Baaghi TV

Tag: توہین عدالت

  • عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ناقابل سماعت قرار

    عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ناقابل سماعت قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: توہین عدالت کی کارروائی کے لیے درخواستوں پر سماعت ہوئی، لاہور ہائیکورٹ نے آفس اعتراض کو برقرار رکھتے ہوئے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دے دیا-

    غلط بیانی کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر شبلی فراز پر مقدمہ درج

    لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ بادی النظر میں عمران خان کے بیانات سپریم کورٹ کے جج کے بارے ہیں،ایسے میں درخواستیں ہائیکورٹ میں کیسے قابل سماعت ہیں-

    آفس ہائیکورٹ نے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض لگا یا تھااور آفس ہائیکورٹ نے درخواست گزار کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اعتراض کیا گیا تھا کہ ججوں کو درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا۔

    واضح رہے کہ درخواست گزار نے آفس ہائیکورٹ کے اعتراض کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس شجاعت علی خان نے مشکور احمد کی اعتراض کی درخواست پر سماعت کی جس میں عمران خان کو فریق بنایا گیا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہورہائیکورٹ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے ،اپیل میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری خارج کرنے کی استدعا کی گئی تھی-

    جنرل (ر ) باجوہ یا فیض حمید سے متعلق کوئی بات نہیں کی،سابق چیف …

    درخواست میں موقف تھا کہ عمران خان کی سربراہی میں عدلیہ کے خلاف منظم مہم چلائی جا رہی ہے، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے پر ججز کےخلاف مہم چلائی گئی لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد میں پیشی پر عمران خان جتھوں کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوئے لیکن سرکاری عمارتوں کو نقصان اور نعرے بازی کرتے ہوئے عدالت میں پیش ہونا توہین عدالت ہے۔

    اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس پر پلان کر کے حملہ کیا گیا جس کے ماسٹر مائنڈ عمران خان تھے، عمران خان نے عدلیہ کو پریشرائز کرنے کے لیے ورکرز کو جوڈیشل کمپلیکس بلایا درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ لاہور ہائیکورٹ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کرے، عدالت عمران خان کو عدالت میں طلب کر کے جواب دہی کرے۔

    کوئٹہ میں دھماکا،6 افراد جاں بحق

  • مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی  درخواست ،فیصلہ آ گیا

    مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی درخواست ،فیصلہ آ گیا

    ن لیگی رہنما مریم نواز اوراعظم نذیرتارڑ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے دی گئی لاہورہائیکورٹ نے توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائردرخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنادیا

    مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے، مریم نواز اور دیگر کے خلاف ایڈووکیٹ شاہد رانا کے توسط سے توہین عدالت کی کارروائی کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، سماعت جسٹس شجاعت علی خان نےکی-

    مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کیلئے ایک اور درخواست دائر

    درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی بھی معاملہ ہو، میں اسے سنجیدہ لیتا ہوں۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ مریم نواز نے سرگودھا میں تقریر کی اور یہ معاملہ اس عدالت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ مریم نواز نے 6 مواقع پر توہین عدالت کی ہے۔درخواست کے وکیل نے کہا کہ یہ درخواست میں نے اپنی مشہوری کے لیے نہیں کی۔ ہمیں توہینِ عدالت کے قانون پر عملدرآمد کروانا ہوگا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے عورت مارچ کی اجازت نہ دینے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت …

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت مریم نواز کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرے ۔

  • عمران خان جوڈیشل کمپلیکس پرحملے کے ماسٹر مائنڈ، توہین عدالت درخواست دائر

    عمران خان جوڈیشل کمپلیکس پرحملے کے ماسٹر مائنڈ، توہین عدالت درخواست دائر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کر دی گئی

    دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان نے عدلیہ کو دباؤ میں لانے کیلئے کارکنان کو اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس بلایا ، عمران خان جھتوں کی صورت میں اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہوئے،نعرے بازی کرتے ہوئے عدالتوں میں پیش ہونا توہین عدالت ہے، عمران خان جوڈیشل کمپلیکس پر حملے کے ماسٹر مائنڈ تھے، ان کی سربراہی میں عدلیہ کیخلاف مہم چلائی جارہی ہے، لاہور ہائیکورٹ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کرتے ہوئے طلب کر کے ان کی جواب دہی کرے

    واضح رہے کہ عمران خان ضمانت کے لئے عدالت میں پیش ہوئے تھے، عمران خان کی پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کے کارکنان بھی ساتھ موجود تھے جنہوں نے نہ صرف نعرے بازی کی بلکہ افرا تفری بھی پھیلائی، عدالت کے احترام کو بھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا، عمران خان کی پیشی کے موقع پر ہونے والی ہنگامہ آرائی پر اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر رکھا ہے اور چند ملزمان کو گرفتار بھی کیا ہے، مقدمہ میں عمران خان سمیت تحریک انصاف کے دیگر رہنما بھی نامزد ہیں

    عمران ریاض کی گرفتاری اور تصویر کا دوسرا رخ،مبشر لقمان نے کہانی کھول دی

     قانون جو بھی توڑے گا وہ تیار رہے ریڈ لائن عبور نہیں کرنی چاہئے،

    مسلح افواج پر تنقید کی سزا پانچ سال قید،دو لاکھ جرمانہ، عمران ریاض خان کی اپنی ویڈیو وائرل

  • گاﺅن تبدیلی پر نامناسب رویہ،توہین عدالت کیس، وکیل کو سنائی عدالت نے سزا

    گاﺅن تبدیلی پر نامناسب رویہ،توہین عدالت کیس، وکیل کو سنائی عدالت نے سزا

    گاﺅن تبدیلی پر نامناسب رویہ،توہین عدالت کیس، وکیل کو سنائی عدالت نے سزا
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے گاﺅن تبدیلی پر نامناسب رویہ اختیار کرنے پر توہین عدالت کیس میں وکیل کو 3 ماہ قید کی سزا اور 6 ماہ کیلئے لائسنس معطل کرنے کا حکمنامہ جاری کردیا

    لاہور ہائیکورٹ نے گاون تبدیلی پرنامناسب رویہ اختیارکرنے پر وکیل کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ جاری کر دیا لاہورہائیکورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توہین عدالت پر وکیل کو تین ماہ کی قید کی سزا اورچھ ماہ تک لائسنس معطل کیا جاتا ہے وکیل کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے ہیں پولیس گرفتار کرکے جیل بھجوائے

    عدالت نے حکم دیا کہ رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور اور شیخوپورہ کو عدالتی فیصلے سے آگاہ کریں عدالت نے تحریری فیصلے میں لکھا کہ وکیل نے عدالت میں گاون پہننے سے منع کرنے پر نامناسب رویہ اختیار کیا

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

  • توہین عدالت کیس،عمران خان نے سپریم کورٹ میں جمع جواب میں جھوٹ بولا، وکیل

    توہین عدالت کیس،عمران خان نے سپریم کورٹ میں جمع جواب میں جھوٹ بولا، وکیل

    سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    وزارت داخلہ کے وکیل سلمان بٹ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دلائل دیئے گئے، جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان کے وکیل نے جواب جمع کرادیا ہے؟ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ حکومت نے سوشل میڈیا کے کچھ کلپس عدالت میں جمع کرائے تھے،کلپس پر عمران خان کی جانب سے جواب جمع کرادیا ہے ، وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عمران خان 24 مئی سے ڈی چوک پر دھرنا دینے کا اعلان کر تے رہے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل وزارت خارجہ سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس ویڈیو کلپس ہیں؟ وکیل وزارت خارجہ نے عدالت میں جواب دیا کہ ہمارے پاس ویڈیو کلپس ہیں،وکیل وزارت داخلہ نے عدالت کا 25مئی کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ یہ عدالت ٹرائل کورٹ نہیں ، کیسے ایک بیان کا جائزہ لیں،وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عدالت توہین عدالت کارروائی میں اس بیان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے، توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے ، فریقین کو نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے مطابق عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی اور مواد بھی موجود ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ توہین کا معاملہ عدالت کے ساتھ ہوتا ہے ،آپ بطور وزارت داخلہ کے وکیل عدالت کی معاونت کریں ،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے خیال میں جو آرڈر ہوا تھا اس پر حکم بھی جاری ہوا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اداروں نے رپورٹس دیں تو پھر یہ درخواست جمع کرانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ وکیل نے کہا کہ عمران خان کا پہلا موقف ہے کہ وفاقی صوبائی حکومت کی پرتشدد کارروائیوں پر ڈی چوک جانے کا فیصلہ کیا،وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جواب میں جیمرز کی بات کی ہے، جیمرز صرف وفاقی حکومت کے حکم پرلگائے جاسکتے ہیں،عمران خان کے بیانات میں درست بات نہیں کی گئی سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، عدالت توہین عدالت کا شوکاز ٹوٹس جاری کرے گی تو ٹرائل شروع ہوگا،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ معاملہ پہلے ہی غیر موثر ہوچکا ہے،توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ سمجھتے ہیں عمران خان نے خلاف ورزی کی ہے،آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتی حکم عدولی کا مواد موجود ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے حکم میں حساس ادروں اور سیکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کی تھی،وکیل وزارت داخلہ نے کہا کہ بطور وکیل میں عدالت کی معاونت کررہا ہوں،جسٹس مظاہر اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اس بارے میں آپ کوئی عدالتیں نظریں پیش کریں گے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی پر آپ کا متاثرہ فریق ہونے کا دعویٰ کیا ہے ؟

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ بطور وکیل بتائیں گے کہ کونسا شخص اس وقت وہاں رابطے میں تھا؟ ہم نے اس کیس کو مکمل طور پر سنا ہے،سب کو علم ہے کہ عمران خان لانگ مارچ ختم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں، ہمیں یہ بتانا ہے کہ کیا عمران خان کو عدالتی حکم کا علم تھا؟ وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ عمران خان کی نیت ڈی چوک کی طرف مارچ کرنا تھی ،جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ یہ بتائیں کیا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ایک یا دو اشخاص نے کی؟ وکیل وزارت خارجہ نے کہا کہ اپنے جواب میں واضح کیا ، اس وقت عدالتی احکامات کا عمران خان کو علم تھا ،عدالت نے کہا کہ اس وقت بتایا گیا کہ مئی کی ریلی جی نائن گراونڈ میں کرانے کی درخواست دائر کی گئی ،جب ریلی جی نائن اور ایچ ایٹ کی درمیان گراونڈ میں کرنے کی اجازت دی گئی تو بیان دیا گیا، وکیل نے عدالت میں کہا کہ آپ کتنی اور اجازت دینگے مزید جواب جمع کرانے کی،ہر بار مختلف بیان دے رہے ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اجازت دی گئی تو عدالت نے ایک کمیٹی بنائی کہ سیکیورٹی کیسے دی جائے گی، جسٹس مظاہر نقوی نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ڈی چوک یا ریڈ زون کا علاقہ ممنوعہ ہے؟ وکیل وزارت داخلہ نے عدالت میں جواب دیا کہ ڈی چوک یا ریڈ زون کا علاقہ ممنوعہ ہے ریڈ زون میں دھرنا دیا گیا تو ججز بھی عدالت آرام سے نہیں پہنچ سکتے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ٹھیک ہے کہ توہین کا معاملہ عدلیہ اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب عدالت کا حکم ہے تو توہین عدالت کی درخواست کی کیا ضرورت ہے،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ وفاق کا توہین عدالت میں حق دعویٰ کیا ہے،جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ وزارت داخلہ نے 12 اکتوبر کو توہین عدالت کی درخواست دی، عدالت نے توہین عدالت کے معاملے کا جائزہ لینے کا حکم 26 مئی کو دیا،

    عمران خان کا ڈی چوک کال دینے کا ویڈیو کلپ عدالت میں چلایا گیا، ویڈیو کلپ چلانے کے بعد جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ ہم کیسے مان لیں کہ یہ ویڈیو کلپ درست ہے،کیا ویڈیو کا فرانزک کرایا گیا ہے؟ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عدالت کو شواہد دکھائے ہیں باقی جو بہتر سمجھے وہ کرے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لارجر بینچ نے جب سماعت شروع کی تو لانگ مارچ ختم ہوچکا تھا، کس نے کیا کہا اور کیا کال دی گئی تھی تمام حالات کا جائزہ لینا ہےدیکھنا ہے ڈی چوک پہنچنے والے مقامی تھے یا لانگ مارچ کا حصہ تھے،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عمران خان ہمیشہ ڈی چوک ہی آنا چاہتے تھے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ حکومت کیخلاف احتجاج تھا، ڈسپلن سے ہونے والی پریڈ نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس پر ہم سماعت اگلے ہفتے کرینگے اس کیس میں فریق مخالف کے وکیل نے بھی ہماری معاونت کرنی ہے،ممکن ہے کہ سماعت دوبارہ جمعے کو ہو، گزشتہ کئی ہفتے عدالت کے بارے میں کئی باتیں کی گئیں ، ہم نے نوٹس نہیں لیا، ہم دیکھ رہے ہیں کہ کیا عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی؟

    جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے سپریم کورٹ کو براہ راست کوئی یقین دہانی نہیں کرائی تھی ، ثابت کرنا ہوگا کہ عمران خان کی ہدایت پر یقین دہانی کرائی گئی اگر کوئی غلط بیانی ہوئی ہے تو یہ بابر اعوان اور فیصل چوہدری کی جانب سے ہوگی ،اس لیے اگر توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تو وہ بھی بابر اعوان اور فیصل چوہدری کے خلاف ہی ہوگی

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

  • توہین عدالت کیس،عمران خان نے حکومتی جواب پر جواب الجواب جمع کروا دیا

    توہین عدالت کیس،عمران خان نے حکومتی جواب پر جواب الجواب جمع کروا دیا

    سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ،عمران خان نے حکومتی جواب پر جواب الجواب جمع کروا دیا

    عمران خان کی جانب سے جمع کروائے گئے جواب میں کہا گیا ہے کہ میرے جواب اور دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہمراہ جیمرز کی دستاویزات جمع کروانے کی اجازت چاہتا ہوں،بابر اعوان اور فیصل چودھری جواب میں مجھے اطلاع کرنے سے متعلق معذوری ظاہر کرچکے ہیں کیس میں واحد نقطہ یہی ہے کیا مجھے عدالتی احکامات کے بارے میں آگاہ کیا گیا یا نہیں،عدالتی احکامات کی انتظامیہ نے واضح طور پر خلاف ورزی کی 24مئی سے کارکنان پنجاب اور اسلام آباد میں تشدد کی وجہ سے دباو میں تھے،جیمرز کی وجہ سے رابطہ نہ ہونے کا ابھی تک دعویٰ نہیں کیا،پہلے جواب میں جیمرز کی موجودگی میں رابطہ کے عمل کو غیر حقیقی لکھا ہے،الیکٹرانک میڈیا پر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی سے سوشل میڈیا کا استعمال لازمی تھا،سوشل میڈیا سرگرمیاں مختلف جگہوں پر مختلف اکاوئنٹس سے کی جارہی تھیں،مجھے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے میرے اور سپورٹرز کے اجتماع کے آئینی حق کو تسلیم کرلیا،ڈی چوک جانے کا فیصلہ حکومتی تشدد کے نتیجے میں کیا تھا،ڈی چوک جانے کا فیصلہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے کر چکا تھا،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

  • ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس

    ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس

    ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے، چیف جسٹس
    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،جسٹس اعجاز الاحسن،جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی بنچ میں شامل تھے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی بھی سپریم کورٹ کے 5رکنی بینچ کا حصہ تھے ، دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں عمران خان کے وکیل عدالت میں درست ریسپانڈ کرینگے، سپریم کورٹ اپنا یہ دائرہ اختیار خیال سے استعمال کرتی ہے،ہم کوئی بھی آرڈر کسی بھی توقع پرجاری نہیں کرسکتے

    سرکاری وکیل نے کہا کہ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو عدالت میں پیش نہیں کی جاسکیں عدالت نے ایک کمیٹی بنائی ،اراکین کے نام عدالت میں پیش کیے گئے، جسٹس اعجا ز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس وقت فریقین کو اس گراونڈ میں جلسہ کرنے کے لیے نام مانگے تھے، پہلا جو احتجاج تھا اس پر وقت ملنے کے بعد عدالت میں نام دیئے گئے تھے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جیمرز موجود تھے کی بات کی گئی تھی،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ ہم اس بارے میں عدالت میں سی ڈی آر پیش کرسکتے ہیں،اس وقت سوشل میڈیا پر تمام تر معلومات آگئی تھیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت جو آرڈر دیا تھا وہ آدھے گھنٹے میں سامنے آگیا تھا اس وقت عمران خان کے وکیل کو سنتے ہیں اخباروں میں جو آرٹیکلز لکھے گئے اس پر ہم نہیں جاتے،وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا کنٹینر پر موبائل کام کرہے تھے یا نہیں، میرا جواب یہ ہے کہ اس وقت کنٹینرز کے پاس موبائل ٹاورز کام کررہے تھے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ہمیں سوچ سمجھ کر آگے کارروائی لے کر جانی ہوگی،درخواست گزار نے درخواست جمع کرائی جس میں کمیونی کیشن کی تفصیل دی گئی گزشتہ رات جواب جمع کرائی گئی جس پرمخالف فریق کو جواب دینے کے لیے وقت درکار ہے، فریق مخالف وکیل اپنا جواب جمع کرائیں، جو یو ایس بی پیش کی گئی وہ بھی فریق مخالف کو فراہم کی جائے،کیس کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کریں،

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریلی والوں کو تو پابند کریں کہ وہ قوائد وضوابط کی پابندی کریں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت قانون میں دائرہ اختیارمیں کوئی ایسا حکم جاری نہیں کرسکتے جو انتظامی ہو،اس معاملے میں عمران خان کے وکیل کا جواب آنے دیا جائے، سپریم کورٹ اپنے اختیار کو محتاط ہوکر استعمال کرتی ہے، اگر ہمارے احکامات کی توہین ہو تو پھر کارروائی کرتے ہیں، عمران خان نے تفصیلی جواب جمع کرایا ہے، امید ہے عمران خان نے درست اور حقائق پر مبنی جواب جمع کرایا ہوگا،ہم فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کر رہے، وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ عمران خان کے جواب پر وزارت داخلہ نے جواب داخل کیا ہے

    جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ اگر یو ایس بی کی دوسری سائیڈ نے تردید کر دی توکیا ہوگا؟ عدالت نے وکیل کو ہدایت کی کہ پلیز شواہد سے متعلق قانون کو پڑھیں،اگر وہ یہ کہہ دیں کہ موبائل ان کے پاس نہیں تھا تو پھر ؟ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ بے شک تردید کر دیں، ان کے اکاؤنٹ سے ٹویٹس ہوتی رہی ہیں،جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ متفرق درخواست کی نقل دوسری سائیڈ کو فراہم کریں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مقدمہ کے کچھ حقائق ہیں، جیمر سے متعلق آپ نے وضاحت کی ہے،آپ کہہ رہے ہیں جیمرز نہیں تھے، عمران خان اور دیگر نے جواب جمع کروایا ہے،عدالت، توہین عدالت کے اختیار کے استعمال میں محتاط ہے،سپریم کورٹ بھی محتاط ہے کہ ہمارے احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو، آپ کی دلیل ہے کہ عدالتی حکم نامہ میڈیا کے ذریعے ملک بھر پھیل چکا تھا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئی جی کو طلب کیاتھا، انہوں نے کہا ہم سیکیورٹی فراہمی کی یقین دہانی نہیں کرواسکتے،

    سپریم کورٹ ، چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی، حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے شواہد پر پی ٹی آئی وکیل کی جواب جمع کرانے کی مہلت مل گئی،عدالت نے پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی، جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ موبائل فون آفس میں ہو تو سی ڈی آر سے کیا ثابت ہوگا ؟ وکیل نے کہا کہ سی ڈی آر سے پتہ چل جائے گا کہ موبائل کس جگہ سے آپریٹ ہوا عدالت مناسب سمجھے تو سی ڈی آر منگوا لے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں مقدمہ کی اچھی تیاری کی ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر جلسے کی اجازت ملتی ہے توپی ٹی آئی کو قانون پر عملدرآمد کا پابند کیا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا 25 مئی کا حکم موجود ہے،امید ہے تحریک انصاف قانون پر عملدرآمد کرے گی

    سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کو قانون پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ متفرق درخوست اور حکومت کے جواب کی کاپی عمران خان کے وکیل اور دیگر فریقین کو فراہم کی جائے،عدالت نے وزرات داخلہ کا متفرق جواب عمران خان، بابر اعوان اور فیصل چودھری کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یو ایس بی کی کاپی بھی فراہم کی جائے، عدالت نے وزرات داخلہ کو یو ایس بی کی کاپی بھی عمران خان اور دیگر فریقین کو دینے کا حکم دے دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ آپ نے ہمارا پچھلا آرڈر پڑھا؟ ہمارے ایک جج نے گزشتہ آرڈر سے اختلاف کیا ہے، وکیل نے کہا کہ جمع شواہد میں عمران خان کے ہاتھ میں پکڑا موبائل فون دکھائی دے رہا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کو جذباتی ہو کر نہیں پرسکون ہو کر سننا چاہتے ہیں،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

  • توہین عدالت کیس،عدالت کارروائی ختم کرے،عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

    توہین عدالت کیس،عدالت کارروائی ختم کرے،عمران خان کا سپریم کورٹ میں جواب

    سپریم کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا،جواب میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت توہین عدالت کیس کی کارروائی ختم کرے، رپورٹس سے ثابت نہیں ہوتا کہ جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی،یہ بات بھی ثابت نہیں ہوتی کہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی بنتی ہے،قانون نافذ کرنے والے ادراوں کی رپورٹس زیادہ تر مفروضوں پر مبنی ہیں، یہ رپورٹس توہین عدالت کی کارروائی کو برقرار رکھنے کی بنیاد فراہم نہیں کرتیں، عمران خان کی جانب سے 16 صفحات پر مشتمل جواب میں اخبارکے تراشے بھی شامل کئے گئے ہیں،جواب میں مزید کہا گیا کہ اسد عمر نے رابطہ پر زبانی ہدایات دی، اسد عمر کی زبانی ہدایات پر سپریم کورٹ کو یقین دہانی کرائی، جانتے ہوئے عدالت کے حکم عدولی نہیں کی، یقین دہانی کراتا ہوں مجھے 25مئی کی شام عدالتی حکم سے آگاہ نہیں کیا گیا،احتجاج کے دوران جیمرز کی وجہ سے فون پر رابطہ نا ممکن تھا،ویڈیو پیغام سیاسی معلومات پرجاری کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں بابر اعوان کی مجھ سے ملاقات کرانے کا بھی کہا عدالتی حکم کے باوجود انتظامیہ نے بابراعوان کی مجھ سے ملاقات میں کوئی سہولت نہیں دی

    عمران خان نے جواب میں سکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹس کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ 25 مئی کو ڈی چوک جانے کی کال حکومتی رویے کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے تھی میری یا تحریک انصاف کی جانب سے کسی وکیل کو سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس میں شامل ہونے کو نہیں کہا گیا مجھے اب بتایا گیا ہے کہ اسدعمر نے جی نائن گرؤانڈ کے حوالے سے ہدایات دیں عمران خان کے وکیل نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرانے کے ساتھ توہین عدالت کی کارروائی ختم کرنے کی استدعا بھی کر دی

    رہنما تحریک انصاف ڈاکٹر بابر اعوان نے بھی توہین عدالت کی کاروائی سے اپنا نام نکالنے کی استدعا کردی ڈاکٹر بابر اعوان نے توہین عدالت کیس میں جواب سپریم کورٹ میں جمع کرا دی، جس میں کہا گیا کہ 25 مئی کو ایڈووکیٹ فیصل فرید نے مجھے عدالتی نوٹس کا بتایا بطور وکیل 40 سال عدلیہ کی معاونت میں گزارے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

     

  • راستے بھی خود بند کیے اور کہہ رہے کہ نہیں آ سکتے،ممبر الیکشن کمیشن

    راستے بھی خود بند کیے اور کہہ رہے کہ نہیں آ سکتے،ممبر الیکشن کمیشن

    عمران خان اور دیگر کیخلاف توہین چیف الیکشن کمشن کیس کی سماعت ہوئی

    پی ٹی آئی کی جانب سے علی بخاری پیش ہوئے اور کیس میں التوا مانگ لیا ، جس پر ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آج تو کیس چارج کے لیے رکھا تھا، وکیل نے کہا کہ فیصل چوہدری لاہور میں ہیں سڑکوں کی بندش کی وجہ سے نہیں آ سکے، ممبر الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے راستے خود بند کیے ہیں، راستے بھی خود بند کیے اور کہہ رہے کہ نہیں آ سکتے، عدالت نے کہا ہے کہ ایڈورس ایکشن نہ ہو، کاروائی سے نہیں روکا، قابل ضمانت وارنٹ نکالنا تو ایڈورس ایکشن نہیں ، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کر دی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    نجی ٹی وی کے مطابق الیکشن کمیشن کو عمران خان کا جواب مقررہ وقت پر موصول نہیں ہوا تھا، الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری اور اسد عمر کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور فواد چوہدری کے خلاف دو، دو اور اسد عمر کے خلاف ایک کیس ہے۔ فواد چوہدری اور اسد عمر نے جواب میں کہا تھا کیس الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار سے باہر ہے، جواب میں کہا گیا تھا نوٹس نا قابل سماعت اور آئین سے متصادم ہے۔  تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے توہین الیکشن کمیشن کیس میں جواب جمع کراتے ہوئے الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو چیلنج کیا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے ان کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا تھا۔

  • حکومت کے پاس قانون کی خلاف ورزی پر کاروائی کا اختیار ہے،چیف جسٹس

    حکومت کے پاس قانون کی خلاف ورزی پر کاروائی کا اختیار ہے،چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی دراخواست پرسماعت ہوئی

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پولیس اور حساس اداوں کی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے ،عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ عمران خان کی ڈی چوک کال توہین عدالت ہے، 26 مئی کو صبح جناح ایونیو پر 6 بجے ریلی ختم کی گئی، عمران خان مختص جگہ سے گزر کر بلیو ایریا آئے اور ریلی ختم کی، مختص مقام ایچ نائن سے 4 کلومیٹر آگے آکرعمران خان نے ریلی ختم کی پولیس آئی ایس آئی اور آئی بی رپورٹس پر ہی سب اداروں کا انحصار ہے،

    چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یقین دہانی عمران خان کی جانب سے وکلا نے دی تھی جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ بابر اعوان، فیصل چوہدری نے عمران خان کی طرف سے یقین دہانی کروائی تھی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ سڑکیں بلاک ہوں گی نہ مختص مقام سے آگے جائیں گے ،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بیان سے لگتا ہے انہیں عدالتی حکم سے آگاہ کیا گیا عمران خان نے کہا سپریم کورٹ نے رکاوٹیں ہٹانے کا کہا ہے عمران خان کو کیا بتایا گیا اصل سوال یہ ہے عمران خان آکر عدالت کو واضح کر دیں کس نے کیا کہا تھا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹس جاری کر کے عمران خان سمیت یقین دہانی کرانے والوں سے پوچھ لیتے ہیں ایسا کیوں کیا سول کنٹمٹ میں متعلقہ شخص کو شاید عدالت بلانا لازمی نہیں ہوتا، جب جوابات آجائیں گے تب تحریری طور پر عدالت کے پاس ریکارڈ ہوگا، جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ توہین عدالت کے قانون میں کیا ایسی کوئی شق ہے کہ پہلے جواب مانگیں پھر نوٹس جاری کیا جائے،توہین عدالت کے قانون میں یا نوٹس ہوتا ہے یا پھر کیس خارج ہوتا ہے،

    توہین عدالت کی درخواست پر سپریم کورٹ نے عمران خان سے تحریری جواب طلب کر لیا عدالت نے وکیل بابر اعوان اور فیصل چوہدری سے بھی تحریری جواب طلب کر لی، سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمران خان اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دیں ،عدالت نےعمران خان کو پولیس، آئی ایس آئی اور آئی بی کی رپورٹس فراہم کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے وفاقی حکومت کی عمران خان کیخلاف عبوری حکم جاری کرنے کی استدعا مسترد کر دی،

    جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سول نوعیت کی توہین عدالت سوموٹو یا متاثرہ فریق کی درخواست پر ہی ممکن ہے، 26 مئی کے فیصلے میں لکھا ہے درخواست غیرموثر ہوچکی ہے، حکومتی درخواست میں جس رول کا حوالہ دیا گیا وہ نظرثانی سے متعلق ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان نے دوبارہ لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے 26 مئی فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی کو اختلافی نوٹ نہیں پڑھا؟ حکومت کے پاس قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار ہے، عدالت صرف چاہتی تھی کوئی ظالمانہ اقدام نہ کیا جائے،قانون کے مطابق احتجاج سب کا حق ہے، حفاظتی اقدامات کرنا حکومت کا کام ہے وہ کرے،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے