Baaghi TV

Tag: حماس

  • اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

    اسرائیلی ترجمان نے غزہ میں نسل کشی تسلیم کر لی

    تل ابیب: اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کی ترجمان تل ہینرک نے پریس کانفرنس میں تسلیم کرلیا کہ غزہ میں شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں اسرائیلی وزیراعظم کی ترجمان نےکہا کہ غزہ میں سوائے سویلینز کےکسی اورکو نشانہ نہیں بنا رہے،تاہم فوراً ہی انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور گھبراہٹ میں کہا کہ نشانہ سویلینز نہیں دہشت گرد ہیں۔

    اسرائیلی وزیراعظم کی ترجمان کی تاویل اپنی جگہ لیکن حقیقت حال یہ ہے کہ غزہ میں وحشیانہ بمباری میں شہید ہونے والے 9 ہزار سے زائد فلسطینیوں میں نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہیں بچوں اور خواتین کی اتنی بڑی تعداد میں شہادتوں پر بچوں کی بہبود اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی شدید احتجاج کیا ہے۔

    اسرائیلی بمباری سے صحافی کی خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ موت

    اسرائیلی ترجمان کی بے حسی اور لاعلمی کا سوشل میڈیا پر خوب مذاق اُڑایا جا رہا ہے۔ صارفین نے پوچھا کہ کیا اسرائیل بمباری میں جان سے جانے والے 3 ہزار 700 سے زائد بچوں کو بھی دہشتگرد سمجھتا ہے۔
    https://x.com/EekadFacts/status/1720021765936623977?s=20
    دوسری جانب حماس کے سینئر ترجمان اسامہ حمدان نے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ وہ عام شہریوں پر حملہ نہیں کر رہے ہیں ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے انسانی حقوق کی تنظیموں نے نشاندہی کی ہے کہ حماس کے ہاتھوں اسرائیلی شہری مارے گئے ہیں آپ کو آباد کاروں اور عام شہریوں میں فرق کرنا ہوگا آباد کاروں نے فلسطینیوں پر حملہ کیا،ہمیں امید ہے کہ ایمنسٹی کے پاس بین الاقوامی عاجزی ہے کہ وہ ہمیں صرف فوجیوں پر حملہ کرنے کے لیے مزید ترقی یافتہ ہتھیار بھیجے-

    فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 25 فنکاروں نے مل کر نیا ترانہ جاری کردیا

    یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جنوبی اسرائیل میں شہریوں کو بھی آباد کار تصور کیا جاتا ہے، ہمدان نے کہا: "ہر کوئی جانتا ہے کہ وہاں بستیاں ہیں،ہم جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں۔ ہم نے آباد کاروں کو قبضے کا حصہ اور مسلح اسرائیلی فوج کا حصہ قرار دیا ہے۔ وہ عام شہری نہیں ہیں-

  • اسرائیلی بمباری سے صحافی کی خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ موت

    اسرائیلی بمباری سے صحافی کی خاندان کے 11 افراد کے ہمراہ موت

    سات اکتوبر سے اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، اب اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کا محاصرہ کر لیا ہے

    اسرائیلی بمباری سے فلسطین کے صحافی محمد ابوحطب اہل خانہ سمیت شہید ہو گئے ہیں، اسرائیل نے غزہ کے شہر یونس خان میں گھر پر بمباری کی،جس کے نتیجے میں فلسطینی صحافی محمد ابو حطب،انکی اہلیہ، بیٹے اور بھائی سمیت خاندان کے 11 افراد کی موت ہوئی ہے، اسرائیلی بمباری سے فلسطینی صحافی محمد البیاری بھی شہید ہو چکے ہیں

    فلسطینی صحافی کی موت کے بعد فلسطینی صحافیوں نے احتجاج کیا، محمد ابوحطب کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی جس میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی، اس موقع پر فلسطینی صحافی سلمان البشیر اسرائیل کے ہاتھوں صحافیوں کے قتل پر اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے بے قابو ہوگئے اور دوران رپورٹنگ اپنی پریس جیکٹ اور ہیلمٹ کو اُتار پھینکا اور کہا کہ کوئی فائدہ نہیں،اسرائیل صحافیوں کا بھی قتل عام کر رہا ہے، دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا.یہ پریس جیکٹس جو ہم نے پہنی ہیں علامتی ہیں، ان سے کسی صحافی کو تحفظ نہیں مل رہا ہے، ایک کے بعد ایک صحافی کو اسرائیل کو قتل کر دیا ہے

    دوسری جانب غزہ میں اسرائیلی فوج کی رہائشی آبادیوں پر وحشیانہ بمباری کاسلسلہ جاری ہے اور اسرائیل پر غزہ کی جانب سے کی جانے والی بمباری اور بڑھتے محاصرے سے فلسطینیوں کے قتل عام تیز ہونے کا خدشہ ہے اسرائیلی جارحیت سے شہید فلسطینیوں کی تعداد 9200 جب کہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد 24 ہزار ہوچکی ہے

    دوسری جانب غزہ میں بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے منصوبے سے متعلق اسرائیلی ترجمان کی زبان پر آ گیا، اسرائیلی ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا نشانہ فقط فلسطینی عوام ہیں امریکی ٹی وی کو اپنے انٹرویو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کی ترجمان تل ہینرک بات چیت کے دوران سچ بول گئیں اور کہا کہ اسرائیل غزہ میں کسی اور کو نشانہ نہیں بنا رہا سوائے سویلینز کے لیکن پھر گڑبڑا کر اپنی بات کو گھماتے ہوئے کہنے لگی کہ نہیں، نشانہ دہشتگرد ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    غزہ کی پٹی پر حماس حملوں میں بھارتی نژاد اسرائیلی فوجی کی موت
    حماس کے حملے میں بھارتی نژاد اسرائیلی فوج کی بھی موت ہوئی ہے، اس ضمن میں بھارت میں اسرائیل کے قونصل جنرل کوبی شوشانی نے تصدیق کی کہ بھارتی نژاد فوجی کی موت غزہ کی پٹی پر ہوئی،بھارتی نژاد اسرائیلی فوجی کی عمر بیس برس تھی اوراسکا نام ہیل سولومن تھا، جس واقعہ میں بھارتی نژاد فوجی کی موت ہوئی اس میں 17 مزید اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیںَ،بھارتی نژاد فوجی اسرائیلی شہر دیمونا کا رہائشی تھا

    ہیل کی موت پر بینی دیمونا کے میئر بٹن کا کہنا تھا کہ بہت افسوس کے ساتھ ہم غزہ کی جنگ میں دیمونا کے بیٹے ہیل سولومن کی موت کا اعلان کرتے ہیں۔پورا شہر ہیل سولومن کی موت پر غم زدہ ہے، ہیل کی آخری رسومات اسرائیلی پرچم کے ساتھ ادا کی جائیں گی

    دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ ایک بار پھر اسرائیل پہنچ چکے ہیں وہ اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کریں گے، امریکی وزیر خارجہ کا سات اکتوبر کے بعد اسرائیل کا یہ تیسرا دورہ ہے،آخری دورے میں انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم سے سات گھنٹے طویل ملاقات کی تھی،امریکی وزیر خارجہ آج ملاقاتوں کے بعد میڈیا ٹاک بھی کریں گے، امریکہ کو امید ہے کہ آج کے اس دورے کے بعد غزہ کو انسانی امداد بھیجنے کا راستہ کھل جائے گا،اسرائیل کا دورہ مکمل کرنے کے بعد امریکی وزیرخارجہ اردن جائیں گے جہاں وہ اپنے عرب اتحادیوں کے تحفظات پر بات چیت کریں گے،

  • نیتن یاہو کو 7 برس قبل خفیہ دستاویز میں حماس کے ممکنہ حملے سے خبردار کیا گیا تھا،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    نیتن یاہو کو 7 برس قبل خفیہ دستاویز میں حماس کے ممکنہ حملے سے خبردار کیا گیا تھا،اسرائیلی اخبار کا دعویٰ

    اسرائیلی اخبار نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو کو 7 برس قبل خفیہ دستاویز میں حماس کے ممکنہ حملے سے خبردار کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی :َ”العربیہ” نے اسرائیلی اخبار نے’’یدیعوت احرونوت‘‘ کے حوالے سے بتایا کہ وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے 2016 میں یہ دستاویز نیتن یاہو کو پیش کی تھیں دستاویز میں کہا گیاتھا کہ حماس آئندہ تنازع کو اسرائیل منتقل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ان دستاویز میں آپریشن ’’ طوفان الاقصیٰ‘‘ سےمتعلق خبر دار کیا گیا تھا،11 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں حماس کے عزائم کی تفصیلات دی گئی ہیں۔

    ان دستاویزات میں غزہ کے ارد گرد کی بستیوں پر قبضہ کرنا اور یرغمال بنانے کا تذکرہ کیا گیا دستاویز میں بتایا گیا کہ حماس کے اس طرح کے حملے سے مادی نقصان کے ساتھ اسرائیل کے شہریوں کے شعور اور حوصلے کو شدید نقصان پہنچے گا حماس کا بنیادی ہدف 2022 تک اسرائیل کو تباہ کرنا اور تمام فلسطینی زمینوں کو آزاد کرنا ہے لائبرمین غزہ کو کنٹرول کرنے والی حماس کے بارے میں فکر مند تھے تاہم نیتن یاہو اور سابق چیف آف سٹاف گیڈی آئزن کوٹ سمیت جن فریقوں کو وارننگ پیش کی گئی تھی، ان میں سے کسی نے بھی اس منظر نامے کو مطلوبہ سنجیدگی سے نہیں لیا۔

    موبائل قسطوں پر دیئے جائیں گے یا نہیں،وزارت آئی ٹی کا وضاحتی بیان جاری

    ان دستاویز کو خفیہ راز کے طور پر پیش کیا گیا تھا ان میں غزہ کی پٹی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا تھا اس وقت کے وزیر دفاع کی پوزیشن کو تفصیل سے بیان کیا گیا تھا اس میں آپریشن کے مطلوبہ اہداف بھی شامل تھے، اس دستاویز میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور حماس کےدرمیان اگلا تصادم آخری ہوگا دستاویز میں کہا گیا کہ اس کا بہترین طریقہ حماس کے لیے یہ ہے کہ وہ اسرائیل کو فرنٹل سٹرائیک سے حیران کر دے حماس چاہتی ہے کہ اسرائیل کے خلاف اگلی مہم میں غزہ کی پٹی کے لیے لبنان، شام، اردن اور سینا میں اضافی میدان پیدا کئے جائیں یہاں تک کہ دنیا بھر میں یہودی اہداف کو بھی نشانہ بنانے کی راہ ہموار کی جائے۔

    نگران وزیراعظم اور شاہد آفریدی کے مابین ملاقات

    دستاویز میں حماس کی طرف سے راکٹوں کی تعداد میں اضافے، زمینی اور سمندری شعبے میں جدید صلاحیتوں کو تیار کرنے کی کوششوں اور فضائی شعبے میں نئی صلاحیتوں کا بھی اشارہ دیا گیا تھا حماس کے پاس حملہ کرنے والے پلیٹ فارمز، انٹیلی جنس صلاحیتوں کو جمع کرنے کے لیے ڈرون اور گلوبل پوزیشننگ سسٹم کو جام کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

  • طوفان الاقصیٰ واحد حملہ نہیں،اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے

    طوفان الاقصیٰ واحد حملہ نہیں،اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے

    غزہ: حماس کے ایک عہدیدار غازی حماد نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ 7 اکتوبر کا حملہ طوفان الاقصیٰ واحد آخری نہیں، اس طرح کے مزید حملے کیے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: مڈل ایسٹ میڈیا ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (MEMRI) کی ایک رپورٹ کے مطابق غازی حماد نے کہا کہ اسرائیل ایک ایسا ملک ہے جس کی ہماری زمین پر کوئی جگہ نہیں ہےہمیں اس ملک کو ختم کرنا ہوگا‘ہمیں اسرائیل کو سبق سکھانا چاہیے، اور ہم یہ بار بار کریں گے۔ طوفان الاقصیٰ واحد (حملہ) نہیں ہے، ہم دوسری، تیسری، چوتھی بار آئیں گے،کیونکہ ہمارا عزم ہے کہ لڑو۔
    https://x.com/MEMRIReports/status/1719662664090075199?s=20

    نیتن یاہو کا غزہ پلان کیا ہے؟ خفیہ دستاویزات لیک

    حماد نے اس حملے میں جانی قیمت کے بارے میں بھی بات کی، جو جنگ کے دونوں فریقوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے انہوں نے کہا کہ ریئم میوزک فیسٹیول میں ہونے والی ہلاکتیں ’زمین پر پیدا ہونے والی پیچیدگیوں‘ کا نتیجہ تھیں کیا ہمیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی؟ ہاں، اور ہم اسے ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ہمیں شہیدوں کی قوم کہا جاتا ہے اور ہمیں شہداء کی قربانی پر فخر ہے اسرائیل کا وجود ہی اس سارے درد، خون اور آنسوؤں کا سبب بنتا ہے، یہ اسرائیل ہے، ہم نہیں۔ ہم قبضے کے شکار ہیں، کسی کو بھی ہم پر الزام نہیں لگانا چاہیے 7 اکتوبر، 10 اکتوبر، 10 لاکھ اکتوبر ، ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ جائز ہے۔

    آرمی چیف کی آذربائیجان کے صدر اور وزیردفاع سے ملاقاتیں

    دوسری جانب فلسطینی سیاسی کارکن احد تمیمی نے پیر کو ایک انسٹاگرام پوسٹ میں مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی آباد کاروں کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    احد تمیمی نے سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام میں لکھا کہ ’ہم مغربی کنارے کے تمام شہروں میں ہیبرون سے جینین تک آپ کا انتظار کر رہے ہیں، ہم آپ کو ذبح کر دیں گے اور آپ کہیں گے کہ ہٹلر نے آپ کے ساتھ جو کیا وہ ایک مذاق تھاہم تمہارا خون پی جائیں گے اور تمہاری کھوپڑی کو چبائیں گے۔ آجاؤ، ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔

    مارچ 2018 میں، احد تمیمی کو ایک اسرائیلی فوجی افسر اور سپاہی پر حملہ کرنے، تشدد کیلئے اکسانے، اور اسرائیلی فورسز کے سامنے مزاحمت کے چار الزامات پر آٹھ ماہ قید اور آٹھ ماہ پروبیشن کی سزا سنائی گئی انہیں 29 جولائی 2018 کو سزا پوری کرنے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے افراد کی تعداد 8796 ہوگئی ہےفلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مجموعی طور پر غزہ میں اب تک 2290 خواتین اور 3648 بچے شہید ہو چکے ہیں کم از کم 22 ہزار 219 افراد زخمی ہیں، 2 ہزار 30 افراد اب بھی تباہ شدہ عمارات کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جن میں 1120 بچے بھی شامل ہیں۔

    حکام کا کہنا تھا کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 130 ورکرز شہید ہو چکے ہیں جبکہ 28 ایمبولینسیں تباہ ہوچکی ہیں اب تک غزہ کے طبی نظام پر 270 سے زائد حملے کیے گئے ہیں جس کے باعث 35 میں سے 16 اسپتال اور 72 میں سے 51 طبی مراکز بند ہو چکے ہیں-

    بھارت میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور

  • اسرائیلی بمباری سے سات یرغمالی ہلاک

    اسرائیلی بمباری سے سات یرغمالی ہلاک

    حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر 26 ویں روز بھی مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیل نے شدید بمباری کر کے غزہ کا مواصلاتی نظام تباہ کر دیا ہے، غزہ کا دیگر دنیا سے رابطہ کٹ چکا ہے،

    اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں اپنی دراندازی کے علاقوں میں لائٹنگ بم برسائے، غزہ کے شمال مغرب میں کراما کے علاقے میں بھی پرتشدد جھڑپیں ہوئیں، پٹی کے جنوب مشرق میں الزیتون محلے میں بھی اسرائیل نے بمباری کی،غزہ کے سب سے بڑی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ’ پیلٹیل‘ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ بین الاقوامی رسائی دوبارہ منقطع ہونے کے باعث غزہ میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے۔

    غزہ میں وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری اور بے گناہ شہریوں کی اموات کو فلسطینیوں کی "نسل کشی” قرار دیا ،اسرائیل کی مسلسل بمباری اور ہزاروں شہیروں کی موت کے باعث غزہ ایک قبرستان کی شکل اختیار کر چکا ہے، یونیسیف کا کہنا ہے کہ ہر دس منٹ میں ایک بچہ شہید ہو رہا ہے.اب تک اسرائیلی بمباری سے 3500 کے قریب بچے شہید ہو چکے ہیں،غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 8,796 تک پہنچ گئی، جن میں 3,648 بچے اور 2,290 خواتین شامل ہیں،24 گھنٹے کے اندر اسرائیل کے 31 فوجی بھی مارے گئے ہیں

    اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ کے مزید تین کارکنان کی بھی موت ہوئی ہے، اب تک اقوام متحدہ کے 67 اراکین اسرائیلی حملے میں مارے جا چکے ہیں،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاطت کا مستقل خیال رکھا جانا چاہیے بین الاقوامی انسانی قانون پر عملدر آمد کو مخصوص نہیں کیا جاسکتا، غزہ میں پہنچنے والی امداد مکمل طور پر ناکافی ہے۔

    غزہ پر بدترین حملوں کے بعد جنوبی امریکی ملک بولیویا نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کردیئے ہیں،بولیویا پہلا لاطینی امریکی ملک بن گیا ہے جس نے غزہ کی پٹی میں فوجی کارروائی پر اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کئے ہیںَ، بولیویا کی صدارتی ہاؤس کی وزیر ماریا نیلا پرادا نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ وہ بولیویا کی کثیر قومی ریاست کے طور پر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کے اپنے فیصلے سے آگاہ کررہے ہیں

    دوسری جانب حماس کا کہنا ہے کہ غزہ کے پناہ گزینوں کے کیمپ جبالیا پر اسرائیلی حملے میں 7 یرغمالی ہلاک ہوگئے ہیں، جن میں تین غیر ملکی پاسپورٹ رکھنے والے بھی شامل ہیں،حماس نے اب تک 239 قیدیوں میں سے 4 یرغمالیوں کو رہا کردیا ہے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

  • 24 ویں روز بھی اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری،ایک اور مسجد شہید

    24 ویں روز بھی اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری،ایک اور مسجد شہید

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ پر حملہ کیا، اسرائیلی بمباری آج بھی جاری ہے، 24 دن گزر چکے ، اسرائیل نے غزہ کو کھنڈرات بنا دیا، عمارتیں ملیا میٹ ہو گئیں، مساجد شہید ہو گئیں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں پر بمباری کی گئی، ہر طرف لاشوں کے ڈھیر، زخمیوں کی آہ و بکا، قبرستان بھر گئے لیکن اسرائیل امریکی شہہ کی وجہ سے بمباری سے باز نہیں آ رہا.

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں ہزاروں اموات ہو چکی ہیں، بچے، خواتین بھی مر رہے ہیں،7 اکتوبر سے اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 8 ہزار، زخمیوں کی 20 ہزار تک جا پہنچی ہے، کھانے پینے کی اشیاء ختم ہو چکی ہیں، بھوک کی وجہ سے خواتین، بچے نڈھال ہو چکے، تاہم اسرائیل بمباری روکنے کا نام نہیں لے رہا.گزشتہ روز اسرائیل نے دیر البلا کی مسجد بلال بن رباح بمباری کر کے شہید کر دی، مسجد کے ساتھ والے مکانات جہاں بے گھر افراد مقیم تھے وہ بھی ملیا میٹ ہو گئے،غزہ کے سب سے بڑے ہسپتال الشفاپر بھی بمباری کی گئی،

    حماس نے اسرائیلی فوج کا زمینی حملہ پسپا کر دیا
    اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس نے ٹینکوں کے ذریعے غزہ میں زمینی کاروائی کی ہے تاہم حماس کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج کا زمینی حملہ پسپا کر دیا ہے،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ شہر کے نواح میں پہنچ کر اہم راستے بند کر دیئے تھے،اسرائیلی فوج کے ٹینک صلاح الدین سٹریٹ تک جا پہنچے تھے ،اس مقام پر شدید جھڑپ ہوئی، ایک مقامی شہری نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی ٹینک ہر گزرنے والی گاڑی کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے،

    غزہ میں حماس رہنما کا کہنا ہے کہ اسرائیلی ٹینک غزہ کے نواح سے جا چکے ہیں، حماس نے بھر پور جوابی کاروائی کی ہے،اسرائیل کو غزہ میں زمینی پیشرفت کے حوالے سے ابھی تک مایوسی کا ہی سامنا کرنا پڑا ہے،صلاح الدین سٹریٹ میں چند ٹینک پہنچے تھے جن کو بھگا دیا گیا ہے،اسوقت وہاں کوئی ٹینک موجود نہیں اور شہری آمدورفت معمول کے مطابق ہو رہی ہے،

    ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز کے مطابق اسپتال زخمیوں سے اور مردہ خانے لاشوں سے بھرے پڑے ہیں، شمالی غزہ کا علاقہ ملیا میٹ ہوچکا ہے،غزہ میں اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے ایک روز پہلے دنیا میں آنے والا بچہ بھی شہید ہوگیا ہے

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے 33 امدادی سامان کے ٹرک رفاہ کراسنگ سے غزہ میں داخل ہوئے ہیں،امدادی ٹرکوں میں پانی، خوراک اور ادویات اقوام متحدہ کی جانب سے پہنچائی گئی ہیں،اقوام متحدہ حکام کے مطابق 21 اکتوبر کے بعد یہ امدادی ٹرکوں کی سب سے بڑی کھیپ ہے جو آج داخل ہوئی، اس سےقبل 20 ٹرک غزہ پہنچے تھے،

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، اسرائیلی فوج غزہ کے عام شہریوں پر حملے کر رہی ہے، اسرائیل غزہ پر حملے فی الفور بند کرے .اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک،امداد پہنچائی جائے،

    فلسطینی اسلامی جہاد گروپ کے مسلح ونگ القدس بریگیڈ نے اعلان کیا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ میں ان کے دو جنگجو شہید ہوگئے ہیں، اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگجو اتوار کی شام شمالی اسرائیل کے علاقے ہنیتا میں آپریشن کرتے ہوئے شہید کیے گئے ہیں۔

    امریکی نائب صدر کمالا حارث کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا اسرائیل یا محصور غزہ کی پٹی میں امریکی فوجی بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، سی بی ایس کو ایک انٹرویو دیتے کمالا حارث نے کہا کہ اسرائیل کو شہریوں کا تحفظ کرنا چائیے، کمالا حارث کا مزید کا کہنا ہے کہ زیادہ تر اندازوں کے مطابق کم از کم 1,400 اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں اور اسرائیل بغیر کسی سوال کے اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔

    جینین میں حالات مزید کشیدہ،فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک چار افراد شہید اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں جبکہ چھاپے کے نتیجے میں جینین پناہ گزین کیمپ میں بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات بھی ہیں، فلسطینی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے کارروائی میں ڈرون کا استعمال کیا ہے۔

    غزہ حکومت کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں 47 مساجد اور 7 گرجا گھر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ غزہ کے میڈیا آفس کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں 203 اسکول اور 80 سرکاری دفاتر کو بھی تباہ کیا گیا ہے، حکومتی دفتر کے ڈائریکٹر سلامہ معروف نے ٖغیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ "بڑے پیمانے پر اسرائیلی بمباری سے 220,000 مکانات کو نقصان پہنچا ہے اور 32,000 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں ہیں، اس سے قبل غزہ میں حکومت کے میڈیا آفس نے اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی فوج نے ایک آرتھوڈوکس ثقافتی مرکز اور ایک اسکول پر بمباری کرنے کی دھمکی دی ہے جہاں 1500 سے زیادہ بے گھر لوگ پناہ لے رہے ہیں۔

    غزہ میں پیدائش سے پہلے موت کے سرٹیفیکیٹ بٹنے لگے شہدا میں ایک دن کے بچوں کی بڑی تعداد شامل جن کا برتھ سرٹیفکیٹ تو نہ بن سکا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری ہو گیا ،سینکڑوں فرشتوں کو دنیا میں آنے سے پہلے ہی جنت مل گئی جن کا بھی نام رکھنا تھا والدین انہیں بے نام دفنانے پر مجبور اسرائیلی بمباری سے غزہ میں شہید ہونے والے بچوں کی تعداد 3400 سے تجاوز کر گئی اسپتالوں میں نو مولود بچوں اور ماں کی جان بچانے کے لیے وسائل ختم ہونے لگے ہزاروں معصوم زندگیاں داؤ پر لگ گئیں

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری،جنگ بندی کی اپیلیں بے سود

    اسرائیل کے غزہ پر حملے جاری،جنگ بندی کی اپیلیں بے سود

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، 22 دن گزر گئے ، آٹھ ہزار سے زائدغزہ میں اموات ہو چکی ہیں،بچے، خواتین بھی مرنے والوں میں شامل ہیں، اسرائیل بمباری روکنے کا نام نہیں لے رہا، عالمی دنیا احتجاج کر رہی، جنگ بندی کی اپیلیں کر رہی لیکن اسرائیل نے حملے مسلسل جاری رکھے ہوئے ہیں.

    اسرائیل کی زمینی فوج غزہ میں داخل ہو چکی ہے تو وہیں اسرائیلی بحریہ کی بھی غزہ پر بمباری جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں مزید تین سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیںَ،حملوں میں اقوام متحدہ ریلیف ایجنسی کے اب تک 53 اہلکار مارے جا چکے ہیں،اسرائیلی حملوں میں ایک دن میں اقوام متحدہ ریلیف ایجنسی کے 15 افراد کی موت ہوئی،21 ہزار سے زائد شہری اسرائیلی حملوں میں زخمی ہو چکے ہیں،

    اسرائیلی حملوں کو ناکام بنایا، حماس کا دعویٰ
    حماس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی فوج کا تین طرفہ حملہ ناکام بناتے ہوئے اسرائیلی فوج کو بھاری نقصان پہنچایا ہے،حماس کے رہنما علی براکہ کا کہنا تھا کہ رات بھر اسرائیلی فوج نے غزہ پر زمینی حملے کے ساتھ ساتھ بمباری بھی کی تاہم حماس نے اسرائیلی حملے کو ناکام بنایا،مقابلے میں دشمن فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اسرائیلی حملے کے مقابلے میں حماس نے روسی ساختہ ٹینک شکن میزائل اور مقامی تیار کردہ یاسین میزائل استعمال کئے،

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رات بھر کی زمینی دراندازی کے دوران اسرائیلی فورسز کے درمیان کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، انہوں نے مزید کہا کہ افواج ‘اب بھی میدان میں ہیں.

    اسرائیلی میڈیا چینل 14 سے بات کرتے ہوئے، ایک فوجی تجزیہ کار نے کہا کہ "بظاہر غزہ میں پہلا فیلڈ ٹیسٹ مایوس کن تھا۔ نیتن یاہو حکومت جوئے کی میز پر فوجیوں کی جانوں پر شرط لگا رہی ہے،

    گزشتہ شب اسرائیل نے غزہ پر حملہ کرتے ہوئے سب سے پہلے غزہ کو بڑی حد تک دنیا سے کاٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اب تک کی شدید ترین بمباری شروع ہو ئی،اس کے بعد اسرائیلی فوج نے یقینی طور پر زمینی کارروائی کا آغاز کیا۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے رات اعلان کیا کہ لینڈ فورسز ایک فعال کردار ادا کریں گی اور اندر بھرپور خدمات انجام دیں گی، اسرائیلی ذرائع نے فوجیوں سے بھرے ٹرکوں کے بارڈر کی طرف جانے کے بارے میں لکھا اور موساد نے پیغامات اور تصاویر بھی شائع کیں، جن میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ غزہ کے اندر ٹینک ڈیوٹی پر ہیں۔ اور پھر علاقے سے مختلف اطلاعات آنا شروع ہو گئیں۔ اطلاعات موصول ہوئیں کہ اسرائیلی ٹینک جن کی تعداد 1 سے 30 تک تھی، تباہ ہو گئے۔

    حماس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسرائیل ایک جال میں پھنس گیا، ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، اور یہاں تک کہ اس کے کچھ فوجی پکڑے بھی گئے۔حماس کے رہنماؤں نے بھی ان کی تصدیق کرتے ہوئے پیغامات شائع کی،الجزیرہ اور اے ایف پی غزہ سے مسلسل براہ راست نشریات کر سکتے ہیں لیکن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ نہیں کر پا رہے، القسام بریگیڈز نے بار بار زمینی، سمندری اور فضائی بمباری کے باوجود سرحد پار پیش قدمی کی کوشش کرنے والی اسرائیلی قابض افواج کو پسپا کردیا ہے

    فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرہ
    فلسطینیوں پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نیویارک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، نیویار کے گرینڈ سنٹر ل سٹیشن کو مظاہرین نے بند کر دیا ، سینکڑوں شہری گرینڈ سنٹرل سٹیشن کے پاس جمع ہوئے اور اسرائیلی بربریت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج جیوش وائس فار پیس نے کیا، مظاہرین نے احتجاج کے دوران کالے رنگ کی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں، مظاہرین نے جنگ بند ی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ کو بند کیا جائے، مظاہرین نے فلسطین کی آزادی کے لئے پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے، مظاہرین نے مزید ہتھیار نہیں، مزید جنگ نہیں کےنعرے بھی لگائے،

    اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قراردادمنظور
    دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قراردادمنظور کر لی گئی،اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں اردن نے 22 عرب ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے جنگ بندی کی قراردادپیش کی،قرار داد کے حق میں 195 میں سے 120 ووٹ حق میں آئے، اراکین نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا،فرانس نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، اسرائیل، امریکا،آسٹریا سمیت 14 اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی، جرمنی، برطانیہ، اٹلی سمیت 45 اراکین غیر حاضر تھے،

    جنرل اسمبلی میں جنگ بندی قرارداد منظور ہونے پر اسرائیل سیخ پا
    اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں غزہ میں جنگ بندی کے حوالہ سے قرار داد منظور ہوئی ، اس قرارداد میں حماس کا ذکر نہیں تھا جس پر اسرائیل سیخ پا ہو گیا، اسرائیل نے جنگ بندی کی قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے دوبارہ دھمکیاں دیں، اسرائیلی مندوب گیلاد ایردن کا کہنا تھا کہ آج کا دن اقوام متحدہ کے لئے ایک بدنما دھبہ ہے،اقوام متحدہ کی کوئی قانونی حیثیت باقی نہیں رہی، اسرائیل حماس کے خلاف ہر حد تک جائے گا اور ہم اپنا دفاع جاری رکھیں گے،جنرل اسمبلی اجلاس میں امریکی نمائندے نے بھی ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں سا ت اکتوبر کے حماس کے حملے کا جہاں ذکر نہیں وہیں یرغمالی کا لفظ بھی قرارداد سے غائب ہے،

    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اسرائیلی حملہ قابل مذمت ہے، اسرائیلی فوج غزہ کے عام شہریوں پر حملے کر رہی ہے، اسرائیل غزہ پر حملے فی الفور بند کرے .اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر خوراک،امداد پہنچائی جائے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    غزہ میں 50 ہزار حاملہ خواتین،خوراک،ادویات کی کمی کا شکار

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری مسلسل جاری ہے، اسرائیلی حملوں میں سات ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 19 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں،مرنیوالوں میں تین ہزار سے زائد بچے اور 1700 سے زائد خواتین بھی شامل ہیں،

    اسرائیلی بمباری سے عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہیں جن کو نکالنے کا کام جاری ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق دو ہزار کے قریب شہری لاپتہ ہیں، امکان ہے وہ ملبے تلے دبے ہوں گے.اسرائیل نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، گزشتہ شب حملوں میں مزید 21 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا،غزہ کے الزیتون محلے میں چار منزلہ مکان پر بمباری سے 10 افراد کی موت ہوئی،خان یونس مہاجر کیمپ میں گھر پر بمباری سے تین شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے،

    اسرائیل جنگ بندی کریگا تو اسرائیلی شہری رہا کریں گے، حماس
    حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کو غزہ کے ساتھ جنگ بندی کے لئے مشروط کر دیا،خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق روسی دارالحکومت ماسکو میں حماس کا وفد موجود ہے، وفد میں شامل ابو حامد کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیدیوں کو اسوقت تک رہا نہیں کیا جا سکتا جب تک اسرائیل جنگ بندی نہ کرے،اسرائیلی شہریوں کو مختلف گروپس لے کر آئے ہیں، سب اسرائیلی شہریوں کو ڈھونڈنے میں بھی وقت لگے گا

    حماس کا ایک وفد 26 اکتوبر کو روسی دارالحکومت ماسکو پہنچا تھا، ابو حامد کا کہنا 200 سے زائد اسرائیلی شہریوں کو پکڑا گیا ہے جن میں فوجی بھی شامل ہیں،اسرائیلی شہری غزہ میں مختلف مقامات پر قید ہیں، ہمیں انکو تلاش کرنا ہے اسکے بعد رہائی ہو گی،اگر بمباری جاری رہی تو تلاش نہیں ہو سکتی، قیدیوں کی تلاش کے لئے امن کی ضرورت ہے،ابو حامد نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی بمباری سے اب تک 50 قیدی جو اسرائیلی شہری تھے ہلاک ہو چکے ہیں، اگر اسرائیل نے بمباری نہ روکی تو دیگر کی ہلاکتوں کا بھی خدشہ ہے،حماس نے اب تک چار قیدیوں کو رہا کیا ہے،

    تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس کے راکٹ حملے
    دوسری جانب اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور دیگر شہروں پر حماس نے راکٹ حملے کیے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس نے پہلی بارمسلسل تین دن تک کئی بار تل ابیب کو نشانہ بنایاہے،حماس کے حملوں سے تل ابیب، یافا اور دیگر اسرائیلی شہروں میں تباہی ہوئی، حماس نے حملے اسوقت کئے جب اسرائیل عسکری کونسل کا اجلاس جاری تھا، حملوں کی وجہ سے اجلاس کو تھوڑی دیر کے لئے روکنا پڑا،القسام بریگیڈ کا کہنا ہے کہ اسرائیل پر تازہ حملے اسرائیلی بمباری کا جواب ہیں.

    اسرائیلی بمباری سے ایک طرف اموات ہیں تو دوسری طرف جو لوگ زندہ ہیں انکی زندگیاں بھی اجیرن بن چکی ہیں، خوراک، پانی کی قلت،ادویات کی کمی بڑے مسائل ہیں تو وہیں کسی بھی وقت اسرائیلی بمباری کا خطرہ بھی سر پر منڈلاتا رہتا ہے،لاکھوں لوگ کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں، ان میں خواتین، بوڑھے بچے سب شامل ہیں، ریلیف کیمپوں میں خواتین کی حالت بارے الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ میں کہا گہا ہے کہ خواتین زیادہ پریشان ہیں، غزہ میں 50 ہزار سے زائد حاملہ خواتین ہیں جنہیں علاج، خوراک کی سہولیات میسر نہیں،حاملہ خواتین زیادہ تکلیف اور خوف میں رہتی ہیں، گھر ملیامیٹ ہو چکے ، ریلیف کیمپوں میں انکو وہ سہولیات نہیں مل رہیں جو ملنی چاہئے،33 سالہ خاتون نیوین الباری جو حاملہ ہیں اور ماں بننے والی ہیں، وہ شدید پریشان ہیں، مسلسل بمباری کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہیں کہ انکے بچے کا کیا بنے گا، انکی کمر اور پیٹ میں درد رہتا ہے مگر کوئی انکا علاج کروانے والا نہیں، وہ کیمپ میں رہ کر کسی کو بتا بھی نہیں سکتیں،نیوین کا کہنا ہے کہ میں صرف اس امید سے جی رہی ہوں کہ میرا بچہ محفوظ رہے،نیوین کے مطابق اسے ہائی بلڈ پریشر اور شوگر ہے تاہم یہاں اسے ادویات نہیں مل رہیں.اسرائیلی حملوں سے قبل وہ باقاعدگی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس جاتی تھیں اور اپنا علاج کروا رہی تھیں لیکن اب تو اپنے خاندان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے، خاندان کے باقی افراد کہاں ہیں کس حال میں ہیں وہ کچھ نہیں جانتی،

    میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی ہر طرف تو بمباری ہو رہی،نیوین
    غزہ کے ریلیف کیمپ میں زندگی گزارے والی نیوین کہتی ہیں کہ میں سوچتی ہوں بچے کو کیسے اور کہاں جنم دوں گی، کسی بھی وقت اور کہیں بھی بمباری ہو رہی ہے، کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں،ہمیں نہیں معلوم کب کہاں بم گرے اور سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے،میں یقینی بنانے کی کوشش کروں گی کہ میں اور میرا بچہ محفوظ رہے،

    الجزیرہ کے مطابق نیوین اکیلی اس مسئلے کا شکار نہیں بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں 50 ہزار حاملہ خواتین ہیں، کئی ایسی ہیں جو حمل کے آخری ماہ میں ہیں اور انکا باقاعدگی سے معائنہ بھی نہیں کیا جا رہا، اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کے مطابق تقریبا 50 ہزار حاملہ خواتین علاج معالجہ اور خوراک کی کمی کا شکار ہیں،

    نیوین کا کہنا ہے کہ زخمیوں لاشوں کو دیکھتی ہوں تو خوفزدہ ہو جاتی ہوں، روز دعا کرتی ہوں کہ جنگ ختم ہو جائے تا کہ میرے دنیا میں آنے والے بچے کو میزائل حملوں سے بچایا جا سکے،خان یونس میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے شعبہ امراض نسواں کے میڈیکل کنسلٹنٹ ولید ابو حاتب کے مطابق نقل مکانی کی وجہ سے صحت کے مراکز تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

  • غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    غزہ پر حملے اور امت مسلمہ کی صرف”مذمت”، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مسئلے کو حل کروانے کے لئے اقوام متحدہ ، سلامتی کونسل ،عرب لیگ ، اقوام عالم ،او آئی اسی اور مسلم ممالک نے کیا کردار ادا کیا ؟ جب بھی بڑی طاقتوں کے درمیان تنائو بڑھتا ہے تو یہ تمام بین الاقوامی ادارے مفلوج کیوں ہو جاتے ہیں ۔ یہ جانتے ہوئے کہ جنگ کسی خطے پر ہو انسانیت کا خون بہتا ہے بے گناہ شہری مارے جاتے ہیں۔شہری آبادیاں اُجڑجاتی ہیں مخلوق خدا جائے پناہ تلاش کرتی ہے۔ لیکن کیا کہا جائے دنیا اپنے مفادات ، اپنی طاقت، اپنے اقتدار بچانے کے لئے ایک صدیوں پُرانا لفظ مذمت کرتی ہے اپنا کردار ادا نہیں کرتی۔

    دنیا کے تمام انسان آدم کی اولاد ہیں اور خدا کی مخلوق ہیں ۔ انسانیت کا رشتہ سب سے اہم رشتہ ہے اس رشتے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ۔ انسانیت کا رشتہ بہت بڑا خزانہ ہے اسے لباس ، مذہب یا قومیت میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 سے اب تک اسرائیل ڈیڑھ لاکھ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے۔ جس میں 33 ہزار تعداد بچوں کی ہے۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے مقامی و ملکی اور عالمی سطح پر نہ مسلمانوں کی کوئی قیادت ہے اور نہ کوئی لائحہ عمل اور نہ اتحاد ہے ۔ مسلمان ممالک ہر شعبے ، ہر میدان میں مفلوج نظر آتا ہے ۔تاہم دعائوں اور بدعائوں سے حملہ آور ہے۔

    ملکی سیاست اور جمہوریت پر کیا تبصرہ کیا جائے ہمارے ملک میں جمہوریت کبھی آئیڈیل رہی نہیں۔ پاکستان کی سرحدیں پاک فوج اور پاک فوج کے جملہ اداروں کی وجہ سے محفوظ ہیں ۔ سیاستدانوں کی وجہ سے نہیں تاہم جس جمہوریت اور الیکشن آئین اور قانون کی باتیں ہو رہی ہیں پاکستان کو اس وقت ایک ہوشیار ،ذہین اور چالاک حکمران کی ضرورت ہے جو اپنی منفرد حیثیت سے ملک کے مسائل حل کر سکے۔

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

     

  • الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    الاہلی ہسپتال پر حملے کا اسرائیل کا حماس پر الزام،امریکی اخبار نے اسرائیلی جھوٹ کو کیا بے نقاب

    غزہ کے ہسپتال پر اسرائیلی حملے کے بعد اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے نہیں بلکہ اسلامی جہاد نے حملہ کیا، اسرائیلی دعوے کو دنیا نے مسترد کیا تھا ، اب نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ہسپتال الاہلی پر حملہ اسرائیل نے ہی کیا تھا،اسرائیل حماس اور اسلامی جہا د پر صرف الزام لگا رہاہے، حملہ اسرائیل نےہی کیا تھا

    غزہ میں موجود الاہلی ہسپتال پر اسرائیلی حملے میں آٹھ سو کے قریب شہری شہید ہو گئے تھے، اس حملے کا ذمہ داراسرائیل اور امریکی صدر نے حماس پر ڈالا تھا،اسرائیل نے اس حملے کو چھپانے کے لئے ویڈیو اور آڈیو کالز بھی جاری کی تھیں تا ہم اب امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے اسرائیلی جھوٹ کو بے نقاب کر دیا ہے،امریکی اخبار کے مطابق انکی ٹیم نے الاہلی ہسپتال کا دورہ کیا اور وہاں میزائل حملے سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لیا، دوران تحقیقات سامنے آیا کہ ہسپتال کو غزہ کی بجائے اسرائیل سے نشانہ بنایا گیا ہے،

    ہسپتال پر بمباری کے بعد غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے ڈاکٹر یوسف ابوریش نے ہسپتال میں پریس کانفرنس کی ،پریس کانفرنس کی تصاویر اور ویڈیو سامنے آئی ہیں، اس پریس کانفرنس میں میڈیا کی بجائے، انسانی لاشوں کا ڈھیر ان کے سامنے ہے،ڈائس کے ساتھ ایک والد اپنے بیٹے کی لاش کو اٹھا کر دنیا کے سامنے بےبسی کی تصویر بنا ہوا ہے،ڈاکٹر ود آؤٹ بارڈرز کے ڈاکٹر غسان کا کہنا تھا کہ ہم ہسپتال میں سرجری کر رہے تھے کہ اچانک زوردار دھماکہ ہوا،یہ ایک قتل عام ہے،

    ہسپتال حملہ،اسرائیل کا انکار،اسلامک جہاد کو ذمہ دار قرار دے دیا

    وائرل ویڈیو،حماس کے ہاتھوں گاڑی میں بندھی یرغمال لڑکی کون؟

    اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی جاری ہے. فلسطینی صحافی

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ