Baaghi TV

Tag: حزب اللہ

  • جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کی جھڑپ، تین اسرائیلی فوجی ہلاک ، بارہ زخمی

    جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کی جھڑپ، تین اسرائیلی فوجی ہلاک ، بارہ زخمی

    لبنان: حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر 90 سے زیادہ راکٹ اور ڈرون داغ دیئے-

    باغی ٹی وی : صیہونی جارحیت کیخلاف جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کی شدید جھڑپوں کے نتیجے مین تین اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ بارہ زخمی ہوگئے، شمالی اسرائیل پر حزب اللہ کے 90 سے زائد راکٹ اور ڈرون حملون میں بھی 4 اسرائیلی زخمی ہوگئے اور املاک کو بھی نقصان پہنچا۔

    دوسری جانب اسرائیلی طیاروں کی جنوبی لبنان میں سرکاری عمارت پر بمباری میں مقامی میئر سمیت 15 افراد شہید ہوگئے لبنانی شہر قانا میں گھر اور طبی مرکز اور الیمونہ قصبے پر اسرائیلی بمباری، 20 سے زیادہ افراد جاں بحق، چوبیس گھنٹوں میں 27 افراد جاں بحق ہوگئے، اسرائیل نے بیروت میں حزب اللہ کے زیر زمین اسلحہ ڈپو کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    جنوبی لبنان کے شہر النبطیہ کی بلدیہ اور گرد ونواح کے علاقوں اسرائیل کے بے در پے فضائی حملوں کے جلو میں اسرائیلی فوج نے سمندر سے کی جانے والی گولہ باری کے مناظر کی ویڈیو بھی جاری کر دی ہے۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان افیخای اردعی نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ان مناظر پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے 146 ڈویژن میں شامل فوجیوں کے تعاون سے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے دسیوں اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج نے ایک الگ بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے فوجیوں نے النبطیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے زیر انتظام متعدد اہداف پر کئی حملے کیے ہیں، بیان کے مطابق ’’ان حملوں میں حزب اللہ کے زیر زمین بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب شمالی اسرائیل کے علاقے الجلیل میں سائرن کی زور دار آواز سنائی دی گئی۔

    حزب اللہ نے اپنے بیان میں لبنانی سرحد کی رامیا میونسپلٹی کی حدود میں اسرائیلی ٹینک کو نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے۔ بیان کے مطابق تباہ ہونے والا ٹینک مرکاوہ طرز کا تھا جس میں سوار فوجیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے سے متعلق اطلاعات کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

    ادھر اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے جنوبی لبنان پر نیچی پروازیں کرتے ہوئے ساؤنڈ بیرئر عبور کیا جس سے زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں جن سے شہر میں خوف وہراس پھیل گیا۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ اسی دوران اسرائیلی جنگی طیاروں نے حارہ حریک پر تین حملے کئے۔ جبکہ دو دن قبل ہی امریکہ نے بیروت پر اندھا دھند اسرائیلی بمباری کی مخالفت کی تھی۔

    ادھر غزہ پر بھی اسرائیلی فوج کی بمباری جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی جارحیت سے مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئےجبالیہ کیمپ پر بھی اسرائیلی محاصرہ بارہ روز سے جاری ہے جہاں لاکھوں فلسطینی محصور ہوکر رہ گئے۔

    غزہ کی بگڑتی انسانی صورتحال پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلالیا گیا ہے، امریکا نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کردیا ہے کہ اسرائیل ثابت کرے کہ اس کی غزہ میں فلسطینیوں کو بھوکا مارنے کی پالیسی نہیں ہے۔

    اس سے قبل امریکا اسرائیل کو واضح انداز میں کہہ چکا ہے کہ اسرائیل غزہ میں امداد کی صورتحال 30 روز میں بہتر بنائے یا پھر امریکی فوجی امداد میں کٹوتی کیلئے تیار ہوجائے۔

  • حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے؟

    حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے؟

    اسرائیل پر لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے حملوں میں تیزی آگئی ہے ،جبکہ ریڈیو فری یورپ کی فارسی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کی طرف میزائل حملے کیے جس سے لاکھوں اسرائیلی شیلٹرز میں چلے گئے جب کہ خطرے کے پیش نظر تل ابیب کا بین گورین ائیرپورٹ بند کردیا گیا۔

    حزب اللہ نے اسرائیلی قصبے کامیئل پر راکٹوں سے حملے کیے جس کے نتیجے میں کئی اسرائیلی زخمی ہوگئے جبکہ حزب اللہ نے لبنانی قصبے عیتا الشعب میں بھی اسرائیلی فوج پر گائیڈڈ میزائلوں سے حملے کیے جس میں بھی کئی فوجی مارے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ادھر اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کا میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جب کہ شمالی اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے میڈیا دفتر پر بمباری کی گئی جس دوران 21 افراد شہیدہوگئے۔

    شہر جہاں ہر دوسری عورت جڑواں بچے پیدا کرتی ہے

    دوسری جانب "العربیہ” کے مطابق ریڈیو فری یورپ کی فارسی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیلی آرمی ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کے خلاف ڈرون حملوں میں ایرانی سیٹلائٹ استعمال کر رہی ہے،ریڈیو کے عسکری امور کے نمائندے ڈورون کدوش نے فوجی ذرائع کی بنیاد پر پیر کے روز اپنی رپورٹ میں اشارہ کیا کہ حزب اللہ کے حالیہ ڈرون حملوں کی درستی کی ایک وجہ وہ تکنیکی مدد ہے جو حزب اللہ کو اسرائیلی فضائی حدود کا احاطہ کرنے والی براہ راست ایرانی سیٹلائٹ تصاویر سے حاصل ہوتی ہے۔

    اسرائیلی ریسرچ فاؤنڈیشن ’’ الما‘‘ جو حزب اللہ کے امور میں مہارت رکھتی ہے، نے وضاحت کی ہے کہ حزب اللہ نے اتوار کی شام اسرائیل پر حملے میں جو "مرصاد-1” ڈرون استعمال کیا تھا وہ ایرانی ’’ مہاجر 2‘‘ کے ماڈل پر تیار کیا گیا تھا۔

    ایس سی او کانفرنس:ٹریفک پلان جاری

    قبل ازیں اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف ہرزی ہیلیوی نے کہا تھا کہ حزب اللہ کی طرف سے اتوار کو ایک فوجی تربیتی اڈے پر ڈرون سے کیا گیا حملہ "مشکل اور تکلیف دہ” تھا۔

  • حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کا حملہ اور اسرائیل کی کاروائی،ایک برس مکمل،یرغمالی رہا نہ ہو سکے

    حماس کے اسرائیل پر تباہ کن حملے کو ایک سال بیت گیا، اسرائیل نے جوابی کاروائی کی، اسرائیل ایک سال گزرنے کے باوجود حماس سے اپنے یرغمالی رہا نہ کروا سکا، ایک برس کے عرصے میں اسرائیل نے حماس رہنماؤں کو نشانہ بنایا،

    حماس نے سات اکتوبر کو گزشتہ برس اسرائیل پر بڑا حملہ کیا تھا،اس حملے میں 12 سو سے زائد اسرائیلی ہلاک جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا،حماس نے سات اکتوبر کی صبح ساڑھے چھ بجے 5 ہزار سے زائد راکٹ فائر کئے تھے،راکٹ حملوں کے بعد حماس جنگجوؤں نے اسرائیل میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ بھی کی تھی، اس روز اسرائیل میں ایک مذہبی تہوار منایاجا رہا تھا، حماس نے اس حملے کے دورا سرائیلیوں کو یرغمال بھی بنایا تھا،حماس نے اس حملے کو فلڈ آف الاقصیٰ کا نام دیا تھا

    حماس کے اسرائیل پر بڑے حملے کے بعد اسرائیلی حکومت ،فوج ،سیکورٹی ادارے تنقید کا نشانہ بنتے رہے کہ اسرائیل حماس کے حملے سے بے خبر کیوں تھا؟ اسرائیل نے 8 اکتوبر کو حماس کے حملے کا جواب دیتے ہوئے فضائی حملہ کیا،اسرائیل نے آپریشن سورڈز آف آئرن شروع کیا اور غزہ کا مکمل محاصرہ شروع کر دیا اور غزہ کی پٹی کے شمالی حصے میں رہنے والے تقریباً 15 لاکھ لوگوں کو اپنے گھر خالی کرنے کا حکم دیا،اسرائیل نے غزہ پر تباہ کن بمباری کی، اسرائیل حملوں کا آج بھی سلسلہ جاری ہے، غزہ میں ایک برس میں قیامت برپا رہی،غزہ کے لوگ پانی، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی شدید قلت کا شکار ہیں،غزہ کی تقریباً 70 فیصد عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں،ہسپتالوں، سکولوں کو بھی اسرائیل نے نشانہ بنایا، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اس حملے میں اب تک 42 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 16,765 بچے ہیں، تقریباً 98 ہزار لوگ زخمی ہوئے ہیں، 10 ہزار سے زائد افراد لاپتہ ہیں ،تل ابیب میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور 8,730 زخمی ہو چکے ہیں ، اسرائیلی حملے کے باعث غزہ کی پٹی میں اب تک 80 فیصد تجارتی تنصیبات تباہ ہو چکی ہیں۔ 87 فیصد سکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں، غزہ کی پٹی میں 144,000 سے 175,000 عمارتوں کو نقصان پہنچا ، 36 میں سے صرف 17 ہسپتال کام کر رہے ہیں، سڑکوں کا 68 فیصد نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور کھیتی کے لیے موزوں 68 فیصد زمین بنجر ہو چکی ہے،غزہ کی جی ڈی پی میں 81 فیصد کمی آئی ہے۔ 2.01 لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں،تقریباً 20 لاکھ لوگ بے گھر ہیں، 85 ہزار فلسطینی مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک برس کے دوران حزب اللہ ، حوثی اور ایرانی حکومت سے بھی پنگا لے لیا، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ ،حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی شہادت ہوئی،جس کے بعد ایران کی جانب سے حملوں نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ،جنگ کے ایک سال مکمل ہونے پر اسرائیل آج بھی مغربی ممالک کی جانب مدد کے لئے دیکھ رہا ہے اور اتنے فلسطینوں کی ہلاکت کے باوجود اسرائیل اپنے تمام یرغمالی نہیں رہا کروا پایا ہے،اسرائیل گزشتہ ایک سال کے دوران ہزاروں ٹن بم برسانے اور ہزاروں فوجیوں کے ساتھ زمینی کارروائی کرنے کے باوجود غزہ سے حماس کا وجود ختم نہیں کرسکا اور اسے آج بھی غزہ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،غزہ جنگ اب لبنان سے آگے شام، عراق تک پہنچ چکی ہے،ایرانی حملوں کے بعد ممکنہ اسرائیلی ردعمل کے بعد اس جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

    غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں نے جنگ بندی کی کئی کوششیں کیں مگر سب رائیگاں رہیں اور اسرائیل حماس کے وجود کو ختم کیے بغیر مستقل جنگ بندی پر راضی نہیں ہوا،نومبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد 4 روزہ جنگ بندی پر دونوں فریقین نے عالمی ثالثوں کی موجودگی میں اتفاق کیا اور اس دوران دونوں اطراف سے قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا مگر بعد ازاں جنگ دوبارہ شروع ہوگئی،بعد ازاں امریکی صدر جوبائیڈن اور دیگر ممالک کی جانب سے جنگ بندی کی کئی کوششیں کی گئیں اور ایک موقع پر اسرائیل اور حماس دونوں امریکی صدر کی پیش کی گئی جنگ بندی تجاویز اور اس کے نکات پر آمادہ بھی ہوئے مگر اسرائیل کے پیچھے ہٹ جانے اور مستقل جنگ بندی نہ کرنے کے باعث معاہدہ نہ ہوسکا۔

    حماس،اسرائیل مذاکرات ختم، جنگ بندی نہ ہو سکی

     حماس نے نئے سربراہ کا اعلان کر دیا

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    مولانا فضل الرحمان سے حماس رہنماء کی ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت تہران کے گیسٹ ہاؤس میں نصب ریموٹ کنٹرول بم سے ہوئی، نیو یارک ٹائمز کا دعویٰ

  • حوثیوں کے ڈرون حملے، متعدد اسرائیلی زخمی

    حوثیوں کے ڈرون حملے، متعدد اسرائیلی زخمی

    یمن کے حوثیوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر ڈرون حملے کر دیے، شیلٹرز کی طرف بھاگنے والے متعدد اسرائیلی زخمی ہوگئے، تل ابیب میں چار زور دار دھماکے سنے گئے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کی صبح تل ابیب کو 5 ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کی کامیاب کارروائی کا اعلان کیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ 2 ڈرون تل ابیب تک پہنچے۔یحییٰ سریع نے المسیرہ ٹی وی پر نشر کیے گئے بیان میں کہا کہ یافا کے ایک اہم ہدف کو متعدد ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا گیا، یہ کارروائی کامیاب رہی کیونکہ ڈرون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ہدف تک پہنچے اور دشمن انہیں نہیں گرا سکا۔انہوں نے مزید کہا کہ یافا کی یہ کارروائی "الفتح الموعود والجهاد المقدس” کے پانچویں مرحلے کا حصہ ہے اور یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک غزہ اور لبنان پر حملے بند نہیں ہو جاتے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے تل ابیب کے جنوب میں واقع بات یام کے علاقے میں دو ڈرون طیاروں کا پتہ لگایا، جن میں سے ایک کو تباہ کر دیا گیا جبکہ دوسرا ایک کھلی جگہ پر جا کر گرا۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں میونسپلٹی کی عمارت پر حملے میں حزب اللّٰہ کے 15 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے داغے گئے دو ڈرونز اور راکٹوں میں متعدد مار گرائے۔بیروت کے گنجان آباد علاقے میں اسرائیلی حملے میں حزب اللّٰہ سے منسلک طبی ادارے کے 6 ارکان شہید ہوگئے، 24 گھنٹوں کے دوران 46 لبنانی شہید اور 85 زخمی ہوئے۔ لبنان میں گھسنے کی کوشش پر اسرائیل نے ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی، صہیونی فوج کے تین ٹینک تباہ کردیے گئے۔غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کی، جس میں مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 41,788 افراد شہید اور 96,794 زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

  • شام پر اسرائیل کا فضائی حملہ،حسن نصر اللہ کے داماد شہید

    شام پر اسرائیل کا فضائی حملہ،حسن نصر اللہ کے داماد شہید

    شام پر اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے سابق سربراہ شہید حسن نصر اللہ کے داماد حسن جعفر قصیر شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق حسن نصر اللہ کے داماد حزب اللہ کے سینیئر رکن اور یونٹ 4400 کے کمانڈر محمد جعفر قصیر کے بھائی تھے حزب اللہ کے داماد حسن جعفر قصیر ایک روز قبل ہی شام کے دارالحکومت پہنچے تھے ،حسن نصر اللہ کے داماد کے بھائی محمد جعفر قصیر کو بھی گزشتہ روز فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ محمد جعفر قصیر ایران کے نہایت قریب تھے اور ایران سے جنگی اسلحہ لانے کے ذمہ دار تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مرکزی علاقے میں پارلیمنٹ سے محض کچھ میٹر فاصلے پر ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا ہے جس میں کم از کم پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ بدھ کو ایران نے اسرائیل کی جانب 180 میزائل داغے تھے جبکہ شمالی لبنان میں اسرائیلی کی زمینی کارروائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

    لبنان کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں مرکزی بیروت کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں حزب اللہ سے منسلک ایک طبی مرکز قائم تھا۔

    دوسری جانب یمن سے حوثیوں نے تل ابیب میں پانچ ڈرون حملے کیے جس سے اسرائیل کا دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھازمینی کارروائی میں ناکامی پر صہیونی فوج کے لبنان پر فضائی حملے کیے اور چوبیس گھنٹے میں چھیالیس سے زائد شہری شہید کردیےلبنانی سرحد کے قریب شیلنگ میں مصروف اسرائیلی ہیلی کاپٹر پرحزب اللہ کا جوابی حملہ ہونے پر ہیلی کاپٹر رفوچکر ہوگیا۔

  • حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللّٰہ نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹٰی وی کو موصول غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنانی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے قصبے میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر "بڑی تعداد میں” راکٹ داغے ہیں۔حزب اللّٰہ نے گائیڈڈ میزائلوں سے اسرائیل کے جدید ترین مرکاوا ٹینکس تباہ کرنے اور اسرائیلی ہیلی کاپٹر پر شیلنگ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کی اسرائیلی فوج سے شدید جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے جھڑپوں میں ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔

    لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مزید 60 افراد شہید ہوگئے، اب تک 1800 سے زیادہ جاں بحق اور 12 لاکھ سے زیادہ لبنانی بے گھر ہوگئے، اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا.غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے اب تک مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق میں بھی فضائی حملہ کیا، جس میں 3 شامی شہری جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔

    مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں،پاکستان کی بین الاقوامی برادری سے اپیل

  • لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    بیروت: اسرائیل کی بری فوج حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے جنوبی لبنان کے اندر داخل ہوگئیں جہاں حزب اللہ جنگجوؤں نے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کر کے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔

    باغی ٹی وی : الجزیرہ کے مطابق حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے قصبے عودیسیہ میں دراندازی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کر کے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا،حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو پسپا ہونے سے قبل جھڑپ میں شدید نقصان اُٹھانا پڑا ہے، مالی اور جانی نقصان پر اسرائیلی فوجی بھاگ کھڑے ہوئے۔

    لبنانی خبر ایجنسی المیادین کا کہنا ہےکہ بدھ کی صبح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں 2 اسرائیلی سپاہی ہلاک اور 18 زخمی ہوئے جنہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسرائیلی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیل نے حزب اللہ کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم صیہونی میڈیا نے لبنان کے قصبے میں ایک سنگین سیکیورٹی واقعے کی اطلاع دی ہے جس میں شمال میں اسپتالوں کو الرٹ رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

    فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق لبنانی قصبے میں فوجی ہیلی کاپٹرز زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کر رہے ہیں، ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے اپنی فوج کی ڈویژن 98 جوکہ 10 سے 20 ہزار فوجیوں پر مشتمل ہے اسے لبنان کی سرحد پر تعینات کر رکھا ہے اور اسرائیل نے لبنان میں زمینی کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل بھی ایران پر میزائل حملے کا جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے، اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ چند روز میں اسرائیل حملہ کرے گا اور ایران کی تیل تنصیبات اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنائے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے حسن اللہ کو شہید کر دیا تھا اور اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم نے حسن اللہ کو مار کر بہت سے اسرائیلیوں کے قتل کا بدلہ لے لیا۔

    ایرانی میزائل موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر …

  • بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل نے حزب اللہ کو کمزور کرتے ہوئے لبنان میں دھماکہ خیز مواد بھیجنے کے لیے ایک شیل فرم کمپنی بنائی، جنرل دویدی نے اس اقدام کو ایک ”شاندار حکمت عملی“ قرار دیا۔

    بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جنگ کا آغاز اس وقت نہیں ہوتا جب آپ لڑنا شروع کرتے ہیں، بلکہ یہ جنگ اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ منصوبہ بندی شروع کرتے ہیں اسرائیل نے ایک چالاک انداز اپنایا “سب سے پہلے، انہوں نے حماس کو نشانہ بنایا، جو ان کے اہم دشمن تھے، پھر انہوں نے حزب اللہ پر توجہ مرکوز کی، حزب اللہ کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک شیل فرم کمپنی بنانے کی اسرائیل کی چال خالص ذہانت تھی۔

    جنرل دویدی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو اپنی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے ممکنہ رکاوٹوں کو روکنے یا کم کرنے کے لیے متعدد سطحوں کے معائنے کی اہمیت پر زور دیا۔

  • روس کی جانب سےحسن نصراللّٰہ کے قتل کی مذمت

    روس کی جانب سےحسن نصراللّٰہ کے قتل کی مذمت

    روس نے حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ کے قتل کی مذمت کر دی۔

    کریملن نے حسن نصر اللّٰہ کی شہادت پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں غزہ کی طرح ایک انسانی تباہی پیدا ہو رہی ہے، روس ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔کریملن کا کہنا ہے کہ لبنان میں رہائشی علاقوں پر اندھا دھند بم باری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔کریملن کے مطابق حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ کے قتل سے خطے کی صورتِ حال شدید عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہے۔کریملن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات تجارت سمیت تمام شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصراللّٰہ ایک روز قبل صیہونی فوج کی بمباری میں شہید ہوئے تھے۔

    کے الیکٹرک کی کاروائی، لاکھوں یونٹس بجلی چوری کرنیوالے کنڈے ختم

  • حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر عالمی برادری کا اظہارِ افسوس

    حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر عالمی برادری کا اظہارِ افسوس

    بیروت: لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر بعد عالمی برادری کی جانب سے اظہار افسوس کیاجا رہا ہے جبکہ غزہ اور لبنان پر اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج نے بیان جاری کیا تھا کہ آپریشن نیو آرڈر کے نام سے کی جانے والی کارروائی کے دوران بیروت کے داہیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز پر بمباری کے دوران ایک ٹن بارود والے 80 بم گرائے گئے ان حملوں میں حسن نصراللہ کی بیٹی زینب کے علاوہ حزب اللہ کے جنوبی فرنٹ کمانڈر علی الکرکی بھی شہید ہوئے،اسرائیلی فورسز نے یہ جاننے کے بعد کہ حسن نصراللہ بنکر میں موجود ہیں، بمباری مزید شدید کردی جس کے نتیجے میں ان کی شہادت واقع ہوئی۔

    ہفتے کو حزب اللہ نے سربراہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رہے گی، غزہ اور فلسطین کی حمایت، لبنان کے دفاع کیلئے اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق حزب اللہ سربراہ کی شہادت پر چین، ایران، ترکیہ اور روس نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    حسن نصر اللہ کی شہادت پر عراقی رہنما آیت اللہ سیستانی اور مقتدیٰ الصدر نےگہرے رنج و غم کا اظہار کیا،عراق میں 3 روزہ اور ایران میں 5 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ صیہونی حکومت کے حکمران دہشت گرد گروہ نے غزہ میں جاری مجرمانہ جنگ سے کوئی سبق نہیں سیکھا ، لبنان کے لوگوں اور حزب اللہ کے ساتھ کھڑا ہونا تمام مسلمانوں کا فرض ہے ، ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ حسن نصر اللہ کا مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کا مشن جاری رہے گا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکان نے حزب اللہ سربراہ کے شہادت پر کہا کہ امریکا حسن نصراللہ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار نہیں کر سکتا،امریکا اسرائیل کے ساتھ ملی بھگت سے حسن نصراللہ پر حملے سے خود کو بری الذمہ نہیں کرسکتا۔

    چینی وزیر خارجہ نے اسرائیلی بربریت کے حوالے سے کہا کہ فلسطینی مسئلہ انسان کے ضمیر پر سب سے بڑا گھاؤ ہے، غزہ کی جنگ میں ہر گزرتے دن ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور لبنان میں بھی دوبارہ جنگ شروع ہو گئی ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کبھی انصاف کی جگہ نہیں لے سکتی۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا مشرق وسطیٰ مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جرمن وزیرخارجہ نے بھی لبنان کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری کو اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

    یورپی یونین کی ترجمان نے کہا لگتا ہے کوئی بھی نیتن یاہو کو روکنے کے قابل نہیں ہے، محمود عباس نے حسن نصراللہ کی شہادت پر حزب اللہ سے تعزیت کا اظہار کیا علاوہ ازیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے لبنان کو نسل کشی کے لیے اسرائیلی کی پالیسی کا نیا ہدف کہا ہے، رجب طیب اردوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لبنانی عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    دوسری جانب حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد دنیا بھر کے مختلف ممالک میں شدید احتجاج کیا گیا، ترکیہ، بغداد، لبنان اور تہران میں ہزاروں افراد سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل آئے، عمان میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔ برازیل،سوڈان، اٹلی اور مصر میں بھی مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا،وہیں ترک مظاہرین نے اپنی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کرنے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    وہیں امریکی صدرجوبائیڈن نے بیروت حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس حملے میں شراکت دار نہیں ہے،امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے اختتام سے انصاف کا عمل پورا ہوا، اب غزہ اور لبنان میں جنگ بندی ہونی چاہیے۔