Baaghi TV

Tag: تہران

  • ایران نے تیل کی غیرقانونی ترسیل کےالزام میں غیرملکی جہاز پر قبضہ کرلیا

    ایران نے تیل کی غیرقانونی ترسیل کےالزام میں غیرملکی جہاز پر قبضہ کرلیا

    ایران نے خام تیل کی غیرقانونی ترسیل کے الزام میں ایک غیرملکی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا ہے۔ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی حکام نے ملک سے ایندھن اسمگل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک غیرملکی جہاز کو قبضے میں لے کرتحقیقات شروع کردی ہیں ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایرانی حکام نے عملے کو بھی گرفتارلیا ہے

    ایران، جہاں بھاری سبسڈیز اور اپنی قومی کرنسی کی قدر میں گراوٹ کی وجہ سے ایندھن سب سے کم قیمت پر دستیاب ہے، پڑوسی ممالک اور سمندری راستے سے خلیجی عرب ریاستوں کو ایندھن کی اسمگلنگ کے مسئلے سے نبرد آزما ہے۔

    خبر رساں ایجنسی نے مزید بتایا ہے کہ جہاز جس میں 550,000 لیٹر سے زیادہ اسمگل شدہ ایندھن تھا، خلیجی پانیوں میں قبضے میں لیا گیا ہے۔ اس جہاز کو جنوبی صوبے ہرمزگان کی بندرگاہ پر لے جایا گیا جہاں اسے تحقیقات کے لیے عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    صوبائی سرحدی محافظوں کے سربراہ حسین دہکی کا کہنا ہے کہ وہ اسمگل شدہ ایندھن لے جانے والے جہاز کی شناخت کرنے اور اسے حراست میں لینے میں کامیاب ہو گئے جس کا مقصد مارو جزیرے کے مشرق میں بڑے پیمانے پر سمگل شدہ ایندھن کی کھیپوں کو لے جانا تھا۔ایرانی حکام نے حالیہ مہینوں میں کئی بحری جہازوں کو خلیج میں ایندھن کی اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لیا ہے۔

  • ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    بیجنگ:ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ ایران پرامریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب حسین عامر سے ملاقات میں کہا کہ ایران پریکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جاری مشکلات کی ذمہ داری امریکا پرعائدہوتی ہے جس نے یکطرفہ طورپر2015میں کئے گئے ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیارکی۔ چین ایران سے جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا حامی ہے۔

    دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    حسین امیر عبداللھیان نے چین کے دورے کے اختتام پر کہا: فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں۔

    انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ صدر جمہوریہ ایران کا مکتوب پیغام انکے چینی ہم منصب کے لئے لے کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حسین امیر عبداللھیان نے بتایا کہ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے، ایسا معاہدہ جس میں ایرانی قوم کے حقوق و مفادات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔

    حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمترین مدت میں اچھے معاہدے کے حصول کا استقبال کرے گا لیکن یہ بات مغربی فریقوں پر منحصر ہے۔

  • افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی کی ایران میں اہم ملاقاتیں،وادی پنجشیرکے کمانڈراحمد مسعود سے مذاکرات

    قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں اس وقت ایران میں امارت اسلامیہ کے وفد نے مزاحمتی محاذ کے رہنما احمد مسعود اور صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان سے ملاقات کی ہے۔

    "ہاں، ہم نے احمد مسعود، کمانڈر اسماعیل خان اور دیگر افغانوں سے ملاقات کی۔ ہم نے ان سب کو یقین دلایا کہ وہ واپس آ سکتے ہیں اور بے فکر زندگی گزار سکتے ہیں،” متقی نے امارت اسلامیہ کے قطر میں قائم دفتر کے ترجمان محمد نعیم کی طرف سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا۔

    ایرانی میڈیا نے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے اس ملاقات کی میزبانی کی، انہوں نے مزید کہا کہ افغان فریقین کے درمیان اچھی بات چیت ہوئی۔

    دریں اثنا، طالبان نے پیر کو تصدیق کی کہ انہوں نے ہفتے کے آخر میں طالبان مخالف اتحاد کے سینئر رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کی۔

    یہ ملاقات اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات تھی، جس میں طالبان کی جانب سے اپنے سابق مخالفین کو شامل کرنے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔ قومی مزاحمتی فرنٹ کے نام سے جانے والے اس اتحاد کی قیادت طالبان مخالف جنگجو احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں، جنہیں 2001 میں قتل کر دیا گیا تھا۔

    اگست کے وسط میں طالبان کے کابل میں داخل ہونے کے بعد یہ گروپ متحد ہو گیا جب افغان حکومت فرار ہو گئی اور افغان فورسز نے طالبان پر قبضے کے لیے بہت کم یا کوئی مزاحمت پیش نہیں کی۔ احمد مسعود کے ساتھ مغربی صوبہ ہرات کے سابق گورنر اسماعیل خان بھی شامل تھے۔

    تہران میں اتوار کی ملاقات طالبان اور ان کے مخالفین کے درمیان میل جول کی پہلی علامتوں میں سے ایک ہے۔

    سابق صدر حامد کرزئی اور قومی مصالحتی کونسل کے سابق سربراہ عبداللہ عبداللہ سمیت سابقہ ​​امریکی حمایت یافتہ افغان حکومتوں کے کئی سرکردہ رہنما طالبان کے قبضے کے بعد کابل میں ہی رہے۔

  • افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا

    کابل، تہران: افغان طالبان اور ایرانی سرحدی فوج کے درمیان شدید جھڑپیں،افغان طالبان نے تین چوکیو‌ں پرقبضہ کرلیا ،اطلاعات کےمطابق افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، دونوں جانب سے بھاری اسلحہ کا استعمال کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان کی طالبان فورسز اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، یہ جھڑپ مغربی افغانستان کے صوبہ نمروز کے سرحدی ضلع کُنگ میں ہوئی ہے۔

     

     

    افغان صحافیوں نے بتایا کہ طالبان اور ایرانی سرحدی فورس کے درمیان جھڑپ نمروز کے سرحدی ضلع میں بدھ کی شام 5 بجے شروع ہوئیں۔ لڑائی کے دوران طالبان کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ بھاری اسلحہ کا بھی استعمال کیا گیا۔

     

    مقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی جانب سے تین سرحدی چوکیوں پر قبضہ کا دعوی کیا گیا ہے، جبکہ طالبان نے مزید فوجی کمک بھی طلب کرلی ہے۔مقامی افغان صحافیوں کے مطابق جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب ایران کی جانب سے سرحد پر چیک پوسٹ کی تعمیر کی جارہی تھی۔

    طلوع نیوز کے مطابق امارت اسلامی کے نائب ترجمان بلال کریمی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ نمروز کے سرحدی علاقوں میں طالبان فورسز اور ایرانی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جھڑپیں اب بند ہوچکی ہیں اور ان میں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ بلال کریمی نے جھڑپوں کی وجوہات کے حوالے سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔ لڑائی کے دوران بعض طالبان فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے، لیکن ایران کی جانب کسی زخمی یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد افغان اور ایرانی سرحد پر یہ پہلی جھڑپ ہے۔دوسری طرف ایرانی حکام نے کہا ہے کہ ایران کی چیک پوسٹ پر قبضے کی خبریں غلط ہیں، طالبان نے غلط فہمی کی بنیاد پر ایرانی کسانوں پر بلا اشتعال فائرنگ کی۔

     

     

  • تہران:سیکڑوں برس پرانی مسجد کی بحالی

    تہران:سیکڑوں برس پرانی مسجد کی بحالی

    تہران:ایرانی حکام نے صدیوں پرانی قازون مسجد کو اس کی اصلی حالت میں بحال کرنے کا فیصلہ کر لیاہے. مورخین کے مطابق عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے 807 عیسوی میں اس مسجد کو تعمیر کروایا تھا.ایرانی ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی مسجد ہے جس کی بحالی سے ایران میں اسلامی ثقافتی سرگرمیوں کو وسعت ملے گی.

    اس مسجد کو 13 ویں صدی عیسوی میں اس وقت نقصان پہنچا تھا جب منگولوں نے اس علاقے میں لشکر کشی کی تھی. مورخین کے مطابق اس مسجد میں سولویں صدی عیسوی میں اضافہ کیا گیا تھے.لیکن اب ماہرین آثار قدیمہ نے اس کی تاریخی حثیت کو بحال کرنے اور برقراررکھنے کا فیصلہ کیا ہے. جس کے لیے ماہرین کی خدمات حاصل کرلی گئی ہیں.