Baaghi TV

Tag: جنوبی کوریا

  • مارشل لا لگانے پر جنوبی کوریاکے سابق صدر کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    مارشل لا لگانے پر جنوبی کوریاکے سابق صدر کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    سئیول: پراسیکیوٹرز نے جنوبی کوریا کےسابق صدر یون سوک یول کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    استغاثہ نے عدالت سے کہا ہے کہ اگر یون سوک یول کو دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش پر قصوروار قرار دیا گیا تو انہیں سزائے موت دی جائے یا کم از کم عمر قید سنائی جائےسیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے یون سوک یول کو بغاوت کا سر غنہ قرار دیا۔

    استغاثہ کے مطابق سابق صدر کا اقدام اگرچہ چند گھنٹوں میں ناکام ہو گیا، مگر اس نے پورے ملک کو شدید سیاسی بحران سے دوچار کر دیامارشل لا کے نفاذ کی کوشش کے بعد پارلیمنٹ نے یون کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے مقدمے کا سامنا کرایا گیا۔

    ملتان سلطانز کی نیلامی ،پی سی بی نے باقاعدہ اشتہار جاری کر دیا

    پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ اس اقدام کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن سابق صدر کے عزائم انتہائی خطرناک اور پُرتشدد نوعیت کے تھے،یون سوک یول طاقت کے نشے میں مبتلا ہو کر آمریت اور طویل المدتی اقتدار کے خواہاں تھے فوجی کمانڈر نے گواہی دی ہے کہ یون نے ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔

    استغاثہ نے بطور ثبوت ایک خفیہ میمو بھی پیش کیا، جس میں صحافیوں، مزدور رہنماؤں اور سیاستدانوں سمیت سینکڑوں افراد کو ٹھکانے لگانے کی تجویز درج تھی، اس بغاوت کا سب سے بڑا نقصان خود جنوبی کوریا کے عوام کو پہنچا، اس لیے کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔

    بارش برسانے والا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا

    یون سوک یول نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بطور صدر انہیں مارشل لا نافذ کرنے کا آئینی اختیار حاصل تھا اور یہ اقدام اپوزیشن کی مبینہ سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کیا گیا۔

    عدالت کی جانب سے اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ فروری میں سنائے جانے کا امکان ہے تاہم جنوبی کوریا میں گزشتہ تقریباً 30 برس سے سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوا جس کے باعث فیصلہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    قلات میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن ، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

  • شمالی کوریا کا جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام

    شمالی کوریا کا جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام

    شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کیا ہے-

    شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوری کے اوائل میں جنوبی کوریا نے ایک اور جاسوس ڈرون شمالی کوریا کی فضائی حدود میں بھیجا، جسے شمالی فوج نے کیپونگ شہر کے قریب مار گرایا جنوبی کوریا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی KCNA کے مطابق فوج نے ڈرون کو شمال کی جانب جاتے ہوئے دیکھا اور بعد میں اسے تباہ کردیا ڈرون میں نگرانی کا سامان نصب تھا اور تباہ شدہ ڈرون کے تجزیے سے پتہ چلا کہ اس نے شمالی کوریا کے اہم علاقوں اور سرحدی حدود کی ویڈیوز محفوظ کی تھیں۔

    پشاور 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی

    جنوبی کوریا نے کہا کہ اس کے پاس اس پرواز کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور وزیر دفاع آن گیو بیک کے مطابق ڈرون فوج کے ماڈل سے تعلق نہیں رکھتا ،صدر لی جے میونگ کے دفتر نے بتایا کہ معاملے پر قومی سلامتی کی میٹنگ بلائی جائے گی اور مشترکہ فوجی-پولیس تحقیقات کی ہدایت دی گئی ہے، اگر ڈرون کو شہریوں نے چلایا تو یہ کوریا جزیرہ نما میں امن اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    ایمریٹس ائیر لائن نے کرایوں میں کمی کردی

  • شمالی کوریا کا  اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کا اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نےطویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائل کی تجرباتی لانچ کا معائنہ کیا۔

    شمالی کوریا کی خبررساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے میزائلوں کے اپنے مقررہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو مختلف سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور ایسے میں جوہری دفاعی نظام کی صلاحیت کو باقاعدگی سے جانچنا ایک ضروری عمل ہےانہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ شمالی کوریا اپنی جوہری جنگی صلاحیت میں مزید بہتری کے لیے تمام تر کوششیں جاری رکھے گا۔

    رونالڈو مسلسل تیسری بار مشرق وسطیٰ کے بہترین فٹبالر قرار

    دوسری جانب جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ اتوار کی صبح تقریباً 8 بجے پیانگ یانگ کے قریب سونان کے علاقے سے متعدد کروز میزائلوں کی لانچ کا پتا چلا اور جنوبی کوریا کی فوج انہیں مسلسل ٹریک کرتی رہی۔

    سال 2025 میں 2196 بڑے سائبر کرائم کیسز کی تحقیقات مکمل کی گئیں

  • جنوبی کوریا :جیجو ایئر کے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں شواہد سامنے آگئے

    جنوبی کوریا :جیجو ایئر کے طیارہ حادثے کی تحقیقات میں شواہد سامنے آگئے

    جنوبی کوریا میں دسمبر 2024 میں پیش آنے والے جیجو ایئر کے مہلک طیارہ حادثے کی تحقیقات میں شواہد سامنے آئے ہیں-

    روئٹرز کو تحقیقات سے واقف ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ کاک پٹ وائس ریکارڈر، کمپیوٹر ڈیٹا اور حادثے کی جگہ سے ملنے والے انجن سوئچ سمیت شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پائلٹس نے دائیں انجن کے بجائے بائیں (کم متاثرہ) انجن کو بند کیا، جو لینڈنگ سے قبل پرندے سے ٹکر کے بعد کیے گئے ہنگامی اقدامات کا حصہ تھا۔

    ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ تحقیقاتی حکام کے پاس ٹھوس شواہد اور بیک اپ ڈیٹا موجود ہے، اس لیے اس نتیجے میں تبدیلی کا امکان نہیں‘، تاحال اس حوالے سے کوئی سرکاری رپورٹ جاری نہیں کی گئی ہےایک حکومتی ذریعے کے مطابق طیارے سے برآمد شدہ انجنوں کے معائنے سے معلوم ہوا کہ حادثے اور پرندے سے ٹکر سے پہلے انجنوں میں کوئی خرابی نہیں تھی۔

    یہ حادثہ 29 دسمبر کو جنوبی کوریا کے موآن ایئرپورٹ پر پیش آیا تھا، جب بینکاک سے آنے والا بوئنگ 737-800 طیارہ رن وے پر پھسلنے کے بعد بیرونی دیوار سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھا، اس حادثے میں 181 میں سے صرف 2 افراد زندہ بچے تھے اور یہ جنوبی کوریا کی سرزمین پر اب تک کا سب سے مہلک فضائی حادثہ ثابت ہوا۔

    مسلم لیگ ن کے حافظ عبدالکریم 243ووٹ لیکر سینیٹر منتخب

    بریفنگ میں موجود تیسرے ذریعے کے مطابق متاثرہ مسافروں کے اہلِ خانہ کو ہفتے کے روز دی گئی بریفنگ میں تحقیقاتی ٹیم نے بتایا کہ دائیں انجن پر پرندہ ٹکرانے سے شدید نقصان ہوا تھا، لیکن شواہد بتاتے ہیں کہ پائلٹس نے بائیں، یعنی کم متاثرہ انجن کو بند کیا جنوبی کوریا کے میڈیا اداروں ایم بی این اور یونہاپ نے بھی ہفتے اور اتوار کو اسی رپورٹ کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔

    حادثے کی تحقیقات کرنے والے ادارے، ایوی ایشن اینڈ ریلوے ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بورڈ (اے آر اے آئی بی) نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جبکہ بوئنگ نے تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے اے آر اے آئی بی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جبکہ انجن بنانے والی کمپنی سی ایم ایف انٹرنیشنل نے بھی فوری جواب نہیں دیا۔

    جیجو ایئر نے کہا ہے کہ وہ اے آر اے آئی بی کی تحقیقات میں مکمل تعاون کر رہا ہے اور سرکاری نتائج کا انتظار کر رہا ہے۔

    اپنے ملک کے سفارتکار بنیں ، شرمندگی نہ بنیں ، شاہد آفریدی

    متاثرین کے اہل خانہ اور جیجو ایئر کے پائلٹس یونین نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات میں اس بند کے کردار پر بھی توجہ دی جائے، جس کے بارے میں ماہرین نے کہا ہے کہ اس کی موجودگی سے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

    پائلٹس یونین نے اے آر اے آئی بی پر الزام لگایا ہے کہ وہ عوام کو گمراہ کر رہا ہے، کیونکہ دونوں انجنوں میں پرندے کی باقیات ملی تھیں اور صرف بائیں انجن کو درست قرار دینا تکنیکی طور پر بے بنیاد ہےحادثے کو محض پائلٹ کی غلطی قرار دینا قبل از وقت اور غیر سائنسی ہے، کیونکہ فضائی حادثات میں متعدد عوامل کردار ادا کرتے ہیں، اور اب تک کوئی ایسا ثبوت پیش نہیں کیا گیا جو یہ ثابت کرے کہ حادثہ صرف پائلٹس کی غلطی کی وجہ سے ہوا۔

    یونین نے الزام عائد کیا کہ تحقیقاتی ادارہ ’تنظیمی ذمہ داری‘ کے بارے میں خاموش ہےمتاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے ایک ادارے نے بیان میں کہا کہ مجوزہ پریس ریلیز میں بعض جملے ایسے تھے جن سے تاثر ملتا ہے کہ جیسے حتمی نتیجہ اخذ کر لیا گیا ہے، حالانکہ اب بھی تمام پہلوؤں کی وضاحت ضروری ہے۔

    کسی قاتل کے لیے کوئی ہمدردی نہیں،وزیراعلیٰ بلوچستان

    واضح رہے کہ جیجو ایئر کی پرواز ہنگامی لینڈنگ کرتے ہوئے موآن ایئرپورٹ کے رن وے سے آگے نکل گئی تھے اور مٹی کے ایک بند سے جا ٹکرائی جہاں نیوی گیشن کا سامان موجود تھا، اس سے آگ بھڑک اٹھی اور جزوی دھماکا بھی ہوا تھا۔

  • جنوبی کوریا کے سابق صدر دوسری بار گرفتار

    جنوبی کوریا کے سابق صدر دوسری بار گرفتار

    سئیول: جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کے نئے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے، جس کے بعد انہیں دوسری مرتبہ حراست میں لے لیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابقگزشتہ برس مارشل لاء کی ناکام کوشش پر سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ (Seoul Central District Court) کی عدالت نے سابق صدر یون سک یول کے خلاف وارنٹ گرفتاری آج جمعرات کے زور جاری کیے،جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ نے رپورٹ کیا کہ گزشتہ روز وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے دائر درخواست پر 7 گھنٹے طویل سماعت ہوئی، جس کے بعد انہیں عدالت کا فیصلہ آنے تک حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔

    یون سوک یول نے گزشتہ سال دسمبر میں اچانک مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، جس نے جنوبی کوریا کو ایک آئینی بحران میں مبتلا کر دیا تھا اس اقدام کو ملکی جمہوریت پر شدید حملہ قرار دیا گیا تھا، تاہم صرف چھ گھنٹوں بعد، جب اراکینِ پارلیمان نے عمارت میں داخل ہو کر متفقہ طور پر اس فیصلے کو روکا، تو یون نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا تھا،اپریل میں جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے یون کو عہدے سے برطرف کر دیا تھا، اور ان کے اقدام کو سنگین غداری قرار دیا تھا۔

    ڈھاکا میں شیڈول اے سی سی میٹنگ پر بھارت کا اعتراض

    سیف کا تاجر پر تشدد کیس،گواہ ملائیکہ اروڑا کے وارنٹ منسوخ

    حماس کی غزہ میں جنگ بندی کے بدلے 10 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے کی پیشکش

  • طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    طلاق سے غصہ شخص نے چلتی ٹرین کو آگ لگا دی

    ایک شخص نے طلاق کے فیصلے پر غصے میں آ کر میٹرو ٹرین میں پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس سے ٹرین میں بھگدڑ مچ گئی اور چھ افراد زخمی ہو گئے۔

    یہ افسوسناک واقعہ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل میں پیش آیا،67 سالہ ملزم جس کی شناخت ”وون“ کے نام سے ہوئی ہے، اس پر الزام ہے کہ اس نے 31 مئی کو صبح کے اوقات میں چلتی ٹرین میں آگ لگا کر مسافروں کی جان خطرے میں ڈالی، واقعے کی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ سفید ٹوپی پہنے شخص نے مصروف میٹرو کوچ میں اچانک فرش پر پٹرول چھڑک دیا جس سے مسافروں میں کھلبلی مچ گئی۔

    جیسے ہی پٹرول زمین پر پھیلا مسافر گھبرا کر بھاگنے لگے۔ ایک خاتون جلدی میں پھسل کر گر گئیں اور اس کے جوتے وہیں رہ گئے۔ چند لمحوں بعد مذکورہ شخص کو گھٹنے ٹیک کر آگ لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

    ملزم کو گرفتار کر کے اس پر قتل کی کوشش اور آتشزدگی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے پولیس کے مطابق وون نے تفتیش میں بتایا کہ وہ طلاق کے فیصلے سے شدید دلبرداشتہ تھا اور اس نے کئی ہفتے قبل ہی پٹرول خرید لیا تھاابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس کی سابقہ بیوی بھی ٹرین میں موجود تھی یا نہیں۔

    استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس فعل کے ذریعے نہ صرف آگ بھڑکائی گئی بلکہ زہریلی گیسوں کے اخراج سے مسافروں کی جانیں بھی خطرے میں پڑ گئیں جو ایک دہشت گردی کے مترادف جرم ہے۔ اگر انخلاء میں دیر ہو جاتی تو جانی نقصان بہت زیادہ ہو سکتا تھا،حکام کے مطابق چھ افراد زخمی ہوئے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کو جلنے کی چوٹیں آئیں یا نہیں۔

  • جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات، لی جے میونگ نے میدان مار لیا

    جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات، لی جے میونگ نے میدان مار لیا

    سیئول: 2025 کے جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات میں لی جے میونگ (Lee Jae-myung) نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے کامیابی حاصل کی۔

    لی جے میونگ نے 49.42 فیصد ووٹ حاصل کیے (یعنی 17,287,513 ووٹ)، جبکہ ان کے حریف کِم مون سو (Kim Moon-soo) جو پیپلز پاور پارٹی (People Power Party) سے تعلق رکھتے ہیں، نے 41.15 فیصد ووٹ حاصل کیے (یعنی 14,395,639 ووٹ)۔

    تیسرے نمبر پر ریفارم پارٹی (Reform Party) کے لی جون سُک (Lee Jun-seok) آئے، جنہوں نے 8.34 فیصد ووٹ حاصل کیے (یعنی 2,917,523 ووٹ)۔

    یہ انتخابات اُس وقت کرائے گئے جب سابق صدر یون سُک یول (Yoon Suk-yeol) کو مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کے بعد معزول کر دیا گیا ان کے مواخذے اور برطرفی کے بعد قبل از وقت صدارتی انتخاب کی ضرورت پیش آئی،لی جے میونگ کی فتح جنوبی کوریا کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ہے، کیونکہ اب ان کی ڈیموکریٹک پارٹی پارلیمان اور صدارت دونوں پر کنٹرول رکھتی ہے اس سے ان کے لیے اپنی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنا آسان ہو جائے گا۔

    لی جے میونگ ایک سابق انسانی حقوق کے وکیل اور مزدوروں کے حامی کارکن رہ چکے ہیں انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ جمہوری اقدار کی بحالی، معاشی مسائل کے حل اور بین الاقوامی تعلقات میں توازن قائم کریں گے۔

  • جنوبی کوریا میں قبل از وقت صدارتی انتخاب کا اعلان

    جنوبی کوریا میں قبل از وقت صدارتی انتخاب کا اعلان

    سیئول: جنوبی کوریا میں قبل از وقت صدارتی انتخاب کا اعلان کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا میں صدر یون سک یول کی معزولی کے بعد 3 جون 2025 کو قبل از وقت صدارتی انتخابات منعقد کیے جائیں گے یہ فیصلہ قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے باضابطہ اعلان کے ذریعے کیا جنوبی کوریا کے آئین کے مطابق، اگر صدر کا عہدہ خالی ہو جائے تو 60 دن کے اندر انتخابات کرانا لازمی ہوتا ہے۔

    اس وقت ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما لی جے میونگ سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں، حالانکہ ان پر کچھ قانونی مقدمات زیرِ التوا ہیں حالیہ گیلپ کوریا پول کے مطابق، لی کو 34 فیصد عوامی حمایت حاصل ہے، جو دیگر قدامت پسند امیدواروں سے کہیں زیادہ ہے۔

    پنجاب میں شدید گرمی کی پیشگوئی،پی ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    صدارتی امیدواروں میں سابق لیبر منسٹر کم مون سو اور رکن پارلیمان اہن چول سو بھی شامل ہیں اَہن نے صدر یون کے خلاف مواخذے کی حمایت کی تھی اور وعدہ کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے معیشت کو ترقی دیں گے تا کہ صدر ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں سے پیدا شدہ مشکلات سے نمٹا جا سکے۔

    نومئی کتنا نقصان ہوا،رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

    واضح رہے کہ صدر یون نے دسمبر میں مختصر وقت کے لیے مارشل لا نافذ کیا تھا اور قومی اسمبلی میں فوج تعینات کی تھی، جس پر شدید عوامی غصے اور تنقید کے بعد انہیں آئینی عدالت نے متفقہ طور پر معزول کر دیا تھا صدر یون نے چند گھنٹوں بعد ہی مارشل لا واپس لے لیا تھا، مگر ان کا اقدام ماضی کے آمرانہ ادوار کی یاد دلاتا ہے، جس سے ملک میں سیاسی بحران مزید گہرا ہوگیا۔

    شمالی وزیرستان سے بھی تیل ،گیس کے ذخائر نکل آئے

  • جنوبی کوریا کے برطرف وزیراعظم بحال،دوبارہ بطور قائم مقام صدر ذمہ داریاں سنبھالیں گے

    جنوبی کوریا کے برطرف وزیراعظم بحال،دوبارہ بطور قائم مقام صدر ذمہ داریاں سنبھالیں گے

    سیئول: جنوبی کوریا کی آئینی عدالت نے وزیرِاعظم ہان ڈک سو کے عہدے سے برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد وہ بطور قائم مقام صدر دوبارہ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

    باغی ٹی وی: عدالت نے 7-1 کے فیصلے میں ان کا امیچمنٹ مسترد کر دیا، جس کے بعد سیاسی بحران میں نیا موڑ آ گیا ہے یہ بحران اس وقت شروع ہوا جب صدر یون سک یول کو دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کے باعث معطل کر دیا گیا یون کے مواخذے کے بعد ہان کو قائم مقام صدر مقرر کیا گیا تھا، مگر جلد ہی انہیں بھی معطل کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے آئینی عدالت کے تین نئے ججوں کی تعینا تی سے انکار کر دیا تھا۔

    عدالت کے فیصلے کے مطابق، مواخذے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کی جا سکی، جس کے باعث برطرفی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا گیافیصلے کے بعد ہان ڈک سو نے عدلیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، "یہ وقت تقسیم کا نہیں بلکہ اتحاد کا ہے، ہمیں ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔”

    مریم نواز کا جناح ہسپتال کا دورہ،ایم ایس کو معطل کرنے ، پرنسپل کو عہدہ چھوڑنے کی ہدایت

    دوسری جانب صدر یون سک یول کے مواخذے کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے اگر ان کا مواخذہ برقرار رہتا ہے، تو ملک میں 60 دن کے اندر نئے صدارتی انتخابات کرانے ہوں گےجبکہ یون پر مارشل لا کے نفاذ سے متعلق بغاوت کے الزامات بھی ہیں، جن میں انہیں عمر قید یا سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    اسرائیل کے غزہ کے ہسپتالوں پر حملے درندگی کی انتہا ہے۔سیف اللہ قصوری

  • جنوبی کوریا کے سابق صدر کو رہائی مل گئی

    جنوبی کوریا کے سابق صدر کو رہائی مل گئی

    سئیول: جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سوک یول کو رہا کردیا گیا، حراست مرکز کے باہر ہزاروں حامیوں نے ان کا استقبال کیا۔

    باغی ٹی وی : خبر ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کے صدر یون سوک یول کو ملک میں مارشل لاء لگانے کی پاداش میں گرفتار کیا گیا تھا، عدالت نے گزشتہ روز سابق صدر کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کردیئے تھے جنوبی کوریا کے پراسیکیوٹر نے عدالتی حکم کی روشنی میں سابق صدر یون سوک یول کو رہا کردیا، وہ خود چل کر حراستی مرکز سے باہر آئے، جہاں ہزاروں حامیوں نے سابق صدر کا استقبال کیا۔

    واضح رہے کہ یون سک یول 15 جنوری سے زیر حراست تھے عدالت نے گزشتہ روز ان کے وارنٹِ گرفتاری منسوخ کر دیے تھے، تاہم وارنٹِ گرفتاری منسوخ کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا پراسیکیوٹرز کی جانب سے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کیے جانے کے امکان کے تحت انہیں رہا نہیں کیا گیا تھا۔

    امریکا کا اپنے شہریوں کو پاکستان کے غیرضروری سفر سے اجتناب کرنےکی کی ہدایت

    جیل میں بیٹھ کر ریلیف مانگنے والوں نے قوم کے بچوں کا دماغ خراب کیا،عطا تارڑ

    ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کا انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، تین خوارجی ہلاک