Baaghi TV

Tag: حماس

  • نااہل شخص کو شہزادہ بناکر پیش کیا جا رہا،حافظ نعیم

    نااہل شخص کو شہزادہ بناکر پیش کیا جا رہا،حافظ نعیم

    جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ اِس وقت فلسطین میں بہت بُرا حال ہے، مسلسل بم باری ہو رہی ہے، اس وقت گیارہ ہزار فلسطینی اسرائیلی بم باری سے شہید ہوئے ہیں،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ امریکہ انکی سرپرستی کر رہا ہے، بچے عورتیں شہید ہو رہے ہیں اور امریکہ کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا،پوری دنیا میں اب لوگ اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، عالم اسلام کی فوج اگر انکے ساتھ مل جائیں تو حماس کی فوج اسرائیل کو مٹا سکتی ہے، امریکہ کھل کر اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے، اور مسلم حکمران خاموش ہو کر ساتھ دے رہے ہیں، یہ پورا عمل پوری دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کر رہا ہے، ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اس تحریک کو ہم آگے بڑھائینگے، جاگیردار طبقہ ملک کو تباہ کرنے کا ذمہ دار ہے، ہم عوامی رابطے کا ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، 15 نومبر سے ہم عوام میں جانگے جلسے اور ریلیاں بھی کرینگے، کراچی میں ہم ملین کی تعداد میں لوگوں سے رابطہ کرینگے،

    حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ان سازش کرنے والوں کو کوئی نہیں پوچھے گا، اس حکومت اور الیکشن کمیشن نے غیر آئینی کام کیا ہے،ایک شخص جو نا اہل ہے اسے شہزادہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے،دوسری جانب ایک پارٹی چیئرمین کو قید کیا ہوا ہے، پنجاب گورنر ہاؤس میں ن لیگ کا اجلاس کیسے ہو رہا ہے،چاروں صوبوں میں چاروں پارٹیوں کے گورنر لگے ہوئے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے چاروں گورنر برطرف ہوں، ووٹر لسٹ کو ٹھیک کیا جائے، الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ووٹر لسٹ درست بنائیں،اگر ہم مردم شماری پر جائیں گے تو الیکشن آگے بڑھیں گے،

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین

  • عرب وزراء خارجہ کا اجلاس،او آئی سی، عرب لیگ کا اجلاس رواں ہفتے ہو گا

    عرب وزراء خارجہ کا اجلاس،او آئی سی، عرب لیگ کا اجلاس رواں ہفتے ہو گا

    سعودی عرب میں او آئی سی اور عرب لیگ کا غزہ کے مسئلہ پر ہنگامی اجلاس رواں ہفتے ہو رہا ہے، اجلاس سے قبل عرب ممالک کے وزراء خارجہ کی ریاض میں ملاقات ہوئی ہے

    عرب لیگ کے اجلاس سے قبل تیاریوں کے سلسلہ میں عرب وزراء خارجہ کی ملاقات ہوئی، اس ضمن میں عرب لیگ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل حسام ذکی نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے کے دن ہونے والے عرب لیگ کے ہنگامی اجلاس سے پیغام جاناچاہیےکہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کو روکنے اور فلسطینیوں کی حمایت کیلئے عرب ممالک کیا حکمت عملی اختیار کرنے جا رہے ہیں، اجلاس میں اسرائیلی قبضے کی مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جائے

    عرب لیگ وزرائے خارجہ کی اس اہم ملاقات کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطینیوں کی بھرپور حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پناہ گزین کیمپوں پر حملے کرکے سینکڑوں فلسطینیوں کو شہید کرنے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی

    او آئی سی کا اجلاس اتوار کو ہو گا، پاکستانی وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی اس اجلاس میں شریک ہوں گے، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شرکت بھی متوقع ہے،ایرانی صدر کئی برس بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے اور اجلاس میں شریک ہوں گے

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ تین روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہو گئے،وزیراعظم ریاض میں منعقدہ او آئی سی سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے،او آئی سی کا ہنگامی اجلاس فلسطین کی موجودہ صورتحال پر طلب کیا گیا ہے،نگران وزیراعظم او آئی سی رکن ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کریں گے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیل کے پھر ہسپتالوں پر حملے، اموات کی مجموعی تعداد 11 ہزار کے قریب

    اسرائیل کے پھر ہسپتالوں پر حملے، اموات کی مجموعی تعداد 11 ہزار کے قریب

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، چار گھنٹے کی جنگ بندی کا گزشتہ روز اعلان اس لئے کر دیا گیا کہ فلسطینی اپنا علاقہ خالی کریں گے، حماس کا کہنا ہے کہ ایسی جنگ بندی منظور نہیں

    اسرائیلی بمباری سے اب تک 11 ہزار کے قریب اموات ہو چکی ہیں، مرنیوالوں میں 2918 خواتین اور چار ہزار سے زائد بچے بھی شامل ہیں،اسرائیل نے ہسپتالوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، اسرائیل کو شبہ ہے کہ ہسپتال حماس رہنماؤں کے لئے محفوظ ٹھکانے ہیں،ہسپتالوں پر بمباری کی وجہ سے مزید دو ہسپتال بند گئے ہیں،گزشتہ تین دنون‌ میں‌ تقریبا آٹھ ہسپتالوں‌پر بمباری کی گئی، سات اکتوبر سے اب تک تقریبا 18 ہسپتال بند ہیںَ،

    دوسری جانب اسرائیل کی حکمران جماعت نے صحافیوں کو سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے 7 اکتوبر کے حملوں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کو بھی حملہ آور قرار دیدیا ،اسرائیلی حکمران جماعت کے رکن اسمبلی اور اقوام متحدہ میں سابق اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے روز اسرائیل پر حماس کے حملے کی ویڈیوز اور تصاویر بنانے والے صحافیوں کے نام بھی اسرائیلی خاتمے کی لسٹ میں شامل کیے جائیں گےیہ تمام لوگ بھی حملہ آور تصور کیے جائیں گے۔

    اسرائیلی حملوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا، غزہ کی پٹی میں پینے کا پانی تقریبا نوے فیصد ضائع ہو چکا ہے، حماس کے ترجمان باسم نعیم کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال میں احتیاط کرتے ہیں، جہاں پینے کے قابل پانی کا 90 فیصد ضائع ہو چکا ہے، جو شہریوں کو آلودہ یا بعض اوقات سمندری پانی استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔جو بیماریوں اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    غزہ پر ہمارا قبضے کا کوئی ارادہ نہیں ،اسرائیلی وزیراعظم کا یوٹرن
    اسرائیلی وزیراعظم نے غز ہ پر قبضے کے بیان سے یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم غزہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے، ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ہم حماس سے جنگ کے بعد غزہ پر قبضے یا حکومت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے،غزہ پر ہمارا قبضے کا کوئی ارادہ نہیں مگر غزہ میں کسی قابل اعتماد طاقت کی ضرورت ہے تاکہ حماس کے خطرے کو دوبارہ ابھرنے سے روکا جاسکے.

  • میوزک کنسرٹ پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے غلطی سےبمباری کی،اسرائیل کا اعتراف

    میوزک کنسرٹ پر اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے غلطی سےبمباری کی،اسرائیل کا اعتراف

    اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ 7 اکتوبر کو ہونے والے کنسرٹ میں اسرائیلی آپاچی ہیلی کاپٹر نے غلطی سے اپنے ہی اسرائیلیوں پر گولیاں برسائیں کیونکہ اُونچائی سے حماس کے مجاھدین اور اسرائیلی کنسرٹ میں جانے والوں میں فرق کرنا نامُمکن تھا۔

    سات اکتوبر کے حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا، اس حملے کے بعد اسرائیل مسلسل غزہ پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، سات اکتوبر کو حماس نے ہفتے والے دن حملہ کیا تو اسرائیل نے بھی جوابی کاروائی کی،اسرائیل میں ایک میوزک کنسرٹ جاری تھا جس پر حماس نے حملہ کیا، اور کئی افراد کو یرغمال بنایا تاہم اب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اس میوزک کنسرٹ پر ہیلی کاپٹر سے شیلنگ کی تھی تو وہیں اسرائیلی فوج نے بھی گولیاں چلائیں تھیں جس سے ہلاکتیں زیادہ ہوئی ہیں،

    دی گرے زون کی جانب سے ایک رپورٹ مرتب کی گئی ہے، جس میں عینی شاہدین کے بیان بھی ریکارڈ کئے گئے ہیں، اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ حماس کے حملے میں میوزک کنسرٹ کے شرکاء کی موت ہوئی تا ہم اب عینی شاہدین کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے بمباری کی جس سے اموات ہوئیں، اسرائیل کا حماس کے بارے میں دعویٰ جھوٹا ثابت ہو رہا ہے،اسرائیل نے اس حملے کے حوالہ سے مکمل تفیصلات فراہم کرنے سے انکار کیا ہے

    اسرائیل کی طرف سے غیر مصدقہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے سات اکتوبر کو چالیس بچوں کے سر قلم کئے، اسرائیلی دعوے کو پروپیگنڈہ کہا جا رہا ہے، تاہم، گرے زون کے واقعات کا قریب سے جائزہ لینے پر ایک مختلف کہانی بیان کی گئی ہے،ایک جس میں اسرائیلی فوج خود متعدد شہریوں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ یہ تفصیلات نہ صرف اسرائیلی حکومت کے واقعات سے متصادم ہیں، بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگ کے دوران اسرائیل کی لاپرواہی سے اسرائیلی آبادی میں نمایاں جانی نقصان ہوا۔

    اس کی تصدیق اسرائیلی شہری یاسمین پورات نے کی، جو بیری میں یرغمال بنائے جانے والے واقعہ میں بچ گئی تھی۔ اس نے بیان دیا کہ شدید جھڑپوں کے دوران، اسرائیلی اسپیشل فورسز نے "بلاشبہ” باقی تمام یرغمالیوں کو مار ڈالا،یاسمین کا کہنا تھا کہ حماس کے عسکریت پسندوں نے یرغمالیوں کے ساتھ "انتہائی انسانی سلوک” کیا تھا، جس کا مقصد صرف انہیں غزہ واپس لے جانا تھا،حماس کے لوگ ابھی کچھ یرغمالیوں کے پاس موجود تھے کہ اسرائیلی افواج نے عمارت پر حملہ کیا۔ اس نے اس دوران اپنے ساتھی کو گولی مار دیے جانے سے پہلے زمین پر زندہ دیکھا،

    مزید شواہد گواہ ڈینیئل ریچیل سے ملے ہیں، جس نے نووا میوزک فیسٹیول پر حماس کے حملے سے فرار ہونے کے بعدبیان ریکارڈ کروایا اور کہا کہ جب وہ محفوظ مقام پر گئے تو اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے براہ راست اس کی گاڑی پر گولی چلائی یہاں تک کہ اس نے عبرانی میں چیخ کر خود کو اسرائیلی بتایا۔

    اسرائیلی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ "پائلٹوں نے محسوس کیا کہ مقبوضہ چوکیوں اور بستیوں کے اندر یہ تمیز کرنے میں کافی دشواری تھی کہ کون دہشت گرد تھا اور کون فوجی یا شہری ،ہزاروں عسکریت پسندوں کے خلاف فائرنگ کی شرح پہلے تو زبردست تھی تا ہم صرف ایک خاص مقام پر، پائلٹوں نے حملوں کو کم کرنا شروع کر دیا اور احتیاط سے اہداف کا انتخاب کیا۔”

    اپاچی ہیلی کاپٹر کے پائلٹوں نے اہداف پر انٹیلی جنس کے بغیر مسلسل فائرنگ کرنے کا اعتراف کیا ہے، جب کہ ٹینک کے عملے کو گھروں پر گولہ باری کرنے کا حکم دیا گیا تھا، قطع نظر اس کے کہ اسرائیلی یرغمالی ممکنہ طور پر اندر ہوں۔ایک طاقتور دھماکہ خیز دھماکے سے تباہ ہونے والے گھر کے ملبے کے نیچے سے ملنے والی اسرائیلیوں کی لاشوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ٹینک کے گولوں کی وجہ سے دھماکہ ہوا اور اسرائیلی ٹینکوں نے ہی گولے برسائے، اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے فرار ہونے والے اسرائیلیوں پر بھی فائرنگ کی جنہیں وہ حماس کے بندوق بردار سمجھتے تھے۔

    ناقدین اب قیاس کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کی جلی ہوئی لاشوں کی کچھ انتہائی خوفناک تصاویر اور "قابل شناخت جلی ہوئی لاشیں” درحقیقت اسرائیل کی طرف سے ہونے والی ہلاکتوں کی عکاسی کر سکتی ہیں۔ اسرائیلی حکام بین الاقوامی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے جلی ہوئی لاشوں کی تصاویر کا استعمال کر رہے ہیں لیکن جیسا کہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ امکان ہے کہ یہ خوفناک تصاویر حماس کے جنگجوؤں کی ہوں گی

    حماس کے حملے کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے ممکنہ طور پر شہری علاقوں اور گھروں پر اندھا دھند فائرنگ کا سہارا لیا، جس کے نتیجے میں بے شمار تعداد میں اسرائیلی ہلاکتیں ہوئی ہیں.

    اسرائیلی حملوں کو ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا، غزہ کی پٹی میں پینے کا پانی تقریبا نوے فیصد ضائع ہو چکا ہے، حماس کے ترجمان باسم نعیم کا کہنا ہے کہ ہم غزہ میں جاری تباہ کن صورتحال میں احتیاط کرتے ہیں، جہاں پینے کے قابل پانی کا 90 فیصد ضائع ہو چکا ہے، جو شہریوں کو آلودہ یا بعض اوقات سمندری پانی استعمال کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔جو بیماریوں اور وبائی امراض کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتا ہے.

    نعیم نے اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی مہاجرین اور اس کی انتظامیہ کو خاص طور پر غزہ شہر اور اس کے شمالی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے "انسانی تباہی” کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ان علاقوں میں ایجنسی نے قبضے کے مطالبات کی تعمیل کی، اور لاکھوں باشندوں اور پناہ گزینوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی، انہیں پناہ، خوراک، پانی یا طبی دیکھ بھال کے بغیر چھوڑ دیا، باوجود اس کے کہ ان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی،غزہ کے 2.3 ملین باشندوں کے پاس خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی کمی ہے اور حال ہی میں غزہ میں امدادی قافلوں کی اجازت دی گئی ہے

    اسرائیل نے گزشتہ تین دن میں غزہ کے آٹھ ہسپتالوں‌پر بمباری کی ہے،غزہ میں سرکاری میڈیا کے دفتر کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے گزشتہ تین دنوں میں غزہ کی پٹی کے آٹھ اسپتالوں پر بمباری کی ہے۔اسرائیلی جارحیت نے 7 اکتوبر سے اب تک 18 ہسپتالوں کو خدمات سے محروم کر دیا ہے۔” اسرائیلی توپ خانے نے الشفا اسپتال کے صحن اور ناکہ بندی والے علاقے میں النصر اسپتال کے گیٹ پر گولہ باری کی۔ ہسپتالوں پر بمباری بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ایک جنگی جرم ہے،

    7 اکتوبر کو فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے سرحد پار حملے کے بعد سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں کم از کم 10,569 فلسطینی مارے جا چکے ہیں، جن میں 4,324 بچے اور 2,823 خواتین شامل ہیں۔ دریں اثنا، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,600 ہے۔

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

    اسرائیلی بربریت کی حمایت،جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھونے لگے

    سات اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ پر بمباری شروع کی، ایک ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا، اسرائیل کی بمباری جاری ہے، ہسپتالوں‌سکولوں، ایمبولینس گاڑیوں،امدادی قافلوں سمیت کوئی جگہ ایسی نہیں بچی جہاں اسرائیل نے بمباری نہ کی ہو، ایسے میں امریکی صدر جوبائیڈن نے یکجہتی کے لئے اسرائیل کا دورہ کیا، امریکی وزیر خارجہ اسرائیل کے تین دورے کر چکے ہیں،ا مریکہ نے اسرائیل کو اسلحہ بھی فروخت کیا، دوسری جانب دنیا بھر میں اسرائیلی بربریت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں، امریکہ میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں تا ہم امریکی حکومت اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی بربریت کی حمایت کی وجہ سے جوبائیڈن امریکہ میں عوامی حمایت کھو رہے ہیں، انکی حمایت میں کمی ہو رہی ہے،امریکی ڈیمو کریٹک پارٹی کے نوجوان ہامی اب کہنے لگ گئے ہیں کہ اسرائیلی بربریت کی حمایت کر کے جوبائیڈن غلطی کر رہے ہیں، اس ضمن میں یونیورسٹی آف میری لینڈ میں ایک سروے کیا گیا جس میں نوجوان طلبا کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بہت زیادہ اسرائیل نواز ہو گئے ہیں، یونیورسٹی میں ان طلبا کی تعداد دوگنا زیادہ ہو گئی ہے جن کا صرف ایک ماہ کے اندر جوبائیڈن کے خلاف ذہن بدلا،سات اکتوبر سے قبل جوبائیڈن کی حمایت کرنے والے نوجوان اسرائیلی حملوں کی حمایت کے بعد اب جوبائیڈن کے خلاف ہو رہے ہیں،نوجوانوں‌کا کہنا ہے کہ امریکہ کا جھکاؤ فلسطین کی طرف ہونا چاہئے جو بربریت کا شکار ہیں

    رائے شماری کے ڈائریکٹر پروفیسر شیبلی تلہامی کا کہنا ہے کہ حالیہ سروے کے مطابق امریکہ میں نوجوانوں کی ایسی تعداد جن کی عمر 35سال سے کم ہے ان میں ایسے نوجوانوں کی تعداد کم ہوتی چلی جارہی ہے جو یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اسرائیل کا ساتھ دے،پروفیسر تلہامی کا کہنا تھا کہ نوجوانوں نے بائیڈن کو اسرائیل کو نواز کہا، اب نوجوان فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں،اسرائیلی حملوں کے بعد نوجوان ناراض ہیں، اسی وجہ سے جوبائیڈن عوامی حمایت کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ساتھ ملا ہوا ہے، غزہ کے لوگوں سے اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ جبری نقل مکانی کروا رہاہے، حماس کے میڈیا بیورو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ انروا کے حکام کو غزہ میں انسانی تباہی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے،اس ادارے کے لوگ اسرائیل کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور زبردستی لوگوں‌کو علاقے سے نکال رہے ہیں، واضح رہے کہ اسرائیل نے فلسطینی عوام کو شمالی غزہ سے نکل کر جنوبی غزہ کی طرف نقل مکانی کرنے کا کہہ رکھا ہے۔انروا کے ترجمان نے حماس کے الزام کا کوئی جواب نہیں دیا،

    اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری سے دس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں،اسرائیلی بمباری سے 39 صحافی بھی مارے جا چکے ہیں جن میں سے 34 فلسطینی ہیں جبکہ چار اسرائیلی اور ایک لبنانی صحافی مارا گیا ہے،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

  • او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    ‏اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔

    باغی ٹی وی: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات کے دوران کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ،قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ،فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ،امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ،حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ،ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ،اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ، مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ، آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ، کیا ان کو یاد نہیں کہ نازیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ،اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ،ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ،سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ، فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ،جے یو آئی کا اوّل روز سےموقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ،پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ،امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہر ے ہوئے ہیں ،ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ،انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ،اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ،کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ،ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ،جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ،نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے،برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ،پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ،حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں-

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ،کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ،دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔

  • فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ غزہ جنگ ختم ہونے کے بعد نہ تو اسرائیل غزہ کا کنٹرول سنبھالے گا اور نہ ہی حماس کو وہاں حکومت کرنے کی اجازت ہوگی۔

    باغی ٹی وی: بدھ کو جاپان میں ”جی 7“ وزرائے خارجہ مذاکرات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ’غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے، نہ تو ابھی اور نہ ہی جنگ کے بعد۔ غزہ کو دہشت گردی یا دیگر پرتشدد حملوں کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا، تنازع ختم ہونے کے بعد غزہ پر دوبارہ قبضہ نہیں کیا جائے گا،غزہ کی ناکہ بندی یا محاصرہ کرنے کی کوشش‘ یا ’غزہ کے علاقے میں کسی قسم کی کمی‘ کے خلاف بھی خبردار کیا۔

    اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے پیر کو تجویز پیش کی کہ اسرائیل جنگ کے بعد غزہ میں سکیورٹی کا کنٹرول سنبھال لے گاتاہم، اگلے دن امریکی حکام نے کہا کہ صدر جو بائیڈن ’اسرائیلی افواج کے دوبارہ قبضے‘ کی حمایت نہیں کرتے۔

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    بلنکن نے واشنگٹن کے اس نظریے کو بھی دہرایا کہ غزہ کو حماس کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا، جو کہ اس وقت انکلیو پر حکومت کرتی ہےانہوں نے اسرائیل پر گروپ کے مہلک حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہایہ محض 7 اکتوبر دہرانے کی دعوت دینا ہوگا، اب، حقیقت یہ ہے کہ تنازعے کے اختتام پر کچھ عبوری دور کی ضرورت ہو سکتی ہے، ہمیں دوبارہ قبضہ نظر نہیں آتا اور جو میں نے اسرائیلی رہنماؤں سے سنا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کا غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    منگل کو حماس نے امریکی بیانات کے جواب میں کہا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی میں حکمرانی کی مساوات کا حصہ نہیں بن سکتا کیونکہ انکلیو کی حکمرانی ایک ”خالص فلسطینی معاملہ“ ہے،حماس کےترجمان عبداللطیف القانو نے کہا کہ غزہ یا ہماری سرزمین پر حکومت کرنا فلسطینیوں کا معاملہ ہے اور کوئی بھی طاقت حقیقت کو تبدیل یا اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکے گی، حماس ایک قومی آزادی کی تحریک ہے اور ہر فلسطینی کے گھر میں رہتی ہے حماس ہمارے عوام کا ایک لازمی حصہ ہے اور اسے تمام قوانین اور رسم و رواج کے مطابق قبضے کے خلاف مزاحمت کا حق حاصل ہے-

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

  • اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    یمن کے حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی اہداف کی طرف مسلح ڈرونز فائر کئے ہیں

    حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ ساری کا کہنا تھا کہ ڈرونز کی ایک کھیپ گزشتہ گھنٹوں میں حساس اسرائیلی اہداف پر فائر کی گئی ہے،اسرائیل میں نشانہ بنائے گئے مقامات پر نقل و حرکت روک دی گئی ہے لیکن اس حملے کی مزید وضاحت نہیں کی گئی ،ترجمان کا کہنا ہےکہ اسرائیل جب تک غزہ پر حملہ بند نہیں کرے گا ہم ڈرون حملے جاری رکھیں گے،اسرائیلی فوج کے ترجمان نے حوثیوں کے ڈرون حملوں کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی

    اسرائیل نے نصر ہسپتال، القدس اور کمال عدوان کے قریب بمباری کی
    واضح رہے کہ سات اکتوبر سے اسرائیل غزہ پر مسلسل بمباری کر رہا ہے، اسرائیلی حملوں میں10 ہزار سے زائد فسلطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی ہے،اسرائیل گھروں، سکولوں، ہسپتالوں، مساجد، چرچوں پر بھی بمباری کر رہا ہے، اسرائیلی حملے میں کوئی بھی محفوظ نہیں، صحافیوں، اقوام متحدہ کے امدادی اہلکاروں کی جانیں بھی جا چکی ہیں، ایمبولینس گاڑیوں‌پر بھی بمباری کی گئی ہے، گزشتہ شب اسرائیل نے نصر ہسپتال، القدس اور کمال عدوان کے قریب بمباری کی، اسرائیل نے بچوں کے ہسپتال کو خالی کرنے کی دھمکی بھی دی ،اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ہسپتالوں میں حماس کے ٹھکانے ہیں اور وہ خودکو ہسپتالوں میں محفوظ سمجھتے ہیں،

    اسرائیلی حملوں کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق انکی 97 پناہ گاہوں میں تین لاکھ سے زائد بے گھر افراد موجود ہیں، چھ سو کے قریب افراد ایک بیت الخلا استعمال کرنے پر مجبور ہیں، پانی کی قلت ہے، صفائی نہ ہونے کی وجہ سے بیماریاں پھیلنے کا بھی خدشہ ہے،

    اسرائیلی حملوں میں 222 سکول مکمل تباہ،56 مساجد شہید
    اسرائیل نے ایک ماہ میں تقریبا تیس ہزار ٹن بارود غزہ پر برسایا ہے،اسرائیلی حملے کے بعد پچاس فیصد ہسپتال، 62 فیصد طبی مراکز اسرائیلی بمباری یا ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ،ایک ماہ میں 2 لاکھ سے زائد رہائشی عمارتوں کو اسرائیل نے نشانہ بنایا جس میں دس ہزار مکمل طور پر ملیا میٹ ہو چکی ہیں،اسرائیلی حملوں میں 222 سکول مکمل تباہ ، جبکہ ساٹھ تعلیمی ادارے جزوی تباہ ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں،اسرائیلی بمباری سے 56 مساجد شہید ہو چکی ہیں جبکہ 192 مساجد کو جزوی نقصان پہنچا ہے، تین گرجا گھر بھی ملیا میٹ ہو چکے ہیں

    دوسری جانب امریکا نے اسرائیل کے غزہ پٹی پر نئے طویل مدتی قبضے کے منصوبے کی مخالفت کی ہے،امریکی نیشنل سکیورٹی کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکی صدرجو بائیڈن اسرائیل حماس جنگ کے خاتمے کے بعد اسرائیل کے غزہ پر طویل مدتی قبضے کے منصوبے کی حمایت نہیں کرتے، غزہ پر اسرائیل کا دوبارہ قبضے کاعمل درست عمل نہیں ہوگا,، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ویدانت پٹیل نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا غزہ سے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی حمایت نہیں کرتا ہمارا نقطہ نظر ہے کہ فلسطینیوں کو ان فیصلوں میں سب سے آگے ہونا چاہیےہم سمجھتے ہیں کہ غزہ فلسطینی سرزمین ہے امریکا غزہ پر دوبارہ قبضے کی حمایت نہیں کرتا،

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہونے کہا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل غیر معینہ مدت کیلئے غزہ پٹی کی سلامتی کی مجموعی ذمہ داری سنبھالے گا

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان

    فلسطینی بچوں کی الشفا ہسپتال کے باہر عالمی دنیا کا ضمیر جگانے کے لئے پریس کانفرنس
    اسرائیلی بمباری میں غزہ میں بچوں کی بڑی تعداد شہید ہو چکی ہیں وہیں زندہ رہ جانے والے بچوں نے اسرائیلی بربریت کے خلاف پریس کانفرنس کی ہے،الشفا ہسپتال جس پر اسرائیل بمباری کر چکا ہے کے باہر فلسطینی بچوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل پوری دنیا کے سامنے ہم پر بمباری کر رہا ہے، 10 سالہ بچے کا کہنا ہے کہ اسرائیل نسل کشی کر رہا ہے اور وہ ہمیں بمباری کے ساتھ ساتھ بھوکا مارنا چاہتا ہے،بچوں کا کہنا تھا کہ اسرائیل جھوٹا ہے وہ حماس سے نہیں لڑ رہا بلکہ شہریوں کا قتل عام کر رہا ہے، اسرائیلی حملے بچوں پر بھی ہو رہے ہیں،بچوں نے اپنی پریس کانفرنس کا اختتام امن، زندگی، تعلیم، علاج اور کھانے کے ساتھ اسرائیل سے بدلے کے مطالبہ کرتے ہوئے کیا.

    نیتن یاہو سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی کے ذمہ دار ہیں، سابق اسرائیلی وزیراعظم
    اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے صیہونی ریاست کے لیے خطرہ قرار دے دیا، میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کا کہنا تھا نیتن یاہو سات اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی کے بعد سے نروس بریک ڈاؤن کی حالت میں ہیں،نیتن یاہو غیر معینہ مدت کیلئے غزہ کی سکیورٹی کا کنٹرول سنبھالنے کی تیاری کرکے غلط اندازہ لگا رہے ہیں وہ اب اسرائیل کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، غزہ کی سلامتی کی نگرانی کرنا اسرائیل کے مفاد میں نہیں ہے یہ ہمارے مفاد میں ہے کہ ہم 7 اکتوبر کے حملے سے پہلے کے مقابلے میں مختلف طریقے سے اپنا دفاع کر سکیں.

  • حماس اور اسرائیل جنگ:یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں اضافہ

    حماس اور اسرائیل جنگ:یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں اضافہ

    بیلجیئم :یورپی یونین کی نمائندہ نے کہا ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کےتناظر میں یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات کے ساتھ یہودیوں پر تنقید میں اضافہ ہورہا ہے۔

    باغی ٹی وی: الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے مقررکردہ میریئن لالیسی نے بتایا کہ ہم مسلم مخالف جذبات اور یہود مخالف بیانیوں میں تیزی سے اضافے کا رجحان دیکھ رہے ہیں یہ رجحان زیادہ تر سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آیا ہے جہاں ڈھکے چھپے الفاظ سے لے کر کھلم کھلا انداز میں دھمکیاں دی جارہی ہیں بالخصوص مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافے کی بنیاد ان کے بارے میں پایا جانےو الا پرتشدد قوم کا منفی تصور ہے اور یہ تصور یورپی اقوام میں پھیلایا گیا ہے۔

    یورپی یونین کی نمائندہ کا کہنا تھا کہ اس بارے میں تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ یورپی باشندوں کو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کس طریقے سے تعلیم دی جاری ہےہم مسلم مخالف جذبات کا تدارک ان پروجیکٹس کی فنڈنگ کے ذریعے کررہے ہیں جو ماضی اور حال کا موازنہ کرتے اور اس امر کا جائزہ لیتے ہیں کہ اسکول اور یونیورسٹیوں میں پڑھائی جانے والی تاریخ کی کتابیں مسلمانوں کو کس انداز سے پیش کرتی ہیں،جو کچھ یورپ میں ہورہا ہے ہمیں اس کے بارے میں ایک متوازن بیانیے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ یورپ میں لوگ مذہبی عقائد سے قطع نظر آزادانہ طور پر رہ سکیں۔

    کابل دھماکے میں 7 افراد جاں بحق اور 20 زخمی

    ہیومن رائٹس واچ کے مطابق بیشتر یورپی ممالک میں یہودیوں کے خلاف جرائم کے واقعات کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے، تاہم برطانیہ کے سوا دیگر یورپی ممالک نے کبھی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات کےا عدادوشمار شائع نہیں کیےجن میں 7 اکتوبر کے بعد سے بالخصوص اضافہ ہوا ہے،اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ممالک مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم کو ریکارڈ نہیں کرتے۔

    روس کا غزہ پر ایٹمی حملے سےمتعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پرتحقیقات کا مطالبہ

  • سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ ختم،ایرانی صدر کی او آئی سی اجلاس میں شرکت متوقع

    سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ ختم،ایرانی صدر کی او آئی سی اجلاس میں شرکت متوقع

    غزہ پر اسرائیلی بمباری کو ایک ماہ ہو گیا، دس ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے، اسرائیل جنگ بندی کی طرف نہیں جا رہا تو وہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک اور اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا، جنگ بندی کے حوالہ سے قرارداد اجلاس میں منظور نہ ہو سکی

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس دو گھنٹے تک جاری رہا ، بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں اختلاف ختم نہ ہوئے اور اجلاس بغیر کسی قرارداد کے ختم ہو گیا، اجلاس میں امریکا کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر وقفے کا مطالبہ کیا گیا تو دیگر اراکین نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا، اجلاس میں قرارداد منظور نہ ہونے پر فلسطینی نمائندے نے امریکا کو سیز فائر معاہدے میں رکاوٹ قرار دے دیا

    دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نےیرغمالیوں کی رہائی تک جنگ بندی کا امکان مسترد کردیا،ایک انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حماس کے ساتھ جنگ کے بعد اسرائیل غزہ پٹی کی غیر معینہ مدت کے لیے سلامتی کی مجموعی ذمہ داری سنبھالے گا اس وقت حماس کی وجہ سے اسرائیل کے پاس سکیورٹی کی ذمے داری نہیں ہے،غزہ میں اس وقت تک جنگ بندی نہیں ہو گی جب تک حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا جاتا،

    دوسری جانب او آئی سی کا فلسطین مسئلہ پر اجلاس اگلے ہفتے ہو گا، اجلاس میں ایرانی صدر کی شرکت متوقع ہے، پاکستانی نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ بھی او آئی سی اجلاس میں شریک ہوں گے،او آئی سی سربراہی کانفرنس میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی شرکت کے حوالہ سے ذرائع نے تصدیق کی کہ وہ شریک ہوں گے،سات برس بعد یہ ایرانی صدر کا دورہ سعودی عرب ہو گا.

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں دس ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، شہدا میں بچوں اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، کئی ممالک احتجاجا اسرائیل سے سفیر واپس بلا رہے ہیں، سلامتی کونسل اجلاس ہو چکے ہیں، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل جنگ بندی کا مطالبہ کر چکے ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کے الشفا ہسپتال پر بھی بمباری 

    اسرائیل کی حمایت میں گفتگو، امریکی وزیر خارجہ کو مہنگی پڑ گئی

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید

     فلسطینی بچوں کو طبی امداد کی فراہمی کے لئے متحدہ عرب امارات میدان