Baaghi TV

Tag: حماس

  • اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    اسرائیلی حملے میں صحافی کے خاندان کی موت

    سات اکتوبر کر حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری سے آٹھ سو کے قریب شہریوں کی موت ہو ئی ہے، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے الجزیرہ ٹی وی کے بیوروچیف کا خاندان بھی چل بسا، وائل الدوحاح کا خاندان غزہ میں مقیم تھا،اسرائیلی بمباری سے صحافی کی بیوی، بیٹا اور بیٹی شہید ہو گئے، الجزیرہ چینل کے نمائندے کا خاندان النصیریہ کے پناہ گزین کیمپ میں موجود تھا،صحافی کی شہیدبیٹی کو گود میں اٹھائے ہسپتال سے نکلنے او ر بیٹے کی لا ش کو دیکھنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں

    دوسری جانب حماس ے اسرائیلی شہر ایلات میں اسرائیلی فوجی کیمپ پر حملے کئے ہیںَ، حماس کے القسام بریگیڈ کی جانب سے راکٹ کے ذریعے غزہ سے 220 کلو میٹر دور واقع ایلات میں اسرائیل کی فوجی چھاؤنی کو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا

    امریکی ایوان نمائندگان نے حماس کیخلاف جنگ میں اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کی قرارداد منظور کرلی ہے، اسرائیل کے حق میں امریکی ایوان نمائندگان میں 10 ڈیموکریٹس کے علاوہ تمام ارکان نے ووٹ دیا، پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل حماس اور دیگر مزاحمتی تنظیموں کی جانب سے شروع کی گئی جنگ میں اپنا دفاع کر رہا ہے اس لیے اسرائیل کےساتھ کھڑے ہیں، امریکی صدر جوبائیڈن، امریکی وزیر دفاع، امریکی سیکرٹری خارجہ اسرائیل سے یکجہتی کے لئے اسرائیل کا دورہ بھی کر چکے ہیں،

    دنیا حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ کو لے کر جنگ بندی پر زور دے رہی ہے تا ہم اسرائیل مسلسل حملے جاری رکھے ہوئے ہے، اسرائیل نے ایک بار پھر فلسطینیوں کو غزہ خالی کرنے کی دھمکی دی ہے،اسرائیلی وزیراعظم نے ایک بیان میں دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر زمینی حملے کا وقت اتفاق رائے سے طے کیا جائے گا یرغمالیوں کو واپس لانے کیلئے ہرممکن اقدامات کر رہے ہیں

    دوسری جانب اقوام متحدہ، امریکا اور کینیڈا نے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور پٹی غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی کمی سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی محفوظ ترسیل کی اجازت دی جا سکے

    اسرائیل ،حماس جنگ، پاکستان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں وسیع اور زیادہ خطرناک تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہےپاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    اسرائیلی بمباری،چھ ہزار کے قریب اموات،23 سو سے زائد بچے شہید

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مسلسل بمباری جاری ہے، اسرائیلی بمباری سے چھ ہزار سے زائد شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ 15 ہزار کے قریب زخمی ہیں، اسرائیلی بمباری سے 2300 سے زائد بچے بھی شہید ہو ئے ہیں، مرنیوالوں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے،

    اسرائیلی فوج نے ہسپتال، سکولوں، مساجد، چرچ کو بھی نشانہ بنایا، پناہ گزینوں کے کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا، غزہ میں عمارتیں ملیامیٹ ہو چکی ہیں، ملبے تلے ابھی تک لاشیں دبی جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے،اسرائیلی فوج نے جنین کیمپ کے قریب گزشتہ روز بمباری کی جس سے چار فلسطینی شہید ہوئے، جبکہ 20 زخمی ہوئے،حماس کے حملے میں کئی اسرائیلی فوجی زخمی ہوئے، تین اسرائیلی فوج کی گاڑیوں کو نقصان پہنچا، حماس نے حملہ اس وقت کیا جب اسرائیلی فوج نے جنین کے قریب حملہ کیا،اسرائیلی فوج نےدعویٰ کیاہے کہ اس نے دو افراد کو گولی ماری ہے ،

    فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی بمباری سے ہونیوالی اموات کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ اب تک چھ ہزار 55 شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے بعد لاکھوں فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیںَ،غزہ میں 6 لاکھ کے قریب بے گھر افراد نے عالمی ادارے کے مراکز میں پناہ لی ہوئی ہے

    غزہ کے ہسپتالوں میں لاشوں کے ڈھیر،زخمیوں کی آہ و بکا،پھر بھی طبی عملے کے حوصلے بلند
    اسرائیلی بمباری کے بعد غزہ میں ہسپتالیں تباہ ہو چکی ہیں تو وہیں جو باقی رہ گئی ہیں ان میں ضروری طبی سامان کی قلت ہو گئی ہے، بمباری سے شہید و زخمیوں کو ہسپتال لایا جاتا ہے تا ہم ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ چکی ہے،اب تک فلسطینی ہسپتالوں میں 18 ہزار سے زائد شہریوں کو زخمی حالت میں لایا جا کا ہے،10 سے زائد ہسپتال بجلی کی بندش اور ادویات ختم ہونے کی وجہ سے بند ہو چکے ہیں،جو چل رہے ہیں ان میں ادویات کی قلت ہو چکی ہے،غزہ میں موجود ناصر ہسپتال نے ہنگامی منصوبے پر عمل شروع کرتے ہوئے صرف انتہائی نگہداشت کے مریضوں کو داخل کرنا شروع کیا ہے، معمولی زخموں والے مریضوں کو فوری طبی امداد کے بعد بھیج دیا جاتا ہے

    ہسپتالوں میں زخمیوں، لاشوں کے ڈھیر، پھر بھی طبی عملے کا حوصلہ بلند ہے، ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ گیت گا رہے ہیں،طبی عملے کا کہنا ہے کہ ہم زخمیوں کوچھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے،

    اسرائیل کی شام میں بمباری،آٹھ شامی فوجی ہلاک ہو گئے
    اسرائیل باز نہیں آ رہا، غزہ پر بمباری کے بعد اب شام میں بھی فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے ہیں جس میں آٹھ شامی فوجی مارے گئے ہیں، شامی خبر رساں ادارے نے فوجی ذرائع کا حوالہ دے کر تصدیق کی کہ اسرائیلی حملوں میں ڈیرہ شہر کے قریب فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا،خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی حملوں کو اسرائیلی جارحیت کہا گیا، اس حملے میں آٹھ فوجیوں کی ہلاکت اور سات زخمی ہوئے ہیں.گزشتہ شب اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسکے طیاروں نے شامی فوج کے اڈوں کو نشانہ بنایا

    israeli qaidi

    حماس کے اہلکاروں نے ہمارا خیال رکھا، برتاؤ اچھا تھا، رہا ہونے والی اسرائیلی خواتین
    حماس کے جانب سے رہا کی جانے والی اسرائیلی دو خواتین نے دوران قید حماس کے رویئے کی تعریف کی ہے، خواتین کا کہنا تھا کہ حماس نے ہماری ضروریات کا خیال رکھا،حماس نے سات اکتوبر کو حملے کے وقت دو اسرائیلی خواتین کو بھی یرغمال بنایا تھا جس میں سے ایک کی عمر 85 برس تھی، دونوں خواتین کو حماس نے رہا کیا تو انہوں‌نے میڈیا سے بات کی،85 سالہ خاتون کا کہنا تھا کہ جب حماس کے اہلکاروں نے انہیں اغوا کیا اسوقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا تا ہم دوران حراست انکے ساتھ کوئی بدسلوکی نہیں کی گئی اور اچھا سلوک کیا گیا،لفشٹز نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس کے اہلکار انہیں غزہ لے کر گئے اور وہاں جا کر ایک سرنگ میں بند کیا،دوران حراست انہیں طبی امداد بھی فراہم کی جاتی رہی، انکی حفاظت پر مامور لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ لوگ قرآن پر یقین رکھتے ہیں اور انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گے،ایک ڈاکٹر روز ہمارا طبی معائنہ کرتا تھا، حماس کے اہلکار اس بات کا خیال رکھتے تھے کہ جو دوائیاں وہ اسرائیل میں لے رہے تھے قید میں بھی انہیں وہی دوائیاں ملیں

    حماس کی قید سے رہا ہونے والی خواتین کا کہنا تھا کہ دوران حراست انہیں شیمپو،کنڈیشنر وغیرہ بھی دیئے گئے، ہماری سب ضروریات کا خیال رکھا گیا،کھانے میں ہمیں بریڈ،پنیر، کھیرے دیئے گئے،حماس والوں کا رویہ نرم تھا، مجھے اور میرے ہم عمر ساتھیوں کو ہر دو یا تین دن بعد ڈاکٹر بھی دیکھنے آتا تھا،دوران قید ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی.

    دوسری جانب اقوام متحدہ، امریکا اور کینیڈا نے اسرائیل اور حماس کے مابین جنگ میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ محصور پٹی غزہ میں خوراک، پانی، ادویات اور بجلی کی کمی سے متاثرہ شہریوں تک امداد کی محفوظ ترسیل کی اجازت دی جا سکے

    دبئی کی ایئر لائن کی اسرائیل کے لئے پروازیں منسوخ
    اسرائیل اور حماس میں جاری لڑائی طوالت اختیار کرتی جا رہی ہے، جنگ بندی کی تمام کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہے، خدشہ ہے یہ جنگ باقی علاقوں میں بھی پھیلے گی، اسی جنگ کی طوالت کو لے کر دبئی کی ایئر لائن نے تل ابیب کے لئے اپنی پروازیں معطل کی ہیں، ایئر لائن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں، موجودہ صورتحال میں پراوزیں خطرے سے خالی نہیں، متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں تا ہم شہریوں، عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے اسی لئے اسرائیل کے لئے تمام دو طرفہ پروازیں 14 نومبر تک منسوخ کی جا تی ہیں، 14 نومبر کو پروازوں بارے دوبارہ فیصلہ کیا جائے گا

    اسرائیل حماس جنگ، اب انسانیت کہاں گئی؟امریکی رکن کانگریس الہان عمر
    اسرائیلی بمباری پر امریکی بھی بول رہے ہیں،امریکی رکن کانگریس الہان عمر جو مسلمان ہیں نے امریکی صدر پر شدید غصت کا اظہار کیا ہے، الہان عمر کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن بتائیں حماس اور اسرائیل جنگ میں انسانیت کہاں ہے؟لاشوں کے ڈھیر سامنے ہیں، انکودیکھ کر کیسے دوستیاں برقرار رکھی جا سکتی ہیں،الہان عمر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کو بہت نقصان پہنچایا، امریکہ نے افغانستان میں جتنی بمباری ایک برس میں کی تھی اسرائیل نے دس دن میں غزہ پر اتنی بمباری کی،اب آپ لوگوں کی ہمدردی کدھر گئی، کیا انسانیت مر گئی ہے،

    اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر فلسطینی اداکار گرفتار
    دوسری جانب اسرائیل کے خلاف پوسٹ کرنے پر اسرائیلی پولیس نے مشہور فلسطینی اداکارہ میسا عبدالہادی کو گرفتار کیا ہے، میسا نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی تھی جس میں حماس کی حمایت کی تھی، اسرائیلی پولیس نے یہ الزام عائد کیا،میسا کو نارتھ سے اسرائیلی پولیس نے گرفتار کیا ہے، حکام کے مطابق میسا نے حماس کے حق میں پوسٹیں کیں،میسا نے اسرائیل اور غزہ کے مابین ٹوٹی ہوئی باڑ کی تصویر پوسٹ کی تھی جس کا عنوان رکھا گیا تھا چلو برلن کے انداز میں چلیں، واضح رہے کہ اسرائیل سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کر رہا ہے اور اسرائیل کے خلاف یا حماس کی حمایت میں پوسٹیں کرنے والوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے

    اسرائیل ،حماس جنگ، پاکستان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
    اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم کا کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیاں وسیع اور زیادہ خطرناک تنازع کی صورت اختیار کر سکتی ہیں،اقوام متحدہ سلامتی کونسل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے منیر اکرم کا کہنا تھا کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہےپاکستان فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے، صورتحال کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اس تنازع کو بڑھاوا دے رہے ہیں،

    حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو امریکہ، اسرائیل سب نے یہ کہا تھا کہ حماس اکیلے یہ نہیں کر سکتا ایران اس حملے میں ملوث ہے تا ہم ایران کے اس حملے میں ملوث نہ ہونے کے شواہد ملنے پر اب امریکہ نے پھر ایران پر الزام لگانا شروع کر دیئے ہیں،امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایران پر الزام عائد کیا اور کہا کہ حماس اور حزب اللہ کو تہران کی حمایت حاصل ہے،امریکی وزیر خارجہ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ یہ جاری تنازع وسیع جنگ کی صورت اختیار کر سکتاہے،امریکی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا، لیکن اگر ایران یا اسکی پراکسیز نے امریکیوں پر کبھی حملہ کیا تو اس کو واشنگٹن پر حملہ کو تصور کریں گے.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • فلسطینی بچوں کے آنسوؤں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ،شہباز شریف

    فلسطینی بچوں کے آنسوؤں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ،شہباز شریف

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نےغزہ اور اسرائیلی حملوں سے متاثرہ فلسطینی علاقوں میں امدادی سامان بھجوانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جبر واستبداد اور ظلم کے نتیجے میں دوہرا انسانی المیہ جنم لے رہا ہے،اسلامی دنیا کی قیادت عالمی برادری کے ساتھ مل کر فلسطینیوں کی نسل کشی روکے ،فلسطین کربلا کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں پانی اور خوراک بند ہے، بے گناہ بچے، خواتین اور شہری قاتلوں کے نرغے میں ہیں ،بڑھتی بے حسی اور بے بسی دنیا کو سنگین نتائج کی طرف دھکیل رہی ہے ،انسانیت کو بچانے میں ناکامی دنیا کے امن کی ناکامی ہو گی ،ایک ایک لمحے کی تاخیر بے گناہوں کی شہادتوں کی صورت نکل رہی ہے ،محصور فلسطینیوں کے لئے امدادی قافلوں کو اجازت نہ ملنا عالمی اتھارٹی اور قانون کو مذاق بنا رہا ہے ،فلسطینی بچوں کے آنسوؤں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،مظلوموں کا لہو بہانے سے ناجائز ریاست کا وجود جائز نہیں ہو گا،جلد اس مسئلے کا حل نہ نکلا تو ناقابل تلافی نقصان ہو گا

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے تاحال جاری ہیں ،اسرائیلی حملوں میں پانچ ہزار دو سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں دو ہزار سے زائد سے بچے اور 1100 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی حملوں میں زخمیوں کی تعداد 15 ہزار سے بڑھ چکی ہے، غزہ میں آٹھ سو بچوں سمیت 15 سو افراد لاپتہ بھی ہے جن کے بارے میں امکان ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری کے بعد عمارتوں کی تباہی کے دوران ملبے تلے دب گئے ہوں گے

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی حملے،31 مساجد شہید،20 صحافیوں سمیت 5200 اموات

    اسرائیلی حملے،31 مساجد شہید،20 صحافیوں سمیت 5200 اموات

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملے تاحال جاری ہیں ،اسرائیلی حملوں میں پانچ ہزار دو سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں دو ہزار سے زائد سے بچے اور 1100 خواتین شامل ہیں، اسرائیلی حملوں میں زخمیوں کی تعداد 15 ہزار سے بڑھ چکی ہے، غزہ میں آٹھ سو بچوں سمیت 15 سو افراد لاپتہ بھی ہے جن کے بارے میں امکان ہے کہ وہ اسرائیلی بمباری کے بعد عمارتوں کی تباہی کے دوران ملبے تلے دب گئے ہوں گے

    اسرائیلی بمباری سے گزشتہ روز مزید 436 فلسطینی شہید ہوئے، الشاتی کیمپ پر بمباری کے نتیجے میں میں 182 بچوں اور درجنوں خواتین سمیت 436 فلسطینی شہیدہوئے، شیخ رضوان کے علاقے میں گھر کے باہر بم گرنے سے فلسطینی صحافی کی موت ہو گئی، اسرائیلی حملوں میں اب تک 20 صحافی مارے جا چکے ہیں،اسرائیل کی جانب سے مساجد پر بھی بمباری کی جا رہی ہے، اب تک 31 مساجد شہید کی جا چکی ہیں،

    اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس سارے یرغمالی افراد کو چھوڑ دے تب بھی غزہ کو ایندھن کی فراہمی نہیں ہونے دیں گے، اگر ایندھن جانے دیا تو حماس اسے جنگ کے لئے استعمال کرے گا، اقوام متحدہ کا اس بارے کہنا ہے کہ غزہ میں 14 دن سےبجلی بند ہے،جس کی وجہ سے ہسپتالوں میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،

    امریکی صدر جوبائیڈن نے جنگ بندی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حماس تمام یرغمالیوں کو رہا نہیں کرے گا، جنگ بندی نہیں ہو گی، امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی ہوئی تو اس کا فائدہ حماس اٹھائے گی،امریکی صدر جوبائیڈن کے جنگ بندی نہ ہونے کے بیان کے بعد غزہ کے باسیوں کے لئے امن کا قیام مشکل تر ہو گیا ہے،

    دوسری جانب اسرائیل سے اظہار یکجہتی کے لیے فرانسیسی صدر میکرون اسرائیل پہنچ گئے ہیں جہاں اسرائیلی وزیراعظم سے انہوں نے ملاقات کی اور اسرائیل کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا.

    سابق امریکی صدر بارک اوباما بھی اسرائیل کے غزہ پر حملوں کو دیکھ کر خاموش نہ رہ سکے، بارک اوباما کا کہنا تھا کہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کے کچھ اقدامات جیسے غزہ کے لیے خوراک اور پانی کی بندش فلسطینیوں کے رویوں کو نسلوں کے لیے سخت کر سکتے ہیں،بارک اوباما کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات سے اسرائیل اپنی بین الاقوامی حمایت کھو بیٹھے گا،ایسے اقدام سے الٹا ردعمل بھی آ سکتا ہے، تاہم بارک اوباما نے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا.

    دوسری جانب حماس نے مزید دو اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کیا ہے، رہا کی جانے والی دونوں خواتین ہیں جن کی عمر تقریبا 80 سال ہے، دونوں خواتین کو رفاہ کراسنگ سے اسرائیل منتقل کردیا گیا ، میڈیا رپورٹس کے مطابق خواتین کو رہا کیا گیا البتہ انکے شوہروں کو رہا نہیں کیا گیا وہ ابھی تک یرغمالیوں میں ہی شامل ہیں، اس سے قبل حماس نے ایک امریکی خاتون اور اسکی بیٹی کو رہا کیا تھا،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لائے گا !تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    ان دنوں مشرق وسطی تباہ کن جنگ کی لپیٹ میں ہے سنگین خطرہ ہے کہ یہ معرکہ جو بلاشبہ حق و باطل کا معرکہ ہے عالمی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ بظاہر یہ جنگ دو ہفتے قبل حماس کی جانب سے اسرائیل پر یک وقت 5 ہزار میزائل فائر کرنے سے شروع ہوئی مگر اس بات میں ہرگز دو آراء نہیں کہ حماس کا یہ رد عمل اسرائیل کے ان مظالم کے جواب میں سامنے آیا ہے جو اسرائیل نصف صدی سے فلسطین کے نہتے عوام پر ڈھا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب یہ طے ہے کہ اسرائیل کا وجود مشرق وسطی کے لیے خطرہ ہے تو کیا اقوام متحدہ کا فرض نہیں کہ وہ اس مسئلے کو اپنی ہی قراردادوں کے مطابق حل کرے تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو پرامن زندگی بسر کرنے کے مواقع میسر آسکیں ۔دوسری مسلمہ حقیقت یہ ہے کہ اب یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی اپیلوں یا مسلم ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے حل نہیں ہوگا اس کے لیے جارحیت کرنے والے کا ہاتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک پکڑنا ضروری ہے ۔ اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا وہ بگڑا بچہ ہے جس نے خطے کا امن دائو پر لگا رکھا ہے ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسرائیل کے مظالم پر دنیا خاموش ہے اگر کوئی بات کرتا بھی ہے تو وہ بے اثر رہتی ہے ان حالات میں حماس کی جانب سے جو قدم اٹھایا گیا وہ حالات کے تناظر میں ’’ تنگ آمد جنگ آمد ‘‘ کے مترادف ہے اس پر اسرائیل امریکہ اور برطانیہ کا سیخ پا ہونا کسی طور پر بھی درست نہیں۔ اگر امریکہ اور برطانیہ واقعی انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ مسئلہ فلسطین کو حل کرائیں تاکہ یہ خطہ جنگ کی لپیٹ میں آنے سے محفوظ رہ سکے ۔ یہاں یہ حقیقت بھی امریکہ اور برطانیہ کے پیش نظر رہنی چاہیے کہ اب اسرائیل مظالم کے نتیجے میں بہت سے ممالک فلسطینیوں کی حمایت میں کھڑے ہو چکے ہے ۔روس چین اور شمالی کوریا امریکہ کو خبردار کر چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی حمایت سے باز رہے ورنہ اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔

    ایران اور ترکی کا موقف اس حوالے سے پہلے ہی واضح ہے چنانچہ اب جب کہ یہ جنگ غزہ کے ساتھ ساتھ لبنان اور شام تک پھیل چکی ہے تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا ’’ شیطان ثلاثہ ‘‘ ہوش کے ناخن لے اور جارح اسرائیل کی حمایت کرنے کے بجائے اسے راہ راست پر لانے کے لیے مثبت اقدام اٹھائے ۔ سعودی عرب جو اس خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والا اہم ملک ہے وہ بھی حالیہ تناؤ کے نتیجے میں اسرائیل پر واضح کر چکا ہے کہ اسے فلسطینیوں کے لیے آزاد ریاست کے کام میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے ۔ چند ماہ قبل یہ خبر زبان زد عام تھی کہ مشرق وسطی کے بعض ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے جا رہے ہیں مگر حقائق نے اس خبر کو فیک ثابت کر دیا ہے ۔ اسرائیل کو جان لینا چاہئے کہ اگر اس نے تباہی کا راستہ اختیار کیا تو وہ محفوظ خود بھی نہیں رہ سکے گافلسطنینوں کی شہادتوں کے نتیجے میں وہ خود بھی کھنڈر بنے گا ۔ دنیا بھر کے امن پسندوں کو ا نہی حقائق کی روشنی میں جاری جنگ رکوانے اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ رہی بات ان کی دھمکیوں کی جو اسرائیل فلسطینی مسلمانوں کو دے رہا ۔۔۔۔تو فلسطینی مسلمان ان دھمکیوں سے گھبرانے والے نہیں۔ اسلئے کہ جو سرفروش سر پر کفن باندھ کر میدان جنگ میں اترتا ہے وہ موت سے نہیں ڈرتا۔ اسرائیل نے غزہ پر بمباری کر کے اسے کھنڈر بنا دیا ہے اگر فلسطینی شہادت کے مرتبے پر فائز ہو رہے ہیں تو محفوظ اسرائیل بھی نہیں۔

    البتہ فرق یہ پڑا ہے کہ اب بہت سے انصاف پسند یہودی بھی اسرائیل کی صیہونی لیڈر شپ کے خلاف سراپا احتجاج نظر آتے ہیں ۔ امریکہ میں ہزاروں یہودیوں نے اسرائیل کی جارح صیہونی لیڈر شپ کے خلاف جلوس نکالا ۔ مظاہرین واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت میں گھس گئے ۔ مظاہرین ’’ غزہ کو جینے دو کے نعرے لگارہے تھے ‘‘ مظاہرین نے جنگ بندکرنیکا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نام پر لڑائی نہ کریں، فلسطینیوں کی نسل کشی بندکریں۔مظاہرین نے صدر جوبائیڈن سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی طاقت فلسطینیوں پر مظالم رکوانے کے لیے استعمال کریں۔ان بدلتے ہوئے حالات کے تناظر میں صیہونی ریاست کی قیادت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر اس نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو مکمل تباہی ان کا مقدر بن سکتی ہے ۔

    یہاں ایک سوال انتہائی توجہ طلب ہے کہ نصف درجن کے قریب اہم ممالک کی جانب سے فلسطین کی حمایت کے باوجود پاکستان کھل کر کیوں نہیں بات کر رہا جبکہ پاکستان کو نہ صرف اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے بلکہ جب سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا ہے اسلام دشمن طاقتیں ہماری ایٹمی طاقت کو اسلامی بم کے نام سے تعبیر کرتی چلی آرہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کمزور اسلامی ممالک درپیش خطرات کے مواقع پر پاکستان کی طرف دیکھتے اور امید ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ہماری مدد کو آئے گا مگر جب ایسا نہیں ہوتا تو اس سے جہاں کمزور مسلم مبارک مایوسی کا شکار ہوتے ہیں وہاں اسلام دشمن طاقتیں بھی اظہار مسرت کرتی ہیں ۔ گو یہ حقیقت کے قریب صورتحال ہے مگر حقائق کو اس نظر سے دیکھنا چاہیے کہ اہل پاکستان کے دل اہل فلسطین کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ اہل پاکستان ہر مشکل وقت میں اہل فلسطین سے اظہار ہمدردی اور اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ چنانچہ اسرائیل کو کسی خوش فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہیے ۔ پاکستان میں عوامی سطح پر تو احتجاج ہوہی رہا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے صرف فلسطین پر مظالم کے خلاف ہی احتجاج نہیں ہو رہا بلکہ امید ہے کہ حکومت بھی اس حوالے سے ۔ اسلئے کہ پاکستان کا بچہ بچہ بانی پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناح کے ان فرمودات کو پیش نظر رکھتا ہے جو وہ فلسطین کو تسلیم نہ کرنے کے پس منظر میں کہہ چکے ہیں۔ قائد اعظم علی جناح نے ہمیشہ فلسطینی مسلمانوں کے موقف کی دوٹوک حمایت کی تھی اور اسرائیل کو جارح ملک قرار دیا تھا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو فلسطینی مسلمان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ معاشی مسائل اور سیاسی مصلحتیں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو اس حوالے سے چشم کشا رہنا چاہیے کہ امت مسلمہ جسم واحد کی مانند ہے اگر جسم کا ایک حصہ متاثر ہو تو پورا جسم درد محسوس کرتا ہے۔ مسئلہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا ہی نہیں عالم اسلام کا مسئلہ ہے لہذا پاکستان کو اسی تناظر میں فیصلہ کرنا ہوگا ۔اس حوالے سے کوئی بھی مصلحت وقتی تو ہو سکتی ہے مستقل نہیں ۔ جہاں تک ہمارے ہاں درپردہ اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بات ہے تو یہ عناصر آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ان عناصر کو جان لینا چاہئے کہ اگر یہ اپنی مذموم روش سے باز نہ آئے تو انھیں عوام کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرق وسطی کے لمحہ بے لمحہ بدلتے حالات عالم اسلام کو دعوت فکر دے رہے ہیں کہ وہ حق و باطل کے اس معرکہ میں متحد ہو جائیں اگر قبلہ اول کی آزادی کے لیے فیصلہ کن قدم نہ اٹھایا گیا تو پھر گزرا وقت ہاتھ نہیں آئے گا۔ غزہ کے محصور مسلمان مزید ظلم برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ غزہ سے اشیائے ضرورت اور ادویات تک ختم ہو چکی ہیں۔ اہل غزہ اس وقت مادی امداد کے ساتھ ساتھ افرادی اور عسکری امداد کے بھی منتظر ہیں ۔ ان حالات میں امت مسلمہ کو ہر وہ ممکن قدم اٹھانا ہوگا جس سے اہل فلسطین کے مصائب کم ہوں اور وہ نسل کشی سے محفوظ رہ سکیں ۔
    شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات !

  • اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4700 سے زائد اموات

    اسرائیلی بمباری سے غزہ میں 4700 سے زائد اموات

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، دو ہفتے سے جاری بمباری میں چار ہزار سات سو سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے ہیں

    فلسطینی وزارت صحت کے مطابق 15ہزار کے قریب شہری زخمی ہیں،زخمیوں میں ستر فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں،غزہ میں عمارتیں ملیا میٹ ہو چکی ہیں، ہسپتالوں، سکولوں پر بمباری کی گئی ہے، بجلی، پانی بند ہے، خوراک کی کمی ہو چکی ہے،

    غزہ میں اموات اتنی ہو رہی ہیں کہ شہریوں نے لاشوں کی شناخت کے لئے اپنے بچوں کے جسم پر انکے نام لکھوانا شروع کر دیئے ہیں تا کہ اسرائیلی بمباری سے انکی موت کی صورت میں بچوں کو نام سے پہچان سکیں،اسرائیل نے ہسپتالوں پر بھی بمباری کی وارننگ دی ہے،عالمی دنیا کے احتجاج کے باوجود اسرائیل غزہ پر حملے نہیں روک رہا،امریکہ،برطانیہ سمیت کئی ممالک کی اسرائیل کو شہہ حاصل ہے،اسرائیلی بمباری سے اقوام متحدہ پناہ گزین ایجنسی کے لئے کام کرنے والے اساتذہ سمیت 29 اقوام متحدہ اہلکار بھی مارے جا چکے ہیں، غزہ میں اسرائیلی بمباری سے 31 مساجد بھی شہید ہو چکی ہیں.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • اسرائیلی حملے، غزہ میں 43 سو سے زائد اموات ہو گئیں

    اسرائیلی حملے، غزہ میں 43 سو سے زائد اموات ہو گئیں

    سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد اسرائیل کی کاروائیاں جاری ہیں، اسرائیل مسلسل غزہ پر حملے کر رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے گھروں، ہسپتالوں، عبادت گاہوں پر بھی بمباری کی جا رہی ہے، غزہ کے قدیم ترین چرچ پر بمباری کے نتیجے میں 10 فلسطینی شہید ہوئے ہیں

    اسرائیلی حملوں میں اب تک 15 سو بچوں سمیت 4300 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ 14 ہزار سے زائد زخمی ہیں،غزہ میں 30 فیصد سے زائد مکانات ملیا میٹ ہو چکے ہیں، اسرائیلی حملوں کے بعد سے اب تک تقریبا 10 لاکھ شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیںَ

    حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے سبب تنازعہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہےاوراس صورت میں یہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کے قابو سے باہر ہوجائے گا

    دوسری جانب مصر سے غزہ کی رفاح کراسنگ جمعے کو بھی نہ کھل سکی غزہ میں محصور فلسطینی امداد کے منتظر ہی رہ گئے، امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہ مل سکی،پاکستان کی جانب سے بھجوائی گئی امداد بھی مصر میں موجود ہے جو پاکستان نے ہلال احمر سوسائٹی کے حوالے کی تھی،

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • حماس نے  دو امریکی یرغمالیوں کو  ریڈ کراس کے حوالے کردیا

    حماس نے دو امریکی یرغمالیوں کو ریڈ کراس کے حوالے کردیا

    مذاکرات سے آگاہ ایک سفارتی ذرائع کے مطابق حماس کی جانب سے دو امریکی یرغمالیوں، ایک ماں اور اس کی بیٹی کو رہا کیا جا رہا ہے جبکہ مذاکرات سے واقف ذرائع نے بتایا کہ دونوں کو ریڈ کراس کے حوالے کر دیا گیا ہے اور وہ باہر جانے کے راستے پر ہیں۔ سی این این کو اسی ذرائع نے بتایا کہ دونوں کو "انسانی بنیادوں” پر رہا کیا جا رہا ہے کیونکہ ماں کی صحت خراب ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ غزہ چھوڑ کر مصر جائیں گے یا اسرائیل اور یہ قطر اور حماس کے درمیان مذاکرات کا نتیجہ ہے جو 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے اسرائیل سے تقریبا 200 افراد کے اغوا کے بعد شروع ہوا تھا۔


    جبکہ حماس کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک بیان میں کہا کہ قطرکی کوششوں کے جواب میں القسام بریگیڈ نے دو امریکی شہریوں (ایک ماں اور اس کی بیٹی) کو انسانی وجوہات کی بنا پر رہا کیا اور امریکی عوام اور دنیا کو یہ ثابت کرنے کے لیے کہ بائیڈن اور ان کی فاشسٹ انتظامیہ کے دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ سی این این نے ریڈ کراس سے رابطہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے جمعے کے روز خبردار کیا ہے کہ یرغمالیوں کو یرغمال بنانا بین الاقوامی قوانین کے تحت ممنوع ہے۔

    تاہم یرغمالیوں کی رہائی کے لیے عالمی رہنماؤں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان حالیہ دنوں میں امریکی صدر جو بائیڈن، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور برطانوی وزیر اعظم رشی سنک کے اسرائیل کا دورہ کرنے کے بعد یہ خبر سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حماس نے رواں ماہ کے اوائل میں ہونے والے حملے میں 1400 سے زائد افراد کو ہلاک کیا تھا جن میں عام شہری اور فوجی بھی شامل تھے۔

    جبکہ یہ اسرائیل کی 75 سالہ تاریخ میں عسکریت پسندوں کا سب سے مہلک حملہ تھا اور اس نے ملک کی سیکیورٹی فورسز کی انٹیلی جنس کی ایک حیرت انگیز ناکامی کا انکشاف کیا۔ اس کے بعد سے اسرائیل نے غزہ پر مسلسل فضائی حملے کیے ہیں اور فلسطینی علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر رکھی ہے جس سے ایک تباہ کن انسانی بحران پیدا ہو گیا ہے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 3785 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 1524 بچے، 1000 خواتین اور 120 بزرگ شامل ہیں۔ تقریبا 12,500 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اسرائیل، حماس تنازع؛ بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات پر محکمہ خارجہ کے عہدیدار مستعفی
    صنم جاوید کو جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا
    آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 368 رنز کا ریکارڈہدف دے دیا
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    خیال رہے کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ حماس کے مہلک حملے پر اسرائیل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کو اجتماعی سزا دینا جنگی جرم کے مترادف ہے۔ جمعے کے روز اسرائیلی دفاعی افواج نے کہا تھا کہ حماس کی جانب سے یرغمال بنائے گئے افراد کی اکثریت زندہ ہے۔ سی این این آزادانہ طور پر آئی ڈی ایف کے دعووں کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ حماس کی جانب سے متعدد غیر ملکی شہریوں کو بھی اغوا کیا گیا جن میں امریکہ، میکسیکو، برازیل اور تھائی لینڈ کے شہری بھی شامل ہیں۔ تمام یرغمالیوں کی حیثیت، مقام اور شناخت کے بارے میں معلومات نایاب ہیں۔ ان میں سے کچھ کی شناخت ان خاندانوں نے کی ہے جو آن لائن ویڈیوز سے انہیں پہچانتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی واپسی کے لیے بے چین درخواستیں اٹھرہی ہیں۔

  • اسرائیل،  حماس  تنازع؛  بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات پر محکمہ خارجہ کے عہدیدار مستعفی

    اسرائیل، حماس تنازع؛ بائیڈن انتظامیہ کے اقدامات پر محکمہ خارجہ کے عہدیدار مستعفی

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازع پر بائیڈن انتظامیہ کے رویے پر ایجنسی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جبکہ سی این این نے لکھا ہے کہ جوش پال جو بیورو آف پولیٹیکل ملٹری افیئرز میں 11 سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہے ہیں، نے اپنے لنکڈ ان پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے "اسرائیل کو ہماری مسلسل مہلک امداد کے بارے میں پالیسی اختلاف کی وجہ سے” استعفیٰ دیا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ حماس کا اسرائیل پر حملہ محض ایک سازش نہیں تھی۔ یہ بدبختی کا ایک مجموعہ تھا۔ مجھے یہ بھی یقین ہے کہ ایران سے منسلک گروہوں جیسے حزب اللہ یا خود ایران کی طرف سے ممکنہ اضافہ موجودہ المیے کا مزید مضحکہ خیز فائدہ ہوگا۔ لیکن میں اپنی روح کی گہرائیوں سے یقین رکھتا ہوں کہ اسرائیل جو ردعمل لے رہا ہے، اور اس کے ساتھ اس ردعمل کے لیے اور قبضے کی حیثیت کے لیے امریکی حمایت، اسرائیلی اور فلسطینی عوام دونوں کے لیے زیادہ سے زیادہ گہرے مصائب کا باعث بنے گی اور یہ طویل مدتی امریکی مفاد میں نہیں ہے۔

    پال کہتے ہیں کہ اس انتظامیہ کا ردعمل اور کانگریس کا بھی ردعمل ایک جذباتی رد عمل ہے جو تصدیقی تعصب، سیاسی سہولت، فکری دیوالیہ پن اور بیوروکریٹک جمود پر مبنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ انتہائی مایوس کن اور مکمل طور پر حیرت انگیز ہے۔ دہائیوں سے اسی نقطہ نظر سے پتہ چلتا ہے کہ امن کے لئے سلامتی نہ تو سلامتی کی طرف لے جاتی ہے اور نہ ہی امن کی طرف لے جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک فریق کی اندھی حمایت دونوں اطراف کے عوام کے مفادات کے لیے طویل المیعاد طور پر تباہ کن ہے۔ پال کا کہنا تھا کہ وہ ایسے پالیسی فیصلوں کی حمایت نہیں کر سکتے جن میں ہتھیار بھیجنا بھی شامل ہو، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ ‘دور اندیشی، تباہ کن، غیر منصفانہ اور ان اقدار سے متصادم ہیں جن کی ہم کھلے عام حمایت کرتے ہیں۔

    جبکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان میٹ ملر کا کہنا تھا کہ ادارہ اس بات کی تعریف کرتا ہے کہ ملازمین کے عقائد مختلف ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میٹ ملر کا کہنا تھا کہ ‘ہم سمجھتے ہیں، ہم توقع کرتے ہیں، ہم اس بات کی تعریف کرتے ہیں کہ اس محکمے میں کام کرنے والے مختلف افراد کے مختلف سیاسی عقائد ہیں، ان کے ذاتی عقائد مختلف ہیں، امریکی پالیسی کے بارے میں مختلف عقائد ہیں’۔

    انہوں نے کہا کہ اس مخصوص تنقید کے حوالے سے ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہم اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔ ہم ان کو اپنے دفاع کے لیے درکار سیکیورٹی معاونت فراہم کرتے رہیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان دہشت گرد حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے کا ان کا حق نہیں بلکہ ذمہ داری ہے، میرے خیال میں کوئی بھی ملک ایسا کرے گا۔ لیکن صدر اور وزیر خارجہ نے اس بارے میں بہت واضح طور پر بات کی ہے کہ ہم اسرائیل سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے دفاع میں تمام بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرے گا۔ امریکی حکام نے بارہا اسرائیل کی "ذمہ داری” کی حمایت کی ہے … وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے الفاظ میں حماس کے ان حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی کوشش کرنا کہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو، لیکن "اسے ایسا اس طرح کرنے کی ضرورت ہے جو انسانی زندگی اور انسانی وقار کے لئے ہماری مشترکہ اقدار کی تصدیق کرے، شہریوں کو نقصان پہنچانے سے بچنے کے لئے ہر ممکن احتیاط ی تدابیر اختیار کرنا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    صنم جاوید کو جیل کے باہر سے دوبارہ گرفتار کرلیا گیا
    آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 368 رنز کا ریکارڈہدف دے دیا
    آسٹریلیا کی پانچویں وکٹ 339 رنز پر گرگئی،جوش انگلس 13 رنز بناکر آؤٹ
    نواز شریف ،شہباز شریف کا ٹیلیفونک رابطہ،پاکستان استقبال کیلئے تیار ہے، شہباز شریف
    ہارورڈ یونیورسٹی کے طلباکا اسرائیل کیخلاف احتجاج،ڈونرز نے فنڈ بند کر دیئے
    امریکہ اسرائیل کو سالانہ 3.8 بلین ڈالر کی سکیورٹی امداد فراہم کرتا ہے اور انتظامیہ اضافی سکیورٹی امداد کی درخواست کرنے کے لیے تیار ہے۔ نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پال نے کہا کہ امریکی ہتھیاروں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ہاتھوں سے دور رکھنے کے لیے قانونی محافظ ناکام ہو رہے ہیں کیونکہ امریکہ اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے جبکہ غزہ میں پانی، خوراک، طبی دیکھ بھال اور بجلی بند کر دی گئی ہے۔ جمعرات کے روز پال نے سی این این کو بتایا کہ ان کا ماننا ہے کہ فی الحال اس مسئلے پر بحث کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ پال نے کہا، "ماضی میں، محکمہ خارجہ میں انسانی حقوق کے ذمہ داروں کی طرف سے مؤثر یا کم از کم آواز میں دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ ان میں سے کچھ معاملات کو دیکھیں اور جلد بازی نہ کریں،” انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس عام طور پر اضافی نگرانی پیش کرتی ہے، لیکن اس معاملے میں ، "کانگریس کی کوئی مخالفت نہیں تھی۔

  • یمن کے قریب امریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے متعدد میزائلوں کو ناکام بنا دیا

    یمن کے قریب امریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے متعدد میزائلوں کو ناکام بنا دیا

    یمن کے قریب امریکی بحریہ کے جنگی جہاز نے متعدد میزائلوں کو ناکام بنا دیا جبکہ امریکی عہدیداروں نے سی این این کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے امریکی بحریہ کے ایک جنگی جہاز نے آج یمن کے ساحل کے قریب متعدد میزائلوں کو روکا۔ ایک عہدیدار نے بتایا کہ یہ میزائل ایرانی حمایت یافتہ حوثی عسکریت پسندوں کی جانب سے داغے گئے جو یمن میں جاری لڑائی میں مصروف ہیں۔


    جبکہ دوسرے عہدیدار کے مطابق تقریبا 2-3 میزائلوں کو روکا گیا۔ بعد ازاں جمعرات کو پینٹاگون کے پریس سیکریٹری بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائیڈر نے تصدیق کی کہ یو ایس ایس کارنی نے یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز کی جانب سے داغے گئے تین زمینی حملوں کے میزائلوں اور متعدد ڈرونز کو مار گرایا۔

    تاہم سی این این نے لکھا کہ انہوں نے کہا، یہ کارروائی مشرق وسطی میں تعمیر کردہ مربوط فضائی اور میزائل دفاعی ڈھانچے کا ایک مظاہرہ ہے اور ہم اس اہم خطے میں اپنے شراکت داروں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے جب بھی ضروری ہو استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جبکہ ان کا کہنا تھا کہ امریکی افواج کو کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی ہم زمین پر موجود کسی شہری کو جانتے ہیں۔
    توہین الیکشن کمیشن کیس میں چیئرمین پی ٹی ائی عمران خان کے پروڈکشن آرڈر جاری
    نواز شریف کی آمد،چار افراد ایئر پورٹ پر پھول پھینک سکتے،ایوی ایشن کی اجازت
    سابق وزیر قانون اور سینیٹر ایس ایم ظفر وفات پاگئے
    تاہم رائڈر نے کہا کہ پینٹاگون اس وقت یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ میزائل اور ڈرون کس چیز کو نشانہ بنا رہے تھے، لیکن ان کا کہنا تھا کہ یہ میزائل یمن سے داغے گئے تھے اور بحیرہ احمر کے ساتھ شمال کی طرف بڑھ رہے تھے، ممکنہ طور پر اسرائیل کے اہداف کی طرف تھے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں حماس کے دہشت گرد انہ حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جبکہ ایران طویل عرصے سے حماس کا حامی رہا ہے جبکہ یو ایس ایس کارنی بدھ کے روز نہر سوئز کے راستے بحیرہ احمر میں داخل ہوا تھا۔ امریکی فلیٹ فورسز کی کمان نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں سمندری سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔