Baaghi TV

Tag: حزب اللہ

  • اسرائیلی ڈرون حملہ: جنوبی لبنان میں حزب اللہ کمانڈر سمیت دو افراد شہید

    اسرائیلی ڈرون حملہ: جنوبی لبنان میں حزب اللہ کمانڈر سمیت دو افراد شہید

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ کے قصبے تُول میں اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد شہید اور دو زخمی ہو گئے۔

    لبنانی خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز کے مطابق وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں بتایا کہ ایک ڈرون نے تُول کے قریب سڑک پر سفر کرنے والی گاڑی پر میزائل فائر کیا، جس سے گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔اسرائیلی فوج نے بعد ازاں تصدیق کی کہ نبطیہ کے علاقے میں حملے کا ہدف حزب اللہ کا رکن عباس حسن کارکی تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق عباس حسن حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے لاجسٹک یونٹ کے سربراہ تھے اور متعدد کارروائیوں میں سرگرم کردار ادا کر چکے تھے۔

    تاہم حزب اللہ نے اسرائیلی دعوے پر فی الحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ نومبر 2024 میں طے پانے والے معاہدے کی تقریباً روزانہ خلاف ورزی کر رہا ہے.

    25 اکتوبر سے غیر تصدیق شدہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس معطل ہونے کا امکان

    خواتین ورلڈ کپ: پاکستان اور سری لنکا کا میچ بارش کی نذر

    امریکا کی تجارتی پالیسی کو کنٹرول نہیں کر سکتے، کینیڈین وزیرِ اعظم

    فلسطینی جماعتوں کا غزہ کے انتظامات ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے پر اتفاق

  • لبنان:شہیدحسن نصر اللہ کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

    لبنان:شہیدحسن نصر اللہ کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت

    لبنان کے دارالحکومت بیروت کے ایک اسٹیڈیم میں ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصراللہ کے نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے، جو ستمبر 2024 میں اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔

    غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق رہنما کے جنازے میں شرکت کے لیے ہزاروں افراد بیروت کے ایک اسٹیڈیم میں جمع ہوئے۔لبنان اور اس سے باہر کے بہت سے مرد، خواتین اور بچے پیدل چل کر جنازے میں شرکت کے لیے پہنچے۔قبل ازیں، حزب اللہ کے سینئر عہدیدار علی داموش نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جنازے میں دنیا بھر سے ہزاروں افراد اور کارکنان کے علاوہ 65 ممالک سے تقریباً 800 شخصیات شرکت کریں گی۔واضح رہے کہ 2 فروری کو ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے گزشتہ سال اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی 23 فروری کو تدفین کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے موجودہ سربراہ نعیم قاسم نے اعلان کیا تھا کہ تنظیم کے شہید رہنما حسن نصر اللہ کی تدفین 23 فروری کو کی جائے گی۔ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں نعیم قاسم نے کہا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری شدید جنگ کے دوران سیکیورٹی حالات کے باعث گزشتہ 2 ماہ کے دوران تدفین نہیں کی جاسکی، وہ صورتحال اب ختم ہوگئی ہے اس لیے حزب اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ 23 فروری کو حسن نصر اللہ کی تدفین کے سلسلے میں بڑا عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔حسن نصراللہ کو اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے 27 ستمبر کو ان کے ہیڈکواٹر میں شہید کر دیا تھا، ان کی عوامی سطح پر نماز جنازہ مسلسل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے التوا میں چلی آرہی تھی۔

    چیمپئنز ٹرافی: 242 رنز کے تعاقب میں بھارت کی پوزیشن مستحکم

    چیمپئنز ٹرافی: ون ڈے کرکٹ کے کئی ریکارڈز ویرات کوہلی کے نام

    سری لنکا میں خوفناک حادثہ ،ٹرین کی ٹکر سے 6 ہاتھی ہلاک

  • حزب اللّٰہ کے شہید حسن نصر اللہ کی تدفین کا اعلان

    حزب اللّٰہ کے شہید حسن نصر اللہ کی تدفین کا اعلان

    حزب اللّٰہ کے شہید سربراہ حسن نصر اللّٰہ کی تدفین 23 فروری کو بیروت میں کی جائے گی۔

    حزب اللہ ذرائع کے مطابق سربراہ حزب اللّٰہ نعیم قاسم کے مطابق حسن نصر اللّٰہ اور ہاشم صفی الدین کی نمازِ جنازہ بڑے اجتماع میں ہو گی۔پاکستانی وقت کے مطابق جنازے کا اجتماع شام 4 بجے بیروت اسپورٹس اسٹیڈیم میں ہو گا جو تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے کا امکان ہے۔عرب میڈیا کا کہنا ہے کہ اجتماع سے حزب اللّٰہ کے سربراہ نعیم قاسم خطاب کریں گے۔سول ایوی ایشن کے مطابق بیروت ایئر پورٹ جنازے اور تدفین کے دن دوپہر 12 سے شام 4 بجے تک بند رہے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حسن نصر اللّٰہ کی تدفین سے قبل بغداد سے بیروت کی پروازوں کے تمام ٹکٹ فروخت ہو گئے ہیں۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حسن نصر اللّٰہ کی نمازِ جنازہ میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی شریک ہوں گے۔حزب اللّٰہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید حسن نصر اللّٰہ کے جنازے کا اجتماع ایک تاریخی دن اور موقع ہو گا، لوگوں کی شرکت بہت بڑی تعداد میں ہو گی، اسرائیل دیکھے گا کہ ہم خوفزدہ نہیں۔یاد رہے کہ سیدحسن نصر اللّٰہ 27 ستمبر کو اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔واضح رہے کہ حسن نصر اللّٰہ کی شہادت کے بعد امانتاً تدفین کی گئی تھی۔

    شہری ہوشیار! کراچی میں ڈکیتوں نے نیا طریقہ واردات اپنا لیا

    لاہور میں پاکستان کی پہلی انڈرگراؤنڈ بلیولائن میٹرو ٹرین شروع کرنے کا فیصلہ

  • حزب اللہ کا  حسن نصر اللہ کی تدفین 23 فروری کو کرنے کا اعلان

    حزب اللہ کا حسن نصر اللہ کی تدفین 23 فروری کو کرنے کا اعلان

    ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے گزشتہ سال اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی 23 فروری کو تدفین کرنے کا اعلان کردیا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے موجودہ سربراہ نعیم قاسم نے اعلان کیا کہ تنظیم کے شہید رہنما حسن نصر اللہ کی تدفین 23 فروری کو کی جائے گی۔ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری شدید جنگ کے دوران سیکیورٹی حالات کے باعث گزشتہ 2 ماہ کے دوران تدفین نہیں کی جاسکی، وہ صورتحال اب ختم ہوگئی ہے اس لیے حزب اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ 23 فروری کو حسن نصر اللہ کی تدفین کے سلسلے میں بڑا عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ حزب اللہ نے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کے ٹھیک 2 ماہ بعد 27 نومبر کو عوامی سطح پر نماز جنازہ کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا جب کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان ہوگیا تھا۔حسن نصراللہ کو اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے 27 ستمبر کو ان کے ہیڈکواٹر میں شہید کر دیا تھا، ان کی عوامی سطح پر نماز جنازہ مسلسل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے التوا میں چلی آرہی تھی۔حزب اللہ نے اسرائیلی حملے میں اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کی 28 ستمبر کو تصدیق کی تھی جب کہ اس سے ایک روز قبل یعنی 27 ستمبر کو اسرائیل نے بیروت حملوں میں ان کے علاوہ دیگر سینئر رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    اس وقت کی غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں حسن نصراللہ کی بیٹی زینت نصراللہ نے بھی جام شہادت نوش کیا تھا جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے دو اہم کمانڈر بھی اس حملے میں دم توڑ گئے تھے۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیروت پر اسرائیلی فوج نے 5،5 ہزار پاؤنڈ کے بم برسائے، ایف 35 لڑاکا طیاروں نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا، 7 گھنٹے تک وقفے وقفے سے ہونے والی بمباری کے نتیجے میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں۔

    سکھ فارجسٹس کا بھارت سے علیحدگی کا ریفرنڈم کا اعلان

    متحدہ عرب امارات میں بھی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ

    اب واٹس ایپ آپکو ایونٹ یاد دلائے گا

    جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کو بڑا مافیا قرار دے دیا

  • حزب اللہ نے  بشارالاسد حکومت کی مدد کیلئے جنگجو بھیج دیئے

    حزب اللہ نے بشارالاسد حکومت کی مدد کیلئے جنگجو بھیج دیئے

    بیروت: لبنان کی تنظیم حزب اللہ نے شام میں بشارالاسد حکومت کے مدد کیلئے دو ہزار جنگجو بھیج دیئے۔

    باغی ٹی وی :عرب نیوز نے حزب اللہ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایران کی حمایت یافتہ یہ تنظیم، جو 2011 سے شام کی جنگ کے دوران صدر بشار الاسد کی افواج کے ساتھ لڑ رہی ہے، نے دو ہزار جنگجو قصیر کے علاقے میں بھیجے ہیں، یہ لبنانی سرحد کے قریب واقع ہے-

    خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق حزب اللہ نے ابھی تک لڑائی میں کوئی سرگرم کردار ادا نہیں کیا ہے تنظیم کے جنگجو شام اور لبنان کی سرحد پر پہاڑوں میں اپنی پوزیشنز کا دفاع کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں اور حزب اللہ ابھی تک کسی لڑائی میں حصہ نہیں لے رہی ہے، حزب اللہ نے 2013 سے اب تک کھلے عام اسد کی افواج کی حمایت کی ہےحزب اللہ کے جنگجوؤں نے اسد کو خانہ جنگی کے ابتدائی مراحل میں کھوئی ہوئی زمین واپس حاصل کرنے میں مدد بھی فراہم کی ۔

  • اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ،نیتن یاہو کے حامی خفا

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ،نیتن یاہو کے حامی خفا

    اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا آغاز ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : امریکا کی سرپرستی میں ہونے والے سیز فائر معاہدے کے مطابق اسرائیل 60 روز میں جنوبی لبنان سے اپنی فورسز کو واپس بلائے گا اور حزب اللہ کے زیر کنٹرول علاقے کا کنٹرول لبنانی حکومت سنبھالے گی، معاہدے کے مطابق حزب اللہ اپنے جنگجو اور اسلحے کو دریائے لطانی سے ہٹائے گی۔

    اس حوالے سے امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے جنگ بندی کی تجویز مان لی ہے، معاہدےکو دشمنی کے مستقل خاتمے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے،برطانوی وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے بھی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا۔

    حزب اللہ سے جنگ بندی معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ اگر حزب اللہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو دوبارہ حملے کرنے میں بالکل بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گےحزب اللہ کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا ہے، اب ہماری پوری توجہ ایرانی خطرے کی طرف ہوگی، ہم مشرق وسطیٰ کا چہرہ تبدیل کر رہے ہیں۔

    اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج نے لبنانی شہریوں کو فی الحال جنوبی لبنان واپس نہ جانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی شہریوں کی محفوظ واپسی کے وقت سے متعلق اپ ڈیٹ کریں گے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حزب اللہ نے جنگ بندی پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تاہم حزب اللہ کے سینئر عہدیدار حسن فضل اللہ نے لبنانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی ریاست کے اختیارات میں توسیع کی حمایت کرتے ہیں، مزاحمت کو غیر مسلح کرنا اسرائیلی تجویز تھی جو ناکام ہو گئی۔

    ادھر جنگ بندی معاہدے کی منظوری سے قبل اسرائیل نے حزب اللہ کے 30 اہداف پر بمباری کی اور طائر میں حزب اللہ کمانڈر سمیت مزید 42 افراد کو شہید کرنے کا دعویٰ کیاجنوبی لبنان میں جھڑپوں میں 2 اسرائیلی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ حزب اللہ نے نہاریہ میں اسرائیلی فوجی کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کیا جس میں 3 افراد زخمی ہو گئے۔

    دوسری جانب جنگ بندی معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے حامی ان سے شدید خفا ہیں، اسرائیل کی حزب اللہ کے ساتھ ڈیل کے بعد کیے جانے والے سروے کے مطابق جنگ کے باعث شمالی اسرائیل سے بے گھر ہونے والے 80 فیصد تعداد جو نیتن یاہو کے حامی تھے، انہوں نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کو غلط قرار دیتے ہوئے غصے کا اظہار کیا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق اگر ملکی سطح پر بات کی جائے تو حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی معاہدے پر عوام کی رائے منقسم نظر آئی، 37 فیصد نے جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی جبکہ 32 فیصد نے اسے غلط کہا اور 31 فیصد اس حوالے سے خاموش رہے۔

    جنگ کے باعث بے گھر ہونے والے اسرائیلی شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں کو جانا چاہتے تھے اور اس کے لیے سیز فائز ضروری تھا لیکن لبنانی شہریوں کی واپسی سے انہیں شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

    ایک اسرائیلی شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ جنگ بندی معاہدے سے واحد امید یہ ہے کہ حزب اللہ اب ان دیہاتوں پر حملہ نہیں کرے گی اور اپنا نیا نیٹ ورک تیار کرے گی۔

    ایک اور اسرائیلی شہری کا کہنا تھا کہ سیز فائر معاہدے کے باوجود سب سے بڑا خطرہ سکیورٹی کا ہے، یہ دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم کہاں رہ رہے ہیں، ہمیں نا تو امریکیوں اور نا ہی لبنانی فورسز پر بھروسہ ہے کہ وہ سرحد پر امن و امان قائم کریں گے، ہمیں صرف اپنی فوج پر بھروسہ ہے، اگر اسرائیلی فورسز یہاں کا کنٹرول نہیں سنبھالتیں تو یہ بہت ہی مشکل ہے کہ شہری واپس جائیں۔

  • امریکی اور فرانسیسی صدور جلد ہی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کریں گے

    امریکی اور فرانسیسی صدور جلد ہی اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کریں گے

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانویل میکروں کی جانب سے 36 گھنٹوں کے اندر لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا اعلان متوقع ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک امریکی اہلکار نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ صدر بائیڈن منگل کو یہ اعلان کریں گے کہ امریکہ اور فرانس نے لبنان میں جنگ بندی کر دی ہے، جس سے وہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی ختم ہو جائے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ "ہم جنگ بندی کے قریب ہیں، لیکن سب کچھ طے ہونے تک کسی چیز کا اعلان نہیں کیا جائے گا”۔

    فرانسیسی ایوان صدر نے کہا کہ جنگ بندی پر بات چیت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے یروشلم میں ایک سینیر اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ حکومت حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری کے لیے آج منگل کو اہم اجلاس منعقد کررہی ہے۔

    سفارتی حل کے قریب ہونے کے ساتھ اسرائیل نے دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر اپنے فضائی حملے تیز کردیے ہیں،اقوام متحدہ میں اسرائیل کے ایلچی ڈینی ڈینن نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی معاہدے کے تحت جنوبی لبنان پر حملہ کرنے کی صلا حیت برقرار رکھے گا۔ لبنان نے پہلے بھی زبانی طورپر اسرائیل کو یہ حق دینے پر اعتراض کیا تھا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان خلیج کافی حد تک کم ہو گئی ہے لیکن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ابھی بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے بہت سے معاملات معاہدے کے آخری مراحل سب سے مشکل ہوتے ہیں کیونکہ کانٹے دار معاملات آخر تک رہ جاتے ہیں۔ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں”۔

    سفارتی دباؤ کا مقصد حزب اللہ کو مجبور کرنا ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہےاس نے اکتوبر 2023ء میں غزہ میں اسرائیلی جنگ شروع ہونے کے بعد حماس کی حمایت میں شمالی اسرائیل پر حملے شروع کردیے تھے-

    اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے ان اطلاعات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ اسرائیل اور لبنان نے جنگ بندی معاہدے کے متن پر اتفاق کیا ہے لیکن سینیر اسرائیلی اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ کابینہ کے منگل کو ہونے والے اجلاس کا مقصد معاہدے کی منظوری دینا ہے۔

    لبنانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی سپیکر الیاس بو صعب نے روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے آغاز میں اب کوئی "سنگین رکاوٹیں”باقی نہیں ہیں البتہ اگرنیتن یاہو نے اپنے سوچ بدل دی تو معاہدہ نہیں ہوگا، اس تجویز میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء اور سرحدی علاقے میں لبنانی فوج کی باقاعدہ افواج کی تعیناتی کی شرط رکھی گئی ہے، جنگ بندی کی نگرانی کون کرے گا اس پر اختلاف کا ایک نکتہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران فرانس سمیت 5 ممالک کی ایک کمیٹی بنانے پر اتفاق کرتے ہوئے حل کیا گیا جس کی سربراہی امریکہ کر رہا ہے۔

  • اسرائیلی وزیر اعظم نے  حزب اللہ کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کی منظوری دیدی

    اسرائیلی وزیر اعظم نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کی منظوری دیدی

    تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنانی گروپ حزب اللہ کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کی ”اصولی طور پر“ منظوری دیدی ہے ۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ادارے کے مطابق معاہدے کے حوالے سے فریقین میں اہم امور پرابتدائی بات چیت جاری ہے ، جس کے بعد حتمی معاہدے کا اعلان کیا جائے گا،یہودیوں کا کہنا ہے کہ معاہدے کے حوالے سے اسرائیلی کابینہ کو جنگ بندی کے معاہدے کی منظوری دینا چاہیے، مسائل حل ہونے تک معاہدے کو حتمی نہ سمجھا جائے گا ۔

    ترجمان اسرائیلی حکومت نے کہا کہ ہم معاہدے کی جانب تیزی سے بڑھ رہے ہیں، لیکن ابھی کچھ مسائل حل کرنا باقی ہے، ہماری بات چیت معاہدے کی طرف جا رہی ہے، لیکن حزب اللہ کی ایک غلطی بات چیت کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے۔

    گزشتہ ہفتے امریکی ایلچی آموس ہوچسٹین نے مذاکرات کی پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے دورہ بیروت کے دوران کہا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ”ہماری گرفت میں“ ہے،معاہدہ بالآخر ”فریقین کا فیصلہ“ ہے، ہمارے پاس تنازعات کو ختم کرنے کا حقیقی موقع موجود ہے۔

  • اسرائیل کے لبنان میں 145 مقامات پر حملے، حزب اللہ ترجمان شہید

    اسرائیل کے لبنان میں 145 مقامات پر حملے، حزب اللہ ترجمان شہید

    اسرائیلی فوج نے لبنان پر بڑے پیمانے پر حملہ کرتے ہوئے گزشتہ 24 گھنٹوں میں 145 سے زائد مقامات پر بمباری کی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، حملے میں رہائشی عمارتیں، گرجا گھر، اور طبی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹس کے مطابق، حملوں کے نتیجے میں ایک شامی فوجی اور حزب اللہ کے میڈیا ترجمان محمد عفیف سمیت 60 سے زائد افراد شہید ہوگئے۔ لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے جواب میں شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جس سے کئی رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔

    اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز بیروت کے ایک رہائشی علاقے پر فضائی حملے کیے جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے ترجمان محمد عفیف شہید ہوئے، محمد عفیف حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کے بھی مشیر رہ چکے تھے جب کہ وہ 2014 سے حزب اللہ کے ترجمان کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے،اسرائیلی حملے کے وقت محمد عفیف حزب اللہ کی حمایت یافتہ جماعت باتھ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں موجود تھے۔

    دوسری جانب غزہ میں بھی اسرائیلی حملوں میں شدت آگئی ہے۔ بیت لاحیہ، نصیرات، اور بُریج پناہ گزین کیمپوں پر شدید بمباری میں 100 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ شمالی غزہ میں حماس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے 2 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور ایک کو شدید زخمی کر دیا، جبکہ کئی اسرائیلی ٹینک بھی تباہ کیے گئے۔

    یہ حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان جھڑپوں میں تیزی آ رہی ہے

    قبل ازیں لبنان کی حزب اللہ نے ہفتے کے روز صیہونی حکومت کے اہم ٹھکانوں پر اپنے نئے میزائل حملوں کی خبر دی ہے،حزب اللہ نے کہا ہے کہ غزہ کے عوام اور فلسطینی مزاحمت کی حمایت اور لبنان اور اس کے عوام کے دفاع میں شمالی عکا میں شراگا بیس (گولانی بریگیڈ کمانڈ کا مینیجنگ ہیڈکوارٹر) کو میزائل کا نشانہ بنایا گیا ہے، یعرا بیرک میں مغربی بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر میں فوج کے اجتماع پر میزائل حملہ کیا، حزب اللہ نے سٹیلا مارس نیول بیس (شمالی ساحل پر اسٹریٹجک اور نگرانی کا اڈہ) پر کئی راکٹوں کے ساتھ حملہ کیا جو لبنان کی سرحد سے 35 کلومیٹر اور شمال مغربی حیفہ میں واقع ہے، بیک وقت الجلیل اور خلیج حیفا پر 150 راکٹ فائر کیے ہیں۔

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • لبنان میں پیجر دھماکے ہم نے کروائے،اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    لبنان میں پیجر دھماکے ہم نے کروائے،اسرائیلی وزیراعظم کا اعتراف

    لبنان میں پیجر دھماکے اسرائیل نے ہی کروائے، اسرائیلی وزیراعظم نے اعتراف کر لیا، اسرائیلی وزیراعظم نے حزب اللہ سربراہ حسن نصراللہ پر حملے کا بھی اعتراف کر لیا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ حزب اللہ کی کمیونیکیشن ڈیوائس میں دھماکوں اور حسن نصراللہ پرحملوں کے پیچھے اسرائیل تھا،یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسرائیلی عہدیدار نے لبنان میں پیجر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ،اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹایا تھا جس کے بعد اسرائیلی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں اسرائیلی وزیراعظم نے اعتراف کیا اور بتایا کہ انہوں نے حملوں پر اصرار کیا تھا جبکہ سابق وزیر دفاع حملوں کے خلاف تھے

    واضح رہے کہ 17 ستمبر کو لبنان کے مختلف علاقوں میں پیجر ڈیوائسز میں دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے،

    بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    لبنان پیجر بم دھماکوں میں ملوث انڈین نژاد نارویجن شخص کے بین الاقوامی سرچ وارنٹ جاری

    صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر پیجر پھٹنے سے کریش ہوا،ایرانی رکن پارلیمنٹ کا دعویٰ

    لبنان پیجر دھماکے،بھارت بھی ملوث نکلا،تہلکہ خیز انکشاف

    اسرائیل کا پیجرز میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔