Baaghi TV

Tag: جنوبی کوریا

  • جنوبی کوریا :اسکول میں    ٹیچر نے 8 سالہ بچی کو چاقو سے قتل کر دیا

    جنوبی کوریا :اسکول میں ٹیچر نے 8 سالہ بچی کو چاقو سے قتل کر دیا

    سئیول: جنوبی کوریا کے ایک سکول میں ٹیچر نے 8 سالہ بچی کو چاقو مار کر قتل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعہ جنوبی کوریا کے شہر ڈائجیون میں پیش آیا جہاں ایک خاتون اسکول ٹیچر نے 8 سالہ طالبہ کو قتل کردیا، 8 سالہ بچی اسکول کا وقت ختم ہونے کے بعد نجی آرٹ کی کلاس لینے کے لیے وہیں ٹھہری تھی۔

    رپورٹ کے مطا بق اسکول کے عملے کے ایک رکن نے بتایا بچی والدین اسے آرٹ کی کلاس میں نہیں ڈھونڈ سکے، جس کے بعد والدین نے بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع پولیس کو دی بچی کی دادی نے شام 6 بچے اپنی پوتی کو ڈھونڈ نکالا۔

    افغانستان :بینک کے باہر خودکش دھماکہ، 17 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی

    پولیس کو تحقیقات کے دوران تاحال حملے کا مقصد معلوم نہیں چل سکا جبکہ استاد اور متاثرہ کے درمیان کوئی ذاتی تعلق بھی نہیں پایا گیا ٹیچر نے بچی کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا ہے جو خودساختہ زخموں کے باعث اسپتال میں زیر علاج ہے۔

    روزے اور الزائمر کی بیماری کے درمیان ایک اہم تعلق دریافت

    دوسری جانب کراچی میں جوڈیشل مجسٹریٹ غربی نے شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ سے بچی کی ہلاکت کے مقدمے میں ملزم پولیس کانسٹیبل دلہا کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    جوڈیشل مجسٹریٹ غربی کے روبرو شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ سے بچی کی ہلاکت کے مقدمے میں پولیس نے ملزم آفتاب کو عدالت میں پیش کیا تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم دُلہا آفتاب خود پولیس کانسٹیبل ہے مقدمے میں کچھ اور ملزمان مفرور ہیں ملزمان کی فائرنگ سے اپنے اپارٹمنٹ کی چھت پر کھڑی ڈھائی سال کی بچی جان کی بازی ہار گئی تھی عدالت نے ملزم کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    افغانستان :بینک کے باہر خودکش دھماکہ، 17 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی

    پولیس کے مطابق ملزمان کیخلاف اقدام قتل کے تحت تھانہ ڈاکس میں مقدمہ درج ہوا تھا مقتول بچی کو گولی اڑتی ہوئی بغدادی پولیس اسٹیشن کی حدود میں لگی ملزم دلہا اور ساتھی ڈاکس تھانے کے ساتھ پولیس کوارٹر میں فائرنگ کرتے رہے۔

  • جنوبی کوریا : ہانگ کانگ روانگی کی تیاری کے دوران طیارے میں آگ بھڑک اٹھی

    جنوبی کوریا : ہانگ کانگ روانگی کی تیاری کے دوران طیارے میں آگ بھڑک اٹھی

    سئیول: جنوبی کوریا کی فضائی کمپنی ایئر بسان کے طیارے میں ہانگ کانگ کے لیے روانگی کی تیاری کے دوران آگ بھڑک اٹھی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کے شہر بوسان کے گیمہائی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایئر بوسان کی پرواز بی ایکس 391 کے ایئر بس اے 321 مسافر طیارے کے پچھلے حصے میں اچانک آگ لگ گئی، ایئر بسان کے حکام نے بتایا کہ تمام 169 مسافر وں اور عملے کے 7 ارکان کو بحفاظت نکال لیا گیا، آتشزدگی سے 3 معمولی زخمی ہوئے ہیں رات ساڑھے 10 بجے طیارے میں آگ لگی، ایئرپورٹ پر فائر سروس کو آتشزدگی کے بارے میں الرٹ کر دیا گیا تھا۔

    پیکا ایکٹ، صدر مملکت نے دستخط کر دیئے

    جنوبی کوریا کی نیوز ایجنسی کی رپورٹس کے مطابق آگ طیارے کی دم سے شروع ہوئی، بعد ازاں فوٹیج میں جلے ہوئے سوراخوں کو بھی دکھایا گیا ایئر بوسان جنوبی کوریا کی ایشیانا ایئر لائنز کا حصہ ہے، جسے دسمبر میں کورین ایئر نے خریدا تھا، طیارہ ساز ایئربس نے کہا کہ وہ واقعہ سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہے اور ایئر بسان سے رابطہ کر رہے ہیں۔

    عدالتوں کو ہی انصاف کی فراہمی کا واحد ذمہ دار نہیں سمجھنا چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ

    واضح رہے کہ گزشتہ سال29 دسمبر کو بھی جنوبی کوریا میں مسافر طیارہ لینڈنگ گیئر نہ کھلنے کے باعث رن وے پر پھسلنے کے بعد موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی دیوار سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا تھا، حادثے میں 176 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوگئی اور عملے کے 2 ارکان کو بچا لیا گیا تھاحادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح 9 بجے کے بعد اس وقت پیش آیا، جب جیجو ایئر کی پرواز 7 سی 2216 تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے عملے کے 6 ارکان سمیت 181 افراد کو لے کر ملک کے جنوب میں واقع موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈنگ کر رہی تھی۔

    ملک بھر میں انسداد اسمگلنگ آپریشنز جاری، کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد

  • بغاوت کا الزام ، جنوبی کوریا کے سابق صدر پر فرد جرم عائد

    بغاوت کا الزام ، جنوبی کوریا کے سابق صدر پر فرد جرم عائد

    سئیول: جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول پر بغاوت کے الزام میں فرد جرم عائد کر دی گئی –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق جنوبی کوریا کے پراسیکیوٹرز نے سابق صدر یون سک یول پر فرد جرم عائد کی، گزشتہ ہفتے اینٹی کرپشن نے فرد جرم عائد کرنےکی سفارش کی تھی۔

    جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول نے 3 دسمبر کو ملک میں مختصر مارشل لاء لگایا تھا تاہم اپوزیشن جماعتوں اور عوام کے شدید ردعمل کے باعث کچھ گھنٹوں بعد ہی مارشل لاء اٹھا لیا تھا۔

    جماعت اسلامی نے پیکا ایکٹ میں ترمیم کو مسترد کردیا

    بعد ازاں اپوزیشن کی جانب سے یون سک یول کے خلاف مواخذے کی تحریک لائی گئی تھی جو پہلی مرتبہ ناکام رہی تاہم دوسری بار اپوزیشن پارلیمنٹ سے تحریک منظور کروانے میں کامیاب رہی تھی۔

    جنوبی کوریا کے تحقیقاتی اداروں نے یون سک یول کے خلاف بغاوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی تحقیقات شروع کر رکھی تھیں ، سابق صدر کو چند روز قبل گرفتار کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ ہفتے اینٹی کرپشن نے فرد جرم عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔

    مافیا کی مفت بجلی، عوام پر بوجھ، ذمہ دار کون؟

  • جنوبی کوریا: معطل صدر کی حراست میں توسیع ، حامیوں نے عدالت پر دھاوا بول دیا

    جنوبی کوریا: معطل صدر کی حراست میں توسیع ، حامیوں نے عدالت پر دھاوا بول دیا

    سیئول: جنوبی کوریا کے معطل صدر یون سک یول کی حراست میں توسیع دیے جانے پر حامیوں نے عدالت پر دھاوا بول دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا کی عدالت کی جانب سے مارشل لا لگانے کی کوشش پر معطل صدر یون سک یول کی حراست میں مزید 20 دن کی توسیع دیئے جانے کے بعد ان کے حامیوں نے عدالت پر دھاوا بولا دیا، معطل صدر کے مشتعل حامیوں کی جانب سے عدالتی بلڈنگ کے دروازوں اور کھڑیوں کو توڑا گیا جب کہ فرنیچر کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

    پولیس کے مطابق عدالت پر حملے کے الزام میں 40 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اس دوران 40 لوگوں کو معمولی زخم بھی آئے جنہیں طبی امداد دی گئی ہے۔

    پہلا مرحلہ عارضی،دوسرا مرحلہ بے نتیجہ رہا تو جنگ کا دوبارہ آغاز کریں گے،نیتن یاہو

    ملک میں مارشل لا لگانے پر معطل صدر یون سک کو 4 دن قبل تحقیقات کے لیے حراست میں لیا گیا تھا تفتیش کار ایک ہزار کےقریب اہلکاروں کے ساتھ صدارتی محل پہنچے تاہم تفتیش کاروں کے پہنچنے پر پہلے تو صدارتی گارڈز اور حامیوں نے مزاحمت کی اور انہیں گرفتاری سے روکا تاہم بعد ازاں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

    قابض افواج کبھی بھی ہمارے عوام اور مزاحمت کو شکست نہیں دے سکتی،ڈاکٹر خلیل الحیہ

    جبکہ اس سے قبل یون سک یول کے حامی ان کی گرفتاری میں بھی رکاوٹ بنے ہوئے تھے، یون کی حکمران جماعت پیپلز پاورپارٹی کے 30 قانون ساز بھی صدارتی محل کے باہرپہنچ گئے تھے،اس سے قبل سرچ اورگرفتاری کے وارنٹ دکھانے کے باوجود تفتیش کاروں کو گرفتاری سے روکا گیا تھا کرپشن انوسٹی گیشن آفس کا کہنا تھا کہ وارنٹ کی تعمیل سے روکنے والوں کو حراست میں لیا جائےگا۔

    غزہ معاہدہ : 6ہفتوں کی جنگ بندی پر عمل درآمد 3 مراحل میں کیا جائے گا،قطری وزیر اعظم

    واضح رہے 3 دسمبر کو مختصر مدت کے لیے مارشل لاء لگانے پر صدر یون کے مواخذے کے بعد آئینی عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہے۔

  • پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط

    پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط

    اسلام آباد: جنوبی کوریا کے وزیر تجارت انکیو چیونگ کی جانب سے کوریا کی صنعتی بنیاد پاکستان منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے کوششیں کر رہی ہے،ایس آئی ایف سی کی کوششوں سے جہاں ملکی معیشت مضبوط ہو رہی ہے وہاں بین الاقوامی فورم کے ساتھ تجارتی رابطے بھی بڑھ رہے ہیں۔

    اس سلسلے میں پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان اقتصادی شراکت داری کے معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں ایک نئے باب کی نشاندہی کرتے ہیں جنوبی کوریا کے وزیر تجارت انکیو چیونگ نے کوریا کے صنعتی اڈے کو پاکستان منتقل کرنے کا منصوبہ پیش کیا،معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور دیرینہ سفارتی تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا عکاس ہے۔

    مانچسٹر میں گرومنگ گینگ میں ملوث 3 پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کو سزا

    پاکستان کی سستی لیبر، آزاد سرمایہ کاری پالیسیوں اور ترقی پذیر ممالک سے قربت کے باعث شراکت داری کے بےپناہ امکانات ہیں، جنوبی کوریا کے وزیر تجارت نے دونوں ممالک کے درمیان نجی شعبے کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تجارتی وفد پاکستان بھیجنے کی خواہش کا اظہار کیا، اس سے خوراک، آئی ٹی، معدنیات، ٹیکسٹائل اور لاجسٹکس جیسے متعدد شعبوں میں نئے تعاون کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    عمران خان کو سزا سے پاکستان سےٹرمپ انتظامیہ کا تصادم کا امکان بڑھ گیا، برطانوی اخبار

    وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے پاکستان اور جنوبی کوریا کے درمیان سالانہ تجارت میں 1.3 بلین ڈالر کے امکانات کو اجاگر کیا ہے. انہوں نے پاکستانی کاروباروں کی جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی سے سیکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے چھ گھنٹے بعد دکان سے ہیڈ فون خریدا

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس”  میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے حکام نے کہا ہے کہ حادثے کے شکار مسافر بردار طیارے کے فلائٹ ریکارڈرز اس وقت کام کرنا بند کر چکے تھے جب طیارہ موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے پر زمین سے ٹکرا کر پھٹ گیا۔ اس حادثے میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    جنوبی کوریا کے حکام، جو اس ملک کے گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک ہوائی حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں، یہ امید کر رہے تھے کہ "بلیک باکسز” سے ملنے والی معلومات یہ وضاحت فراہم کریں گی کہ 29 دسمبر کو بنکاک سے روانہ ہونے والی جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 موان ایئرپورٹ پر زمین سے کس طرح ٹکرا گئی تھی اور آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔اس حادثے میں 179 مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہوئے، جبکہ دو افراد زندہ بچ گئے تھے۔تاہم جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے ہفتہ کے روز کہا کہ بوئنگ 737-800 کے کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR) تقریباً چار منٹ قبل کام کرنا بند کر چکے تھے۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ڈیوائسز ریکارڈنگ کیوں روک چکے تھے اور وزارت اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا، "CVR اور FDR ڈیٹا حادثے کی تحقیقات کے لیے اہم ہیں، لیکن حادثے کی تحقیقات مختلف ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے کی جاتی ہیں، اس لیے ہم حادثے کے اصل سبب کی درست شناخت کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔”کاک پٹ وائس ریکارڈر کو ابتدائی طور پر مقامی سطح پر تجزیہ کیا گیا اور بعد میں اسے امریکہ بھیجا گیا تاکہ اس کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ وزارت نے بتایا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، جو نقصان پہنچا ہوا تھا اور اس میں کنیکٹر غائب تھا، گزشتہ ہفتے تجزیے کے لیے امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ بھیجا گیا، کیونکہ جنوبی کوریا کے حکام نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس ڈیوائس سے ڈیٹا نکالنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    یہ حادثہ 1997 کے بعد جنوبی کوریا کا سب سے مہلک فضائی حادثہ ہے، جب کورین ایئر لائنز کا بوئنگ 747 گوام کے جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 228 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    اب تک حادثے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات میں کئی ماہ لگنے کی توقع ہے۔حادثے کی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ جب طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کر رہا تھا تو نہ پیچھے کا لینڈنگ گیئر نظر آ رہا تھا اور نہ ہی سامنے کا۔ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے پائلٹ نے میڈے کال کی اور "پرندے کا ٹکراؤ” اور "گھومنا” جیسے الفاظ استعمال کیے، حکام کا کہنا ہے کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو علاقے میں پرندوں کی موجودگی سے آگاہ کیا تھا۔ فضائی ماہرین کے مطابق بہت سے ایئرپورٹس پر رن وے کے قریب اس طرح کی تعمیرات نہیں پائی جاتیں۔جنوبی کوریا کی پولیس نے گزشتہ ہفتے جیجو ایئر کے دفتر اور موان ایئرپورٹ کے آپریٹر پر چھاپے مارے تھے اور تحقیقات کے سلسلے میں یہ کارروائیاں کی تھیں،

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

  • جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا میں ایئرلائن جیجو ایئر کے مسافر طیارے کے حادثے کے بعد اس کے بلیک باکس کو تجزیے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔

    سیول کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بدھ کو یہ اعلان کیا گیا ہے کہ بلیک باکس کا تجزیہ امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کرے گا، جس میں جنوبی کوریا کے تفتیشی حکام بھی شریک ہوں گے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حادثے کے شکار افراد کے اہلِ خانہ سانحہ کی جگہ کا دورہ کرنے پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔یہ بلیک باکس بوئنگ 737-800 طیارے کا ایک حصہ ہے، جو اتوار کے روز جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس حادثے میں 181 افراد میں سے 179 افراد کی موت واقع ہوئی، جو جنوبی کوریا کا گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک فضائی حادثہ تھا۔

    جنوبی کوریا کی سول ایوی ایشن کے نائب وزیر جو جونگ وان نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلیک باکس حادثے میں نقصان کا شکار ہوچکا ہے، اور ملک میں اس کا ڈیٹا نکالنے کی صلاحیت نہیں ہے، لہٰذا یہ بلیک باکس تجزیے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیک باکس کے ساتھ ایک کنیکٹر بھی غائب ہے، جو مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اس بلیک باکس کا تجزیہ کرے گا اور اس میں جنوبی کوریا کے تفتیشی افسران بھی شامل ہوں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس تجزیے میں کتنی مدت لگے گی۔

    تفتیش کاروں نے طیارے کے دوسرے بلیک باکس، یعنی کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ابتدائی ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔ جو جونگ وان نے بتایا کہ اس ڈیٹا کو وائس فائلز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور یہ عمل دو دن میں مکمل ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بلیک باکسز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے اس حادثے کی وجہ کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والے 179 افراد کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے، تاہم ابھی تک صرف 11 لاشوں کو عارضی مردہ خانہ سے خاندانوں کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ وہ تدفین کی تیاری کر سکیں۔ اس دوران، متاثرہ خاندان اور عزیز و اقارب اتوار سے موان ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ بدھ کے روز، متاثرین کے عزیزوں کو بسوں کے ذریعے حادثے کی جگہ تک پہنچایا گیا تاکہ وہ وہاں جا کر اپنے پیاروں کے لیے دعائیں کریں۔

    فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کا حادثہ کس وجہ سے پیش آیا۔ تحقیقات میں ممکنہ وجوہات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں طیارے کا ممکنہ طور پر پرندوں سے ٹکرا جانا، لینڈنگ گیئر کا کام نہ کرنا، اور رن وے کے آخر میں موجود کنکریٹ کا بیرئیر شامل ہیں۔طیارے کے پائلٹ نے ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے مے ڈے کال جاری کی تھی اور پرندے کے ٹکرا جانے کی اطلاع دی تھی۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے نہ تو سامنے اور نہ ہی پیچھے کے لینڈنگ گیئر نظر آ رہے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طیارہ پیٹ کے بل زمین پر آیا تھا اور اس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

    جنوبی کوریا اور امریکہ کے 22 تفتیشی حکام اس حادثے کی مشترکہ تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ، نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اور طیارے کے موجد ادارے بوئنگ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    3 روز قبل جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر جیجو ائیر کا ایک طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں 179 افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم خوش قسمتی سے دو مسافربچ جانے میں کامیاب ہو گئے۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیجو ائیر کا طیارہ موان ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں کل 181 مسافر سوار تھے، جن میں سے صرف 2 مسافر زندہ بچ سکے۔ ان دونوں مسافروں کی شناخت 32 سالہ خاتون "لی” اور 25 سالہ "وون” کے طور پر کی گئی ہے۔ جیجو ائیر کے سی ای او نے میڈیا کو بتایا کہ طیارہ حادثے کی وجوہات ابھی تک غیر واضح ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں طیارے میں کسی قسم کی خرابی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ سی ای او نے مزید کہا کہ اس حادثے کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں تھا اور کمپنی اس سانحے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، دونوں زندہ بچ جانے والے مسافر طیارے کے "ایمپنیج” (دُم والے حصے) میں موجود تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طیارے کے اس حصے کو حادثے کے بعد زخمی حالت میں نکالا گیا تھا۔ دونوں متاثرین کو سر اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق، طیارے کے پچھلے حصے میں موجود مسافر اس لئے بچ گئے کیونکہ یہ حصہ حادثے کے دوران نسبتاً زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ 2015 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے ایک مطالعے میں جہاز کے دُم والے حصے کو کمرشل پروازوں کے لئے محفوظ ترین حصہ قرار دیا تھا۔ اس مطالعے کے مطابق، طیارہ حادثے میں جہاز کی پچھلی نشستوں پر اموات کی شرح 32 فیصد، وسطی نشستوں پر 39 فیصد اور سامنے کی نشستوں پر 38 فیصد رہتی ہے۔

    یہ حادثہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں 1997 کے بعد سے کسی بھی جنوبی کوریائی ائیر لائن کا بدترین حادثہ ہے۔ 1997 میں ہونے والے ایک اور طیارہ حادثے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو کہ اس علاقے کی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک سنگین حادثہ تھا۔

    قازقستان میں ہونے والے ایک اور فضائی حادثے کا موازنہ کیا جا سکتا ہے جس میں آذربائیجان کا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں بھی 38 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ 29 افراد زندہ بچ گئے تھے۔ زندہ بچ جانے والے افراد بھی طیارے کے پچھلے حصے میں موجود تھے۔

    جنوبی کوریا میں ہونے والے اس حادثے نے پورے خطے میں صدمے کی لہر دوڑ دی ہے۔ اگرچہ خوش قسمتی سے دو مسافر بچ گئے ہیں، تاہم اس سانحے میں 179 افراد کی ہلاکت نے پورے ملک کو غم میں ڈبو دیا ہے۔ حادثے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس کی وجوہات کو سامنے لایا جا سکے اور آئندہ کے لئے حفاظتی تدابیر میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

  • جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

    جنوبی کوریا کے نگران صدر چوہی سنگ موک نے پیر کے روز ملک کی تمام فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کرانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ تفتیش کار اس بدترین فضائی حادثے کے متاثرین کی شناخت کرنے اور اس کے سبب کا پتہ لگانے میں مصروف ہیں، جس میں ملک کی تاریخ کا سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔

    یہ حادثہ جےجو ایئر کی پرواز 7C2216 کے ساتھ پیش آیا، جو تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر لینڈ کر رہی تھی۔ جہاز ایک بویئنگ 737-800 تھا جو زمین پر اترتے وقت حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس حادثے میں 175 مسافر اور چھ میں سے چار عملے کے اراکین ہلاک ہو گئے، جبکہ دو عملے کے ارکان کو زندہ نکال لیا گیا۔پرواز 7C2216 جب موان ایئرپورٹ پر لینڈ کرنے کی کوشش کر رہی تھی، تو جہاز کا توازن برقرار نہ رہ سکا اور یہ رن وے کے آخر تک پھسلتے ہوئے ایک دیوار سے ٹکرا گیا۔ اس ٹکر سے جہاز میں زبردست آگ بھڑک اُٹھی۔ تحقیقاتی حکام مختلف عوامل کا جائزہ لے رہے ہیں جن میں پرندوں کے ٹکراؤ اور موسمی حالات شامل ہیں۔تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ایک اہم سوال یہ ہے کہ جہاز اتنی تیز رفتاری سے کیوں چل رہا تھا اور لینڈنگ کے دوران اس کا گیئر نیچے کیوں نہیں تھا۔

    جنوبی کوریا کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا جنوبی کوریا کی تمام فضائی کمپنیوں کے 101 بویئنگ 737-800 جہازوں کی خصوصی جانچ کی جائے یا نہیں۔ نگران صدر چوہی سنگ-موک نے اپنے بیان میں کہا کہ "حادثے کی تحقیقات کا عمل شفاف طریقے سے جاری رکھا جائے اور متاثرہ خاندانوں کو جلد اطلاع دی جائے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت ٹرانسپورٹ کو ہدایت دی گئی ہے کہ فضائی آپریشن سسٹم کی ہنگامی حفاظتی جانچ کی جائے تاکہ کسی بھی قسم کے فضائی حادثے کی روک تھام کی جا سکے۔

    مذکورہ حادثے کے وقت، طیارہ کے پائلٹس نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی تھی کہ جہاز پر پرندے کے ٹکراؤ کا سامنا ہوا ہے۔ ایئر ٹریفک کنٹرولر نے انہیں اس علاقے میں پرندوں کی موجودگی کے بارے میں آگاہ کیا تھا، اور پھر پائلٹس نے مے ڈے سگنل جاری کیا اور لینڈنگ کو منسوخ کرنے اور دوبارہ کوشش کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ تاہم، چند لمحوں بعد جہاز رن وے پر بلی لینڈنگ کرتے ہوئے اختتام پر موجود دیوار سے ٹکرا گیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں بیشتر وہ افراد شامل ہیں جو تھائی لینڈ سے تعطیلات کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، جن میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے۔ موان ایئرپورٹ پر لواحقین اپنے پیاروں کی شناخت کے لیے انتظار کر رہے ہیں۔ ایک متاثرہ خاندان کے رکن پارک ہن-شین نے بتایا کہ ان کے بھائی کی شناخت ہو گئی ہے لیکن وہ ابھی تک اس کا جسم نہیں دیکھ پائے۔حکام نے کہا کہ جہاز کا فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر مل گیا ہے لیکن اس پر کچھ بیرونی نقصان آیا ہے، جس کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ڈیٹا تحلیل کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔

    موان ایئرپورٹ تین دن کے لیے بند کر دیا گیا ہے، لیکن ملک کے دیگر ایئرپورٹس، بشمول انچیون انٹرنیشنل ایئرپورٹ، معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ عالمی ہوابازی کے ضوابط کے مطابق جنوبی کوریا اس حادثے کی سول تحقیقات کی قیادت کرے گا اور اس میں امریکہ کی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کو بھی شامل کیا جائے گا کیونکہ بویئنگ 737-800 جہاز کو امریکہ میں ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔اس حادثے کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس دل دہلا دینے والے حادثے کی کیا وجوہات تھیں اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے کیا حفاظتی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    جنوبی کوریا کے ایئرپورٹ پر سوگ اور دعاؤں کی گونج، فضائی حادثے میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ کی آہ و فغاں

    جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں واقع ایک ایئرپورٹ کی روانگی ہال میں اتوار کی صبح ہونے والے ایک فضائی حادثے کے بعد سوگ اور دعاؤں کی گونج سنائی دے رہی تھی۔ ماؤن کاؤنٹی کے موان ایئرپورٹ پر جہاز کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے اہل خانہ ان کے پیاروں کی شناخت کے لیے بے چین ہو کر انتظار کر رہے تھے۔

    اتوار کی صبح تقریباً 9 بجے مقامی وقت کے مطابق، جےجو ایئر کی ایک پرواز جو 175 مسافروں اور چھ عملے کے ارکان کو لے کر بنکاک سے موان جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں دو افراد کے علاوہ تمام مسافر اور عملہ ہلاک ہو گئے، جو جنوبی کوریا کے تقریباً تیس سالہ تاریخ کا سب سے مہلک فضائی حادثہ سمجھا جا رہا ہے۔موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے روانگی ہال میں متاثرہ خاندانوں کے افراد، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی تھی، سوگ میں ڈوبے ہوئے تھے اور ان کے درمیان فریاد، دعائیں اور آہیں سنائی دے رہی تھیں۔ طبی عملے نے 141لاشوں کی شناخت کا اعلان کیا، جبکہ باقی 28 لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹنگ کا عمل جاری ہے۔

    ایئرپورٹ کی معمول کی طور پر وسیع ایٹریئم میں کئی خاندان ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہو کر خاموشی سے دعائیں کر رہے تھے۔ کچھ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ گلے مل کر رو رہے تھے، جبکہ کئی بدحال رشتہ دار حکام سے مزید معلومات کی درخواست کر رہے تھے۔ ایئرپورٹ کے باہر پیلے رنگ کے خیمے لگے ہوئے تھے جہاں لوگ رات بھر رکے رہے تھے۔محققین اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آخرکار کیا وجہ تھی جس سے جےجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کو حادثہ پیش آیا۔ مقامی حکام نے پرواز کے دوران ایک ممکنہ پرندوں کے ٹکرا جانے کے امکان پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔

    اتوار کے روز حادثے کا جو ویڈیو فوٹیج نشر کیا گیا، اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بوئنگ 737-800 کے دونوں لینڈنگ گیئر مکمل طور پر کھلے ہوئے نہیں تھے۔ طیارہ اپنی پیٹ کے بل تیز رفتاری سے رگڑتا ہوا زمین پر گرا جس کے نتیجے میں دھماکہ ہوا اور آگ بھڑک اُٹھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لینڈنگ کے لیے استعمال ہونے والی انڈرکاریاج (یعنی وہ پہیے جو طیارے کو اڑنے اور لینڈ کرنے میں مدد دیتے ہیں) مکمل طور پر نہیں کھلے، جو کہ ایک نادر اور غیر معمولی واقعہ ہے۔ تاہم اس کی وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔

    مواصلاتی وزارت کے مطابق، حادثے کے مقام سے دو بلیک باکسز (فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور وائس ریکارڈر) بازیاب کر لیے گئے ہیں، لیکن فلائٹ ریکارڈر کو بیرونی نقصان پہنچا تھا جس کی وجہ سے اس کا مزید تجزیہ کرنے کے لیے سیول بھیجا گیا۔جنوبی کوریا کے عبوری صدر، چوی سانگ موک نے ملک بھر میں سات دن کے قومی سوگ کا اعلان کیا ہے اور فضائی حادثے کی تحقیقات کے لیے ایک جامع انکوائری کا آغاز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی پیش رفت کو عوام کے سامنے شفاف طریقے سے پیش کیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل طور پر آگاہ رکھا جائے گا۔حادثے کے فوراً بعد چوی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور اس سانحے کو ایک "خصوصی قدرتی آفت” قرار دیا، جب کہ انہوں نے جاں بحق افراد کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا۔

    حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 84 مرد، 85 خواتین اور 10 افراد ایسے تھے جن کی جنس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ جنوبی کوریا کی فائر سروس کے مطابق، حادثے میں دو افراد زندہ بچ گئے، جن میں ایک مرد اور ایک خاتون عملے کے رکن شامل ہیں۔ یہ دونوں افراد جاپان کے شہری تھے، باقی تمام مسافر جنوبی کوریا کے تھے۔حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں دو تھائی شہری بھی شامل تھے، جن کے بارے میں جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے بتایا۔ ان کے علاوہ، باقی تمام افراد جنوبی کوریا کے شہری تھے۔

    حادثے کے فوراً بعد جنوبی کوریا کے حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو ایک پرندوں کے ٹکرا جانے سے بچنے کے لیے سمت تبدیل کرنے کی ہدایت دی تھی، جس پر پائلٹ نے عمل کیا۔ تاہم، ایک منٹ بعد ہی پائلٹ نے ایمرجنسی کال کی اور تقریباً دو منٹ بعد لینڈنگ کی کوشش کی۔جنوبی کوریا کی وزارت نقل و حمل نے بتایا کہ پرواز کے کپتان نے 2019 سے اس عہدے پر کام کیا تھا اور ان کے پاس تقریباً 6,800 گھنٹے کی پرواز کا تجربہ تھا۔مجموعی طور پر، اس سانحے کے بعد جنوبی کوریا کے حکام نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر مختلف تحقیقاتی ادارے اس میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔

    موان میں ایک عوامی یادگاری یادگار قائم کی گئی ہے، جہاں لوگ پھول اور موم بتیاں رکھ کر جاں بحق افراد کی یاد میں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔یہ حادثہ ایک دل دہلا دینے والی سانحے کی صورت میں سامنے آیا ہے، جس نے پورے جنوبی کوریا کو سوگوار کر دیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے لیے ایک کٹھن وقت ہے۔

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا
    جنوبی کوریا، لینڈنگ کے دوران مسافر طیارے کو حادثہ، ہلاکتوں کی تعداد 151 ہوگئی

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

    آذربائیجان طیارہ حادثہ،دوسرا بلیک باکس مل گیا

    جنوبی کوریا،طیارہ حادثے میں شکار مسافر کی آخری گفتگو