Baaghi TV

Tag: توشہ خانہ

  • عمران خان کو سزا اور گرفتاری،ترجمان تحریک انصاف کا ردعمل

    عمران خان کو سزا اور گرفتاری،ترجمان تحریک انصاف کا ردعمل

    تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، عمران خان کو سزا اور گرفتاری کے بعد ترجمان تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آیا ہے

    پاکستان تحریک انصاف نے جج ہمایوں دلاور کا متعصبانہ فیصلہ مسترد کردیا ،فیصلے کو اعلیٰ عدالت کے روبرو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا، ترجمان پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ توشہ خانہ مقدمے کے ذریعے نظامِ عدل کی پیشانی پر ایک اور سیاہ دھبّہ لگایا گیا، جج ہمایوں دلاور کی جانب سے تاریخ میں بیہودہ ترین انداز میں ٹرائل چلایا گیا، تاریخ کے اس بدترین ٹرائل میں جج کے ہاتھوں انصاف کے قتل کی کوشش کی گئی، تعصب کی سیاہ پٹیاں آنکھوں پر باندھ کر ٹرائل چلانے والے جج نے مقدمے کے حقائق کو مخصوص ایجنڈے کی بھینٹ چڑھایا،سیشن عدالت کا فیصلہ سیاسی انتقام اور انجینئرنگ کی بدترین مثال ہے،

    ترجمان تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ ناقص، مضحکہ خیز اور ٹھوس قانونی بنیادوں سے محروم فیصلے کے ذریعے جمہور اور جمہوریت کیخلاف شرمناک یلغار کی گئی،ہمایوں دلاور کا فیصلہ لندن پلان کے تحت لیول پلیئنگ فیلڈ جیسے شرمناک اہداف کے حصول کی مایوس کن کوشش ہے، قوم کے مقبول اور معتبر ترین سیاسی قائد کیخلاف سازش اور انتقام کی ایسی بھونڈی کوشش قوم ہرگز قبول نہیں کرے گی، فسطائیت کو میسّر عدالتی پناہ اور بدترین ریاستی جبر کے سامنے ہرگز سرنگوں نہیں ہوں گے،

    مشاروت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا،شاہ محمود قریشی
    تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف فیصلہ عجلت میں کیا گیا ، قانونی ٹیم کی مشاروت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا

    پی ڈی ایم کے سازشی ٹولہ کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے،مونس الٰہی
    عمران خان کی گرفتاری کے بعد مونس الٰہی کا ردعمل بھی سامنے آ گیا ہے، مونس الہیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تماشہ خانہ کیس کا پہلے سے طےشدہ فیصلہ آج سنا دیا گیا پاکستان میں ایک دفعہ پھر قانون کا خون ہو گیا قوم کے مقبول ترین لیڈر عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا پی ڈی ایم کے سازشی ٹولہ کو عوام کبھی معاف نہیں کریں گے

    اعلٰی عدالت میں یہ فیصلہ کھڑا نہیں ہو گا،اسد عمر
    عمران خان کی گرفتاری پر اسد عمر کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے، اسد عمر کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ قانون کے بنیادی اصول پر ہی پورا نہیں اترتا کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آنا چاہیے،اعلٰی عدالت میں یہ فیصلہ کھڑا نہیں ہو گا ،اور سیاست دانوں کے بارے میں معنی خیز فیصلے عوام کے دلوں میں ہوتے ہیں، عدالتوں میں نہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالتی فیصلے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے، توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

  • عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا

    عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا

    عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو پولیس براستہ سڑک لے کر اسلام آباد روانہ ہو گئی ، موسم خراب ہونے کے سبب سابق وزیراعظم عمران خان کو بذریعہ موٹروے اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، اس سے پہلے ان کو ایئرپورٹ لے جایا گیا تھا جہاں اسلام آباد لے جانے کیلئے ہیلی کاپٹر پر لے جانے کی تیاریاں کی گئی تھیں تا ہم موسم کی خرابی کی وجہ سے عمران خان کو بذریعہ موٹروے اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے،، اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔

    پولیس عمران خان کو آدھا گھنٹہ میں گرفتار کرکے کوٹ لکھپت جیل پہنچی وہاں سے عمران خان کو ایئر پورٹْ لایا گیا تا کہ انہیں اسلام آباد منتقل کیا جا سکے، عمران خان کو سخت سیکورٹی میں جیل لے جایاگیا، پولیس کی بھاری نفری ہمراہ ہے، عمران خان کی گرفتاری عدالتی فیصلے کے 20 منٹ بعد ہو گئی، عمران خان نے گرفتاری کے لئے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی،عمران خان کو لاہور پولیس نے جب زمان پارک سے گرفتار کیا تو پولیس اتنی جلدی میں تھی کہ انہیں کوئی سامان ساتھ رکھنے نہیں دیا گیا تاہم جب انہیں اسلام آباد ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو انہیں لاہور کے پرانے ایئرپورٹ منتقل کیا گیا عمران خان نے وہاں انتظار کے دوران گھر سے کپڑے اور قرآن پاک منگوایا دیگر سامان میں کتابیں، شیونگ کٹ سمیت ضروری اشیا بھی طلب کیں.

    گرفتاری کے بعد عمران خان کی تصویر
    گرفتاری کے بعد عمران خان کی تصویر

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے ٹویٹر پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہمیری گرفتاری متوقّع تھی چنانچہ میں نے یہ پیغام اپنی گرفتاری سے قبل ریکارڈ کروایا۔ یہ لندن پلان پر عملدرآمد کی جانب ایک اور قدم ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرے کارکنان پرامن، ثابت قدم اور مضبوط رہیں۔ ہم رب العزّت کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکتے جو ”الحق“ ہے۔ لاالٰہ الّا اللہ ہی ہمارا ایمان ہے۔

    نگران وزیر اطلاعات پنجاب عامر میر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو اسلام آباد بھیجا جا رہا ہے۔ جیل کا انتخاب آئی جی اسلام آباد کریں گے،

    ترجمان پی ٹی آئی نے تصدیق کی ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کو زمان پارک سے گرفتار کر لیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نےگرفتاری کی تصدیق کر دی، عمران خان کی گرفتاری کے بعد اب شاہ محمود قریشی تحریک انصاف کے معاملات دیکھیں گے،

    چیئرمین تحریک انصاف کی گرفتاری کے بعد ممکنہ احتجاج کے پیش نظر شہر میں سیکورٹی ہائے الرٹ کر دی گئی ہے،

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی گرفتاری کے لیے زمان پارک کو چاروں اطراف سے سیل کر دیا گیا۔ عمران خان کی بہنوں نے تصدیق کی ہے کہ عمران خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ایک اور ٹویٹ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پولیس کو توقع ہے کہ تحریک انصاف کے کچھ دیگر رہنما بھی زمان پارک میں چھپے ہوئے ہیں دیکھتے ہیں ان کو بھی ڈھونڈتے ہیں یا نہیں؟

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو سزا سنائے جانے کے بعد پولیس کی بھاری نفری عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک پہنچی زمان پارک کی اطراف کی سڑکوں کو بند کیا گیا، پولیس نے مال سے دھرم پورہ جانے والے کینال روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھاایس پی سول لائن حسن جاوید بھٹی بھی زمان پارک میں موجود تھے

    دوسری جانب سیینئر صحافی و اینکر حامد میر کہتے ہیں کہ ایک اور سابق وزیراعظم کو سزا سنا دی گئی آج تک کسی ڈکٹیٹر کو سزا نہیں ملی کیونکہ وزیراعظم جب حکومت نیں ہوتا ہے تو ڈکٹیٹروں کے خلاف فیصلے سنانے والے ججوں کو پاگل قرار دے دیتا ہے

    چیئرمین تحریک انصاف کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے سزا ،الیکشن کمیشن عدالت کے تفصیلی فیصلے کا منتظر ہے، تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس بلایا جائے گا، چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اجلاس میں تفصیلی فیصلے کا جائزہ لیا جائے گا،تفصیلی فیصلے کی روشنی میں عمران خان کو پارٹی صدارت سے ہٹانے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا،

    واضح رہے کہ توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے،ملزم آج عدالت میں پیش نہیں ہیں، فیصلے کی کاپی آئی جی اسلام آباد کو عملدرآمد کیلئے بھجوائی جائے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو وارنٹ گرفتاری پر تعمیل کرانے کا حکم دے دیا،سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی 5 سال کیلئے نااہل قراردے دیئے گئے،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • عمران خان چوری کرتے پکڑا گیا،پی ٹی آئی وکیل بھاگ گئے، عطا تارڑ

    عمران خان چوری کرتے پکڑا گیا،پی ٹی آئی وکیل بھاگ گئے، عطا تارڑ

    وزیراعظم کے معاون خصوصی، ن لیگی رہنما عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس حتمی مراحل میں داخل ہوا، تو تحریک انصاف کے وکیل بھاگ گئے، عمران خان چوری کرتے پکڑا گیا، اب بھی انہیں سہولت فراہم کی جا رہی ہے

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پر اعتماد نہیں، فارن فنڈنگ کیس چھ برس سے تاخیر کا شکار ہے، یہ کیس تاخیر کا شکار کیا گیا، آپ نے توشہ خانہ کے تحائف بیچے، قوم کو آپ پر اب اعتماد نہیں، عمران خان نہ خود عدالت پیش ہوئے نہ گواہ، عمران خان نے اثاثوں بارے جھوٹ بولا،ہرسال صرف چار بکریاں چلی آرہی ہیں اور زیور چھپایا گیا،ہائیکورٹ کے آرڈر نے پابند کیا تھا کہ ٹرائل کورٹ میں پیش ہوکربحث کریں لیکن آج بھی نہیں پیش ہوئے، پاکستان تاریخ کا انوکھا ٹرائل ہے 11 ماہ میں ملزم صرف چار بار پیش ہوا ملزم نے 342 کا بیان ریکارڈ کیا اور سائن کیا سائن کا مطلب ملزم نے جرم قبول کیا آپ میرٹ کے اوپر بات ہی نہیں کرتے علی ظفر صاحب الیکشن کمیشن میں بتا چکے ہیں تحائف فروخت ہوئے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی کی 25 سے 30 مرتبہ حاضری معافی کی درخواست قبول کی ہے اس کو پتہ ہے چوری کا جواب دینا پڑے گا

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی جانب سے ٹیریان کیس ہو، فارن فنڈنگ ہو، توشہ خانہ کیس ہو ہر کیس میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔عمران خان کے پاس تین گھر ہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ صرف چار بکریاں اور پانچ لاکھ کر فرنیچر اپنے اثاثوں میں ڈکلئیر کیے گئے ہیں، انکے نزدیک ٹیریان، فارن فنڈنگ، سائفر، تحاف کو بیچ دینا اور اسکے پیسے کھا جانا بھی کوئی جرم نہیں ہے، توشہ خانہ کیس میں ہوش ربا انکشافات ہو رہے ہیں،3 گھروں کا فرنیچر5 لاکھ کا ڈیکلیئرکیا گیا،8 کروڑ کے تحائف لے کر بھی ڈیکلیئر نہیں کر رہے، نواز شریف کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نکالا گیا

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

  • توشہ خانہ کیس:  عمران خان کو تین سال کی سزا

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کو تین سال کی سزا

    سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    توشہ خانہ کیس ،عمران خان کو نااہل کردیا گیا عدالت نے عمران خان کو تین سال قید ہی سزا سنا دی پانچ سال کے لیے چیئرمین پی ٹی آئی نااہل ہو گئے ، عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ بھی کر دیا، عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے جان بوجھ کر الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات دیں، ملزم کو الیکشن ایکٹ کی سیکشن 174 کے تحت 3 سال قید کی سزا سنائی جاتی ہے،ملزم آج عدالت میں پیش نہیں ہیں، فیصلے کی کاپی آئی جی اسلام آباد کو عملدرآمد کیلئے بھجوائی جائے، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ،عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو وارنٹ گرفتاری پر تعمیل کرانے کا حکم دے دیا،سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی 5 سال کیلئے نااہل قراردے دیئے گئے،

    جج ہمایوں دلاورنے سماعت کی ،الیکشن کمیشن کے وکلاء امجد پرویز، سعد حسن عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے کوئی وکیل تاحال پیش نہ ہوا ،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ کیا کوئی پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل آیا ہے؟ عدالت کی جانب سے دوسری بار کیس کال کرانے کی ہدایت کی گئی،

    جج ہمایوں دلاور نے امجد پرویز سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کہہ دیں، کوئی شعر ہی کہہ دیں، امجد پرویزنے کہا کہ وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی، میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا، اُسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں کمال تھا،

    عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء کو 10:30 تک مہلت دے دی ،سماعت 10:30 تک ملتوی کر دی گئی

    دوبارہ سماعت ہوئی تو بیرسٹر گوہر کے معاون وکیل خالد چوہدری پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث نیب کورٹ میں مصروف ہیں، جج نے استفسار کیا کہ کس کیس میں خواجہ حارث مصروف ہیں؟ معاون وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت میں چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہے، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکی وہاں کیا مصروفیات ہیں، کیا وہ ضمانت کی درخواستوں پر دلائل دے رہے ہیں؟ معاون وکیل نے کہا کہ خواجہ حارث دلائل نہیں دے رہے، وہاں موجود ہیں،الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ وہ کتنے بجے پیش ہوں گے، معاون وکیل نے کہا کہ جیسے ہی وہاں سے فارغ ہوں گے، یہاں پیش ہو جائیں گے،

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر خواجہ حارث پیش نہیں ہوتے تو کیا صورتحال ہوگی؟ گزشتہ روز کے آرڈر میں پیشی کی واضح ہدایات تھیں، ایسی صورتحال میں تو ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں، خواجہ حارث 12 بجے پیش ہوں ورنہ فیصلہ محفوظ کرلیا جائے گا، عدالت نے سماعت 12 بجے تک ملتوی کر دی،

    سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس کی سماعت تیسرے وقفے کے بعد شروع ہوئی،جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں الیکشن کمیشن کے وکلاء پیش ہوئے،عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 12 بجے میں فیصلہ سناؤں گا،

    ساڑھے بارہ بجے خواجہ حارث ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ , کورٹ روم پہنچ گئے، خواجہ حارث نے کہا مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیں میں کیس منتقلی کی درخواست دینے آیا ہوں

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ کیس ناقابل سماعت ہونے سے متعلق درخواست مسترد کر دی گئی،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کیخلاف جرم ثابت ہوتا ہے، ملزم نے الیکشن کمیشن میں جھوٹا بیان حلفی جمع کروایا،ملزم نے الیکشن کمیشن میں جھوٹی تفصیلات جمع کرائیں،ملزم کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب پائے گئے ہیں

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو تین سال قید کی سزا سنا دی گئی، عدالت نے ایک لاکھ جرمانہ عائد کرنے کا حکم بھی دیا، عدالت نے اسلام آباد پولیس کو گرفتاری کا حکم بھی دیا

    ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکس میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر اور احاطے کے اندر پولیس اور ایف سی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جوڈیشل کمپلیکس کے چاروں اطراف خار دار تاریں بچھائی گئی ہیں جج ہمایوں دلاور کے کمرہ عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جج ہمایوں دلاور کے کمرہ عدالت کے باہر واک تھرو گیٹ نصب کیا گیا ہے کمرہ عدالت کے اردگرد خار دار تاریں بچھائی گئی ہیں کمرہ عدالت میں ان وکلاء اور صحافیوں کو اندر جانے کی اجازت دی گئی جن کے نام لسٹ میں موجود ہیں جوڈیشل کمپلیکس کے اندر کسی غیر متعلقہ شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہے

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    توشہ خانہ کیس قابل سماعت قرار دینے کا سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

    توشہ خانہ کیس سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی کی 5 درخواستوں پر فیصلہ سنادیا گیا

    کیس قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے سے متعلق معاملہ واپس ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا ،کیس دوسری عدالت کو منتقل کرنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی گئی جج ہمایوں دلاور ہی کیس سنیں گے، توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردے دیا گیا،

    دوسری جانب توشہ خانہ سے متعلق کیس میں الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے۔ چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ آڈر کا انتظار کر لیں، کیسزسپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ جس پر جج ہمایوں دلاور کا کہنا تھا کہ میں نے آج کا ٹائم دیا تھا، الیکشن کمیشن اپنے دلائل شروع کریں۔ وکیل خواجہ حارث کی مرضی دلائل دیتے ہیں یا نہیں ،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    دوسری جانب سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی ،درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی گئی، فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ یقین ہے کہ ماتحت عدالت قانون کی پاسداری کریں گی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق کیس منتقلی کی درخواست کے دوران ٹرائل کورٹ فیصلہ نہیں دے سکتی، چیرمین پی ٹی آئی نے کیس منتقلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے،

  • چار بکریاں ڈیکلیئر کر دیں لیکن تحفے چھپا لئے گئے، عطا تارڑ

    چار بکریاں ڈیکلیئر کر دیں لیکن تحفے چھپا لئے گئے، عطا تارڑ

    وزیراعظم کے معاون خصوصی، ن لیگی رہنما عطا تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شخص جس نے سائیکل پہ دفتر جانا تھا اور ریاست مدینہ بنانی تھی آج وہ چھپا بیٹھا ہے اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہے کہ توشہ خانہ سے جو تحائف چوری کیے اور الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی تو عدالت میں کیا جواب جمع کرائے۔

    معاون خصوصی عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ چار بکریوں کے ساتھ ساتھ عمران نیازی نے 5 لاکھ کا فرنیچر بھی ڈیکلیئر کردیا لیکن وہ جو کروڑوں روپے کے تحفے لیے تھے جسے ڈیکلیئر 8 کروڑ 50 لاکھ کا کیا تو وہ تحفے کیوں چھپائے انہیں کیوں ڈیکلیئر نہیں کیا۔ ریاست مدینہ کے دعویدارکے پاس کوئی جواب نہیں ہے چیئرمین پی ٹی آئی کی چوری پکڑی گئی ہے چیئرمین پی ٹی آئی عدالت سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟ چیئرمین پی ٹی آئی نےتوشہ خانہ سے لیے گئے تحفے ظاہرنہیں کیے ،توشہ خانہ کیس کاٹرائل پچھلے گیارہ ماہ سے چل رہا ہے چیئرمین پی ٹی آئی تکنیکی بنیادوں پرکھیل رہے ہیں غیر متعلقہ گواہان کی فہرست جمع کرانا تاخیری حربہ ہے توشہ خانہ کیس میں بہت سے جرائم ثابت ہوچکے ہیں چیئرمین پی ٹی آئی نے گوشوارے میں زیورات ظاہر نہیں کیے آپ جو چوری کے راستے ڈھونڈیں چوری چوری ہے جو آپ نے گواہان دئیے اس پر صدقے جائیںجب 342 کا بیان ہو چکا ہے تو کوئی مقصد نہیں کہ آپ راہ فرار اختیار کریں

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ

    ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی
    جسٹس یحیئ آفریدی نے وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار کیا کہ جب ٹرانسفر درخواست ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہو تو فیصلہ نہیں سنایا جا سکتا ؟۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ جی یہی قانون ہے۔ عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ ہائیکورٹ کے فیصلے تک توشہ خانہ کیس کا فیصلہ نہیں کرسکتی ، سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس کے فیصلے کےخلاف عمران خان کی درخواست نمٹا دی

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھی تسلیم کیا کہ مقدمہ منتقلی کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتی ،سپریم کورٹ توشہ خانہ کیس میں حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس روکنے کی چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست نمٹا دی ،درخواست واپس لینے کی بنیاد پر نمٹائی گئی، فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا کہ یقین ہے کہ ماتحت عدالت قانون کی پاسداری کریں گی ،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ قانون کے مطابق کیس منتقلی کی درخواست کے دوران ٹرائل کورٹ فیصلہ نہیں دے سکتی، چیرمین پی ٹی آئی نے کیس منتقلی کی درخواست ہائیکورٹ میں دائر کر رکھی ہے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں توشہ خانہ کیس پر سماعت کیلئے نیا بینچ تشکیل دیا گیا ہے،توشہ خانہ کیس کی سماعت کیلئے جسٹس مظاہر علی اکبر کی جگہ جسٹس حسن اظہررضوی کو بینچ میں شامل کیا گیا ہے، جسٹس یحیٰی خان آفریدی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ پچھلی سماعت پر توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر دی گئی تھی، عمران خان کے خلاف اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں توشہ خانہ کیس زیر سماعت ہے لیکن تحریک انصاف چیئرمین نے یہ مقدمہ رکوانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم اب سپریم کورٹ کی جانب سے چیئرمین پی ٹی آئی کو توشہ خانہ کیس فوری ریلیف نہ مل سکا سپریم کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں فوری ٹرائل روکنے کی استدعا مسترد کر تے ہوئے الیکشن کمیشن حکام چار اگست کو طلب کیا تھا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • توشہ خانہ کیس، درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟ عمران خان کل ذاتی حثیت میں طلب

    توشہ خانہ کیس، درخواست قابل سماعت ہے یا نہیں؟ عمران خان کل ذاتی حثیت میں طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ، اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی
    ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کیس کی سماعت کی، عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو دلائل شروع کرنے کی ہدایت کردی ،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز عدالت میں پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نیاز اللہ نیازی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہمارے کیسز سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں مقرر ہیں ، ہماری استدعا ہے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے آرڈرز کا انتظار کر لیں ، جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آج کا وقت دیا تھا الیکشن کمیشن اپنے دلائل دے خواجہ حارث کی مرضی ہے، دلائل دیں نا دیں ، نیاز اللہ نیازی ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم دلائل دیں گے لیکن نیب سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں کیس لگے ہیں ،

    الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویزنے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تمام تر دستاویزات ملزم نے اپنے دستخط کے ساتھ جمع کروائیں اس لیئے ناقابل قبول ہونے سے متعلق کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا ۔اس حقیقت کو بھی تسلیم کیا گیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جناب سے ریفرنس بھیجا گیا ۔توشہ خانہ کے تحائف سے نہ انکار کیا گیا نہ اقرار کیا گیا اور کہا گیا یہ ریکارڈ کا حصہ ہے ۔توشہ خانہ سے لیئے گئے تحائف اور قومی خزانے میں جمع کروائے گئے چالان بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں تحائف کی شناخت کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے ۔انھوں نے اپنے جواب میں تسلیم کیا کہ کون کون سے تحائف انھوں نے لیئے ۔58 تحائف وزیراعظم اور اس کی اہلیہ کو ملے ۔ 14 تحائف کی ویلیو 30 ہزار سے زیادہ لگائی گئی جو خریدے گئے ۔ انکے مطابق 2 کروڑ 16 لاکھ 64 ہزار 600 کے چار تحائف خریدے گئے ۔ ایک گھڑی ، کف لنکس ، ایک گھڑی ایک انگوٹھی ، رولکس گھڑیاں ، آئی فون ، تحائف میں شامل ہیں ۔انھوں نے اپنے جواب میں کہا کہ استغاثہ نے کوئی شہادت پیش نہیں کی کہ تحائف کی مالیت 107 ملین تھی ۔استغاثہ نے شواہد پیش کیئے ہیں ۔تحائف کی لسٹ کو تسلیم کیا گیا ۔2018 -19 کے تحائف 20 فیصد ادا کرکے لیئے گئے ۔ کہا گیا کہ جیولری کے تمام تحائف بیگم وزیراعظم کو ملے ۔فارم بی میں جیولری کے کالم میں کچھ نہیں لکھا گیا ۔قیمتی آئٹم کا کوئی لفظ ہی فارم بی میں موجود نہیں ہے ۔بڑی چیزیں 107ملین کا گفٹ 58ملین میں فروخت کیا گیا 18-19میں ۔مارکیٹ ریٹ کے مطابق صرف 20فیصد توشہ خانہ میں جمع کروائے گئے ۔ملزم کہتا ہے مجھ سے زیادتی ہو رہی ہے توشہ خانہ گفٹ پر ٹیکس بھی ادا کیا 9.5 ملین ،ملزم کہتا ہے میرے بنک اکاؤنٹ میں 28ملین سے کم رہ گئے، لیکن میرے بینک اکاؤنٹ میں 30ملین آئے . 30جون تک اثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کروانا لازمی ہے۔تحفہ 58ملین کا فروخت کیا اور 21.5ملین توشہ خانہ میں ادا کیاجبکے 9.5ٹیکس ۔ٹیکس ریٹرن پبلک دستاویزات نہیں ہے کوئی دوسرا شخص لے تو وہ جرم ہے فام بی پبلک دستاویزات ہیں جو ہر شخص دیکھ سکتا ہے ۔ٹیکس ریٹرن نکلنے سے ایف بی آر کے افسر کے خلاف کاروائی بھی کی گئی ہے 29اکتوبر کو ٹیکس ریٹرن جمع کروائے گئے لیکن فام بی تاریخ 30جون ہے۔ملزم کہتا ہے ٹیکس ادا کیا وہ ان کے ہاتھ میں تھا لیکن فام بی میں وہ رقم شو نہیں کروائی گئی ۔

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی 4گواہان کی استدعا اس لیے مسترد کی گئی کیوں وہ ٹیکس ریٹرن کے متعلق تھی۔ٹیکس ریٹرن کو عدالت غیر متعلقہ کہہ چکی ہے تو آپ اس پر دلائل نہ دیں،وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویزنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کہتے کہ ٹیکس ریٹرن سے ثابت ہوتا میں نے بے ایمانی نہیں کی، ٹیکس ریٹرن کا تو کوئی کیس کے ساتھ تعلق ہی نہیں ہے،30 جون کو اثاثہ جات کا معاملہ لاک ہوجاتایے، پھر دستاویزات بے شک دسمبر میں جمع کرواتے رہیں،30 جون کی رات 9.5 ملین روپے چیئرمین پی ٹی آئی کے پاس تھے جو انہوں نے ظاہر نہیں کیا ،جج ہمایوں دلاور نے وکیل الیکشن کمیشن کو اثاثہ جات پر دلائل دینے کی ہدایت کردی جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی پر الزامات الیکشن ایکٹ کے تحت لگائے گئے ہیں، وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویز نے کہا کہ 58 ملین روپے چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے دستاویزات میں ظاہر نہیں کیے، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ امجدپرویز صاحب! یہ تمام باتیں غیر ضروری ہیں، 30 جون کے اختتام پر کتنے ظاہر کرنے تھے؟ 22.5 ملین؟ 58 ملین یا 107 ملین روپے؟ وکیل الیکشن کمیشن امجدپرویز نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی کو 58 ملین روپے ظاہر کرنے تھے جو نہیں کیے، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ دو سالوں میں تو چیرمین پی ٹی آئی پر الزام ہے کہ اثاثہ جات میں ظاہر کیا ہی نہیں،

    جج ہمایوں دلاور نے وکیل الیکشن کمیشن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے تمام پوائنٹس میں نوٹ کررہا ہوں، جج ہمایوں دلاور نے ای سی پی وکیل کو ہدایت کی کہ سال 2021 پر آئیں جس پر الزام ہےکہ غلط اثاثہ جات ظاہر کیے، وکیل ای سی پی امجدپرویزنے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی قیمتی تحائف کا کہتے ہیں؟ قیمتی تحائف کا تو خانہ فارم بی میں ہے ہی نہیں، قانون میں تو قیمتی تحائف کا زکر ہی نہیں، جیولری کا لفظ ہے جو لکھی نہیں گئی،چار سال میں چیرمین پی ٹی آئی اور ان کی فیملی کے پاس ایک تولہ جیولری کا نہیں،جج ہمایوں دلاورنے استفسار کیا کہ چیرمین پی ٹی آئی کے دستاویزات کے مطابق 2020-21 میں کوئی جیولری لی ؟ ،وکیل ای سی پی امجدپرویز نے کہا کہ 2020-21 میں 5تحائف ہیں، ایک رولیکس گھڑی، کف لنکس، رنگ، سوٹ، نیکلس، بریسلیٹ اور دیگر تحائف ہیں کیا رولیکس گھڑی، کف لنکس، رنگ، سوٹ، نیکلس، بریسلیٹ جیولری نہیں ؟ میں مان ہی نہیں سکتاکہ چیرمین پی ٹی آئی کے پاس ایک بھی نہ گاڑی ہو نہ جیولری ہو،چار سالوں میں چیرمین پی ٹی آئی کے پاس صرف چار بکریاں رہیں، کیا ماننے والی بات ہے؟

    چار سالوں میں تینوں گھروں کی قیمت چیرمین پی ٹی آئی نے 5 لاکھ ظاہر کی،وکیل الیکشن کمیشن
    توشہ خانہ کیس کی سماعت میں 11:30تک وقفہ کردیا گیا وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز کے حتمی دلائل مکمل ہو گئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی جیولری کے کالم میں لکھتے ہیں "جیولری ہے ہی نہیں”, چیرمین پی ٹی آئی اگر عوام کے سامنے جیولری اپنی ظاہر کردیتے تو کیا ہوجانا تھا،جب فارم میں جیولری لکھی ہے تو کسی وجہ سے لکھی ہے،
    ٹیکس ریٹرن میں توشہ خانہ کا لفظ لکھا ہے لیکن فارم بی میں توشہ خانہ کے تحائف نہیں لکھے،چیرمین پی ٹی آئی تین گھروں کے مالک ہیں، 3 کنال کا گھر اہلیہ کا ہے،چار سالوں میں تینوں گھروں کی قیمت چیرمین پی ٹی آئی نے 5 لاکھ ظاہر کی ہے،چیرمین پی ٹی آئی کے پاس فارم بی کے مطابق اپنی ایک بھی گاڑی نہیں،فارم میں اثاثہ جات ٹرانسفر کا کالم موجود ہے؟ فارم تو پوچھ رہاہے،

    توشہ خانہ کیس، آج دلائل لاک ہو جائیں گے،جج ہمایوں دلاور
    جج ہمایوں دلاور نے وکیل پی ٹی آئی نے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج حتمی دلائل کا آخری دن ہے، آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ آج تمام دلائل لاک ہوجائیں گے،درخواست اگر منظور ہوگئی تو بات ہی ختم،دوسری صورت میں آپ حتمی دلائل دیں، اچھے طریقے سے دیں،آپ نوجوان ہیں، آپ کو دیکھ کر خوشی ہوتی، خواجہ حارث آجائیں گے تو پھر پنچنگ کریں گے،جج ہمایوں دلاور نے توشہ خانہ کیس کی سماعت میں ساڑھے گیارہ بجے تک وقفہ کردیا

    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفے کے بعد ہوئی،جج ہمایوں دلاور کی عدالت میں پی ٹی آئی وکیل مرزا عاصم بیگ پیش ہوئے اور کہا کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ سیشن عدالت فیصلہ جاری نہیں کرسکتی. الیکشن کمیشن کے وکیل نے ایک گھنٹہ لگایا اثاثہ جات پر دلائل دیے ،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر دیکھا جائے تو دلائل کا معاملہ ڈیڑھ گھنٹے سے بھی زیادہ کا نہیں ،وکیل پی ٹی آئی عاصم بیگ نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کا انتظار کرلیں، جلدی کیا ہے ،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ جی بلکل! عدالت کو جلدی ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ یا سپریم کورٹ کیوں نہیں روک رہی؟ فیصلہ لائیں آپ ،اسٹے کا کوئی فیصلہ ہے تو سیشن عدالت لے کر آئیں ، سیشن عدالت اگر جلدی کر رہی تو سپریم کورٹ میں یہ بات کیوں نہیں کرتے؟

    جج ہمایوں دلاور نے اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ خواجہ حارث کی زبان بول رہے ہیں، بولنے کا طریقہ ہوتاہے، آپ خواجہ حارث کی زبان بول رہے ہیں ،نان پروفیشنل طریقہ کار نہ اپنائیں، فیصلہ دکھائیں اعلیٰ عدلیہ کا، سیشن عدالت نے بار بار کہا ہےکہ فیصلہ جاری نہیں کرسکتا،خواجہ حارث کو کہیں ساڑھے بارہ بجے پیش ہوں ،جج ہمایوں دلاور نے پی ٹی آئی وکیل پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے وکلاء نے جلدی جلدی کی رٹ لگائی ہوئی ہے آپ کا رویہ غیر پیشہ ورانہ ہے،جج ہمایوں دلاور نے عدالتی عملے سے کہا کہ مرزا عاصم بیگ کا نام وکالت نامہ میں چیک کرو، اگر وکالت نامے میں نام شامل نہیں تو کمرہ عدالت میں داخلے پر پابندی عائد کردو،سیشن عدالت نے ساڑھے بارہ بجے تک توشہ خانہ کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا

    آپ کا دامن صاف ہے تو کیوں گھبرا رہے ہیں؟ جج ہمایوں دلاور کا عمران خان کے وکیل سے مکالمہ
    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفہ کے بعد دوبارہ تیسری بار شروع ہوئی،الیکشن کمیشن وکیل نے کہا کہ معافی چاہتاہوں، میں یونیفارم میں نہیں، وکیل ملزم نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ میرا جمعہ عدالت کی وجہ سے رہ گیا ہے، جمعہ کے دن کچہری کا وقت ساڑھے 12 تک ہوتا ہے ، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ ہائیکورٹ میں کیا ہوا ہے؟ وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ خواجہ حارث کے سپریم کورٹ میں دلائل جاری ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ خواجہ حارث آج اور کل شاید دستیاب نہ ہوں، ہم کہاں دوڑے جا رہے ہیں؟ جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ خواجہ حارث نہیں تو آپ دلائل دے دیں، چیرمین پی ٹی آئی کے اتنے وکلاء ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں کبھی پہلے دلائل دینے سے بھاگا ہوں؟جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ آپ سے قبل عاصم بیگ آئے ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ مرزا عاصم بیگ کو چھوڑ دیں، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ کیوں چھوڑ دیں مرزا عاصم بیگ کو؟ وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کیا جلدی ہے، ٹرائل تو کئی عرصہ چلتے ہیں، جج ہمایوں دلاورنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کا دامن صاف ہے تو کیوں گھبرا رہے ہیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ توشہ خانہ میں بی ایم ڈبلیو کا معاملہ بھی ہے، قوم جانتی ہے، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ چیرمین پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ آپ کی قانونی ٹیم آپ سے مخلص نہیں، توشہ خانہ کیس کے لیے آج عدالت سے تین کالز کی گئیں، پی ٹی آئی نے درخواست کی کہ اعلیٰ عدلیہ میں درخواستیں پینڈنگ ہیں،پی ٹی آئی لیگل ٹیم نے کہا کہ خواجہ حارث آج پیش نہیں ہوسکتے، عاصم بیگ، نعیم پنجوتھا، نیازاللہ نیازی عدالت موجود تھے، الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے اپنے حتمی دلائل 10 بجے تک مکمل کیے،

    جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے 12 وکیل عاصم بیگ پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث ابھی بھی اعلی عدلیہ میں مصروف ہیں،جج ہمایوں دلاور نے نیازاللہ نیازی سے استفسار کیا کہ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو کہیں؟ ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ بس یہی کہہ رہا ہوں کہ خواجہ حارث اعلیٰ عدلیہ میں مصروف ہیں،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ بیرسٹر گوہرعلی اور نیازاللہ نیازی چیرمین پی ٹی آئی کے سینئیر وکیل ہیں، نیازاللہ نیازی کو حتمی دلائل دینے کے لیے ہدایت کی گئی، نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں دلائل نہیں دے سکتا، وکیل ملزم نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ میں دلائل نہیں دے سکتا، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا اور کہا کہ جواب دیں کیا آپ دلائل دے سکتے ہیں یا نہیں؟ ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں تو معاون وکیل ہوں، خواجہ حارث اور گوہرعلی دلائل دیتے ہیں، جج ہمایوں دلاور نے نیازاللہ نیازی سے استفسار کیا کہ تو پھر آپ کیا کر رہے ہیں اس کیس میں؟ نیازاللہ نیازی نے بتایا کہ انہیں دلائل دینے کی ہدایت نہیں کی گئی، ملزم وکیل نیازاللہ نیازی نے بتایا خواجہ حارث ہی سینیئر وکیل ہیں، دلائل وہی دیں گے،خواجہ حارث اعلیٰ عدلیہ میں میں مصروف پیں تو سماعت میں 3 بجے تک وقفہ کیا جاتا ہے، 3 بجے کے بعد دلائل دینے کا آخری موقع دیا جائےگا، ملزم کی حاضری سے استثنا کی درخواست بھی خواجہ حارث دیں گے، اگر خواجہ حارث نہ آئے تو سیشن عدالت فیصلہ محفوظ کرلے گی، ‏3 بجے کے بعد میں فیصلہ محفوظ کرلوں گا،وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ کیس پر بہت خدشات ہیں، جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ مجھے کچھ نیا بتائیں، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں ویسا نہیں کروں گا جیسے ہوتا رہا ہے،جج ہمایوں دلاور نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار تو معافی عدالت نے دے دی ہے، اس کے بعد نرمی نہیں دی جائے گی، وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ آپ جلدی غصے ہو جاتے ہیں، جج ہمایوں دلاورنے کہا کہ عدالت سب وکلاء کی عزت کرتی ہے لیکن عدالت کا ایک ڈسپلن ہے،وکیل ملزم نیازاللہ نیازی نے کہا کہ میں بھی عدالت کا آفیسر ہوں، بدلہ لے سکتا ہوں، میرے ساتھ کچھ ہوا تو لوگ باہر کھڑے بھی ہوجائیں گے،

    توشہ خانہ کیس میں عدالت نے عمران خان کو تین بجے تک حاضری یقینی بنانے کا حکم دے دیا ، جج ہمایوں دلاورنے آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان 3 بجے عدالت پیش ہوں،خواجہ حارث آکر دلائل دیں نہ دیئے تو فیصلہ محفوظ کر لوں گا،

    جج ہمایوں دلاورنے صحافیوں سے سوال کیا کہ آپ لوگوں کو چائے پانی وغیرہ دیا جاتا ہے؟ جس پر صحافی نے جج کو جواب دیا کہ جی سر، کل تو چائے بھی پلائی گئی تھی، جج ہمایوں دلاور نے صحافیوں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ چائے دراصل میں نے ہی آپ کے لیے بھیجوائی تھی، سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت میں 3 بجے تک وقفہ کردیا

    سیشن عدالت میں چیرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت وقفہ کے بعد چوتھی بار شروع ہوئی، جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ بیرسٹر گوہرعلی صاحب کیا خبریں ہیں؟ وکیل گوہر علی نے چیرمین پی ٹی آئی کی حاضری سے استثناء کی درخواست دائر کردی اور کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قابل سماعت کے معاملے پردرخواست منظور کرکے معاملہ دوبارہ سیشن عدالت بھیجا ہے،وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے قابلِ سماعت کا معاملہ دوبارہ سیشن عدالت کو بھیج دیا ہے، گواہان کی درخواست پر آئندہ ہفتے نوٹس جاری ہوئے اور اسٹے نہیں ملا،چیرمین پی ٹی آئی کی ٹرانسفر کی درخواستیں مسترد ہوگئی ہیں،جعلی فیس بک پوسٹس پر ایف آئی اے کو ڈائریکشن دی ہے،جج ہمایوں دلاور نے استفسار کیا کہ اور ان کا کیا جنہوں نے جعلی فیس بک پوسٹس لہرائی ہیں؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ فیس بک پوسٹس لہرانے والوں پر آپ کو پیار آجاتا ہے، امجد پرویز کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے

    جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل پہلے ہی درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دے چکے ہیں ،عدالت نے ملزم عمران خان کو کل ذاتی حثیت میں طلب کر لیا ، جج ہمایوں دلاود نے کہا کہ کل ملزم عمران خان کے وکلا پیش ہوں اور درخواست کے قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر دلائل دیں،عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح 8:30 بجے تک ملتوی کر دی اور کہا کہ سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس حتمی مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، سماعتوں کے ریکارڈ کے مطابق ٹرائل اہنے اختتامی مرحلے میں ہے، ملزم نے ٹرائل کے اختتامی مرحلے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کرنے کو ترجیح دی، عدالت نے قابلِ سماعت کے معاملے اور حتمی دلائل دینے کے لیے ملزم عمران خان کے وکلاء کو کل صبح ساڑھے 8 بجے طلب کرلیا

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • توشہ خانہ کیس،عدالت فیصلہ محفوظ نہیں کر رہی، لیکن دلائل سنے جائیں گے،جج ہمایوں دلاور

    توشہ خانہ کیس،عدالت فیصلہ محفوظ نہیں کر رہی، لیکن دلائل سنے جائیں گے،جج ہمایوں دلاور

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،چیرمین پی ٹی آئی کیخلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

    کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے کی ،وکیل الیکشن کمیشن سعد حسن عدالت میں پیش ہوئے، وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ میں کیس چل رہا ہے ،وکیل امجد پرویز ہائیکورٹ میں ہیں وہ دلائل دیں گے،جج ہمایوں دلاور نے وکیل سعد حسن سے استفسارکیا کہ کیوں آپ کونسل نہیں ہیں،وکیل سعد حسن نے کہا کہ جی میں کونسل ہوں لیکن یہ ہمارا مشترکہ فیصلہ تھا کہ وکیل امجد پرویز کیس کے دلائل دیں گے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے بارہ تک وقفہ کر رہے ہیں دلائل دیں نہیں تو میں فیصلہ محفوظ کر لوں گا،وکیل سعد حسن نے کہا کہ اگر امجد پرویز صاحب آجاتے ہیں تو وہ کریں گے نہیں تو میں دلائل دوں گا،

    خواجہ حارث کے جونئیر وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ خواجہ حارث ہائیکورٹ میں مصروف ہیں 12:30 تک آئیں گے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ساڑھے بارہ بجے تک آئیں دلائل دیں ورنہ فیصلہ محفوظ کر دیں گے،عدالت نے کیس کی سماعت میں ساڑھے بارہ بجے تک وقفہ کردیا

    توشہ خانہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہوئی، جج نے استفسار کیا کہ کوئی ڈائریکشن کوئی اسٹے آرڈر ہے ؟ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ کوئی اسٹے آرڈر نہیں صرف تین بجے ان کی ایک درخواست پر سماعت ہے۔عدالت نے الیکشن کمیشن کے وکیل حتمی دلائل کی ہدایت کردی ، الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل کا آغاز کردیا

    جج ہمایوں دلاورنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت فیصلہ محفوظ نہیں کر رہی، لیکن دلائل سنے جائیں گے، عدالت نے وکیل امجد پرویز کو دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کی، وکیل امجد پرویز چیئرمین پی ٹی آئی کی اثاثوں کی تفصیلات پڑھ رہے ہیں ،امجد پرویز نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی اور اہلیہ کے اثاثوں میں نہ تو کوئی گاڑی، نہ زیورات ڈکلیئر کیے گئے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی کے 300 مرلہ کے گھر اور دیگر اثاثوں کی مالیت صرف 5 لاکھ لکھی گئی ہے،انہوں نے 4 بکریاں 2 لاکھ کی ڈکلیئر کی ہوئی ہیں، یہ تو ان کے ڈکلیئر اثاثوں کی تفصیلات کی صورتحال ہےان کے پاس نہ تو کوئی گاڑی، نہ جیولری ہے، باقی تمام گھروں، زمین، فرنیچر کی مالیت صرف 5 لاکھ روپے لکھی گئی ہے، انہوں نے کہا یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے، توشہ خانہ تحائف سے زیادہ بڑی بات ان کے دیگر اثاثوں کی تفصیلات ہیں، ان کے پاس کوئی گاڑی نہیں، 3 سو کنال کے گھر میں چلنے کیلئے گاڑی چاہیے ہوتی ہے، 107 ملین کے توشہ خانہ تحائف ہیں جو اس کیس میں زیر بحث ہیں،توشہ خانہ تحائف انہوں نے بطور وزیر اعظم 25 فیصد قیمت پر حاصل کیے، استغاثہ کا کیس یہ ہے کہ یہ حاصل شدہ تحائف اثاثوں میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے 4 بکریاں تو ہر سال ڈیکلیئر کیں، گاڑیاں، جیولری، تحائف ڈیکلیئر نہ کیے،یہ تحائف حاصل کرنے کو مانتے ہیں، انکار نہیں کرتے،ان کا دفاع یہ ہے کہ انہوں نے تحائف 58 ملین روپے میں بیچ دیئے،ان کا دفاع ہے کہ انہوں نے تحائف بیچ دیئے اور 30 جون 2019 کو تحائف ان کے پاس نہیں تھے،اس لیے انہوں نے اپنے اثاثوں میں ڈیکلیئر نہیں کیے،انہیں یہ تفصیلات میں بتانا چاہیے تھا کہ انہوں نے تحائف 58 ملین روپے میں بیچے،107 ملین کے تحائف کو انہوں نے 58 ملین میں بیچ دیا،

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ کیس وقفہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے پی ٹی آئی کی وکیل آمنہ علی کو روسٹرم پر بلا لیا ،جج ہمایوں دلاور نے وکیل آمنہ علی سے استفسارکیاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے کیا اپڈیٹ ہے،وکیل پی ٹی آئی آمنہ علی نے کہا کہ دلائل مکمل ہو چکے ہیں فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے ہیں کہ فیصلہ ابھی سناتا ہوں،وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے لائٹر موڈ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہائیکورٹ میں فیصلہ سننے کیلئے انتظار کیا جا رہا ہے یہاں 1 منٹ اوپر ہونے پر اعتراض اٹھایا جاتا ہے،جج ہمایوں دلاور نے کہا کہ ایسا کرتے ہیں کیس کو کل صبح 8:30 بجے کیلئے رکھ لیتے ہیں ،عدالت نے کیس کی سماعت کل صبح 8:30 تک ملتوی کر دی

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

  • سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

    سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر فیصلہ محفوظ

    خواجہ حارث کی طرف سے ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکم امتناع کی استدعا
    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا

    توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت ہونے کے خلاف اپیل پر فیصلہ کل جاری ہو گا چیئرمین پی ٹی آئی کی کیس دوسری عدالت منتقلی درخواست پر بھی کل فیصلہ جاری ہو گا ،ٹرائل کورٹ میں حق دفاع بحال کرنے کی درخواست قابل سماعت ہونے سے متعلق بھی فیصلہ کل جاری ہو گا ،حق دفاع بحالی کی درخواست پر سماعت کے دوران حکم امتناع کی درخواست پر بھی فیصلہ کل جاری ہو گا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے آج چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستوں پر آج فیصلہ محفوظ کیا .عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد آٹھ درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کیا

    توشہ خانہ فوجداری کیس قابل سماعت قرار دینے کے عدالتی فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت ہوئی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواست پر سماعت کی،چیئرمین پی ٹی آئی کی توشہ خانہ کیس کا ٹرائل روکنے اور کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواستوں پر بھی سماعت ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے خواجہ حارث اور بیرسٹر گوہر عدالت میں پیش ہوئے،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ بھی روسٹرم پر موجود تھے

    وکیل خواجہ حارث نے عدالت میں کہا کہ میں ایک چیز آپ کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں 31 جولائی کو 342 کا بیان ہوا ،کل ہم نے گواہوں کی لسٹ عدالت میں جمع کرائی اور کہا 24 گھنٹے میں گواہ دستیاب نہیں ہو سکے ،ٹرانسفر درخواست پر جب تک فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک ٹرائل کورٹ حتمی فیصلہ نہیں دے سکتی ،اس میں کیا جلدی ہے ایک دن بھی گواہ لانے کے لیے نہیں دیا گیا ،ہم نے حق دفاع ختم کرنے کا کل کا آرڈر بھی آج چیلنج کیا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے کہا آج گیارہ بجے دلائل دیں نہیں تو میں فیصلہ محفوظ کر لوں گا اس سے جج کا تعصب ظاہر ہوتا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی جج سے متعلق ایف آئی اے کی ایک رپورٹ بھی آئی ہے، وکیل نے کہا کہ اس میں کہا گیا ہے کہ جج کے فیس بک اکاؤنٹ سے وہ پوسٹ نہیں ہوئی،یکطرفہ رپورٹ کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے خواجہ حارث سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایف آئی اے کی ابتدائی رپورٹ تو ہے ، آپ کی ٹرانسفر درخواست جانبداری کی بنیاد پر ہے ؟آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے میں عدالت کے سامنے اپنی گزارشات رکھتا ہوں ،عدالت ٹرائل کورٹ کو مزید کاروائی آگے بڑھانے سے روکے ،ہائیکورٹ میں آج ہماری آٹھ درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہیں ، میرے حوالے سے ٹرائل کورٹ نے لکھا کہ انہوں نے سسٹم کو تباہ کر دیا ہے ،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا سسٹم پرفیکٹ نہیں اس میں کچھ خامیاں ہیں ،ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ یہ خامیاں ختم ہو سکیں۔ میری خواہش ہے کہ ہم رولز میں یہ ڈال سکیں کہ ٹرائل روزانہ کی بنیاد پر ہو ،

    وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ دوسری درخواست دائرہ اختیار سے متعلق ہے، ہم نے بتایا ہے کہ یہ معاملہ قانون کے مطابق مجسٹریٹ کے پاس جانا تھا،ہائیکورٹ نے ہماری کیس قابلِ سماعت قرار دینے کے خلاف اپیل منظور کی،ہائیکورٹ نے اگر کیس ریمانڈ بیک کیا تھا تو کسی اور جج کو بھیجا جانا چاہئے تھا، عدالت نے استفسارکیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ کسی دوسرے جج کو آپکی درخواست دوبارہ سن کر فیصلہ کرنا چاہئے تھا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ مجھے کیس کو ایک دن وقفے کے بعد لگانے پر اتنا زیادہ زور لگانا پڑتا ہے، وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ وکلاء جا کر پریس کانفرنسز کریں تو اس سے کیا اثر پڑے گا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی کیسز سے متعلق ایک بحث صبح یہاں ہوتی ہے اور ایک شام کو ہوتی ہے،‏شام میں جو بحث ہوتی ہے اسکا یہاں ہونے والی بحث سے زیادہ اثر ہوتا ہے، شام کو ہونے والی بحث سے عوامی رائے بنتی ہے انکے دیکھنے سننے والے زیادہ ہوتے ہیں، اس عدالت کی سماعت میں تو زیادہ سے زیادہ پچاس سے ستر لوگ موجود ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ اس حوالے سے پارلیمان کو سوچنا اور قانون بنانے چاہئیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الیکٹرانک میڈیا سے متعلق پیمرا کا کوڈ اینڈ کنڈکٹ موجود ہے،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ زیرسماعت مقدمات پر تبصرہ نہیں ہو گا، خواجہ حارث نے کہا کہ زیرالتواء کیسز پر کسی فریق کو کوئی بات نہیں کرنی چاہئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں الیکٹرانک میڈیا کی بات کر رہا ہوں کہ رات آٹھ سے بارہ بجے تک کیا چلتا ہے،خواجہ صاحب آپ نے پچھلے سالوں میں کافی سیاسی کیسز کئے، خواجہ صاحب،آپ کو کبھی آٹھ بجے کسی چینل پر نہیں دیکھا،پرانے وقتوں میں تو کہتے تھے کہ ججز اخبارات بھی نہ پڑھیں، خواجہ حارث نے کہا کہ جج کا یہ کام نہیں کہ وہ سوچے کہ فیصلے سے عوام کیا سوچے گی،

    سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر سماعت میں وقفہ کر دیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تین بجے کے بعد آپکی درخواست پر دوبارہ سماعت ہوگی ، خواجہ صاحب بہت سنئیر وکیل ہیں، امجد پرویزنے کہا کہ خواجہ صاحب کی تعریف پر اب ہم جلنا شروع ہوگئے ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ میرے بھائی ہیں آپ کو یاد ہوگا بہت پہلے ہم دونوں اکٹھے ایک ایف آئی ار کا متن لکھا تھا، میں خواجہ صاحب کے سنئیر ہونے کی وجہ سے تعریف کررہا ہوں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کو بتا دیں کہ ہائیکورٹ میں دلائل جاری ہیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل پر ابتدائی دلائل مکمل ہو گئے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈویژن بنچ بھی ہے اور ایک اجلاس بھی بلایا ہوا ہے ،تین بجے کے بعد دوبارہ سماعت کرینگے

    توشہ خانہ فوجداری کیس میں اسٹے ملے گا یا نہیں ؟ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا ،چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت مناسب آرڈر جاری کرے گی ،