Baaghi TV

Tag: تیل

  • امریکا اور ایران کے درمیان  معاہدے کی خبریں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی خبریں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی

    امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق خبروں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے قریب پہنچنے اور ’پروجیکٹ فریڈم‘ کی عارضی معطلی کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 12 فیصد تک کمی رپورٹ کی گئی ہے۔

    برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت 97 ڈالر تک آ گئی ہے، جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 90 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ اسی طرح یو اے ای کے مربن خام تیل کی قیمت بھی 99 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی ہے تاہم قیمتیں اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت میں ایک فیصد سے زائد کمی ہوئی جس کے بعد یہ تقریباً 112 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی، جبکہ امریکی خام تیل (یو ایس آئل) کی قیمت بھی کم ہو کر 104 ڈالر فی بیرل سے کچھ نیچے آگئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ قیمتوں میں کمی آئی ہے، لیکن یہ کمی عارضی ہو سکتی ہے کیونکہ خطے میں غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں جاری تنازع عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کر رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود اب بھی بلند سطح پر موجود ہیں جب تک خطے میں کشیدگی ختم نہیں ہوتی اور سپلائی مکمل طور پر بحال نہیں ہوتی، تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے۔

  • آبنائے ہرمز کی بندش: کویت کی تیل برآمدات پہلی بار صفر

    آبنائے ہرمز کی بندش: کویت کی تیل برآمدات پہلی بار صفر

    گزشتہ ماہ کویت کی تیل برآمدات 35 سال میں پہلی بار مکمل طور پر رک گئیں۔

    روسی میڈیا کے مطابق کویت نے اپریل 2026 میں خام تیل کی ایک بھی بیرل برآمد نہیں کی، جو 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے شپنگ مانیٹرنگ ڈیٹا کے مطابق اگرچہ کویت میں تیل کی پیداوار جاری رہی، تاہم برآمدات مکمل طور پر معطل رہیں،ماہرین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جو کویت کی تیل ترسیل کا واحد راستہ ہے۔

    حکام کے مطابق 17 اپریل کو کویت پٹرولیم کارپوریشن نے ’فورس میجر‘ کا اعلان کرتے ہوئے برآمدات روک دیں، کیونکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدور فت مؤثر طور پر بند ہو گئی تھی یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین توانائی راہداریوں میں شمار ہوتی ہے۔

    کویت، جو امریکا کا قریبی اتحادی اور خطے میں ایک اہم لاجسٹک مرکز ہے، روزانہ تقریباً 27 لاکھ بیرل تیل پیدا کرتا تھا، جس میں سے لگ بھگ 18 لاکھ 50 ہزار بیرل برآمد کیے جاتے تھے ان برآمدات کا بڑا حصہ ایشیائی ممالک، خصوصاً چین، بھارت اور جنوبی کوریا کو جاتا تھا مئی 2026 کے آغاز تک کویت کی تیل پیداوار کم ہو کر تقریباً 12 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئی ہے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کویت کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تقریباً 50 فیصد جبکہ حکومتی بجٹ کا 90 فیصد فراہم کرتا ہے۔

    ایران نے مخالف جہازوں کے لیے راستہ بند رکھا ہوا ہے جبکہ امریکی بحریہ خلیج فارس میں ایرانی بندرگاہوں کے گرد سرگرم ہے اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہیں، جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتوار کے روز نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    برطانوی خام تیل کی قیمت میں 5 فیصد اضافہ ہوگیا، 5.13 ڈالر اضافے سے برطانوی خام تیل کی قیمت 95.51 ڈالر فی بیرل ہوگئی اسی طرح امریکی خام تیل کی قیمت بھی 7 فیصد اضافے کے ساتھ 90.33 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    جمعہ کو یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہے، جس کے بعد قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم ہفتے کے روز ایر ان نے اچانک اس اہم راستے کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان کر دیا دوسری جانب امریکی بحریہ نے خلیج عمان میں ناکہ بندی عبور کرنے کی کوشش کرنے والے ایک ایرانی پرچم بردار مال بردار جہاز پر فائرنگ کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

    جہازوں کی نقل و حرکت کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق اتوار کے روز آبنائے ہرمز سے کوئی آئل ٹینکر نہیں گزرا، جس نے عالمی توانائی منڈیوں میں تشو یش کی لہر دوڑا دی ہے۔

  • امریکا کا بحری ناکہ بندی کا اعلان،تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

    امریکا کا بحری ناکہ بندی کا اعلان،تیل کی قیمتوں میں تیزی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں گر گئیں

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان سامنے آیا ہے۔

    برینٹ کروڈ، اتوار کے روز 8 فیصد سے زائد اضافے کے بعد 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا یہ پہلی بار ہے کہ قیمت دوبارہ 100 ڈالر کی نفسیاتی حد سے اوپر گئی ہے، اس سے قبل گزشتہ ہفتے قیمتیں 92 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی تھیں،ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ایران کے داخل یا خارج ہونے والے تمام بحری جہازوں کو روک دے گی۔

    تاہم بعد ازاں امریکی سینٹرل کمانڈ نے وضاحت کی کہ ناکہ بندی صرف ان جہازوں تک محدود ہوگی جو ایران سے متعلق ہوں گے، جبکہ دیگر بین الاقوامی جہازوں کی آمد و رفت جاری رہے گی، ناکہ بندی کا اطلاق پیر کے روز سے ہوگا،جنگ سے قبل روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے، تاہم حالیہ دنوں میں یہ تعداد کم ہو کر صرف 17 رہ گئی ہے۔

    امریکا کے اس اعلان کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی دیکھی گئی، جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس 0.9 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی ایک فیصد سے زائد گر گیا، امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے

  • اوگرا کی ایل پی جی سرکاری قیمتوں پر فروخت کرنے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت

    اوگرا کی ایل پی جی سرکاری قیمتوں پر فروخت کرنے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی سرکاری قیمت میں فروخت کرنے کی سخت ہدایت کردی۔

    اوگرا نے مارکیٹنگ کمپنیوں کو سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ 11.8 کلو سلنڈر کی مقررہ قیمت نمایاں طور پر ظاہر کی جائیں، صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی اس کے علاوہ اوگرا نے ایل پی جی پلانٹس اور ڈسٹری بیوٹرز کی چیکنگ کیلئے فیلڈ انسپیکشن بھی جاری کردیا۔

    اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیلز انوائسز اور گیٹ پاسز پر سلنڈر ریٹ واضح لکھنا لازمی ہے جبکہ صارفین سے زائد قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔اوگرا انفورسمنٹ ٹیمیں ملک بھر میں متحرک،زائد قیمتوں پر ایکشن ہوگا۔

  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ عنقریب ختم کرنے کے بیان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی آگئی۔

    بدھ کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تین فی صد کمی کے بعد 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں تیل کی قیمتوں میں یہ کمی گزشتہ شب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بیان کے بعد واقع ہوئی ہےامریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ’بہت جلد‘ ایران سے نکل جائے گا اور فوجی کارروائیاں دو یا تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہیں۔

    تاہم، برینٹ خام تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے آغاز سے پہلے کے مقابلے میں اب بھی 39 فی صد زیادہ ہیں جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے عالمی تیل اور گیس کی سپلائی کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک اہم راستے آبنائے ہرمز کو مؤثر طریقے سے بند کیا ہوا ہے عالمی تیل کی تجارت کا 20 فی صد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔

  • روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی

    روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی

    یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر پابندی عائد کردی ہے،اس اقدام کا مقصد ملکی سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارت توانائی کو پیٹرول برآمدات پر پابندی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے نوو اک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ نے تیل اور پیٹرولیم کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا دیا ہے اس کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ روس روزانہ 120,000 سے 170,000 بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے۔

    اس فیصلے سے چین، ترکی، برازیل، افریقی ممالک اور سنگاپور کے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے یہ ممالک روسی پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریدار ہیں، ہندوستان پر اس کا اثر کم سے کم ہوگا کیونکہ وہ ریفائنڈ پیٹرول کے بجائے خام تیل درآمد کرتا ہے۔

    نائب وزیر اعظم نوواک نے اجلاس کے دوران بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تیل کمپنیو ں نے توثیق کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ دستیاب ہے اور یہ کہ ریفائنریز پوری صلاحیت پر یا اس سے بھی زیادہ کام کر رہی ہیں، اس طرح موجودہ طلب کو پورا کیا جا رہا ہے۔

  • ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو عالمی امن اور سلامتی کی معمولی قیمت قرار دیا

    ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو عالمی امن اور سلامتی کی معمولی قیمت قرار دیا

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو عالمی امن اور سلامتی کی معمولی قیمت قرار دیا ہے-

    صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان میں کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ہے اور یہ کوئی بڑی قیمت نہیں ہیں، یہ ایک چھوٹی سی قربانی ہے اور صرف احمق ہی اس بات سے اختلاف کر سکتے ہیں ایران کے جوہری خطرے کے خاتمے کے بعد یہ قیمتیں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔

    انہوں نے لکھا کہ تیل کی قیمتوں میں عارضی اضافہ قابلِ قبول ہے کیوں کہ اس کے بدلے امریکا اور دنیا کو سلامتی اور امن حاصل ہوگا امریکا اور دنیا کے امن اور سلامتی کے لیے تیل کی عارضی بلند قیمت ایک بہت چھوٹی قیمت ہے اور جو اس کے جو اس کے برعکس سوچے گا وہ احمق ہی ہوگا۔

    تل ابیب میں مبینہ طور پر اسرائیلی قیادت کے زیر استعمال سب سے بڑی زیر زمین پناہ گاہ تباہ

    واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہےپیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

    ایران کیساتھ جنگ: ایک اور امریکی فوجی ہلاک، امریکا نے تصدیق کردی

  • مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    مشرق وسطیٰ کشیدگی: تیل کی قیمتیں نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی منڈی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں تقریباً 20 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور قیمتیں جولائی 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے تیل کی عالمی سپلائی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں، اس صورت حال کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے چند بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے پیداوار کم کرنا شروع کر دی ہے جب کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی میں طویل تعطل کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

    پیر کو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں ایک موقع پر 18 ڈالر 35 سینٹ یا تقریباً 19.8 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 111.04 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں قیمت 15 ڈالر 24 سینٹ اضافے کے ساتھ 107.93 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتی دیکھی گئی اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کروڈ آئل کی قیمت 16 ڈالر 50 سینٹ یا 18.2 فیصد اضافے کے ساتھ 107.40 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جب کہ سیشن کے دوران یہ 111.24 ڈالر فی بیرل تک بھی پہنچ گئی تھی، گزشتہ ہفتے بھی برینٹ کروڈ میں 27 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی میں 35.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ڈی جی خان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 4 دہشتگرد ہلاک

    رپورٹ کے مطابق عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے، جب کہ اس سے قبل قطر کی جانب سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں بھی کمی دیکھی گئی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوتی رہی تو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی جلد تیل کی پیداوار کم کرنا پڑ سکتی ہے، اگرچہ یہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو بھی دنیا بھر کے صارفین اور کاروباری اداروں کو کئی ہفتوں یا مہینوں تک مہنگے ایندھن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیوں کہ سپلائی چین، تیل کی تنصیبات اور شپنگ کے خطرات بدستور برقرار رہیں گے۔

    ریاست کی رٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے،شفیع اللہ جان