نامہ درست نہیں ہے، ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں بہت غلطیاں ہیں،میں اس حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے آرڈرز کا حوالہ دیتا ہوں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو 8 سوالات پر دوبارہ فیصلہ کرنے کا حکم دیا،ٹرائل کورٹ نے اُن سوالات کا جواب دیئے بغیر اپنے پہلے فیصلے کو ہی درست قرار دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل منظوری کا فیصلہ 4 اگست کی شام ملا، 5 اگست کو خواجہ حارث کے منشی کو اغواء کیا گیا، خواجہ حارث کا بیانِ حلفی موجود ہے،خواجہ حارث نے وجہ لکھی کہ کیوں وہ ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہیں ہو سکے،ہم سیشن کورٹ کی جانب سے ٹرائل کو تو چیلنج ہی نہیں کر رہے، ٹرائل سیشن کورٹ ہی کرے گی لیکن براہ راست نہیں کر سکتی، اس کیس کو سیشن کورٹ میں کیوں لیکر جایا گیا ؟ سپریم کورٹ نے واضح کر دیا ہے کہ اس نوعیت کے کیس مجسٹریٹ کے پاس جائیں گے پہلے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ آپکو میں بتاتا ہوں کہ کس طرح ہمایوں دلاور کا کیس سننا نہیں بنتا تھا آپ کتاب کھولیں اور سیشن 190(2) اور 193 پڑھیں ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جی ٹھیک، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میں آپکو سپریم کورٹ کی ججمنٹ دیتا ہوں ،2022 SCMR 356،

    کمرہ عدالت میں رش کے باعث اے سی کام کرنا چھوڑ گئے،گرمی کے باعث لطیف کھوسہ نے معاون وکیل کو قانونی نکات پڑھنے کیلئے بلا لیا،چیف جسٹس عامر فاروق نے اے سی کے وینٹ کے سامنے سے وکلا کو ہٹنے کی ہدایت کی اور کہا کہ اے سی کے وینٹ کے سامنے سے تو جگہ چھوڑ دیں، کچھ تو ہوا آئے گی، لطیف کھوسہ صاحب کو پانی پلائیں، لطیف کھوسہ کی معاون خاتون وکیل نے قانونی نکات پڑھنا شروع کر دیئے

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کے مطابق گواہان کا تعلق انکم ٹیکس معاملات سے ہے، عدالت نے کہا کہ یہ عدالت انکم ٹیکس کا معاملہ نہیں دیکھ رہی، عدالت نے کہا وکیل دفاع گواہان کو کیس سے متعلقہ ثابت کرنے میں ناکام رہے،اس بنیاد پر ٹرائل عدالت نے گواہان کی فہرست کو مسترد کیا، جج صاحب نے کہا گواہان آج عدالت میں بھی موجود نہیں،گواہ اس روز کراچی میں موجود تھے، عدالت نے پوچھا آپ کیوں پیش کرنا چاہتے ہیں گواہان کو؟میرے گواہ ہیں، میں اپنے خرچے پر پیش کر رہا ہوں، آپ کون ہوتے ہیں پوچھنے والے؟

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق سے شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ میں نے پچاس سال میں ایسا کام ہوتے نہیں دیکھا جو ٹرائل جج نے کیا ہے،حق دفاع کی ہماری درخواست آج بھی آپ کے پاس زیر التوا ہے۔ معذرت کے ساتھ آپ نے بھی ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ دینے سے نہیں روکا ،چیف صاحب حیران کن بات یہ ہے کہ ہمایوں دلاور نے 30 منٹ میں 30 صفحات کا فیصلہ کیا، 30 منٹ میں 30 صفحات سن کر چیف جسٹس عامر فاروق مسکرا دئیے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ جج ہمایوں نے اس وقت شارٹ آرڈر لکھوایا اور 12 بج کر 34 منٹ پر خان کو اٹھا لیا گیا خان نے مجھے کل بتایا کہ انہوں نے کہا میں آرہا ہوں وہ نہا رہے تھے واش روم کا دروازہ توڑا گیا،4 اگست کو آپ کا آرڈر آیا، آپ نے قابل سماعت کا معاملہ ریمانڈ بیک کیا، 5 تاریخ کو میں نے آپ کا آرڈر سپریم کورٹ چیلنج کردیا، خواجہ حارث کے کلرک کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، خواجہ حارث نے چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام درخواست لکھی اور معاملہ بتایا،خواجہ صاحب 12 بج کر 15 منٹ پر ٹرائل کورٹ پہنچ گئے، جج صاحب نے کہا اب ضرورت نہیں، آپ آرڈر سنیں، 12 بج کر 30 منٹ پر جج صاحب نے شارٹ آرڈر سناتے ہوئے تین سال کی سزا سنا دی،12 بج کر 35 منٹ پر پتہ چلا لاہور پولیس گرفتار کرنے پہنچ گئی،جج ہمایوں دلاور نے اپنا جوڈیشل مائنڈ استعمال ہی نہیں کیا۔

    لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہوئے تو وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ لطیف کھوسہ میرے نکاح کے گواہ ہیں ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو پھر اہم گواہ بن گئے ہیں اور یہ غیر متعلقہ بھی نہیں،جس پرعدالت میں قہقے گونج اٹھے

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے وقفے کے بعد دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو 5 اگست کو سزا سنائی گئی،8 اگست کو فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے حق دفاع ختم کرنے کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے تھے،انہوں نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کا یہ ڈویژن بینچ ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ کے درمیان سینڈوچ بن چکا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ملزم 342 کے بیان میں کہتا ہے کہ وہ اپنے دفاع میں گواہان پیش کرنا چاہتا ہے، اس کا مطلب ہے کہ ملزم نے مانا کہ پراسیکیوشن نے اپنا کیس ثابت کردیا اب دفاع میں گواہ پیش کرنے چاہیئں، الیکشن کمیشن کے فارم بی پر تحریر کرنے کیلئے معلومات تو ملزم نے خود دینا ہوتی ہیں،اکاؤنٹینٹ، ٹیکس کنسلٹینیٹ نے خود سے تو معلومات پر نہیں کرنا ہوتیں، یہ مس ڈیکلیریشن کا کیس ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے خلیفہ راشد دوم حضرت عمر رضی الله عنه کا حوالہ دیا اور کہا کہ حضرت عمر فاروق نے سب پہلے فارم بی کا کنسیپٹ دیا تھا،حضرت عمر نے قرار دیا کہ ارباب اختیار کو اپنے اثاثے ظاہر کرنا لازمی ہیں،اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہے، ااس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کوئی جیولری یا گاڑی تو ڈیکلیئر نہیں کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی ریٹرن میں چار بکریاں مسلسل ظاہر کی جاتی رہی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت اس وقت سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے، سزا معطلی کی درخواست پر عدالت میرٹس پر گہرائی میں نہیں جائے گی، یہ سوالات تو آئیں گے کہ ملزم کو حقِ دفاع ہی نہیں دیا گیا،وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے گواہوں کو غیرمتعلقہ قرار دیا،گوشوارے تو اپنے کنسلٹنٹ کی مشاورت سے جمع کرائے جاتے ہیں نا،یہ تو کلائنٹ نے بتانا ہوتا ہے کہ اُس کے اثاثے کیا تھے،چیئرمین پی ٹی آئی کی فیملی کے پاس تین سال تک کوئی جیولری یا موٹرسائیکل تک نہیں تھی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تو کوئی اپنے ریٹرنز فائل کرنے کا کہے تو میں تو خود نہیں کر سکتا، ان کے تین سوالات ہیں ایک مجسٹریٹ والا ہے ایک دورانیے والا ہے ایک اتھارٹی والا ہے، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ ان کا سوال یہ بھی ہے ان کو آخری دن سنا نہیں گیا ان کا حق دفاع بھی ختم ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ان کا یہ کہنا ہے اگرچہ اسٹے نہیں تھا اس کے باوجود نوٹس تو اس عدالت نے کر رکھا تھا، وکیل امجد پرویز نے کہا کہ سپریم کورٹ میں بھی معاملہ زیر التوا تھا سنگل بنچ میں بھی ان کی پٹیشن زیر التوا تھی، اکاؤنٹنٹ اپنی طرف سے تو کچھ نہیں لکھتا کلائنٹ ہی بتاتا ہے، عدالت نے کہاکہ ہم اگرچہ لیگل کمیونٹی سے ہیں لیکن ٹیکس ریٹرن تو نہیں بھر سکتے، وکیل نے کہا کہ انہوں نے گوشواروں میں چار بکریاں ظاہر کیں لیکن باقی متعلقہ چیزیں ظاہر نہیں کیں، اپیل الیکشن ایکٹ کے سیکشن 190 کے تحت دائر کی گئی،یہ سیکشن صرف اپیل کا فورم بیان کر رہا ہےاس سیکشن کے تحت حتمی فیصلے کیخلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی، اپیل کی نوعیت، سماعت کے طریقہ کار سے متعلق الیکشن ایکٹ کے حصہ 7 میں پورا چیپٹر موجود ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ آپ کا اصل میں نقطہ کیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ درخواست گزار ریاست کی قید میں ہے، سزا سنائے جانے کے بعد اب سٹیٹس تبدیل ہو گیا ہے، ریاست کی قید میں ہونے پر ریاست کو فریق بنانا ضروری ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تو ہم ضمانت کے معاملے پر چل رہے ہیں، اپیل پر بات نہیں کررہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اس بنیاد پر اپیل خارج کر دی جائے،کہہ رہا ہوں کہ ریاست کو نوٹس جاری کر دیا جائے، قانون کی متعلقہ دونوں شقیں کہتی ہیں کہ ریاست کو نوٹس جاری کیا جانا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر آپ کی بات لی جائے، حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے جائیں تو حکومت آ کر کیا کرے گی؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ ملزم تو حکومت کی تحویل میں ہے نہ،یہ قانون کا تقاضا ہے، قانون آپ کے سامنے ہے، سادہ زبان ہے، ریاست کے پاس فیصلے کے دفاع کا حق موجود ہے،ریاست نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ فیصلے کا دفاع کرے گی یا نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کو لگتا ہے کہ ریاست آ کر کہے گی کہ سزا غلط دی گئی؟ یہ مختصر سزا ہے اور یہ بغیر نوٹس بھی معطل ہو جاتی ہے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ایسا کوئی فیصلہ موجود نہیں ہے کہ بغیر نوٹس سزا معطل ہوئی ہو، ‏مختصر سزا پر سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ کے احکامات موجود ہیں، ایک کیس میں ملزم کو ٹرائل کے بعد ساڑھے 2 سال کی سزا سنائی گئی تھی،ملزم نے ہائیکورٹ میں شارٹ سینٹس کی بنیاد پر معطلی کی اپیل کی، ہائیکورٹ نے اس کی اپیل خارج کی، معاملہ سپریم کورٹ گیا،
    ‏سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا، سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کہا کہ قابل ضمانت دفعات کے تحت مقدمات میں بھی سزا معطل نہیں ہوسکتی،3 سال کی سزا معطلی حق نہیں، عدالت کے استحقاق پر منحصر ہے،

    ‏اسلام آباد ہائیکورٹ ، توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل ،عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کل 11:30 پر دوبارہ سنیں گے،

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • توشہ خانہ کیس، خواجہ حارث عمران خان کی قانونی ٹیم چھوڑ گئے

    توشہ خانہ کیس، خواجہ حارث عمران خان کی قانونی ٹیم چھوڑ گئے

    خواجہ حارث توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم سے الگ ہوگئے

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قانونی ٹیم میں ڈسپلن کے حوالے سے تحفظات کے بعد خواجہ حارث نے علیحدگی کا فیصلہ کیا،میڈیا رپورٹس کے مطابق خواجہ حارث نے کیس کی تمام فائلیں چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کو بھجوا دیں،اسلام آباد ہائیکورٹ میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کیلئے خواجہ حارث پیش نہیں ہونگے،توشہ خانہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواست میں بھی خواجہ حارث وکیل نہیں ہونگے،سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نمائندگی سردار لطیف کھوسہ اور دیگر کریں گے،

    دوسری جانب ہائیکورٹ، توشہ خانہ کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خواجہ حارث کے کیس سے الگ ہونے کا معاملہ، چیئرمین پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم کے رکن بیرسٹر گوہر نے تردید کی اور کہا کہ خواجہ حارث کیس سے الگ نہیں ہوئے، ان کے معاونین آتے رہتے ہیں،خواجہ حارث کی مہارت اور قابلیت سے ہم استفادہ کرتے ہیں، خواجہ حارث کا پاوور آف اٹارنی سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ دونوں جگہ موجود ہے،

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو سزا ہو چکی ہے اور عمران خان اٹک جیل میں ہیں، توشہ خانہ کیس میں عمران خان کے وکیل خواجہ حارث تھے، سابق وزیراعظم نواز شریف کو جب سزا ہوئی تھی تب انکے وکیل بھی خواجہ حارث تھے، یوں خواجہ حارث نے کیس لڑتے ہوئے دو سابق وزیراعظم کو سزا سنوائی اور جیل بھجوایا، اب توشہ خانہ کیس میں عمران خان نے سزا کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے سپریم کورٹ میں بھی ایک درخواست زیر سماعت ہے

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • سعودی تحائف فروخت کرنے پربرازیل کے سابق صدر کی گرفتاری کا امکان

    سعودی تحائف فروخت کرنے پربرازیل کے سابق صدر کی گرفتاری کا امکان

    برازیلیا: جنوبی امریکہ کے ملک برازیل کے سابق صدر کو سعودی عرب سے تحفہ ملی گھڑی فروخت کرنے پر گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق برازیل کے سابق صدر نے سعودی عرب سے تحفہ ملی گھڑی کو امریکہ میں 68 ہزار ڈالر میں فروخت کر دیا تھا جس پر ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور الزام ثابت ہونے پر سابق صدر کو گرفتار کیا جا سکتا ہے بولسونارو کے وکلا کا کہنا ہے کہ سابق صدر کو جو تحائف ملے وہ ریاستی نہیں اور حکومتی پینل بیشتر تحائف کو ذاتی ملکیت قرار دے چکا ہے۔

    واضح رہے کہ سال 2021 میں برازیل کے سابق صدر بولسو نارو نے اپنے دور صدارت میں سعودی عرب سے 2 بیش قیمت ڈائمنڈ جیولریز وصول کی تھیں جن کی مالیت 32 لاکھ 75 ہزار ڈالر بنتی ہے سابق صدر نے یہ جیولریز جمع کروانے کے بجائے اپنے پاس رکھ لی تھیں جبکہ برازیلین قانون کے تحت حکومتی عہدیدار صرف ذاتی نوعیت اور کم ترین مالیت کے تحائف ہی اپنے پاس رکھ سکتے ہیں بولسونارو پر الزامات ان کے ہی ایک سابق ساتھی نے عاید کیے ہیں۔

    بھارت کا چندریان تھری، چاند پر لینڈ کر گیا

    بولسونارو فوج کے ایک سابق کیپٹن ہیں اور وہ لولا ڈی سلوا پر کرپشن کے الزامات عائد ہونے کے بعد اس وقت برازیل کے حکمران بنے تھے جب ڈی سلوا کے الیکشن لڑنے پر عدالتوں نے پابندی عائد کر دی تھی،تاہم بعد میں عدالتوں نے یہ پابندی ختم کر دی اور ڈی سلوا صدر بن گئے بولسونارو کے حامیوں نے برازیل نے بڑے بڑے مظاہرے کیے اور فوج سے مطالبہ کیا کہ لولا ڈی سلوا کو ہٹایا جائے کیونکہ وہ کرپٹ ہیں لیکن عدالتوں نے بولسونارو کو ہی طویل عرصے کیلئے نااہل قرار دے دیا۔

    آئی سی سی نے ون ڈے رینکنگ جاری کردی

  • سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی

    سپریم کورٹ میں چیرمین پی ٹی ائی کا توشہ خانہ کیس ٹرائل کو بھجوانے کے ہائیکورٹ حکم کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کی جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے مختلف احکامات کے خلاف تین درخواستیں دائر کی ہیں، چیرمین پی ٹی ائی 2018 انتخابات میں میانوالی سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے، الیکشن ایکٹ ہر رکن اسمبلی کو اثاثہ جات کی تفصیل جمع کروانے کا کہتا ہے،6 اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی آئی کی نااہلی کیلئے سپیکر اسمبلی کے پاس ریفرنس بھیجا ،اراکین اسمبلی نے چیرمین پی ٹی پر اثاثوں کی غلط ڈیکلریشن کا الزام لگایا سپیکر اسمبلی نے ریفرنس الیکشن ایکٹ کے سیکشن 137 کے تحت چیف الیکشن کمشنر کو بھجوا دیا

    جسٹس مظاہر علی اکبرنے لطیف کھوسہ کو ہدایت کی کہ آپ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 137 پڑھیں ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون کے مطابق الیکشن کمیشن 120 دنوں میں ہی کاروائی کرسکتا یے،جسٹس مظاہر نقوی نے استفسار کیا کہ کیا ایک ممبر دوسرے کے خلاف ریفرنس بھیج سکتا ہے ، لطیف کھوسہ نے کہا کہ کوئی ممبر ریفرنس نہیں بھیج سکتا الیکشن کمیش خود بھی ایک مقررہ وقت میں کاروائی کرسکتا ہے ،چیئیرمین پی ٹی آئی کیخلاف سپیکر نے ریفرنس بھیجا لیکن 120 دن گزرنے کے بعد، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس تو ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف ہے شکایت کی قانونی حیثیت پر نہیں، ٹرائل کورٹ سے مقدمہ ختم ہوچکا اب کس کو ریمانڈ کیا جا سکتا ہے؟ موجودہ کیس کا سزا کیخلاف مرکزی اپیل پر کیا اثر ہوگا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ عدالت کو گھڑی کی سوئیاں واپس پہلے والی پوزیشن پر لانی ہونگی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہر مرتبہ غلط بنیاد پر بنائی گئی عمارت نہیں گر سکتی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر کو چیئرمین پی ٹی آئی کو نااہل کرکے شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا،الیکشن کمیشن کے فیصلے کیخلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا نہ کوئی فوجداری کارروئی تاحکم ثانی نہیں ہوگی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کرینگے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست وہاں ہی دائر ہوسکتی جس عدالت کی توہین ہوئی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کی روشنی میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے فوجداری شکایت درج کرائی،ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو الیکشن کمیشن نے مقدمہ درج کرانے کی اتھارٹی نہیں دی تھی،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اپ نے شکایت کی قانونی حیشت کو چیلنج ہی نہیں کیا؟ لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے شکایت کی قانونی حیشت کو ہی چیلنج کیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ کا کیس اب ٹرائل کورٹ میں زیر التوا نہیں، آپ کا کیس سن کر اب ہم کہاں بھیجیں گے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ اس ساری مشق کو سپریم کورٹ کالعدم قرار دے سکتی ہے ،انصاف تک کی رسائی کو روکا جاتا رہا ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہتے ہیں شکایت ایڈیشنل سیشن کے بجائے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے تھی ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت اہم معاملہ ہے فیصلے پبلک ہوتے ہیں، فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے اور فیصلوں تک ہی رہنی چاہیے، ادارے ایسے ہی کام کر سکتے ہیں،جسٹس مندوخیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے کرپٹ پریکٹس کا فیصلہ دینے کے کتنے دن بعد شکائت بھیجی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں دنوں کا تعین اثاثوں کے تفصیل جمع کرانے کے بعد سے لکھا ہے، سردار لطیف کھوسہ نے قانون پڑھ کر سنا دیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 342 اسمبلی ممبران پھر صوبائی ممبران سب کی تفصیل الیکشن کمشن 120 دن میں کیسے دیکھ سکتا ہے ؟ 120 دن کہاں سے شروع ہوں گے کے یہ دیکھنے کے لیے اپنا مائنڈ اپلائی کرنا ہو گا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ میرا مقدمہ بار بار ایک ہی جج کو بھجوایا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کسی عدالت پر تعصب کا الزام نہیں لگا سکتے، سپریم کورٹ یہاں سول جج تک اپنے تمام ججز کا دفاع کرے گی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے اس عدلیہ کے لیے اپنا خون بہایا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اس لیے تو آپ سے توقعات زیادہ ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم آپ کے لیے حاضر ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہمارے لیے نہیں اس چئیر کے لیے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے معاملہ ٹرائل کورٹ بھیجا تھا جس کے بعد ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ وہ جج فیصلہ دیکر لندن روانہ ہو گئے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لندن والی بات نہ کریں، آپ صرف یہ بتائیں ہائی کورٹ کے بتائے نکات پر ٹرائل کورٹ نے فیصلہ کیا یا نہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے ان نکات پر فیصلہ نہیں کیا کیس قابل سماعت ہونے کا اپنا سابقہ فیصلہ بحال کردیا،ان جج صاحب نے فیس بک پر چئیرمیں پی ٹی آئی کیخلاف زہر اگلا ہوا تھا، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کے دلائل مکمل ہو گئے ،سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی.

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں غلطیاں ہیں، عمران خان کو غلط طریقے سے سزا سنائی گئی،عمران خان کو سزا سنانے میں کوئی ایک نہیں کئی بڑی غلطیاں ہوئیں، عمران خان کا حق دفاع ختم کرنا غلط تھا، ٹرائل کورٹ کے جج نے اس فیصلے پر انحصار کیا، جو کالعدم ہو چکا تھا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ملک کی کسی اور عدالت میں یہ سب ہوتا ہے جو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں ہوا؟

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل لطیف کھوسہ کی سرزنش کی اور کہا کہ آپ ہر بات پر اسلام آباد ہائیکورٹ پر اعتراض اٹھا رہے ہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ اعتراض نہ کریں تو پھر کیا کریں ؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ نے فیصلہ کردیا تو آپ اپیل کردیں، عدالت کا ہر فیصلہ پبلک ڈومین میں جاتا ہے،
    عدالت کا فیصلہ ڈسکس ہونا چاہیے ججز نہیں، لطیف کھوسہ نے جواب دیا ،ٹھیک ہے سر، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ہائیکورٹ نے چار اگست کو آپ کی درخواستوں پر فیصلہ کردیا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ کے جج ہمایوں دلاور نے ہمارے خلاف فیصلہ دے دیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیشن عدالت کے خلاف کوئی حکم امتناع نہیں تھا اس نے فیصلہ ہی کرنا تھا، لطیف کھوسہ نے کہا کہ قانون میں پھر 120 کی حد کیوں دی گئی ہے ؟ کیا ساری عمر یہ تلوار لٹکتی رہے گی ؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ قانون میں لکھا ہے کہ جب ڈیکلریشن کا جھوٹا ہونے کا پتہ چلے گا اس کے 120 دن تک شکایت درج ہوسکتی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے 800 سے زیادہ ارکان ہیں، الیکشن کمیشن نے سینکڑوں ارکان اسمبلی کے اثاثوں کا جائزہ 120 دن میں تو نہیں لے سکتا،120 دن کب شروع ہوں گے اس کے لیے مائنڈ آپلائی کرنا پڑتا ہے، پانچ اگست کو اپیل کا فیصلہ ہوگیا آپ نے چینلج بھی کردیا،ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کو تعصب کے ساتھ ٹرائل کی تیز رفتاری پر بھی اعتراض تھا،اگر کوئی فیصلہ غلط ہے اس میں مداخلت کرسکتے ہیں، سپریم کورٹ یہاں ہر جج کے تحفظ کے لیے بیٹھی ہے،سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ماتحت عدالت تک ہر جج کی عزت برابر ہے،جب فیصلہ آجاتا ہے تو وہ عوام کی ملکیت ہوتی ہے، تنقید عدالتی فیصلے پر کریں ادارے پر نہیں،

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ پہلے چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف کرپٹ پریکٹس ثابت ہوئی پھر شکایت بھیجی گئی، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،قومی اسمبلی کے 342 ارکان ہوتے ہیں،120دن میں شکایت بھیجنا مشکل ہے،آپ عدالتی فیصلے پر بات کریں، جج پر بات نا کریں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے جج سے لے کر ٹرائل کورٹ تک سب کی برابر عزت و تکریم ہے، ہم نے آپ کیلئے خون دیا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے ہمارا ساتھ دیا، آئین کیلئے ہم گواہ ہیں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آپ نے آئین کیلئے جدوجہد کی، کسی جج کیلئے نہیں،

    لطیف کھوسہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی واپس ہائیکورٹ بھیج دیا،سپریم کورٹ ہمارے اعتراضات کو سن کر فیصلہ کرے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ ہائیکورٹ کے فورم کو کیوں ضائع کررہے ہیں، لطیف کھوسہ نے کہا کہ
    ہائیکورٹ کا فورم ضائع ہوتا ہے تو ہونے دیں،ہم خوار ہورہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ جزباتی ہونے کی بجائے قانون کے مطابق دلائل دیں، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں اپیلیں زیرسماعت ہیں انہیں فیصلہ کرنے دیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بہتر نہیں ہوگا ہائیکورٹ مائنڈ اپلائی کرکے فیصلہ دے، بار بار کیسز عدالتوں میں آتے رہے، امجد پرویز وکیل الیکشن کمیشن نےکہا کہ اس کیس میں پیش ہونے کیلئے میرے پاس اٹارنی نہیں ہے، عدالت نے وکیل الیکشن کمیشن سے کہا کہ آپ پہلے بھی پیش ہوتے رہے ہیں، اس کیس پر آپ سے معاونت لیں گے، ہائیکورٹ نے خود فیصلہ کرنے کی بجائے پھر ریمانڈ بیک کردیا، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے 3سے4 مرتبہ کیس میں وقفہ کیا لیکن ملزم کی طرف سے کوئی پیش نہیں ہوا، پھر سیشن کورٹ نے فیصلہ کردیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کتنے دن کے مواقع دئیے گئے، اگر ٹرائل کورٹ یا اپیلٹ کورٹ نے کسی معاملے کو نہیں دیکھا تو ہم اس کو دیکھ سکتے،اگر متعلقہ کورٹ نے کسی معاملے پر فیصلہ کرلیا ہے تو اپیل میں ہم دیکھ سکتے ہیں،

    توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست،الیکشن کمیشن کے وکیل نے وقت مانگ لیا

    عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست،الیکشن کمیشن کے وکیل نے وقت مانگ لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

    ڈاکٹر بابر اعوان اور شیر افضل مروت نے سب سے پہلے عمران خان سے وکلاء کی ملاقات نہ کرانے کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری کے سامنے رکھ دیا ،وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ آپ کے احکامات کے باوجود ہمیں عمران خان سے ملنے نہیں دیا جا رہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ آپکو ملاقات سے کیوں روکا گیا ہے، میں نے تو کہا تھا دو تین وکلاء ملاقات کیلئے چلے جائیں اور زیادہ رش نہ ہو،ملاقات میں کوئی ممانعت نہیں ہے، ہم نے گزشتہ سماعت پر جیل رولز بھی دیکھے تھے، میں نے اس تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آرڈر پاس کیا تھا،

    شیرافضل مروت ایڈوکیٹ نے کہاکہ ابھی کچھ ہی دیر پہلے میرے گھر پر ریڈ کیا گیا ہے، چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے اپیل پر نوٹس جاری کر کے کیس کا ریکارڈ طلب کیا تھا، کیا ریکارڈ عدالت میں آ گیا ہے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ مجھے کیس کا تصدیق شدہ ریکارڈ ابھی نہیں مل سکا،کیس کے میرٹس پر سزا معطلی کی درخواست دی گئی ہے، میری استدعا ہے کہ مجھے تیاری کیلئے مناسب وقت دیا جائے، بابر اعوان نے کہا کہ لطیف کھوسہ، خواجہ حارث اور دیگر سینئر وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ میں اس حوالے سے آرڈر پاس کروں گا، سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ میری درخواست سن لیں شاید آج سزا معطل ہی ہو جائے، عدالت نے کہا کہ عمران خان کی وکلاء سے ملاقات کے بارے میں آج واضح فیصلہ جاری کرونگا

    ایڈیشنل جج اٹک کی رپورٹ سردار لطیف کھوسہ نے جسٹس عامر فاروق اور جہانگیری صاحب کے آگے رکھ دی، لطیف کھوسہ نے کہا کہ سیشن جج صاحب نے خود رپورٹ دی ہے وہاں پرائیوسی تک نہیں،ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ یہ سلوک کیا جا رہا ہے، ایڈووکیٹ لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پر رحم نہ کھائیں مگر آئین میں دیے گئے بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں ،

    الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے وقت مانگنے پر عدالت نے سماعت پرسوں تک ملتوی کر دی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی اپیل پر سماعت 24 اگست تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

  • سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ،توشہ خانہ کیس میں اپیل سماعت کیلئے مقرر

    سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین تحریک انصاف کی اپیل 23 اگست کو سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظاہر نقوی اور جسٹس جمال مندوخیل بنچ کا حصہ ہونگے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی،چیرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 اگست کے فیصلوں کو چیلنج کیا تھا اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ قابل سماعت ہونے کا معاملہ واپس جج ہمایوں دلاور کو بھجوادیا تھا ،سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس میں جج ہمایوں دلاور نے عمران خان کو سزا سنائی ،جس کے بعد عمران خان اٹک جیل میں ہیں، جج ہمایوں دلاور پر پی ٹی آئی نے اعتراض عائد کیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی تا ہم عدالت نے دو بار یہی فیصلہ دیا تھا کہ جج ہمایوں دلاور ہی کیس کو سنیں گے جس کے بعد پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، جج ہمایوں دلاور کیس کا فیصلہ سنا چکے ہیں اور عمران خان جیل میں ہیں

    عمران خان کو جب زمان پارک سے گرفتار کر کے اٹک جیل لے جایا گیا تھا تو ابتدائی ایام میں عمران خان کو جیل میں مشکلات کا سامنا تھا ، انکو ایک چھوٹی سی بیرک میں رکھا گیا تھا اور واش روم بھی اسی بیرک کے اندر ہی موجود تھا تا ہم اب عمران خان کو جیل میں سہولیات ملنے لگ گئی ہیں،

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

    بشریٰ بی بی نے شوہر کے لئے چار سہولیات مانگ لیں

    پی ٹی آئی کورکمیٹی میں اختلافات،وکیل بھی پھٹ پڑا

  • بشریٰ بی بی آڈیو سن کر مکر گئیں،کہا میری نہیں

    بشریٰ بی بی آڈیو سن کر مکر گئیں،کہا میری نہیں

    توشہ خانہ کی تحقیقات جاری ہیں، بشریٰ بی بی کو طلب کیا گیا تھا مگر وہ پیش نہیں ہو رہی تھیں، تاہم عدالتی حکم کے بعد بشریٰ بی بی گزشتہ روز تحقیقات کے لئے پیش ہوئیں اور شامل تفتییش ہو کر سوالوں کے جواب دیئے، بشیری بی بی کے سوالوں کے جواب "ناں” میں ہی تھے،

    توشہ خانہ کی گھڑی کی جعلی رسیدیں بنانے کا معاملہ ،بشریٰ بی بی کے گزشتہ روز کے پولیس کو دئیے گئے بیان کے مندرجات سامنے آئے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس تفتیشی ٹیم نے 25 سوال تیار کیے مگر 23 سوال بشری بی بی سے پوچھے،زیادہ تر سوالات توشہ خانہ کے تحائف سے متعلق تھے،بشری بی بی نے جعلی رسیدیں بنانے کے الزام کو رد کر دیا، بشریٰ بی بی نے ٹیم کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ رسیدیں کہاں سے آئیں کس نے بنوائیں ہم نہیں جانتے،توشہ خانہ گھڑی سے متعلق میڈیا پر چلنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں، میں نے گھڑی خریدی نہ بیچی نہ ہی حصے دار ہوں،میں تو کسی سے ملتی ملاتی بھی نہیں ہوں

    بشری بی بی سے دو آڈیو لیکس سے متعلق بھی سوالات کئے گئے، بشریٰ بی بی مکر گئیں اور انکار کرتے ہوئے کہا کہ آڈیوز میں آواز میری نہیں ہے، بشری بی بی کے انکار کے بعد پولیس ٹیم نے آڈیوز سنائیں، آڈیوز سننے کے بعد بشری بی بی نے آڈیوز کو فیک قرار دے دیا ،پولیس ٹیم نے دونوں آڈیوز کا فرانزک کرانے فیصلہ کیا ہے،دونوں آڈیوز کی فرانزک رپورٹ کیس ریکارڈ کا حصہ بنائی جائے گی

    کاشانہ معاملہ، افشاں لطیف کا حکومت کے خلاف انتہائی اقدام

    کاشانہ کیس، ن لیگ بھی میدان میں آ گئی، عظمیٰ بخاری نے بڑا مطالبہ کر دیا

    کاشانہ کیس،اخلاقی کرپشن، عدالتی کمیشن بنانے کا مطالبہ سامنے آ گیا

    اس قوم کے بخت سنورگئے جس نے درخت لگا ئے:افشاں لطیف

    کاشانہ کی بیٹیوں کی پرخلوص دعاﺅں نے وزیراعلیٰ پنجاب کوحادثہ سے بچالیا ،افشاں لطیف

    افشاں لطیف کے خدشات درست ثابت،کاشانہ اسکینڈل کے اہم راز جاننے والی اقرا کائنات کی پراسرار حالات میں موت

    کم عمر بچیوں کی شادی نہ کروانے پر کاشانہ کی سپرنٹنڈنٹ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

    کاشانہ کیس،بات پارلیمنٹ تک پہنچ گئی، رحمان ملک نے بڑا حکم دے دیا

  • پرویز الٰہی کا 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور

    پرویز الٰہی کا 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور

    احتساب عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کا 21 اگست تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، عدالت نے تفتیش کے لیے چودھری پرویز الٰہی کو نیب کے حوالے کر دیا،

    پرویز الٰہی کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق احتساب عدالت میں سماعت ہوئی، وکیل نیب نے کہا کہ اس کیس میں چار لوگ پہلے ہی گرفتار ہیں،پرویز الٰہی کو کل گرفتار کر کے آج احتساب عدالت میں پیش کیا گیا ہے،وپرویز الٰہی بطور وزیر اعلی نے صرف گجرات کے لیے 72 ارب روپے کے ڈویلپمنٹ پیکجز دیے،متعلقہ ایکسین سے 200 منصوبوں کی لسٹ بنائی گئی،قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فاسٹ ٹریک پر منصوبوں کی اپررول دی گئی،مونس الہی نے میٹنگ کر کے کک بیکس کے شئیر طے کیےہمارے پاس ان سب باتوں کے ثبوت موجود ہیں،کام شروع ہونے سے پہلے رقم جاری ہونا شروع ہو گئی جو قانون کی خلاف ورزی ہے،

    وکیل پرویز الٰہی امجد پرویز نے کہا کہ پرویز الٰہی کی گرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں کیسز زیر سماعت ہیں،پرویز الہی کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا جائے،لیکن پرویز الہی کو ادویات اور دیگر سہولیات بھی دی جائیں ،پرویز الہی کو اہلیہ اور بچوں سے ملاقات کی اجازت دی جائے،وارث جنجوعہ نے کہاکہ ہم قانون کے مطابق جو سہولیات ہوں گی وہ مہیا کریں گے،عدالت نے پرویز الہی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا منظور کر لی پرویز الہی کو 21 اگست کو دوبارہ پیش کیا جائے گا

    سابق وزیراعلیٰ پنجاب، تحریک انصاف کے صدر چودھری پرویز الہیٰ کو آج احتساب عدالت میں پیش کیا گیا،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں، صحافیوں کے عدالت داخلےپر پابندی لگائی گئی تا ہم صحافیوں نے جج سے ملاقات کی جس کے بعد صحافیوں کو کوریج کی اجازت مل گئی

    سابق وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کے خلاف نیب کرپشن کیس ،پرویز الہی نے ایڈووکیٹ امجد پرویز کی خدمات حاصل کرلیں ،امجد پرویز توشہ خانہ کیس میں چئیرمن پی ٹی آئی کے خلاف پیش ہوتے رہے ہیں ،امجد پرویز توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن کے وکیل تھے ،امجد پرویز چئیرمن پی ٹی آئی کے خلاف نیب کیسز میں نیب کے وکیل بھی رہ چکے ہیں،امجد پرویز شریف فیملی کے بھی وکیل رہ چکے ہیں،

    کورٹس جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد اشفاق اور سیکرٹری محمد ہارون کی ایڈمن جج احتساب عدالت سے ملاقات ہوئی، ایڈمن جج احتساب عدالت زبیر شہزاد کیانی نے کورٹ رپورٹرز کے تمام تحفظات دور کردئیے ،صدر محمد اشفاق نے کہا کہ صحافیوں کو فرائض کی ادائیگی سے نہیں روکا جاسکتا ،سیکرٹری محمد ہارون نے کہا کہ صحافیوں کو سپریم کورٹ سے لیکر تمام عدالتوں میں کوریج کی اجازت حاصل ہے ،ایڈمن جج احتساب عدالت نے تمام رپورٹرز کو پرویز الہی کیس میں کمرہ عدالت تک رسائی دیدی ،سیکرٹری محمد ہارون کو فوکل پرسن مقرر کردیا گیا ،سیکرٹری محمد ہارون کی ڈی ایس پی سکیورٹی سے ملاقات ہوئی، سیکرٹری محمد ہارون کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کی پیشی کے دوران تمام قواعد وضوابط پر عمل کیا جائے گا

    واضح رہے کہ پرویز الہیٰ کو گزشتہ روز اڈیالہ جیل سے رہا کیا گیا تھا تو نیب نے گرفتار کر لیا تھا، نیب حکام نے پرویز الہیٰ کو عدالت پیش کر کے ایک روزہ راہداری ریمانڈ لے کر انہیں لاہور منتقل کر دیا تھا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • عمران خان کی اپیل پر نوٹسز جاری، فوری سزا معطلی کی درخواست مسترد

    عمران خان کی اپیل پر نوٹسز جاری، فوری سزا معطلی کی درخواست مسترد

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی ٹرائل کورٹ سے سزا کے خلاف اپیل پراسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق جہانگیری نے اہیل پر سماعت کی،روسٹرم پر 35 سے زائد وکلاء موجود تھے، عدالت کے باہر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے وکلاء کو حراساں کرنے کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے اٹھا دیا ،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ہم نے عدلیہ کی آزادی اور سسٹم کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں، وکلاء کو ہراساں کیا جارہا ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان کے وکیل بیرسٹر گوہر کو چیمبر میں بلا لیا ، چیف جسٹس عامر فاروق نے وکلاء سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت کے بعد آپ میرے چیمبر میں آجائیں،

    عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے جج ہمایوں دلاور کے خلاف کارروائی کی استدعا کردی. لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ ملزم کے حق دفاع ختم کرنے کے خلاف اپیل آپ کے سامنے زیر التوا ہے،جب ایک کیس میں حق دفاع کی اپیل زیر التوا ہو تو ماتحت جج کیسے کیس کا فیصلہ سنا سکتا ہے، جج نے دو دن کا انتظار تک نہیں کیا، کل آپ حق دفاع ختم کرنے کے خلاف درخواست سنیں گے، ملزم کو سزا ہوچکی ہے اب آپ کیا درخواست سنیں گے؟ ایک ایڈشنل سیشن جج اگر عدالت کے حکم کی پاسداری نہیں کرے گا تو پھر یہاں کونسا نظام انصاف ہے؟ لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ عمران خان کی سزا آج ہی معطل کردی جائے،

    عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں سزا کے خلاف اپیل کی درخواست پر لطیف کھوسہ نے روسٹرم پر آکر دلائل شروع کیے تو کیس کے مرکزی وکیل خواجہ حارث اپنی کرسی پر جا کر بیٹھ گئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی اپیل پر الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دیا، عدالت نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا،عدالت نے ٹرائل کورٹ سے کیس کا سارا ریکارڈ طلب کر لیا

    عمران خان کے وکلا نے عدالت میں کہا کہ نوٹسز کررہے ہیں تو سماعت کل کے لیے رکھیں، جس پر عدالت نے کہا کہ ریکارڈ منگوانا ہے، کل سماعت ممکن نہیں،خواجہ حارث نے کہا کہ عام حالات میں ، میں آخری آدمی ہوں جو کیس چھوڑ کر کسی جج پر بات کروں گا، دکھ ہوتا ہے جب ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی تمام گزارشات آرڈر میں آبزرو کریں گے، خواجہ حارث نے کہا کہ اس کیس میں سزا معطلی عمران خان کا آئینی حق ہے، ٹرائل جج نے تیسرے ہی دن فیصلہ کردیا،تیسرے نہ صحیح، پانچویں دن فیصلہ کر دیتے،کیا جلدبازی تھی؟ اگر چھ ماہ بعد آپ نے اس سزا کو ختم کرنا ہے تو ایک دن بھی عمران خان جیل کیوں رہیں؟ توشہ خانہ کیس میں ایک بھی گواہ نے یہ نہیں کہا عمران خان نے جرم کیا ہے،اس کیس میں صرف جج صاحب نے کہا جرم ہوا ہے، اس کیس میں جرم کی نیت کا پہلو ہی موجود نہیں جس کی عدم موجودگی میں سزا ہو نہیں سکتی،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ یہ اپیل اسی طرح سنی جائے جیسے روزانہ کی بنیاد پر جج ہمایوں دلاور نے ٹرائل چلایا، 5 اگست کو کیا کچھ ہوا؟ خواجہ حارث نے عدالت میں بتایا خواجہ حارث نے اپنے ایسوسی ایٹ کے وٹس ایپ وائس نوٹ کا ٹرانسکرپٹ ججز کے سامنے رکھ دیا ،خواجہ حارث نے اہم تصاویر ججز کے سامنے رکھ دیں ،میں 5 اگست کو جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں لیٹ کیوں پہنچا؟ خواجہ حارث نے عدالت میں ثبوت دے دیئے،اور کہا کہ میرے منشی کو ہائیکورٹ داخلے سے روکنے والے افراد کی تصویر موجود ہے، میں نے منشی سے کہا کہ خود کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا آڈیو نوٹ بھیج دو، میں آڈیو نوٹ کا ٹرانسکرپٹ عدالت کے سامنے لایا ہوں، اب عدالت دیکھ لے کہ یہ سزا معطلی کا مثالی کیس ہے یا نہیں۔جج نے کہا کہ فیصلہ کر چکا ہوں، اب آپ کو نہیں سن سکتا، جج نے مجھے مکمل نظر انداز کرتے ہوئے فیصلہ سنانا شروع کر دیا،ہم نے کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف دو درخواستیں دائر کیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس دوبارہ ٹرائل کورٹ کو ریمانڈ کیا،ٹرائل کورٹ نے ہمیں سماعت کا مناسب موقع دیے بغیر ہی فیصلہ سنا دیا،

    عمران خان کی توشہ خانہ میں سزا کو فوری طور پر معطلی کی درخواست مسترد کر دی گئی،چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کل میں نے میڈیکل چیک اپ کروانا ہے شاید میں کل دستیاب نہ ہوں، چھٹیوں کے بعد درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کر رہے، آپ فکر نہ کریں اگلے چار پانچ دنوں میں درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کردیں گے،

    قبل ازیں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہائیکورٹ بار روم آمد ہوئی،چیف جسٹس نے ہائیکورٹ سے بار روم جانے کے راستے کا افتتاح کیا ،بار روم سے ہائیکورٹ کی جانب جانے والے گیٹ افتتاح کے بعد کھول دیا گیا .گیٹ کھلنے سے بار روم سے بآسانی ہائیکورٹ تک رسائی ہوسکے گی صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار نوید ملک کی دعوت پر ججز نے بار روم کا دورہ کیا ، چیف جسٹس کے ساتھ دیگر ججز بھی شامل تھے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ،جسٹس طارق محمود جہانگیری بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی افتتاحی تقریب میں شریک تھیں ،بار روم میں ججز سے ہائیکورٹ بار کے وکلاء کی ملاقات بھی ہوئی

    واضح رہے کہ عمران خان کو  توشہ خانہ کیس میں تین سال قید کی سزا اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کو لاہور سے گرفتار کر کے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا تھا،عمران خان اٹک جیل میں ہیں، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی