Baaghi TV

Tag: جنوبی کوریا

  • جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے،شمالی کوریا

    جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے،شمالی کوریا

    شمالی کوریا نے ایک بار پھر اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ڈینیوکلئیرائزیشن‘ یعنی جوہری تخفیف کا معاملہ اب ناقابلِ واپسی طور پر ختم ہو چکا ہے-

    رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سرکاری میڈیا کے ذریعے جاری بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے شمالی کوریا کے خلاف بیانات اور سرگرمیاں ان کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتیں شمالی کوریا اب خود کو ایک جوہری طاقت کے طور پر دیکھتا ہے اور اس حقیقت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جوہری تخفیف کا معاملہ اب حتمی طور پر ختم ہو چکا ہے اور اس پر دوبارہ بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے واشنگٹن اور سیئول کے حکام نے جنوبی کوریا میں ہونے والے مذاکرات کے دوران شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کے خلاف دفاعی تعاون اور تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے پر بات کی تھی دونوں ممالک نے اپنے مشترکہ پلیٹ فارم ’نیو کلئیر کنسلٹیٹو گروپ‘ (این سی جی) کے تحت خطے میں دفاعی حکمت عملی اور ڈیٹرنس کو بہتر بنانے پر زور دیا تھا۔

  • جنوبی کوریا کے سابق صدر کو 30 سال قید کی سزا

    جنوبی کوریا کے سابق صدر کو 30 سال قید کی سزا

    جنوبی کوریا کے سابق صدر یون سک یول کو شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں ڈرون بھیجنے کی مبینہ سازش اور مارشل لا کے لیے ماحول بنانے کے الزام میں 30 سال قید کی سزا سنا ئی گئی۔

    خبر رساں ادارے یونہاپ کے مطابق سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے جمعہ کو سابق صدر یون سک یول کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور دشمن کی معاونت کے الزامات میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 30 سال قید کی سزا سنائی۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یون سک یول اکتوبر 2024 میں شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں بھیجے گئے ڈرونز کے آپریشن کی منصوبہ بندی میں ابتدا سے ہی شریک تھے استغاثہ کا مؤقف تھا کہ اس کارروائی کا مقصد دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کے لیے جواز پیدا کرنا تھا۔

    سابق صدر یون سک یول نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کی ہے ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انہوں نے نہ تو ڈرون آپریشن کا حکم دیا اور نہ ہی بعد میں اس کی منظوری دی یہ کارروائی مارشل لا سے کسی طور منسلک نہیں تھی بلکہ شمالی کوریا کیجانب سے کئی ماہ تک سرحد پار کچرے سے بھرے غبارے بھیجنے کے جواب میں کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا کے پراسیکیوٹرز نے رواں سال اپریل میں یون سک یول کے لیے 30 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھایون سک یول، جو ماضی میں جنوبی کوریا کے اعلیٰ ترین پراسیکیوٹر بھی رہ چکے ہیں، دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی کوشش کے بعد شدید سیاسی بحران کا سبب بنے تھے، جس نے ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت کو کئی دہائیوں کے بدترین سیاسی انتشار سے دوچار کر دیااس سے قبل فروری میں بھی ایک جنوبی کوریائی عدالت نے مارشل لا کی کوشش سے متعلق بغاوت کی قیادت کرنے کے جرم میں یون سک یول کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

    یون سک یول کو گزشتہ سال اس وقت عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا جب آئینی عدالت نے ان کے مواخذے کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ اس کے بعد ملک میں قبل از وقت انتخابات کرائے گئے، جن میں لبرل رہنما اور موجودہ صدر لی جے میونگ کامیاب ہوئے سابق صدر یون سک یول اس وقت پہلے ہی حراست میں ہیں اور انہیں جمعہ کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔

  • جنوبی کوریا میں دو دہائیوں میں پہلی بار  خاتون بطور وزیر اعظم نامزد

    جنوبی کوریا میں دو دہائیوں میں پہلی بار خاتون بطور وزیر اعظم نامزد

    جنوبی کوریا کی صدر لی جے میونگ نے کاروباری اور ٹیکنالوجی شعبے سے تعلق رکھنے والی ہان سیونگ سوک کو ملک کا نیا وزیرِ اعظم نامزد کر دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ہان سیونگ سوک جنوبی کوریا کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی ناوِر کی سابق چیف ایگزیکٹو رہ چکی ہیں اور انہیں ملک کے ڈیجیٹل اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کی نمایاں شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے،مزید برآں ہان سیونگ جنوبی کوریا میں 20 سال میں نامزد ہونے والی پہلی وزیر اعظم ہیں۔

    صدر لی جے میونگ کا کہنا ہے کہ ہان سیونگ سوک کی نامزدگی کا مقصد معیشت میں جدت، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپ سیکٹر کو مزید فروغ دینا ہے۔

    مبصرین کے مطابق ایک کاروباری رہنما کو وزیرِ اعظم کے عہدے کے لیے منتخب کرنا نئی حکومت کی اقتصادی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے تاہم ان کی تقرری کو حتمی شکل دینے کے لیے جنوبی کوریا کی نیشنل اسمبلی میں سماعت اور توثیق کا عمل درکار ہے۔

  • جنوبی کوریا کا ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم میں شمولیت پر غور

    جنوبی کوریا کا ٹرمپ کے پروجیکٹ فریڈم میں شمولیت پر غور

    جنوبی کوریا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز میں نئے مشن ’پروجیکٹ فریڈم‘ میں شرکت کے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق جنوبی کوریا کا صدارتی دفتر اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ملک آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے امریکی قیادت میں شروع کیے جانے والے اس فوجی آپریشن کا حصہ بن سکتا ہے یا نہیں۔

    صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اس اہم آبی گزرگاہ میں پھنسے ہوئے جہازوں کی بحفاظت واپسی کے لیے اس مہم کا اعلان کیا تھا صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد ان لوگوں، کمپنیوں اور ممالک کو آزاد کرانا ہے جنہوں نے کچھ غلط نہیں کیا اور وہ صرف حالات کے شکار ہوئے ہیں یہ مہم ان ممالک کی درخواست پر شروع کی جا رہی ہے جن کے جہاز اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں اگر اس آپریشن میں کسی قسم کی مداخلت کی گئی تو اس کا جواب طاقت سے دیا جائے گا۔

    دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کا انتظام صدر ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے نہیں چلایا جائے گا ایرانی پارلیمنٹ کے عہدیدار ابراہیم عزیزی نے انتباہ دیا ہے کہ کسی بھی قسم کی امریکی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی یہاں سے گزرنے والے جہازوں کو ٹول ٹیکس ادا کرنا ہوگا اور پاسداران انقلاب کے منظور شدہ راستوں پر چلنا ہوگا۔

    اس وقت صورتحال انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے مطابق تقریباً دو ہزار بحری جہازوں پر بیس ہزار کے قریب ملاح پھنسے ہوئے ہیں ان جہازوں پر خوراک، ایندھن اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو رہی ہےتنظیم کے ڈائریکٹر ڈیمین شیولیئر کا کہنا ہے کہ جدید دور میں اتنی بڑی تعداد میں ملاحوں کے پھنس جانے کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔

  • شمالی کوریا کا متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

    شمالی کوریا کا متعدد بیلسٹک میزائلوں کا تجربہ

    شمالی کوریا نے ایک بار اپنے مشرقی ساحل کے قریب سمندر کی سمت متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں-

    جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق میزائلوں کو اتوار کی صبح تقریباً 6 بج کر 10 منٹ پر مشرقی ساحلی شہر سینپو کے قریب سے فائر کیا گیا، جو بعد ازاں کوریا کے مشرقی سمندر کی جانب گرے جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ اس نے صورتحال کے پیش نظر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے اور امریکا اور جاپان کے ساتھ مسلسل معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔

    جاپانی حکومت نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق میزائل جزیرہ نما کوریا کے مشرقی ساحل کے قریب سمندر میں گرے، تاہم جاپان کے خصوصی اقتصادی زون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی سیکیورٹی اجلاس طلب کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل تجربات پر پابندی عائد ہے، تاہم پیانگ یانگ ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنے دفاع کا حق قرار دیتا ہے، حالیہ مہینوں میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ان کے ملک کی جوہری ریاست کی حیثیت ناقابلِ واپسی ہے اور قومی سلامتی کے لیے جوہری ڈیٹرنس کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔

    بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ کے مطابق شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے، اور ممکنہ طور پر ایک نیا یورینیم افزودگی پلانٹ بھی فعال ہو چکا ہے۔ یہ میزائل تجربات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب امریکا اور چین کے درمیان آئندہ ماہ ایک اہم سربراہی اجلاس کی تیاری جاری ہے، جس میں شمالی کوریا کی صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

  • جنوبی کوریا کا شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے کا اعتراف

    جنوبی کوریا کا شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے کا اعتراف

    جنوبی کوریا نے شمالی کوریا میں ڈرون بھیجنے کے معاملے میں ‘سرکاری کردار’ کا اعتراف کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کر دیا ہے-

    دارالحکومت سئیول میں کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے کہا کہ رواں سال جنوری میں شمالی کوریا کی حدود میں بھیجے گئے ڈرونز کے معاملے کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس میں سرکاری اہلکار ملوث تھے انہوں نے ان اقدامات کو ‘غیر ذمہ دارانہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غیر ضروری فوجی کشیدگی پیدا ہوئی۔

    صدر لی جے میونگ نے کہا کہ یہ تصدیق ہو چکی ہے کہ نیشنل انٹیلی جنس سروس کے ایک اہلکار اور ایک حاضر سروس فوجی اس کارروائی میں شامل تھے، انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی کوریا کا آئین نجی افراد کو ایسے اقدامات سے روکتا ہے جو شمالی کوریا کو اشتعال دلا سکتے ہیں، اس لیے ایسے معاملات میں انتہائی احتیاط ضروری ہے۔

    ایران کے رہائشی علاقوں پر اسرائیل کےشدید فضائی حملے

    واضح رہے کہ ابتدائی طور پر سیول حکومت نے اس ڈرون کارروائی میں کسی بھی سرکاری کردار کی تردید کی تھی اور اسے شہریوں کی انفرادی سرگرمی قرار دیا تھا، تاہم بعد ازاں تحقیقات میں مختلف حقائق سامنے آئے صدر لی جے میونگ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں اور ماضی کی حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ پیانگ یانگ میں پروپیگنڈا مواد گرانے کے لیے ڈرون استعمال کرتی رہی ہے۔

    عارضی جنگ بندی کا مطلب امریکا اور اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دینا ہے،ایران

  • بچے کو گولی لگنے پر  فوجی مشقیں معطل

    بچے کو گولی لگنے پر فوجی مشقیں معطل

    جنوبی کوریا میں فوج نے ملک بھر میں اس وقت آتشیں اسلحے سے متعلق بعض تربیتی مشقیں معطل کر دیں جب جنوبی شہر ڈائیگو میں ایک کھیل کے میدان میں موجود ایک کم عمر بچے کی گردن میں مبینہ طور پر قریبی شوٹنگ رینج سے آنے والی گولی لگ گئی۔

    حکام کے مطابق واقعہ پیر کے روز پیش آیا جب بچہ کھیل میں مصروف تھا اور قریب ہی فوجی فائرنگ کی مشق جاری تھی گولی لگنے کے فورا بعد بچے کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں بروقت طنی طبی امداد فراہم کی گئی اور خوش قسمتی سے اس کی حالت خطرے سے باہر رہی، بعد ازاں اسے ڈسچارج کردیا گیا۔

    جنوبی کوریا کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ بی سوک جن نے منگل کو پریس بریفنگ میں بتایا کہ واقعے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر انفرادی آتشیں ہتھیاروں کی فائرنگ کی تمام مشقیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں، حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    عیدالفطر اور یومِ پاکستان کے موقع پر قیدیوں کی سزاؤں میں خصوصی کمی کی منظوری

    یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق ایک فوجی اہلکار نے بتایا کہ اسپتال میں علاج کے دوران بچے کے زخم سے گولی کا ٹکڑا بھی برآمد ہوا، جس سے شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گولی قریبی شوٹنگ رینج سے آئی تھی، حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حفاظتی اقدامات میں کہاں کمی رہ گئی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی جنوبی کوریا میں فوجی مشقوں کے دوران ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں 2020 میں ایک گولف کیڈی آوارہ گولی لگنے سے زخمی ہو گئی تھی جبکہ گزشتہ سال مشترکہ فوجی مشق کے دوران غلطی سے ایک گاؤں پر بم گرنے سے تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد حفاظتی اقدامات پر سوالات اٹھے تھے۔

    جدہ: قدیم ترین مسجد میں جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

  • مارشل لا لگانے پر جنوبی کوریاکے سابق صدر کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    مارشل لا لگانے پر جنوبی کوریاکے سابق صدر کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

    سئیول: پراسیکیوٹرز نے جنوبی کوریا کےسابق صدر یون سوک یول کے خلاف سزائے موت کا مطالبہ کر دیا ہے۔

    استغاثہ نے عدالت سے کہا ہے کہ اگر یون سوک یول کو دسمبر 2024 میں مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش پر قصوروار قرار دیا گیا تو انہیں سزائے موت دی جائے یا کم از کم عمر قید سنائی جائےسیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران پراسیکیوٹرز نے یون سوک یول کو بغاوت کا سر غنہ قرار دیا۔

    استغاثہ کے مطابق سابق صدر کا اقدام اگرچہ چند گھنٹوں میں ناکام ہو گیا، مگر اس نے پورے ملک کو شدید سیاسی بحران سے دوچار کر دیامارشل لا کے نفاذ کی کوشش کے بعد پارلیمنٹ نے یون کو مواخذے کے ذریعے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے مقدمے کا سامنا کرایا گیا۔

    ملتان سلطانز کی نیلامی ،پی سی بی نے باقاعدہ اشتہار جاری کر دیا

    پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ اگرچہ اس اقدام کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن سابق صدر کے عزائم انتہائی خطرناک اور پُرتشدد نوعیت کے تھے،یون سوک یول طاقت کے نشے میں مبتلا ہو کر آمریت اور طویل المدتی اقتدار کے خواہاں تھے فوجی کمانڈر نے گواہی دی ہے کہ یون نے ارکانِ پارلیمنٹ کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔

    استغاثہ نے بطور ثبوت ایک خفیہ میمو بھی پیش کیا، جس میں صحافیوں، مزدور رہنماؤں اور سیاستدانوں سمیت سینکڑوں افراد کو ٹھکانے لگانے کی تجویز درج تھی، اس بغاوت کا سب سے بڑا نقصان خود جنوبی کوریا کے عوام کو پہنچا، اس لیے کسی قسم کی نرمی کی گنجائش نہیں۔

    بارش برسانے والا سسٹم کل پاکستان میں داخل ہوگا

    یون سوک یول نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ بطور صدر انہیں مارشل لا نافذ کرنے کا آئینی اختیار حاصل تھا اور یہ اقدام اپوزیشن کی مبینہ سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لیے کیا گیا۔

    عدالت کی جانب سے اس تاریخی مقدمے کا فیصلہ فروری میں سنائے جانے کا امکان ہے تاہم جنوبی کوریا میں گزشتہ تقریباً 30 برس سے سزائے موت پر عملدرآمد نہیں ہوا جس کے باعث فیصلہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

    قلات میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن ، فتنہ الہندوستان کے 4 دہشتگرد ہلاک

  • شمالی کوریا کا جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام

    شمالی کوریا کا جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام

    شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر جاسوس ڈرون بھیجنے کا الزام عائد کیا ہے-

    شمالی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوری کے اوائل میں جنوبی کوریا نے ایک اور جاسوس ڈرون شمالی کوریا کی فضائی حدود میں بھیجا، جسے شمالی فوج نے کیپونگ شہر کے قریب مار گرایا جنوبی کوریا نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

    شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی KCNA کے مطابق فوج نے ڈرون کو شمال کی جانب جاتے ہوئے دیکھا اور بعد میں اسے تباہ کردیا ڈرون میں نگرانی کا سامان نصب تھا اور تباہ شدہ ڈرون کے تجزیے سے پتہ چلا کہ اس نے شمالی کوریا کے اہم علاقوں اور سرحدی حدود کی ویڈیوز محفوظ کی تھیں۔

    پشاور 9 مئی واقعات میں سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی

    جنوبی کوریا نے کہا کہ اس کے پاس اس پرواز کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں اور وزیر دفاع آن گیو بیک کے مطابق ڈرون فوج کے ماڈل سے تعلق نہیں رکھتا ،صدر لی جے میونگ کے دفتر نے بتایا کہ معاملے پر قومی سلامتی کی میٹنگ بلائی جائے گی اور مشترکہ فوجی-پولیس تحقیقات کی ہدایت دی گئی ہے، اگر ڈرون کو شہریوں نے چلایا تو یہ کوریا جزیرہ نما میں امن اور قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

    ایمریٹس ائیر لائن نے کرایوں میں کمی کردی

  • شمالی کوریا کا  اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کا اسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نےطویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹریٹجک کروز میزائل کی تجرباتی لانچ کا معائنہ کیا۔

    شمالی کوریا کی خبررساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق کم جونگ اُن نے میزائلوں کے اپنے مقررہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو مختلف سکیورٹی خطرات کا سامنا ہے اور ایسے میں جوہری دفاعی نظام کی صلاحیت کو باقاعدگی سے جانچنا ایک ضروری عمل ہےانہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ شمالی کوریا اپنی جوہری جنگی صلاحیت میں مزید بہتری کے لیے تمام تر کوششیں جاری رکھے گا۔

    رونالڈو مسلسل تیسری بار مشرق وسطیٰ کے بہترین فٹبالر قرار

    دوسری جانب جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ اتوار کی صبح تقریباً 8 بجے پیانگ یانگ کے قریب سونان کے علاقے سے متعدد کروز میزائلوں کی لانچ کا پتا چلا اور جنوبی کوریا کی فوج انہیں مسلسل ٹریک کرتی رہی۔

    سال 2025 میں 2196 بڑے سائبر کرائم کیسز کی تحقیقات مکمل کی گئیں