Baaghi TV

Tag: جوبائیڈن

  • بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن دور کے ایک اہم حکم کو منسوخ کرتے ہوئے امریکی فوج میں ٹرانس جینڈرز کی بھرتی پر پابندی لگا دی ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام ملک کی فوجی حکمت عملی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 9 ہزار سے 14 ہزار ٹرانس جینڈرز امریکی فوج کا حصہ ہیں۔بدھ کے روز، ٹرمپ نے بائیڈن کے دور میں جاری کردہ حکمنامہ کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت ٹرانس جینڈرز کو امریکی فوج میں بھرتی کی اجازت دی گئی تھی۔ اس پابندی کے نتیجے میں ٹرانس جینڈرز افراد کی فوج میں ملازمت کرنے کی راہ بند ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ میں صرف دو جنسوں کو تسلیم کیا جائے گا، یعنی مرد اور عورت۔

    اسی دوران، ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ خارجہ کے ذریعے امریکی سفارتخانوں میں پرائیڈ اور بلیک لائیوز میٹر پرچم لہرانے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ اب صرف امریکی پرچم لہرایا جا سکے گا، جبکہ دیگر کسی بھی نوعیت کے پرچم کی اجازت نہیں ہو گی۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کوسٹ گارڈ کی پہلی خاتون کمانڈنٹ، ایڈمرل لنڈا فیگن کو بھی برطرف کر دیا۔ ایڈمرل فیگن کوسٹ گارڈ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور ان کی برطرفی پر مختلف حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کا آغاز کرتے ہوئے میکسیکو بارڈر پر اضافی فوجی اور ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق 1500 اضافی فوجیوں کو میکسیکو بارڈر پر تعینات کیا جائے گا، اور ان کے ساتھ ہیلی کاپٹرز اور انٹیلی جنس تجزیہ کار بھی روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنا ہے۔مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے بارڈر پر گراؤنڈ فورسز کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، اور پینٹاگون نے کیلی فورنیا اور ٹیکساس سے 5 ہزار غیر قانونی تارکین کو بے دخل کرنے کے لیے طیارے فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، میکسیکو بارڈر پر باڑ لگانے کے لیے بھی پینٹاگون معاونت فراہم کرے گا۔

    یہ تمام اقدامات اس بات کا غماز ہیں کہ ٹرمپ نے امریکی سیاست میں اپنے جارحانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے، اور ان کے فیصلے ان کے سیاسی نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ٹک ٹاک سے پابندی ہٹاؤ نہیں تو پاکستان چلی جاؤں گی،راکھی ساونت کا مودی کو پیغام

  • جوبائیڈن انتظامیہ کی فیس بک کو دھمکیاں،مارک زکر برگ کا جوابی وار

    جوبائیڈن انتظامیہ کی فیس بک کو دھمکیاں،مارک زکر برگ کا جوابی وار

    واشنگٹن: جوبائیڈن انتظامیہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کو متعدد پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کے لیے دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ نے فیس بک کو متعدد پوسٹیں ڈیلیٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیئےجس کے لیے فیس بک انتظامیہ کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔

    فیس بک کے سربراہ مارک زکر برگ نے جوبائیڈن انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا مارک زکر برگ نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ کمپنی کو کووڈ ویکسین سے متعلق سنسر شپ کے دور میں دھکیل رہی ہے جوبائیڈن انتظامیہ نے غلط معلومات کی بنیاد پر فیس بک کو نشانہ بنایا، ہم حقیقت پر مبنی چیزوں کو ختم نہیں کریں گے اسے ہٹانے کے احکامات مضحکہ خیز ہیں۔

    لاس اینجلس، تباہ کن آگ سے 77 سالہ اداکار جیمز ووڈس کا گھر محفوظ

    انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن انتظامیہ نے کووڈ 19 کی ویکسین کے حوالے سے مواد ہٹانے کا کہا تھا جسے ہم نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیاہمارے انکار پر جوبائیڈن انتظامیہ نے ہمیں بہت کچھ کہا اور تنقید کا نشانہ بنایا۔

    لیکن انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی اس طرح کی درخواستوں کی تعمیل کرنے میں بہت آگے گئی،اور تسلیم کیا کہ اس نے اور کمپنی کے دیگر افراد نے غلطی سے یہ آئیڈیاخرید لیا تھا روایتی میڈیا آؤٹ لیٹس یہ بحث کر رہے تھے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط معلومات نے 2016 ءکے انتخابات کو ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں تبدیل کر دیا تھا۔

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    زکربرگ نے کہا کہ ان کی کمپنی کا حقائق کی جانچ پڑتال کا عمل "1984 میں سے کچھ مختلف” تھا اس نے ایک وسیع پیمانے پر یقین پیدا کیا کہ ان کی کمپنی نے جن فیکٹ چیکرز کی خدمات حاصل کیں وہ "انتہائی متعصب” تھے زکر برگ نے ایکس کے "کمیونٹی فیڈ بیک” پروگرام کو فیس بک کے ماڈل سے بہتر قرار دیا ہےبعد میں انہوں نے تجویز پیش کی کہ سوشل میڈیا کے تخلیق کار حکومت اور روایتی میڈیا کی جگہ سچائی کے ثالث کے طور پر لے رہے ہیں-

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

  • جوبائیڈن بدھ کوامریکی قوم سے الوداعی خطاب کریں گے

    جوبائیڈن بدھ کوامریکی قوم سے الوداعی خطاب کریں گے

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن اگلے ہفتے اوول آفس سے قوم سے الوداعی خطاب کریں گے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق جوبائیڈن نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری سے چند روز قبل اگلے ہفتے قوم سے الوادعی خطاب کریں گے۔امریکی صدر نے آخری بار اوول آفس سے خطاب کے دوران 2024 کے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے کا اعلان کیا تھا۔جوبائیڈن اپنے دور حکومت میں اپنی خارجہ پالیسی کے علاوہ اپنی انتظامیہ کی جانب سے دنیا میں امریکا کے مقام کے بارے میں کیے جانے والے اقدامات سے بھی قوم کو آگاہ کریں گے۔بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق جب صدر بائیڈن نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت ہمارے اتحادی شدید متاثر تھے اور ہم چین کے ساتھ اپنے مقابلے میں پیچھے رہ رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی اس وقت تک امریکا کی طویل ترین جنگ میں مصروف تھے اور ہمارے مخالفین مضبوط ہو رہے تھے جب کہ دنیا کو عالمی وبائی مرض کا بھی سامنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے ان تمام چینلجز کا سامنا کیا اور اب جب وہ عہدہ چھوڑنے جارہے ہیں تو ملک پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے جب کہ ہم نے امریکی عوام کے لیے بہتر نتائج فراہم کیے ہیں۔بائیڈن انتظامیہ کے عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ امریکی صدر اپنے الودائی خطاب میں ان تمام باتوں کا ذکر کریں گے کہ کس طرح ہمارے اتحاد اور شراکت داریاں ہمارے کام کی بدولت اب تک کی سب سے مضبوط ہیں۔

    لاس اینجلس کی آگ تاحال بے قابو، متاثرہ علاقوں میں لوٹ مار کے بعد کرفیو نافذ

    ڈیم میں نہاتے ہوئے پانچ نوجوان ڈوب گئے

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، ایک یادگار سفر،تحریر :نورفاطمہ

    فارم 45، 47میں فرق ،پیپلز پارٹی کے امیدوار کا نوٹیفکیشن معطل

  • جو بائیڈن نے 37 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    جو بائیڈن نے 37 قیدیوں کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے 37 وفاقی قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ فیصلہ صدر بائیڈن کی انتظامیہ کی جانب سے وفاقی سطح پر پھانسیوں پر عائد پابندی کے تناظر میں لیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، صدر جو بائیڈن نے اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام میری انتظامیہ کے زیرِ نگرانی وفاقی سطح پر پھانسیوں پر عائد پابندی کے اصولوں کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ قدم انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق اٹھایا گیا ہے اور اس کا مقصد وفاقی عدلیہ کے نظام کو مزید انسان دوست بنانا ہے۔”

    اگرچہ بائیڈن کی انتظامیہ نے 37 قیدیوں کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا ہے، لیکن دہشت گردی اور اجتماعی قتل جیسے سنگین جرائم میں ملوث مجرموں کے لئے سزائے موت کا حکم برقرار رکھا گیا ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے واضح کیا کہ "جو افراد بڑے پیمانے پر قتل یا دہشت گردی میں ملوث ہیں، ان کے لئے سزائے موت کی سزا برقرار رکھی جائے گی۔”امریکی میڈیا کے مطابق، کچھ معروف مجرموں کی سزائے موت اس فیصلے کے باوجود برقرار رہیں گی۔ ان میں سے ایک اہم نام 2013 کے بوسٹن میراتھون بم دھماکے کے مجرم جوہر سرنیف کا ہے، جسے سزائے موت سنائی گئی تھی۔ جوہر سرنیف نے بوسٹن میراتھون کے دوران بم دھماکے کر کے 3 افراد کو قتل اور 260 سے زائد افراد کو زخمی کیا تھا۔اسی طرح، 2015 میں ساؤتھ کیرولائنا کے ایک چرچ میں حملے کے مجرم ڈائیلان روف کی سزائے موت بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ روف نے چرچ میں داخل ہو کر 9 سیاہ فام افراد کو قتل کیا تھا۔اس کے علاوہ، پٹسبرگ میں یہودی عبادت گاہ پر حملے کے مجرم رابرٹ بوورز کی سزائے موت بھی بدستور برقرار ہے۔ بوورز نے 2018 میں پٹسبرگ کی ایک عبادت گاہ میں فائرنگ کر کے 11 افراد کو قتل کیا تھا۔

    ٹھل کے صحافی نبی بخش کنرانی بخشاپور سے مبینہ اغوا، کاربرآمد

    اٹلی،پی ٹی آئی سول نافرمانی کیخلاف پاکستانیوں کا احتجاج

  • جوبائیڈن کا امریکی تاریخ میں ایک دن میں سب سے بڑی معافی کا اعلان

    جوبائیڈن کا امریکی تاریخ میں ایک دن میں سب سے بڑی معافی کا اعلان

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے امریکی تاریخ میں ایک دن میں سب سے بڑی معافی کا اعلان کیا ہے،امریکی صدر جو بائیڈن نے غیر متشدد جرائم کے مرتکب 39 امریکیوں کو صدارتی معافی جاری کی ہے، اور تقریباً 1500 دیگر افراد کی سزاؤں میں کمی کی ہے-

    باغی ٹی وی :امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اسے ایک ہی دن میں جاری ہونے والی صدارتی معافی کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا، اس نے ملوث افراد کے نام نہیں بتائے ہیں،صدر جوبائیڈن نے 1500 مجرمان کی سزائیں تبدیل کردیں،امریکی آئین حکم دیتا ہے کہ صدر کے پاس "مواخذے کے معاملات کے علاوہ، امریکہ کے خلاف ہونے والے جرائم کے لیے معافی دینے کا وسیع اختیار ہے”۔

    اس ماہ کے شروع میں ، بائیڈن نے اپنے بیٹے ہنٹر کو ایک متنازعہ معافی جاری کی ، جس نے صدر کے اپنے قریبی لوگوں کو معاف کرنے کے حالیہ رجحان کو جاری رکھا اس اقدام کا اعلان کرتے ہوئے، بائیڈن نے کہا کہ معاف کیے جانے والوں نے "کامیاب بحالی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنی برادریوں کو مضبوط اور محفوظ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے”۔ ان کی غیر متشدد سزاؤں میں منشیات کے جرائم شامل تھے۔

    جن مجرمان کی سزاؤں میں کمی ہوئی ان میں وہ قیدی شامل ہیں جو کورونا کےدوران اپنے گھروں میں کم از کم ایک سال قید رہےجبکہ معافی پانے والے 39 مجرمان وہ ہیں جو عدم تشدد کے جرائم کے مرتکب تھے،بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے دکھایا ہے کہ وہ دوسرے موقع کے مستحق ہیں۔

    کورونا وبا کے دوران امریکا میں ہر 5 میں سے ایک قیدی کورونا کا شکار رہا، قیدیوں کی سزاؤں میں کمی اور معافی صدر جوبائیڈن کے اپنے بیٹے ہنٹر بائیڈن کو گن اور ٹیکس کیس میں معافی دینے کے دباؤ کے باعث ہے۔

    واضح رہے کہ جوبائیڈن انتقام سے بچنے اور ٹرمپ کے صدارت سنبھالنے سے پہلے کیپٹل ہل کے مجرمان کو بھی پیشگی معافی دینے پر غور کررہے ہیں۔

  • نومنتخب صدر ٹرمپ کی صدر جوبائیڈن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات

    نومنتخب صدر ٹرمپ کی صدر جوبائیڈن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات

    واشنگٹن: نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر جوبائیڈن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : بی بی سے کے مطابق ٹرمپ نے بائیڈن کے ساتھ اپنی ملاقات ختم کر دی ہے اور میڈیا سے گفتگو کئے بغیر ہی وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو گئے ہیں، اوول آفس میں اپنی میٹنگ کے آغاز پر نامہ نگاروں کے سامنے مختصر ریمارکس کہے جہاں ٹرمپ نے اقتدار کی منتقلی پر بائیڈن کا شکریہ ادا کیا، دونوں کی ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی-

    امریکی صدر جوبائیڈن نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدر منتخب ہونے پر مبارک باد دی اور وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا وہ پر امن اقتدار کی منتقلی کے لیے تیار ہیں، جواب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جوبائیڈن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیاست ایک مشکل کام ہے کئی حوالوں سے ہر روز یہ کوئی بہت اچھی دنیا نہیں ہوتی لیکن آج کے دن یہ دنیا بہت اچھی ہے، ٹرمپ نے بھی کہا کہ وہ پر امن انتقال اقتدار کو سراہتے ہیں۔

    بی بی سی کے مطابق توقع ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان امریکی خارجہ پالیسی سے لے کر اقتدار کے حوالے سے لاجسٹکس تک کئی چیزوں پر بات چیت ہوگی، وائٹ ہاؤس کے مطابق، ٹرمپ کی آنے والی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور بائیڈن کے چیف آف اسٹاف جیف زیئنٹس بھی ملاقات کے دوران موجود تھے-

    ٹریبون کے مطابق یہ ملاقات ان دونوں افراد کی برسوں سے ایک دوسرے پر کی جانے والی تنقید کے بالکل برعکس تھی81 سالہ بائیڈن نے ٹرمپ کو جمہوریت کے لیے خطرہ کے طور پر پیش کیا ہے جبکہ 78 سالہ ٹرمپ نے بائیڈن کو نااہل قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے 2020 کے انتخابات میں بائیڈن سے ہارنے کے بعد بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کے جھوٹے دعوے کیے تھے۔

    سابق اور مستقبل کے ریپبلکن صدر کا استقبال اوول آفس میں بائیڈن نے کیا، جو ایک ڈیموکریٹ تھے جنہوں نے انہیں 2020 کے انتخابات میں شکست دی تھی۔

    امریکی روایات کے مطابق صدارتی انتخابات کے بعد امریکی صدر نو منتخب امریکی صدر کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کرتا ہے تاہم 2020 کے انتخابات میں شکست کے بعد ٹرمپ نے جوبائیڈن کو وائٹ ہاؤس میں مدعو نہیں کیا تھا۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس آمد پر ان کے استقبال کے لیے جوبائیڈن کے ہمراہ امریکی خاتون اول جل بائیڈن بھی موجود تھیں جنہوں نے ٹرمپ کو میلانیا ٹرمپ کے لیے ہاتھ سے لکھا ہوا مبارک باد کا خط بھی دیا، ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔

  • نو منتخب صدر ٹرمپ  صدر جوبائیڈن سے بدھ کو ملاقات کریں گے

    نو منتخب صدر ٹرمپ صدر جوبائیڈن سے بدھ کو ملاقات کریں گے

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اور نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کو وائٹ ہاؤس میں ملاقات کریں گے۔

    باغی ٹی وی :امریکا میں روایتی طور پر سبکدوش صدر نئے منتخب صدر سے ملاقات کرتا ہے، 2020 میں انتخابات ہارنے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس روایت کو توڑ دیا تھا اور نومنتخب صدر جوبائیڈن سے ملاقات نہیں کی تھی، تاہم اب وائٹ ہاؤس کے مطابق نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدر بائیڈن کی دعوت کو قبول کر لیا، ملاقات بدھ کی صبح 11 بجے اوول آفس میں ہو گی۔

    واضح رہے کہ 5 نومبرکو ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈٹرمپ موجودہ نائب صدرکملا ہیرس کوشکست دینے کے بعد 20 جنوری کو عہدہ سنبھالیں گے۔

    دوسری جانب نیویارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی کی تیاریاں جاری ہیں ، ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم نے ایگزیکٹو آرڈرز اور اعلانات تیار کرلیے ہیں، معاہدے سے علیحدگی کے بعد مغربی زمین کو کان کنی کے لیے کھول دیا جائے گا، ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں بھی پیرس معاہدے کو غیر موثر قرار دے کر علیحدگی اختیار کرلی تھی،ماحولیاتی تبدیلی پرکاپ انتیس کا سربراہی اجلاس آذربائیجان میں 11 سے 22 نومبر کو ہوگا-

  • ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت پہلی سے بالکل مختلف

    ٹرمپ کی دوسری مدت، پہلی مدت سے بالکل مختلف ہوگی

    ری پبلکن پارٹی اب مکمل طور پر ٹرمپ کی ہو چکی ہے اور اس کے مخالفین کو ہمیشہ کے لیے کنارے لگا دیا گیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ اوول آفس میں داخل ہوں گے۔ انہیں اپنے پہلے دور کے تجربے کے ساتھ ساتھ اس بات کا گہرا غصہ بھی ہے کہ کس طرح انہوں نے محسوس کیا کہ نظام نے ان کے ساتھ نا انصافی کی۔”امریکہ نے ہمیں بے مثال اور طاقتور مینڈیٹ دیا ہے”، ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا۔ انہوں نے اپنی دوسری مدت کے بارے میں اپنی حکمت عملی یوں بیان کی: "میں ایک سادہ نعرے کے تحت حکومت کروں گا،

    ٹرمپ کی دوسری مدت میں صورتحال کیسے مختلف ہو سکتی ہے؟
    وہ شخصیات جو کبھی ٹرمپ کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، اب ان کا ساتھ چھوڑ چکی ہیں۔ ان کی جگہ اب ایسے مشیر اور حکام آئے ہیں جو ٹرمپ کو چیک کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ٹرمپ نے اخلاقی معاہدوں پر دستخط کرنے سے انکار کیا ہے جس کے تحت ان کی مہم بائیڈن انتظامیہ کے ساتھ منتقلی کے عمل میں تعاون کرتی۔ اس تاخیر کی وجہ ٹرمپ کی وفاقی ایجنسیوں سے گہری عدم اعتماد ہے، خاص طور پر ان ایجنسیوں کے بارے میں جو ان کے اپنے وفاداروں کے تحت نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی ٹیم کو قومی سلامتی کے بریفنگز اور منتقلی کے عمل کے لیے درکار فنڈز تک رسائی نہیں مل سکی۔وہ ری پبلکن جو ٹرمپ کے مخالف تھے، اب یا تو ریٹائر ہو چکے ہیں یا انتخاب میں ہار چکے ہیں۔ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ کانگریس اور کابینہ کی تصدیق کے روایتی عمل کو نظر انداز کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ ٹرمپ نے کئی امیدواروں سے یہ پوچھا ہے کہ کیا وہ ایڈہاک سکریٹری کے طور پر کام کرنے کو تیار ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اس سے انہیں مزید لچک ملے گی اگر وہ بعد میں اپنے فیصلے تبدیل کرنا چاہیں۔

    ٹرمپ کے پہلے دور کے بعد سے وفاقی عدالتوں میں اہم تبدیلیاں آئی ہیں، خاص طور پر سپریم کورٹ میں جہاں اب ایک قدامت پسند اکثریت ہے جو وہ فیصلے برقرار رکھ سکتی ہے جو ٹرمپ کے پہلے دور میں عدالت کے ذریعہ رد کر دیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ٹرمپ کو یہ فائدہ بھی حاصل ہے کہ اب صدور اپنے عہدے کے دوران کیے گئے سرکاری اقدامات میں قانونی تحفظ رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ اپنی موجودہ قانونی مشکلات سے زیادہ تر چھٹکارا حاصل کر لیں گے، یا کم از کم ان میں سے بیشتر مقدمات سے بچ سکیں گے۔

    ٹرمپ کی دوسری مدت یقیناً پہلی سے مختلف ہو گی، اور یہ تبدیلیاں امریکی سیاست میں دور رس اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

    ٹرمپ نے وائیٹ ہاؤس میں پہلی تقرری کر دی،خاتون کو ملا بڑا عہدہ

    ٹرمپ کی کامیابی،شہزادہ ہیری کی امیگریشن فائل منظر عام پر آنے کاامکان

    روسی صدر کی ٹرمپ کو کال،تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں،پیوٹن

    بھارت میں روپوش حسینہ واجد کی ٹرمپ کو مبارک

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

  • ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    ٹرمپ کی ٹیم کی اگلے ہفتے جوبائیڈن سے ملاقات متوقع

    امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم اس بات پر تبادلہ خیال کر رہی ہے کہ وہ کب واشنگٹن، ڈی سی جائیں تاکہ صدر جو بائیڈن سے ملاقات کر سکیں۔

    سی این این کے مطابق ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کی تاریخ ابھی حتمی نہیں ہے، لیکن یہ امکان ہے کہ یہ ملاقات اگلے ہفتے ہو سکتی ہے، قبل اس کے کہ بائیڈن جنوبی امریکہ کے لیے اپنے ایک ہفتے کے غیر ملکی دورے پر روانہ ہوں۔14 نومبر کو بائیڈن کا واشنگٹن سے جنوبی امریکہ کے لیے روانہ ہونے کا شیڈول ہے، جس میں ان کے سفر کے دوران پیرو، برازیل اور ایمیزون کے جنگلات میں بھی رکنے کا منصوبہ ہے۔ اس دورے کے دوران بائیڈن ایشیا پیسیفک اور گروپ آف ٹوئنٹی (G20) ممالک کے رہنماؤں سے سربراہی ملاقاتیں کریں گے۔ ٹرمپ کے دوسرے دور حکومت میں ان رہنماؤں کے ساتھ تعلقات کو سمجھنا بائیڈن کی اپنے اتحادیوں سے دوطرفہ ملاقاتوں اور امریکی حریفوں کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران معاون ثابت ہوگا۔

    ٹرمپ کی ٹیم کی خواہش ہے کہ وہ جلد از جلد واشنگٹن پہنچیں، اور ذرائع کے مطابق یہ ملاقات اگلے ہفتے بھی ممکن ہے۔پچھلے دنوں، وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ بائیڈن نے بدھ کے روز ٹرمپ سے فون پر بات کی اور انہیں ان کی جیت پر مبارکباد دی۔ بائیڈن نے اس دوران ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت بھی دی اور کہا کہ وہ حکومت کی منتقلی کو ہموار بنانے کے لیے پرعزم ہیں اور ملک کو یکجا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ٹرمپ نے بائیڈن کی کال کو "بہت سراہا” اور کہا کہ وہ جلد ہی صدر بائیڈن سے ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    ٹرمپ کی تین شادیاں،26 جنسی ہراسانی کے الزامات،امیر ترین صدر

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

  • جوبائیڈن، کملا ہیرس کا ٹرمپ کو فون،جمہوریت یہی ہے ہارو تو شکست تسلیم کرو،کملا

    جوبائیڈن، کملا ہیرس کا ٹرمپ کو فون،جمہوریت یہی ہے ہارو تو شکست تسلیم کرو،کملا

    امریکی نائب صدرکملاہیرس نے شکست کے بعدہاورڈیونیوسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہمت نہیں ہاریں گے،جدوجہد جاری رکھیں گے،

    کملاہیرس کا کہنا تھا کہ ہماری جدوجہد امریکا کے بہتر مستقبل کے لیے ہے،ٹرمپ کو بتایا اقتدارکی پرامن منتقلی کے لیے ان کی مددکریں گے،جمہوریت اورقانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہدجاری رکھیں گے، ہمیں الیکشن کے نتائج کو لازمی تسلیم کرنا چاہیے،ہماری لڑائی امریکا کے مستقبل کی لڑائی ہے ،کبھی ہارنہیں مانیں گے،آئین اورقانون کی بالادستی کے لیے تحریک جاری رکھیں گے، جمہوریت کا اصول ہے ہارو تو شکست تسلیم کرو،جمہوریت اورآمریت میں یہی فرق ہے،کملا ہیرس نے انتخابی مہم میں شریک رضاکاروں اورساتھ دینے والوں کاشکریہ ادا کیا،

    کملا ہیرس کا کہنا تھا کہ ڈونلڈٹرمپ کوفون کرکے جیت پرمبارکباددی ہے،ٹرمپ سے کہا ہے اقتدارکی پرامن منتقلی چاہتے ہیں،ٹرمپ سے کہا اقتدارکی منتقلی کے لیے تعاون پر تیارہیں،

    دوسری جانب امریکی صدرجوبائیڈن نے ٹرمپ کوفون کیا اورکامیابی پرمبارکباددی،امریکی صدرجوبائیڈن آج قوم سے خطاب کریں گے، جوبائیڈن نے کملا ہیرس سے بھی فون پربات چیت کی،ڈونلڈٹرمپ نے صدر جوبائیڈن کی ملاقات کی دعوت قبول کرلی

    ٹرمپ کی جیت،زلفی بخاری کی مبارکباد،ملاقات کی تصویر بھی شیئر کر دی

    ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر روس،ایران کا ردعمل

    ٹرمپ کو برطانوی،بھارتی وزیراعظم،فرانسیسی،یوکرینی صدر و دیگر کی مبارکباد

    امریکی انتخابات،سیاسی منظر نامے میں اہم تبدیلیاں

    وزیراعظم کی ٹرمپ کو مبارکباد،پاک امریکا تعلقات مزید مضبوط کرنے کا عزم

    اپریل 2022 میں عمران خان سے ملاقات کرنیوالی الہان عمر چوتھی بار کامیاب

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد