Baaghi TV

Tag: حماس

  • حماس کا امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم

    حماس کا امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم

    فلسطین تنظیم حماس نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

    مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ امید ہے معاہدے سے غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت ختم ہوگی، امید ہے معاہدہ علاقائی مسائل میں مثبت اثرات کا حامل ہوگا معاہدے سے لبنان اور دیگر محاذوں پر ہونے والے حملے رُکنے کی بھی امید ہے فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی، بھوک مسلط کرنے، جبری بے دخلی کی اسرائیلی جنگ جاری رہنے تک خطے میں امن نہیں ہو سکتا۔

    واضح رہے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کر دی ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر امریکا اور ایران نے دستخط کر دیے ہیں امریکا کی طرف سے صدر ٹرمپ اور جے ڈی وینس جبکہ ایران کی طرف سے اسپیکر باقر قالیباف نے دستخط کیے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ایک مختصر اور عمومی نوعیت کی دستاویز ہے جو تقریباً ڈیڑھ صفحے پر مشتمل ہے، جبکہ حتمی معاہدے کی تفصیلات آئندہ مذاکرات اور تکنیکی سطح کی بات چیت کے دوران طے کی جائیں گی۔

    علاوہ ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے اور جمعے تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران میں اب سمجھدار قیادت ہے، تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پیر کو ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ملاقات کی۔

    اس موقع پر فرانسی صدر کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے۔

  • اسرائیلی فوج کا حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شہید کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے حماس کے فوجی سربراہ محمد عودہ کو شمالی غزہ میں حالیہ حملے کے دوران شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی ملٹری نے اپنے ایک بیان میں محمد عودہ کی شہادت کا دعویٰ کیا ہے،دوسری جانب، حماس کی جانب سے تاحال سربراہ کی شہادت کے حوالے سے تصدیق نہیں کی گئی جبکہ اسرائیلی میڈیا مسلسل دعویٰ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ محمد عودہ کو مئی میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، انہوں نے عزالدین الحداد کی جگہ سنبھالی تھی جو ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔

  • غزہ: القسام بریگیڈ کے کمانڈر اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید

    غزہ: القسام بریگیڈ کے کمانڈر اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید

    غزہ میں حماس کے اہم رہنما اور القسام بریگیڈ کے کمانڈر عزالدین الحداد اسرائیلی فضائی حملے میں اپنی اہلیہ اور بیٹی سمیت شہید ہوگئے، جس کی تصدیق حماس نے بھی کردی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی مختلف مساجد سے ان کی شہادت کے اعلانات کیے گئے، جس کے بعد بڑی تعداد میں فلسطینی سڑکوں پر نکل آئے اور حماس کے حق میں نعرے لگائے گئے،عزالدین الحداد کی میت کو حماس کے پرچم میں لپیٹ کر جلوس کی صورت میں پہلے اسپتال اور بعد ازاں مسجد اقصیٰ منتقل کیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے ان کی نماز جنازہ ادا کی۔

    کہ عزالدین الحداد 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہونے والے حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل تھے اسرائیلی حکام کے مطابق مئی 2025 میں محمد السنوار کی شہادت کے بعد انہوں نے غزہ میں حماس کی قیادت سنبھالی تھی محمد السنوار، حماس کے سابق سربراہ یحییٰ السنوار کے بھائی تھے، جنہوں نے بھا ئی کی شہادت کے بعد تنظیم کی قیادت سنبھالی تھی، جبکہ بعد میں یہ ذمہ داری عزالدین الحداد کو منتقل ہوئی۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق عزالدین الحداد جنگ کے دوران اسرائیلی یرغمالیوں کی نگرانی کے نظام کا بھی حصہ تھے اور وہ خود کو یرغمالیوں کے درمیان رکھتے تھے تاکہ انہیں نشانہ نہ بنایا جا سکے۔

    اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے ان کی شہادت کو ایک بڑی آپریشنل کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ سابق یرغمالیوں کے بیانات میں ان کا نام بارہا سامنے آیا تھا 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث حماس رہنماؤں اور کارکنوں کا دنیا کے کسی بھی حصے میں تعاقب جاری رکھا جائے گا۔

    عزالدین الحداد کو ’دی گھوسٹ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا کیونکہ وہ کئی مرتبہ اسرائیلی حملوں میں محفوظ رہے اور اچانک منظر سے غائب ہو جانے کی وجہ سے مشہور تھے،وہ 1980 کی دہائی میں حماس میں شامل ہوئے تھے اور تنظیم کے طویل عرصے تک سرگرم رہنے والے عسکری کمانڈروں میں شمار کیے جاتے تھے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملوں میں تقریباً 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا،اس کے جواب میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر جاری بمباری میں تقریباً ایک لاکھ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جبکہ لاکھوں افراد بے گھر اور متعدد رہائشی عمارتیں، اسپتال اور تعلیمی ادارے تباہ ہو چکے ہیں۔

  • یورپی یونین میں اسرائیلی آبادکاروں اور حماس رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق

    یورپی یونین میں اسرائیلی آبادکاروں اور حماس رہنماؤں پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق

    رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یورپی یونین نے اسرائیلی آبادکاروں اور حماس کی اعلیٰ قیادت پر پابندیاں عائد کرنے پر اتفاق کرلیا ہے-

    مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد میں ملوث اسرائیلی آبادکاروں پر پابندیوں کا فیصلہ طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا، جسے ہنگری کے سابق وزیراعظم وکٹر اوربان کی حکومت مسلسل روکے ہوئے تھی،تاہم ہفتے کے روز نئے وزیراعظم پیتر میگیائر کی تقرری کے بعد ہنگری نے ویٹو ختم کردیا۔

    یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کیلس نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ تعطل ختم کرکے عملی اقدام اٹھانے کا وقت آگیا تھا، انتہا پسندی اور تشدد کے نتائج ہوتے ہیں،پابندیوں کے اس پیکج میں 3 اسرائیلی آبادکاروں اور 4 آبادکار تنظیموں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ان کی شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئیل بیروٹ نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین مغربی کنارے میں ’انتہا پسند اور پرتشدد آبادکاری‘ کی حمایت کرنے والی اہم اسرائیلی تنظیموں کے خلاف کارروائی کررہی ہے،یہ ’سنگین اور ناقابل برداشت اقدامات‘ فوری طور پر بند ہونے چاہییں۔

    اسرائیل نے یورپی یونین کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے اسرائیلی وزیر خارجہ گڈن سار نے کہا کہ یورپی یونین نے ’سیاسی بنیادوں پر اور بغیر کسی قانونی جواز کے‘ اسرائیلی شہریوں اور اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں اسرائیل یہودیوں کے اپنے وطن کے قلب میں آباد ہونے کے حق کا دفاع کرتا رہے گا۔

    اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گوئیر نے یورپی یونین کو ’یہود دشمن‘ قرار دیا انہوں نے کہا کہ آبادکاری کا عمل نہیں رکے گا اور اسرائیل پورے علاقے میں تعمیرات اور آبادکاری جاری رکھے گا۔

    دوسری جانب یورپی وزرائے خارجہ نے فلسطینی تنظیم حماس کی قیادت پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے،فرانس کے وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ پا بندیاں حماس کے ان رہنماؤں کے خلاف ہیں جنہیں 7 اکتوبر 2023 کے حملے کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے،اس حملے میں جنوبی اسرائیل میں تقریباً 1200 افراد ہلاک جبکہ 240 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

    حماس کے سینیئر رہنما باسم نعیم نے یورپی یونین کے فیصلے کو سیاسی منافقت اور نسل پرستی قرار دیا،ان کا مؤقف تھا کہ یورپی یونین نسل کشی اور نسلی تطہیر کے مرتکب ریاست اور اپنا دفاع کرنے والے متاثرین کو ایک ہی نظر سے دیکھ رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے مطابق مشرقی یروشلم کے علاوہ مقبوضہ مغربی کنارے میں 5 لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار تقریباً 30 لاکھ فلسطینیوں کے درمیان رہتے ہیں 2025 میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کم از کم 2017 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، جب اقوام متحدہ نے اس حوالے سے باقاعدہ اعداد و شمار جمع کرنا شروع کیے تھے۔

    غزہ میں اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں کے باعث تقریباً روزانہ تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں،اقوام متحدہ کے مطابق اس دوران ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

    برسلز میں ہونے والے اجلاس میں مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات پر پابندی کی تجاویز بھی زیر غور آئیں اٹلی کے وزیر خارجہ انتونیو تیجانی نے کہا کہ یورپی کمیشن اس حوالے سے تجاویز پیش کرے گا، جس کے بعد رکن ممالک کی حمایت کا جائزہ لیا جائے گا۔

  • اسرائیلی حملے میں حماس  رہنما خلیل الحیہ کا  ایک اور بیٹا شہید

    اسرائیلی حملے میں حماس رہنما خلیل الحیہ کا ایک اور بیٹا شہید

    حماس رہنما خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے۔

    حماس عہدیدار باسم نعیم نے عزام الحیہ کے غزہ سٹی پر اسرائیلی حملے میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے، یہ خلیل الحیہ کے چوتھے بیٹے تھے جو اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے ہیں۔

    خلیل الحیہ حماس کی جلاوطن قیادت میں اہم شخصیت سمجھے جاتے ہیں، وہ متعدد بار اسرائیلی حملوں اور مبینہ قاتلانہ کوششوں کا نشانہ بن چکے ہیں تاہم ہر بار محفوظ رہےگزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحا میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک حملے میں بھی ان کے ایک بیٹے کی شہادت ہوئی تھی جبکہ خلیل الحیہ اس حملے میں بچ گئے تھے اس سے قبل 2008 اور 2014 میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کے دوران بھی ان کے دو بیٹے شہید چکے ہیں۔

    اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی اور غزہ میں مسلسل فضائی حملوں کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، غزہ میں حالیہ ہفتوں کے دوران متعدد رہائشی علاقوں اور اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

  • حماس کا پاکستان میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    حماس کا پاکستان میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم

    حماس نے پاکستان میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کا خیرمقدم کیا ہے۔

    حماس نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اسرائیل کی جنگ کے مکمل اور جامع خاتمے کے مقصد کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے،وہ پاکستان اور دیگر شریک ممالک کی قیادت میں ثالثی کی کوششوں کی کامیابی کا منتظر ہے۔

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد نے ملاقاتیں کیں جس میں اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

    امریکی نائب صدر کی معاونت خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مسٹر جیرڈ کشنر جبکہ وزیراعظم کی معاونت نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن رضا نقوی نے کی –

    وزیراعظم نے ملاقات میں وفود کی تعمیری انداز میں بات چیت کے عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات خطے میں دیرپا امن کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے،پاکستان خطے میں پائیدار امن کے حصول کے لیے دونوں فریقین کے درمیان سہولت کاری جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

    ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے جبکہ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی ان کے ہمراہ تھے۔

  • ایران  اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم   ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    ایران اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ہمسایہ ممالک کو نشانہ نا بنائے،حماس

    فلسطینی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ ایران امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اپنا دفاع ضرور کرے، تاہم ردعمل کے دوران ہمسایہ ممالک کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے، تاکہ خطے میں مزید کشیدگی نہ ہو۔

    رائٹرز کے مطابق حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایران کو ایسا ردعمل اختیار کرنا چاہیے جس سے دیگر ممالک براہِ راست متاثر نہ ہوں ساتھ ہی حماس نے عالمی برادری اور خطے کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہونے دیں جس سے پورا مشرق وسطیٰ ایک بڑے تنازع کی طرف بڑھ جائےمشرق وسطیٰ کے ممالک کو باہمی بھائی چارے اور تعاون کے تعلقات برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے تاکہ خطے میں استحکام قائم رکھا جا سکے۔

    ایران کی خلیجی بندرگاہوں کے قریبی رہائشیوں کو انخلا کی وارننگ

    یاد رہے کہ اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای سمیت آرمی چیف، وزیر دفاع، پاسداران انقلاب کے سربراہ اور مشیر قومی سلامتی شہید ہوگئے تھے جس کے جواب میں ایران نے سعودی عرب، قطر، بحرین اور متحدہ عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک میں واقع امریکی فوجی اڈّوں کو نشانہ بنانا شروع کیا ہے اور آبنائے ہرمز کو بند کردیا ہے جس کے باعث دنیا کو تیل کی سپلائی رک گئی ہے

    مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب حماس نے ایران کی پالیسیوں کے حوالے سے عوامی سطح پر اس نوعیت کا تبصرہ کیا ہے، اس سے قبل تنظیم جنگ کے دوران ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی رہی ہے، تاہم اب تک اس نے کسی ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی دینے سے گریز کیا تھا۔

    دوسری جانب ایران کے حمایت یافتہ لبنانی گروپ حزب اللہ نے دو مارچ کو اسرائیل پر راکٹ فائر کیے تھے یہ کارروائی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا اور حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔

    پرنس سلطان ایئر بیس پر کھڑے امریکی طیاروں کی تباہی کی خبریں جعلی ہیں، ٹرمپ

    اسی دوران حوثی تحریک، جو یمن میں سرگرم ہے اور ایران کے قریب سمجھی جاتی ہے، نے بھی تہران کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس گروپ نے غزہ کی جنگ کے دوران بحیرہ احمر میں اُن جہازوں کے خلاف کارروائیاں شروع کی تھیں جنہیں وہ اسرائیل سے منسلک سمجھتا تھا، تاہم اب تک اس نے دوبارہ حملے شروع کرنے کی کوئی واضح دھمکی نہیں دی۔

  • ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،ترجمان دفتر خارجہ

    اسلام آباد:ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے۔

    صحافیوں کو ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بتایا کہ وزیر اعظم نیویارک میں موجود ہیں، جو صدر ٹرمپ کی دعوت پر امریکا کے دورے پر ہیں، آج وزیراعظم غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے اس کے علاوہ وزیراعظم کی اہم امریکی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

    ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی نیویارک میں موجود ہیں نائب وزیراعظم نے فلسطینی مستقل مندوب اور مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ملاقات کی ہے آسٹریا کے دورے سے قبل نائب وزیر اعظم کے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور مصری وزیر خارجہ بدر عبد العاطی سے ٹیلیفون رابطے بھی ہوئے،وزیر اعظم نے ویانا، آسٹریا کا دورہ بھی کیا جو آسٹرین وفاقی چانسلر کرسٹین سٹاکر کی دعوت پر تھا۔ دورے کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا آسٹریا میں وزیر اعظم نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی سے بھی ملاقات کی۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان غزہ میں صرف امن کے قیام میں کردار ادا کرے گا بورڈ آف پیس سے امیدیں وابستہ ہیں جس سے غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کے خلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے نائب وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ہم امن عمل میں شریک ہوں گے تاہم حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے امید ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس غزہ کے عوام کی مشکلات کو کم کرے گا۔

    انہوں نے بتایا کہ پروفیسر احسن اقبال نے نئی بنگلا دیشی حکومت کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی، رواں ہفتے پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے اسرائیل کے مغربی کنارے کے الحاق سے متعلق متنازع قانون کی شدید مذمت کی، ہم نے بھارتی شہری نکھیل گپتا کی گرفتاری کی رپورٹس دیکھی ہیں پاکستان میں بھارتی پشت پناہی سے فعال دہشت گرد گروہوں کے شواہد موجود ہیں، انٹرنیشنل اسسٹنس سیکیورٹی فورسز پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

  • غزہ پر قبضہ برقرار رہا تو اسلحہ ترک نہیں کریں گے، حماس کا دوٹوک موقف

    غزہ پر قبضہ برقرار رہا تو اسلحہ ترک نہیں کریں گے، حماس کا دوٹوک موقف

    حماس نے اسرائیل کا 60 روز میں غیر مسلح ہونے کا الٹی میٹم مسترد کردیا۔

    عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے بیان میں کہا ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، اسلحہ ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،اسرائیلی دھمکیاں حماس کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتیں اور مزاحمت جاری رہے گی، اسرائیل کی جانب سے حماس کو غیر مسلح ہونے کے لیے دی گئی مہلت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،غزہ میں جاری صورتحال اور اسرائیلی اقدامات کے تناظر میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ شرط قبول نہیں کی جا سکتی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کے بعد دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ خطے میں امن کوششوں کو بھی ایک نیا دھچکا لگنے کا امکان ہے صورتحال پر عالمی برادری کی نظر ہے، تاہم فی الحال زمینی حقائق میں کسی فوری تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔

    سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ

    سی ٹی ڈی کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں،صدر مملکت کا خراجِ تحسین

    سی ٹی ڈی کی بلوچستان میں کامیاب کارروائیاں،صدر مملکت کا خراجِ تحسین

  • اسرائیل کی فضائی کارروائیاں:37 فلسطینی شہید،حماس کی سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کی فضائی کارروائیاں:37 فلسطینی شہید،حماس کی سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 37 فلسطینی شہید ہو گئے-

    حکام کے مطابق یہ حملے مختلف مقامات پر کیے گئے اور شہری آبادی شدید متاثر ہوئی ہےہلاکتوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد بھی شامل ہے حماس نے اسرائیل کی کارروائیوں کو ’جرائم‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ حملے جاری رہیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے تنظیم نے بین الاقوامی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ مزید انسانی نقصان روکا جا سکے۔

    اس سے قبل اکتوبر میں طے شدہ جنگ بندی کے بعد غزہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی دیکھی گئی تھی، لیکن تازہ حملوں کے بعد صورتحال دوبارہ تشویشناک ہو گئی ہےاسرائیل نے ان حملوں کو اپنی ’قومی سلامتی اور میزائل حملوں کے ردعمل‘ کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ مقامی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں شہریوں کے تحفظ پر زور دے رہی ہیں۔

    اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اسرائیل 1300سے زائد مرتبہ اس کی خلاف ورزی کرچکا ہے ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں کم از کم 509 فلسطینی شہید اور 1405 زخمی ہوچکے ہیں جنگ بندی معاہدے کے بعد سے 430 مرتبہ عام فلسطینیوں پر فائرنگ کی گئی، رہائشی علاقوں میں ییلو لائن سے آگے 66 چھاپے مارے گئے، 200 مرتبہ فلسطینی املاک کو مسمار کیا گیا، گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہی کم از کم 50 فلسطینیوں کو گرفتارکیا گیا۔