Baaghi TV

Tag: حماس

  • حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا ،ایلون مسک

    حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا ،ایلون مسک

    یوٹیوب کے ایک پوڈ کاسٹ انٹرویو میں، ایلون مسک نے آخر کار اسرائیل،حماس جنگ کے بارے میں بات کی ہے۔

    باغی ٹی وی: پوڈکاسٹر لیکس فریڈمین نے یوٹیوب انٹرویو ویڈیو میں ایلون مسک سے پوچھا کہ آپ کیسے امید کرتے ہیں کہ اسرائیل اور غزہ میں موجودہ جنگ ختم ہوگی؟ آپ کو ایسا کون سا راستہ نظر آتا ہے جو دنیا کے اس حصے میں طویل مدت میں انسانی مصائب کو کم کر سکتا ہے؟ –

    مسک نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی آسان جواب نہیں ہے لیکن اگر آپ حماس کے زیادہ ارکان کو قتل کر دیں تو آپ کامیاب نہیں ہوں گےیہ کہنامحفوظ ہےکہ اگر آپ غزہ میں کسی کےبچےکو مارتے ہیں،تو آپ نے حماس کےکم از کم چند ارکان بنائے ہیں ، میری قطعی رائے میں حماس کا مقصد اسرائیل کی طرف سے پرتشدد اور مبالغہ آمیز ردعمل کو ہوا دینا تھا کیونکہ حماس کو فوجی فتح حاصل کر نے کی امید نہیں تھی۔

    ٹیسلا کے سی ای او نے مزید کہا کہ وہ حقیقت میں بدترین ممکنہ مظالم کا ارتکاب کرنا چاہتے تھے تاکہ ایک بڑے جارحانہ اسرائیلی ردعمل کو اکسایا جا سکے اور اسرائیل کے اس ردعمل کا فائدہ اٹھا کر دنیا بھر کے مسلمانوں کو غزہ اور فلسطین کے لیے نکالا جا سکے وہ حقیقت میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

    میزبان نے پوچھا کہ کیا یہ مسک کا فلسفہ ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے یہ "مناسب” ہے کہ وہ حماس کے ارکان کو تلاش کرے اور یا تو انہیں قتل کرے یا انہیں قید کرے انہوں نے کہا ، "یہ کچھ ایسا ہے جو کرنا ہے کیونکہ وہ دوسری صورت میں آتے رہیں گے اسرائیل کو موبائل ہسپتال فراہم کرنے کے لیے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ کرنے کی ضرورت ہے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ وہاں خوراک، پانی اور طبی ضروریات موجود ہوں، اور یہ تمام سہولیات انتہائی شفاف طریقے سے فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ اسے ایک چال کے طور پر نہ دیکھا جا سکے ، انہوں نے کہا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت کے اصول پر عمل کرنے سے صورتحال مزید خراب ہو جائے گی۔ مسک نے حیرت کا اظہار کیا کہ حماس کے ہر رکن کے لیے جسے اسرائیل نے مارا اس نے کتنے اور بنائے ہیں؟ اگر اسرائیل غزہ میں کچھ لوگوں کے بچوں کو مارتا ہےتو اس سے زیادہ غصہ پیدا ہوگا اور شایدطویل مدت میں دہشت گردی ہو گی۔

    یہ پہلا موقع نہیں جب ایلون مسک نے غزہ کے حق میں بات کی ہو۔ پچھلے مہینے، ایلون مسک نے اعلان کیا کہ SpaceX کا Starlink غزہ میں "بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ امدادی تنظیموں” کے لیے مواصلاتی تعاون فراہم کرے گا اس اعلان نے اسرائیل کے وزیر مواصلات کو اس اقدام کی مخالفت کا اعلان کرنے پر مجبور کیا مسک نے ایکس پر ذکر کیا کہ غزہ میں زمینی روابط کا اختیار واضح نہیں ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اس علاقے میں کسی ٹرمینل نے رابطے کی درخواست نہیں کی ہے-

  • اسرائیل کو دفاع کا  حق حاصل،مگر شہریوں پر بمباری روکے،فرانسیسی صدر

    اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل،مگر شہریوں پر بمباری روکے،فرانسیسی صدر

    فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ پر بمباری اور فلسطینیوں کا قتل عام بند کرے

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں فرانسیسی صدر نے حماس کی جانب سے اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے لیکن غزہ میں عام شہریوں پر اسرائیلی بمباری کا کوئی جواز نہیں ہے اسرائیل غزہ میں بمباری بند کرے غزہ پر حملوں میں بچے، خواتین اور بزرگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے،پیرس میں ہونے والی انسانی بنیادوں پر امداد سے متعلق کانفرنس میں شریک تمام شرکا کا واضح مؤقف تھا کہ اس کے علاوہ دوسرا کوئی حل نہیں ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کی جائے جس سے تمام شہریوں کی حفاظت ممکن ہو سکے

    دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے فرانسیسی صدر کے انٹرویو پر ردعمل میں کہا کہ حماس جو جرائم آج غزہ میں کر رہی ہے وہ کل پیرس، نیو یارک اور دنیا میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں

    سات اکتوبرکو حماس کے حملے کے بعد سے لے کر اب تک اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، اسرائیلی بمباری سے خواتین اور بچوں سمیت 11 ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں، ہزاروں زخمی تو لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں،بے گھر افراد اقوام متحدہ کے کیمپوں میں مقیم ہیں، یا ہسپتالوں میں، لیکن اسرائیل نے اب ہسپتالوں‌کو ایک بار پھر نشانہ بنایا ہے،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتالوں میں حماس اراکین موجود ہیں

    اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ غزہ کے شمال میں امدادی ٹرک پہنچانے سے قاصر ہے جہاں اب بھی لاکھوں افراد مقیم ہیں، اگر دنیا پر کوئی جہنم ہے تو وہ شمالی غزہ ہے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے بڑی تباہی پھیلانے والے دھماکہ خیز ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ اس طرح کے ہتھیاروں کا استعمال محصور فلسطینی علاقے میں اندھا دھند تباہی پھیلا رہا ہے

    اسرائیلی بمباری میں حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ کی پوتی رؤی ہمام اسماعیل ہنیہ شہید ہو گئی ہیں،وہ اسلامی یونیورسٹی آف غزہ میں زیر تعلیم تھیں، وہ براق اسکول پر ہونے والے اسرائیلی حملے میں شہید ہوئی ہیں،حماس سے منسلک اکاؤنٹس سے بھی اسماعیل ہنیہ کی پوتی کی شہادت کی تصدیق کی گئی ہے،

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی بمباری سےغزہ میں یرغمال اسرائیلی خاتون فوجی اہلکار ہلاک

    اسرائیلی بمباری سےغزہ میں یرغمال اسرائیلی خاتون فوجی اہلکار ہلاک

    اسرائیل کی غزہ میں بمباری کے نتیجے میں ایک اور اسرائیلی یرغمالی فوجی ہلاک ہو گیا ہے

    حماس نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں ایک اسرائیل کی خاتون فوجی اہلکار کی موت ہو گئی ہے،اب تک اسرائیلی حملوں میں 61 یرغمالی اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں، اسرائیلی بمباری سے آج ایک اسرائیلی فوجی زخمی بھی ہوا ہے،ہلاک اسرائیلی فوجی کی شناخت فاؤل عزائی کے طور پر ہوئی، جسے حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران یرغمال بنایاتھا.حماس کے اس حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی تھی جو ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں گیارہ ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، دوسری جانب اسرائیل میں 16 سو کے قریب ہلاکتیں ہو چکی ہیں

    دوسری جانب اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کرنے سے لگاتار پانچویں ہفتے بھی روکے رکھا، اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں داخلے پرپابندی عائد کر رکھی تھی،تاہم فلسطینی پابندیوں کے باوجود مسجد اقصیٰ پہنچے، چار ہزار کے قریب افراد نے مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ ادا کی،مسجد اقصیٰ کے گردونواح والی سڑکوں پر اسرائیلی فوج تعینات تھی،مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی کے بعد سنیکڑوں فلسطینیوں کو اولڈ سٹی ایریا کے قریب سڑکوں پر نماز جمعہ ادا کرنے پر مجبور کیا گیا.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • نااہل شخص کو شہزادہ بناکر پیش کیا جا رہا،حافظ نعیم

    نااہل شخص کو شہزادہ بناکر پیش کیا جا رہا،حافظ نعیم

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اِس وقت فلسطین میں بہت بُرا حال ہے، مسلسل بم باری ہو رہی ہے، اس وقت گیارہ ہزار فلسطینی اسرائیلی بم باری سے شہید ہوئے ہیں،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ امریکہ انکی سرپرستی کر رہا ہے، بچے عورتیں شہید ہو رہے ہیں اور امریکہ کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا،پوری دنیا میں اب لوگ اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، عالم اسلام کی فوج اگر انکے ساتھ مل جائیں تو حماس کی فوج اسرائیل کو مٹا سکتی ہے، امریکہ کھل کر اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اور مسلم حکمران خاموش ہو کر ساتھ دے رہے ہیں، یہ پورا عمل پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر رہا ہے، ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس تحریک کو ہم آگے بڑھائینگے، جاگیردار طبقہ ملک کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ہے، ہم عوامی رابطے کا ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، 15 نومبر سے ہم عوام میں جانگے جلسے اور ریلیاں بھی کرینگے، کراچی میں ہم ملین کی تعداد میں لوگوں سے رابطہ کرینگے،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ان سازش کرنے والوں کو کوئی نہیں پوچھے گا، اس حکومت اور الیکشن کمیشن نے غیر آئینی کام کیا ہے،ایک شخص جو نا اہل ہے اسے شہزادہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،دوسری جانب ایک پارٹی چیئرمین کو قید کیا ہوا ہے، پنجاب گورنر ہاؤس میں ن لیگ کا اجلاس کیسے ہو رہا ہے،چاروں صوبوں میں چاروں پارٹیوں کے گورنر لگے ہوئے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے چاروں گورنر برطرف ہوں، ووٹر لسٹ کو ٹھیک کیا جائے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ووٹر لسٹ درست بنائیں،اگر ہم مردم شماری پر جائیں گے تو الیکشن آگے بڑھیں گے،

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین

  • عرب وزراء خارجہ کا اجلاس،او آئی سی، عرب لیگ کا اجلاس رواں ہفتے ہو گا

    عرب وزراء خارجہ کا اجلاس،او آئی سی، عرب لیگ کا اجلاس رواں ہفتے ہو گا

    سعودی عرب میں او آئی سی اور عرب لیگ کا غزہ کے مسئلہ پر ہنگامی اجلاس رواں ہفتے ہو رہا ہے، اجلاس سے قبل عرب ممالک کے وزراء خارجہ کی ریاض میں ملاقات ہوئی ہے

    عرب لیگ کے اجلاس سے قبل تیاریوں کے سلسلہ میں عرب وزراء خارجہ کی ملاقات ہوئی، اس ضمن میں عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل حسام ذکی نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے کے دن ہونے والے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس سے پیغام جاناچاہیےکہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور فلسطینیوں کی حمایت کیلئے عرب ممالک کیا حکمت عملی اختیار کرنے جا رہے ہیں، اجلاس میں اسرائیلی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جائے

    عرب لیگ وزرائے خارجہ کی اس اہم ملاقات کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پناہ گزین کیمپوں پر حملے کرکے سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کرنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی

    او آئی سی کا اجلاس اتوار کو ہو گا، پاکستانی وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شرکت بھی متوقع ہے،ایرانی صدر کئی برس بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور اجلاس میں شریک ہوں گے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تین روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے،وزیراعظم ریاض میں منعقدہ او آئی سی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فلسطین کی موجودہ صورتحال پر طلب کیا گیا ہے،نگران وزیراعظم او آئی سی رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیل کے پھر ہسپتالوں پر حملے، اموات کی مجموعی تعداد 11 ہزار کے قریب

    اسرائیل کے پھر ہسپتالوں پر حملے، اموات کی مجموعی تعداد 11 ہزار کے قریب

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، چار گھنٹے کی جنگ بندی کا گزشتہ روز اعلان اس لئے کر دیا گیا کہ فلسطینی اپنا علاقہ خالی کریں گے، حماس کا کہنا ہے کہ ایسی جنگ بندی منظور نہیں

    اسرائیلی بمباری سے اب تک 11 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں، مرنیوالوں میں 2918 خواتین اور چار ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں،اسرائیل نے ہسپتالوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، اسرائیل کو شبہ ہے کہ ہسپتال حماس رہنماؤں کے لئے محفوظ ٹھکانے ہیں،ہسپتالوں پر بمباری کی وجہ سے مزید دو ہسپتال بند گئے ہیں،گزشتہ تین دنون‌ میں‌ تقریبا آٹھ ہسپتالوں‌پر بمباری کی گئی، سات اکتوبر سے اب تک تقریبا 18 ہسپتال بند ہیںَ،

    دوسری جانب اسرائیل کی حکمران جماعت نے صحافیوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے 7 اکتوبر کے حملوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی حملہ آور قرار دیدیا ،اسرائیلی حکمران جماعت کے رکن اسمبلی اور اقوام متحدہ میں سابق اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے روز اسرائیل پر حماس کے حملے کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے والے صحافیوں کے نام بھی اسرائیلی خاتمے کی لسٹ میں شامل کیے جائیں گےیہ تمام لوگ بھی حملہ آور تصور کیے جائیں گے۔

    اسرائیلی حملوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا، غزہ کی پٹی میں پینے کا پانی تقریبا نوے فیصد ضائع ہو چکا ہے، حماس کے ترجمان باسم نعیم کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال میں احتیاط کرتے ہیں، جہاں پینے کے قابل پانی کا 90 فیصد ضائع ہو چکا ہے، جو شہریوں کو آلودہ یا بعض اوقات سمندری پانی استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔جو بیماریوں اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    غزہ پر ہمارا قبضے کا کوئی ارادہ نہیں ،اسرائیلی وزیراعظم کا یوٹرن
    اسرائیلی وزیراعظم نے غز ہ پر قبضے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے، ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم حماس سے جنگ کے بعد غزہ پر قبضے یا حکومت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے،غزہ پر ہمارا قبضے کا کوئی ارادہ نہیں مگر غزہ میں کسی قابل اعتماد طاقت کی ضرورت ہے تاکہ حماس کے خطرے کو دوبارہ ابھرنے سے روکا جاسکے.

  • میوزک کنسرٹ پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے غلطی سےبمباری کی،اسرائیل کا اعتراف

    میوزک کنسرٹ پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے غلطی سےبمباری کی،اسرائیل کا اعتراف

    اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے کنسرٹ میں اسرائیلی آپاچی ہیلی کاپٹر نے غلطی سے اپنے ہی اسرائیلیوں پر گولیاں برسائیں کیونکہ اُونچائی سے حماس کے مجاھدین اور اسرائیلی کنسرٹ میں جانے والوں میں فرق کرنا نامُمکن تھا۔

    سات اکتوبر کے حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، اس حملے کے بعد اسرائیل مسلسل غزہ پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، سات اکتوبر کو حماس نے ہفتے والے دن حملہ کیا تو اسرائیل نے بھی جوابی کاروائی کی،اسرائیل میں ایک میوزک کنسرٹ جاری تھا جس پر حماس نے حملہ کیا، اور کئی افراد کو یرغمال بنایا تاہم اب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اس میوزک کنسرٹ پر ہیلی کاپٹر سے شیلنگ کی تھی تو وہیں اسرائیلی فوج نے بھی گولیاں چلائیں تھیں جس سے ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں،

    دی گرے زون کی جانب سے ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے، جس میں عینی شاہدین کے بیان بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں، اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس کے حملے میں میوزک کنسرٹ کے شرکاء کی موت ہوئی تا ہم اب عینی شاہدین کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے بمباری کی جس سے اموات ہوئیں، اسرائیل کا حماس کے بارے میں دعویٰ جھوٹا ثابت ہو رہا ہے،اسرائیل نے اس حملے کے حوالہ سے مکمل تفیصلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے

    اسرائیل کی طرف سے غیر مصدقہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے سات اکتوبر کو چالیس بچوں کے سر قلم کئے، اسرائیلی دعوے کو پروپیگنڈہ کہا جا رہا ہے، تاہم، گرے زون کے واقعات کا قریب سے جائزہ لینے پر ایک مختلف کہانی بیان کی گئی ہے،ایک جس میں اسرائیلی فوج خود متعدد شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ یہ تفصیلات نہ صرف اسرائیلی حکومت کے واقعات سے متصادم ہیں، بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگ کے دوران اسرائیل کی لاپرواہی سے اسرائیلی آبادی میں نمایاں جانی نقصان ہوا۔

    اس کی تصدیق اسرائیلی شہری یاسمین پورات نے کی، جو بیری میں یرغمال بنائے جانے والے واقعہ میں بچ گئی تھی۔ اس نے بیان دیا کہ شدید جھڑپوں کے دوران، اسرائیلی اسپیشل فورسز نے "بلاشبہ” باقی تمام یرغمالیوں کو مار ڈالا،یاسمین کا کہنا تھا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے یرغمالیوں کے ساتھ "انتہائی انسانی سلوک” کیا تھا، جس کا مقصد صرف انہیں غزہ واپس لے جانا تھا،حماس کے لوگ ابھی کچھ یرغمالیوں کے پاس موجود تھے کہ اسرائیلی افواج نے عمارت پر حملہ کیا۔ اس نے اس دوران اپنے ساتھی کو گولی مار دیے جانے سے پہلے زمین پر زندہ دیکھا،

    مزید شواہد گواہ ڈینیئل ریچیل سے ملے ہیں، جس نے نووا میوزک فیسٹیول پر حماس کے حملے سے فرار ہونے کے بعدبیان ریکارڈ کروایا اور کہا کہ جب وہ محفوظ مقام پر گئے تو اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے براہ راست اس کی گاڑی پر گولی چلائی یہاں تک کہ اس نے عبرانی میں چیخ کر خود کو اسرائیلی بتایا۔

    اسرائیلی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ "پائلٹوں نے محسوس کیا کہ مقبوضہ چوکیوں اور بستیوں کے اندر یہ تمیز کرنے میں کافی دشواری تھی کہ کون دہشت گرد تھا اور کون فوجی یا شہری ،ہزاروں عسکریت پسندوں کے خلاف فائرنگ کی شرح پہلے تو زبردست تھی تا ہم صرف ایک خاص مقام پر، پائلٹوں نے حملوں کو کم کرنا شروع کر دیا اور احتیاط سے اہداف کا انتخاب کیا۔”

    اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹوں نے اہداف پر انٹیلی جنس کے بغیر مسلسل فائرنگ کرنے کا اعتراف کیا ہے، جب کہ ٹینک کے عملے کو گھروں پر گولہ باری کرنے کا حکم دیا گیا تھا، قطع نظر اس کے کہ اسرائیلی یرغمالی ممکنہ طور پر اندر ہوں۔ایک طاقتور دھماکہ خیز دھماکے سے تباہ ہونے والے گھر کے ملبے کے نیچے سے ملنے والی اسرائیلیوں کی لاشوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹینک کے گولوں کی وجہ سے دھماکہ ہوا اور اسرائیلی ٹینکوں نے ہی گولے برسائے، اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے فرار ہونے والے اسرائیلیوں پر بھی فائرنگ کی جنہیں وہ حماس کے بندوق بردار سمجھتے تھے۔

    ناقدین اب قیاس کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کی جلی ہوئی لاشوں کی کچھ انتہائی خوفناک تصاویر اور "قابل شناخت جلی ہوئی لاشیں” درحقیقت اسرائیل کی طرف سے ہونے والی ہلاکتوں کی عکاسی کر سکتی ہیں۔ اسرائیلی حکام بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جلی ہوئی لاشوں کی تصاویر کا استعمال کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ امکان ہے کہ یہ خوفناک تصاویر حماس کے جنگجوؤں کی ہوں گی

    حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے ممکنہ طور پر شہری علاقوں اور گھروں پر اندھا دھند فائرنگ کا سہارا لیا، جس کے نتیجے میں بے شمار تعداد میں اسرائیلی ہلاکتیں ہوئی ہیں.

    اسرائیلی حملوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا، غزہ کی پٹی میں پینے کا پانی تقریبا نوے فیصد ضائع ہو چکا ہے، حماس کے ترجمان باسم نعیم کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال میں احتیاط کرتے ہیں، جہاں پینے کے قابل پانی کا 90 فیصد ضائع ہو چکا ہے، جو شہریوں کو آلودہ یا بعض اوقات سمندری پانی استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔جو بیماریوں اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے.

    نعیم نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین اور اس کی انتظامیہ کو خاص طور پر غزہ شہر اور اس کے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے "انسانی تباہی” کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان علاقوں میں ایجنسی نے قبضے کے مطالبات کی تعمیل کی، اور لاکھوں باشندوں اور پناہ گزینوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی، انہیں پناہ، خوراک، پانی یا طبی دیکھ بھال کے بغیر چھوڑ دیا، باوجود اس کے کہ ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی،غزہ کے 2.3 ملین باشندوں کے پاس خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی کمی ہے اور حال ہی میں غزہ میں امدادی قافلوں کی اجازت دی گئی ہے

    اسرائیل نے گزشتہ تین دن میں غزہ کے آٹھ ہسپتالوں‌پر بمباری کی ہے،غزہ میں سرکاری میڈیا کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے گزشتہ تین دنوں میں غزہ کی پٹی کے آٹھ اسپتالوں پر بمباری کی ہے۔اسرائیلی جارحیت نے 7 اکتوبر سے اب تک 18 ہسپتالوں کو خدمات سے محروم کر دیا ہے۔” اسرائیلی توپ خانے نے الشفا اسپتال کے صحن اور ناکہ بندی والے علاقے میں النصر اسپتال کے گیٹ پر گولہ باری کی۔ ہسپتالوں پر بمباری بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ایک جنگی جرم ہے،

    7 اکتوبر کو فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سرحد پار حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 10,569 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں 4,324 بچے اور 2,823 خواتین شامل ہیں۔ دریں اثنا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,600 ہے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

    اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

    سات اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی، ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا، اسرائیل کی بمباری جاری ہے، ہسپتالوں‌سکولوں، ایمبولینس گاڑیوں،امدادی قافلوں سمیت کوئی جگہ ایسی نہیں بچی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، ایسے میں امریکی صدر جوبائیڈن نے یکجہتی کے لئے اسرائیل کا دورہ کیا، امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کے تین دورے کر چکے ہیں،ا مریکہ نے اسرائیل کو اسلحہ بھی فروخت کیا، دوسری جانب دنیا بھر میں اسرائیلی بربریت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، امریکہ میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تا ہم امریکی حکومت اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بربریت کی حمایت کی وجہ سے جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھو رہے ہیں، انکی حمایت میں کمی ہو رہی ہے،امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی کے نوجوان ہامی اب کہنے لگ گئے ہیں کہ اسرائیلی بربریت کی حمایت کر کے جوبائیڈن غلطی کر رہے ہیں، اس ضمن میں یونیورسٹی آف میری لینڈ میں ایک سروے کیا گیا جس میں نوجوان طلبا کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بہت زیادہ اسرائیل نواز ہو گئے ہیں، یونیورسٹی میں ان طلبا کی تعداد دوگنا زیادہ ہو گئی ہے جن کا صرف ایک ماہ کے اندر جوبائیڈن کے خلاف ذہن بدلا،سات اکتوبر سے قبل جوبائیڈن کی حمایت کرنے والے نوجوان اسرائیلی حملوں کی حمایت کے بعد اب جوبائیڈن کے خلاف ہو رہے ہیں،نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ امریکہ کا جھکاؤ فلسطین کی طرف ہونا چاہئے جو بربریت کا شکار ہیں

    رائے شماری کے ڈائریکٹر پروفیسر شیبلی تلہامی کا کہنا ہے کہ حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں نوجوانوں کی ایسی تعداد جن کی عمر 35سال سے کم ہے ان میں ایسے نوجوانوں کی تعداد کم ہوتی چلی جارہی ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھ دے،پروفیسر تلہامی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے بائیڈن کو اسرائیل کو نواز کہا، اب نوجوان فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،اسرائیلی حملوں کے بعد نوجوان ناراض ہیں، اسی وجہ سے جوبائیڈن عوامی حمایت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ساتھ ملا ہوا ہے، غزہ کے لوگوں سے اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ جبری نقل مکانی کروا رہاہے، حماس کے میڈیا بیورو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ انروا کے حکام کو غزہ میں انسانی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے،اس ادارے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور زبردستی لوگوں‌کو علاقے سے نکال رہے ہیں، واضح رہے کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام کو شمالی غزہ سے نکل کر جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کرنے کا کہہ رکھا ہے۔انروا کے ترجمان نے حماس کے الزام کا کوئی جواب نہیں دیا،

    اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری سے دس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،اسرائیلی بمباری سے 39 صحافی بھی مارے جا چکے ہیں جن میں سے 34 فلسطینی ہیں جبکہ چار اسرائیلی اور ایک لبنانی صحافی مارا گیا ہے،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    ‏اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔

    باغی ٹی وی: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات کے دوران کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ،قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ،فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ،امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ،حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ،ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ،اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ، مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ، آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ، کیا ان کو یاد نہیں کہ نازیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ،اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ،ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ،سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ، فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ،جے یو آئی کا اوّل روز سےموقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ،پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ،امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہر ے ہوئے ہیں ،ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ،انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ،اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ،کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ،ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ،جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ،نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے،برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ،پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ،حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں-

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ،کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ،دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔

  • فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد نہ تو اسرائیل غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا اور نہ ہی حماس کو وہاں حکومت کرنے کی اجازت ہوگی۔

    باغی ٹی وی: بدھ کو جاپان میں ”جی 7“ وزرائے خارجہ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے، نہ تو ابھی اور نہ ہی جنگ کے بعد۔ غزہ کو دہشت گردی یا دیگر پرتشدد حملوں کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا، تنازع ختم ہونے کے بعد غزہ پر دوبارہ قبضہ نہیں کیا جائے گا،غزہ کی ناکہ بندی یا محاصرہ کرنے کی کوشش‘ یا ’غزہ کے علاقے میں کسی قسم کی کمی‘ کے خلاف بھی خبردار کیا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو تجویز پیش کی کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ میں سکیورٹی کا کنٹرول سنبھال لے گاتاہم، اگلے دن امریکی حکام نے کہا کہ صدر جو بائیڈن ’اسرائیلی افواج کے دوبارہ قبضے‘ کی حمایت نہیں کرتے۔

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    بلنکن نے واشنگٹن کے اس نظریے کو بھی دہرایا کہ غزہ کو حماس کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، جو کہ اس وقت انکلیو پر حکومت کرتی ہےانہوں نے اسرائیل پر گروپ کے مہلک حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہایہ محض 7 اکتوبر دہرانے کی دعوت دینا ہوگا، اب، حقیقت یہ ہے کہ تنازعے کے اختتام پر کچھ عبوری دور کی ضرورت ہو سکتی ہے، ہمیں دوبارہ قبضہ نظر نہیں آتا اور جو میں نے اسرائیلی رہنماؤں سے سنا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    منگل کو حماس نے امریکی بیانات کے جواب میں کہا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی میں حکمرانی کی مساوات کا حصہ نہیں بن سکتا کیونکہ انکلیو کی حکمرانی ایک ”خالص فلسطینی معاملہ“ ہے،حماس کےترجمان عبداللطیف القانو نے کہا کہ غزہ یا ہماری سرزمین پر حکومت کرنا فلسطینیوں کا معاملہ ہے اور کوئی بھی طاقت حقیقت کو تبدیل یا اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکے گی، حماس ایک قومی آزادی کی تحریک ہے اور ہر فلسطینی کے گھر میں رہتی ہے حماس ہمارے عوام کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے تمام قوانین اور رسم و رواج کے مطابق قبضے کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے-

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو