Baaghi TV

Tag: جاپان

  • چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    چین خلا کا پرامن استعمال کرتا آرہا ہے،وزارت خارجہ

    بیجنگ :امریکی خلائی ادارے ناسا کے چیف آف اسٹاف بل نیلسن نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین کے خلائی منصوبے فوجی آپریشن کے تحت جاری ہیں جب کہ امریکہ پرامن،غیر فوجی خلائی منصوبے پر کام کر رہا ہے۔جمعرات کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس بیان کے حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان چاؤ لی جیان نے منعقدہ پریس کانفرنس میں کہا کہ بل نیلسن کا بیان حقائق کے منافی ہے۔خلا میں فوجی مشق امریکہ کرتا ہے جب کہ چین خلا کا پرامن استعمال کر رہا ہے اور اس میں عالمی تعاون کو بھی مثبت انداز میں فروغ دے رہا ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں چاؤ لی جیان نے کہا کہ تین مشترکہ اعلامیے، چین -امریکہ تعلقات کا ” حفاظتی حصار” ہیں اور ان کی پاسداری کی جانی چاہیئے۔

    اس سے پہلے چائنا سینٹر فار انٹرنیشنل اکنامک ایکسچینج کے زیر اہتمام 7 ویں عالمی تھنک ٹینک سمٹ میں کئی سیمینار منعقد ہوئے۔ “عالمی معیشت کی متوازن بحالی” کے موضوع پر منعقدہ سمپوزیم میں شریک ملکی اور غیر ملکی ماہرین اور اسکالرز کا خیال تھا کہ اس حقیقت کے پیش نظر کہ عالمی اقتصادی بحالی کی بنیاد کمزور ہے اور ترقیاتی عدم توازن بڑھ رہا ہے، بین الاقوامی برادری کو عالمی معیشت کی متوازن بحالی کو فروغ دینے کے لیے اتفاق رائے کو بڑھانا چاہیے، تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے اور عملی اقدامات کرنے چاہییں۔

    جمعرات کے روز چینی میڈ یا کےمطا بق کوریا انسٹی ٹیوٹ فار فارن اکنامک پالیسی کے ڈائریکٹر کم ہیونگ جونگ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ چین کی جدت طرازی کی قیادت میں پیداوری قوت میں خوب اضافہ ہو رہا ہے۔ افراطِ زر کے دور میں، تخلیقی ٹیکنالوجیز کی زیادہ ضرورت ہے، اور بین الاقوامی تعاون اس طرح کی تکنیکی کامیابیاں حاصل کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ روز ایک سمپوزیم بعنوان ’’عالمی تجارت کے لیے نئے قوانین بنانے کے لیے گفت و شنید کریں‘‘ کا انعقاد کیا گیا۔ اجلاس میں ماہرین کا خیال تھا کہ بین الاقوامی تجارت میں نئے حالات کے پیشِ نظر، موجودہ عالمی اقتصادی اور تجارتی ترقی کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے کثیر الجہتی تجارتی نظام کے قوانین میں بہتری کا عمل جاری رکھنا ضروری ہے۔

    چین کی ریاستی کونسل کے ترقیاتی تحقیقی مرکز کے ڈپٹی ڈائریکٹر لونگ گو چھیانگ نے کہا کہ چین کاربن میں کمی اور کم کاربن کی تبدیلی کو مؤثر طریقے سے فروغ دے گا، جو عالمی سبز اور کم کاربن کی تبدیلی کے لیے ایک اہم محرک ہوگا۔ ہم دیکھیں گے کہ سبز ترقی کا تصور بین الاقوامی تجارت پر زیادہ اثرات ڈالے گا۔
    آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے اپنے دورہ سنکیانگ میں ای لی قازق خوداختیار پریفیکچر کا دورہ کیا جو قدیم شاہراہ ریشم کے شمالی حصے کا اہم گڑھ تھا۔ای لی اپنے خوبصورت مناظر اور مختلف قومیتوں کی رنگا رنگ ثقافت کی بدولت سیاحوں کے لیے بے حد کشش رکھتا ہے۔

    جمعرات کےروزچینی میڈ یا کےمطابق آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 50 صحافی سنکیانگ میں اقتصادی ترقی، قومی اتحاد،سماجی ہم آہنگی ، ماحولیاتی تحفظ،دیہی احیاء اور ثقافتی ترقی کے حوالے سے کی جانے والی تبدیلیوں اور حاصل کردہ کامیابیوں کی شاندار کہانیاں جاننے کے لیےتین جولائی سے سنکیانگ کے مشترکہ دورے پر ہیں ۔ 1992 میں شروع ہونے والی یہ سرگرمی اب آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان صحافیوں کے تبادلوں کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے۔

    85سال پہلے آج کے دن چینیوں کے جزبہ کوسلام پیش کرتے ہیں :چین حکومت کا پیغام ،اطلاعات کے مطابق چینی میڈ یا کے مطا بق 7 جولائی کے سانحے کی 85 ویں برسی جمعرات کے روز منا ئی گئی ۔ اسی روز 7 جولائی 1937 کو جاپانی عسکریت پسندوں نے چین کے خلاف جارحیت کی ہمہ جہت جنگ کا آغاز کیا تھا۔جاپان مخالف آٹھ سالہ سخت اور کٹھن جنگ کے دوران، چینی فوج اور عوام نے خونریز لڑائیاں لڑیں، عظیم قومی قربانی کے ساتھ فسطائیت مخالف جنگ میں حتمی فتح حاصل کی، اور اپنے خون سے چینی تہذیب اور عالمی امن کا دفاع کیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 7 جولائی کو چینی عوام اس دن کو مختلف طریقوں سے مناتے ہیں، کیونکہ صرف تاریخ کو ذہن میں رکھ کر اور ایک مضبوط ملک بنا کر ہی تاریخی سانحات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جا سکتا ہے، کیونکہ ہم اپنی قومی تذلیل کو نہیں بھولیں گے، اس لئے ہم امن کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، یہ چینی عوام کی امن سے محبت اور دفاع کے عزم کا اظہار ہے .

     

    تاہم، چین کے پرامن ابھرنے کے پیشِ نظر، مغربی ممالک میں کچھ لوگ ہمیشہ چین کو سمجھنے کے لیے مغربی طرز فکر اور منطق کا استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ چین کے پرامن ابھرنے کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے اور چین کو ایک مغربی طرز کا تسلط پسند ملک سمجھتے ہیں جو موجودہ ورلڈ آرڈر پر حملہ کرنے والا ہے۔ نام نہاد “تھوسیڈائڈز ٹریپ”تھیوری سے لے کر مختلف “چین کے خطرے کے نظریات” تک، ان غلط فہمیوں نے چین کے ترقی کے رجحان اور مشرق اور مغرب کے درمیان معقول تبادلے اور تعلقات کے بارے میں لوگوں کی عقلی سمجھ کو شدید متاثر کیا ہے۔

     

     

     

    اس حوالے سے چین کے صدر شی جن پھنگ نے 2015 میں اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک تقریر میں نشاندہی کی تھی کہ دنیا میں کوئی “تھوسیڈائڈز ٹریپ” نہیں ہے، لیکن بڑی طاقتوں کے درمیان بار بار ہونے والی تزویراتی غلط فہمیاں اپنے لیے “تھوسیڈائڈز ٹریپ” پیدا کر سکتی ہیں۔ ” بعد میں ایک انٹرویو میں، صدر شی نے دوبارہ زور دیا “ہم سب کو “تھوسیڈائڈز ٹریپ” میں پھنسنے سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نظریہ کہ ایک طاقتور ملک ضرور تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرےگا، چین پر لاگو نہیں ہوتا، اور چین کے پاس اس طرح کے اقدامات کرنے کے لئے جینز نہیں ہیں۔ ”

    غیر ملکیوں کے جارحیت کے تاریخی سانحے اور قومی مصائب کی دردناک یاد کے پیشِ نظر ،چینی عوام امن کی قدر کو اور بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ 5000 سال سے زائد عرصے سے تہذیب کے عمل میں چینی قوم نے ہمیشہ امن اور ہم آہنگی کے تصور کی پیروی کی ہے ۔ چین کبھی تسلط کی کوشش نہیں کرے گا، چین کبھی توسیع میں مشغول نہیں ہو گا ، اور ہم کبھی بھی دوسرے لوگوں پر اس المناک تجربے کو مسلط نہیں کریں گے جس کا تجربہ ہم نے خود کیا ہے۔دوسری طرف ، بلاشبہ بالادست طاقتوں کی غنڈہ گردی کے سامنے چینی عوام کبھی سر نہیں جھکائیں گے، ہم قومی خودمختاری اور علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی اور جدیدیت پر انحصار کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ، ہم دنیا بھر کے امن پسند لوگوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر عالمی امن اور استحکام کے لیے اپنا اپنا حصہ ڈالیں گے۔

     

     

    یہ لکھتے ہوئے مجھے ایک “موت کا جھنڈا” یاد آ رہا ہے جو میں نے جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوامی جنگ کے

  • جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    جاپان: ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر،بجلی کا سنگین بحران

    ٹوکیو:توانائی کا بحرانی عالمی صورتحال اختیارکرگیا ہے اور یہ بھی پشین گوئی کی جارہی ہے کہ یہ بحران ابھی مزید بڑھے گا جس کی صورت میں عالمی سطح پرایک بہت ہیجانی کی کیفیت پیدا ہوجائے گی،ترقی پزیرممالک میں تویہ تصورتھاکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوسکتی ہے لیکن جاپان جیسے ملک کے بارے میں سوچنا احمقانہ تصورکیاجاتا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جاپان میں بھی لوڈشیڈنگ یا بجلی کا بحران ہومگراب یہ سب کچھ ہورہا ہے ، جاپان کو اس وقت جون کی ریکارڈ توڑ ’بدترین‘ گرمی کی لہر کا سامنا ہے جہاں بجلی کے بحران نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کچھ مینوفیکچررز نے بجلی کی بچت کے لیے پیداوار کو کم کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے

    گرمی کی لہر کے پانچویں دن ٹوکیو کے قریبی علاقوں میں 40 سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

    جاپان کے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ دارالحکومت ٹوکیو کا درجہ حرارت 5 جولائی تک 30 سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آئے گا۔ صنعت کی وزارت کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ’بجلی کی طلب اور رسد کی صورت حال گزشتہ تین دنوں میں (رواں ہفتے کے) سنگین ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹوکیو اور اس کے قریبی علاقوں میں بدھ کی دوپہر کے اوائل میں بجلی کی طلب گزشتہ چند سالوں کے موسم گرما کی بلند ترین سطح کے برابر ہو سکتی ہے

    نیشنل گرڈ مانیٹر کے مطابق منصوبہ بند بجلی کی سپلائی میں پہلے سے ہی وہ سب کچھ شامل کر لیا گیا ہے جو بدھ تک اضافی اقدامات کے طور پر کیا جا سکتا ہے۔

    آرگنائزیشن فار کراس ریجنل کوآرڈینیشن آف ٹرانسمیشن آپریٹرز (او سی سی ٹی او) کے مطابق دوپہر تخمینے نے ظاہر کیا ہے کہ ٹوکیو کے علاقے کے لیے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا ریزرو تناسب شام ساڑھے چار اور پانچ بجے کے درمیان 2.6 فیصد تک گر سکتا ہے۔ جاپان کے وزیراعظم فومیو کیشیدا نے گروپ آف سیون کے سربراہی اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ جاپان میں بجلی کی وافر فراہمی کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کریں گے۔

    دریں اثنا، پاور کمپنیاں تھرمل پاور پلانٹس کو دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہیں جو بن کر دیے گئے تھے جبکہ ری ایکٹرز کو دوبارہ فعال کرنے سمیت متبادل توانائی کے ذرائع کے اضافی استعمال کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

  • جاپان : ٹوکیو میں ہیٹ ویو کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    جاپان : ٹوکیو میں ہیٹ ویو کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    جاپان کا دارالحکومت ٹوکیو ان دنوں شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے یہاں تک کہ شہر میں ہیٹ ویو کا 150 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: "الجزیرہ” کے مطابق ٹوکیو میں لگاتار تین دن درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا،جو 150 سالوں میں جون کے مہینے میں گرم موسم کا بدترین سلسلہ تھا۔

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال

    لگاتار تین دن درجہ حرارت 35 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد منگل کو ٹوکیو میں 36 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی تھی،1875 کے بعد یہ جون میں گرمی کا بدترین سلسلہ ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق اتوار کے روز ہیٹ ویو سے متاثرہ 250 سےزائد شہریوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ کم از کم دو افراد ہیٹ اسٹروک سے ہلاک ہوئے جبکہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے تک مزید 13 افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔

    دوسری جانب حکام نے ٹوکیو میں شہریوں سے کہا ہے کہ وہ پاور کٹ ہونے سے بچنے کے لیے بجلی محفوظ کریں جبکہ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ٹوکیو میں آئندہ دنوں کے اندر درجہ حرارت میں مزید اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔

    ذوالحج کا چاند دیکھنے کیلیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا

    جاپان کے بیشتر حصوں میں عام طور پر سال کے اس وقت بارش کا موسم ہوتا ہے، لیکن جاپان کی موسمیاتی ایجنسی (JMA) نے پیر کے روز کانٹو کے علاقے، ٹوکیو کے گھر، اور پڑوسی کوشین کے علاقے میں موسم ختم ہونے کا اعلان کیا۔ 1951 میں ریکارڈز شروع ہونے کے بعد سے یہ سیزن کا ابتدائی اختتام تھا لیکن معمول سے مکمل 22 دن پہلے۔

    جے ایم اے نے وسطی جاپان کے ٹوکائی اور جنوبی کیوشو کے کچھ حصے میں بھی بارش کے موسم کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ان علاقوں میں بارش کا موسم تھا اور کانٹو کوشین ریکارڈ پر سب سے کم بارش تھی۔

    شدید گرمی کے درمیان، جاپانی حکومت نے بجلی کے بحران کے بارے میں ایک انتباہ جاری کیا ہے، حکام نے منگل کو ٹوکیو کے علاقے میں صارفین سے دوسرے دن بجلی بچانے کے لیے کہا ہے۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ رہائشیوں کو وہ کرنا چاہیے جو ٹھنڈا رہنے اور ہیٹ اسٹروک سے بچنے کے لیے ضروری تھا۔

    آٓئی ایم ایف سے 1.9 ارب ڈالر بہت جلد ملیں گے لیکن بوجھ عوام کو ہی اٹھانا ہوگا. وزیراعظم

  • جاپان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    جاپان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    جاپان نے پاکستان کی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چونکہ پاکستان کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے جاپان نے پاکستان کی مدد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوۓ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کی مدد کرنے کیلئے جاپان نے 2.3 ملین ڈالرز دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مزید برآں یہ کہ جاپان ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ سکالرشپ پروجیکٹ” کے لیے 2.3 ملین امریکی ڈالر کی امداد دے گا۔ اور اس معاہدے پر دستخط سیکرٹری اقتصادی امور ڈویڑن سیکرٹری میاں اسد حیا الدین اور جاپانی ناظم الامور ایشی کینسو نے کیے ہیں۔
    اور یہ کہ جاپان کی حکومت نے پاکستانی افسران کیلئے ایک اچھے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔ یہ جاپانی حکومت جاپان میں تمام اعلی سطح کی یونیورسٹیوں میں دو سال کے لیے ماسٹر ڈگری پروگرام کے لیے 17 اور ڈاکٹریٹ پروگرام کے لیے 3 سال کے لیے پاکستانی افسران کو ایک اسکالر شپ فراہم کرے گی۔

    مزید برآں یہ کہ اس خاص مقصد کیلئے پاکستان کے انسانی وسائل کو ترقی دینے کے مقصد کیلئے اسکالرشپ کے منصوبہ کے تحت جاپانی گرانٹ ایڈ کے لیے وزارت اقتصادی امور میں دستخط کی تقریب منعقد کی گئی۔اسی کے تحت ہی جاپان کی حکومت نے “مالی سال 2022 کے لیے ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اسکالرشپ کے پروجیکٹ” کے لیے پاکستان کی حکومت کو 313 ملین جاپانی ین فراہم کیے۔ جو کہ 23 لاکھ امریکی ڈالرکی امداد فراہم کرے گی۔

  • امریکا آزادی اور انسانی حقوق کے مسائل پر بھارت سے بات کرے گا:جیک سلیوان

    امریکا آزادی اور انسانی حقوق کے مسائل پر بھارت سے بات کرے گا:جیک سلیوان

    امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ امریکا نے بھارت سے انسانی حقوق اور آزادی کے بنیادی اصولوں سے انحراف کرنے پر بھارت سے بات چیت کا راستہ تلاش کرلیا ہے۔جیک سلیوان نے یہ ریمارکس اتوار کو صدر جو بائیڈن کے ایشیا کے دورے میں صحافیوں کے گروپ سے بات چیت کرتے ہوئے دیے۔

    اس دورے کا مقصد امریکا کے انڈو۔پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اتحادیوں سے تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن یوکرین پر روس کے حملے کے خلاف امریکی کوششوں کی حمایت بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
    جو بائیڈن بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی سے جمعرات کو ٹوکیو سمٹ میں ‘کواڈ سیکیورٹی ڈائیلاگ’ کے اجلاس میں ملاقات کریں گے۔

    جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا اور آسٹریلیا کے نومنتخب وزیر اعظم انتھونی البانیس بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔امریکا اور بھارت کے عہدیداروں نے بتایا کہ جو بائیڈن اور نریندر مودی علیحدہ ملاقات بھی کریں گے، جس میں باہمی مسائل کے ساتھ روس کی جارحیت پر بھی بات چیت ہوگی۔

    بھارت کے امریکا اور روس دونوں ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں، بھارت نے حال ہی میں روس سے رعایتی قیمتوں پر گیس اور تیل خریدا ہے حالانکہ امریکا نے ماسکو سے اس طرح کی تجارت پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

    امریکی قومی سلامتی مشیر کو صحافی نے بریفنگ کے دوران یاد دلایا کہ انتظامیہ اپنی خارجہ پالیسی اسٹریٹجی کو جمہوریت اور آمریت کے درمیان عالمی جنگ قرار دیتی ہے۔

  • دنیا کی90بندرگاہوں پرچین کا قبضہ

    دنیا کی90بندرگاہوں پرچین کا قبضہ

    نئی دہلی : دنیا کی 90 بندرگاہوں پر چین کا قبضہ:بھارت اوردیگرمخالفین پریشان،اطلاعات کے مطابق چین کے مخالف ملکو‌ں پر اس وقت ایک خوف طاری ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممالک اب چین کی بالادستی قبول کرنے کےلیے تیار بھی نہیں اور اس بالادستی کوچیلنج کرنے کےلیے خفیہ منصوبے بھی تشکیل پارہےہیں‌،

    اس حوالے سے چین کے مخالف ملکوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس وقت چین ایشیا سمیت دنیا کے دیگر حصوں میں تیزی سے اپنی فوجی طاقت بڑھا رہا ہے۔ بحرالکاہل کے ایک چھوٹے سے جزیرے ملک سولومن میں چینی فوجی اڈے کے قیام کی حالیہ خبروں نے امریکہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان تناؤ بڑھا دیا ہے۔ جزائر سولومن سے گواڈیلوپ کی ایک نہر بحر الکاہل سے ہوتی ہوئی آسٹریلیا کے راستے نیوزی لینڈ تک جاتی ہے، اس لیے امریکہ اور برطانیہ نے آسٹریلیا کو جوہری آبدوزیں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا، آسٹریلیا کے وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے پیر کو کہا کہ وہ جنوب مغربی بحرالکاہل کے علاقے میں چین کے عزائم سے آگاہ ہیں اور چین کے خطرناک عزائم سے بھی آگاہ ہیں۔

    چین مخالف قوتوں کا کہنا ہے کہ درحقیقت چین اپنے عالمی مفادات کی آڑ میں ایشیا اور امریکی فوجی تسلط کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔ دنیا پر حکمرانی کرنے کے ارادے کی وجہ سے چین نے دنیا کی 90 سے زائد بندرگاہوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ وہ جہازوں کی رہائش اور تجارت کے لیے انھیں استعمال کرتا ہے لیکن چین انھیں کسی بھی وقت فوجی اڈے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ سولومن چین معاہدے کے بعد آسٹریلیا کو خدشہ ہے کہ چین نے جزائر سولومن پر فوجی اڈہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ جزائر سولومن کی آبادی 6.87 ملین ہے۔

    یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس میں افریقہ کے جبوتی میںچین کا ایک اعلان کردہ فوجی اڈہ ہے۔ اسے 2017 میں بحریہ کی سہولت کے طور پر بنایا گیا تھا۔ چین کا دعویٰ ہے کہ وہ جزائر سولومن میں امن و استحکام اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایسا کر رہا ہے۔ لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ چین اپنے عالمی مفادات کے نام پر ایشیا میں امریکی فوجی تسلط کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔

    ارجنٹائن سے سری لنکا تک چین کے یہ ہیں اہم فوجی اڈے ہیں ، جن میں سے چند بڑے یہ ہیں پیٹاگونیا، ارجنٹائن میں فوجی اڈہ افریقہ میں جبوتی بیسمیانمار میں عظیم کوکو جزیرے پر بحری اڈہگورن بدخشاں، تاجکستان میں نیول بیس مالدیپ، میانمار اور کیاوپو بندرگاہوں پر قبضہ کر لیا گیا۔جزائر انڈمان اور نکوبار کے قریب کوکو جزیرہسری لنکا میں ہمبنٹوٹا بندرگاہ 99 سال کے لیے لیز پر ہے پاکستان کی گوادر بندرگاہ ایک طرح سے چین کی ملکیت ہے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے سے آسٹریلیا کے ساحل سے 2000 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر چینی بحری اڈہ بن سکتا ہے۔ وزیر اعظم موریسن نے کہا کہ ان کی حکومت بندرگاہ کی فیریز، سب میرین آپٹیکل کیبلز، جہاز رانی اور جہاز کی مرمت سے متعلق مبینہ معاہدے کے مسودے سے حیران نہیں ہے۔

    انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ بحرالکاہل میں چینی حکومت کے عزائم کیا ہیں، چاہے وہ ایسی سہولیات کے حوالے سے ہو یا بحری اڈوں یا بحرالکاہل میں فوجی موجودگی کے حوالے سے”۔موریسن نے کہا، "بحرالکاہل کے بہت سے دوسرے رہنماؤں کی طرح، میں بھی ایسے انتظامات میں چینی حکومت کی مداخلت اور دخل اندازی پر گہری تشویش میں ہوں اور اس کا جنوب مغربی بحرالکاہل کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے کیا مطلب ہو سکتا ہے۔

    قبل ازیں آسٹریلوی اخبار نے جزائر سولومن میں گودی، گھاٹ اور پانی کے اندر کیبل بچھانے کے چین کے منصوبوں کی خبر شائع کی تھی۔ آسٹریلوی اخبار نے چین اور جزائر سولومن کے درمیان اس سال کے سمندری تعاون کے معاہدے کو شائع کیا۔ اخبار نے چار صفحات پر مشتمل ایک دستاویز شائع کی تھی۔ چین اور سولومن نے حال ہی میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے ایک علیحدہ سیکورٹی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

  • شمالی کوریا کا رواں ہفتے دوسرا بیلسٹک میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا رواں ہفتے دوسرا بیلسٹک میزائل تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا نے ایک اور بیلسٹک میزائل تجربہ کیا ہے جو رواں برس کا 15 واں اور رواں ہفتے کا دوسرا میزائل تجربہ ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سخت ترین حریف پڑوسی ملک جنوبی کوریا کے صدر کے حلف اُٹھانے کا دن جیسے جیسے قریب آتا جا رہا ہے، شمالی کوریا کے میزائل تجربات میں تیزی آگئی اور آج شمالی کوریا نے ایک بار پھر میزائل تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کے سخت حریف ممالک جاپان اور جنوبی کوریا نے شُبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ بیلسٹک میزائل تجربہ تھا۔جنوبی کوریا کی فوج کے سربراہ نے الزام عائد کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے ساحلی علاقے میں واقع شپ یارڈ میں سب میرین سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    جاپان اور جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل نے فضا میں 60 کلومیٹر تک اوپر گیا اور 600 کلومیٹر کی دوری پر جا گرا۔

    دوسری طرف جاپان اور جنوبی کوریا کی طرف سے شمالی کوریا کے ان عزائم کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا خطے میں امن وسکون کا قاتل ہے ، ان مماللک کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اس مسئلے کو عالمی فورم پراٹھائیں گے اوراحتجاج کریں گے ،دوسری طرف شمالی کوریا نے جنوبی کوریا اور جاپان کا یہ ردعمل مسترد کردیا ہے

    واضح رہے کہ شمالی کوریا نے گزشتہ برس اکتوبر میں بھی سب میرین لانچ بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا تھا جو 2017 کے بعد سب سے بڑا تجربہ تھا۔

  • شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ:جنوبی کوریا اور جاپان کاشدید تحفظات کا اظہار

    شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ:جنوبی کوریا اور جاپان کاشدید تحفظات کا اظہار

    پیانگ یانگ:شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل تجربہ:جنوبی کوریا اور جاپان نے شدید تحفظات کا اظہار ،اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا نے پابندی کے باوجود ایک بار پھر اپنے مشرقی ساحل پر بیلسٹک میزائل تجربہ کیا جس پر جنوبی کوریا اور جاپان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

    عالمی خبر رساں دارے کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے جوہری قوتوں کو تیز رفتاری سے اپ ڈیٹ کرنے کی مہم کے تحت بیلسٹک میزائل تجربہ کیا ہے، یہ میزائل شمالی کوریا کے مشرقی ساحل سے سمندر کی طرف داغا گیا۔

    شمالی کوریا کے سخت حریف اور پڑوسی ملک جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے الزام عائد کیا کہ شمالی کوریا نے میزائل تجربہ بیلسٹک میزائل تجربہ تھا۔ میزائل نے تقریباً 470 کلومیٹر سفر طے کیا جب کہ فضا میں اس کی بلندی کی حد 780 کلومیٹر تھی۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف جسٹس نے مزید بتایا کہ یہ میزائل تجربہ بھی شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے علاقے میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب کی گئی۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں شمالی کوریا نے اپنا سب سے بڑا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تجربہ کیا تھا۔

    شمالی کوریا کا رواں برس 14 واں میزائل تجربہ ہے اور تازہ ترین میزائل تجربہ اس وقت کیا گیا ہے جب جنوبی کوریا کے نئے صدر یون سک یول 5 دن بعد اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

    جنوبی کوریا، جاپان اور امریکا نے شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

  • روس کا جاپانی وزیراعظم پر پابندیاں لگانے کا اعلان

    روس کا جاپانی وزیراعظم پر پابندیاں لگانے کا اعلان

    ماسکو:روس کا جاپانی وزیراعظم پر پابندیاں لگانے کا اعلان،اطلاعات کے مطابق روس نے امریکی اتحادی ملک جاپان کی طرف سے روس پرسخت پابندیوں کی وجہ سے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے جاپان کے وزیراعظم پرپابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے ، روس نے یہ اعلان اس وقت کیا جب امریکہ اور جاپان سمیت دیگراتحادی روس کے خلاف مزید سخت فیصلے کرنے جارہےہیں ،

    ماسکو نے یوکرین کے بحران پر ٹوکیو حکام کے روس میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔جاپانی وزیر اعظم Fumio Kishida کو روس کی وزارت خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ وزارت نے بتایا کہ یہ اقدام کشیدا کی انتظامیہ کی زیرقیادت ایک "بے مثال اینٹی روس مہم” کے جواب میں آیا ہے۔

    ماسکو نے 63 حکام اور عوامی شخصیات کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جن میں ملک کے وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور انصاف کے وزراء بھی شامل ہیں۔ ان سب پر روس میں داخلے پر پابندی ہے۔

    وزارت خارجہ نے ٹوکیو پر "روسی فیڈریشن کے خلاف ناقابل قبول بیان بازی، جس میں بدنامی اور براہ راست دھمکیاں شامل ہیں” کا الزام لگایا ہے، جسے "عوامی شخصیات، ماہرین اور جاپانی میڈیا کے نمائندوں نے دہرایا ہے، اور ملک کے تئیں مکمل طور پر مغربی تعصب کا نشانہ بنایا گیا ہے”۔

    چونکہ روس نے فروری کے آخر میں یوکرین میں اپنا فوجی آپریشن شروع کیا، جاپان نے ماسکو کے خلاف عائد مغربی پابندیوں کی حمایت کی، جس میں روسی افراد کے اثاثے منجمد کرنا، بعض اشیا کی درآمد پر پابندی لگانا اور کوئلے کی درآمدات کو مرحلہ وار بند کرنا شامل ہے

    روس نے بدھ کے روز جاپانی وزیر اعظم Fumio Kishida اور صحافیوں اور پروفیسروں کے ساتھ ملک کے مختلف سینئر افسران پر پابندی عائد کر دی۔ یہ منتقلی اس وقت ہوئی جب ٹوکیو نے ان اقوام کی فہرست میں شمولیت اختیار کی جنہوں نے یوکرین میں اپنی ‘بحریہ کی مارکیٹنگ مہم’ کے لیے ماسکو کی مخالفت میں تعزیری اقدامات کیے ہیں۔ "F. Kishida کی انتظامیہ نے روس مخالف مارکیٹنگ مہم کا آغاز کیا (اور) بہتان اور براہ راست دھمکیوں کے ساتھ ساتھ، روسی فیڈریشن کے خلاف ناقابل قبول بیان بازی کی اجازت دی،” روس کی بیرون ملک وزارت نے ایک پریس ریلیز میں کہا۔

    جاپان کے بیرون ملک وزیر یوشیماسا ہایاشی اور وزیر دفاع نوبو کیشی بھی روس کی طرف سے ان پابندیوں کے ریکارڈ پر ہیں۔ ماسکو نے کہا کہ پابندیاں توجہ مرکوز کرنے والے افراد کو روس میں غیر معینہ مدت تک داخلے سے روکتی ہیں۔کیف اور اس کے مغربی اتحادی اسے غیر قانونی جدوجہد اور جارحیت کے جھوٹے بہانے کے طور پر مسترد کرتے ہیں۔

    یہ روس کی طرف سے اب تک کی لگائی جانے والی پابندیوں میں سے سب بڑی پابندی کے طور پر جانا جارہا ہے
    روس نے گزشتہ ماہ یوکرین میں کریملن کی ’بحری کارروائیوں‘ پر امریکا کی جانب سے عائد پابندیوں کے جواب میں امریکا کی وائس چیئرمین کملا ہیرس پر سفری پابندی عائد کردی تھی۔

    سفری پابندی میں 27 مختلف امریکی افسران کو شامل کیا، جن میں پینٹاگون کے سینیئر شخصیات، امریکی کاروباری رہنماؤں اور صحافیوں کے ساتھ، روسی وزارت خارجہ کی بنیاد پر، جس نے کہا کہ یہ پابندی ‘ہمیشہ کے لیے عائد رہے گی۔

    سی ای او مارک زکربرگ بھی روسی پابندیوں کی طرف سےمتاثر ہوئے ہیں۔ ایف بی اور انسٹاگرام – زکربرگ کی میٹا بزنس ایمپائرکا ایک حصے پر اس سے قبل روس کی طرف سے پابندی عائد کردی گئی تھی جس نے پلیٹ فارم کو ‘انتہا پسند’ تنظیموں کا نام دیا تھا۔

    اے ایف پی کی خبر کے مطابق، امریکی دفاعی افسران، پینٹاگون کے ترجمان جان کربی اور ڈپٹی سیکرٹری دفاع کیتھلین ہکس روسی پابندیون کا شکارہوسکتی ہیں

    اس سے قبل، برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن – جنہوں نے مسلسل یوکرین کے لیے اپنی مدد کا اظہار کیا ہے – اور برطانیہ کے کئی دیگر وزراء پر یوکرین کی جنگ پر پابندیاں عائد کرنے کے ‘بے مثال معاندانہ اقدامات’ کی وجہ سے پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    ماسکو کی طرف سے جاری کردہ نام نہاد ‘سیز ریکارڈ’ میں ہندوستانی نژاد وزراء – برطانیہ کے چانسلر رشی سنک، رہائشی سکریٹری پریتی پٹیل اور قانونی پیشہ ور بنیادی سویلا بریورمین کے علاوہ برطانیہ کے نائب وزیر اعظم ڈومینک رااب، اوورسیز سکریٹری لِز ٹرس اور دفاع بھی شامل تھے۔ سیکرٹری بین والیس۔
    یاد رہے کہ چند دن پہلی اسی جاپانی وزیراعظم کِشیدا فُومیو نے یوکرائن پر روسی حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ جاپانی حکومت اضافی پابندیاں لگانے اور دیگر اقدامات کرنے جارہی ہے۔

    انہوں نے ان دنوں یہ کہا تھا کہ یہ حملہ بین الاقوامی برادری کی کوششوں کو پس پشت ڈالنے اور موجودہ صورتحال کو یکطرفہ طور پر بزور قوت تبدیل کرنے کی کوشش ہے۔

    وزیراعظم کِشیدا کاکہنا تھا کہ یہ حملہ بین الاقوامی قانون کے صریحاً برعکس ہے، کیونکہ یہ یوکرائن کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے روسی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے بین الاقوامی نظام کی بنیادوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • جاپان میں ‘پراسرار’ بیماری کا حملہ، ہرطرف خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں

    جاپان میں ‘پراسرار’ بیماری کا حملہ، ہرطرف خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں

    ٹوکیو: جاپان میں ‘پراسرار’ بیماری کا حملہ، ہرطرف خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں ،اطلاعات کے مطابق کرونا وبا کے بعد جاپان میں سامنے آنے والی پر اسرار بیماری نے سنسنی پھیلادی ہے۔

    جاپان کی وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق ایک بچے میں غیر تصدیق شدہ ہیپاٹائٹس کی شدید بیماری کی تشخیص ہوئی ہے، غیر شناخت شدہ قسم کے شدید ہیپاٹائٹس سے متاثرہ بچے کو اسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے۔

    وزارت کا کہنا ہے کہ مریض کی علامات دیگر ملکوں میں حال ہی میں بچوں میں ظاہر ہونے والی علامات سے مماثلت رکھتی ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ یہ جاپان میں پہلا مریض ہے جو ممکنہ طور پر بیرون ملک سے متاثر ہوکر آیا ہے۔

    واضح رہے کہ عالمی ادارۂ صحت اس سے قبل برطانیہ میں نامعلوم اسباب کے ہیپاٹائٹس میں مبتلا بچوں کی اطلاع فراہم کرچکا ہے، جس پر عالمی ادارے نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اکیس اپریل تک نامعلوم اسباب کے ہیپاٹائٹس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک سو انہتر تک جا پہنچی ہے اور یہ بارہ ممالک تک پھیل چکا ہے، جن میں امریکا اور اسپین بھی شامل ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق متاثرین میں ایک تا سولہ سال کی عمر کے بچے شامل ہیں اب تک ایک بچہ ہلاک ہوچکا جبکہ سترہ بچوں کے جگر کی پیوند کاری ہوچکی ہے۔

    عالمی ادارۂ صحت کےمطابق ان مریضوں میں سے کسی میں بھی، اے سے ای تک کی عمومی قسم نہیں پائی گئی۔

    دوسری جانب جاپان کی وزارت صحت نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ ہسپتال میں داخل کیے گئے بچے کی عمر 16 سال یا اس سے کم ہےم لیکن انہوں نے مریض کی جنس یا رہائش سے متعلق مزید معلومات ظاہر نہیں کیں۔