Baaghi TV

Tag: حزب اللہ

  • حزب اللہ  اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق

    حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان امریکی تجویز کے تحت جزوی جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔

    لبنانی صدر جوزف عون اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے رابطے کے بعد لبنانی حکام نے تصدیق کی کہ حزب اللہ نے امریکی تجویز قبول کر لی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان کی سفیر ندا معوض کو بتایا کہ نیتن یاہو بھی اس منصوبے پر آمادہ ہیں۔

    واشنگٹن میں لبنانی سفارتخانے کے مطابق حزب اللہ اسرائیل پر حملے روک دے گی جبکہ اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں پر فضائی حملے بند کرے گا، منگل اور بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں جنگ بندی کے دائرہ کار کو پورے لبنان تک توسیع دینے پر بات چیت کی جائے گی، اس سے قبل اسرائیل نے بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی، اگر حزب اللہ نے اسرائیلی شہروں پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک انتہائی مفید ٹیلیفونک گفتگو ہوئی ہے۔

    ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہاتھا کہ بیروت کی جانب کوئی فوج نہیں بھیجی جائے گی اور جو فوجی دستے روانہ ہوچکے ہیں انہیں واپس موڑ دیا گیا ہےاعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے ان کا حزب اللہ کے ساتھ بھی بہت اچھا رابطہ ہوا، جس میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا ہے اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملہ نہیں کرے گا اور حزب اللہ بھی اسرائیل پر حملہ نہیں کرے گی۔

  • حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    حزب اللہ سے روابط:متحدہ عرب امارات نے 16 افراداور5 کمپنیوں 5 اداروں کو دہشتگرد قرار دیدیا

    متحدہ عرب امارات نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ سے تعلق پر 16 افراد اور کو دہشتگرد قرار دے دیا۔

    اماراتی میڈیا کے مطابق حزب اللہ سے منسلک 5 ادارے بھی دہشتگردی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں،اماراتی کابینہ نے فیصلے کے تحت مشتبہ مالی روابط والوں کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ہے، متعلقہ افراد اور اداروں کے اثاثے 24 گھنٹوں میں منجمد کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔

    اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وام‘ کے مطابق یہ اقدام کابینہ کی قرارداد نمبر 63 برائے 2026 کی منظوری کے بعد کیا گیا، اماراتی کابینہ نے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فہرست میں شامل تمام افراد اور کمپنیوں کے اثاثے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں منجمد کیے جائیں۔

    وام کے مطابق یہ اقدام دہشتگردی کی مالی معاونت اور اس سے جڑے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات کی اندرونِ ملک اور عالمی سطح پر جاری کوششوں کا حصہ ہے چاہے یہ معاونت براہِ راست ہو یا بالواسطہ، ایسے تمام مالی ذرائع کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی، یو اے ای دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید مؤثر بنا رہا ہے، خصوصاً مشتبہ مالیاتی چینلز کی نگرانی اور غیر قانونی فنڈنگ کے ذرائع بند کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ سرحد پار دہشتگردی کی مالی معاونت کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔

    میں شامل تمام 16 افراد لبنانی شہری ہیں، جن میں علی محمد کرنیب، ناصر حسن نصر، حسن شہادہ عثمان، سامر حسن فواز، احمد محمد یزبک، عیسیٰ حسین قاصر، ابراہیم علی ظاہر، عباس حسن غریب، عماد محمد بازی، عزت یوسف عکر، وحید محمود سبیتی، مصطفیٰ حبیب حرب، محمد سلیمان بدر، عادل محمد منصور، علی احمد کرشت اور نیما احمد جمیل شامل ہیں۔

    اسی طرح فہرست میں شامل پانچوں ادارے بھی لبنان میں قائم ہیں، جن میں ’بیت المال المسلمین‘، ’القرض الحسن ایسوسی ایشن‘، ’التسہيلات کمپنی‘، ’دی آڈیٹرز فار اکاؤنٹنگ اینڈ آڈیٹنگ‘ اور ’الخبراء فار اکاؤنٹنگ، آڈیٹنگ اینڈ اسٹڈیز‘ شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایران میں صیہونی حکومت سےمنسلک 5 منظم نیٹ ورکس ختم کردیے گئے ایرانی وزارت انٹیلی جنس کے مطابق 20 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے ہیں جن سے دھماکا خیزمواد اورگولہ بارود بھی برآمدکر لیا گیا ہے۔

  • اسرائیل کا حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید  کرنے کا دعویٰ

    اسرائیل کا حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں حالیہ فضائی حملوں کے دوران حزب اللہ کے مزید دو سینئر کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں، جب کہ بیروت حملے میں ایک اعلیٰ عہدیدار کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ’ٹائم آف اسرائیل‘ کے مطابق اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ لبنان میں گزشتہ روز کیے گئے فضائی حملوں میں حزب اللہ کے دو اہم کمانڈرز شہید ہو گئے ہیں، شہید ہونے والوں میں محمد علی بازی شامل ہیں، جو حزب اللہ کے نصر ریجنل ڈویژن میں انٹیلی جنس کے سربراہ تھے، جب کہ حسین حسن رمانی حزب اللہ کے فضائی دفاعی یونٹ کے سربراہ تھے۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ دونوں کمانڈرز اسرائیلی فوج اور شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی اور کارروائیوں میں ملوث تھے16 اپریل کو لبنان میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اب تک 220 سے زائد حزب اللہ ارکان کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، جنہیں اسرائیل اپنی سکیورٹی کے لیے خطرہ قرار دیتا ہے، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کے 85 ارکان کو شہید کیا، جب کہ تنظیم سے متعلق 180 سے زائد فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا یہ کارروائیاں لبنان سے اسرائیل کے خلاف ممکنہ حملوں کو روکنے کیلئے کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ کی جانب سے تاحال اسرائیل کے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا –

  • حزب اللہ  نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا

    حزب اللہ نے ایک نئی ٹیکنالوجی پر مبنی ہتھیار ’فائبر آپٹک ڈرونز‘ کا استعمال شروع کر دیا ہے، جو روایتی دفاعی نظام سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف اپنی جنگی حکمت عملی میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے فائبر آپٹک یا جدید FPV (فرسٹ پرسن ویو) ڈرونز کا استعمال تیز کر دیا ہے۔ یہ ڈرونز روایتی الیکٹرانک وارفیئر اور دفاعی نظاموں (جیسے آئرن ڈوم) سے بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ ریڈیو سگنل کے بجائے فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے آپریٹر سے جڑے ہوتے ہیں، جس سے ان کا سگنل جام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

    یہ ڈرونز طویل فاصلے سے کنٹرول کیے جا سکتے ہیں اور براہ راست ویڈیو فیڈ کی بدولت انتہائی درست نشانہ بناتے ہیں ان ڈرونز کی وجہ سے اسرائیلی ٹینکوں، بالخصوص مرکاوا ٹینک، اور فوجی ٹھکانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں،، جس کے باعث نیتن یاہو نے حزب اللہ کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید اقدامات پر زور دیا ہے حزب اللہ نے اپنے ڈرون سسٹم کو جدید اور کم لاگت بنا کر میدان جنگ میں اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہےیہ ٹیکنالوجی اسرائیل کے روایتی دفاعی نظام کے لیے ایک نیا چیلنج ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ چھوٹے ڈرون انتہائی باریک فائبر آپٹک تاروں کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث انہیں الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعے ناکارہ بنانا ممکن نہیں رہتا۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہو چکی ہے، جہاں اسے جدید جنگی حکمتِ عملی میں اہم پیشرفت قرار دیا گیا تھا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون کم اونچائی پر اڑتے ہیں، چھوٹے سائز کے باعث ریڈار پر مشکل سے نظر آتے ہیں اور اپنے ہدف تک خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ان کی کمزوری یہ ہے کہ تیز ہوا یا دیگر ڈرونز کے باعث ان کی فائبر کیبل الجھ سکتی ہے۔

  • لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل  تباہ

    لبنان میں اسرائیلی کارروائیاں،متعدد سرحدی دیہات مکمل تباہ

    جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران متعدد سرحدی دیہات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں گھروں کو بارودی مواد سے اُڑا کر زمین بوس کیا جا رہا ہے۔

    برطانوی اخبار دی گارڈین کی جانب سے جائزہ لی گئیں ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے سرحدی دیہات طیبہ، نقورہ اور دیر سریان میں بڑے پیمانے پر دھماکے کیےلبنانی میڈیا نے دیگر سرحدی علاقوں میں بھی ایسی ہی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے سیٹلائٹ تصاویر فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔

    یہ کارروائیاں اس وقت سامنے آئیں جب اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے سرحدی دیہات میں تمام گھروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا، اور اس حوالے سے غزہ کے علاقوں رفح اور بیت حنون میں اپنائے گئے ماڈل کی پیروی کی بات کی، اسرائیلی فوج اس سے قبل جنوبی غزہ کے شہر رفح میں تقریباً 90 فیصد گھروں کو تباہ کر چکی ہے،یہ کارروائیاں بڑے پیمانے پر ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے ذریعے کی جا رہی ہیں۔

    غزہ میں گھروں کے بڑے پیمانے پر تباہی کو ماہرین نے ڈومیسائیڈ قرار دیا ہے، جو ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے تحت شہری رہائش گاہوں کو منظم انداز میں تباہ کر کے پورے علاقے کو ناقابلِ رہائش بنا دیا جاتا ہے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا ہدف حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے جیسے سرنگیں اور عسکری تنصیبات ہیں، جنہیں ان کے مطابق شہری گھروں میں قائم کیا گیا ہے۔

    اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے دریائے لیتانی تک ایک سیکیورٹی زون قائم کرے گا، اور جب تک شمالی اسرائیل کے شہروں کی سیکیورٹی یقینی نہیں بن جاتی، بے گھر افراد کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس اعلان نے طویل مدتی بے دخلی کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔

  • اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر اسماعیل ہاشم شہید

    اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر اسماعیل ہاشم شہید

    بیروت میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر یوسف اسماعیل ہاشم شہید ہو گئے، جس کی تنظیم نے تصدیق کی ہے-

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ بیروت میں ایک حملے کے دوران حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر الحاج یوسف اسماعیل ہاشم (الحاج صادق) کو شہید کر دیا ہے، جس کی بعد میں حزب اللہ نے بھی تصدیق کرتے ہوئے انہیں اسلامی مزاحمت کا چراغ قرار دیا۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اسماعیل ہاشم حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے کمانڈر تھے اور انہیں اسرائیلی بحریہ نے نشانہ بنایا، یہ حالیہ جنگ کے دوران حزب اللہ کو پہنچنے والے بڑے دھچکوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

    لبنانی حکام کے مطابق اسماعیل ہاشم اس وقت دیگر کمانڈرز کے ساتھ ایک اجلاس میں موجود تھے جب حملہ کیا گیا، جس میں مزید کئی اہلکار بھی مارے گئے۔ اس حملے میں کم از کم سات افراد جاں بحق اور 26 بھی زخمی ہوئے ہیں-

    ادھر اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ لبنان میں جاری جھڑپوں کے دوران گزشتہ 24 گھنٹوں میں 48 اہلکار زخمی ہوئے، جب کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 10 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 309 زخمی ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر متعدد حملے کیے، جن میں رباعہ ثلاثین کے علاقے میں ایک توپ خانے کے مرکز کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جنگجوؤں نے عیناتا کے قریب ایک اسرائیلی ڈرون مار گرایا اور بفلے کے علاقے میں ایک جنگی طیارے کا بھی مقابلہ کیا۔

  • اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی کا آغاز کردیا

    اسرائیلی فوج نے لبنان میں زمینی کارروائی کا آغاز کردیا

    اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے خلاف محدود زمینی کارروائیاں کا آغاز کردیا ہے۔

    اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں 91ویں ڈویژن کے فوجیوں نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں کے خلاف محدود اور ہدفی زمینی کارروائیاں شروع کی ہیں، جن کا مقصد اگلے دفاعی حصے کو مضبوط بنانا ہے یہ سرگرمیاں وسیع تر دفاعی اقدامات کا حصہ ہیں، جن کے تحت ایک مضبوط فارورڈ دفاعی پوزیشن قائم اور مستحکم کی جا رہی ہے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں حزب اللہ کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا اور علاقے میں سرگرم جنگجوؤں کو نشانہ بنانا شامل ہے تاکہ خطرات کو کم کیا جا سکے اور شمالی اسرائیل کے رہائشیوں کے لیے اضافی سیکیورٹی کی تہہ پیدا کی جا سکے زمینی دستوں کے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے متعدد اہداف پر حملے کیے گئے،ان حملوں میں توپ خانے اور اسرائیلی فضائیہ دونوں کا استعمال کیا گیا تاکہ کارروائی کے دوران موجود خطرات سے بچا جا سکے۔

    برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں خطرناک وبا ، 2 طالب علم ہلاک، 11 شدید بیمار

    دوسری جانب اسرائیل کی لبنان کے خلاف فضائی کارروائیاں جاری ہیں الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں جنوبی لبنان کے متعدد قصبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان حملوں میں قنطرہ، ساوانہ، برج قلاویہ، سلطانیہ اور شقرا کے قصبے شامل ہیں۔ تاہم حملے میں ابھی تک کسی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

    مشرق وسطیٰ جنگ: پاکستان کے مختلف ایئر پورٹس سے 90 پروازیں منسوخ

    واضح رہے کہ لبنان مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں 2 مارچ کو اس وقت شامل ہوا جب حزب اللہ نے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل پر حملہ کیا تھااس کے بعد اسرائیل نے لبنان پر فضائی حملے شروع کر دیے تھے اور سرحدی علاقوں میں فو جی دراندازیاں بھی کیں۔

  • حزب اللہ کا اسرائیلی ایئربیس پر ڈرونز سے حملہ

    حزب اللہ کا اسرائیلی ایئربیس پر ڈرونز سے حملہ

    اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملوں کے بعد مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں واقع ’رامات ڈیوڈ ایئربیس‘ پر ڈرونز کے ذریعے حملہ کیا ہے۔

    حزب اللہ کی جانب سے منگل کی صبح جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے صبح 5 بجے اسرائیلی ایئربیس کی ریڈار سائٹس اور کنٹرول رومز کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا یہ کارروائی اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں کی گئی ہے، جس میں اس نے بیروت کے جنوبی علاقوں سمیت لبنان کے متعدد علاقوں کو نشانہ بنایا اور درجنوں افراد کو شہید کیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ رامات ڈیوڈ ایئربیس پر کیا گیا ڈرون حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے منگل کی صبح اسرائیلی فضائیہ نے سوشل میڈیا پر بیان میں بیروت اور تہران پر دوبارہ فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

    پاکستان سےعازمین حج کے لیے فلائٹ شیڈول جاری

    اس سے قبل اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان نے بیروت کے جنوبی مضافات کے رہائشیوں کو ہنگامی وارننگ جاری کی تھی ، جس میں ایک عمارت کی نشاندہی کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ اس علاقے میں حزب اللہ کی تنصیبات اور ٹھکانے واقع ہیں سوشل میڈیا پر جاری نقشے میں عمارت اور اس کے آس پاس موجود افراد سے فوری طور پر نقل مکانی کرنے اور کم از کم 300 میٹر دور جانے کی درخواست کی گئی تھی۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر حملہ، اسرائیل کی حملے کی تصدیق

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 50 سے زائد افراد جاں بحق جب کہ 150سے زائد زخمی ہیں بیروت اور دیگر علاقوں میں بمباری کے بعد متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔

  • لبنان میں  حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل

    لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل

    لبنانی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کا پہلا مرحلہ مکمل کر لیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق لبنانی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے اہداف حا صل کر لیے گئے ہیں،منصوبے کے پہلے مرحلے میں دریائے لیطانی کے جنوب میں واقع علاقوں میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا تھا، یہ علاقہ اسرائیلی سر حد سے تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے تک پھیلا ہوا ہے اس منصوبے کو آئندہ مرحلوں میں ملک کے دیگر حصوں تک وسعت دینے کا ارادہ ہے ،اس مرحلے میں وہ علاقے اور مقامات شامل نہیں تھے جو اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہیں۔

    واضح رہے کہ نومبر 2024 میں جنگ بندی ہوجانے کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان میں وقفے وقفے سے حملے جاری ہیں جن کے بارے میں اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان کا ہدف حزب اللہ کے ٹھکانے اور جنگجو ہوتے ہیں،اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 5 ایسے علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھی ہے جنہیں وہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے جبکہ اسرائیل حزب اللہ پر دوبارہ مسلح ہونے کا الزام بھی عائد کرتا رہا ہے۔

    ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کیا جانا چاہیے، جنگ بندی معاہدے کے تحت حزب اللہ کو اپنے جنگجو دریائے لیطانی کے شمال کی جانب منتقل کرنے اور خالی کیے گئے علاقوں میں اپنی عسکری تنصیبات ختم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاہم حزب اللہ اب تک اپنے ہتھیار حوالے کرنے سے انکار کرتی ر ہی ہے۔

  • اسرائیلی ڈرون حملہ: جنوبی لبنان میں حزب اللہ کمانڈر سمیت دو افراد شہید

    اسرائیلی ڈرون حملہ: جنوبی لبنان میں حزب اللہ کمانڈر سمیت دو افراد شہید

    لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق جنوبی لبنان کے ضلع نبطیہ کے قصبے تُول میں اسرائیلی ڈرون حملے کے نتیجے میں دو افراد شہید اور دو زخمی ہو گئے۔

    لبنانی خبر رساں ایجنسی نیشنل نیوز کے مطابق وزارتِ صحت نے اپنے بیان میں بتایا کہ ایک ڈرون نے تُول کے قریب سڑک پر سفر کرنے والی گاڑی پر میزائل فائر کیا، جس سے گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔اسرائیلی فوج نے بعد ازاں تصدیق کی کہ نبطیہ کے علاقے میں حملے کا ہدف حزب اللہ کا رکن عباس حسن کارکی تھے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق عباس حسن حزب اللہ کے جنوبی محاذ کے لاجسٹک یونٹ کے سربراہ تھے اور متعدد کارروائیوں میں سرگرم کردار ادا کر چکے تھے۔

    تاہم حزب اللہ نے اسرائیلی دعوے پر فی الحال کوئی ردِعمل نہیں دیا۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ نومبر 2024 میں طے پانے والے معاہدے کی تقریباً روزانہ خلاف ورزی کر رہا ہے.

    25 اکتوبر سے غیر تصدیق شدہ ڈیجیٹل اکاؤنٹس معطل ہونے کا امکان

    خواتین ورلڈ کپ: پاکستان اور سری لنکا کا میچ بارش کی نذر

    امریکا کی تجارتی پالیسی کو کنٹرول نہیں کر سکتے، کینیڈین وزیرِ اعظم

    فلسطینی جماعتوں کا غزہ کے انتظامات ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے سپرد کرنے پر اتفاق