Baaghi TV

Tag: جاپان

  • دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی جاپانی خاتون چل بسیں

    دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی جاپانی خاتون چل بسیں

    ٹوکیو: جاپان میں دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی خاتون دن کی علالت کے بعد خالق حقیقی سے جا ملیں۔

    باغی ٹی وی : جاپانی میڈیا کے مطابق گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے دنیا کی معمر ترین شخصیت کا اعزاز پانے والی کین تاناکا جاپان کی مقامی نرسنگ ہوم میں رہائش پذیر تھیں جہاں آج ان کا انتقال ہوگیا۔

    دنیا کی معمر ترین شخصیت نے 119ویں سالگرہ کوکا کولا پی کر منائی

    کین تاناکا 2 جنوری 1903 میں جاپان کے جنوب مغربی علاقے فیوکیوکا میں پیدا ہوئی تھیں وہ جوانی میں نوڈلز اور رائس کیک کی دکان چلاتی تھیں اور 1922 میں 19 برس کی عمر میں شادی کی جس سے ان کے 4 بچے ہوئے جبکہ ایک کو گود لیا۔

    ان کے خاندان کی چاول کی دکان تھی جس پر وہ 103 برس کی عمر تک کام کرتی رہیں اپنی زندگی میں انہوں نے 1918 کا ہولناک ہسپانوی فلو دیکھا اور دو عالمی جنگوں کو قریب سے محسوس کیا لیکن اب بھی وہ ماضی کی باتوں کو نہیں دوہراتیں بلکہ انہیں اس عمر میں بھی مستقبل سے لگاؤ تھا-

    گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ نے 2019 میں کین تاناکا کو 116 سال اور 66 دن کی عمر میں دنیا کی معمر ترین خاتون کے اعزاز سے نوازا تھا اور انھوں نے اس اعزاز کو اپنی زندگی کا یادگار ترین لمحہ قرار دیا تھا۔

    119 سالہ کین تاناکا صبح 6 بجے اُٹھ کر لازمی چہل قدمی کرتیں اور دوپہر میں ریاضی کی مشق کرتیں جو ان کا پسندیدہ مضمون تھا اس کے بعد کیلی گرافی بھی کرتیں ایک انٹرویو میں انھوں نے اپنی طویل العمری کا راز واک اور سادہ غذا کو قرار دیا تھا۔

    طیارے کے واش روم کے کوڑے دان سے نومولود بچہ برآمد،خاتون گرفتار

    انہوں نے اپنی لمبی عمر اور صحت کا راز بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس وقت کھانا چھوڑ دیتی ہیں جب ان کا پیٹ 80 فیصد بھر جاتا ہے جبکہ صحت بخش غذاﺅں جیسے سبز سبزیاں، جڑوں والی سبزیاں اور مچھلی کھانا پسند کرتی ہیں۔

    گنیز ورلڈ ریکارڈز کا کہنا تھا کہ کین تاناکا وقت گزارنے کے لیے اوتھیلو نامی گیم ہے جو ان کا فیورٹ ہے اور وہ کلاسک بورڈ کی ماہر بن چکی ہیں اور اکثر گھر کے دیگر افراد کو شکست دیتی ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں شہریوں کی لمبی عمریں ہوتی ہیں اور دنیا کے معمر ترین افراد کے حوالے سے بھی مشہور ہیں کیونکہ ماضی میں کئی افراد نے معمر ترین کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

    گنیز ورلڈ ریکارڈز کے مطابق دنیا میں طویل ترین عمر پانے کا ریکارڈ فرانس کے ایک شہری جین لوئس کلمینٹ کو حاصل تھا جو1997 میں 122 سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے تھے۔

    جڑواں بہن بھائی کی پیدائش میں پورے ایک سال کا فرق

  • جاپانی جزیرے کے قریب سیاحوں سے بھری کشتی لاپتہ

    جاپانی جزیرے کے قریب سیاحوں سے بھری کشتی لاپتہ

    ٹوکیو: جاپان کے شمال میں واقع جزیرے ہوکائیڈو کے قریب دو بچوں سمیت 26 سیاحوں سے بھری کشتی لاپتہ ہوگئی ہے، جس کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بتایا کہ سیاحتی کشتی میں دو بچوں سمیت 26 مسافر سوار تھے، جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیڈو کے گرد سیر کے دوران لاپتہ ہوئی۔

    حکام کا اس بحری جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا، جس میں 26 افراد سوار تھے‘KAZU I’ نامی کشتی کے عملے نے کوسٹ گارڈز کو دوپہر 1:15 پر اطلاع دی کہ وہ پانی میں طغیانی کا شکار ہے جبکہ 3 بجے کے قریب رابطہ منقطع ہونے سے پہلے کشتی 30 ڈگری پر جھکنے کی اطلاع دی گئی۔

    امریکی عبادت گاہوں کی رکنیت میں کمی،گزشتہ برس 2 کروڑ 60 لاکھ امریکیوں نے باقاعدگی…


    فوٹو : بی بی سی
    کوسٹ گارڈز نے مزید بتایا کہ کشتی کا سراغ لگانے کیلئے ایک ہیلی کاپٹر اور اور بورڈز روانہ کی گئیں مقامی ماہی گیری کی کشتیاں بھی تلاش میں شامل ہو گئی ہیں تاہم رات 9 بجے تک کشتی اور مسافروں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے اس کے بعد سے چار افراد کو تلاش کیا گیا ہے اور انہیں طبی امداد کے لیے لے جایا گیا ہے۔

    اٹلانٹس رائل،کیا یہ دبئی کا سب سے پرتعیش ہوٹل ہے؟

    خیال کیا جاتا ہے کہ کازو 1 نامی کشتی شیریٹوکو جزیرہ نما کے گرد تین گھنٹے کے سیاحتی سفر پر تھی کشتی میں سوار 26 میں سے دو عملہ اور دو بچے تھے۔

    فوٹو بی بی سی
    علاقے میں لہریں بلند تھیں اور مقامی ماہی گیری کی کشتیوں نے بظاہر آدھی صبح تک بندرگاہ پر واپس آنے کا فیصلہ کیا تھا عملے نے مبینہ طور پر کہا کہ جہاز میں سوار تمام افراد نے لائف جیکٹس پہن رکھی تھیں لیکن جب رات ہوتی ہے تو اس علاقے میں درجہ حرارت 0C (32F) تک گر سکتا ہے۔

    یہ علاقہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کا ایک نامزد مقام ہے، اور کشتیوں کی سیر ان سیاحوں میں مقبول ہے جو پتھریلے ساحلوں پر وہیل اور سمندری شیروں کے ساتھ ساتھ بھورے ریچھوں کو دیکھنے آتے ہیں-

    ایک ہی کمپنی میں 84 سال تک ملازمت کرنےوالے 100 سالہ شخص نےنیا گنیزورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

  • پراسرار جاپانی ’جل پری دیوی‘ کی ممی کیا ہے؟

    پراسرار جاپانی ’جل پری دیوی‘ کی ممی کیا ہے؟

    ٹوکیو: جاپانی سائنسدان آج کل ایک چھوٹی سی ممی پر تحقیق کررہے ہیں جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ’جل پری دیوی‘ کی ممی ہے جس کی پوجا کرنے والوں کو صحت، تندرستی اور لمبی عمر حاصل ہوتی ہے۔

    باغی ٹی وی: اس ممی کا دھڑ مچھلی کا اور سر انسان جیسا ہے جبکہ اس کی مجموعی لمبائی صرف 30 سینٹی میٹر (ایک فٹ سے بھی کم) ہے یہ پچھلے 40 سال سے آساکوچی پریفیکچر کے اینجوئن مندر میں بحفاظت رکھی ہے۔

    مشہور جاپانی اخبار ’آساہی شمبون‘ کے مطابق، یہ پراسرار ممی مختلف لوگوں سے ہوتی ہوئی، نامعلوم ذرائع سے اس مندر تک پہنچی ہے جو لکڑی کے ایک ڈبے میں بند تھی۔

    ڈبے میں اس کے ساتھ ایک تحریر بھی موجود تھی جس میں لکھا تھا کہ یہ جل پری ممی مبینہ طور پر 1736 سے 1741 کے دوران ایک مچھیرے کے جال میں پھنس گئی تھی جو صوبہ توسہ (موجودہ کوچی پریفیکچر) کے سمندر میں مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔

    جاپان کے بعض علاقوں میں آج بھی عجیب الخلقت دیوی دیوتاؤں کی پوجا ہوتی ہے جن میں مچھلی کے دھڑ اور انسان نما سر والی ’جل پریاں‘ بھی شامل ہیں۔

    کوراشیکی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ آرٹس کے ماہرین نے اس مندر کے پجاری سے طویل مذاکرات کے بعد، بالآخر فروری میں یہ پراسرار ممی وہاں سے نکلوائی اور سی ٹی اسکین کیا تاکہ اس کی اندرونی تفصیلات معلوم ہوسکیں۔

    اگرچہ اب تک اس تحقیق کا حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے لیکن ابتدائی اندازوں سے معلوم ہوا ہے کہ جل پری کی یہ ممی کسی مچھلی کے دھڑ کو غالباً ایک نوزائیدہ بچے یا بندر کے بالائی جسمانی حصے کے ساتھ ملا کر بنائی گئی تھی۔

    جل پری دیوی کے بارے میں جاپان کی قدیم دیومالائی کہانیوں میں ایک واقعہ یہ بھی لکھا ہے کہ ’جل پری دیوی‘ کو کھانے والی ایک عورت اگلے 800 سال تک زندہ رہی۔

    اینجوئن مندر کے بڑے پجاری کا کہنا ہے کہ ویسے تو لوگوں کی بڑی تعداد صحت اور لمبی عمر کےلیے جل پری دیوی کی ممی کا دیدار کرنے وہاں آتی ہے لیکن کورونا وبا شروع ہونے کے بعد یہاں آنے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا اور لاک ڈاؤن کے باوجود، ہزاروں لوگ اس مندر میں آئے اور وبا کے خاتمے کےلیے جل پری دیوی سے منتیں مانگیں۔

  • چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام

    نئی دہلی :چین کو یوکرین میں جاری تنازعہ سے فائدہ اٹھانے نہیں دیں گے:کواڈ اتحاد کا پیغام،اطلاعات کے مطابق کواڈ اتحاد کے سربراہوں نے تائیوان کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس کا انعقاد کیا ہے۔ اجلاس میں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے اس طرز پر انڈوپیسیفیک خطے میں کوئی کارروائی ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق جمعرات کے روز ہونے والی ورچوئل میٹنگ میں امریکی صدر جو بائیڈن، جاپانی وزیر اعظم فومیو کیشیدا، آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حصہ لیا۔اس وقت جب کہ دنیا اور بالخصوص مغرب کی نگاہیں روس اور یوکرین میں جاری جنگ پر مرکوز ہیں، تائیوان کے حوالے سے چین کے رویے پر تشویش کواڈ اتحادی ممالک کی مزید بڑھ گئی ہے۔

    اس ضمن میں جاپانی وزیر اعظم کیشیدا نے روس یوکرین تنازعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہم اس بات پر متفق تھے کہ اس طرح کی کسی طاقت کا استعمال کرکے انڈوپیسیفیک میں صورت حال کو یکطرفہ طورپر تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم اس بات پر بھی متفق تھے کہ روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا شدہ حالات کے مدِنظر ایک آزاد اور کھلے انڈوپیسیفیک خطے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرنا اور بھی زیادہ اہم ہوگیا ہے۔

    آسٹریلوی وزیر اعظم موریسن نے میٹنگ کے بعد اپنےجاری کردہ بیان میں کہا یوکرین میں جو کچھ ہو رہا ہے انڈوپیسیفیک خطے میں ہم ویسا ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہم ایک آزاد اور کھلا خطہ برقرار رکھنے کے لیے پرعز م ہیں،جہاں چھوٹی طاقتوں کو بڑی طاقتوں سے ڈرنے کی ضرورت نہ ہو

    مزید براں، امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹوئٹ کر کے کہا کہ اس میٹنگ میں کواڈ رہنماؤں نے انڈوپیسیفیک سمیت پوری دنیا میں خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے تئیں اپنے عہد کا اعادہ کیا۔

    بھارتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ کواڈ انڈوپیسیفیک خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے اپنے اصل ہدف پر توجہ مرکوز رکھے۔

    یاد رہے، کواڈ ملکوں میں بھارت واحد ملک ہے جس نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت نہیں کی ہے بلکہ اقو ام متحدہ میں روس کے خلاف پیش کردہ قرارداد پرووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہا۔

    ادھرجاپان نے یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کا سامان فراہم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔یوکرین کی مدد کا فیصلہ جاپان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ جاپانی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کو فراہم کی جانے والی اشیامیں ہیلمٹ، سخت سرد موسم کا لباس، خیمے، کیمرے، حفظان صحت کی مصنوعات، ہنگامی غذائی اشیا اورجنریٹر شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان پہلی بار اپنی بُلٹ پروف جیکٹس کسی ملک کو فراہم کرے گا۔حکومتی ترجمان کے مطابق جاپان یوکرین کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔

  • جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی

    جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی

    ٹوکیو:جاپان بھی روس کے خلاف میدان میں‌ آگیا: یوکرین کوبُلٹ پروف جیکٹس اوردیگر ضرورت کے سامان فراہمی .اطلاعات کے مطابق یوکرین کی مدد کا فیصلہ جاپان کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کیا گیا۔ جاپانی وزارت دفاع کے مطابق یوکرین کو فراہم کی جانے والی اشیامیں ہیلمٹ، سخت سرد موسم کا لباس، خیمے، کیمرے، حفظان صحت کی مصنوعات، ہنگامی غذائی اشیا اورجنریٹر شامل ہیں۔

    خیال رہے کہ جاپان پہلی بار اپنی بُلٹ پروف جیکٹس کسی ملک کو فراہم کرے گا۔حکومتی ترجمان کے مطابق جاپان یوکرین کو اسلحہ فراہم نہیں کرے گا اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔

    دوسری طرف یوکرین کے صدر ولادیمر زیلینسکی نے کہا ہے کہ نیٹو نے 50 ٹن ڈیزل دینے کے علاوہ کچھ نہیں دیا، اموات کا ذمے دار نیٹو ہوگا۔

    یوکرین کے صدر کا اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ نیٹو کو معلوم ہے کہ روس ابھی حملے مزید تیز کرے گا ایسی صورت میں جب سب کو معلوم ہے کہ نئے حملے اور اموات ہونگی تو نیٹو کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

    انہوں نے نیٹو کے ارکان پر روس کو یوکرین پر حملہ کرنے کےلیے ہری جھنڈی دکھانے کا الزام بھی عائد کیا اور یوکرین کو نو فلائی زون قرار دینے کی اپیل کو رد کرنے پر نیٹو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے اس فیصلے کے بعد اب اگر لوگ مارے جائیں گے تو اس کا ذمے دار نیٹو ہوگا۔

    ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرین اور روس کے درمیان جاری تنازع کے درمیان حال میں ختم ہونے والی نیٹو سربراہی کانفرنس کو کمزور قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک الجھا ہوا سربراہی اجلاس تھا ایسا سربراہی اجلاس جو ظٓاہر کرتا ہے کہ یورپ میں ہر کوئی جنگ آزادی کو ایک مقصد کے طور پر نہیں دیکھتا۔

    زیلنسکی کا مزید کہنا تھا کہ نیٹو کے اس رخ سے روس کو یوکرین کے شہروں اور دیہات پر بم باری کی کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔انہوں نے پولینڈ جانے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہیں نہیں گئے اور کیف میں ہی موجود ہیں اور کبھی یوکرین سے فرار نہیں ہونگے۔

    واضح رہے کہ یوکرین کے صدر نے نیٹو ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ یوکرین کو نو فلائی زور یعنی ’’وہ علاقہ قرار دیں جہاں سے کسی بھی طیارے کے گزرنے پر پابندی ہوتی ہے‘‘ لیکن نیٹو نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے تیس ممالک پر مشتمل سیاسی و عسکری اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) نے یوکرین کی نوفلائی زون قرار دینے کی درخواست مسترد کردی ہے۔

  • جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی

    ٹوکیو: جاپان نے روس کے خلاف نئی جنگ چھیڑدی ، ایک طرف یوکرین اور روس کے درمیان میزائلوں ، گولہ باورود کی جنگ ہے تو دوسری طرف جاپان نے روس کے خلاف معاشی پابندیوں کی جنگ چھیڑ کی نیا محاذ کھول دیا ہے ، اسی سلسلے میں‌ جاپان نے روس کے مرکزی بینک کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق یوکرین پر حملے کے تناظر میں جاپان، ماسکو پر پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے کی کوشش کر رہا ہے، اس سلسلے میں جاپانی حکومت نے روس کے مرکزی بینک کے ساتھ لین دین محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جاپانی حکام کے مطابق بینک آف جاپان میں روسی مرکزی بینک کے کھربوں ین غیر ملکی کرنسی ذخائر کی شکل میں پڑے ہوئے ہیں، انھیں منجمد کر دیا جائے گا۔

    مغربی ملکوں کی جانب سے سخت نئی اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد پیر کے روز روسی روبل کی قدر گر کر اب تک کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

    بینک آف رشیا کرنسی منڈیوں میں روبل کے دفاع کے لیے اپنے بین الاقوامی محفوظ ذخائر کو استعمال کے لیے منظم کرتا رہا ہے، لیکن اگر اُس کے ذخائر منجمد کر دیے گئے تو بینک کو ایسا کرنے میں مشکل پیش آئے گی۔

    ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر روبل کی قدر تیزی سے گرتی رہی تو افراطِ زر میں اضافہ ہوگا جس سے روسی معیشت کو دھچکا لگے گا۔

    بتایا جاتا ہے کہ روس کا مرکزی بینک اپنے غیر ملکی کرنسی ذخائر کی بڑی مقدار ڈالر، یُورو اور یُوآن میں رکھتا ہے، تاہم جاپانی حکام کو یقین ہے کہ حکومتی اقدام سے روس کے خلاف پابندیوں کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی

    دوسری طرف لڑائی میں شدت آگئی ہے اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ایک اور ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کی فوج کو دارالحکومت کئیف کی دفاعی لائن کو توڑنے نہیں دیا۔

    انہوں نے کہا کہ روس یوکرین کے تھرمل پاور پلانٹ کو نشانہ بنا رہا ہے جو کیئف کی30 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرتا ہے

  • روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ

    ٹوکیو:روسی حملے کے خلاف جاپان کے شہروں میں مظاہرہ ،اطلاعات کے مطابق یوکرین پر روسی افواج کے حملے کے بعد جاپان کے شہروں میں مظاہرہ اور ریلیاں نکالی گئیں۔یوکرین پر روس کی چڑھائی کے خلاف جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی شہروں میں احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئی ہیں۔ یہ دونوں شہر دوسری عالمی جنگ کے دوران ایٹمی بمباری کا نشانہ بنے تھے۔

    انہوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے، جن پر انگریزی میں لکھا تھا، ’جنگ بند کرو‘، اور ’جوہری اسلحہ اور جنگ نا منظور‘۔ یہ دراصل روسی جارحیت اور ایٹمی جنگ کے خطرے کے خلاف احتجاج تھا۔

    قبل ازاں رواں ہفتے فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے خبردار کیا تھا کہ انکا ملک آج بھی زبردست جوہری طاقت ہے۔روس کے حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو کی جانب سےلفظی بیان بازی سے یوکرین کے صدر بھی سخت نالاں نظر آ رہے ہیں۔یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے عالمی برادری سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تنہا کر دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب روس نے یوکرین کی جانب سے مذاکرات کی اپیل پر کہا کہ یوکرین کی افواج ہتھیار ڈالے اس کے بعد مذاکرات کئے جائیں گے۔

    ادھر جنگ کی وجہ سے حالات مزید بگڑگئے ہیں اور ہر طرف لوگ پریشان نظر آتے ہیں‌،لوگ بچے بوڑھے سب پریشان ہیں ، لوگ گھروبےگھر ہوگئے ہیں اور ایک تازہ واقعہ میں
    ایک خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔

    یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔ سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔

    خیال رہے کہ 24 فروری کو حملے کے آغاز کے بعد سے روسی فوج نے یوکرین میں 821 فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جن میں 14 فضائی اڈے اور 19 فوجی کمانڈ سینٹرز شامل ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ 24 فضائی دفاعی میزائل سسٹم، 48 ریڈار، 7 جنگی طیارے، 7 ہیلی کاپٹر، 9 ڈرون، 87 ٹینک اور 8 فوجی جہاز تباہ ہوئے ہیں۔

    تازہ کارروائی میں روسی فوج نے یوکرین کے فوجی اڈوں پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔روسی وزارتِ دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشینکوف نے ہفتے کو بتایا کہ فوج نے لمبی دوری تک مار کرنے والے کیلیبر کروز میزائلوں سے یوکرین کے متعدد فوجی اداروں پر حملہ کیا۔

    ایک ایسی خاتون نتالیہ ابلیوا ہفتے کے روز یوکرین سے سرحد عبور کر کے ہنگری پہنچی، جسے ایک قیمتی سامان سونپا گیا۔یوکرین کی جانب سرحدی کراسنگ پر انتظار کرتے ہوئے، ابلیوا نے اپنے آبائی شہر کامیانیٹس-پوڈیلسکی سے تعلق رکھنے والے ایک مایوس 38 سالہ شخص سے ملاقات کی، اس کے جوان بیٹے اور بیٹی کے ساتھ۔سرحدی محافظ اسے گزرنے نہیں دیتے تھے۔ یوکرائن نے 18 سے 60 سال کی عمر کے تمام یوکرائنی مردوں پر ملک چھوڑنے پر پابندی لگا دی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑ سکیں۔

    "ان کے والد نے بس دونوں بچوں کو میرے حوالے کر دیا، اور مجھ پر بھروسہ کیا، اور مجھے ان کے پاسپورٹ دے کر ان کے حوالے کر دیا،” 58 سالہ ابلیوا نے کہا، اس نوجوان لڑکے کے بازوؤں کو جسے وہ اپنے ارد گرد صرف چند گھنٹوں سے جانتی تھی۔ گردن

    والد نے بتایا کہ بچوں کی یوکرینی ماں ان سے ملنے اور انہیں محفوظ مقام پر لے جانے کے لیے اٹلی سے جا رہی تھی۔ اس نے ابلیوا کو ماں کا موبائل نمبر دیا، اور موٹی جیکٹوں اور ٹوپیوں میں سردی سے لپٹے اپنے بچوں کو الوداع کہا۔یہی نہیں بلکہ رہائشی عمارتوں کو بھی اس حملے میں بھاری نقصان پہنچا ہے اور کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

  • جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    ٹوکیو: جاپان نے فیول سیل (کیمیائی انرجی کو بجلی میں بدلنے والے سیل) اور ریچارجیبل بیٹریز کی حامل ٹرین متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : جاپان ٹائمز کے مطابق ’Hybari‘ نامی ٹرین جے آر ایسٹ، ہٹاچی لمیٹڈ اور ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے مل کر تیار کی ہے۔ جے آر ایسٹ نے اس ہائبرِڈ ٹیکنالوجی کو عمومی استعمال کیلئے 2030 تک لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس دوران کمپنی ٹرین کی ٹیسٹنگ جے آر سورومی اور نامبو کے ریلوے لائن پر کرے گی۔

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین…

    ٹرین میں اسٹوریج ٹینک سے ہائی پریشر ہائیڈروجن کو ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کے تیار کردہ فیول سیل سسٹم میں پمپ کیا جاتا ہے جو ہوا میں آکسیجن سے کیمیائی رد عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرتا ہے اس کے بعد بجلی ان بیٹریوں کو بھیجی جاتی ہے جنہیں ٹرینوں کے انجنوں کے ذریعے لوکوموشن چلانے کے لیے ٹیپ کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    ٹیسٹ ٹرین کے لیے ترقیاتی لاگت، جو ہائیڈروجن کے فی چارج تقریباً 140 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے، کل تقریباً 4 بلین ڈالر ہے جے آر ایسٹ گروپ کے پاس مالی سال 2050 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو مؤثر طریقے سے صفر تک کم کرنے کا ہدف ہے اور امید ہے کہ HYBARI ٹیکنالوجی کے ساتھ اس کے ٹرین فلیٹ کی اوور ہال اس مقصد کو حاصل کرنے میں ان کی مدد کر سکتی ہے۔

    دنیا کے سب سے خوبصورت اور جدید ’میوزیم آف دی فیوچر‘ کا افتتاح

    ہم موجودہ ڈیزل ٹرینوں کو فیول سیل ہائبرڈ ٹرینوں سے تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں،” JR East کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کے سربراہ شوچی اویزومی نے کہا۔ Oizumi نے کہا کہ ٹیسٹ رن میں JR East کو آپریشنل اخراجات اور دیگر عوامل کا مطالعہ کرنے کی امید ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ممکنہ طور پر ہائبرڈ ٹرینوں کو کن لائنوں پر متعارف کرایا جائے گا۔

    عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

  • روس پر امریکی پابندیوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں،جاپان

    روس پر امریکی پابندیوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں،جاپان

    جاپانی وزیراعظم نے کہا کہ روسی اقدامات تسلیم نہیں کر سکتے اور اس کی مذمت کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : روس کی جانب سے یوکرین کی دو علاقوں کو آزاد ریاست تسلیم کیے جانے کے اعلان کے بعد سے یوکرین اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے جنگ کی صورت میں امریکا نے روس کو سخت پابندیوں کی دھمکی بھی دے رکھی ہے تاہم اب جاپان نے بھی امریکا کی حمایت کر دی ہے-

    جاپانی وزیراعظم فومیو کیشیدا کا کہنا ہے کہ روسی اقدامات تسلیم نہیں کر سکتے اور اس کی مذمت کرتے ہیں روس پر امریکی پابندیوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں، روسی اقدامات یوکرین کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری

    دوسری جانب یوکرین تنازعہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس جاری ہے، جہاں روسی سفیر کا کہنا ہے کہ مشرقی یوکرین میں فوجی مہم جوئی جاری ہے جس کی اجازت نہیں دےسکتے، خطے میں نئی خونریزی نہیں ہونے دیں گے، بہتری کے لیے کوشش کریں گے، مغربی طاقتیں سوچیں اور یوکرین کے حالات کو مزید خراب نہ کریں یوکرین کی صورتحال پر سلامتی کونسل کی جانب سے اہم فیصلے کیے جاسکتے ہیں ہنگامی اجلاس امریکہ،برطانیہ اور فرانس کے مطالبےپرطلب کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ سلامتی کونسل کی صدارت روس کے پاس ہے –

    واضح رہے کہروسی صدر ولادیمیر پوٹن نے مشرقی یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے انتظامی آرڈر پر دستخط کردیے ہیں یو این سیکریٹری جنرل نے روسی فیصلے کو یوکرین کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دینے پر غور شروع کر دیا ہے انتونیو گوتریس کی جانب سے روسی اقدام کو یو این چارٹر کے اصولوں سے متصادم قرار دینے کا امکان ہے۔

    روس یو کرین تنازع: پوٹن کے خطاب کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ

    روسی ہم منصب کے فیصلے کے ردعمل میں امریکی صدر جو بائیڈن نے مشرقی یوکرین میں باغیوں سے زیر کنٹرول علاقوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کر دی ہےصدارتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ ان علاقوں میں نئی سرمایہ کاری، تجارت اور امریکی شہریوں کی جانب سے مالی معاونت نہیں کی جائے گی اس حکم کے تحت ایسے افراد پر پابندی لگائی جائے گی جو یوکرین کے ان علاقوں میں کام کرتے ہیں۔

    نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نےروس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد آزاد ریاستوں ڈونیسک اور لوہانسک کو تسلیم کرنا قابل مذمت ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ روس کا قدم یوکرین کی خود مختاری ،سلامتی اور اس کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین کی بڑی خلاف ورزی ہوگی انہوں نے اسے ایک انتہائی سیاہ علامت قرار دیا ہے۔

  • جاپان کےسمندر میں آتش فشاں پھٹ گیا،امریکا میں سونامی کا خطرہ

    جاپان کےسمندر میں آتش فشاں پھٹ گیا،امریکا میں سونامی کا خطرہ

    واشنگٹن: جنوبی بحرالکاہل میں واقع ٹونگا جزائر کے قریب زیرِ سمندر آتش فشاں پھٹنے سے امریکا کے ویسٹ کوسٹ میں سونامی کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور کیلی فورنیا سمیت کئی ریاستوں میں ساحلی علاقوں کو بند کر دیا گیا ہے، سونامی کے باعث ٹونگا جزائر میں کئی عمارتیں ڈوب گئیں۔

    سونامی کی یہ لہریں بحر الکاہل میں زیرِ سمندر آتش فشاں پھٹنے سے پیدائی ہیں، جس سے آنے والے زلزلے کی شدت 7 اعشاریہ 4 نوٹ کی گئی۔

    آتش فشاں پھٹنے کا منظر خلاء سے بھی دیکھا جا سکتا تھا، سیٹیلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تقریباً 5 کلومیٹر چوڑے علاقے پر پھیلی راکھ کا غبار فضا میں 17 کلو میٹر تک بلند ہو رہا ہے جس کے بعد سونامی وارننگ جاری کر دی گئی۔

    آتش فشاں پھٹنے کے بعد 20 فٹ بلند لہریں ٹونگا جزائر کی جانب بڑھنا شروع ہوئیں، جنہوں نے کئی عمارتوں اور رہائشی مکانات کو ڈبو دیا، سڑکوں پر اب بھی کئی فٹ تک پانی جمع ہے۔

     

     

    کیلی فورنیا میں سب سے زیادہ بلند لہریں پورٹ سین لوئی سے ٹکرائیں جو 4 فٹ 3 انچ تک بلند تھیں۔ اس صورتِ حال کے بعد ریاست کیلی فورنیا میں اورنج کاؤنٹی کے تمام ساحلی مقامات بند کر دیے گئے

    جبکہ بے ایریا تک کئی دیگر مقامات پر بھی لوگوں کو ساحل پر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ 1 سے 4 فٹ تک بلند لہروں سے لوگوں کی جانوں کو خطرات کے سبب یہ اقدام احتیاطی طور پر اٹھایا گیا ہے، بعض مقامات سے لوگوں کو انخلاء کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

    ہوائی میں بھی ایسی ہی صورتِ حال پیش آئی ہے جہاں 3 فٹ تک کی لہریں ساحلی علاقوں سے ٹکرائی ہیں، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔