Baaghi TV

Tag: تہران

  • سعودی عرب اور ایران عالم اسلام اور اس خطے کے دو بااثر ممالک ہیں ،ایرانی صدر

    سعودی عرب اور ایران عالم اسلام اور اس خطے کے دو بااثر ممالک ہیں ،ایرانی صدر

    تہران: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران عالم اسلام اور اس خطے کے دو بااثر ممالک ہیں جن کا اسلامی دنیا کے مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا لازمی ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے سعودی عرب کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب خطے اور عالم اسلام کے دو بااثر ممالک ہیں ایران اور سعودی عرب عالم اسلام کے دو اہم اور بااثر ممالک ہیں خطے میں امن و استحکام اور ترقی کے لیے دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

    ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کے مسائل کے حل کے لیے سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کا بہتر ہونا ضروری ہے،ان خیالات کا اظہار صدر ابراہیم رئیسی نے سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی کی ریاض روانگی سے قبل ملاقات کے دوران کیا۔

    ڈائنا سور کے قدموں کے11 کروڑ سال پرانے پیروں کے نشانات دریافت

    دوسری جانب کرسٹیانو رونالڈو، نیمار، کریم بینزیما اور ان کے سعودی عرب کے فٹ بال کلب اس سیزن میں ایشیائی چیمپیئنز لیگ کے میچ کھیلنے کے لیے ایران جائیں گے۔

    ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) نے سعودی عرب اور ایران کی فٹ بال فیڈریشنز کے درمیان اس ضمن میں ’سنگِ میل کی اہمیت کے حامل معاہدے‘ کی تعریف کی ہے اس کے تحت دونوں ملکوں کی ٹیمیں کوئی غیرجانبدار میدان تلاش کرنے کے بجائے اندرون ملک اور بیرون ملک میچوں میں ایک دوسرے کی میزبانی کرسکتی ہیں۔

    رونالڈو کی ٹیم النصر 19 ستمبر کو تہران میں پرسیپولیس کلب کے خلاف میچ کھیلے گی واپسی کا میچ 27 نومبر کو الریاض میں کھیلا جائے گاایشیائی چیمپئنز لیگ میں 2015 میں آخری مرتبہ سعودی اور ایرانی ٹیمیں گروپ مرحلے یا ناک آؤٹ مرحلے میں اپنے اپنے ملک میں ایک دوسرے کے مدمقابل میدان میں اتری تھیں۔

    ترکیہ کا آسمان خوبصورت ہری روشنی سے جگمگا اٹھا,ویڈیو

    اس سال مارچ میں چین کی ثالثی میں دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ سفارتی کشیدگی کم ہو رہی ہے اور ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے گذشتہ ماہ سعودی عرب کا سرکاری دورہ کیا تھا۔گذشتہ آٹھ سال میں کسی ایرانی وزیرخارجہ کا اس طرح کا یہ پہلا دورہ تھا۔

    2016 میں غیرجانبدار مقامات کے استعمال پر اے ایف سی کے فیصلے کے بعد سے سعودی اور ایرانی کلبوں نے چیمپیئنز لیگ میں ایک دوسرے کے خلاف میچ کھیلنے کے لیے دبئی اور دوحہ کے اسٹیڈیم استعمال کیے ہیں ایرانی ٹیموں نے کووِڈ-19 کی وَبا کے دوران میں سعودی شہروں میں کھیلا تھا تب صحت کے سخت قوانین کے تحت متعدد ممالک کی ٹیموں کے مابین کھیلوں کے لیے ایک ہی مقام استعمال کیا گیا تھا۔

    مودی حکومت کا آئین میں "انڈیا” کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

    ایشین چیمپئنز لیگ کی قرعہ اندازی 24 اگست کو ہوئی تھی اس کے تحت براعظم ایشیا کے مغربی حصے میں پانچ میں سے تین گروپوں میں ایران اور سعودی عرب کے میچ ہوں گے۔ مشرقی خطے میں چار ٹیموں کے مزید پانچ گروپ کھیلتے ہیں۔

    نیمار کی ٹیم الہلال کو 2 اکتوبر کو ایران میں نساجی مازندران کے خلاف میچ کھیلنا ہے۔ بینزیما کی ٹیم الاتحاد کا مقابلہ اسی روز سِپاہان سے ہوگا۔سعودی عرب میں واپسی کے کھیل 12 دسمبر کو ہوں گے۔اے ایف سی نے کہا کہ سعودی عرب، ایران اور پورے ایشیا میں پُرجوش شائقین اب کلب اور قومی فٹ بال ٹیم کی سطح پرایک ولولہ انگیز نئے باب کا انتظار کر سکتے ہیں مردوں کی قومی ٹیم کی سطح پر سعودی عرب اور ایران آخری بار 2012 میں مدمقابل آئے تھے۔

    یاد رہے کہ چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان مارچ میں سفارتی تعلقات بحال ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے ہاں سفارت خانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا۔

    آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ:بھارت نے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

  • سعودی عرب کے سفارتخانے کا تہران میں سات سال بعد دوبارہ کام کا آغاز

    سعودی عرب کے سفارتخانے کا تہران میں سات سال بعد دوبارہ کام کا آغاز

    تہران: سعودی عرب کے سفارت خانے نے ایران کے دارالحکومت تہران میں سات سال بعد دوبارہ کام کا آغاز کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: سرکاری خبررساں ادارے آئی آر این اے کا کہنا ہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے باخبر ذرائع کے مطابق ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے اتوار سے باضابطہ طور پر اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے۔

    ایران کے سرکاری میڈیا نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ مشن بند ہونے کے سات سال بعد تعلقات میں خرابی کے بعد،تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے مملکت اور اسلامی جمہوریہ نے مارچ میں چین کی ثالثی میں اعلان کردہ معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات دوبارہ شروع کرنے اور اپنے اپنے سفارت خانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا-

    طویل عرصے سے علاقائی دشمنوں نے 2016 میں ایران میں سعودی سفارتی مشن پر احتجاج کے دوران حملے کے بعد تعلقات منقطع کر لیے تھے۔

    بائیڈن کا چین میں امریکی ٹیکنالوجی کی سرمایہ کاری پر پابندی کا حکم

    سرکاری خبر رساں ایجنسی IRNA نے ایران کی وزارت خارجہ کے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے باضابطہ طور پر اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں” اور اتوار سے کام کر رہا ہےریاض کی جانب سے اس اقدام کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    جون میں، ایران نے پرچم کشائی کی تقریب کے ساتھ ریاض میں اپنے سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ایرانی میڈیا نے پہلے سعودی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے میں تاخیر کی وجہ عمارت کی خراب حالت کو قرار دیا تھا جسے 2016 کے احتجاج کے دوران نقصان پہنچا تھا۔

    ورلڈ کپ سے قبل کولکتہ کے ایڈن گارڈنز اسٹیڈیم میں آتشزدگی،کرکٹرز کا سامان جل کر …

    رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ سعودی سفارت کار ایرانی دارالحکومت کے ایک لگژری ہوٹل میں کام کریں گے جب تک کام مکمل نہیں ہو جاتا مارچ کے معاہدے کے بعد سے، سعودی عرب نے شام کے ساتھ تعلقات بحال کیے ہیں اور یمن میں امن کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں، جہاں وہ برسوں سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے خلاف فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔

    ایران حالیہ مہینوں میں ایک متنازعہ گیس فیلڈ کی ملکیت پر سعودی عرب اور کویت کے ساتھ اختلافات کا شکار رہا ہے سعودی عرب اور کویت "واحد ملکیت” کا دعویٰ کرتے ہیں، ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو وہ آف شور زون پر "اپنے حق کا دفاع کرے گا”۔

    یاد رہے کہ مارچ میں چین کی ثالثی میں سعودی عرب اور ایران میں مذاکرات ہوئے جس میں سفارتی تعلقات بحال اور دونوں ممالک میں سفارت خانوں کو دوبارہ کھولنے پر اتفاقِ رائے کیا گیا تھا۔

    ایکواڈورکےصدارتی امیدوارانتخابی ریلی کے دوران قتل

  • تہران میں غیرقانونی بلڈنگ کو گرانا مہنگا پڑگیا،5 افراد ہلاک

    تہران میں غیرقانونی بلڈنگ کو گرانا مہنگا پڑگیا،5 افراد ہلاک

    تہران : غیر قانونی طورپر تعمیر بلڈنگ کو گرانا مہنگا پڑگیا جس کے نتیجے میں 5 افراد ہلاک ہوگئے

    باغی ٹی وی:برطانوی میڈیا کے مطابق غلط طریقےسے عمارت گرانے سے ہلاک ہونے والے 5 افراد میں 2 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جب کہ اس دوران 10 سے زائد افراد زخمی بھی ہوگئے گرائی جانے والی عمارت نے دیگرعمارتوں کو بھی اپنے ساتھ گرادیا جس سے یہ حادثہ پیش آیا، ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں-

    پولیس نے بتایا کہ ایرانی حکام نے متعدد غیر مجاز عمارتوں کوگرانے کی منظوری دی تھی، لیکن بلڈنگ کو گراتے وقت تعمیراتی حفاظتی اقدامات کا خیال نہیں رکھا گیا ان میں سے کئی ملحقہ عمارتیں بھی منہدم ہوگئیں جس کے نتیجے میں دو ایرانی پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔ دیگر افراد گرنے کے نتیجے میں ملبے تلے دب گئے۔

    قانون میں قیدی کو جو حق دیا گیا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے،عدالت

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایک غیر محفوظ یونٹ کے انہدام کے دوران، اس عمارت سے ملحقہ عمارتوں کی جانب سے حفاظتی احتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے اور ڈھانچے کے استحکام کے فقدان کی وجہ سے، 5 پڑوسی عمارتوں کو نقصان پہنچا تھا۔ گریٹر تہران پولیس کمانڈ کے انفارمیشن سنٹر کے سربراہ کرنل بابک نامخونیش نے کہا کہ تباہ ہو گیاجس کے نتیجے میں چار پولیس اہلکار اور دو میونسپل اہلکار تعمیراتی ملبے تلے دب گئے۔

    عمارت گرنے سے ہلاک ہونے والے دونوں افسران اعلیٰ درجے کے پولیس اہلکار تھے۔ یہ افراد گریٹر تہران سیکورٹی پولیس کے 10ویں بیس کے سربراہ کرنل یزدان سلیمان آبادی اور میجر حسین اسماعیلی تھےگرنے کے فوراً بعد ریسکیو سروس جائے وقوعہ پر پہنچی اور تعمیراتی ملبے کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں جا کر تیزی سے ملبہ ہٹانا شروع کر دیا۔

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

  • قونصل خانے کی دوبارہ بحالی کیلئےسعودی تکنیکی وفد ایران پہنچ گیا

    قونصل خانے کی دوبارہ بحالی کیلئےسعودی تکنیکی وفد ایران پہنچ گیا

    تہران: قونصل خانے کی دوبارہ بحالی کیلئےسعودی تکنیکی وفد ایران پہنچ گیا۔

    باغی ٹی وی :عالمی میڈیا کے مطابق سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی میں ایک اور اہم پیشرفت ہوئی ہےسعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کے حکام چین کی ثالثی میں ایران سے تعلقات کی بحالی کےمعاہدے کےبعد ہفتے کے روز پہلی مرتبہ تہران پہنچے ہیں-

    چین نے تائیوان کے اطراف میں جنگی جہاز تعینات کر دیئے

    ایرانی میڈیا کے مطابق قونصل خانے کی دوبارہ بحالی کیلئےسعودی تکنیکی وفد ایران پہنچ گیا جس کی سربراہی سینیئر سفارت کار ناصر بن عوض آل غنوم کر رہے ہیں وفد ایرانی حکام کے ساتھ سفارتی مشنوں کی بحالی کے مکینزم پر بات چیت کرے گا ،ایرانی شہر مشہد میں قائم سعودی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے پر بات چیت کی جائے گی۔

    دوسری جانب سعودی وفد نے ایرانی وزارت خارجہ میں پروٹوکول ڈپارٹمنٹ کے سربراہ سے بھی ملاقات کی ہے۔

    ایرانی حکومت کا بےحجاب خواتین کی نگرانی کرنے کیلئے کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ نے چین نے ملاقات کی تھی چین کے صدر شی جن پنگ نے اس حیرت انگیز معاہدے میں ثالث کا کردارکیا تھا اوراس کے نتیجے میں سعودی عرب اور ایران نے دو طرفہ تعلقات بحال کیے ہیں چین کے اس نئے کردار نے امریکا کوگذشتہ کئی دہائیوں کے بعد پہلی مرتبہ اس خطے کے ایک دیرینہ تنازع سے بے دخل کردیا ہے اورایک طرح سےاس کا کردار مزید محدود کردیا ہے دونوں ممالک کے حکام نے سفارتخانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا تھا ایران نے جدہ اور سعودی عرب نے مشہد میں قونصل خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

    ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

    یادرہے کہ سعودی عرب نے سنہ 2016 میں ایران کے ساتھ سفارتی اورسیاسی تعلقات منقطع کردیے تھے۔اس وقت سیکڑوں مشتعل ایرانیوں نے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پردھاوا بول دیا تھا ان حملوں کے بعد سعودی عرب نے ایران سے اپنے سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا تھا۔

  • ایرانی حکومت کا بےحجاب خواتین کی نگرانی کرنے کیلئے کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

    ایرانی حکومت کا بےحجاب خواتین کی نگرانی کرنے کیلئے کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ

    تہران: ایرانی حکومت نے بےحجاب خواتین کی نگرانی کرنے کیلئے عوامی مقامات پر کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: روئٹرز کے مطابق ایرانی پولیس نےبیان جاری کیا ہے کہ لازمی ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کرنےوالی خواتین کی نگرانی کیلئے عوامی مقامات اورراستوں پر کیمرے نصب کیے جائیں گےتاکہ بے پردہ خواتین کی شناخت کرکے انہیں سزا دی جا سکےپولیس کے مطابق ایسی خواتین کی شناخت ہونے کے بعد، خلاف ورزی کرنے والوں کو نتائج کے بارے میں انتباہی ٹیکسٹ میسجز موصول ہوں گے –

    چین نے تائیوان کے اطراف میں جنگی جہاز تعینات کر دیئے

    عدلیہ کی میزان نیوز ایجنسی اور دیگر سرکاری میڈیا کے مطابق اس اقدام کا مقصد حجاب قانون کے خلاف مزاحمت کو روکنا ہے اس طرح کی مزاحمت ملک کی روحانی اساس کو کمزور کرتی ہے اور عدم تحفظ کو پھیلاتی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ستمبر میں اخلاقی پولیس کی حراست میں ایک 22 سالہ کرد خاتون کی ہلاکت کے بعد سے ایرانی خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد اپنے حجاب کو ختم کررہی ہیں اور اس کے نتیجے میں متعدد خواتین کو گرفتار کیا جاچکا ہے جس میں ایران کے سابق مرحوم صدر اکبر ہاشمی کی بیٹی فائزہ ہاشمی بھی شامل ہیں مہسا امینی کو حجاب کے اصول کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ سیکورٹی فورسز نے پرتشدد طریقے سے بغاوت کو کچل دیا۔

    ہفتہ کے پولیس بیان میں کاروباری اداروں کے مالکان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مستعد معائنے کے ساتھ معاشرتی اصولوں کی پابندی کی سنجیدگی سے نگرانی کریں-

    ایرانی بحری جہاز سے 7 ارب 900 ہزار یمنی ریال مالیت کی منشیات برآمد

    ایران کے اسلامی شرعی قانون کے تحت، جو 1979 کے انقلاب کے بعد نافذ کیا گیا تھا، خواتین کو اپنے بالوں کو ڈھانپنے اور لمبے ڈھیلے کپڑے پہننے کی پابند ہے تاکہ وہ اپنی شخصیت کو چھپا سکیں۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو عوامی سرزنش، جرمانے یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    30 مارچ کو وزارت داخلہ کے ایک بیان میں پردے کو "ایرانی قوم کی تہذیبی بنیادوں میں سے ایک” اور "اسلامی جمہوریہ کے عملی اصولوں میں سے ایک” قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس معاملے پر کوئی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    وزارت داخلہ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ بے پردہ خواتین کا مقابلہ کریں۔ اس طرح کی ہدایات نے پچھلی دہائیوں میں سخت گیر لوگوں کو خواتین پر حملہ کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے پچھلے ہفتے ایک وائرل ویڈیو میں دکھایا گیاتھا کہ ایک شخص دکان میں دو بے پردہ خواتین پر دہی پھینک رہا ہے۔

    برطانوی شاہی خاندان نے تحائف میں ملے گھوڑے بیچ دیئے

  • ایران میں بغیر حجاب خریداری کرتی 2 خواتین پر دہی پھینک دیا گیا

    ایران میں بغیر حجاب خریداری کرتی 2 خواتین پر دہی پھینک دیا گیا

    تہران: ایران میں ایک شخص نے ایک دکان میں خریداری کے لیے آنے والی دوبے پردہ خواتین کے سروں پردہی انڈیل دیا ہے۔ایرانی عدلیہ نے اس واقعہ کی ویڈیو منظرعام پرآنے والے بعد تین وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    باغی ٹی وی: 31 مارچ کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیاکہ ایک معمر خاتون اور ایک لڑکی دکان میں داخل ہوئیں، خاتون کے سر پر اسکارف تھا جب کہ لڑکی کے بال کُھلے ہوئے تھے اسی دوران ایک شخص دکان میں داخل ہوا اور لڑکی سے کچھ گفتگو کی، بعدازاں اس نے دہی لڑکی سمیت خاتون کے سروں پر انڈیل دیا جس کے بعد دکانداراور دوکان میں موجود ایک اور کسٹمر اس شخص کو مارنے کے لیے بھاگے اور دھکے دے کر دوکان سے باہر نکال دیا-

    اٹلی میں انگریزی زبان بولنے پر پابندی کا بل پیش،خلاف ورزی پر1 لاکھ ڈالر سے …

    عدلیہ کی میزان آن لائن نیوز ایجنسی نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ایک وارنٹ گرفتاری حملہ آورشخص کے خلاف جاری کیا گیا ہے۔اس پرعملی طورپر توہین اور امن عامہ میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جب کہ دو وارنٹ دونوں متاثرہ خواتین کوسر کے بال نہ ڈھانپنے پر جاری کیے گئے ہیں۔

    اس حوالے سے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ اگرکچھ لوگ حجاب کونہیں مانتےتو انہیں قائل کیا جائے، حجاب ایک قانونی ضرورت اور قانونی معاملہ ہے۔

    ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا کے مطابق اس شخص نے بال نہ ڈھانپنے پرخواتین پر حملہ کیا اور اس شخص کی کارروائی کو’’برائی کو روکنے کا غیرروایتی طریقہ‘‘قراردیا ہے۔ یہ واقعہ ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں پیش آیا ہے لیکن اس کی تاریخ واضح نہیں ہے۔

    نابینا افراد کے لیے منفرد گاؤں

    واضح رہے کہ ایران میں 1979ء کے انقلاب کے فوراً بعدخواتین کے لیے حجاب پہننالازمی قراردیا گیا تھا لیکن 22 سالہ مہساامینی کی گذشتہ سال ستمبر میں پولیس کے زیرحراست موت کے بعد بہت سی خواتین بغیر حجاب کے عوامی مقامات پرنظرآ رہی ہیں مظاہروں میں ایرانی خواتین حجاب اتار کر احتجاج ریکارڈ کراتی رہیں۔

    ایرانی کردخاتون مہساامینی 16 ستمبر2022ءکو تہران میں اخلاقی پولیس نے خواتین کے لیے سخت ضابطہ لباس کی مبیّنہ خلاف ورزی کے الزام میں گرفتارکیا تھا اورتین روز پولیس کے زیرحراست ہی ان کی موت واقع ہوگئی تھی۔ان کی موت کے بعد ملک بھر میں کئی ماہ تک حکومت مخالف مظاہرے جاری رہے جوبالآخرحکومت کی جانب سے مہلک کریک ڈاؤن کی وجہ سے ختم ہو گئے۔

    رواں سال پاؤنڈ کی قدر میں اضافہ، بینک آف انگلینڈ کیجانب سے شرح سود میں …

    ایران کے سخت ضابط- لباس کی خلاف ورزی کی مرتکبہ خواتین کواخلاقی پولیس ہراساں کرتی ہے اور انھیں کسی بھی وقت گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس ضابطۂ لباس کے تحت خواتین کوعوامی مقامات پر اپنے سرکے بالوں کو مکمل طور پر ڈھانپنا اور لمبے اور ڈھیلے کپڑے پہننا لازمی ہے۔

  • جنرل سلیمانی کا قتل،انتقام ایران کی دفاعی پالیسی کا حصہ

    جنرل سلیمانی کا قتل،انتقام ایران کی دفاعی پالیسی کا حصہ

    تہران :ایران کی وزارت دفاع اور دیگر اعلیٰ عسکری حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکہ نے جنرل سلیمانی کو شہید کر کے ایک بڑی اسٹریٹیجک غلطی کی ہے اور اس کا خمیازہ جرم میں ملوث امریکیوں کو سخت انتقام کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔

    صحافی کو فرح گوگی کی ٹریول ہیسٹری ٹوئیٹ کرنے پر بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی دھمکیاں

    ایران کے وزیر دفاع نے ایک بیان جاری کر کے عالمی دہشتگردی سے نبرد آزما رہنے والے عظیم کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کے انتقام کی یقین دہانی کرائی ہے۔ بریگیڈیئر جنرل محمد رضا اشتیانی نے اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ شہید جنرل سلیمانی کا انتقام ایران کی مسلح افواج کے ایجنڈے میں شامل ہے اور ان کے قاتلوں سے ایسے وقت اور ایسی جگہ پر انکے گھناؤنے جرم کا انتقام لیا جائے گا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے۔

    گوشواروں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر 16 جنوری کورکنیت معطل کردی جائےگی،الیکشن کمیشن

    انہوں نے قائد انقلاب اسلامی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہید سلیمانی ایک فرد نہیں بلکہ تمام پہلوؤں کا حامل ایک مکتب ہے جو مکتب خمینی سے ظاہر ہوا اور دنیا بھر میں حق و حقیقت کے متلاشی شہادت پسند انسانوں کے لئے مشعل راہ بن گیا۔

    دوسری جانب رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے معاون اور سینیئر مشیر میجر جنرل سید یحییٰ رحیم صفوی نے "شہید سلیمانی اسکول آف تھاٹ اور نیو ورلڈ آرڈر” کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے چند عشروں کے دوران امریکیوں نے بڑی غلطیاں کی ہیں اور انہیں بڑی ناکامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

    عمران خان کا 12واں موسم جیل جانے کے بعد شروع ہوگا۔پلوشہ خان

    میجر جنرل صفوی نے جنرل سلیمانی، ابومہدی المہندس اور ان کے ساتھیوں کے قتل کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسٹریٹجک غلطیوں میں سے ایک قرار دیا اور واضح کیا کہ امریکیوں کا خیال تھا کہ ان عظیم شخصیات کی شہادت سے مزاحمتی محاذ ٹوٹ جائے گا لیکن اس کے برخلاف آج یہ محاذ کامیابی کے راستے پر گامزن ہے۔

    میجر جنرل صفوی نے کہا کہ امریکہ انقلاب اسلامی کو اب تک نہیں سمجھ پایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سامراجی محاذ نے اپنی سیاسی، اقتصادی اور عسکری بالادستی قائم رکھنے کے لیے مزاحمتی محاذ کے خلاف ہائی برڈ جنگ شروع کر رکھی ہے۔

  • ایرانی حکومت کا حجاب کی پابندی پر عمل کرانے والی فورس ختم کرنے کا عندیہ

    ایرانی حکومت کا حجاب کی پابندی پر عمل کرانے والی فورس ختم کرنے کا عندیہ

    تہران:ایران کی حکومت نے ملک میں حجاب کی پابندی پر عمل کرانے والی فورس ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں حالیہ بدامنی میں مبینہ غیر ملکی کردار کے حوالے سے تہران میں منعقدہ تقریب میں ملک پراسیکیوٹر جنرل محمد جعفر منتظری نے خواتین کے حجاب پر عمل کے لئے فورس کر ختم کرنے کا عندیہ دیا۔

    کابل میں پاکستانی سفارتکار پرحملے کا ملزم گرفتار

    محمد جعفر منتظری نے کہا کہ پارلیمان اور عدلیہ دونوں ہی مل کر اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں کہ کیا حجاب قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟ایرانی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اخلاقی پولیس کا “عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے اسی جگہ سے بند کیا جارہا ہے جہاں سے اسے ماضی میں شروع کیا گیا تھا۔

    ایران میں اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی کہ ”اخلاقی تحفظ“ کو یقینی بنانے والی اس فورس اور اس کی گشتی یونٹوں کو ختم کر دیا گیا ہے یا نہیں اس کے علاوہ محمد جعفر منتظری نے لباس کے حوالے سے ضابطوں کو ختم کرنے والے قانون کے خاتمے سے متعلق بھی کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    برادراسلامی ملک افغانستان کےبچوں کی تعلیم وتربیت کےلیےپاکستان ہرممکن تعاون جاری…

    عالمی قوتوں اور بین الااقوامی اداروں نے بھی ایران کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ایران سے مظاہرین پر تشدد کو روکنے اور قانون میں نرمی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ ہمارے پاس ملک بھر میں تیزی سے پھیلنے والے ان پُرتشدد مظاہروں کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہونے کے ناقابل تردید ثبوت بھی موجود ہیں۔

    شمالی وزیرستان میں معذوروں کا عالمی دن منایا گیا

    خیال رہے کہ ایران میں حجاب قانون انقلاب کے بعد 1983 سے نافذ العمل ہے جس میں خواتین کے لیے سر اور بالوں کو ڈھانپنے والا اسکارف پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا2 ماہ قبل ایران میں مہسا امینی نامی کرد خاتون کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد ملک گیر سطح پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔اس قانون کے خلاف احتجاج کے دوران اب تک مبینہ طور پر سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جب کہ لاتعدا افراد کو جیلوں میں ڈالنے کی اطلاعات ہیں۔

  • برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیماہ ہلاک 18لاپتہ

    برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیماہ ہلاک 18لاپتہ

    اتراکھنڈ:برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیماہ ہلاک 18لاپتہ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ہمالیہ میں کوہ پیماؤں پر برفانی تودہ گرنے سے دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، مہم کے دیگر 18 ارکان ابھی تک لاپتہ ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق شمالی ریاست اتراکھنڈ میں کوہ پیما کا ڈنڈا II کی چوٹی کے قریب منگل کی صبح کوہ پیمائی کرنے والے کئی درجن افراد برفانی تودے میں پھنس گئے۔

    بھتہ خوری، اقدام قتل، ڈکیتی، زیادتی اور منشیات فروشی میں ملوث ملزم گرفتار ہوگیا

    بھارتی فضائیہ اور مقامی ڈیزاسٹر ایجنسی امدادی کوششوں میں مدد کر رہی تھی اس سے پہلے کہ شدید برف باری اور بارش نے انہیں رات بھر تلاش کے کے بعد ترک کرنے پرمجبور کر دیا۔اتراکھنڈ ریاستی پولیس فورس نے صبح آپریشن دوبارہ شروع ہونے کے بعد ایک بیان میں کہاکہ "ریسکیو ٹیموں نے 10 لاشیں برآمد کی ہیں،”

    سطح سمندر سے تقریباً 4,900 میٹر (16,000 فٹ) بلندی پر برفانی تودے کے مقام سے اب تک چودہ افراد کو بچا لیا گیا ہے، اور پولیس نے بتایا کہ پانچ کا علاج اترکاشی کے ضلع اسپتال میں کیا جا رہا ہے۔پولیس فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ بچائے گئے کئی کوہ پیما قصبے میں پہنچ رہے ہیں اور بغیر کسی مدد کے چلتے ہوئے افسران کی مدد سے چل رہے ہیں۔اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ٹوئٹر پر تصدیق کی کہ اس سال کے شروع میں ایورسٹ سر کرنے والی کامیاب کوہ پیما سویتا کنسوال بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔

    تہران:طالبات نے اسکارف اتار کر ہوا میں لہرادیے

    کنسوال اس مہم کے ساتھ ایک انسٹرکٹر تھے اور کوہ پیماہ گروپ نے صرف 16 دنوں میں دنیا کی سب سے اونچی چوٹی اور قریبی ماکولو کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا – یہ خواتین کا ریکارڈ ہے۔ریاستی ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان ردھیم اگروال نے اے ایف پی کو بتایا کہ کوہ پیما برفانی تودے کی زد میں آنے کے بعد کریوس میں پھنس گئے تھے۔

    نہرو انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ نے کہا کہ اس مہم میں اس کے 34 ٹرینی، سات انسٹرکٹر اور ایک نرسنگ اسسٹنٹ شامل تھے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سینئر اہلکار دیویندر سنگھ پٹوال نے اے ایف پی کو بتایا کہ فضائیہ کے دو ہیلی کاپٹر تلاش میں مدد کے لیے علاقے میں بھیجے گئے ہیں۔

    کوہ ہمالیہ، ایورسٹ کا گھر اور دنیا کی کئی بلند ترین چوٹیوں پر چڑھنے کے مہلک حادثات عام ہیں۔اگست میں ایک کوہ پیما کی لاش پڑوسی ریاست ہماچل پردیش میں ایک گلیشیئر کو عبور کرتے ہوئے کراس میں گرنے کے دو ماہ بعد برآمد ہوئی تھی۔اور گزشتہ ہفتے معروف امریکی سکی کوہ پیما ہلاری نیلسن کی لاش نیپال کی مناسلو چوٹی کے ڈھلوان پر اس وقت ملی جب وہ دنیا کے آٹھویں بلند ترین پہاڑ پر سکی کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئیں۔

    قبائل کےدرمیان اخوت،ان کی خوشحالی وترقی کےلیےمخلصانہ کوششیں جاری

    نیلسن کے حادثے کے دن 8,163 میٹر (26,781 فٹ) پہاڑ پر برفانی تودہ گرنے سے نیپالی کوہ پیما انوپ رائے ہلاک اور ایک درجن دیگر زخمی ہوئے جنہیں بعد میں بچا لیا گیا۔اگرچہ ہمالیہ میں کوہ پیمائی کے خطرات پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر کوئی خاطر خواہ تحقیق نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے اس قسم کے حادثات پیش آرہے ہیں

  • ایران میں زیرحراست خاتون کی  پولیس کے تشدد سے موت "ناقابل معافی” ہے،امریکا

    ایران میں زیرحراست خاتون کی پولیس کے تشدد سے موت "ناقابل معافی” ہے،امریکا

    امریکا نے تہران میں "اخلاقی پولیس‘‘ کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ایک ایرانی خاتون کی موت کو "ناقابل معافی” قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نےاپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ہمیں ایران میں 22 سالہ مہسا امینی کی موت پر گہری تشویش ہے کہا جا رہا ہے کہ اسے ایران کی اخلاقیات کی پولیس نے دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔


    جیک سلیوان نے کہا کہ اس کی موت ناقابل معافی ہے ہم انسانی حقوق کی ایسی پامالیوں پر ایرانی حکام کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کیلئے کام جاری رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ تہران میں "اخلاقی” پولیس‘‘ نے حجاب نہ کرنےپر 20 سالہ مہسا امینی پر حملہ کر کے اسے حراست میں لے لیا۔ دوران حراست مہسا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کی حالت بگڑی تو پولیس کو اسے ہسپتال منتقل کرنا پڑ گیا۔

    اپنے نامناسب سلوک پر پردہ ڈالتے ہوئے پولیس نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کو اچانک دل کی تکلیف ہوئی تھی جس پر اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مہسا امینی کی بگڑتی حالت کو نظر انداز کر دیا تھا۔ دیگر قیدیوں نے احتجاج شروع کر دیا تو پولیس خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ مہسا کو دل کا دورہ پڑا اور فالج کا حملہ ہوا جو بعد ازاں جاں لیوا ثابت ہوا-

    مہسا نے اپنے بھائی کو کہا تھا کہ اسے ایک گھنٹے میں رہا کردیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہوا بلکہ وہ خود ہی جسم کی قید سے رہائی پا گئی۔ ہوا یہ تھا کہ پولیس کی حراست میں وہ کوما میں چلی گئی تھی اور اسے بدھ کے روز مکمل دماغی کوما کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا، وہ تقریباً مردہ ہو چکی تھی۔


    تہران میں کسریٰ کے ہسپتال میں ایرانی پولیس کی حراست میں وفات پانے والی مہسا کی بستر پر موجود ایک تصویر وائرل ہونے کے بعد ایرانیوں میں مزید اشتعال پھیل گیااس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مہسا ہسپتال کے بستر پر ہے اور کے سر اور کان پر پٹیاں بندھی ہیں۔ وہ سیدھی لیٹی ہوئی ہے اس کے سر کے بالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی نے اس کے سر کے بال کھینچے ہیں۔

    ایرانیوں نے مہسا امینی جس کا اصل نام جینا امینی تھا کے اہل خانہ کی ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوما میں رہنے کے بعد مہسا کی موت کی خبر سنتے ہی چیخیں اور آہیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔


    مہسا پر تشدد کیخلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایرانی حکام پر سنگین الزامات عائد کئے اور کہا برسوں سے ہمارے ملک میں خواتین کے متعلق جابرانہ قوانین نافذ کرکے انہیں قتل کیا جارہا ہےمظاہرین نے کہا آیت اللہ خانہ ای نے ہماری بہن کو مار ڈالا ہے۔ یہ حکومت داعش جیسی ہے۔ مظاہرین نے آمر کی موت کے نعرے بھی لگائے۔

    واضح رہے کہ مہسا کی موت سے کچھ روز قبل 16 اگست 2022 کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے خواتین کیلئے لباس کی پابندی کے قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کے حکم نامے پر دستخط کئے تھے۔

    یہ حکمنامہ بھی 12 جولائی کو ’’یوم حجاب اور عفت‘‘ کے اعلان کے بعد ملک بھر میں درجنوں خواتین کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا تھا۔ ان گرفتار ہونے والی خواتین میں اداکارہ سیبیدہ راشنو بھی شامل تھیں۔