Baaghi TV

Tag: حزب اللہ

  • حوثیوں کے ڈرون حملے، متعدد اسرائیلی زخمی

    حوثیوں کے ڈرون حملے، متعدد اسرائیلی زخمی

    یمن کے حوثیوں نے اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب پر ڈرون حملے کر دیے، شیلٹرز کی طرف بھاگنے والے متعدد اسرائیلی زخمی ہوگئے، تل ابیب میں چار زور دار دھماکے سنے گئے۔

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے جمعرات کی صبح تل ابیب کو 5 ڈرون طیاروں سے نشانہ بنانے کی کامیاب کارروائی کا اعلان کیا، جبکہ اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ 2 ڈرون تل ابیب تک پہنچے۔یحییٰ سریع نے المسیرہ ٹی وی پر نشر کیے گئے بیان میں کہا کہ یافا کے ایک اہم ہدف کو متعدد ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا گیا، یہ کارروائی کامیاب رہی کیونکہ ڈرون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے ہدف تک پہنچے اور دشمن انہیں نہیں گرا سکا۔انہوں نے مزید کہا کہ یافا کی یہ کارروائی "الفتح الموعود والجهاد المقدس” کے پانچویں مرحلے کا حصہ ہے اور یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک غزہ اور لبنان پر حملے بند نہیں ہو جاتے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے تل ابیب کے جنوب میں واقع بات یام کے علاقے میں دو ڈرون طیاروں کا پتہ لگایا، جن میں سے ایک کو تباہ کر دیا گیا جبکہ دوسرا ایک کھلی جگہ پر جا کر گرا۔

    دوسری جانب جنوبی لبنان میں میونسپلٹی کی عمارت پر حملے میں حزب اللّٰہ کے 15 جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ لبنان سے داغے گئے دو ڈرونز اور راکٹوں میں متعدد مار گرائے۔بیروت کے گنجان آباد علاقے میں اسرائیلی حملے میں حزب اللّٰہ سے منسلک طبی ادارے کے 6 ارکان شہید ہوگئے، 24 گھنٹوں کے دوران 46 لبنانی شہید اور 85 زخمی ہوئے۔ لبنان میں گھسنے کی کوشش پر اسرائیل نے ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی، صہیونی فوج کے تین ٹینک تباہ کردیے گئے۔غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی فوج نے بمباری کی، جس میں مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔

    یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 41,788 افراد شہید اور 96,794 زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں میں اسرائیل میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

  • شام پر اسرائیل کا فضائی حملہ،حسن نصر اللہ کے داماد شہید

    شام پر اسرائیل کا فضائی حملہ،حسن نصر اللہ کے داماد شہید

    شام پر اسرائیل کے ایک فضائی حملے میں حزب اللہ کے سابق سربراہ شہید حسن نصر اللہ کے داماد حسن جعفر قصیر شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: عرب میڈیا کے مطابق حسن نصر اللہ کے داماد حزب اللہ کے سینیئر رکن اور یونٹ 4400 کے کمانڈر محمد جعفر قصیر کے بھائی تھے حزب اللہ کے داماد حسن جعفر قصیر ایک روز قبل ہی شام کے دارالحکومت پہنچے تھے ،حسن نصر اللہ کے داماد کے بھائی محمد جعفر قصیر کو بھی گزشتہ روز فضائی حملے میں شہید کیا گیا تھا۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ محمد جعفر قصیر ایران کے نہایت قریب تھے اور ایران سے جنگی اسلحہ لانے کے ذمہ دار تھے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت کے مرکزی علاقے میں پارلیمنٹ سے محض کچھ میٹر فاصلے پر ایک عمارت پر فضائی حملہ کیا ہے جس میں کم از کم پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    خیال رہے کہ بدھ کو ایران نے اسرائیل کی جانب 180 میزائل داغے تھے جبکہ شمالی لبنان میں اسرائیلی کی زمینی کارروائی کے دوران اس کے آٹھ فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

    لبنان کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے میں مرکزی بیروت کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس عمارت میں حزب اللہ سے منسلک ایک طبی مرکز قائم تھا۔

    دوسری جانب یمن سے حوثیوں نے تل ابیب میں پانچ ڈرون حملے کیے جس سے اسرائیل کا دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھازمینی کارروائی میں ناکامی پر صہیونی فوج کے لبنان پر فضائی حملے کیے اور چوبیس گھنٹے میں چھیالیس سے زائد شہری شہید کردیےلبنانی سرحد کے قریب شیلنگ میں مصروف اسرائیلی ہیلی کاپٹر پرحزب اللہ کا جوابی حملہ ہونے پر ہیلی کاپٹر رفوچکر ہوگیا۔

  • حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

    لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللّٰہ نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹٰی وی کو موصول غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنانی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل کے قصبے میں اسرائیلی فوجیوں کے ایک گروپ پر "بڑی تعداد میں” راکٹ داغے ہیں۔حزب اللّٰہ نے گائیڈڈ میزائلوں سے اسرائیل کے جدید ترین مرکاوا ٹینکس تباہ کرنے اور اسرائیلی ہیلی کاپٹر پر شیلنگ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔دوسری جانب جنوبی لبنان میں حزب اللّٰہ کی اسرائیلی فوج سے شدید جھڑپیں جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے جھڑپوں میں ڈویژن کمانڈر سمیت 8 فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کر لیا۔

    لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مزید 60 افراد شہید ہوگئے، اب تک 1800 سے زیادہ جاں بحق اور 12 لاکھ سے زیادہ لبنانی بے گھر ہوگئے، اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کے رہائشیوں کو بھی علاقہ خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا.غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے اب تک مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔اسرائیلی فوج نے شام کے دارالحکومت دمشق میں بھی فضائی حملہ کیا، جس میں 3 شامی شہری جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے۔

    مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کریں،پاکستان کی بین الاقوامی برادری سے اپیل

  • لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    لبنان میں داخل ہونیوالی اسرائیلی فوج کو حزب اللہ نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا

    بیروت: اسرائیل کی بری فوج حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کے لیے جنوبی لبنان کے اندر داخل ہوگئیں جہاں حزب اللہ جنگجوؤں نے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کر کے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا۔

    باغی ٹی وی : الجزیرہ کے مطابق حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان کے قصبے عودیسیہ میں دراندازی کرنے والے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کر کے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا،حزب اللہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کو پسپا ہونے سے قبل جھڑپ میں شدید نقصان اُٹھانا پڑا ہے، مالی اور جانی نقصان پر اسرائیلی فوجی بھاگ کھڑے ہوئے۔

    لبنانی خبر ایجنسی المیادین کا کہنا ہےکہ بدھ کی صبح اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ہونے والی جھڑپ میں 2 اسرائیلی سپاہی ہلاک اور 18 زخمی ہوئے جنہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اسرائیلی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیل نے حزب اللہ کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی تاہم صیہونی میڈیا نے لبنان کے قصبے میں ایک سنگین سیکیورٹی واقعے کی اطلاع دی ہے جس میں شمال میں اسپتالوں کو الرٹ رہنے کے لیے کہا گیا ہے۔

    فلم ‘دی لیجنڈ آف مولا جٹ’ کی بھارت میں ریلیز روک دی گئی

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق لبنانی قصبے میں فوجی ہیلی کاپٹرز زخمی اہلکاروں کو اسپتال منتقل کر رہے ہیں، ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے اپنی فوج کی ڈویژن 98 جوکہ 10 سے 20 ہزار فوجیوں پر مشتمل ہے اسے لبنان کی سرحد پر تعینات کر رکھا ہے اور اسرائیل نے لبنان میں زمینی کارروائی کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

    دوسری جانب امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل بھی ایران پر میزائل حملے کا جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے، اسرائیلی حکام نے بتایا ہے کہ چند روز میں اسرائیل حملہ کرے گا اور ایران کی تیل تنصیبات اور اسٹریٹجک مقامات کو نشانہ بنائے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹر پر حملہ کر کے حسن اللہ کو شہید کر دیا تھا اور اس حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ہم نے حسن اللہ کو مار کر بہت سے اسرائیلیوں کے قتل کا بدلہ لے لیا۔

    ایرانی میزائل موساد کے ہیڈکوارٹر سے صرف ایک کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر …

  • بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    بھارتی آ رمی چیف کی حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف , ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا

    نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ پر اسرائیلی پیجرز دھماکوں کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’ماسٹرسٹروک‘ قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل نے حزب اللہ کو کمزور کرتے ہوئے لبنان میں دھماکہ خیز مواد بھیجنے کے لیے ایک شیل فرم کمپنی بنائی، جنرل دویدی نے اس اقدام کو ایک ”شاندار حکمت عملی“ قرار دیا۔

    بھارتی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ جنگ کا آغاز اس وقت نہیں ہوتا جب آپ لڑنا شروع کرتے ہیں، بلکہ یہ جنگ اس وقت شروع ہوتی ہے جب آپ منصوبہ بندی شروع کرتے ہیں اسرائیل نے ایک چالاک انداز اپنایا “سب سے پہلے، انہوں نے حماس کو نشانہ بنایا، جو ان کے اہم دشمن تھے، پھر انہوں نے حزب اللہ پر توجہ مرکوز کی، حزب اللہ کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے ایک شیل فرم کمپنی بنانے کی اسرائیل کی چال خالص ذہانت تھی۔

    جنرل دویدی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستان کو اپنی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے بارے میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے انہوں نے ممکنہ رکاوٹوں کو روکنے یا کم کرنے کے لیے متعدد سطحوں کے معائنے کی اہمیت پر زور دیا۔

  • روس کی جانب سےحسن نصراللّٰہ کے قتل کی مذمت

    روس کی جانب سےحسن نصراللّٰہ کے قتل کی مذمت

    روس نے حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ کے قتل کی مذمت کر دی۔

    کریملن نے حسن نصر اللّٰہ کی شہادت پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان میں غزہ کی طرح ایک انسانی تباہی پیدا ہو رہی ہے، روس ایسے اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔کریملن کا کہنا ہے کہ لبنان میں رہائشی علاقوں پر اندھا دھند بم باری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں۔کریملن کے مطابق حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ کے قتل سے خطے کی صورتِ حال شدید عدم استحکام کا شکار ہو گئی ہے۔کریملن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات تجارت سمیت تمام شعبوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصراللّٰہ ایک روز قبل صیہونی فوج کی بمباری میں شہید ہوئے تھے۔

    کے الیکٹرک کی کاروائی، لاکھوں یونٹس بجلی چوری کرنیوالے کنڈے ختم

  • حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر عالمی برادری کا اظہارِ افسوس

    حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر عالمی برادری کا اظہارِ افسوس

    بیروت: لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے اسرائیلی حملے حزب اللہ سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر بعد عالمی برادری کی جانب سے اظہار افسوس کیاجا رہا ہے جبکہ غزہ اور لبنان پر اسرائیلی بربریت کی شدید مذمت کی جارہی ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج نے بیان جاری کیا تھا کہ آپریشن نیو آرڈر کے نام سے کی جانے والی کارروائی کے دوران بیروت کے داہیہ کے علاقے میں حزب اللہ کے سینٹرل ہیڈ کوارٹرز پر بمباری کے دوران ایک ٹن بارود والے 80 بم گرائے گئے ان حملوں میں حسن نصراللہ کی بیٹی زینب کے علاوہ حزب اللہ کے جنوبی فرنٹ کمانڈر علی الکرکی بھی شہید ہوئے،اسرائیلی فورسز نے یہ جاننے کے بعد کہ حسن نصراللہ بنکر میں موجود ہیں، بمباری مزید شدید کردی جس کے نتیجے میں ان کی شہادت واقع ہوئی۔

    ہفتے کو حزب اللہ نے سربراہ کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رہے گی، غزہ اور فلسطین کی حمایت، لبنان کے دفاع کیلئے اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق حزب اللہ سربراہ کی شہادت پر چین، ایران، ترکیہ اور روس نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    حسن نصر اللہ کی شہادت پر عراقی رہنما آیت اللہ سیستانی اور مقتدیٰ الصدر نےگہرے رنج و غم کا اظہار کیا،عراق میں 3 روزہ اور ایران میں 5 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔

    ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ صیہونی حکومت کے حکمران دہشت گرد گروہ نے غزہ میں جاری مجرمانہ جنگ سے کوئی سبق نہیں سیکھا ، لبنان کے لوگوں اور حزب اللہ کے ساتھ کھڑا ہونا تمام مسلمانوں کا فرض ہے ، ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ حسن نصر اللہ کا مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی کا مشن جاری رہے گا۔

    ایرانی صدر مسعود پزشکان نے حزب اللہ سربراہ کے شہادت پر کہا کہ امریکا حسن نصراللہ کے قتل میں ملوث ہونے سے انکار نہیں کر سکتا،امریکا اسرائیل کے ساتھ ملی بھگت سے حسن نصراللہ پر حملے سے خود کو بری الذمہ نہیں کرسکتا۔

    چینی وزیر خارجہ نے اسرائیلی بربریت کے حوالے سے کہا کہ فلسطینی مسئلہ انسان کے ضمیر پر سب سے بڑا گھاؤ ہے، غزہ کی جنگ میں ہر گزرتے دن ہلاکتیں بڑھتی جا رہی ہیں اور لبنان میں بھی دوبارہ جنگ شروع ہو گئی ہے۔ چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ طاقت کبھی انصاف کی جگہ نہیں لے سکتی۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لارووف نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہا مشرق وسطیٰ مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے، جرمن وزیرخارجہ نے بھی لبنان کی صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری کو اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔

    یورپی یونین کی ترجمان نے کہا لگتا ہے کوئی بھی نیتن یاہو کو روکنے کے قابل نہیں ہے، محمود عباس نے حسن نصراللہ کی شہادت پر حزب اللہ سے تعزیت کا اظہار کیا علاوہ ازیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے لبنان کو نسل کشی کے لیے اسرائیلی کی پالیسی کا نیا ہدف کہا ہے، رجب طیب اردوان کا یہ بھی کہنا تھا کہ لبنانی عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    دوسری جانب حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد دنیا بھر کے مختلف ممالک میں شدید احتجاج کیا گیا، ترکیہ، بغداد، لبنان اور تہران میں ہزاروں افراد سڑکوں پر احتجاج کرنے نکل آئے، عمان میں اسرائیلی سفارتخانے کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔ برازیل،سوڈان، اٹلی اور مصر میں بھی مظاہرہ کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا،وہیں ترک مظاہرین نے اپنی حکومت سے اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات منقطع کرنے اور اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    وہیں امریکی صدرجوبائیڈن نے بیروت حملے سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اس حملے میں شراکت دار نہیں ہے،امریکی صدر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے اختتام سے انصاف کا عمل پورا ہوا، اب غزہ اور لبنان میں جنگ بندی ہونی چاہیے۔

  • حزب اللہ کا موساد  ہیڈ کوارٹر  پر حملہ،اسرائیل نے تصدیق کر دی

    حزب اللہ کا موساد ہیڈ کوارٹر پر حملہ،اسرائیل نے تصدیق کر دی

    بیروت: اسرائیل کے کل سے اب تک لبنان کی شہری آبادیوں پر میزائل کے وحشیانہ حملوں میں جاں بحق لبنانیوں کی تعداد 570 سے تجاوز کرگئی جبکہ1800ے زائد افراد زخمی ہو گئے-

    باغی ٹی وی: بیروت پر تازہ حملے میں حزب اللہ کے اہم کمانڈر ابراہیم قبیسی شہید ہوگئے جبکہ اسرائیلی حملوں سے بچنے کیلئے سینکڑوں لبنانی شہری شام میں داخل ہوگئے اسرائیلی حملوں کے پیش نظر لبنان میں تعلیمی ادارے ایک ہفتے کیلئے بند کردیئے گئے،لبنان پر لائیو ٹی وی شو میں شریک ایک صحافی بھی میزائل حملے کا نشانہ بن کر زخمی ہوگئے۔

    دوسری جانب لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر راکٹ داغ دیئےحزب اللہ کی جانب سے کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، ادھر عراقی مزاحمتی تنظیم نے بھی جولان کی پہاڑیوں پر حملہ کیا۔

    اسرائیل نے حزب اللہ کے بیلسٹک میزائل حملے کی تصدیق کردی جس کے بارے میں ایران کی حامی تنظیم نے دعویٰ کیا تھا کہ میزائل حملے سے تل ابیب کی خفیہ ایجنسی موساد کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

    آئی ایم ایف کی شرائط کڑی تھیں،کچھ کا تعلق چین سے تھا،وزیراعظم

    غیرملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق حزب اللہ نے کہا تھا کہ اس نے اسرائیل کی موساد انٹیلی جنسی کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بناتے ہوئے قادر ون بیلسٹک میزائل فائر کیا ابتدائی طور پر اسرائیل نے حزب اللہ کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا اب تل ابیب نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے لبنان سے داغے گئے میزائل کو سینٹرل اسرائیل میں غیر موثر کردیا۔

    واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے فائر کیے گئے میزائل اسرائیلی شہروں تک پہنچے ہیں۔ موساد ہیڈ کوارٹر کے قریب حزب اللہ کے میزائل کو ناکام بنا دیا گیا جیسے ہی میزائل تل ابیب کی فضائی حدود میں داخل ہوا تو سائرن بجا دیے گئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ میزائل حملے میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں پہنچا۔

    ایران عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بہتر کرنےکیلئے تیار ہے،ایرانی صدر

    اس حوالے سے آئی ڈی ایف نے اعلان کیا کہ لبنان سے زمین سے زمین پر مار کرنے والے ایک میزائل نے وسطی اسرائیل کو نشانہ بنایا تھا، لیکن ڈیوڈ کے سلنگ شاٹ فضائی دفاعی نظام نے اسے ناکارہ بنا دیا۔

    دوسری جانب امریکا اور چین اپنے شہریوں کو لبنان سے نکلنے کا کہہ چکے ہیں جبکہ کئی ممالک کی ایئر لائنز نے تل ابیب اور بیروت کیلئے پروازیں روک دی ہیں، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف مختصر آپریشن چاہتے ہیں لیکن وقت زیادہ بھی لگ سکتا ہے۔

    پاکستان میں افغانستان سے دہشتگردی گہری تشویش کا باعث ہے،امریکا

  • اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    اسرائیل اور لبنان کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا، عراقی گروہ بھی شامل

    بیروت: اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں عراقی گروہ بھی شامل ہیں-

    باغی ٹی وی : اسرائیل اور لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے درمیان لڑائی کا دائرہ مزید پھیل گیا،عراقی گروہ بھی شامل ہو گئے، عراقی گروپ آئی آر آئی نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل داغ دیے جب کہ اسرائیلی فوج نے حملے کی تصدیق کردی۔

    "العربیہ ” کے مطابق ایران کے وفادار عراقی دھڑوں کی جانب سے اتوار کو اعلان کرنے کے بعد کہ انہوں نے اسرائیل میں ایک "اہم ہدف” کو نشانہ بنایا ہے، اسرائیل نے عراق سے بھیجے گئے ڈرونز کو جو طبریا اور بیسان پہنچ گئے تھے کو تباہ کردیا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے اسرائیل کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے چار میں سے دو ڈرون مار گرائے، ایک ڈرون نے شمالی وادی اردن میں اسرائیلی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا اسرائیلی فضائیہ نے ایک کروز میزائل کو بھی ناکارہ بنا دیا۔

    کمیونسٹ نظریے کے حامی انورا کمارا سری لنکا کے نئے صدر منتخب

    اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے عراق سے داغے گئے ڈرون کا سراغ لگایا اور ڈرون نے شام کی سمت سے اسرائیلی سرحد عبور کی جس کے بعد اس پر کئی انٹرسیپٹر میزائل داغے گئے، فوج نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔

    دوسری جانب ایران کے وفادار عراقی دھڑوں نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی حدود میں داخل ہونے والے ڈرونز کے ذریعے آج پانچویں مرتبہ اسرائیل کو نشانہ بنایا ہے، دھڑوں نے کہا کہ انہوں نے وادی اردن کے علاقے میں ایک اسرائیلی ٹارگٹ پر "الارفد” ڈرون کے ساتھ حملہ کیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہماری کارروائیاں مزید بڑھیں گی۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس نے عراق سے آنے والے دو مشکوک فضائی اہداف کو بغیر کسی جانی نقصان کے روک دیا۔ اس نے گولان کے اوپر سے ایک میزائل اور ایک ڈرون کو روکا جو عراق سے اڑے تھے۔

    صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر پیجر پھٹنے سے کریش ہوا،ایرانی رکن پارلیمنٹ …

    ادھر اسرائیلی جارحیت کے جواب میں حزب اللہ نے نئے اور دور تک مار کرنے والے میزائلوں کا پہلی بار استعمال کیا ہے، حزب اللہ کے مطابق وقفے وقفے سے 100 سے زائد راکٹ ساحلی شہر حیفا کی طرف داغے گئے ہیں،اس کے علاوہ یمن کے حوثی گروپ نے بھی اسرائیل پر میزائلوں سے حملوں کا اعلان کیا ہے، حزب اللہ نے اسرائیلی شہر حیفہ پر 85 راکٹ حملے کیے گئے، راکٹ حملوں سے کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔

    حزب اللہ نے دعویٰ کیا کہ لبنان پر حملوں میں استعمال ہونے والے رمات ڈیوڈ ائیر بیس اور اسرائیلی ٹیک کمپنی رفائیل کو نشانہ بنایا گیا،اس کے علاوہ حیفہ شہر میں کئی گھر اور گاڑیاں بھی ان راکٹوں کا نشانہ بنی ہیں، 24 گھنٹوں میں لبنان پر اسرائیل نے 400 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    کمیونسٹ نظریے کے حامی انورا کمارا سری لنکا کے نئے صدر منتخب

  • لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں پیجرز پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی طرف سے عربی میں جعلی پیغام بھیجا گیا جس کو پڑھنے کیلئے آن کرتے ہی پیجرز دھماکے ساتھ پھٹ گئے

    امریکی اخبار کے مطابق لبنان میں الیکٹرانک آلات کے ذریعے حزب اللہ پر حملے کو آپریشن لبنان کا نام دیا گیا ہے اور اسکے لئے ڈیڑھ برس سے تیاری جاری تھی،آپریشن لبنان کے لئے اسرائیل کے 12 موجودہ اور سابق دفاعی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو حملے کے حوالہ سے بریفنگ دی گئی تھی یہ آپریشن لبنان پیچیدہ اور طویل عمل تھا جس کے لئے مناسب وقت کا انتظار کیا گیا،اسرائیلی خفیہ ایجنسی شن باتھ نے پانچ ہزار پیجرز کے اندر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، حزب اللہ نے 6 ماہ پہلے بوڈاپسٹ سے درآمد کیا تھا،امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائس کے دھماکوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے، اسرائیل نے ایک جعلی کمپنی قائم کی جس نے وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائسز کی بین الاقوامی صنعت کار ہونے کا روپ دھارا، بوڈاپیسٹ میں قائم بی ای سی کنسلٹنگ اسرائیلی محاذ کا حصہ تھی، اس آپریشن میں شامل اسرائیلی انٹیلی جنس کے ارکان کی شناخت چھپانے کے لیے کم از کم دو اضافی کمپنیاں قائم کی گئی تھیں۔

    لبنان کےانٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے قیام کے سال 2021سے لے کر اب تک عام گاہکوں کے لئے بھی عام پیجرز تیار کئے اور انہیں فروخت کیا،2022 میں پیجرز کو کم تعداد میں لبنان بھیجا گیا اور اس کے بعد آرڈرز میں اضافہ ہوا ،پیجر مینوفیکچرنگ سپلائی چین کے ساتھ کام کرنے والوں نے پانچ ہزار سے زیادہ پیجرز کے اندر ایک سے دو گرام دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، اس کے بعد اسرائیلی ٹروجن ہارسز لبنان کو برآمد کیے گئے تھے ،ان پیجرز کو فعال کرنے کے احکامات منگل کو دئے گئے، اور اس کے لئے پیجرز پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا عربی میں جعلی پیغام بھیجا گیا تھا جس کو دیکھنے کے لئے کھولتے ہی دھماکہ ہو گیا

    امریکی اخبار کے مطابق لبنان دھماکوں میں استعمال ہونے والے پیجرز تائیوان یا ہنگری نے نہیں بلکہ اسرائیلی انٹیلیجنس نے تیار کیے تھے،ہنگری کی کمپنی اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کی فرنٹ کمپنی کا حصہ تھی، ہنگری کی کمپنی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست رابطے کے لیے 2 مزید جعلی کمپنیاں بنائی گئی تھیں،اسرائیل نے واکی ٹاکیز میں صرف بارود نہیں لگایا، اصل میں مینوفیکچرنگ کی، بلغارین میڈیا کے مطابق بلغاریہ کی کمپنی نےحزب اللّٰہ کو پیجرز سپلائی کیے،

    واضح رہے کہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پیجرز اور واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے، جبکہ 287 افراد زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ان دھماکوں کے بعد لبنانی عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور حزب اللہ نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کا مقصد مواصلاتی آلات جیسے پیجرز اور واکی ٹاکیز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔