Baaghi TV

Tag: تہران

  • ایرانی حکومت کا حجاب کی پابندی پر عمل کرانے والی فورس ختم کرنے کا عندیہ

    ایرانی حکومت کا حجاب کی پابندی پر عمل کرانے والی فورس ختم کرنے کا عندیہ

    تہران:ایران کی حکومت نے ملک میں حجاب کی پابندی پر عمل کرانے والی فورس ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں حالیہ بدامنی میں مبینہ غیر ملکی کردار کے حوالے سے تہران میں منعقدہ تقریب میں ملک پراسیکیوٹر جنرل محمد جعفر منتظری نے خواتین کے حجاب پر عمل کے لئے فورس کر ختم کرنے کا عندیہ دیا۔

    کابل میں پاکستانی سفارتکار پرحملے کا ملزم گرفتار

    محمد جعفر منتظری نے کہا کہ پارلیمان اور عدلیہ دونوں ہی مل کر اس مسئلے پر کام کر رہے ہیں کہ کیا حجاب قانون میں تبدیلی کی ضرورت ہے؟ایرانی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اخلاقی پولیس کا “عدلیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے اسی جگہ سے بند کیا جارہا ہے جہاں سے اسے ماضی میں شروع کیا گیا تھا۔

    ایران میں اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی کہ ”اخلاقی تحفظ“ کو یقینی بنانے والی اس فورس اور اس کی گشتی یونٹوں کو ختم کر دیا گیا ہے یا نہیں اس کے علاوہ محمد جعفر منتظری نے لباس کے حوالے سے ضابطوں کو ختم کرنے والے قانون کے خاتمے سے متعلق بھی کوئی اشارہ نہیں دیا۔

    برادراسلامی ملک افغانستان کےبچوں کی تعلیم وتربیت کےلیےپاکستان ہرممکن تعاون جاری…

    عالمی قوتوں اور بین الااقوامی اداروں نے بھی ایران کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ایران سے مظاہرین پر تشدد کو روکنے اور قانون میں نرمی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ ہمارے پاس ملک بھر میں تیزی سے پھیلنے والے ان پُرتشدد مظاہروں کو مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہونے کے ناقابل تردید ثبوت بھی موجود ہیں۔

    شمالی وزیرستان میں معذوروں کا عالمی دن منایا گیا

    خیال رہے کہ ایران میں حجاب قانون انقلاب کے بعد 1983 سے نافذ العمل ہے جس میں خواتین کے لیے سر اور بالوں کو ڈھانپنے والا اسکارف پہننا لازمی قرار دیا گیا تھا2 ماہ قبل ایران میں مہسا امینی نامی کرد خاتون کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد ملک گیر سطح پر مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔اس قانون کے خلاف احتجاج کے دوران اب تک مبینہ طور پر سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں جب کہ لاتعدا افراد کو جیلوں میں ڈالنے کی اطلاعات ہیں۔

  • برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیماہ ہلاک 18لاپتہ

    برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیماہ ہلاک 18لاپتہ

    اتراکھنڈ:برفانی تودہ گرنے سے 10 کوہ پیماہ ہلاک 18لاپتہ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ہمالیہ میں کوہ پیماؤں پر برفانی تودہ گرنے سے دس افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے، مہم کے دیگر 18 ارکان ابھی تک لاپتہ ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق شمالی ریاست اتراکھنڈ میں کوہ پیما کا ڈنڈا II کی چوٹی کے قریب منگل کی صبح کوہ پیمائی کرنے والے کئی درجن افراد برفانی تودے میں پھنس گئے۔

    بھتہ خوری، اقدام قتل، ڈکیتی، زیادتی اور منشیات فروشی میں ملوث ملزم گرفتار ہوگیا

    بھارتی فضائیہ اور مقامی ڈیزاسٹر ایجنسی امدادی کوششوں میں مدد کر رہی تھی اس سے پہلے کہ شدید برف باری اور بارش نے انہیں رات بھر تلاش کے کے بعد ترک کرنے پرمجبور کر دیا۔اتراکھنڈ ریاستی پولیس فورس نے صبح آپریشن دوبارہ شروع ہونے کے بعد ایک بیان میں کہاکہ "ریسکیو ٹیموں نے 10 لاشیں برآمد کی ہیں،”

    سطح سمندر سے تقریباً 4,900 میٹر (16,000 فٹ) بلندی پر برفانی تودے کے مقام سے اب تک چودہ افراد کو بچا لیا گیا ہے، اور پولیس نے بتایا کہ پانچ کا علاج اترکاشی کے ضلع اسپتال میں کیا جا رہا ہے۔پولیس فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ بچائے گئے کئی کوہ پیما قصبے میں پہنچ رہے ہیں اور بغیر کسی مدد کے چلتے ہوئے افسران کی مدد سے چل رہے ہیں۔اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ٹوئٹر پر تصدیق کی کہ اس سال کے شروع میں ایورسٹ سر کرنے والی کامیاب کوہ پیما سویتا کنسوال بھی مرنے والوں میں شامل ہیں۔

    تہران:طالبات نے اسکارف اتار کر ہوا میں لہرادیے

    کنسوال اس مہم کے ساتھ ایک انسٹرکٹر تھے اور کوہ پیماہ گروپ نے صرف 16 دنوں میں دنیا کی سب سے اونچی چوٹی اور قریبی ماکولو کو سر کرنے کا اعزاز حاصل کیا تھا – یہ خواتین کا ریکارڈ ہے۔ریاستی ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان ردھیم اگروال نے اے ایف پی کو بتایا کہ کوہ پیما برفانی تودے کی زد میں آنے کے بعد کریوس میں پھنس گئے تھے۔

    نہرو انسٹی ٹیوٹ آف ماؤنٹینیئرنگ نے کہا کہ اس مہم میں اس کے 34 ٹرینی، سات انسٹرکٹر اور ایک نرسنگ اسسٹنٹ شامل تھے۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے سینئر اہلکار دیویندر سنگھ پٹوال نے اے ایف پی کو بتایا کہ فضائیہ کے دو ہیلی کاپٹر تلاش میں مدد کے لیے علاقے میں بھیجے گئے ہیں۔

    کوہ ہمالیہ، ایورسٹ کا گھر اور دنیا کی کئی بلند ترین چوٹیوں پر چڑھنے کے مہلک حادثات عام ہیں۔اگست میں ایک کوہ پیما کی لاش پڑوسی ریاست ہماچل پردیش میں ایک گلیشیئر کو عبور کرتے ہوئے کراس میں گرنے کے دو ماہ بعد برآمد ہوئی تھی۔اور گزشتہ ہفتے معروف امریکی سکی کوہ پیما ہلاری نیلسن کی لاش نیپال کی مناسلو چوٹی کے ڈھلوان پر اس وقت ملی جب وہ دنیا کے آٹھویں بلند ترین پہاڑ پر سکی کرتے ہوئے لاپتہ ہو گئیں۔

    قبائل کےدرمیان اخوت،ان کی خوشحالی وترقی کےلیےمخلصانہ کوششیں جاری

    نیلسن کے حادثے کے دن 8,163 میٹر (26,781 فٹ) پہاڑ پر برفانی تودہ گرنے سے نیپالی کوہ پیما انوپ رائے ہلاک اور ایک درجن دیگر زخمی ہوئے جنہیں بعد میں بچا لیا گیا۔اگرچہ ہمالیہ میں کوہ پیمائی کے خطرات پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر کوئی خاطر خواہ تحقیق نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے اس قسم کے حادثات پیش آرہے ہیں

  • ایران میں زیرحراست خاتون کی  پولیس کے تشدد سے موت "ناقابل معافی” ہے،امریکا

    ایران میں زیرحراست خاتون کی پولیس کے تشدد سے موت "ناقابل معافی” ہے،امریکا

    امریکا نے تہران میں "اخلاقی پولیس‘‘ کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد ایک ایرانی خاتون کی موت کو "ناقابل معافی” قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نےاپنی ٹوئٹ میں کہا کہ ہمیں ایران میں 22 سالہ مہسا امینی کی موت پر گہری تشویش ہے کہا جا رہا ہے کہ اسے ایران کی اخلاقیات کی پولیس نے دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔


    جیک سلیوان نے کہا کہ اس کی موت ناقابل معافی ہے ہم انسانی حقوق کی ایسی پامالیوں پر ایرانی حکام کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کیلئے کام جاری رکھیں گے۔

    واضح رہے کہ تہران میں "اخلاقی” پولیس‘‘ نے حجاب نہ کرنےپر 20 سالہ مہسا امینی پر حملہ کر کے اسے حراست میں لے لیا۔ دوران حراست مہسا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون کی حالت بگڑی تو پولیس کو اسے ہسپتال منتقل کرنا پڑ گیا۔

    اپنے نامناسب سلوک پر پردہ ڈالتے ہوئے پولیس نے دعویٰ کیا کہ لڑکی کو اچانک دل کی تکلیف ہوئی تھی جس پر اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مہسا امینی کی بگڑتی حالت کو نظر انداز کر دیا تھا۔ دیگر قیدیوں نے احتجاج شروع کر دیا تو پولیس خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے پر مجبور ہو گئی۔ ہسپتال میں ڈاکٹروں نے بتایا کہ مہسا کو دل کا دورہ پڑا اور فالج کا حملہ ہوا جو بعد ازاں جاں لیوا ثابت ہوا-

    مہسا نے اپنے بھائی کو کہا تھا کہ اسے ایک گھنٹے میں رہا کردیا جائے گا تاہم ایسا نہ ہوا بلکہ وہ خود ہی جسم کی قید سے رہائی پا گئی۔ ہوا یہ تھا کہ پولیس کی حراست میں وہ کوما میں چلی گئی تھی اور اسے بدھ کے روز مکمل دماغی کوما کی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا، وہ تقریباً مردہ ہو چکی تھی۔


    تہران میں کسریٰ کے ہسپتال میں ایرانی پولیس کی حراست میں وفات پانے والی مہسا کی بستر پر موجود ایک تصویر وائرل ہونے کے بعد ایرانیوں میں مزید اشتعال پھیل گیااس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مہسا ہسپتال کے بستر پر ہے اور کے سر اور کان پر پٹیاں بندھی ہیں۔ وہ سیدھی لیٹی ہوئی ہے اس کے سر کے بالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی نے اس کے سر کے بال کھینچے ہیں۔

    ایرانیوں نے مہسا امینی جس کا اصل نام جینا امینی تھا کے اہل خانہ کی ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کوما میں رہنے کے بعد مہسا کی موت کی خبر سنتے ہی چیخیں اور آہیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔


    مہسا پر تشدد کیخلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایرانی حکام پر سنگین الزامات عائد کئے اور کہا برسوں سے ہمارے ملک میں خواتین کے متعلق جابرانہ قوانین نافذ کرکے انہیں قتل کیا جارہا ہےمظاہرین نے کہا آیت اللہ خانہ ای نے ہماری بہن کو مار ڈالا ہے۔ یہ حکومت داعش جیسی ہے۔ مظاہرین نے آمر کی موت کے نعرے بھی لگائے۔

    واضح رہے کہ مہسا کی موت سے کچھ روز قبل 16 اگست 2022 کو ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے خواتین کیلئے لباس کی پابندی کے قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کے حکم نامے پر دستخط کئے تھے۔

    یہ حکمنامہ بھی 12 جولائی کو ’’یوم حجاب اور عفت‘‘ کے اعلان کے بعد ملک بھر میں درجنوں خواتین کی گرفتاری کے بعد سامنے آیا تھا۔ ان گرفتار ہونے والی خواتین میں اداکارہ سیبیدہ راشنو بھی شامل تھیں۔

  • دو سال بعد ایران میں پہلی سر عام پھانسی

    دو سال بعد ایران میں پہلی سر عام پھانسی

    تہران: ایران میں ہفتے کے روز ایک پولیس اہلکار کو قتل کرنے کے مرتکب شخص کو سر عام پھانسی دی گئی دو سال میں یہ اپنی نوعیت کی پہلی سر عام پھانسی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق کارکن ایمان سابزکار جسے فروری 2022 میں جنوبی ایرانی شہر شیراز میں ایک پولیس اہلکار کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا تھا کو جائے وقوعہ پر صبح سویرے پھانسی دی گئی۔ جولائی کے شروع میں ایرانی سپریم کورٹ نے ان کی سرعام سزائے موت کی توثیق کی تھی۔

    راجئی شہر جیل میں، کم از کم 18 قیدیوں کو ایک دن میں پھانسی دی گئی، 10 کو ایک ہفتے پہلےآٹھ اورایک دن میں پھانسی دی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اورومیہ (ارمیا) جیل میں ایک سیاسی قیدی، جس کی شناخت شاکر بہروز کے نام سے ہوئی ہے، کو شہر کی انقلابی عدالت کی برانچ 1 نےموت کی سزا سنائی تھی اورایک خاتون سمیت کئی دیگر قیدیوں کو بھی قتل کےالزام میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

    ایمان سبزیکر، جسے فروری 2022 میں جنوبی شہر شیراز میں ایک پولیس افسر کے قتل کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، کو صبح سویرے جائے واردات پر پھانسی دے دی گئی۔

    ناروے میں قائم نارویجن ہیومن رائٹس آرگنائزیشن (این جی او) کے ڈائریکٹر محمود امیری مقدم نے کہا کہ عوامی مقامات پر اس وحشیانہ سزا کو دوبارہ شروع کرنے کا مقصد لوگوں کو ڈرانا اور ان پر خوف کی دھاک بٹھانا ہے تاکہ وہ ڈر کر احتجاج نہ کرسکیں۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ ایران قرون وسطیٰ کے دور کی یاد تازہ کررہا ہے۔

    پھانسی کی مبینہ طور پر سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ ایک قیدی کا لباس پہنے ایک شخص کو ٹرک کرین سے جڑی رسی کے ساتھ زمین سے کئی میٹر تک لٹکایا گیا ہے۔

    ایران میں سزائے موت عموماً جیلوں میں دی جاتی ہےتنظیم نے کہا کہ سرعام پھانسی کو ایک رکاوٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے گیارہ جون 2020ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ایران میں کسی سکیورٹی اہلکار کےقتل میں سر عام سزائے موت دی گئی ہے۔

    16 جون کو، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے ایران میں انسانی حقوق کی صورت حال پر ایک رپورٹ جاری کی، جس میں "سزائے موت اور پھانسیوں کی بڑی تعداد” اور "مناسب اور بروقت طبی دیکھ بھال سے انکار کی وجہ سے جیل میں موت کی رپورٹس” کی مذمت کی۔ ”

    اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ایران میں 2020 میں کم از کم 260 افراد کو پھانسی دیے جانے کی تعداد بڑھ کر 2021 میں 310 افراد تک پہنچ گئی اور 2022 تک یہ تعداد بڑھتی رہی۔

  • امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    امریکہ کوہرصورت مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلناہوگا:آستانہ اجلاس

    تہران :امریکہ کوہرحال میں مشرق وسطیٰ خصوصا مشرقی فرات سےنکلنا ہوگا:آستانہ اجلاس کااعلامیہ جاری کردیا گیا ہے ، اس حوالے سے ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ مشرقی فرات کے علاقے میں امریکہ کی موجودگی کا کوئی جواز نہیں ہے اور امریکہ کو ہر حال میں اس علاقے سے نکلنا ہوگا۔

     

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن

    تہران میں آستانہ سربراہی کانفرنس کے ساتویں دور کے اختتام کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں ایران کے صدرسید ابراہیم رئیسی نے ان مذاکرات میں روس اور ترکی کے صدور کی شرکت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نشست کے دوران شام کی موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت اور اقتدار اعلی پر زور دیا گیا۔

    صدر ایران نے مزید کہا کہ شام میں دریائے فرات کے مشرقی علاقوں میں امریکہ کی موجودگی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے اورامریکی افواج کو ہر حال میں ان علاقوں کو چھوڑنا ہوگا۔ انہوں نے شام کے تمام علاقوں پر اس ملک کی مرکزی حکومت کے اقتدار اعلی پر زور دیا۔

    ایرانی اور روسی صدر سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے انقرہ میں

    سید ابراہیم رئیسی نے کہا کہ آستانہ سربراہی اجلاس کے شرکا کی اس نشست میں دہشت گردی کے مقابلے اور اس سلسلے میں تمام ممالک کے تعاون پر بھی اتفاق ہوا۔

    روس کے صدر ولادیمیر پوتین نے بھی اس موقع پر آستانہ مذاکرات کے سربراہوں کی ملاقات اور بات چیت کو شام کے مسئلہ کے حل کے لئے انتہائی مفید اور موثر قرار دیا۔ پوتین نے اس نشست کے اختتامی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تینوں ممالک نے شام کے حالات کو معمول پر لانے کے لئے مستحکم تعاون پر زور دیا ہے اور اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ شام کے بحران کا حل صرف اور صرف سیاسی طریقے سے ممکن ہے۔

    پوتین نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لئے ایرانی اور ترک حلیفوں سمیت شام کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے ساتھ تعاون جاری رہے گا اور اس کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ کیا جاتا ہے

    پاکستان، ترکی ،آذربائیجان میں سہ فریقی ملاقات :آج اہم فیصلے متوقع

    مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ترک صدر رجب طیب اردوغان نے بھی آستانہ نشست کے شرکا کے درمیان تعاون جاری رہنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علاقے کے مستقبل میں علیحدگی پسندوں اور دہشت گردوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

  • سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان:   طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال

    سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان: طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال

    تہران : سہ فریقی سربراہی اجلاس:تہران بنےگا میزبان:طیب اردوان،ولادی میرپوتن کا بھرپوراستقبال،اطلاعات کے مطابق آج ایران کی سرزمین پرسہ فریقی سربراہی اجلاس میں اہم فیصلے ہوں گے اور اس سلسلے میں طیب اردوان اور روسی صدر ایرانی قیادت کے ساتھ صلاح مشورے کریں‌گے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملک شام سے متعلق آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کا سہ فریقی سربراہی اجلاس آج ایران، روس اور ترکی کے سربراہوں کی شرکت سے تہران میں منعقد ہو رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، آستانہ عمل کے ضامن ملکوں کے سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان گزشتہ شب تہران پہنچ گئے ہیں جبکہ روسی صدر ولادمیر پوتین تہران پہنچنے کو ہیں۔

    ولادی میر پوتن بھی عمران خان بن گئے:کہتےہیں کہ گھبرانا نہیں‌

    اجلاس کی سائیڈ لائن میں ایران، روس اور ترکی کے سربراہان مملکت ایک دوسرے سے علاقائی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے بھی علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ترکی کے صدر کی قیادت میں آنے والے اعلی سطحی وفد میں وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، انٹیلینجس کے سربراہ، صدارتی دفتر کے سربراہ، صدارتی دفتر کے ترجمان، وزیر توانائی اور وزیر تجارت شامل ہیں۔

    مغربی ممالک کی نااہلی کی قیمت دنیاچُکا رہی ہے،معاشی بحران کےذمہ دار

    گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان نے اجلاس کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شام میں لڑائی والے علاقوں میں کشیدگی کم کرنے اور شام میں استحکام کے تحفظ کے مسئلے کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شام اور ترکی کے مابین نئے سیکورٹی بحران کو حل کئے جانے کی ضرورت ہے۔

    روسی صدرولادی میر پوتن کی رہائش گاہ پربموں سے حملہ ہوگیا

    عبداللہیان کا کہنا تھا کہ ترکی شام میں تیس کلو میٹر اندر تک فوجی کاروائی کرنے کی بات کرتا ہے اور ایران اس مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کئے جانے کی ضرورت پر زور دے رہا ہے۔

    واضح رہے کہ روس اور ترکی کے تعاون اور شام میں قیام امن کی غرض سے آستانہ مذاکرات دو ہزار سترہ میں ایران کی کوششوں سے شروع ہوئے ہیں۔

  • ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    تہران :ایران نے پابندیوں کے باوجود بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کیں ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آج ان مثبت پالیسیوں کی وجہ سے ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالرتک پہنچ گیا

    ایرانی وزیر صنعت، معدن اور تجارت رضا فاطمی امین نے کہا ہے کہ گزشتہ سال ایران کی غیر ملکی تجارت کا حجم 120 بلین ڈالر تھا جو کہ بارٹر میکینزم، رقم کی منتقلی اور سیوڈو سوئفٹ(SWIFT) کے طریقوں سے کیا گیا تھا۔

    انہوں نے بیلاروس اور ایران کے پارلیمانی دوستی گروپ کے سفیر کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ایران 40 سال سے زیادہ عرصے سے پابندیوں کی زد پر ہے لیکن ان برسوں میں ہم نے پابندیوں کے باوجود بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔

    ایرانی وزیر نے کہا کہ کان کنی کے آلات کے میدان میں عظیم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور ایران کے پاس اس شعبے میں بہت سے معدنی ذخائر اور اس شعبے میں سرگرم کمپنیاں موجود ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے دریافت ہونے والے تانبے کے ذخائر دنیا کے ذخائر کا کل سات فیصد شمار ہوتے ہیں۔

    یاد رہےکہ دو دن قبل ایران کے نائب صدر محمد مخـبر نے ایک آن لائن تقریب کے دوران روس ہندوستان ٹرانزٹ کنٹینر ٹرین کے ایران کی سرحد میں داخلے کا حکم دیا تھا ۔ اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر محمد مخبر کا کہنا تھا کہ ملک کی علاقائی پوزیشن کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹرانزٹ کی پوری گنجائشوں سے فائدہ اٹھانا ہماری حکومت کی اقتصادی پالیسیوں میں سرفہرست ہے۔

    انہوں نے کہا تھا کہ صدر سید ابراہیم رئیسی شروع ہی سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی لین دین کے حجم میں اضافے پر زور دیتے آئے ہیں۔
    ایران کے نائب صدر نے مزید کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کی کوشش ہے کہ ملک کی ٹرانزٹ گنجائش کو پہلے مرحلے میں آٹھ ملین ٹن اور اس کے بعد بیس ملین ٹن تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سہولتوں میں اضافہ کرکے ملک کی ٹرانزٹ گنجائش کو تین سو ملین ٹن تک لے جانے کا امکان پایا جاتا ہے۔

    ایران کے نائب صدر کا کہنا تھا کہ ٹرانزیٹ کے مواقع اور گنجائشوں سے فائدہ اٹھانے سے جہاں بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے سیاسی اور عالمی تعلقات کے میدانوں میں بھی غیر معمولی فوائد حاصل ہوں گے ۔

  • ایران نے تیل کی غیرقانونی ترسیل کےالزام میں غیرملکی جہاز پر قبضہ کرلیا

    ایران نے تیل کی غیرقانونی ترسیل کےالزام میں غیرملکی جہاز پر قبضہ کرلیا

    ایران نے خام تیل کی غیرقانونی ترسیل کے الزام میں ایک غیرملکی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے ملک سے ایندھن اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک غیرملکی جہاز کو قبضے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے عملے کو بھی گرفتارلیا ہے

    ایران، جہاں بھاری سبسڈیز اور اپنی قومی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے ایندھن سب سے کم قیمت پر دستیاب ہے، پڑوسی ممالک اور سمندری راستے سے خلیجی عرب ریاستوں کو ایندھن کی اسمگلنگ کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔

    خبر رساں ایجنسی نے مزید بتایا ہے کہ جہاز جس میں 550,000 لیٹر سے زیادہ اسمگل شدہ ایندھن تھا، خلیجی پانیوں میں قبضے میں لیا گیا ہے۔ اس جہاز کو جنوبی صوبے ہرمزگان کی بندرگاہ پر لے جایا گیا جہاں اسے تحقیقات کے لیے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    صوبائی سرحدی محافظوں کے سربراہ حسین دہکی کا کہنا ہے کہ وہ اسمگل شدہ ایندھن لے جانے والے جہاز کی شناخت کرنے اور اسے حراست میں لینے میں کامیاب ہو گئے جس کا مقصد مارو جزیرے کے مشرق میں بڑے پیمانے پر سمگل شدہ ایندھن کی کھیپوں کو لے جانا تھا۔ایرانی حکام نے حالیہ مہینوں میں کئی بحری جہازوں کو خلیج میں ایندھن کی اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

  • ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    بیجنگ:ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ ایران پرامریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب حسین عامر سے ملاقات میں کہا کہ ایران پریکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جاری مشکلات کی ذمہ داری امریکا پرعائدہوتی ہے جس نے یکطرفہ طورپر2015میں کئے گئے ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیارکی۔ چین ایران سے جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا حامی ہے۔

    دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    حسین امیر عبداللھیان نے چین کے دورے کے اختتام پر کہا: فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں۔

    انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ صدر جمہوریہ ایران کا مکتوب پیغام انکے چینی ہم منصب کے لئے لے کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حسین امیر عبداللھیان نے بتایا کہ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے، ایسا معاہدہ جس میں ایرانی قوم کے حقوق و مفادات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔

    حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمترین مدت میں اچھے معاہدے کے حصول کا استقبال کرے گا لیکن یہ بات مغربی فریقوں پر منحصر ہے۔

  • افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں اس وقت ایران میں امارت اسلامیہ کے وفد نے مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود اور صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان سے ملاقات کی ہے۔

    "ہاں، ہم نے احمد مسعود، کمانڈر اسماعیل خان اور دیگر افغانوں سے ملاقات کی۔ ہم نے ان سب کو یقین دلایا کہ وہ واپس آ سکتے ہیں اور بے فکر زندگی گزار سکتے ہیں،” متقی نے امارت اسلامیہ کے قطر میں قائم دفتر کے ترجمان محمد نعیم کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا۔

    ایرانی میڈیا نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے اس ملاقات کی میزبانی کی، انہوں نے مزید کہا کہ افغان فریقین کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی۔

    دریں اثنا، طالبان نے پیر کو تصدیق کی کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں طالبان مخالف اتحاد کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔

    یہ ملاقات اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی، جس میں طالبان کی جانب سے اپنے سابق مخالفین کو شامل کرنے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔ قومی مزاحمتی فرنٹ کے نام سے جانے والے اس اتحاد کی قیادت طالبان مخالف جنگجو احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں، جنہیں 2001 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    اگست کے وسط میں طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد یہ گروپ متحد ہو گیا جب افغان حکومت فرار ہو گئی اور افغان فورسز نے طالبان پر قبضے کے لیے بہت کم یا کوئی مزاحمت پیش نہیں کی۔ احمد مسعود کے ساتھ مغربی صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان بھی شامل تھے۔

    تہران میں اتوار کی ملاقات طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان میل جول کی پہلی علامتوں میں سے ایک ہے۔

    سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کونسل کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت سابقہ ​​امریکی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے کئی سرکردہ رہنما طالبان کے قبضے کے بعد کابل میں ہی رہے۔