Baaghi TV

Tag: توہین عدالت

  • القادر ٹرسٹ کیس،بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    القادر ٹرسٹ کیس،بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور

    القادر ٹرسٹ کیس میں بشریٰ بی بی کی قبل از وقت ضمانت 26 ستمبر تک منظور کر لی گئی

    لطیف کھوسہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ آج آپ کو دوبارہ تکلیف دینے کیلئے آئے ہیں،القادر کیس میں نیب نے بیان دیا تھا کہ ہمیں گرفتاری مطلوب نہیں ،نیب کی جانب سے بعد میں کہا گیا کہ فل وقت گرفتاری مطلوب نہیں،آج بشریٰ بی بی کی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات ہے اور نیب نے آج ہی بی بی کو طلب کر رکھا ہے،نیب کسی اور دن پیشی رکھ لے،ملاقات اٹک جیل میں 2 بجے ہے اور انہوں نے بھی 2 بجے طلب کر رکھا ہے،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت میں کہا کہ نیب نے 11 بجے طلب کر رکھا تھا،لطیف کھوسہ نے عدالت سے استدعا کی کہ گرفتاری اگر مطلوب ہو تو پہلے آگاہ کیا جائے،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے عدالت میں کہا کہ القادر کیس میں نیب کو ابھی بشری بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں،لطیف کھوسہ نے کہا کہ سردار مظفر عباسی قابل احترام ہیں ،انہوں نے کہہ دیا ہم نے یقین کر لیا،نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نیب پیشی کا معاملہ عدالت کے سامنے نہیں ،اگر دن تبدیل کروانا ہے تو نیب میں درخواست دائر کر دیں،

    بشری بی بی کے وکیل لطیف کھوسہ کی جانب سے القادر ٹرسٹ کیس میں بھی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کر دی گئی ، عدالت نے سماعت کے بعد بشریٰ بی بی کی ضمانت 26 ستمبر تک منظور کر لی

    امریکہ کے خلاف تحریک چلانے والی پی ٹی آئی اب عمران خان کی رہائی کے لئے امریکہ سے ہی مدد مانگ لی

     اسد عمر نے سائفر کے معاملے پر ایف آئی اے میں پیش ہونے کا اعلان کیا 

    ریاستِ پاکستان کے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی سازش بے نقاب, اپنے ہی پرنسپل سیکرٹری نے سازشی بیانیہ زمیں بوس کردیا

    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل

    جیل اسی کو کہتے ہیں جہاں سہولیات نہیں ہوتیں،

    چیئرمین پی ٹی آئی پر ایک مزید مقدمہ درج کر لیا گیا

    نشہ آور اشیاء چیئرمین پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ میں پہلی لڑائی کی وجہ بنی،

  • آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس سماعت کے لیے مقرر

    آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس سماعت کے لیے مقرر

    تحریک انصاف کی سابق رہنما شیریں مزاری کی گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد کے خلاف توہین عدالت کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عدالتی حکم کے باوجود شیریں مزاری کی گرفتاری پر آئی جی اسلام آباد ناصر خان کے خلاف توہین عدالت کیس 28 ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا ہے ،اس کیس میں آئی جی اسلام غیرمشروط معافی نامہ جمع کراچکے ہیں، آئی جی کی معافی منظور ہوگی یا کارروائی آگے بڑھے گی اس کا فیصلہ آئندہ سماعت پر ہوگا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب آئی جی کے خلاف کیس کی سماعت کریں گے

    واضح رہے کہ عدالت نے شیریں مزاری کو گرفتار کرنے پر آئی جی اسلام آباد پر 25 ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا اور جرمانے کی رقم شیریں مزاری کو دینے کا کہا تھا جس پر آئی جی نے شیریں مزاری کو جرمانہ ادا کردیا تھا

    دوران سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ جب مقدمات بنے تب گرفتاری کیوں نہیں کی؟، 2014 کے مقدمات کا کیا اسٹیٹس ہے؟ ای سی ایل میں بھی وفاقی حکومت ہی منظوری دیتی ہے ان مقدمات کو 10 سال ہوگئے ہیں پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے کیا وفاقی حکومت سے اجازت لی گئی؟

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام ڈالنے کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے، جس پر حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ہمیں تفتیشی ایجنسی لکھتی ہے تب ہی نام شامل کیا جاتا ہے وفاقی حکومت منظوری دیتی ہے جب کہ فہرست وزارت داخلہ تیار کرتی ہے، وفاقی حکومت اپنا اختیار کسی کو دے ہی نہیں سکتی، رولز میں سے وفاقی حکومت کا لفظ ہے ڈی پاسپورٹ کا لفظ نہیں۔

    اسلام آباد پولیس کے افسران کو دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا۔ ترجمان اسلام آباد پولیس
    دوسری جانب ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے افسران کے حوالے سے توہین عدالت کارروائی کے متعلق خبریں۔اسلام آباد پولیس قانون کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ اسلام آباد پولیس اپنے افسران کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اسلام آباد پولیس ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسلام آباد پولیس کے افسران کو دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا۔ اسلام آباد پولیس اس حوالے قانونی چارہ جوئی کررہی ہے۔ آئی جی اسلام آباد کے حوالے سے پہلے بھی اس طرح کی بے بنیاد خبریں نشر کی گئیں۔افواہوں اور غیر مصدقہ بیانات سے ہوشیار رہیں۔ قانون کی بالا دستی کے لیے پولیس سے تعاون فرمائیں۔

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس

  • توہین عدالت کیس،ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد

    توہین عدالت کیس،ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد

    ایم پی او آرڈر جاری کرتے اختیارات سے تجاوز پر توہین عدالت کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن پر فرد جرم عائد کردی،جسٹس بابر ستار نے شہریار آفریدی کے کیس پر توہین عدالت پر ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد کردی، جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ
    کھلی عدالت میں آپ کے سامنے چارج پڑھا گیا ،اب آپ ٹرائل کے دوران قانونی طور پر اپنا دفاع کر سکتے ہیں ،اگر آپ کو سزا ہوتی ہے تو زیادہ سے زیادہ جیل ہو گی، 6 مہینے کی سزا ہے آپ بھی ذرا جیل میں رہ کر دیکھ لیں کہ جنہیں آپ جیل بھیجتے وہ کیسے قید گزارتے ہیں،

    ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر پر پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی کا آغازہوا،جسٹس بابر ستار ، جمیل ظفر پر توہین عدالت کیس میں چارج پڑھ رہے ہیں ،شہریار آفریدی توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایس ایس پی آپریشنز جمیل ظفر پر بھی فرد جرم عائد کردی، عدالت نے ، ایس پی فاروق بٹر اور ایس ایچ او ناصر منظور پر فرد جرم عائد کردی ، ملزمان کی بیانات ریکارڈ ہوں گے اب ٹرائل چلے گا جسٹس بابر ستار نے ٹرائل میں ایڈووکیٹ قیصر امام کو پراسیکیوٹر مقرر کردیا

    نوٹ، اس خبر کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے

  • پرویز الٰہی کی گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست دائر

    پرویز الٰہی کی گرفتاری،توہین عدالت کی درخواست دائر

    عدالتی حکم کے باوجود چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری کا معاملہ ،ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی،

    چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ قیصرہ الٰہی نے لاہور ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی، داائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے چوہدری پرویز الٰہی کی تمام کیسز میں ضمانت منظور کی، نیب حراست سے بازیاب کراکے چوہدری پرویز الٰہی کو رہا کرایا گیا عدالت نے ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کو طلب کرکے تحریری حکم نامہ دیا، عدالت نے پولیس افسران کو بحفاظت گھر پہنچانے کا حکم دیادونوں پولیس افسران کی موجودگی میں چوہدری پرویز الٰہی کو اٹھایا گیا دونوں پولیس افسران نے عدالتی حکم کے برعکس چوہدری پرویز الٰہی کی حفاظت نہیں کی

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت ڈی آئی جی انویسٹیگیشن اور ڈی آئی جی آپریشن کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے

    دوسری جانب چوہدری پرویز الہی کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف درخواست بھی داٸر کر دی گئی، حبس بے جا کی درخواست پرویزالہی کی اہلیہ قیصرہ الہی کی جانب سے داٸر کی گٸی ،درخواست میں نگران حکومت پنجاب ، چیف سیکرٹری ، آٸی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ، درخواست میں کہا کہ چوہدری پرویز الہی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ،ہاٸی کورٹ نے چوہدری پرویز الہی کو نظر بند کرنے سے روکا تھا ،عدالتی حکم کے باوجود نظر بندی غیر قانونی ہے ،عدالت پرویز الہی کو پولیس کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کرنے کا حکم دے ،

    علاوہ ازیں تحریک انصاف کے ترجمان نے پرویزالہیٰ کی گرفتاری پر سپریم کورٹ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی صدر کی فوری رہائی کے احکامات صادر کئے جائیں، اور پرویزالہیٰ کے صاحبزادے مؤنس الہیٰ کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کا مذاق اڑاتے ہوئے میرے والد کو اغوا کرلیا گیا ہے

    جبکہ تحریک انصاف کے صدر پرویزالہیٰ کو  لاہور ہائی کورٹ نے رہا کرنے کا حکم دیا تھا، اور واضح کیا تھا کہ سابق وزیراعلیٰ کو اب کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے، تاہم اسلام آباد پولیس نے انہیں تھری ایم پی او کے تحت دوبارہ گرفتار کرلیا، پرویز الٰہی کو لاہور سے گرفتار کرکے اٹک جیل منتقل کر دیا گیا

    پولیس نے پرویز الٰہی کو دوبارہ گرفتار کرلیا

    پی ٹی آئی کی اندرونی لڑائیاں۔ فواد چوہدری کا پرویز الٰہی پر طنز

    خدشہ ہے کہ پرویز الٰہی کو گرفتار کر لیا جائیگا

    پرویز الہیٰ کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ،

    پرویزالہٰی کی حفاظتی ضمانت پر تحریری فیصلہ 

    زمان پارک سے اسلحہ ملنے کی ویڈیو

  • وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گجرنالہ سمیت دیگر نالہ متاثرین کو معاوضے کی عدم ادائیگی پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے متاثرین گجرنالہ کو متبادل رہائش دینے کا حکم دیا ،سپریم کورٹ کا حکم براہ راست وزیراعلیٰ سندھ کو تھا وزیراعلیٰ سندھ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا وزیراعلیٰ سندھ حکم عدولی پر توہین عدالت کے مرتکب ہوئے

    وکیل درخواستگزار نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو صرف دو چیک ملے اس کے علاوہ کچھ نہیں ملا عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو ماہانہ رپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیا تھا سندھ حکومت نے ابھی تک کوئی رپورٹ جمع نہیں کرائی ،جن لوگوں سے گھر خالی کرائے گئے انہیں مشکلات کا سامنا ہے

    سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کردیا،عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور کمشنر کراچی کو کل سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں طلب کرلیا

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • توہین عدالت کیس ، عدالت کا ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    توہین عدالت کیس ، عدالت کا ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس بابر ستارنے کیس کی سماعت کی،ڈی سی اسلام آباد بطور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے،آئی جی اسلام اور چیف کمشنر اسلام آباد بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،درخواست گزاروں کے وکیل شیر افضل مروت بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،

    عدالت نے ڈی سی کو ہدایت کی کہ ڈی سی صاحب سامنے آجائیں ، ڈپٹی کمشنرنے کہا کہ نو مئی کو غیر معمولی واقعات ہوئے لاہور کراچی میں بھی یہی ہوا ، عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ لاہور کراچی نہیں آپ اپنے دائرہ اختیار کی بات کریں ، عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ایم پی او آرڈر پڑھنے کی ہدایت کی، ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ آئی بی کی رپورٹ تھی جس میں کہا گیا شہریار آفریدی ڈسٹرکٹ کورٹ پر حملہ کر سکتے ہیں ،دوران حراست بھی سوشل میڈیا کے ذریعے شہریار آفریدی مہم جاری رکھے ہوئے تھے ، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا شہریار آفریدی کو موبائل کے سہولت بھی تھی ؟ ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ان کی فیملی ان سے ملتے رہے ہیں تب یہ ہو سکتا ہے ،عدالت نے استفسارکیا کہ کیا آپ نے پوچھا نہیں کہ جیل میں یہ پلاننگ کیسے کر رہے ہیں ؟ جون کے ایم پی او اور آج کے ایم پی او میں فرق کیا ہے ، اس وقت بھی ایم پی او میں آپ نے لکھا کہ تنصیبات پر حملے اب پھر لکھا ڈسٹرکٹ کورٹ پر حملے کا خدشہ ہے ،

    شہریار آفریدی کس کی معلومات پر گرفتار ہوئے ، عدالت نے ایس ایچ او کو روسٹرم پر طلب کر لیا، عدالت نے استفسار کیاکہ آپکے پاس کیا انفارمیشن تھی شہریار آفریدی کی پلاننگ سے متعلق ، ایس ایچ او نے جواب دیا کہ سر میں اس وقت وہاں ایس ایچ او نہیں تھا ، پہلے کوئی اور ایس ایچ او تھے ،عدالت نے کہا کہ پھر تو آپکی جان چھوٹ گئی ، ڈی پی او کون تھا ؟متعلقہ ڈی پی او روسٹرم پر آ گئے، عدالت نے استفسار کیاکہ آپکے پاس کیا انفارمیشن تھی شہریار آفریدی کی پلاننگ سے متعلق ، ڈی پی او نے جواب دیا کہ سر میں اس وقت چھٹی پر گیا ہوا تھا ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈی سی اسلام آباد کے شوکاز نوٹس کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا،ایم پی او آرڈر جاری کرتے اختیار سے تجاوز کے کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آ گئی، توہین عدالت کیس میں عدالت نے ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت پر ڈی سی اسلام آباد پر فرد جرم عائد ہو گی ،

    جسٹس بابر ستارنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ قانون کو تماشا بنا چکے ہیں ہر عدالت ایم پی او کالعدم قرار دیتی ہے پھر ایم پی او جاری کر دیتے ہیں ، طاہر کاظم وکیل ایس ایس پی نے کہا کہ پہلا ایم پی او آرڈر کالعدم قرار دینے کی وجوہات مختلف تھیں، وکیل نے کہا کہ عدالت نے کہا کہ نظربندی احکامات بعد میں جاری ہوئے اور گرفتار پہلے کیا گیا، وکیل ایس ایس پی نے کہا کہ تھریٹ الرٹس پر کارروائی خدشات کی بنیاد پر ہی کی جاتی ہے،

    اسلام آباد کے ایس ایس پی آپریشنز پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا،عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کا جواب بھی غیر تسلی بخش قرار دے دیا،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آئندہ سماعت پر ایس ایس پی آپریشنز پر بھی فرد جرم عائد ہو گی ، عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو نوٹس جاری کر دیا، آئی جی اسلام آباد کو متعلقہ افسران کے نام فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی، عدالت نے آئی جی کو ہدایت کی کہ جن پولیس اہلکار یا افسران نے معلومات دیں، ان کے نام عدالت کو دیں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ: شہریار آفریدی کے خلاف ایم پی او کا حکم عدالت نے معطل کر دیا ،عدالت نے شہریار آفریدی کو اسلام آباد سے باہر جانے سے روک دیا

    پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ چار اگست کوشہر یار آفریدی کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رہائی کے بعد فوری گرفتار کیا گیا ہے، شہر یار آفریدی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے انہین رہا کرنے کا حکم دیا تھا

    نو مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان نے فوجی تنصیبات پر حملے کئے تھے، شہریار آفریدی کی بھی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ کارکنان کو جی ایچ کیو کی طرف جانے کا کہہ رہے ہیں، شہریار آفریدی کو پولیس نے گرفتار کیا تھا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہیں، گزشتہ سماعت پر جیل حکام نے تصدیق کی تھی کہ آفریدی اڈیالہ جیل میں ہی ہیں.

  • سپریم کورٹ، احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ، احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج

    سپریم کورٹ نے سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کر دی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت ہوئی ہے یا نہیں یہ طے کرنا ہمارا کام ہے، درخواست گزار محمود اختر نقوی صاحب آپ نے اطلاع دی آپ کا شکریہاس کیس کو مزید چلانے کے لیے گراؤنڈ موجود نہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سال بعد احسن اقبال کو بلا کر کیا پوچھنا ہے،اگر کوئی سنجیدہ بات ہوئی تو پھر دیکھیں گے،سپریم کورٹ اس پر کوئی سخت نوٹس نہیں لے رہی، ہمارے فیصلوں میں اتنا وزن ہونا چاہیے کہ ان کی تعمیل کی جائے،احسن اقبال نے 25 اپریل 2018 کو بیان دیا تھا کہ جج جرنیل کی طرح ہماری بھی عزت ہے ،احسن اقبال نظم و ضبط والے انسان ہیں، احسن اقبال نے 2018 میں سیمینار سے خطاب میں یہ کہا کہ ان کی بھی عزت نفس کا تحفظ ہونا چاہیے،نہیں سمجھتے کہ کچھ ایسا کہا گیا جس کو توہین عدالت کے طور پر دیکھا جائے،

    درخواست گزار محمود نقوی نے کہا کہ میرا مدعا یہ ہے کہ کوئی بھی آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے سامنے تقریر نہ کیجیے،سپریم کورٹ کا توہین عدالت کا اختیار عام استعمال کیلئے نہیں ہے، احسن اقبال نے جذباتی تقریر میں کہہ دیا تھا کہ ان کی عزت بھی کسی جج یا جرنیل کے برابر ہے،چیف جسٹسمیری نظر میں احسن اقبال بڑے سنجیدہ اور دانشور شخص ہیں،

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے احسن اقبال کے خلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی

    واضح رہے کہ مولوی اقبال حیدر نے 2 مئی 2018 کو سابق وزیر داخلہ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی. درخواست میں سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کیخلاف عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کی کاروائی کی استدعا کی گئی تھی اور درخواست میں احسن اقبال کو آئین کے آرٹیکل 63،64 کے تحت نا اہل قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی اسکے علاوہ سابق وزیر داخلہ سے تمام مراعات اور تنخواہ واپس لینے کا حکم دینے کی استدعا بھی کی گئی تھی.

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • شہر یار آفریدی کے کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    شہر یار آفریدی کے کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    تحریک انصاف کے رہنما شہر یار آفریدی کے کیس میں توہین عدالت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا، وکیل نے عدالت میں کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کو اسلام آباد میں متعلقہ عدالت کے روبرو پیش نہیں کیا گیا ،شہر یار آفریدی کو جیل میں اس سیل میں رکھا گیا ہے جہاں ممتاز قادری کو رکھا گیا تھا، عدالتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جارہی ہے ،شہر یار آفریدی کے ایک بازو میں بھی تکلیف ہے، مناسب طبی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ، سرکاری وکیل نے کہا کہ شہر یار آفریدی کی حوالگی کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹینڈنٹ کو خط لکھا تھا ، خط لکھنے کے باوجود شہریار آفریدی کی حوالگی نہیں دی گئی ، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر مناسب حکم نامہ جاری کریں گے ،کیس کی سماعت انیس جون تک ملتوی کردی گئی

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

     شہریار آفریدی کو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا یے

    واضح رہے کہ شہریار آفریدی کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا ،عدالت نے شہریار آفریدی کو 15 روز کی نظر بندی کے بعد رہا کردیا تھا تاہم انہیں رہا ہوتے ہی راولپنڈی پولیس نے گرفتار کرلیاپولیس کا کہنا ہے کہ شہریار آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

  • کیوں نہ توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ؟آفریدی کی عدم پیشی،عدالت کے ریمارکس

    کیوں نہ توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ؟آفریدی کی عدم پیشی،عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ، عدالتی حکم کے باوجود شہریار آفریدی کو متعلقہ عدالت پیش نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے پولیس کے تفتیشی افسر کو 15 جون کو طلب کر لیا ،عدالت نے حکم دیا کہ عدالتی حکم عدولی کیوں ہوئی ؟ کیوں نا توہین عدالت کی کاروائی شروع کی جائے ؟ عدالت نے نوٹس جاری کرکے فریقین سے 15 جون تک جواب طلب کر لیا ،جسٹس ارباب محمد طاہر نے کیس کی سماعت کی

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ عدالتی حکم کے باوجود پولیس نے سات جون تک شہریار آفریدی کو کسی عدالت میں پیش نہیں کیا،عدالت پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کرے ، عدالت نے 7 جون تک شہریار آفریدی کو متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا عدالت نے حکم عدولی پر توہین عدالت کارروائی شروع کرنے عندیہ دیا تھا ہائیکورٹ نے شہریار آفریدی کی نظربندی سے متعلق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا آرڈر اختیارات سے تجاوز اور غیر قانونی قرار دیا تھا ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا شہریار آفریدی اپنے خلاف پہلے سے درج کریمنل کیسز میں گرفتار تصور ہوں گے ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا شہریار آفریدی کے خلاف درج مقدمات میں تفتیشی افسر پٹیشنر کومجسٹریٹ کے سامنے پیش کرے گا

     پرامن احتجاج ہرکسی کا حق ہے،9 مئی کو جو کچھ ہوا اسکےحق میں نہیں 

    عدالت کے گیٹوں پر پولیس کھڑی ہے آنے نہیں دیا جارہا 

    کنیز فاطمہ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی ایسی واقعات کو پسند نہیں کرتا،

    واضح رہے کہ شہریار آفریدی کو اڈیالہ جیل سے رہائی کے فوری بعد گرفتار کر لیا گیا تھا ،عدالت نے شہریار آفریدی کو 15 روز کی نظر بندی کے بعد رہا کردیا تھا تاہم انہیں رہا ہوتے ہی راولپنڈی پولیس نے گرفتار کرلیاپولیس کا کہنا ہے کہ شہریار آفریدی کو تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔

  • جج کی تصویر نہیں چلے گی نام نہیں چلے گا جو چلائے گا توہین عدالت ہو گی،عدالت

    جج کی تصویر نہیں چلے گی نام نہیں چلے گا جو چلائے گا توہین عدالت ہو گی،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر کی بازیابی درخواست ، آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکم نامہ کھلی عدالت میں تحریر کروایا ،عدالت نے مراد اکبر بازیابی کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھیجوا دی ، عدالت نے تحریری حکمنامہ میں کہا کہ چیف جسٹس کو اس کیس کی فائل بھیجوا رہے ہیں ،ڈویژن بنچ میں بھی اسی طرح کے کیسز زیر التوا ہیں ، مراد اکبر کے اغوا اور پولیس کی وردی استعمال ہونے کے کیسز میں تفتیشی قانون کے مطابق کاروائی کرے ،مراد اکبر کو اٹھانے والوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ،مراد اکبر کی بازیابی کے لیے آئی جی اسلام آباد تحقیقات کروا رہے ہیں ،ویڈیو کلپ سے معلوم ہوتا ہے پولیس کی وردی استعمال ہوئی ،ویڈیو کلپ کے مطابق رینجر کی وردی استعمال نہیں ہوئی ،دانیال اکبر اپنا بیان تفتیشی کو جمع کرائیں ویڈیو کلپ کی کاپی تفتیشی افسر کو فراہم کریں ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر کے بھائی مراد اکبر کی بازیابی کی درخواست پر سماعت ہوئی ، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل عدالت کے سامنے پیش ہوئے،آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر عدالت کے سامنے پیش ہوئے،سیکرٹری داخلہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نام ہے آپ کا ؟ سیکرٹری داخلہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ سید علی حسن میرا نام ہے ، عدالت نے ریمارکس چلانے پر پابندی لگا دی،عدالت نے حکم دیا کہ کیس کا صرف تحریری حکم چلے گا ،جج کی تصویر نہیں چلے گی نام نہیں چلے گا جو چلائے گا توہین عدالت ہو گی ، میں پیمرا کو بھی لکھ رہا ہوں اگر خلاف ورزی ہوئی تو ٹی وی لائسنس کینسل ہو گا ،

    باغی ٹی وی کی جانب سے بہترین کارکردگی پر ٹیم کو اعزازی شیلڈ دی گئیں،

    مولانا طارق جمیل کے اکاؤنٹ میں اربوں کہاں سے آئے؟ مولانا طارق جمیل کا خصوصی انٹرویو

    مولانا طارق جمیل کے چاہنے والوں کیلئے اچھی خبر، مولانا کا سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان سے رابطہ