Baaghi TV

Tag: حماس

  • اسرائیل  تیار،اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں جنگ بندی جلد ممکن،امریکا

    اسرائیل تیار،اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں جنگ بندی جلد ممکن،امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے لیے تیار ہوگیا تاہم اب گیند حماس کے کورٹ میں ہے، اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں 6 ہفتے کی جنگ بندی جلد ممکن ہے-

    باغی ٹی وی :اے ایف پی کے مطابق ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ قطر میں ہونے والے غزہ جنگ بندی مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور اسرائیل جنگ بندی کے لیے تیار ہوگیا، اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے اکثر نکات پر اتفاق کرلیا ہے، اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں 6 ہفتے کی جنگ بندی جلد ممکن ہے، سینیئر امریکی اہلکار کے بقول ایسا تب ہی ممکن ہو سکے گا جب حماس معاہدے کی اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق شق پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرا دے، امریکا جنگ سے تباہ حال غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم ہیلی کاپٹرز کےذریعے کرنا چاہتا ہےدوسری جانب تاحال اسرائیل اور حماس کیجانب سے غزہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    دوسری جانب غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے جن میں سے 6 کی حالت تشویش ناک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اسرائیلی فوجی حماس کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک عمارت کو حماس کا ٹھکانہ سمجھ کر اندر داخل ہوئے اور ٹریپ ہوگئےعینی شاہدین کے بقول جیسے ہی اسرائیلی فوجی عمارت میں داخل ہوئے ایک زور دار دھماکا ہوا اور عمارت گر گئی، جس کے ملبے میں درجن سے زائد اسرائیلی فوجی دب گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملبے سے 3 فوجیوں کی لاشیں نکالی گئیں جب کہ 14 کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کا گیا جہاں 6 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اسرائیلی فوجیوں کی تازہ ہلاکتوں کے بعد غزہ میں 27 اکتوبر سے جاری دوبدو جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 245 ہوگئی جب کہ 1500 فوجی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں مارے گئے تھے، اس طرح مجموعی طور پر اب تک 1745 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں اور یہ تعداد وہ ہے جو اسرائیل نے خود تسلیم کی ہے جب کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 30 ہزار سے زائد زخمی ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

  • حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا امکان

    حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی معاہدے کا امکان

    تل ابیب: اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے سے متعلق پیش رفت کی امید پھر سے جاگ اُٹھی ہے۔

    اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی ادارے ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز کی حماس اور اسرائیل کی قیادت سے رابطوں میں پیش رفت سامنے آئی ہےسی آئی اے کے ڈائریکٹر کے ان رابطوں میں امریکی صدر جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے امور کے مشیر بریٹ میک گرک نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ کی قیادت میں حماس کا ایک وفد اس وقت مصر کے دورے پر ہے اور وہاں کی انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بات چیت بھی کی، قیدیوں کی فائل اور جنوبی غزہ کی پٹی کے شہر رفح پر متوقع اسرائیلی حملے کے بارے میں بات کرنے کے لیے میک گرک آج مصر کا بھی دورہ کریں گے،حماس اور اسرائیل کے درمیان سیز فائر معاہدے کے لیے امریکا، قطر، اردن اور مصر بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن یہ مذاکرات بار بار تعطل کا شکار ہوجاتے ہیں۔

    7 اکتوبر سے جاری حماس اسرائیل جنگ میں گزشتہ برس نومبر میں ایک ہفتے کی جنگ بندی ہوئی تھی جس کے دوران حماس نے 100 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا تھا جس کے بدلے اسرائیل نے تقریباً 300 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا اس وقت حماس کے پاس 132 اسرائیلی یرغمالی ہیں جن میں سے 29 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ جنگ میں مارے جا چکے ہیں۔

  • فلسطینی اتھارٹی نے حماس سے اتحاد پر آمادگی ظاہر کردی

    فلسطینی اتھارٹی نے حماس سے اتحاد پر آمادگی ظاہر کردی

    فلسطینی اتھارٹی نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس سے اتحاد پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

    باغی ٹی وی: جرمنی کے شہر میونخ میں سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی وزیراعظم محمد اشتیہ کا کہنا تھا کہ روس نے حماس سمیت فلسطین کے دیگر تمام گروپوں کو ماسکو مدعو کیا ہے، فسلطینی اتھارٹی کچھ شرائط کے ساتھ حماس سے اتحاد چاہتی ہے، ہمیں فلسطین کے اتحاد کی ضرورت ہے۔

    فلسطینی وزیراعظم کے مطابق شرائط میں مزاحمت سے متعلق مسائل پر تفہیم بھی شامل ہے، ہم دیکھیں گے کہ آیا حماس ہمارے ساتھ آنے کو تیار ہے یا نہیں، ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن حماس تیار نہیں تو یہ ایک الگ بات ہے۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کے غزہ کے علاقے رفح میں بےگھر فلسطینیوں پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی بمباری سےکل سے اب تک مزید 127 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، اسرائیلی محاصرے اور حملے کے بعد غزہ کا دوسرا بڑا ناصر اسپتال بھی غیر فعال ہوگیا ہے، عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے اسپتال میں 200 مریض پھنسے ہیں، اسرائیلی فوج امدادی ٹیم کو اندر نہیں جانے دے رہی۔

    مقامی اور اقوامِ متحدہ کے صحت کے حکام نے کہا کہ لڑائی، ایندھن کی قلت اور اسرائیلی چھاپوں کی وجہ سے اتوار کے روز غزہ کی پٹی کا دوسرا بڑا ہسپتال مکمل طور پر بند ہو گیا،اسرائیل جنوبی شہر رفح پر حملے کی تیاری کر رہا ہے جو اب دس لاکھ سے زیادہ بے گھر فلسطینیوں کی پناہ گاہ ہے ، یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے بارے میں بین الاقوامی برادری بشمول اسرائیل کے حمایتی امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ بہت زیادہ انسانی مصیبت و ابتلا کا سبب بنےگا۔

    اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے نے غزہ کا بیشتر حصہ تباہ کر دیا ہے اور اس کے تقریباً تمام باشندوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا ہے، فلسطینی محکمۂ صحت کے حکام کہتے ہیں کہ 28,985 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں،غزہ کے بیشتر ہسپتال لڑائی اور ایندھن کی کمی کی وجہ سے خدمات کی فراہمی سے قاصر ہو گئے ہیں جس کی بنا پر 2.3 ملین کی آبادی صحت کی مناسب نگہداشت سے محروم ہے۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے رائٹرز کو بتایا کہ جنوبی شہر خان یونس میں الناصر ہسپتال اتوار کی صبح خدمات سے قاصر ہو گیا، ہسپتال نے جنگ کے زخموں اور غزہ میں صحت کے بگڑتے ہوئے بحران سے دوچار مریضوں کو بدستور پناہ دی تھی لیکن ان سب کے علاج کے لیے کوئی بجلی اور کافی عملہ نہیں تھا یہ مکمل طور پر خدمت سے قاصر ہو گیا ہے۔ صرف چار میڈیکل ٹیمیں اور 25 کا عملہ فی الحال سہولت کے اندر مریضوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں ہسپتال کو پانی کی سپلائی رک گئی کیونکہ جنریٹر تین دن سے بند تھے، سیوریج کا پانی ایمرجنسی کمروں میں بھر گیا اور بقیہ عملے کے پاس انتہائی نگہداشت والے مریضوں کے علاج کا کوئی طریقہ نہیں تھاآکسیجن کی فراہمی کی کمی کم از کم سات مریضوں کی موت کا سبب بنی، یہ بھی بجلی نہ ہونے کا نتیجہ تھا۔

    دوسری جانب غزہ کی پٹی میں حماس کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ میں خود اسرائیلی فوج کو بھی بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہےکل ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں جاری لڑائیوں میں میگیلان سپیشل ریکونیسنس یونٹ کے دو فوجی زخمی ہوئے جب کہ 7 اکتوبرسے اب تک ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 573 ہو گئی۔

    اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا کہ غزہ پرجنگ کے آغازسے اب تک اس کے 573 فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔ جب کہ زخمیوں کی تعداد بھی 2,918 ہو گئی ہے جمعہ کو اسرائیلی فوج نے دو اہلکاروں کی ہلاکت اور ایک افسر سمیت چھاتہ بردار یونٹ کے 4 ارکان کے زخمی ہونے کا اعلان کیا کل ہفتے کے روز اسرائیلی فوج نے فوجی 27 سالہ اوری یاش کی موت کا اعلان کیا ٹائمز آف اسرائیل نے اطلاع دی ہے کہ مرنے والوں میں "پانچ کرنل بھی شامل ہیں، جو کہ حالیہ یاد میں لڑائی میں مارے گئے سب سے سینیر افسر تھے”۔

  • اسرائیل نے حماس کے ساتھ  جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط  رکھ دیں

    اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کیلئے 6 شرائط رکھ دیں

    تل ابیب: اسرائیل نے حماس کے ساتھ 2 ماہ تک جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے 6 شرائط پیش کردیں –

    باغی ٹی وی : اسرائیل نے مبینہ طور پر غزہ میں حماس کے خلاف اپنی فوجی کارروائی کو دو ماہ تک روکنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے بدلے میں تل ابیب حماس کے زیر حراست باقی 136 یرغمالیوں کی بتدریج رہائی کا خواہاں ہےAxios کی رپورٹ کے مطابق دو اسرائیلی حکام کے حوالے سے یہ تجویز قطر اور مصر کے ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی-

    اس سے قبل نومبر کے آخر میں، امریکہ اور قطر کی ثالثی میں دو ہفتے کی "انسانی بنیادوں پر جنگ بندی” کے دوران 105 یرغمالیوں کو رہا کیا گیا تھا، لیکن اس جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے مزید معاہدے کی باتیں معدوم ہیں۔

    ترک سرکاری خبر ایجنسی انادولو کے مطابق اسرائیلی نیوز چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے 6 شرائط پیش کردئیے ہیں اور اب ثالثوں کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے جواب کا منتظر ہے اور اس کا جواب 48 گھنٹوں کے دوران متوقع ہے۔

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    چینل 12 کے مطابق حماس سے بات کرنے کے بعد ثالثوں کا جواب آج یا کل تک آنے کا امکان ہے، جس میں طے ہوگا کہ آیا اس پر پیشرفت ہوسکتی ہے یا نہیں جبکہ حماس کا مطالبہ ہے جب تک اسرائیل غزہ کو آزاد نہیں چھوڑ دیتا، تب تک جنگ جاری رہے گی اور قیدیوں کا تبادلہ بھی اسی وقت ہوگا اسرائیلی عہدیدار کا نام ظاہر کیے بغیر رپورٹ میں بتایا گیا کہ 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران ہمیں معلوم ہوگا کہ ہم مذاکرات شروع کرنے کے لیے آگے بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے پیر کو بتایا تھا کہ اسرائیل نے 2 ماہ کی جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے لیے پیش کش کی ہے لیکن شرائط کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا تھا۔

    چینل 12 نے دعویٰ کیا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت نے 6 شرائط رکھ دی ہیں، جس میں سب سے اہم غزہ میں جنگ بندی کے جواب میں قیدیوں کا تبادلہ ہے، جو اس وقت اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے دوران قید ہیں ، اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ ہونے والا معاہدہ خفیہ رکھا جائے گا اور عوامی سطح پر نہیں لایا جائے گا اور حماس کی جانب سے قیدیوں کی رہائی کو انسانی بنیادوں پر ہونے والے اقدام کے طور پر پیش کرے گا۔

    یرغمالیوں کے لواحقین نے اسرائیلی پارلیمنٹ میں جاری اجلاس پر دھاوا بول دیا

    قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس بتدریج قیدیوں کو رہا کرے گی اور ابتدا میں خواتین، بزرگ اور زخمیوں کو آزاد کیا جائے گا او اس کے بعد ایسے افراد جو فوج کا حصہ نہ رہے ہوں اور آخر میں اسرائیلی فوج اور پھر ہلاک افراد کی لاشیں واپس کردی جائیں گی جنگ بندی کا عمل کئی ہفتوں یا ممکنہ طور پر دو سے تین ماہ جاری رہے گا اور قیدیوں کا مکمل تبادلہ کیا جائے گا، قیدیوں کے نام ان کی رہائی سے قبل دئیے جائیں گے اور ہر مرحلے پر اس سے آگاہ کیا جائے گا۔

    پانچویں شرط کے تحت غزہ پٹی میں اسرائیل اپنے فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی کرے گا اور رہائشی علاقوں سے فوج واپس بلائے گا، فلسطینیوں کو شمالی غزہ میں اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے گی، چھٹی شرط کے مطابق اسرائیل اس دوران کسی بھی موقع پر جنگ کے خاتمے کا وعدہ نہیں کرے گا جبکہ حماس اس سے قبل کئی مرتبہ واضح کرچکی ہے کہ وہ اس وقت تک مذاکرات نہیں کریں گے جب تک غزہ میں مکمل طور پر جنگ بندی نہیں ہوتی۔

    حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کے حملوں کے جواب میں شروع ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 25 ہزار 490 فلسطینی شہید اور 63 ہزار 354 زخمی ہوچکے ہیں جبکہ 1200 اسرائیلی بھی ہلاک ہوگئے ہیں-

  • حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں، امریکی انٹیلیجنس

    واشنگٹن: امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں فضائی اور زمینی آپریشن اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود اسرائیل حماس کو تباہ کرنےکا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ اداروں نے تصدیق کی ہے کہ حماس کے پاس اب بھی مہینوں تک لڑائی جاری رکھنےکے لیے گولہ بارود موجود ہےوہ اب بھی غزہ میں لڑائی کےساتھ اسرائیل میں راکٹ برسا سکتے ہیں، اسرائیلی حکام نے بھی یہ اعتراف کیا ہےکہ غزہ پر جنگ کے دوران حماس کو تباہ کرنےکا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا اور حماس کے ارکان لڑائی کے لیے صورتحال کے مطابق ڈھل رہے ہیں اور اب ان کی حکمت عملی چھوٹے گروہوں میں لڑنا اور اسرائیلی فوجیوں کو گھات لگا کر غائب ہوجانا ہے-

    ہزاروں اسرائیلیوں کا احتجاج،نیتن یاہو کو ہٹاکر نئے انتخابات کا مطالبہ

    اخبارکے مطابق امریکی حکام نے تصدیق کی ہےکہ حماس کے اہلکار ان علاقوں میں بھی واپس آگئے ہیں جن کے متعلق اسرائیل کا دعویٰ ہےکہ اب وہ اس کے کنٹرول میں ہیں، حماس ان علاقوں میں سکیورٹی اور ایمرجنسی خدمات فراہم کرنے والے اہلکاروں کی صورت میں موجود ہے ، سابق امریکی جنرل جوزف ووٹل نے اخبار کو بتایا کہ صورتحال ظاہرکرتی ہےکہ حماس نقصانات کے باوجود مزید لڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے امریکی خفیہ اداروں کا اندازہ ہےکہ جنگ کے آغاز سے لےکر اب تک حماس نے اپنے 20 سے 30 فیصد جنگجوؤں کوکھو دیا ہے، اندازے کے مطابق حماس کے پاس جنگ سے قبل 25 ہزار سے 30 ہزار جنگجوؤں کے علاوہ ہزاروں پولیس اہلکار اور دیگر فورسز تھیں۔

    پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ماہرین فلکیات نے ممکنہ تاریخ بتا دی

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیل کی بمباری ایک سو سات روز سے مسلسل جاری ہے اسرائیلی حملوں میں فلسطینی شہدا کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ 62 ہزار سے زیادہ زخمی ہیں،جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے-

  • اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہے،حماس

    اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہے،حماس

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگا۔

    باغی ٹی وی: روسی خبر ایجنسی سےگفتگو کرتے ہوئے سینیئر حماس رہنما موسیٰ ابومرزوق نےکہا کہ اسرائیل 100 روز بعد بھی بزور طاقت یرغمالیوں کو رہا کرانے میں ناکام رہا ہے، اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اسرائیل کو معاہدہ کرنا پڑےگااسرائیل معاہدے کے ذریعے یرغمالیوں کو واپس لےگا یا ان کی لاشیں لےگا، اسرائیل یرغمالیوں کو معاہدے کے تحت ہی رہا کرا سکتا ہےحوثی فلسطینیوں کے ساتھ حقیقی اور مؤثر یکجہتی کا مظاہرہ کر رہےہیں، تمام قوتیں غزہ میں نسل کشی بند کرانے کے لیےجرأت مندانہ اقدامات کریں۔

    میکسیکو اور چلی نے اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت میں درخواست دائر کر …

    دوسری جانب شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کی ایک میٹنگ پر مہلک اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں ایک کار کو نشانہ بنایا ہے جس میں حماس کے دو اہم رہنما شہید ہوگئے،” روئٹرز "کے مطابق لبنان میں تین سکیورٹی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایک اسرائیلی حملے میں حماس تحریک کے دو ارکان آج ہفتے کو شہید ہو گئے انہیں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک کار میں سفر کررہے تھے تاہم حماس کے شہید رہنماؤں کی شناخت ظاہر نہیں کی حماس یا حزب اللہ کی طرف سےان حملوں کے حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

    دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران اسرائیلی صدر کے خلاف شکایت درج

    تاہم یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب اسرائیل نے شام کے دارالحکومت دمشق کے مرکز میں ایک گھرکو نشانہ بنایا جس میں اس نے قدس فورس کے انٹیلی جنس اہلکار اور اس کے نائب کو ہلاک کر دیا اسرائیل نے یہ حملہ 3 جنگی طیاروں سے کیا جن کی مدد سے ایک عمارت پر کئی میزائل داغے اور اسے ملبے کاڈھیر بنا دیا گیاایرانی پاسداران انقلاب نے شام میں ہلاک ہونے والے 4 ایرانی فوجی مشیروں کے ناموں کا بھی اعلان کیا جن کی شناخت امید وار، علی آقازادہ، حسین محمدی اور سعید کریمی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

    پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کی حمایت جاری رکھیں گے،چینی نائب وزیر خارجہ

    دوسری جانب غزہ کے رہائشی علاقوں اور اسپتالوں کے اطراف اسرائیلی فوج کی شدید بمباری جاری ہے7 اکتوبر سے اب تک شہدا کی تعداد 25 ہزار تک پہنچ گئی ہے، شہید ہونے والوں میں 70 فیصد خواتین شامل ہیں خان یونس میں نصر اور الامل اسپتال کے قریب فلسطینی مزاحمت کاروں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپوں کاسلسلہ جاری ہے جبکہ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے سے بھی 22 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

  • امریکی انٹیلی جنس کاخان یونس میں سرنگوں میں حماس کی قیادت کی موجودگی کا انکشاف

    امریکی انٹیلی جنس کاخان یونس میں سرنگوں میں حماس کی قیادت کی موجودگی کا انکشاف

    نیویارک: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس کو خان یونس میں زیرزمین سرنگوں میں حماس کی قیادت کی موجودگی کا پتا چلا ہے۔

    باغی ٹی وی :العربیہ کے مطابق امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باخبر امریکی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ’سی آئی اے‘ حماس کے سینیر رہنماؤں اور غزہ میں یرغمالیوں کے مقام کے بارے میں معلومات اکٹھی کر رہی ہے، یہ معلومات اسرائیل کو فراہم کی جا رہی ہیں۔

    7 اکتوبر کو حماس کی قیادت میں اسرائیل پر کیے گئے اچانک حملوں کے بعد کے ایک نئی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی۔ اس ٹاسک فورس کے ذمہ غزہ میں حماس کے ٹھکانوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنا تھا،7 اکتوبر کے حملے کے فوراً بعد امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے انٹیلی جنس ایجنسیوں اور محکمہ دفاع کو ایک میمو بھیجا جس میں ٹاسک فورس کی تشکیل کا حکم دیا گیا تھا۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی نئی تجویز

    جیک سلیوان نے خفیہ اداروں کو حماس کی قیادت کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی ہدایت کی، ٹاسک فورس کی تشکیل کسی نئے قانونی حکام کے ساتھ نہیں تھی لیکن وائٹ ہاؤس نے حماس کے بارے میں انٹیلی جنس جمع کرنے کی ترجیح پر زور دیا تھا۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ یہ معلومات اسرائیل کے لیے کتنی اہم ہیں، حالانکہ حماس کے کسی سینیر رہنما کو گرفتار یا ہلاک نہیں کیا گیا ہے امریکا اسرائیل کو حماس کے کم یا درمیانے درجے کے کارکنوں کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات فراہم نہیں کرتا۔

    7 اکتوبر سے پہلے اسرائیل نے اندازہ لگایا تھا کہ حماس کے جنگجوؤں کی تعداد 20 سے 25 ہزار کے درمیان تھی 2023 کے آخر تک اسرائیل نے امریکی حکام کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ انہوں نے اس فورس کے تقریباً ایک تہائی کو ہلاک کر دیا ہےکچھ امریکی حکام کا خیال ہے کہ حماس کے نچلے درجے کے ارکان کو نشانہ بنانا گمراہ کن ہے کیونکہ انہیں آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور اس سے شہریوں کوغیر مناسب خطرات لاحق ہیں غزہ میں اسرائیل کی فوجی بمباری کی مہم جسمیں غزہ کی وزارت صحت کیمطابق تقریباً 24,000 فلسطینی مارے گئے ہیں حماس کے جنگجوؤں پر مشتمل ہوسکتے ہیں۔

    غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 151 فلسطینی شہید،مکمل کمیونیکیشن بلیک آؤٹ

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ السنوار کو نشانہ بنانا صرف اسے تلاش کرنے تک محدود نہیں ہے کیونکہ امریکی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ السنوار جنوبی غزہ میں خان یونس کے نیچے سرنگ کے نیٹ ورک کے سب سے گہرے حصے میں چھپا ہوا ہے۔ اس کا خیال تھا کہ وہ یرغمالیوں میں گھرا ہوا ہے اور انہیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اس لیے اسے زندہ پکڑنا یا مارنا ایک پیچیدہ اور مشکل آپریشن ہوگا۔

    اسرائیل نے عالمی عدالت میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس …

  • اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی نئی تجویز

    اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی نئی تجویز

    غزہ: اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے-

    باغی ٹی وی:اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق نئی تجویز میں غزہ میں تین ماہ کی جنگ بندی اور غزہ سے اسرائیلی افواج کا انخلا شامل ہے،تاہم کارپوریشن یہ نہیں بتایا کہ یہ نئی تجویز کس نے پیش کی ہے لیکن اسرائیلی اخبار’یدیعوت احرونوت‘ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس میں ہزاروں فلسطینیوں کی رہائی اور شمالی غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے افراد کی ان کے گھروں کو واپسی بھی شامل ہے اس کے علاوہ غزہ کی تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی مالی امداد پر بھی زور دیا گیا ہے، فلسطینی اور اسرائیلیوں نے ابھی تک اس رپورٹ پر سرکاری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے،اس نئی تجویز میں کئی چیزیں، جن میں سے سب سے اہم غزہ کی پٹی سے حماس کے رہنماؤں کا انخلا، اسرائیلی فوج کا انخلا اور قیدیوں کی رہائی کی تجویز شامل ہے-

    پیپلز پارٹی نے لاہور سے قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے ٹکٹوں کا اعلان کر …

    واضح رہے کہ براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے بدھ کے روز اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی جنگی کونسل حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے قطر کی جانب سے ایک نئی تجویز پر تبادلہ خیال کرے گی۔

    امریکا نے یمن حوثیوں کیخلاف جانے والے جبگی طیاروں کی ویڈیو شئیر کر دی

    اسرائیل نے عالمی عدالت میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار حماس …

  • اسرائیلی فوج کا حماس کا فوجی نیٹ ورک مکمل تباہ  کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا حماس کا فوجی نیٹ ورک مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ

    غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نےاتوار کو کہا کہ 7 اکتوبر سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 22,835 ہو گئی ہے اور 58,416 زخمی ہیں۔

    باغی ٹی وی: وزارت صحت نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں خاندانوں کے خلاف”قتل عام” کا ارتکاب کیا، جس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 113 افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے۔

    دوسری جانب عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کا فوجی نیٹ ورک مکمل تباہ کرنے کا دعویٰ کر دیا اور ساتھ ہی شمالی غزہ میں بڑی جنگی کارروائیاں روکنے کا اشارہ دے دیا، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اسرا ئیلی فورسز نے تقریباً 8 ہزار جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کے بعد اب شمالی غزہ میں حماس کے ملٹری فریم ورک کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے جس کے بعد بڑی جنگی کارروائیاں ختم ہوسکتی ہیں۔

    اسرائیل حزب اللہ کے ساتھ جنگ جیتنے میں کامیاب نہیں ہو گا،امریکی انٹیلیجنس

    اسرائیل کی جانب سے خان یونس میں گھر پر تازہ حملے میں 12بچوں سمیت 17 فلسطینی شہیدہوئے جبکہ رفح کے شمال میں گھر پر اسرائیلی بمباری میں متعدد بچے زخمی ہوگئےغزہ میں اسرائیلی بمباری میں فلسطینی اولمپک فٹ بال ٹیم کے کوچ بھی شہید ہوگئے۔فلسطینی فٹ بال ایسوسی ایشن نے ہانی المصدر کی موت کو بڑا نقصان قرار دیا،7 اکتوبر سے اب تک 67 فٹبالرز سمیت 88 کھلاڑیوں کے علاوہ 24 منتظمین مارے جاچکے ہیں۔

    اس سے قبل غزہ میں شہری دفاع نے کہا تھا کہ 7 اکتوبر سے پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 8000 سے زائد لاپتہ افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، گذشتہ سات اکتوبرسے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 22,600 سے زیادہ اموات اور 57,000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔

    اسرائیلی حملے میں الجزیرہ کے بیورو چیف کا بڑا بیٹا بھی شہید

    انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی بمباری کے آغاز سے اب تک سول ڈیفنس کے عملے کے 43 ارکان ہلاک اور 180 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں،انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں سول ڈیفنس کے 18 مراکز میں سے دس مراکز کو تباہ کر دیا گیا اور اسرائیلی فوج نے جان بوجھ کر پٹی میں پورے انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا،ہ اسی عرصے میں سول ڈیفنس کے 5 ارکان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ "غزہ کی پٹی پر مسلط کی جانے والی خون ریز جنگ کو روکنے کے لیے فوری اورموثر کارروائی کریں اور شہری دفاع کے باقی ماندہ عملے کے تحفظ کے لیے فوری مداخلت کریں-

    اسرائیلی فورسز کی بمباری کے بعد غزہ ’ناقابلِ رہائش‘ ہو چکا ہے،اقوام متحدہ

  • امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے

    امریکی وزیر خارجہ اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کا دورہ کریں گے

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن آج اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے دورے پر جائیں گے

    امریکی وزیر خارجہ کے ہمراہ امریکی انتظامیہ کے اہلکار آموس ہوچسٹین ہوں گے، ایک سینئر امریکی اہلکار کا کہنا ہے کہ امریکا اسرائیل اور غزہ تنازع کے حوالہ سے سفارتی مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینئر اہلکار آموس ہوچسٹین کا دورہ اسرائیل لبنان کے درمیان تازہ پیدا شدہ صورتحال کے پس منظر میں ہے،امریکی وزیر خارجہ سات اکتوبر سے اسرائیل حماس جنگ کے بعد اسرائیل کے متعددد ورے کر چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب، قطر سمیت دیگر ممالک کے دورے بھی کر چکے ہیں،

    دوسری جانب انسٹی ٹیوٹ فار اسٹیڈی آف وار، دی کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ فلسطینی گروپوں نے الشطی پناہ گزین کیمپ کے قریب اسرائیلی فوجیوں پر ایک بڑا حملہ کیا ہے ،فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی ڈرون بھی گرانے کا دعویٰ کیا ہے، فلسطینی عسکریت پسندوں نے شیخ عجلین محلہ میں اسرائیلی فوج پر راکٹ بھی فائر کئے ہیں

    دوسری جانب اسرائیل کی انٹیلی جنس سروس،موسادکے سربراہ ڈیوڈ برنیا کا کہنا ہے کہ موساد سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے میں ملوث حماس کے ہر رکن کو تلاش کرے گی، خواہ وہ کہیں بھی ہو،برنیا نے موساد کے ایک سابق سربراہ زیوی ضمیر کی تدفین کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے 1972 کے میونخ میں قتل عام کے ردعمل کا ذکر کیا جب موساد کے اہلکاروں نے اس سال اولمپک گیمز میں اسرائیلی کھلاڑیوں کی ہلاکت میں ملوث متعدد فلسطینی عسکریت پسندوں کو تلاش کیا تھا اور انہیں ہلاک کر دیا تھا

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

    جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کیخلاف عالمی عدالت جانےکا اعلان

    قاسم سلیمانی بارے اطلاع دینے والے ایرانی شہری، امریکی جاسوس کو ایران نے سنائی سزائے موت