Baaghi TV

Tag: حماس

  • صالح العاروی کی موت،اسرائیل کو قیمت چکانا پڑے گی،حزب اللہ

    صالح العاروی کی موت،اسرائیل کو قیمت چکانا پڑے گی،حزب اللہ

    حماس رہنما صالح العاروی کی ڈرون حملے میں موت کے بعد حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی اقدام سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل غزہ میں اپنا ایک بھی ہدف حاصل کرنے میں ناکام ہے،حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بھاری قیمت چکانا ہو گی،

    صالح العاروری کے قتل پر حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کا کہنا ہے کہ صالح العاروری کی شہادت سے کوئی افراتفری یا خلا نہیں ہوگا، ایران کا کہنا ہے کہ حماس رہنما کا قتل اسرائیل کے خلاف مزاحمت مزید بڑھائے گا، لبنان میں اسرائیلی حملہ لبنان کی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی ہے ،حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو صالح العاروری کی شہادت کی بھاری قیمت چکانی ہوگی ،حماس رہنما عزت الرشق کا کہنا تھا کہ حماس رہنماؤں کا قتل غاصب اسرائیل کا بزدلانہ اقدام ہے اسرائیلی قتل عام فلسطینیوں کے عزم اور استقامت کو توڑنے اور جرات مندانہ مزاحمت کو کم زور کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا

    بیروت کے مرکز میں حماس رہنما پر حملے کے خلاف حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو بھر پور جواب دیں گے، اس حملے کے بعد مغربی کنارے رام اللہ میں شہری سڑکوں پر نکل آئے،فلسطینی شہریوں نے رام اللہ میں بدھ کی ہڑتال کی کال دی ہے، رام اللہ صالح العاروی کا آبائی علاقہ ہے

    حماس رہنما کی موت کے بعد اقوام متحدہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ صالح کی موت کے بعد صورتحال انتہائی پریشان کُن ہوچکی ہے، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کی ترجمان نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی کشیدگی اور حالات کی نزاکت پر فریقین سے تحمل کا مطالبہ ہے،کوئی ایسی جلدباز کارروائی نہیں ہونی چاہیے جو مزید تشدد کو ہوا دے،

    ایران کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے میں حماس رہنما صالح العروری کی شہادت اسرائیل کے خلاف مزید مزاحمت کو بڑھائے گا،اسرائیلی حملہ لبنان کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے، حماس رہنما کے قتل کے بعد فلسطینی تحریک میں نئی جہت پیدا ہوگی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دفتر پر ڈرون حملہ کیا جس میں حماس کے سینیئر رہنما شہید ہوگئے۔

  • اسرائیل کا لبنان میں ڈرون حملہ،حماس کے سینئیر  رہنما شہید

    اسرائیل کا لبنان میں ڈرون حملہ،حماس کے سینئیر رہنما شہید

    اسرائیلی فوج نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے دفتر پر ڈرون حملہ کیا جس میں حماس کے سینیئر رہنما شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : لبنانی میڈیا کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملہ جنوبی بیروت میں واقع حماس کے دفتر پر کیا گیا، حملے کے نتیجے میں عمارت کو نقصان پہنچا اور متعدد گاڑیوں میں آگ لگ گئی حملے میں حماس کے سینیئر رہنما اور پولیٹیکل آفس کے نائب صالح العاروری دو ساتھیوں سمیت شہید ہوگئے اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہےکہ حماس رہنما حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ سے ملاقات کرنے والے تھے۔

    عرب میڈیا کے مطابق صالح العاروری کا طوفان اقصیٰ کارروائی کے منصوبہ سازوں میں شمار کیا جاتا تھا، صالح العاروری اسرائیل کی ہٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر تھے-

  • جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی،حماس

    جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی،حماس

    فلسطینی مزاحمتی فورس حماس کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔

    باغی ٹی وی: حماس کے ایک ذریعے نے پیر کے روز العربیہ کو بتایا کہ ان کی جماعت کا موقف وہی ہے کہ جنگ بندی سے قبل اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی تحریک کا ایک وفد جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت کے لیے قاہرہ میں ہے اور وہاں وہ مصری حکام کے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔

    کئی دنوں سے حماس اسرائیل کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے بدلے پوری محصور پٹی میں ایک جامع اور مکمل جنگ بندی کا مطالبہ کر رہی ہےجب کہ تل ابیب اس شرط کو مسترد کرتا ہےاسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے خاتمے سے پہلے جنگ کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کرے گا وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ساتھ ہی فوجی قیادت نے ایک سے زیادہ بار زور دے کر کہا کہ وہ حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے۔

    جاپان میں 7.6 شدت کے زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری

    گذشتہ ہفتے قاہرہ نے ایک تجویز کے لیے ایک مسودہ پیش کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حماس غزہ میں مستقل جنگ بندی کے بدلے اقتدار چھوڑ دے گی تاہم حماس اور اسلامی جہاد نے اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا دو مصری سیکورٹی ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ حماس اور اسلامی جہاد نے مصری تجویز مسترد کردی ہے البتہ دونوں جماعتوں کے عہدیداروں نے عوامی سطح پر اس معاملے کی تردید کی تھی۔

    دوسری جانب اسرائیلی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ اور اٹارنی جنرل کے دفتر نےاس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ دی ہیگ میں بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں نسل کشی کا الزام عائد کرسکتی ہے یہ تشویش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ میں تین ماہ کے دوران اسرائیل نے بے دریغ اور اندھا دھند بمباری کرکے ہزاروں عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہےاسرائیلی اٹارنی جنرل کے دفتر نے جنوبی افریقہ کی درخواست پر ان کے ملک پرغزہ میں نسل کشی کا الزام لگانے کے عالمی عدالت انصاف کے امکان پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    اسرائیلی کی بمباری ،مسجد اقصیٰ کے سابق امام شہید

    اسرائیلی اخبار "ہارٹز” کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اور اٹارنی جنرل کے دفترنے پہلے ہی شکایت سے نمٹنے کے لیے تیاری شروع کر دی ہے، جبکہ پیر کو وزارت خارجہ میں ایک سماعت ہونے کا امکان ہے دریں اثناء ایک سینیر قانونی ماہر نے چیف آف سٹاف سمیت فوجی اہلکاروں کو بین الاقوامی محکمہ انصاف کے ایک عدالتی حکم جاری کرنے کے خطرے سے خبردار کیا جس میں اسرائیل سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف غزہ کی پٹی میں "نسل کشی” کا الزام لگاتے ہوئے اسرائیلی لیڈرشپ کے خلاف ہیگ میں قائم عدالت انصاف میں مقدمہ دائر کیا ہے۔

    غزہ کی پٹی میں تقریباً 3 ماہ قبل جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 21 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ زخمیوں کی تعداد 56 ہزار 451 ہو گئی ہے 7 اکتوبر2023 کو اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ سخت محاصرے کی وجہ سے پینے کے پانی کی قلت اور صحت کی سہولیات کا شدید فقدان ہے جب کہ انسانی صورت حال ابتر ہوچکی ہے۔

    یوکرین کا روس پر جوابی حملہ،14 افراد ہلاک

    اگر بین الاقوامی عدالت انصاف اسرائیل پر جنگی جرائم یا انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام عائد کرتی ہے تو یہ لازمی فیصلہ نہیں ہوگا، لیکن اس سے اسرائیل کو سخت اخلاقی دھچکا لگے گا دنیا بھر میں اس وقت اسرائیل کے خلاف غزہ میں جنگ جرائم کے الزامات عاید کئے جا رہے ہیں اور غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کی مذمت میں اضافہ ہوا ہے۔

  • مفتی تقی کی  دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    مفتی تقی کی دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات

    قطر: مفتی اعظم پاکستان و شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے دوحہ میں حماس کے رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی: مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی اعلی قیادت خالد مشعل اور اسماعیل ہنیہ سے ملاقات کی،جس میں غزہ کی صورتحال پر بات کی گئی-
    https://x.com/ammarkhanyasir/status/1740059702992511372?s=20
    واضح رہے کہ مفتی تقی عثمانی نے 7 اکتوبر کے بعد نہ صرف حماس کی بڑے پیمانے پہ مالی امداد کا اعلان کیا بلکہ کئی مرتبہ امت مسلمہ کے حکمرانوں سے اجتماعی طور پر اسرائیل کے خلاف فوجی طاقت استعمال کرنے کا فتویٰ بھی جاری کیا ہے۔

    قبل ازیں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے قطر میں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات بھی کی تھی،جبکہ اسماعیل ہنیہ نے کہا تھا کہ پاکستانیوں کا فلسطینیوں اور قبلہ اول سے نظریاتی تعلق ہے انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس نے ‘طوفان الاقصی’ آپریشن کے ذریعے ‘گریٹر اسرائیل’ کا خواب چکنا چور کردیا ہے۔

  • اسرائیلی فوج حماس کے جانی نقصان کے بارے جھوٹ بول رہی ہے،سابق اسرائیلی جنرل

    اسرائیلی فوج حماس کے جانی نقصان کے بارے جھوٹ بول رہی ہے،سابق اسرائیلی جنرل

    تل ابیب: اسرائیلی فوج کے ریٹائرڈ جنرل یتزاک برک نے اسرائیلی فوج کی صلاحیتوں کا پردہ فاش کر دیا-

    باغی ٹی وی: اسرائیلی اخبار میں لکھےگئے ایک مضمون میں جنرل (ر) یتزاک برک کے مطابق غزہ میں لڑنے والے اسرائیلی فوجی اہلکاروں اور افسران سے مجھے جو معلومات ملی ہیں اس کی بنیاد پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) کے ترجمان اور عسکری تجزیہ کار غزہ میں دوبدو لڑائی کے دوران حماس کے ہزاروں جنگجوؤں کی ہلاکت کی جھوٹی خبریں دے رہے ہیں، اس کے برعکس حماس کے مارے جانے والے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔

    جنرل (ر) یتزاک برک کا کہنا تھا کہ غزہ میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر اسرائیلی فوجی حماس کے بموں اور ٹینک شکن میزائلوں کا شکار ہوئے، اسرائیلی فوج کے پاس اس وقت حماس کے ارکان کو ختم کرنےکا کوئی مؤثر اور تیز طریقہ نہیں ہے، حماس کے لوگ سرنگوں میں چھپے ہوتے ہیں اور صرف بم نصب کرنے، دھماکا خیز مواد کا جال بچھانے یا اسرائیلی ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں پر میزائل فائر کرنے کے لیے سرنگوں سے باہر آتے ہیں، اسرائیل کے پاس حماس کی سرنگوں کا کوئی حل نہیں ہے-

    اسموگ کی وجوہات جاننے کیلئے چینی ماہرین ماحولیات لاہور آئیں گے

    سابق اسرائیلی فوجی افسر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج کے ترجمان اور اعلیٰ دفاعی حکام جنگ کی دھول چھٹ جانے اور حقیقی تصویر واضح ہونے سے قبل جنگ کو ایک عظیم فتح کےطور پر پیش کرنا چاہتے ہیں اس مقصد کے لیے وہ بڑے ٹیلی ویژن چینلز کے نامہ نگاروں کو غزہ میں مبینہ ‘فتح ‘ دکھانےکے لیے لا رہے ہیں، وہ دراصل صرف شیخیاں بگھار رہے ہیں۔

    جوئے کمپنیوں کے اشتہارات نشر کرنے پر قانونی کارروائی ہو گی،پیمرا

    جنرل (ر) یتزاک برک کا کہنا تھا کہ اب مجھے یاد آرہا ہےکہ کس طرح 7 اکتوبر کے حماس کے آپریشن طوفان الاقصیٰ سے قبل اسرائیلی حکام اور سابق فوجی جنرل دنیا کو باور کراتے تھے کہ اسرائیل کی فوج مشرق وسطیٰ کی سب سے مضبوط فوج ہے جس نے اپنے دشمنوں کو روکے رکھا ہے سرنگوں کی تباہی میں کئی سال لگیں گے اور اس میں اسرائیل کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا، اسرائیلی فوج اب خود سیکڑوں کلومیٹر گہری سرنگوں کے وجود کو تسلیم کر رہی ہے۔

    انتہائی حساس اور حساس پولنگ اسٹیشنز کی درجہ بندی مکمل

    ریٹائرڈ اسرائیلی جنرل نے کہا کہ یہ حماس پر قابو پانےکا وہم تھا جس کے باعث اسرائیل نے زیر زمین جنگ کے لیے مطالعہ، منصوبہ بندی اور مناسب سازوسامان تیار کرنےکی ضرورت کو نظر انداز کیا، غزہ میں لڑنے والے افسران بتاتے ہیں کہ حماس کے ٹھکانوں پر اسرائیل کی شدید بمباری کے باوجود حماس کو دوبارہ کھڑے ہونے سے روکنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا۔

  • ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں،اسرائیلی خواتین

    ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں،اسرائیلی خواتین

    تل ابیب: رہائی پانے والے اسرائیلی یرغمالی ماں بیٹی نے کہا ہے کہ حماس کے نوجوان ہماری ڈھال نہیں بنتے تو ہم اپنی ہی فوج کی گولی باری میں مارے جاتے ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں-

    باغی ٹی وی: اسرائیلی میڈیا کے مطابق 48 سالہ چن گولڈسٹین الموگ اور ان کی 17 سالہ بیٹی اگم گولڈسٹین الموگ نے حماس کی قید سے رہائی کے بعد انٹرویو میں حماس کے جنگجوؤں کے رویے کی تعریف کی ہے چن گولڈسٹین نے بتایا کہ انہیں ایک سپر مارکیٹ کے عقب میں رکھا گیا تھا اور وہیں اسرائیلی فوجی بمباری کر رہے تھے ہم لوگوں کو گولہ بارود کی زور دار آوازیں اور بو صاف محسوس ہو رہی تھی-

    48 سالہ خاتون نے مزید بتایا کہ اگر اس موقع پر حماس کے نوجوان ہماری ڈھال نہیں بنتے تو ہم اپنی ہی فوج کی گولی باری میں مارے جاتے ہمیں بچانے کی کوشش میں حماس کے نوجوانوں نے اپنی جانیں قربان کردیں ایک موقع پر ہم نے حماس کے لوگوں سے کہا کہ کیا ہم مارے جائیں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ سے پہلے ہم مرجائیں گے لیکن آپ کو کچھ ہونے نہیں دیں گے آپ ہمارے لیے قیمتی ہیں۔

    ہمیں آج بھی ناشتہ نہیں ملا،اسرائیلی بمباری سے شہید ہونیوالی فلسطینی بچی کی ڈائری …

    اسی طرح 17 سالہ اگم گولڈسٹین نے بتایا کہ حماس کا سلوک انتہائی اچھا تھا، وہ ہماری ہر چیز کا خیال رکھتے اور مصروف رکھنے کے لیے ہمارے ساتھ مختلف کھیل بھی کھیلتے ایک بار پنجہ آزمائی کا کھیل بھی کھیلا اس کھیل کے دوران حماس کے جنگجوؤں نے اپنے ہاتھ پر تولیہ رکھا ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ ان ماں بیٹی کو حماس نے فلسطینی قیدیوں کے بدلے گزشتہ ماہ ہی رہا کیا تھا 71 فلسطینی خواتین اور 169 بچوں سمیت 240 فلسطینیوں کے بدلے 81 اسرائیلیوں اور 24 غیر ملکیوں کو رہا کیا گیا تھا۔

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

  • حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    حماس اور اسلامی جہاد نےمستقل جنگ بندی کیلئے مصر کی تجویز مسترد کر دی

    غزہ: مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں حماس اور اسلامی جہاد نے جنگ بندی کیلئے غزہ سے دستبردار ہونے کی مصر کی تجویز مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: خبر رساں ادارے نے مصری سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس اور اس کی اتحادی مزاحمتی تحریک اسلامی جہاد نے مصر کی طرف سے سامنے لائی گئی اس پیشکش کو مسترد کر دیا ہے کہ حماس غزہ کی حکومت سے دستبردار ہو جائے تو اس کے بدلے میں مستقل جنگ بندی کی جا سکتی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق حماس اور اسلامی جہاد کے وفود کی قاہرہ میں مصری حکام سے ملاقات ہوئی ہے جس میں مختلف تجاویز پیش کی گئیں تاہم دونوں بڑی مزاحمتی تنظیموں نے غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کردیا ہے حماس کے حکام نے کہا ہے کہ حماس فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے اور فلسطینیوں کی نسل کشی رکوانے کیلئے مصری بھائیوں سے بات کی ہے اسرائیلی جارحیت رکنے اور غزہ میں امداد میں اضافے کے بعد ہی یرغمالیوں کی رہائی پربات ہوگی۔

    فلسطینی میرے ڈراؤنے خوابوں میں آتے ہیں اور پوچھتے ہیں تم نے ہمیں کیوں …

    مصر نے اپنی اس تجویز میں غزہ میں نئے انتخابات کی بھی بات کی ہے اور حماس کو یقین دلانے کی کوشش بھی کی ہے ان ممکنہ انتخابات سے پہلے اور دوران میں اس کے کارکنوں کو کوئی تعاقب یا تشدد کا نشانہ بھی نہیں بنایا جائے گا۔ تاہم حماس نے یہ پیش کش رد کر دی ہے۔

    حماس ذمہ دار جنہوں نے قاہرہ کا دورہ کیا نے ‘ روئٹر’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس اپنے عوام پر مسلط اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ چاہتی ہے، چاہتی ہے قتل عام بند ہو اور نسل کشی روکی جائے۔ اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ بھی یہی بات کی ہے۔

    حماس کے ذمہ دار رہنما نے یہ بھی کہا کہ ہمارے لوگوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل جاری رہنی چاہیے اور اس میں اضافہ بھی ہونا چاہیے۔ جب اسرائیلی جارحیت رک جائے گی اور امدادی سامان کی ترسیل میں اضافہ ہو جائے گا تو ہم یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔

    شام میں اسرائیلی فضائی حملے میں ایرانی جنرل سردار سید رازی موسوی جاں بحق

    اسلامی جہاد نے بھی یہی مؤقف اپنایا ہے اور کہا ہے کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی کیلئے اسرائیل کو تمام فلسطینیوں قیدیوں کو رہاکرناہوگا۔

    واضح رہے دونوں فلسطینی مزاحمتی گروپ مصری حکام کے ساتھ قاہرہ میں الگ الگ مذاکرات کر چکے ہیں۔ مصر نے اس دوران ایک نیا تصور پیش کیا ہے۔ مصر کے اس تصور کی حمایت قطری ثالث بھی کرتے ہیں۔ جو یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں ‘ سیز فائر ‘ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

    دوسری جانب اسرائیلی افواج کی غزہ پر وحشیانہ بمباری مسلسل جاری ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں مزید 250 فلسطینی شہید ہوگئے فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی بمباری سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار 674 ہوگئی جبکہ 54 ہزار 536 فلسطینی زخمی ہیں۔

    24 جنگی کارروائیوں میں 48 صہیونی فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا، القسام …

  • اسرائیلی حملوں کی مکمل بندش تک مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا،حماس

    اسرائیلی حملوں کی مکمل بندش تک مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا،حماس

    غزہ:حماس نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں کی مکمل بندش تک مزید یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق حماس کی جانب سے مذکورہ بیان ایسے وقت پرسامنے آیا ہے جب دو روز قبل اسرائیلی فورسز نے اپنے ہی تین شہریوں کو فائرنگ کرکے ہلاک کردیا، تینوں شہری حماس کے یرغمالی تھے اور وہ ہاتھ میں امن کا جھنڈا تھامے آگے بڑھ رہے تھے اس واقعہ کے بعد اسرائیلی کے حمایتی یورپی ممالک کی جانب سے تل ابیب پر جنگ بندی کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور اس سلسلے میں برطانیہ اور جرمنی کے وزرا خارجہ نے ’جنگ بندھی‘ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’’اب تک ہزاروں معصوم شہری ہلاک‘‘ ہوچکے ہیں۔

    علاوہ ازیں حماس نے واضح کیا کہ اسرائیلی یرغمالیوں اور قیدیوں کی رہائی حملوں کی بندش سے مشروط ہیں اور اس سلسلے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے تمام فریقین کو پیغام پہنچا دیا گیا ہےاگر یرغمالیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے میں وہ بڑی تعداد میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرے گی، جن میں ہائی پروفائل شخصیات بھی شامل ہیں‘‘۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نے حماس کی قید میں 129 یرغمالیوں کی واپس کے لیے قسم اٹھائی ہے انہوں نے کہا کہ حماس کے خاتمے تک اسرائیلی جنگ جاری رہےگی۔

    اسرائیل اور قطری حکام نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ناروے میں ہفتے کے روز ایک ملاقات طے کی گئی تھی یہ ملاقات یرغمالیوں کے لیے نئی کوششوں کے سلسلے میں طے ہوئی تھی،اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی جاسوسی ایجنسی موساد کے سربراہ ڈیوڈ برنیا نے ہفتے کے آخر میں قطر کے وزیر اعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ملاقات کی جس میں حماس کے ساتھ نئے مذاکرات کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔

  • اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    اسرائیل نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو مارنے کا اعتراف کر لیا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری ہیں، سات روزہ جنگ بندی ہوئی تا ہم اس کے بعد اسرائیل نے دوبارہ حملے شروع کر دیئے، حماس نے سات اکتوبر کو کئی اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنایا تھا، اب اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو خود ہی مارنے کا اعتراف کیا ہے

    حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو غزہ میں رکھا ہوا ہے، کئی یرغمالی جنگ بندی کے دوران رہا ہوئے تا ہم کئی اب بھی حماس کے قبضے میں ہیں، اسرائیلی فوج نے غزہ میں تین یرغمالیوں کو گولیاں مار دیں اور پھر اعتراف کیا کہ غلطی سے خطرہ سمجھ کر گولیاں ماریں،جس سے یرغمالیوں کی موت ہو گئی

    اسرائیلی فوج سے جاری بیان کے مطابق شجائیہ میں اسرائیلی فوج نے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو خطرہ سمجھا اور گولی مار دی،واقعہ کے بعد اسرائیلی فوج نے تحقیقات شروع کر دی ہیں تا ہم اس سے ہمیں یہ سبق ملا ہے کہ ہمیں یرغمالیوں کو بچانے کے لئے مزید محتاط ہو نا ہو گا، اس ضمن میں غزہ میں تمام اسرائیلی فوجیوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے.اسرائیلی فوج کی گولیوں سے ہلاک دو یرغمالیوں کی شناخت اسرائیلی فوج نے ظاہر کر دی ہے، جبکہ تیسرے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ خاندان کے کہنے پر شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی،مرنیوالے دو یرغمالیوں میں یوتم ہیم اور سیمر الطلالقہ شامل ہیں، جنہیں حماس نے سات اکتوبر کو یرغمال بنایا تھا.

    دوسری جانب اسرائیلی حملے میں الجزیرہ ٹی وی کے سینئر رپورٹر وائل الدحدوح زخمی ہوگئے ہیں،اسرائیل نے خان یونس میں حیفا سکول کی تباہی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے قریب بمباری کی، جس سے صحافی وائل الدحدوح زخمی ہو گئے،انکے ہاتھ اور کمر پر زخم آئے،وائل الدحدوح کی اہلیہ، بیٹا اور بیٹی 25 اکتوبر کو اسرائیلی فوج کی بمباری میں شہید ہو چکے ہیں،

    اسرائیل اورحماس کے درمیان 7 اکتوبر کو جنگ شروع ہوئی تھی،اسرائیلی حملوں میں 18 ہزار سے زائد فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد زخمی ہیں،اسرائیل اور حماس کے مابین قطر کی کوششوں سے سات روزہ عارضی جنگ بندی ہوئی تھی تا ہم سات دنوں کے بعد دوبارہ جنگ شروع ہو گئی،اس جنگ بندی کے دوران دونوں اطراد سے قیدیوں کی رہائی ہوئی تھی،اب بھی جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں تا ہم اب اسرائیل نے موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا کا قطرکا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے

    موساد کے ڈائریکٹر نے دوحہ کا سفر کرنا تھا مگر اب اسرائیلی حکومت نے انہیں منع کر دیا وہ دوحہ نہیں جا رہے، جنگ بندی کے لئے پہلے بھی کوشش قطر میں ہوئی تھی جس کے نتیجے میں یرغمالی رہا ہوئے تھے،قبل ازیں 13 دسمبر کو اسرائیلی چینل نے رپورٹ میں کہا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی جنگی کابینہ نے دورہ منسوخ کردیا اورسینئراسرائیلی افسران بات چیت پھر سے شروع کرنے کے لئے قطر نہیں جائیں گے۔ سی این این کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم دفتر کا ماننا ہے کہ غزہ میں 135 یرغمالی بچے ہیں، جن میں سے 115 زندہ ہیں۔ سی این این نے کئی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اسرائیل، امریکہ اور قطر نے بات چیت شروع کرنے کے طریقوں پرغوروخوض جاری رکھا ہواہے

    اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندان موساد چیف کے قطر کا دورہ منسوخ ہونے پر سراپا احتجاج ہیں اور اسرائیلی حکومت سے جواب طلبی کر رہے ہیں، خاندانوں کا کہنا ہے کہ ہم تنگ آ چکے ہیں، ہمارے پیاروں کو واپس لایا جائے،حکومت بے حسی ختم کرے،

  • ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    ترک صدر نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیا

    انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے اسرائیلی بفر زون منصوبے پر بحث کرنا بھی فلسطینیوں کی بے عزتی ہے-

    باغی ٹی وی: ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کے غزہ میں بفرزون کے قیام کا منصوبہ مسترد کر دیاقطر سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے ترکیے میں حماس کے ارکان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    ترک خبر ایجنسی انادولو کے مطابق ترکیہ کے صدر نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے غزہ میں جنگ کو اپنی سیاسی زندگی بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ غزہ میں اسرائیل جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے،اسرائیلی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کو جواب کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا، یہ ترکیہ کی ترجیح ہے غزہ میں مستقل جنگ بندی ہو اور غزہ کے لوگوں انسانی بنیادوں پر امداد بغیر کسی رکاوٹ اور تعطل کے پہنچے ۔

    ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا ،نواز شریف

    صدر اردوان نے نیتن یاہو کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ‘ اس نے جنگ کو طوالت اپنے اقتدار اور سیاسی مستقبل کو طوالت دینے کے لیے دی ہے۔ لیکن اپنے ذاتی اقتدار کے لیے اس نے پورے خطے کا مستقبل خطرے میں ڈال دیا ہےنیتن یاہو کہتا تھا کہ وہ حماس کو ختم کر دے گا مگر اب اس کو خود اپنے ہاں اندرونی محاذ پر سخت سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، اس کی ناکامی اور اہلیت پر سوال اٹھ رہے ہیں یاہو کوعالمی سطح پر بھی سخت تنقید کا سامنا ہے اس کی جنگی پالیسی کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی شہریوں کو شہید کیا گیا، حتیٰ کہ جنگ بندی کے بعد بھی فلسطینیوں کی جانیں لی گئی ہیں انہوں نے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر اور اپوزیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ‘ اسرائیلی اپوزیش آج یاہو کا استعفیٰ مانگ رہی ہے۔

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،درخواستیں ابتدائی سماعت کیلئے مقرر

    ترک صدر نےکہا کہ غزہ کے لیے اسرائیلی بفر زون منصوبے پر بحث کرنا بھی فلسطینیوں کی بے عزتی ہےحماس اپنی سر زمین کے تحفظ کے لیے لڑنے والا مزاحمتی گروپ ہے،غزہ کے مستقبل کا فیصلہ فلسطینی ہی کریں گے۔، اسرائیل کو مقبوضہ علاقے واپس کرنا ہوں گے، مغربی ممالک کی اسرائیل کی حمایت خطے کی موجودہ صورت حال کا سبب بنی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی توثیق پارلیمنٹ میں جمع کر کے اپنا کردار ادا کر دیا ہے، اب ترکیے کو ایف 16 طیاروں کی فروخت پر امریکی کانگریس سے بیک وقت اقدامات کی توقع ہے۔

    اسرائیل غزہ میں جاری جنگ جنوری 2024 میں ختم کر سکتا ہے،امریکی ٹی وی

    واضح رہے یائر لاپیڈ کو رپورٹ کرتے ہوئے ٹائمز آف اسرائیل نے رپورٹ کیا ہے ‘اب جنگ کے دوران ہی نیتن یاہو کو گھر جانا چاہیے، کیونکہ ہم تبدیلی چاہتے ہیں کیونکہ حکومت کام ہی نہیں کر رہی،بلکہ غیر فعال ہو چکی ہے، ان حالات میں یاہو کے اقتدار کا کوئی جواز نہیں ہے۔ہم ایک ایسی حکومت کو مزید بر سر اقتدار نہیں رہنے دینا چاہتے جس کی عوام میں مقبولیت نہ رہی ہو اور لوگوں کو اس پر بھروسہ نہ رہا ہو، یہ صرف اپوزیشن لیڈر نہیں کہہ رہا بلکہ ماہ نومبر میں ہونے والے ایک سروے میں کہا گیا ہے کہ 70 سے 80 فیصد اسرائیلی چاہتے ہیں کہ جنگ ختم ہوتے ہی یاہو کو مستعفی ہو جانا چاہیے۔

    شادی شدہ افراد میں ہائی بلڈ پریشر سے متاثر ہونے کا خطرہ 9 فیصد …