Baaghi TV

Tag: حزب اللہ

  • اسرائیلی بمباری: حسن نصر اللہ کے چچا اپنے 3 بیٹوں اور ایک پوتے سمیت شہید

    اسرائیلی بمباری: حسن نصر اللہ کے چچا اپنے 3 بیٹوں اور ایک پوتے سمیت شہید

    لبنان کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی بمباری میں حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصر اللہ کے چچا اپنے 3 بیٹوں اور ایک پوتے سمیت شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیارے نے جنوبی لبنان کے ضلع صور کے قصبے البزوریہ جو حسن نصر اللہ کی جائے پیدائش بھی ہے کے ایک گھر پر بمباری کی جس میں 4 افراد شہید ہوگئے، اس گھر کو حسن نصر اللہ کا آبائی گھر بھی کہا جاتا ہے اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والوں میں حسن نصر اللہ کے چچا، ان کے 3 بیٹے اور ایک پوتا شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ ستمبر کے مہینے میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ لبنان میں تنظیم کے ہیڈکوارٹر پر اسرائیلی بمباری میں اپنے دو ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے تھے جس کے بعد ان کے جانشین کے لیے مضبوط ترین امیدوار ہاشم صفی الدین کو بھی اسرائیل نے ایک حملے میں شہید کردیا تھا، حزب اللہ کے ان قائدین کی شہادتوں کے بعد عبوری سربراہ قاسم نعیم کو تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔

    خضدار میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن ،2 دہشتگرد ہلاک

  • حزب اللہ نے نعیم قاسم کو نیا سربراہ منتخب کر لیا

    حزب اللہ نے نعیم قاسم کو نیا سربراہ منتخب کر لیا

    لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے نعیم قاسم کو اپنا نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔

    اس سے پہلے، حسن نصراللّٰہ کی شہادت کے بعد، حزب اللّٰہ نے سینئر رہنما شیخ نعیم قاسم کو عارضی سربراہ مقرر کیا تھا۔ حزب اللّٰہ کے متوقع سربراہ ہاشم صفی الدین اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ہاشم صفی الدین کو 3 ہفتے پہلے بیروت میں حملے کے دوران نشانہ بنایا تھا۔ ہاشم صفی الدین حزب اللّٰہ کے سابق سربراہ حسن نصراللّٰہ کے کزن تھے۔

    یاد رہے کہ اسرائیلی فوج نے بیروت میں بمباری کے نتیجے میں حسن نصراللّٰہ کی شہادت کا دعویٰ کیا تھا، جس کی بعد میں حزب اللّٰہ نے بھی تصدیق کی اور اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ حزب اللّٰہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ حسن نصراللّٰہ شہید ہو گئے ہیں اور یہ کہ اسرائیل کے خلاف غزہ اور فلسطین کی حمایت میں جنگ جاری رہے گی، اور لبنان اور اس کے لوگوں کے دفاع میں بھی یہ جنگ جاری رہے گی۔

    حزب اللہ کے نئے سربراہ نعیم قاسم کا مختصر تعارف
    نعیم قاسم کو حزب اللہ کے سربراہ مقرر کیا گیا ہے ان کی پیدائش 1961 میں لبنان کے شہر بعلبک میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے ابتدائی تعلیم و تربیت لبنان میں حاصل کی اور بعد میں حوزہ علمیہ قم، ایران میں دینی تعلیم حاصل کی۔ نعیم قاسم نے حزب اللہ کے نظریات کو پھیلانے اور تنظیم کی سیاسی حکمت عملیوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کی سیاسی شاخ کی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر 2005 کے پارلیمانی انتخابات میں۔نعیم قاسم نے حزب اللہ کی فوجی کارروائیوں میں بھی حصہ لیا ہے، خاص طور پر 2006 کی لبنان جنگ کے دوران، جہاں حزب اللہ نے اسرائیلی افواج کے خلاف مضبوط مزاحمت کی۔ ان کی قیادت میں حزب اللہ نے مختلف فوجی حکمت عملیوں کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ نعیم قاسم کی حیثیت صرف لبنان تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ عالمی سطح پر بھی حزب اللہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کے بیانات میں اکثر ایران، شام اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ حزب اللہ کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا جاتا ہے۔ حال ہی میں، نعیم قاسم نے اسرائیل کے خلاف حزب اللہ کی مضبوطی اور لبنان میں استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔نعیم قاسم حزب اللہ کے ایک مرکزی اور بااثر رہنما ہیں۔ ان کی قیادت میں حزب اللہ نے نہ صرف سیاسی میدان میں بلکہ فوجی سطح پر بھی اپنی موجودگی کو مستحکم کیا ہے۔ ان کا کردار لبنان کی سیاست اور خطے کی جغرافیائی صورتحال میں اہمیت کا حامل ہے۔

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

    مناہل ملک کی لیک”نازیبا "ویڈیو اصلی،مفتی قوی بھی میدان میں آ گئے

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی "نازیبا ویڈیو”کی ہلچل تیسرے روز بھی جاری

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • اسرائیلی فوج  کا حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ

    بیروت: اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کے قائم مقام سربراہ ہاشم صفی الدین کو بھی شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہےکہ ہاشم صفی الدین کو تین ہفتے پہلے بیروت پر حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا-

    ہاشم صفی الدین حزب اللہ کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کے کزن ہیں اور سید حسن نصراللہ کو اس سے پہلے شہید کیا جا چکا ہے یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے سابق سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کے بعد حزب اللہ کے اعلیٰ ترین سیاسی عہدیدار کے قتل کی تصدیق کی، تاہم حزب اللہ کی جانب سے ابھی تک اسرائیل کے اس دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ جنگ جاری رہنے تک مذاکرات سے صاف انکار کر دیا،حزب اللہ کے میڈیا ونگ کے سربراہ محمد عفیف نے بیروت کے جنوبی مضافات میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم نیتن یاہو کے گھر کو نشانہ بنانے کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

    بجلی استعمال ہو نہ ہو کپیسٹی پیمنٹ کرنا پڑےگی،نپیرا نے کے الیکٹرک صارفین پر بم …

    محمد عفیف نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پچھلی بار ہمارے ہاتھ آپ تک نہ پہنچ سکے لیکن ہمارے درمیان میدانِ جنگ باقی ہے اسرائیل نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی کے دوران ہمارے کچھ جنگجوؤں کو حراست میں لے لیا اور اب ان کی خیریت کا وہی ذمہ دار ہے، اگرچہ حزب اللہ نے کسی اسرائیلی فوجی کو گرفتار نہیں کیا لیکن اب قریب آگئے ہیں، دشمن کے اسیر ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

    واضح رہے کہ غزہ پر 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد جہاں اسرائیلی فوج نے فلطسینیوں کی نسل کشی شروع کی وہیں لبنان پر بھی اس کے کچھ عرصے بعد حملے شروع کیے گئے جن میں اب تک ڈھائی ہزار سے زائد لبنانی جاں بحق ہوچکے ہیں اور 12 ہزار کے قریب زخمی ہیں۔

    40 فیصد مقدمات آئینی بنچوں کو منتقل کئے جائیں گے

  • اسرائیلی حملے کا خدشہ: حزب اللہ کے عبوری سربراہ ایران منتقل

    اسرائیلی حملے کا خدشہ: حزب اللہ کے عبوری سربراہ ایران منتقل

    بیروت: لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم ممکنہ اسرائیلی حملوں کے پیش نظر لبنان سے ایران منتقل ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم 5 اکتوبر کو ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے زیر استعمال طیارے میں بیروت سے تہران کے لیے روانہ ہوئے ایرانی وزیر خارجہ اُن دنوں لبنان اور شام کے سرکاری دورے پر آئے تھے۔ تاہم حزب اللہ اور ایران کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نعیم قاسم نے 27 ستمبر کو اسرائیل کے ہاتھوں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے قتل کے بعد سے 3 تقاریر کی جن میں سے دو تقریریں ایران سے کیں، ایرانی اعلیٰ قیادت کی جانب سے حزب اللہ کے عبوری سربراہ کو اسرائیلی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے نعیم قاسم کو بیروت سے تہران منتقل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ رہے کہ حماس کے ساتھ جنگ ​​کے آغاز سے لے کر اب تک اسرائیل حسن نصر اللہ سمیت حزب اللہ کے کئی صف اوّل کے رہنماؤں کو قتل کرچکا ہےحزب اللہ کی موجودہ قیادت میں سے عبوری سربراہ نعیم قاسم وہ واحد رہنما ہیں جو تنظیم کے بانی ارکان میں سے ہیں اور عوام میں نہایت مقبول ہیں۔

  • جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کی جھڑپ، تین اسرائیلی فوجی ہلاک ، بارہ زخمی

    جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کی جھڑپ، تین اسرائیلی فوجی ہلاک ، بارہ زخمی

    لبنان: حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر 90 سے زیادہ راکٹ اور ڈرون داغ دیئے-

    باغی ٹی وی : صیہونی جارحیت کیخلاف جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کی شدید جھڑپوں کے نتیجے مین تین اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوگئے، شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے 90 سے زائد راکٹ اور ڈرون حملون میں بھی 4 اسرائیلی زخمی ہوگئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

    دوسری جانب اسرائیلی طیاروں کی جنوبی لبنان میں سرکاری عمارت پر بمباری میں مقامی میئر سمیت 15 افراد شہید ہوگئے لبنانی شہر قانا میں گھر اور طبی مرکز اور الیمونہ قصبے پر اسرائیلی بمباری، 20 سے زیادہ افراد جاں بحق، چوبیس گھنٹوں میں 27 افراد جاں بحق ہوگئے، اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے زیر زمین اسلحہ ڈپو کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    جنوبی لبنان کے شہر النبطیہ کی بلدیہ اور گرد ونواح کے علاقوں اسرائیل کے بے در پے فضائی حملوں کے جلو میں اسرائیلی فوج نے سمندر سے کی جانے والی گولہ باری کے مناظر کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخای اردعی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان مناظر پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے 146 ڈویژن میں شامل فوجیوں کے تعاون سے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دسیوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ایک الگ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے النبطیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے زیر انتظام متعدد اہداف پر کئی حملے کیے ہیں، بیان کے مطابق ’’ان حملوں میں حزب اللہ کے زیر زمین بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب شمالی اسرائیل کے علاقے الجلیل میں سائرن کی زور دار آواز سنائی دی گئی۔

    حزب اللہ نے اپنے بیان میں لبنانی سرحد کی رامیا میونسپلٹی کی حدود میں اسرائیلی ٹینک کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ بیان کے مطابق تباہ ہونے والا ٹینک مرکاوہ طرز کا تھا جس میں سوار فوجیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

    ادھر اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان پر نیچی پروازیں کرتے ہوئے ساؤنڈ بیرئر عبور کیا جس سے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جن سے شہر میں خوف وہراس پھیل گیا۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ اسی دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے حارہ حریک پر تین حملے کئے۔ جبکہ دو دن قبل ہی امریکہ نے بیروت پر اندھا دھند اسرائیلی بمباری کی مخالفت کی تھی۔

    ادھر غزہ پر بھی اسرائیلی فوج کی بمباری جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی جارحیت سے مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئےجبالیہ کیمپ پر بھی اسرائیلی محاصرہ بارہ روز سے جاری ہے جہاں لاکھوں فلسطینی محصور ہوکر رہ گئے۔

    غزہ کی بگڑتی انسانی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلالیا گیا ہے، امریکا نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کردیا ہے کہ اسرائیل ثابت کرے کہ اس کی غزہ میں فلسطینیوں کو بھوکا مارنے کی پالیسی نہیں ہے۔

    اس سے قبل امریکا اسرائیل کو واضح انداز میں کہہ چکا ہے کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی صورتحال 30 روز میں بہتر بنائے یا پھر امریکی فوجی امداد میں کٹوتی کیلئے تیار ہوجائے۔

  • حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے؟

    حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے؟

    اسرائیل پر لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے حملوں میں تیزی آگئی ہے ،جبکہ ریڈیو فری یورپ کی فارسی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کی طرف میزائل حملے کیے جس سے لاکھوں اسرائیلی شیلٹرز میں چلے گئے جب کہ خطرے کے پیش نظر تل ابیب کا بین گورین ائیرپورٹ بند کردیا گیا۔

    حزب اللہ نے اسرائیلی قصبے کامیئل پر راکٹوں سے حملے کیے جس کے نتیجے میں کئی اسرائیلی زخمی ہوگئے جبکہ حزب اللہ نے لبنانی قصبے عیتا الشعب میں بھی اسرائیلی فوج پر گائیڈڈ میزائلوں سے حملے کیے جس میں بھی کئی فوجی مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ادھر اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کا میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ شمالی اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے میڈیا دفتر پر بمباری کی گئی جس دوران 21 افراد شہیدہوگئے۔

    شہر جہاں ہر دوسری عورت جڑواں بچے پیدا کرتی ہے

    دوسری جانب "العربیہ” کے مطابق ریڈیو فری یورپ کی فارسی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے،ریڈیو کے عسکری امور کے نمائندے ڈورون کدوش نے فوجی ذرائع کی بنیاد پر پیر کے روز اپنی رپورٹ میں اشارہ کیا کہ حزب اللہ کے حالیہ ڈرون حملوں کی درستی کی ایک وجہ وہ تکنیکی مدد ہے جو حزب اللہ کو اسرائیلی فضائی حدود کا احاطہ کرنے والی براہ راست ایرانی سیٹلائٹ تصاویر سے حاصل ہوتی ہے۔

    اسرائیلی ریسرچ فاؤنڈیشن ’’ الما‘‘ جو حزب اللہ کے امور میں مہارت رکھتی ہے، نے وضاحت کی ہے کہ حزب اللہ نے اتوار کی شام اسرائیل پر حملے میں جو "مرصاد-1” ڈرون استعمال کیا تھا وہ ایرانی ’’ مہاجر 2‘‘ کے ماڈل پر تیار کیا گیا تھا۔

    ایس سی او کانفرنس:ٹریفک پلان جاری

    قبل ازیں اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا تھا کہ حزب اللہ کی طرف سے اتوار کو ایک فوجی تربیتی اڈے پر ڈرون سے کیا گیا حملہ "مشکل اور تکلیف دہ” تھا۔

  • حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کے اسرائیل پر تباہ کن حملے کو ایک سال بیت گیا، اسرائیل نے جوابی کاروائی کی، اسرائیل ایک سال گزرنے کے باوجود حماس سے اپنے یرغمالی رہا نہ کروا سکا، ایک برس کے عرصے میں اسرائیل نے حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا،

    حماس نے سات اکتوبر کو گزشتہ برس اسرائیل پر بڑا حملہ کیا تھا،اس حملے میں 12 سو سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس نے سات اکتوبر کی صبح ساڑھے چھ بجے 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کئے تھے،راکٹ حملوں کے بعد حماس جنگجوؤں نے اسرائیل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ بھی کی تھی، اس روز اسرائیل میں ایک مذہبی تہوار منایاجا رہا تھا، حماس نے اس حملے کے دورا سرائیلیوں کو یرغمال بھی بنایا تھا،حماس نے اس حملے کو فلڈ آف الاقصیٰ کا نام دیا تھا

    حماس کے اسرائیل پر بڑے حملے کے بعد اسرائیلی حکومت ،فوج ،سیکورٹی ادارے تنقید کا نشانہ بنتے رہے کہ اسرائیل حماس کے حملے سے بے خبر کیوں تھا؟ اسرائیل نے 8 اکتوبر کو حماس کے حملے کا جواب دیتے ہوئے فضائی حملہ کیا،اسرائیل نے آپریشن سورڈز آف آئرن شروع کیا اور غزہ کا مکمل محاصرہ شروع کر دیا اور غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں رہنے والے تقریباً 15 لاکھ لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا،اسرائیل نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی، اسرائیل حملوں کا آج بھی سلسلہ جاری ہے، غزہ میں ایک برس میں قیامت برپا رہی،غزہ کے لوگ پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہیں،غزہ کی تقریباً 70 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں،ہسپتالوں، سکولوں کو بھی اسرائیل نے نشانہ بنایا، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں اب تک 42 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 16,765 بچے ہیں، تقریباً 98 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں، 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں ،تل ابیب میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 8,730 زخمی ہو چکے ہیں ، اسرائیلی حملے کے باعث غزہ کی پٹی میں اب تک 80 فیصد تجارتی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ 87 فیصد سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، غزہ کی پٹی میں 144,000 سے 175,000 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، 36 میں سے صرف 17 ہسپتال کام کر رہے ہیں، سڑکوں کا 68 فیصد نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور کھیتی کے لیے موزوں 68 فیصد زمین بنجر ہو چکی ہے،غزہ کی جی ڈی پی میں 81 فیصد کمی آئی ہے۔ 2.01 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں،تقریباً 20 لاکھ لوگ بے گھر ہیں، 85 ہزار فلسطینی مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک برس کے دوران حزب اللہ ، حوثی اور ایرانی حکومت سے بھی پنگا لے لیا، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ،حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہوئی،جس کے بعد ایران کی جانب سے حملوں نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ،جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اسرائیل آج بھی مغربی ممالک کی جانب مدد کے لئے دیکھ رہا ہے اور اتنے فلسطینوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل اپنے تمام یرغمالی نہیں رہا کروا پایا ہے،اسرائیل گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں ٹن بم برسانے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ زمینی کارروائی کرنے کے باوجود غزہ سے حماس کا وجود ختم نہیں کرسکا اور اسے آج بھی غزہ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،غزہ جنگ اب لبنان سے آگے شام، عراق تک پہنچ چکی ہے،ایرانی حملوں کے بعد ممکنہ اسرائیلی ردعمل کے بعد اس جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں نے جنگ بندی کی کئی کوششیں کیں مگر سب رائیگاں رہیں اور اسرائیل حماس کے وجود کو ختم کیے بغیر مستقل جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا،نومبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد 4 روزہ جنگ بندی پر دونوں فریقین نے عالمی ثالثوں کی موجودگی میں اتفاق کیا اور اس دوران دونوں اطراف سے قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا مگر بعد ازاں جنگ دوبارہ شروع ہوگئی،بعد ازاں امریکی صدر جوبائیڈن اور دیگر ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کئی کوششیں کی گئیں اور ایک موقع پر اسرائیل اور حماس دونوں امریکی صدر کی پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز اور اس کے نکات پر آمادہ بھی ہوئے مگر اسرائیل کے پیچھے ہٹ جانے اور مستقل جنگ بندی نہ کرنے کے باعث معاہدہ نہ ہوسکا۔

    حماس،اسرائیل مذاکرات ختم، جنگ بندی نہ ہو سکی

     حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • حوثیوں کے ڈرون حملے، متعدد اسرائیلی زخمی

    حوثیوں کے ڈرون حملے، متعدد اسرائیلی زخمی

    یمن کے حوثیوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر ڈرون حملے کر دیے، شیلٹرز کی طرف بھاگنے والے متعدد اسرائیلی زخمی ہوگئے، تل ابیب میں چار زور دار دھماکے سنے گئے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کی صبح تل ابیب کو 5 ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کی کامیاب کارروائی کا اعلان کیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ 2 ڈرون تل ابیب تک پہنچے۔یحییٰ سریع نے المسیرہ ٹی وی پر نشر کیے گئے بیان میں کہا کہ یافا کے ایک اہم ہدف کو متعدد ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا گیا، یہ کارروائی کامیاب رہی کیونکہ ڈرون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ہدف تک پہنچے اور دشمن انہیں نہیں گرا سکا۔انہوں نے مزید کہا کہ یافا کی یہ کارروائی "الفتح الموعود والجهاد المقدس” کے پانچویں مرحلے کا حصہ ہے اور یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک غزہ اور لبنان پر حملے بند نہیں ہو جاتے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے تل ابیب کے جنوب میں واقع بات یام کے علاقے میں دو ڈرون طیاروں کا پتہ لگایا، جن میں سے ایک کو تباہ کر دیا گیا جبکہ دوسرا ایک کھلی جگہ پر جا کر گرا۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں میونسپلٹی کی عمارت پر حملے میں حزب اللّٰہ کے 15 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے داغے گئے دو ڈرونز اور راکٹوں میں متعدد مار گرائے۔بیروت کے گنجان آباد علاقے میں اسرائیلی حملے میں حزب اللّٰہ سے منسلک طبی ادارے کے 6 ارکان شہید ہوگئے، 24 گھنٹوں کے دوران 46 لبنانی شہید اور 85 زخمی ہوئے۔ لبنان میں گھسنے کی کوشش پر اسرائیل نے ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی، صہیونی فوج کے تین ٹینک تباہ کردیے گئے۔غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کی، جس میں مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 41,788 افراد شہید اور 96,794 زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

  • شام پر اسرائیل کا فضائی حملہ،حسن نصر اللہ کے داماد شہید

    شام پر اسرائیل کا فضائی حملہ،حسن نصر اللہ کے داماد شہید

    شام پر اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے سابق سربراہ شہید حسن نصر اللہ کے داماد حسن جعفر قصیر شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق حسن نصر اللہ کے داماد حزب اللہ کے سینیئر رکن اور یونٹ 4400 کے کمانڈر محمد جعفر قصیر کے بھائی تھے حزب اللہ کے داماد حسن جعفر قصیر ایک روز قبل ہی شام کے دارالحکومت پہنچے تھے ،حسن نصر اللہ کے داماد کے بھائی محمد جعفر قصیر کو بھی گزشتہ روز فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ محمد جعفر قصیر ایران کے نہایت قریب تھے اور ایران سے جنگی اسلحہ لانے کے ذمہ دار تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مرکزی علاقے میں پارلیمنٹ سے محض کچھ میٹر فاصلے پر ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا ہے جس میں کم از کم پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ بدھ کو ایران نے اسرائیل کی جانب 180 میزائل داغے تھے جبکہ شمالی لبنان میں اسرائیلی کی زمینی کارروائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

    لبنان کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں مرکزی بیروت کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں حزب اللہ سے منسلک ایک طبی مرکز قائم تھا۔

    دوسری جانب یمن سے حوثیوں نے تل ابیب میں پانچ ڈرون حملے کیے جس سے اسرائیل کا دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھازمینی کارروائی میں ناکامی پر صہیونی فوج کے لبنان پر فضائی حملے کیے اور چوبیس گھنٹے میں چھیالیس سے زائد شہری شہید کردیےلبنانی سرحد کے قریب شیلنگ میں مصروف اسرائیلی ہیلی کاپٹر پرحزب اللہ کا جوابی حملہ ہونے پر ہیلی کاپٹر رفوچکر ہوگیا۔

  • حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللّٰہ نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹٰی وی کو موصول غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنانی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے قصبے میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر "بڑی تعداد میں” راکٹ داغے ہیں۔حزب اللّٰہ نے گائیڈڈ میزائلوں سے اسرائیل کے جدید ترین مرکاوا ٹینکس تباہ کرنے اور اسرائیلی ہیلی کاپٹر پر شیلنگ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کی اسرائیلی فوج سے شدید جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے جھڑپوں میں ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔

    لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مزید 60 افراد شہید ہوگئے، اب تک 1800 سے زیادہ جاں بحق اور 12 لاکھ سے زیادہ لبنانی بے گھر ہوگئے، اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا.غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے اب تک مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق میں بھی فضائی حملہ کیا، جس میں 3 شامی شہری جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔

    مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں،پاکستان کی بین الاقوامی برادری سے اپیل