Baaghi TV

Tag: توہین عدالت

  • پیش نہ ہوئے تو فرد جرم کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا، الیکشن کمیشن

    پیش نہ ہوئے تو فرد جرم کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا، الیکشن کمیشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان اور دیگر کیخلاف توہین الیکشن کمیشن کیس کی سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن میں عمران خان، اسد عمراور فواد چودھری کیخلاف توہین کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ہوئی، ممبر نثار درانی کی سربراہی میں 4 رکنی بنچ نے سماعت کی تحریک انصاف کی جانب سے انور منصور پیش ہوئے، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ کیس میں منفی ایکشن مسئلہ ہے نوٹس سیکرٹری نے جاری کئے الیکشن کمیشن نے نہیں ، جب تک یہ مسئلہ حل نہ ہو تب تک یہ شوکاز نوٹس غیر قانونی ہے شوکاز نوٹس پر بھی ڈی جی لا کے دستخط ہیں ہماری ہائیکورٹ میں 31 اکتوبر کو سماعت ہے اس کے بعد کی تاریخ مقرر کی جائے

    ممبر خیبرپختونخوا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹس سیکرٹری نے جاری کیا، شوکاز کمیشن نے کیا، ممبر بلوچستان نے کہا کہ 12 ستمبر کو الیکشن کمیشن نے نوٹس کی منظوری دی، ہم نے سماعت کے بعد شوکاز نوٹس جاری کیا،ممبر سندھ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 10 نومبر کو آپ کے موکل نہ آئے تو فرد جرم عائد کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچے گا، الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

     اسد عمر کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کی کارروائی جاری رکھنے کا حکم 

  • عمران خان توہین عدالت کیس، قانون کے مطابق اپنا کام کریں، سپریم کورٹ کی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    عمران خان توہین عدالت کیس، قانون کے مطابق اپنا کام کریں، سپریم کورٹ کی اٹارنی جنرل کو ہدایت

    عدالت ان کو سزا دے جنہوں نےعدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،توہین عدالت کیس میں استدعا
    سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف وفاقی حکومت کی طرف سے دائرتوہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی

    سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی، جسٹس اعجاز الاحسن جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل تھے، جسٹس یحییٰ خان آفریدی اور جسٹس محمد علی مظہر بھی بینچ میں شامل تھے

    اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ گزشتہ دھرنے کے دوران شہریوں کے حقوق متاثر ہوئے کارروائی میں بیان حلفی دیا گیا تھا کہ شہریوں کو پریشانی نہیں ہوگی،عدالت کا حکم ایک مخصوص جگہ تک تھا لیکن دھرنا ڈی چوک تک لایا گیا، جب مخصوص جگہ پر نہ گئے اور ڈی چوک کی طرف آئے تو مالی نقصان ہوا،عدالت ان کو سزا دے جنہوں نے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی،اٹارنی جنرل نے عدالت کا 25 مئی کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ عبوری آرڈرز کس لیے دیں؟ اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ عمران خان تعلیمی اداروں میں طلبا اور عوام کو اکسا رہے ہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک عدالت ہیں،آپ کے مطابق عدالتی احکامات کی پہلے ہی خلاف ورزی کی جاچکی ہے،آپ ایگزیکٹو اتھارٹی ہیں، اس وقت عدالتی احکامات پر انحصارکررہے تھے،موجودہ صورتحال میں آپ کو لبرٹی ہے کہ آپ روکنے کے لیے اقدامات کریں 25مئی واقعے میں 13 افراد زخمی ہوئے،پبلک پراپرٹی کو نقصان ہوا،کیس داخل نہ ہوا، دوسرے دن عمران خان صبح سویرے واپس چلے گئے،ہم اس معاملے میں رپور ٹس کا جائزہ لیں گے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ آپ اپنے آپ کو قانون کے مطابق کام کریں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد میں آزادکشمیر اور خیبرپختونخوا کی پولیس بھی داخل ہوئی تھی عدالت نے اٹارنی جنرل کو پولیس اور انتظامیہ کی جمع کردہ رپورٹس فراہم کردیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ خفیہ رپورٹس ہیں ان کا جائزہ لیں

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹس کے مطابق 300کے قریب افراد ریڈ زون کی طرف داخل ہوئے تھے،بظاہرلگتا ہے کہ وہ مقامی لوگ تھے، اگراحتجاج کرنے والے ہوتے تو زیادہ ہوتے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جب صورتحال سامنے آئی تو ہم نے چھٹی والے دن عدالت لگائی،آپ کو اس صورتحال میں مضبوط دلائل دینے ہونگے،یہ صورتحال ایسی ہے جس میں سب کو سیکھنے کا موقع مل رہا ہے ،جمہوریت لیڈر شپ کوالٹی پیدا کرتی ہے،ہم نے ہمیشہ قانون کی بات کی ہے، ہم پولیٹکل ایکٹرز نہیں اور نہ ہی سیاسی اقدامات لے سکتے ہیں،

    واضح رہے کہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی درخواست دائرکی گئی تھی،وفاقی حکومت نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی استدعا کر دی، استدعا میں کہا گیا ہے کہ 25 مئی کے عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، سپریم کورٹ کے 25 مئی کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کی گئی تھی، عمران خان نے ایچ نائن گراونڈ جانے کے بجائے ورکرز کو ڈی چوک کال دی۔ درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ پی ٹی آئی ورکرز نے ریڈ زون میں سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس سے واضح ہے کہ عدالتی احکامات کی توہین کی گئی، سپریم کورٹ نے 25 مئی کو فیصلہ دیا تھا جس پر عمران خان نے عمل نہیں کیا، اب پھر عمران خان اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنے کا اعلان کرچکے ہیں۔لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے لئے کارکنوں کو جہاد جیسے لفظ استعمال کرکے اکسا رہے ہیں، عدالت کے 25 مئی والے فیصلے پرعمل کرنے پر توہین عدالت کی کاروائی کی جائے، عمران خان نے جان بوجھ کر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی، عمران خان اور ان کے پارٹی رہنما عدلیہ اور ریاستی اداروں کو بدنام کرنے کا ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔ عمران خان کی آج سے نہیں بلکہ اداروں کو بدنام کرنے کی ایک تاریخ ہے، عمران خان آئینی طریقے سے آنے والی حکومت کو دھمکیاں دے رہے ہیں

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • توہین عدالت کیس، عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    توہین عدالت کیس، عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    توہین عدالت کیس، عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچ گئے،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ عدالت نے بڑے اچھے فیصلے کیے ہیں ،عدالت پیشی کے موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سے بات ہوسکتی ہے مگر مجرموں سے نہیں ،لوگ سسٹم سے مایوس ہو چکے ہیں، ملک میں طاقتوراور کمزور کے لیے الگ الگ قانون ہے،میرے خلاف ایک ہی ایف آئی آر رہ گئی وہ چائے میں روٹی ڈال کر کھانے کی ہے ، جب مذاکرات کر رہے ہو تو بات چیت کے لیے دروازے کھلے رہتے ہیں ،بندوق کے زور پر بات چیت نہیں ہوتی،قومی اسمبلی میں نہیں بیٹھیں گے، ہفتے سےمتاثرین سیلاب میں چیک تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع ہو گا، لانگ مارچ کی کال آنے والی ہے،

    قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی ،عمران خان کے وکیل حامد خان چیف جسٹس کی عدالت میں پہنچ گئے شاہ محمود قریشی بھی چیف جسٹس اطہر من اللہ کی عدالت میں پہنچ گئے,تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی عدالت میں پہنچ گئے،

    توہین عدالت کیس میں عمران خان کا بیان حلفی منظورکر لیا گیا عمران خا ن کے خلاف شوکاز نوٹس خارج کر دیا گیا، دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان ڈسٹرکٹ کورٹ بھی گئے، عمران خان کے کنڈکٹ کو دیکھتے ہوئے عدالت شوکاز نوٹس خارج کرتی ہے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت شوکاز نوٹس خارج کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ نہال ہاشمی، طلال چودھری اور دانیال عزیز کیسز کے فیصلے موجود ہیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نہال ہاشمی، طلال چودھری اور دانیال عزیز کیس کے فیصلوں کی حمایت کرتے ہیں؟ ،توہین عدالت کیس میں عمران خا ن کے خلاف شوکاز نوٹس خارج کر دیا گیا

    دوران سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے تحریری دلائل دے دیئے، ہم وہ فیصلے میں لکھ دینگے، عدالت عمران خان کے بیان حلفی سے مطمئن ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ نےتوہین عدالت کیس میں عمران خان کا بیان حلفی منظور کرلیا

    عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، عدالت کے باہر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

  • ایک حلقے کو نمائندگی سے محروم نہ کیا جائے.عدالت

    ایک حلقے کو نمائندگی سے محروم نہ کیا جائے.عدالت

    ایک حلقے کو نمائندگی سے محروم نہ کیا جائے.عدالت

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں ممبر قومی اسمبلی شکور شاد کے استعفے کی منظوری کا معاملہ، درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی.

    درخواست گزار کے وکیل اختر عباس چھینہ عدالت میں پیش ہوئے، منور اقبال، ایڈیشنل اٹارنی جنرل، محمد ارشد، ڈی جی لاء ای سی پی اور ڈپٹی سیکرٹری قومی اسمبلی عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر نے ممبر کو سنے بغیر ڈی سیٹ کیا. مناسب تھا کہ ان کو سنا جاتا. ڈپٹی سیکرٹری نے کہا کہ ہم نے جواب جمع کرایا ہے. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جواب کو چھوڑیں. ایک حلقے کو نمائندگی سے محروم نہ کیا جائے. مناسب ہو گا کہ اسپیکر ان کو بلا کر سنیں. آپ نے حلقے کے گیارہ لاکھ لوگوں کو ڈی سیٹ کر دیا ہے.

    عدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی کو درخواست گزار کے تحفظات دور کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے درخواست گزار کی حد تک ای سی پی کے ڈی نوٹیفائی کرنے کے احکامات کی معطلی برقرار رکھی، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 19 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی.

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کی درخواستیں خارج کردیں

  • شہر یار آفریدی نے عدالت میں معافی مانگ لی

    شہر یار آفریدی نے عدالت میں معافی مانگ لی

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کا معاملہ، کیس کی سماعت ہوئی

    شہریار آفریدی ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہریار آفریدی آپ بہت لیٹ آئے ہیں،شہر یار آفریدی نے کہا کہ میں کوہاٹ سے آرہا تھا اس لیے تاخیر ہو گئی معافی چاہتا ہو، وکیل انتظار پنجوتھا نے عدالت میں کہا کہ کیا اس کیس میں درخواست ضمانتوں پر فیصلہ محفوظ ہوا ہے،جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک ملزمان کی حاضریاں پوری کر رہے ہیں،جج نے وکیل انتظار پنجوتھا سے استفسار کیا کہ اس کیس میں آپ کونسل ہیں، جس پر وکیل نے کہا کہ جی میں شیخ رشید احمد و دیگر کا وکیل ہوں،

    جج نے وکیل فیصر جدون سے استفسار کیا کہ کیا آپ مزید بحث کرینگے یا کچھ کہنا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ صبح بابر اعوان صاحب بحث کر چکے ہیں ہم مزید نہیں کرینگے،وکیل بابر اعوان نے کہا کہ عمران خان لاہور میں ہونیکی وجہ سے پیش نہیں ہو سکتے،مراد سعید اور ملک ظہیر کی حاضری تک سماعت میں وقفہ کر دیا گیا ہے

    فردوس عاشق اعوان کے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ کے ساتھ ہتک آمیز رویے کی وجہ سامنے آگئی ، حکومتی وزراء بھی حمایت میں بول اٹھے

    فردوس عاشق کالہجہ تلخ تھا،مگرسرکاری ملازم صاحبہ کا ڈیوٹی سےچلےجانا،تکبر،انااورافسرشاہی نہیں تواورکیاہے

    فردوس عاشق نے اپنے حلقہ انتخاب میں کیا کارنامہ سرانجام دیا، تہلکہ خیز انکشاف

    مشیر نہیں بلکہ جہنم میں تھی، فردوس عاشق اعوان کی ایک بار پھر گندی گالیاں

    @MumtaazAwan

     قادر مندوخیل نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف مقدمے کیلئے درخواست دے دی

    قادر مندوخیل نے فردوس عاشق اعوان کے خلاف اہم قدم اٹھا لیا

    فردوس عاشق اعوان کا ایم این اے قادر مندوخیل کو تھپڑ مارنے کا معاملہ

    فردوس عاشق اعوان معافی مانگیں، 58 ارب ہرجانہ دیں، نوٹس

  • توہین عدالت کیس، عمران خان کی عدالت پیشی سے متعلق سرکلر جاری

    توہین عدالت کیس، عمران خان کی عدالت پیشی سے متعلق سرکلر جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ،خاتون جج کو دھمکی دینے پر توہین عدالت کیس،سابق وزیراعظم عمران خان کی کل عدالت پیشی سے متعلق سرکلر جاری کر دیا گیا

    رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران ضابطہ اخلاق کا سرکلر جاری کردیا ،لارجر بنچ کل 22 ستمبر کو دن اڑھائی بجے کیس کی سماعت کرے گا، کمرہ عدالت نمبر ایک میں انٹری رجسٹرار آفس کے جاری کردہ پاس سے مشروط ہو گی، سعمران خان کی لیگل ٹیم کے 15 وکلا کمرہ عدالت میں موجود ہو سکیں گے، اٹارنی جنرل آفس اور ایڈوکیٹ جنرل آفس سے 15 لاء افسران کو اجازت ہو گی،

    تین عدالتی معاونین کو کمرہ عدالت جانے کی اجازت ہوگی، پندرہ کورٹ رپورٹرز کو کمرہ عدالت میں موجودگی کی اجازت ہو گی، ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ بار کے پانچ پانچ وکلا کو اجازت ہو گی، کمرہ عدالت میں آنے والوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا رجسٹرار آفس پاس جاری کرے گا کورٹ ڈیکورم کو برقرار رکھنے کے لیے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس سیکورٹی انتظامات کرے،

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر عمران خان کا جواب عدالت نے مسترد کر دیا تھا اور 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کرنے کا حکم دیا تھا، سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے خاتون جج کو دھمکی دینے کے معاملے پر توہین عدالت کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ فریقین کے وکلا، اٹارنی جنرل اور عدالتی معاونین کو سنا گیا، عمران خان کا جواب تسلی بخش نہیں۔حکم نامے میں کہا گیا کہ عمران خان پر 22 ستمبر کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔تحریری حکم نامہ 2 صفحات پر مشتمل ہے، جسے 5 رکنی لارجر بینچ نے جاری کیا۔تحریری حکم نامہ کے مطابق 22 ستمبر کو دن ڈھائی بجے کیس کی سماعت ہو گی۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے خاتون جوڈیشل مجسٹریٹ کو جلسے میں دھمکیاں دینے کے معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں شوکاز نوٹس کے جواب میں 19 صفحات پر مشتمل نیا تحریری ضمنی جواب جمع کرایا تھا اس جواب میں عمران خان نے خاتون جج سے ایک بار پھر غیر مشروط معافی مانگنے سے گریز کیا تھا خاتون جج زیبا چوہدری سے متعلق کہے گئے الفاظ پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے افسوس کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ غیر ارادی طور پر منہ سے نکلے الفاظ پر گہرا افسوس ہے انہوں نے دھمکی دینے کے اپنے الفاظ پر پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوامی اجتماع میں کہے گئے اپنے الفاظ کے ساتھ نہیں کھڑا ہوں عدالت میری اس وضاحت کو کافی سمجھتے ہوئے میرے خلاف دائر کیس ختم کرے

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

  • رانا شمیم کے بیان حلفی واپس لینے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں،عدالت

    رانا شمیم کے بیان حلفی واپس لینے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں،عدالت

     

    سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے بیان حلفی پر توہین عدالت کیس کی سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رانا شمیم کے بیان حلفی واپس لینے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، بیان حلفی جعلسازی کے زمرے میں بھی آتا ہے لیکن یہ عدالت اس میں نہیں جائے گی، یہ عدالت یقینی بنائے گی کہ رانا شمیم نے بیان حلفی اپنی مرضی سے واپس لیا، عدالت اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر کے ان کے دلائل سنے گی رانا شمیم کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی حد تک رانا شمیم نے بیان حلفی واپس لے لیا، اٹارنی جنرل کہاں ہیں، ہم ان کو سن کر فیصلہ کریں گے؟ اٹارنی جنرل سے یہ بھی پوچھیں گے کیا اخبارات کی بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ ہم آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل سے کچھ نکات پر معاونت لیں گے،

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رانا شمیم پر فرد جرم عائد کی تھی رانا شمیم نے صحت جرم سے انکارکر دیا ،رانا شمیم نے کہا کہ آپ مجھے سنیں تو صحیح ایک ایک کرکے الزامات کا جواب دینا چاہتا ہوں ،

    رانا شمیم پر فرد جرم عائد،انصار عباسی سمیت دیگر میڈیا نمائندوں پر فرد جرم کی کارروائی موخر

    رانا شمیم توہین عدالت کیس، اہم شخصیت بیمار،استثنیٰ کی درخواست دائر کر دی

    رانا شمیم مشرف طیارہ کیس میں ن لیگ کا وکیل رہا،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع، نواز ذہنی دباؤ کا شکار،جہاز کا سفر خطرناک قرار

    جس ڈاکٹر کا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکہ میں اور نواز شریف لندن میں،عدالت کے ریمارکس

    رانا محمد شمیم نے 10نومبر 2021کو لندن میں ایک بیان حلفی قلمبند کرایا تھا جس میں سابق چیف جسٹس پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج کو نواز شریف اور مریم نواز کو جولائی 2018 کے انتخابات سے قبل ضمانت پر رہا نہ کرنے کیلئے کہا تھا۔

  • الیکشن کمیشن کیسے عدالتی اختیارات استعمال کرتا ہے؟ عدالت

    الیکشن کمیشن کیسے عدالتی اختیارات استعمال کرتا ہے؟ عدالت

    الیکشن کمیشن کیسے عدالتی اختیارات استعمال کرتا ہے؟ عدالت

    الیکشن کمیشن کے سیکشن دس کے تحت توہین عدالت کو چیلنج کرنے سے متعلق کیس پر سماعت ہوئی

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18 اکتوبر کے لیے جواب طلب کر لیا عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور اٹارنی جنرل کو 27 اے کا نوٹس جاری کرتے ہوئے معاونت کا حکم دے دیا عدالت نے اسٹنٹ اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن یہ اختیارات کیسے استعمال کر سکتا ہے،اسکا کوئی قانون بننا چاہیے،الیکشن کمیشن کیسے عدالتی اختیارات استعمال کرتا ہے،الیکشن کمیشن کے فیصلے تو ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جاتے ہیں

    درخواست گزار میاں شبیر اسماعیل کی جانب سے ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے دلائل پیش کیے ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عابد عزیز شیخ نے کیس پر سماعت کی ،لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں الیکشن کمیشن اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا ،درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا کہ درخواست میں سیکشن دس کے تحت الیکشن ایکٹ کو چیلنج کیا گیا ہے،الیکشن کمیشن نہ تو عدالت اور ہے اور نہ ہی عدالتی اختیارات کا استعمال کر سکتی ہے،توہین عدالت کا اختیار اسے دینا آئین پاکستان 1973 کی خلاف ورزی ہے،توہین عدالت کا اختیار صرف عدالتوں کے پاس ہے،الیکشن کمیشن کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ توہین عدالت کی کاروائی کر سکے الیکشن کمیشن ایک انتظامی اداہ ہے،اگر الیکشن کمیشن کو توہین عدالت کی اجازت دینی ہوتی تو آئین پاکستان میں اسے فراہم کی جاتی،عدالت سیکشن دس کے تحت الیکشن کمیشن کیخلاف حکم امتناعی جاری کرے،

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

  • عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کی سماعت کی

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان عدالتی حکم پر ذاتی حیثیت میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے . اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدلیہ بہت مشکل حالات میں کام کر رہی ہے عام آدمی کو 70سال میں بھی ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ تک رسائی نہیں، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے عمران خان کے تحریری جواب سے مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا، ضلعی عدالت عام آدمی کی عدالت ہے ،جس حالت میں ماتحت عدلیہ کام کر رہی ہے انکا اعتماد بڑھانے کیلئے اس عدالت نے بہت کام کیا،عدالت کو توقع تھی کہ آپ اس عدالت میں پیش ہونے سے پہلے وہاں سے ہو کر آتے،جس طرح گزرا ہوا وقت واپس نہیں آتا زبان سے کہی ہوئی بات واپس نہیں آتی ،جبری گمشدگیاں بد ترین ٹارچر ہے ،بلوچ طلبہ کے ساتھ جو ہوا وہ بھی ٹارچر ہے تین سال سے ہم ان معاملہ کو وفاقی حکومت کو بھجوا رہے ہیں لیکن ٹارچر کے معاملے کو سنجیدہ نہیں لیا گیا، آپ کا جواب اس بات کا عکاس ہے کہ جو ہوا اس کا آپ کو احساس تک نہیں آپ کے موکل کو احساس نہیں کہ انہوں نے کیا کہا کاش اپنے دور حکومت میں اس ٹارچر کے مسئلے کو اس جذبے سے اٹھاتے،اگر تب یہ مسئلہ سنجیدگی سے دیکھا گیا ہوتا تو آج نہ ٹارچر کا مسئلہ ہوتا نہ بلوچ طلبہ کا،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اس عدالت کے معاون ہیں، خود کو کسی کا وکیل نہ سمجھیں ،عدالت نے وکیل سلمان صفدر کو شہباز گل کیس کا فیصلہ پڑھنے کی ہدایت کر دی،شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے کیس کا عدالتی فیصلہ پڑھ کر سنایا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل ٹارچر کیس پر اسلام آبادہائیکورٹ نے حکم جاری کیا،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے کہا کہ میں عمران خان کے سارے بیانات ریکارڈ پر لے آتا ہوں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اڈیالہ جیل کس کے ایڈمنسٹریٹو کنٹرول میں ہے؟ ٹارچر کی ذرا سی بھی شکایت ہو تو کیا جیل حکام ملزم کو بغیر میڈیکل داخل کرتے ہیں؟ یہ پٹیشن اسلام آباد ہائی کورٹ سے کب نمٹائی گئی اور تقریر کب کی گئی؟ وکیل نے کہا کہ پٹیشن 22 اگست کو نمٹائی گئی اور تقریر 20 اگست کو کی گئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے استفسار کیا کہ معاملہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر التوا تھا تو تقریر کی گئی؟ اڈیالہ جیل کس کے انتظامی کنٹرول میں ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس نے کیس ریمانڈ بیک کیا تھا، کیا عمران خان کے اس وقت دیئے گئے بیان کا کوئی جواز پیش کیا جا سکتا ہے؟یہ عدالت تنقید کو خوش آمدید کہتی ہے فیصلوں پر جتنی تنقید کرنی ہے کریں، اس عدالت کو رات 12بجے کھلنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہم تو ہمیشہ سے ہی انصاف کی فراہمی کے لیے موجود تھے ،ماتحت عدلیہ کے ججز کوئی ایکس اور وائے نہیں یہ وہ عدالت ہے جو صرف قانون پر چلتی ہے اس کے تمام ججز غیر جانبدار ہیں، عدالت نے آرڈیننس کالعدم قرار دیا اگر آج وہ ہوتا تو گرفتاریاں بھی ہوتیں ضمانت بھی نہ ہوتی، سیاسی لیڈرز کی اس وقت کے بیانات آپ دیکھ لیں یہ عدالت کیوں بارہ بجے کھلی ؟ سوال اٹھانا آپ کا حق ہے،یہ عدالت کمزور کے لیے بھی چھٹی کے روز 24 گھنٹے کھلی رہی ہے ،انہوں نے اچھے انداز میں گلہ کیا کاش اسی انداز میں ماتحت عدلیہ کے جج کو ایڈریس کرتے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی لیڈر کی بہت حیثیت ہوتی ہے ہر وقت بہت اہم ہوتا ہے،اس عدالت کے کسی جج کو کوئی زیراثر نہیں کر سکتا ،آج موقع ہے تو بتا دیتے ہیں کہ عدالت رات کو کیوں کھلی تھی؟ اس عدالت کے ذہن میں تھا کہ جو 12 اکتوبر کو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو،یہاں کوئی اگر ایک لاکھ آدمی بھی لے آئے تو اس عدالت پر اثر نہیں ہوتا،میری سپریم کورٹ کے ایک جج کے ساتھ فوٹو تھی جسے ایک سیاسی جماعت کا عہدیدار بنا کر وائرل کیا گیا، مجھے ایک فلیٹ کا مالک بھی بنا دیا گیا، ہمارے ادارے نے بھی بہت غلطیاں کی ہیں جن پر تنقید کو ویلکم کرتے ہیں، سوشل میڈیا پر ججز کی تصاویر لگا کر الزامات لگائے جاتے ہیں، سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتی، طلال چودھری ، دانیال عزیز اور نہال ہاشمی کا کیس بھی عدالت کے سامنے ہے ،آزادی رائے کا غلط استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، آپ نے جو جواب جمع کرایا وہ عمران خان جیسے لیڈر کے رتبے کے مطابق نہیں ،حامد خان نے کہا کہ میں نے درخواست کے قابل سماعت نہ ہونے کا نکتہ بھی اٹھایا ہے، اس کے علاوہ بھی باتیں کی ہیں، جواب کا صفحہ نمبر 10 ملاحظہ کریں،عمران خان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل افسر کے بارے میں یہ کہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے فالوورز کو منع نہیں کرتیں ،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے وکیل کو دوبارہ جواب جمع کرانے کی ہدایت کر دی،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تمام عدالتی کارروائی کو شفاف رکھیں گے،توہین عدالت کیسز پر سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل لازم ہے،تحریری جواب دوبارہ جمع کرائیں ورنہ ہم کارروائی آگے بڑھائیں گے، طلال چودھری، نہال ہاشمی اور دانیال عزیز کیسزمیں فیصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے جواب دیں، پھر کہہ رہا ہوں کہ اس معاملے کی حساسیت کو سمجھنے کی کوشش کریں،

    جسٹس میان گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ یہ کارروائی آج ہی ختم ہو سکتی تھی لیکن آپکے جواب سے یہ ختم نہیں ہو گی،آج تو کارروائی آگے بڑھائی جانی چاہیے تھی چیف جسٹس آپکو ایک اور موقع دے رہے ہیں،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں تبدیلی تب آئے گی جب آئین سپریم ہو گا،اس ملک میں اصل تبدیلی تب آئے گی جب سول سپرمیسی ہو گی،عدالت معاون مقرر کرنا چاہتی ہے تاکہ کارروائی شفاف رہے، بتائیں کیسے کیا جائے ،اس ملک میں تبدیلی تب آئے گی جب تمام ادارے اپنا کام آئین کے مطابق کریں،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو 7 دن میں دوبارہ تحریری جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا خاتون جج کو دھمکی ،اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت 8ستمبرتک ملتوی کر دی گئی،منیر اے ملک ، مخدوم علی خان اور پاکستان بار کونسل عدالتی معاون مقرر کر دیئے گئے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی ریکارڈ سے پتہ چلے گا کہ ہم ایسے معاملات کو ایگزیگٹوز کو بھیجتے رہے ہیں کسی نے سنجیدہ نہیں لیا ،پچھلے تین سال میں ایک کیس کی بھی تحقیقات نہیں ہوسکی ،جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہماری عدلیہ 130 نمبر پر ہے، فواد چودھری کے ساتھ میٹنگ میں انہیں بتایا کہ یہ چیف ایگزیکٹو کی غفلت کا معاملہ ہے،یہ وقت ہے ہم ایک پاکستان کی تعمیر نو کریں، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی کاپیاں معاونین کو آج ہی بھیجی جائیں پیکا آرڈیننس اگر معطل نہ ہوتا تو آج آدھا پاکستان جیل میں ہوتا ،قانون سے بالاتر کوئی نہیں

    قبل ازیں عدالت پییشی کے موقع پر عمران خان کا کہنا تھا کہ راستے بند کرانے کی سمجھ نہیں آئی اتنا خوف کیوں ہے ہم نے ورکرز کو بھی کہا کہ کسی نے بھی نہیں آنا ،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ سے روانہ ہو گئے

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

  • عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس رہائش گاہ پرموصول

    عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس رہائش گاہ پرموصول

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر عمران خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا

    رجسٹرارآفس ہائیکورٹ سے جاری شوکاز نوٹس عمران خان کی رہائش گاہ پر موصول ہو گیا، شوکاز نوٹس میں کہا گیا کہ عمران خان نے خاتون جج کے بارے میں توہین اوردھمکی آمیز تقریرکی، عمران خان نے تقریراس وقت کی جب کیس اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرسماعت تھا،عمران خان نے توہین اور دھمکی آمیز تقریر من پسند فیصلہ لینے کے لیے کی عمران خان نے تقریر کے ذریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی، عمران خان نے خاتون جج کو دھمکی دے کرکریمنل اور جوڈیشل توہین کی،عمران خان31 اگست کو پیش ہوکر بتائیں کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کاروائی کی جائے،

    عمران خان سمیت پوری پی ٹی آئی کو نااھل قرار دے کر پی ٹی آئی کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا مطالبہ 

    ممنوعہ فنڈنگ کیس،الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنا دیا،تحریک انصاف "مجرم” قرار’

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    23 اگست کو توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی تھی جس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے کیس چیف جسٹس کو بھیج دیا، دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس معاملے پر 3 سے زیادہ ججز پر مشتمل بینچ بنائیں،دوران سماعت جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ کھڑے ہوں تو تقاریر میں ایسے ہی بات کرنی چاہیے؟ جلسے میں جتنے بھی لوگ ہیں میڈیا کے توسط سے پوری دنیا دیکھ رہی ہوتی ہے، سوشل میڈیا کو پتہ ہے کہ کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو اس پر بہت کچھ ہو رہا ہو گا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپکی حکومت ہے آپ کریں نا کیوں نہیں کر رہے؟ ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اگر پارٹی لیڈر اس طرح کی بات کر رہا ہے تو نچلے درجے پر بھی یہی ہو گا، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، ماتحت عدلیہ تو وہی فیصلے کرتی ہے جس پر اعلیٰ عدلیہ فیصلے دیتی ہے سول بیوروکریسی اور آئی جی کو دھمکی دے رہے ہیں،کیا یہ حکومت چلی جائے گی دوسری آئے گی تو یہ ایسے بیان شروع کر دینگے؟ یہاں تو مخصوص لوگوں نے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہوا ہے، یہ کیس بنتا تو شوکاز نوٹس کا ہی ہے،معاملے کو ایک ہی بار طے ہو جانا چاہیے،