Baaghi TV

Tag: حمزہ شہباز

  • منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف اور حمزہ شہباز  فردجرم کے لیے آئندہ سماعت پر طلب

    منی لانڈرنگ کیس، شہباز شریف اور حمزہ شہباز فردجرم کے لیے آئندہ سماعت پر طلب

    اسپیشل کورٹ لاہور میں ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 7ستمبر تک ملتوی کر دی گئی

    وزیراعظم شہباز شریف شہباز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظورکر لی گئی ہے پراسیکیوٹر نے حمزہ شہباز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست کی مخالفت کردی، پراسیکیوٹر نے کہا کہ شہباز شریف کی درخواست کے ساتھ ایم آر آئی رپورٹ بھی ساتھ لف ہے شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر اعتراض نہیں کروں گا حمزہ شہباز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر اعتراض ہے ،جب تک ضمانت منظور نہیں ہوئی تھی ملزم عدالت پیش ہوتے تھے ،ضمانت منظور ہوتے ہی ملزم نے عدالت پیش ہونا چھوڑ دیا ملزم مقصود کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جمع کرادیا ،موت کی تصدیق ہوگئی

    حمزہ شہباز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کر لی گئی ہے عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو فردجرم کے لیے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا ہے

    واضح رہے کہ شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس ایف آئی اے سپیشل کورٹ میں زیر سماعت ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز خود عدالت میں پیش ہو چکے ہیں، یہ کیس سابق وزیراعظم کے سابق مشیر شہزاد اکبر کی جانب سے بنایا گیا ہے

    نواز شریف کو سرنڈر کرنا ہو گا، اگر ایسا نہ کیا تو پھر…عدالت کے اہم ریمارکس

    نواز شریف حاضر ہو، اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبی کی تاریخ دے دی

    نواز شریف کو فرار کروانے والے پروفیسر محمود ایاز کے نئے کارنامے،سنئے مبشر لقمان کی زبانی

  • سپیکرانتخاب ،حمزہ شہباز بھی پہنچ گئے، کہا یہ عدالتی وزیراعلیٰ اصل وزیر اعلیٰ تو ہم ہیں

    سپیکرانتخاب ،حمزہ شہباز بھی پہنچ گئے، کہا یہ عدالتی وزیراعلیٰ اصل وزیر اعلیٰ تو ہم ہیں

    مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے ارکان پنجاب اسمبلی پہنچنا شروع ہو گئے
    سابق وزیراعلیٰ حمزہ شہباز گورنر ہاوس سے پنجاب اسمبلی پہنچ گئے، حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ آج وہی ہو گا جو اللہ کو منظور ہو گا ہمارے ارکان اتنے ہی ہیں جتنے پہلے تھے یہ عدالتی وزیر اعلیٰ ہیں اسمبلی کے وزیر اعلیٰ تو ہم ہیں،

    ن لیگی رہنما طاہر خلیل سندھو کا کہنا تھا کہ سیف الملوک کھوکھر کامیاب ہوں گے ہمارے ارکان کی تعداد پوری ہے خفیہ شماری سے ووٹنگ ہونی ہے پی ٹی آئی ارکان بھی ووٹ دینگے،

    پنجاب اسمبلی میں صحافیوں پر پابندی اور اپنوں پر نظر کرم پنجاب اسمبلی پریس گیلری میں صحافیوں کوموبائل فون ساتھ کے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی، قاف اور تحریک انصاف کے سینکٹروں غیر متعلقہ افراد اور مہمان پنجاب اسمبلی کے اندر ہیں سیکورٹی حکام خفیہ لسسٹوں اور پیغامات سے مہمانوں کواندربھجوانے میں سرگرم ہیں

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی میں نئے اسپیکر کے الیکشن اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے حوالہ سے ن لیگ نے الیکشن کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اس ضمن میں خلیل طاہر سندھو نے سپیکر، ڈپٹی سپکر کو خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسمبلی سیکریٹریٹ کے عملے کی جانب سے انتخابات کے عملے کے حوالے خدشات اور تحفظات ہیں ن لیگ مطالبہ کرتی ہے کہ آج کا الیکشن آئین اور الیکشن رولز کے تحت کروایا جائے عملے کی غیر جانبداری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے کیونکہ کسی بھی غلط کام کے نتیجے میں نہ صرف جمہوریت کمزور ہوگی بلکہ اسمبلی کا نام بھی داغدار ہوگا قانون کے مطابق سختی سے عمل نہ کیا گیا تو دیگر فورم سے رجوع کیا جائے گا

    سپیکر پنجاب اسمبلی کے عہدے کے لیئے مسلم لیگ ن کے سیف الملوک کھوکھر اور تحریک انصاف کے سبطین خان کے درمیان مقآبلہ آج ہوگا اور بظاہر اس مقابلے کا نتیجہ ہی آئندہ پنجاب کی سیاست کا تعین کرے گا، اگر ن لیگی امیدوار جیت گیا تو پرویز الہیٰ کے خلاف پھر جلد ہی تحریک عدم اعتماد آنے کا امکان ہے

    اپوزیشن اتحاد کے اسپیکر کے امیدوار ملک سیف الملوک کھوکھر پنجاب اسمبلی پہنچ گئے

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

  • آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

    آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے: وزیراعظم

    اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    اپنی ٹوئٹ میں شہباز شریف کا کہنا تھاکہ آئین نے ریاستی اختیار پارلیمنٹ، انتظامیہ اور عدلیہ کو تفویض کیے ہیں اور آئین نے سب اداروں کو متعین حدود میں کام کرنے کا پابند کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کوئی ادارہ کسی دوسرے کے اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتا، آئین اورپارلیمنٹ کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھاکہ عدلیہ کی ساکھ کا تقاضا اور قرین انصاف یہی تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیا جاتا، انصاف نہ صرف ہوتا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آتا۔

     

    ان کا کہنا تھاکہ عدالتی فیصلے سے قانون دانوں، سائلین، میڈیا اور عوام کی حصول انصاف کیلئے توقعات کو دھچکا لگا ہے۔

     

     

    دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سپریم کورت کے فیصلے کو ناپسند کرتے ہوئے کچھ اہم پیغامات بھی شیئرکیئے ہیں ، جن میں کہا گیا ہے کہ دو دن سے میڈیا پر پاکستان تحریک انصاف کی نوٹنکی جاری ہے،

    ’شکریہ اللہ، شکریہ عوام:عمران خان کا سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم

    ہماری فل کورٹ کی اپیل کو مسترد کرنے کے فیصلے نے آج کے فیصلے کو پہلے ہی متنازعہ بنا دیا تھا، سول سوسائٹی، وکلاء برادری، باری ایسوسی ایشن کے نمائندوں، وکلائ، قانونی ماہرین نے کل کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا، فل کورٹ آئینی مسئلہ کی تشریح کے لئے بنا دیا جاتا تو آج کا فیصلہ متنازعہ نہ ہوتا، مریم اورنگزیب

    حمزہ شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ نہیں ہوں گے تو اس سے مسلم لیگ (ن) کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، وفاقی وزیر اطلاعات وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے سپریم کورٹ کی جانب سے پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ مسترد کرنے کے فیصلے پر کہا ہے کہ عدلیہ کو ان جکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد تھی، آج سے اس کا دوسرا باب شروع ہوا ہے۔

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فل کورٹ کی تشکیل کے لیے دائر درخواست نے پہلے ہی اس تین رکنی بینچ پر عدم اعتماد کر دیا تھا، جب کل فل کورٹ کی درخواست مسترد ہوئی تو ہمارے وکلا نے آج سپریم کورٹ میں تین رکنی بینچ کی کارروائی کا بائیکاٹ کرکے بھی عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا کہ آج جو فیصلہ آئے گا، وہ فیصلہ نہ عوام کو قابل قبول ہوگا، نہ فریقین کو قابل قبول ہوگا کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ پنجاب کے اوپر چوری کرکے آر ٹی ایس سٹم بیٹھا کر 2018 میں مسلط کیا تھا اس کو دوبارہ پنجاب پر مسلط کریں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ آئینی، پارلیمانی اور دو خطوط کا ہے، ایک خط عمران خان نے لکھا تھا جس کی وجہ سے حمزہ شہباز کو ڈالے جانے ووٹوں میں سے 25 ووٹوں کو نکال دیا جاتا ہے، اور ووٹ ڈالنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا جاتا ہے، عمران خان کا خط پارٹی سربراہ کی حیثیت سے لکھا جاتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین بطور پارٹی سربراہ اپنے اراکین اسمبلی کو ہدایات جاری کی تھی کہ وہ عمران خان کے امیدوار کو ووٹ نہ ڈالیں اور حمزہ شہباز کو ووٹ کاسٹ کریں، سپریم کورٹ کے اسی فیصلے کے مطابق ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی کہ مسلم لیگ (ق) کے 10 اراکین کے ووٹوں کو مسترد کیا جاتا ہے۔

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم نواز کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب بطور پارٹی سربراہ لکھا جانے والا خط حرام ہے جبکہ عمران خان کا بطور پارٹی سربراہ لکھا جانے والے خط کی وجہ سے 25 ووٹوں کو شمار نہیں کیا جاتا جبکہ چوہدری شجاعت حسین کی جانب سے لکھے جانے والے خط کے باوجود پرویز الہیٰ کو ڈالے گئے ووٹوں کو شمار کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ہم نے فل کورٹ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ تین رکنی بینچ بننے سے لے کر اب تک انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آ رہا تھا، اسی لیے حکومتی اتحاد کے تمام سیاسی قائدین سمیت تمام اطراف سے یہی آوازیں آئیں کہ ہمیں فل کورٹ چاہیے، اگر فل کورٹ بن جاتا تو آج کا فیصلہ مختلف ہوتا، ایک شخص کی خاطر آئین کی تشریح میں فرق ڈالا جا رہا ہے، اپنی مرضی سے آئین کی تشریح کی جا رہی ہے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آوازیں آ رہی تھیں کہ پانچ رکنی بینچ نے تین بار کے منتخب وزیراعظم نوازشریف کو نکالا تھا، اس دن کے فیصلے کے بعد سے آج تک ملک میں معاشی تباہی، بے روزگاری، افلاس، بھوک، افراتفری، فساد اور نفرت کے بیج بوئے گئے، آج کا فیصلہ اسی کا تسلسل ہے، اور اثرات بھی ویسے ہی ہوں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آج کا فیصلہ ملک میں مزید تقسیم پیدا کرے گا، ملک میں مزید انتشار پیدا ہوگا اورانصاف پر زیادہ انگلیاں اٹھائی جائیں گی، اس لیے فل کورٹ بنانا چاہیے تھا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی عدلیہ بحالی کی جدوجہد تھی، آج سے اس کا دوسرا باب شروع ہوا ہے، آئین کی بالادستی، پارلیمان کی بالادستی اور عدلیہ کو ان جکڑی ہوئی چیزوں سے نکالنے کی جدوجہد کا آغاز ہوا ہے، پاکستان کے عوام کو آئین اور پارلیمان کی بالادستی واپس لے کر دیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کا اصل مینڈیٹ جو 2018 میں چوری ہوا، جو اس وقت کے عدالتی فیصلے نے چوری کیا جب نواز شریف کو اپنی کرسی سے ہٹایا گیا، آج کے فیصلے کو بھی آئین اور پارلیمان کی بالادستی میں تبدیل کریں گے۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن کے رہنما قانون ملک احمد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بحث کل سے چل رہی ہے کہ ڈائریکشن پارٹی سربراہ کی ہوگی یا پارلیمانی پارٹی کی، اس حوالے سے وکلا کا مؤقف تھا کہ فل کورٹ تشکیل دیں.

    ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے ایک انتہائی غیر مناسب صورتحال پیدا ہوئی ہے، اس سے پنجاب اسمبلی کی خودمختاری متاثر ہوئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تقاضہ کرتے ہوئے کہ انصاف کی توقع نہیں ہے، عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا، یہ معمولی واقعہ نہیں ہے اس کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

  • ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کیخلاف درخواست پرسماعت پیرتک ملتوی

    سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف دائر درخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی

    سپریم کورٹ نے ڈپٹی سپیکر دوست مزاری کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر مختصر فیصلہ سناتے ہوئے حمزہ شہباز کے یکم جولائی کا عبوری وزیراعلیٰ کا سٹیٹس بحال کر دیا اور سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حمزہ شہباز پیر کے روز تک بطور عبوری وزیراعلیٰ فرائض انجام دیں گے ،کیس کی سماعت پیر کے روز اسلام آباد میں ہو گی ، تمام فریقین کے وکلاء کو سنیں گے اور پھر فیصلہ سنایا جائے گا

    کمرہ عدالت میں صرف متعلقہ وکلا کو ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے باقی وکلا اور سائلین کورٹ روم نمبر تین میں لگی سکرین پر عدالتی کاروائی سن رہے ہیں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی پر مشتمل تین رکنی بنچ سماعت کررہے ہیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت نے دلائل دینا شروع کردیے

    دوران سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ وہ پیرا پڑھ کر سنائیں کہاں لکھا ہے, یہ بتا دیں کہ ڈپٹی اسپیکر نے کیا تشریح کی, ڈپٹی اسپیکر نے آرٹیکل 63 اے کے مطابق فیصلہ دیا آپ وہ پیرا پڑھ دیں،عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ اسپیکر نے سمجھا ہے کہ پارٹی صدر ہے, اگر کوئی لیگل غلطی کی تو تو اتنا بڑا ایرر نہیں جو دورنہ ہو سکتا ہو،عدالت نے ڈپٹی سپیکرکے وکیل کو ہدایت کی کہ آپ ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ پہلے آرڈر پڑھوں یا رولنگ پڑھوں جس پر عدالت نے کہا کہ آپ پہلے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پڑھیں

    عرفان قادر نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی کا ہیڈ پارٹی صدر ہوتا ہے, جس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسکا مطلب انہوں نے غلط سمجھا, جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ججمنٹ کو غلط لیا ہے, جس پر عرفان قادر نے کہا کہ جی بلکل وہ وکیل نہیں ہیں,

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر نے کس حکم کی آڑ لے کر رولنگ دی، عدالت میں یہ حکم پڑھ کر سنایا جائے، خاص طور پر متعلقہ پیرا پڑھیں، عرفان قادر نے کہا کہ فیصلے کا پیرا تین متعلقہ ہے، عدالت تفصیلی جواب کا موقع فراہم کرے تاکہ بلیک اینڈ وائٹ میں عدالت کو تحریری طور پر ڈپٹی سپیکر کا موقف پیش کر سکوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر فرض کرلیں سپیکر کی رولنگ غلط تھی تو پھر اگلا قدم کیا ہوگا ،عرفان قادر نے کہا کہ اس پر ہم تحریری جواب بھی دیں گے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکیل صاحب یہ سوموٹو کیس نہیں ہے ،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ہم نے ریکارڈ بھی مانگا تھا کیا ریکارڈ آیا تھا ؟ عرفان قادر نے کہا کہ اس حوالے سے مجھے معلومات نہیں ہے ،عدالت نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ سپیکر صاحب کے ہاتھ میں چوہدری شجاعت حسین کی خط تھا ہم وہ خط دیکھنا چاہتے ہیں ڈپٹی سپیکر نے اس خط کی بنیاد رولنگ دی ہےبا دی النظر میں آپ کی رائے یہی ہے کہ اسپیکر کی رولنگ درست تھی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے موکل جس آفس کو ہیڈ کو کر رہے ہیں اس پر گہرے بادل ہیں ،

    ڈپٹی اسپیکر کے وکیل نے جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا ،عرفان قادر نے کہا کہ ہمیں کل تک کا وقت دیا جائے، عدالت نے حمزہ شہباز کو رسمی اختیارات دیتے ہوئے سماعت پیر تک ملتوی کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ پیر تک حمزہ شہباز صرف روٹین کے امور سرانجام دیں گے,

    سماعت کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سوموار یا منگل کو فیصلہ سنا دیں گے،

    قبل ازیں سپریم کورٹ لاہور رجسٹری ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف درخواستوں پر دوبارہ سماعت ہوئی چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پرویز الٰہی سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی عدالتی حکم پر ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری سپریم کورٹ کے روبرو تاحال پیش نہ ہوئے ،کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر گیا تحریک انصاف کے رہنماء بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے، عدالت میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شہزاد شوکت کی جانب سے دلائل دیئے گئے، عدالت میں ڈپٹی سپیکر کے وکیل کی جانب سے جواب جمع کرا دیا گیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ ڈپٹی سپیکر کہا ں ہیں, وہ بھی آ رہے ہیں؟

    کمرہ عدالت میں رش لگ گیا جس کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ تمام غیر متعلقہ افراد کمرہ عدالت سے باہر چلیں جائیں،ہم کوشش کرتے ہیں آپکو باہر بھی سماعت سننے کا بندوست کرتے ہیں،ایسے حالات میں سماعت ممکن نہیں ہے،ہم ایسا کرتے ہیں کہ سماعت دوسرے روم میں شفٹ کرتے ہیں،

    عدالت نے عرفان قادر کو دلائل دینے سے روک دیا . چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس دوست مزاری کا وکالت نامہ ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کے مکمل دلائل سنیں گے،

    دوسری جانب سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں وکلا اور تحریک انصاف کے اراکین کی بڑی تعداد بغیر بیکنگ کے کورٹ روم ون مین داخل ہو گئی ہے، دھکم پیل سے کورٹ روم نمبر ون کے دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں چیف جسٹس پاکستان نے کیس ویڈیو لنک والے کورٹ روم میں منتقل کردیا سماعت کچھ دیر بعد ہوگی پرائیویٹ افراد کا داخلہ بند کر دیا گیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ کے الیکشن ہوئے، پی ٹی آئی کے امیدوار نے 186 ووٹ حاصل کئے تا ہم ڈپٹی سپیکر نے چودھری شجاعت کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے دس ووٹ مسترد کر دیئے ، جسکے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے، پی ٹی آئی نے ایوان میں احتجاج کے بعد کئی شہروں میں احتجاج کیا اور رات کو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی، پی ٹی آئی کی درخواست عدالت نے قابل سماعت قرار دے دی ہے

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • ق لیگ کے ووٹ مسترد۔ حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب

    ق لیگ کے ووٹ مسترد۔ حمزہ شہباز وزیراعلی منتخب

    پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے ووٹنگ ہوئی جس میں حمزہ شہباز نے اکثریت کی حمایت حاصل کرلی جبکہ چوہدری پرویزالہیٰ کو شکست کا سامنا کرنا پرا .وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس تقریباً پونے تین گھنٹے کی تاخیر سے شام 7 بجے شروع ہوا جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے ووٹنگ کا عمل شروع کرایا۔

    ووٹنگ کے نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوار پرویز الہیٰ نے 186 ووٹ لیے جبکہ مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز نے 179 ووٹ لیے۔ تاہم ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری نے ق لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت کے خط کو پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے ق لیگ کے ارکان کو حمزہ شہباز کو ڈالنے کی ہدایت کی تھی۔

    ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دیتے ہوئے ق لیگ کے تمام ووٹ مسترد کر دیئے۔ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے دوران تلخ کلامی ہوئی اور پی ٹی آئی رہنما راجہ بشارت نے کہا کہ پارلیمانی پارٹی نے پرویزالہیٰ کوووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔اس پر دوست محمد مزاری نے کہا کہ انہیں اختیارہی نہیں ہے، چودھری شجاعت سے 3 مرتبہ فون پررابطہ کیا۔

    اس پر پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ آپ کے پاس یہ اختیارنہیں کون ووٹ دے سکتا ہے کون نہیں،جس پر جواب دیتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈی سیٹ ہونے والوں کے خلاف رولنگ دی ہوئی ہے۔اس پر راجہ بشارت نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین مجازہی نہیں۔ ووٹ کی ڈائریکشن دینے کے لیے کس کوحق حاصل ہیں۔

    تاہم ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس خط کے مطابق اورسپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جتنے بھی ووٹ ق لیگ کے کاسٹ ہوئے ہیں وہ مسترد کرتے ہیں اور میں اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ 10 ووٹ ختم ہونے کے بعد حمزہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہوگئے ہیں۔اس موقع پر ق لیگ اور تحریک انصاف کے ارکان نے احتجاج کیا لیکن ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ اگر وہ اس فیصلے سے اتفاق نہیں کرتے تو اسے عدالت میں چیلنج کر سکتے ہیں۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ کےانتخاب کیلئےپنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 گھنٹے 50منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا ،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی،وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب اورووٹنگ کاعمل پر امن طریقے سے مکمل ہوا،تحریک انصاف کے نو منتخب رکن پنجاب اسمبلی زین قریشی نےپہلا ووٹ کاسٹ کیا.حمزہ شہبازاور پرویز الہی سمیت ق لیک کے ارکان نے بھی اپنا اپنا ووٹ کاسٹ کیا.

    قبل ازیں پیجاب اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن نے پی پی 167سے پی ٹی آئی کے شبیر گجر کے حلف پر اعتراض اٹھا یا گیا،اجلاس شروع ہوتے ہی پی پی 7روالپنڈی سےکامیاب ن لیگ کے امیدوار راجہ صغیر احمد نے حلف اٹھایا. اجلاس نماز مغرب کے وقفہ کیلئے 10 منٹ تک ملتوی کیا گیا.اس سے پہلے ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ 25منحرف ارکان کے ووٹ ختم کرنے کے بعد حمزہ شہباز کو 172ووٹ حاصل ہیں، سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں دوبارہ ووٹنگ ہوگی،تحریک انصاف کے رہنما زین قریشی ووٹ ڈال سکتےہیں،زین قریشی قومی اسمبلی چھوڑ کر ہمارے ساتھ رہنا چاہتےہیں،ووٹنگ کا طریقہ کار وہی رہے گا جو پہلے اختیار کیا گیا تھا،کوئی بھی رکن 186ووٹ حاصل نہیں کرسکا، اس لئے رن آف الیکشن ہوگا، رن آف الیکشن میں 186ووٹ کی ضرورت نہیں، سادہ اکثریت رکھنے والا وزیراعلیٰ بنے گا، پرویزالٰہی کو ووٹ دینے والے ارکان بائیں اورحمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے دائیں طرف لابی میں گئے.پنجاب اسمبلی میں ارکان کی کل تعداد 371ہے

    چوہدری پرویز الہیٰ کے صاحبزادےمونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ق لیگ کی پارلیمانی پارٹی نے پرویزالہٰی کو متفقہ امیدوار نامزد کیا تھا.


    دوسری جانب مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت نے پرویزالٰہی کی حمایت سے انکار کردیا تھا،اس کی تصدیق مونس الہیٰ نے کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں بھی ہار گیا ،عمران خان بھی ہار گیا ، زرداری جیت گیا .انہوں نے بتایا کہ ماموں کا کہنا ہے کہ عمران خان کے امیدوار کی حمایت نہیں کروں گا،نجی ٹی وی جیو کے مطابق حامد میر سے بات کرتے ہوئے مونس الہیٰ نے یہ بات کی تھی،مونس الہیٰ کا کہنا تھا کہ چوہدری شجاعت نے کہا ہے کہ عمران خان کےامیدوار کی حمایت نہیں کروں گا.

    ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین کی ہدایت کے مطابق مسلم لیگ ق کے ارکان پیجاب اسمبلی پعمران خان کے امیدوار کو ووٹ کاسٹ نہیں کریں گے،اگر مسلم لیگ ق کے ارکان پنجاب اسمبلی ووٹ کاسٹ کریں گے تو ان کے ووٹ گے تو ان کے ووٹ مسترد تصور کئے جائیں. ذرائع کے مطابق چوہدری شجاعت حسین نے اس معاملے پر پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر کو خط لکھ دیا ہے کہ مسلم لیگ ق کے ارکان کے ووٹ اگر عمران خان کے وزارت اعلی کے امیدوار کو دیئے جائیں تو انہیں مسترد کر دیا جائے.موجودہ صورتحال میں پرویز الہی خود کو بھی ووٹ نہیں ڈال سکیں گے اور اگر ووٹ ڈالا تو آرٹیکل تریسٹھ اے لگے گا اور اسپیکر کی نشست سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے.

    اجلس کے موقع پر سیکیوعتی کیلئے پولیس کے تازہ دم دستے پنجاب اسمبلی کے احاطے میں تعینات کیا گیا،پولیس کے اہلکاروں کو ایوان کے اندر تعینات کر دیا گیا،پولیس اہلکار ڈپٹی اسپیکر کی سیٹ کے پیچھے تعینات کئے گئے تھے،پولیس اہلکاروں کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے خصوصی اختیار دئیے گئے ، اجلاس شروع ہوتے ہی پنجاب اسمبلی گیٹ کو تالے لگا دیئے گئے اورکسی بھی شخص کو اندر آنے اور باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی.

    پیجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے مونس الہیٰ نے شجاعت حسین سے ملاقات کی ، دوسری جانب سابق صدر آصف زرداری بھی چودھری شجاعت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے.

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے آج کے اجلاس کیلئے 4 بجے کا وقت دیا گیا تھا.وزیراعلی پنجاب کیلئے مسلم لیگ ن کے حمزہ شہباز اور مسلم لیک ق کے چوہدری پرویز الہی مدمقابل تھے تاہم جیت کیلئے دونوں ہی پر عزم تھے.

    وزیراعلی پنجاب کو منتخب کرنے کیلئے حکومتی اور اپوزیشن ارکان پنجاب اسمبلی پکو بسوں میں پنجاب اسمبلی لایا گیا، زرائع کے مطابق ارکان پیجاب اسمبلی کی کڑی نگرانی بھی کی گئی اور ووٹنگ کا عمل مکمل ہونے تک ارکان کو اسمبلی کی عمارت سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی.پ

    مسلم لیگ ن کی رکن پیجاب اسمبلی عظمی ضعیم قادری بھی کورونا کے باوجود پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز کو ووٹ ڈالنے پہنچی تھیں.اجلاس سے قبل پنجاب اسمبلی کے باہر ن لیگ اور اسمبلی کے سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھگڑا بھی ہوا، رانا مشہود کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی والوں نے ہمارے سٹاف کو اندر جانے سے روکا .

  • وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع،آئی جی پنجاب کا تبادلہ

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن سے قبل ہی تبادلے شروع ہو گئے

    فیصل شاہکار کو آئی جی پنجاب تعینات کر دیا گیا راو سردار کو آئی جی ریلویز تعینات کر دیا گیا،اس ضمن میں نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا ہے

    فیصل شاہکار پاکستان پولیس سروس کے گریڈ 21 کے آفیسر ہیں۔ان کا تعلق 16 کامن سے ہے ،فیصل شاہکار نے 1988میں بطور اے ایس پی پاکستان پولیس سروس جوائن کی ،فیصل شاہکار نے لگ بھگ تین برس ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ کے عہدے پر خدمات سر انجام دیں۔ فیصل شاہکار ساہیوال اور گوجرانوالہ میں ریجنل پولیس آفیسر کے عہدوں پر بھی تعینات رہے۔

    فیصل شاہکار تین باراقوام متحدہ مشن پربوسنیا اور لائبریا سمیت دیگر ممالک میں بھی فرائض اداکر چکے ہیں۔فیصل شاہکار لاہور، شیخوپورہ، ساہیوال، ملتان، پاکپتن، ٹوبہ ٹیک سنگھ، تھرپارکر، ننکانہ اور گوجرانوالہ میں اہم عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں۔فیصل شاہکار اے آئی جی آپریشنز، سنٹرل پولیس آفس لاہور میں بھی فرائض ادا کر چکے ہیں۔ فیصل شاہکار ڈی آئی جی پولیٹیکل سپیشل برانچ کے عہدے پر بھی دو برس تعینات رہے۔فیصل شاہکار نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اسلام آباد اور ڈی آئی جی ویلفیئر پنجاب کے عہدے پر بھی خدمات سر انجام دیں۔ فیصل شاہکار ان دنوں وفاق میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ فیصل شاہکار کو ملکی وعالمی سطح پر اہم عہدوں پر فرائض کی ادائیگی کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔ فیصل شاہکار کا شمار پاکستان پولیس کے انتہائی پروفیشنل، فرض شناس اور تجربہ کار پولیس افسران میں ہوتا ہے

    پی ٹی آئی کا وزارت اعلیٰ کا مضبوط امیدوار ہونے کی وجہ سے کہا جا رہا تھا کہ افسران نے تبادلوں کے لئے کہا ہے، آئی جی پنجاب راو سردار علی نے اپنے عہدے پر مزید کام کرنے سے معذرت کی تھی جس پر انکا تبادلہ کر دیا گیا ہے،

    واضح رہے کہ آئی جی اور چیف سیکرٹری پنجاب میں عمران خان کے انتقام کی وجہ سے تبادلے کروا رہے ہیں کیونکہ عمران خان جلسوں میں کہہ چکے ہیں کہ میں سب کو دیکھ لوں گا پنجاب میں افسران میں نے ہی لگائے تھے سب کے چہرے یاد ہیں، اب پنجاب میں پی ٹی آئی کی دوبارہ متوقع حکومت کے بعد ان افسران کے خلاف کاروائی متوقع تھی اسی لئے افسران تبادلوں پر غور کر رہے ہیں

    [wp-embedder-pack width=”100%” height=”400px” download=”all” download-text=”” attachment_id=”520972″ /]

    پنجاب کا چوہدری کون ہو گا ؟ فیصلہ آج ہو گا

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    ادھر پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکمرانی کیلئے نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ ابھی تھوڑی دیربعد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مسلم لیگ قائداعظم (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی آمنے سامنے ہیں۔

    فرح خان کیس ،عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ ہونے لگا

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب،چوہدری نثارکس کی حمایت کریں گے:خبریں آنا شروع ہوگئیں

    لاہور:پنجاب میں کچھ دیر بعد وزیراعلی کا انتخاب ہونے جارہا ہے دوسری طرف یہ خبریں بھی گردش کررہی ہیں کہ چوہدری نثار کا فیصلہ بھی بہت اہمیت اختیار کرسکتا ہے ، لیکن انہیں خبروں کے وائرل ہونے کے ساتھ ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ چوہدری نثارفیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں

    سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار آج بھی پنجاب اسمبلی کی کارروائی میں شریک نہیں ہونگے۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار لاہور جانے کے بجائے راولپنڈی میں موجود ہیں۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی س چوہدری نثار نے فیض آباد راولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ کے قریب نماز جمعہ ادا کی۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر جب چوہدری نثآر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ لاہور جارہے ہیں تو چوہدری نثارعلی خان نے جواب دیا کہ لاہور جانے کا آج کوئی ارادہ نہیں ہے۔

    پنجاب کا چوہدری کون ہو گا ؟ فیصلہ آج ہو گ

    چوہدری نثار سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آپ کولگتا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا انتخابی عمل آج مکمل ہوجائے گا؟۔ اس پران کا کہنا تھا کہ مجھے اس حوالے سے کچھ معلوم نہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل چوہدری نثار نے پہلے وزیراعلیٰ کے انتخاب ميں کسی امیدوار کو ووٹ نہیں ڈالا تھا۔

    موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی نگرانی میں عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے،عمران خان

    چوہدری نثار 2018 کے انتخابات میں راولپنڈی سے رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ چوہدری نثار نے گزشتہ سال قانونی پابندی کے باعث رکن صوبائی اسمبلی کا حلف اٹھایا تھا۔

    ادھر دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب پر حکمرانی کیلئے نئے وزیراعلیٰ کا چناؤ آج تھوڑی دیربعد ہونے جا رہا ہے، جس میں پاکستان مسلم لیگ نواز (ن) کے حمزہ شہباز اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ مسلم لیگ قائداعظم (ق) کے چوہدری پرویز الہٰی آمنے سامنے ہیں۔

    وزیراعلی پنجاب کا انتخاب،آصف زرداری کی شجاعت حسین سے دوسری اہم ملاقات،رات گئے تک جوڑ توڑ

    ضمنی انتخاب میں کامیاب لودھراں سے منتخب ہونے والے رکن پیر رفیع الدین بخاری نے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کا اعلان کردیا۔ پیر رفیع الدین کا کہنا ہے کہ وزارت اعلی کے لیے حمزہ شہباز کو سپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ابھی کسی جماعت میں شامل نہیں ہورہا فی الحال حمزہ شہباز کا ساتھ دے رہا ہوں۔

  • پرامن ضمنی انتخابات کو یقینی بنانے کیلئےدن رات محنت کی،حمزہ شہباز

    پرامن ضمنی انتخابات کو یقینی بنانے کیلئےدن رات محنت کی،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ غیر جانبدار اور شفاف ضمنی انتخابات کے انعقاد پرتمام متعلقہ اداروں کو مبارکباد دیتا ہوں۔ پرامن ضمنی انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے تمام متعلقہ اداروں نے دن رات محنت کی۔ووٹرز نے پرامن ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ کچھ مقامات پر ناخوشگوار واقعات پیش آئے،جس پر فوری ایکشن لیاگیا۔

    اپنے بیان میں حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پنجاب کے 20حلقوں میں مجموعی طورپر امن و امان کی صورتحال اطمینان بخش رہی۔ پرامن ماحول میں ضمنی الیکشن کا انعقاد یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات کئے گئے ہیں۔وضع کردہ سکیورٹی پلان پر من و عن عملدرآمد یقینی بنایا گیا۔ پرامن ماحول میں ضمنی الیکشن کا انعقاد ہماری ذمہ داری تھی جسے بطریق احسن پورا کیاگیا۔ امن عامہ کی فضا برقرار رکھنے کے لئے تمام ضروری وسائل بروئے کار لائے گئے۔الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر انتظامیہ اورپولیس نے عملدرآمدکرایا۔

    صوبائی وزیر داخلہ عطا اللہ تارڑ نے پنجاب میں ضمنی الیکشن کے پرامن انعقاد پر اپنے پیغام میں کہا کہ الحمد اللہ آج پنجاب میں پرامن الیکشن کا انعقاد ہوا ، پورے پنجاب میں کہیں بھی کوئی سنگین واقعہ پیش نہیں آیا نہ کوئی جانی نقصان ہوا ہے ،کچھ مقامات پر معمولی جھگڑے ہوئے لیکن حالات پر قابو پا لیا گیا ،پنجاب کو اسلحہ سے پاک کرنے کی کمپین بلا امتیاز اور مؤثر طریقے سے چلائی گئی اور پورے دن میں ایک گولی بھی نہیں چلی.

  • عید پرصفائی کے بہترین انتظامات،حمزہ شہبازکا محکموں کو بونس

    عید پرصفائی کے بہترین انتظامات،حمزہ شہبازکا محکموں کو بونس

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عید پر صوبے بھر میں بہترین صفائی پر انتظامیہ اورسٹاف کو شاباش دی اور ایل ڈبلیو ایم سی کے سٹاف کے لئے ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ دینے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز نے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے منتخب افسروں اور سینٹری ورکروں کو خصوصی تقریب میں تعریفی سرٹیفکیٹس دئیے۔
    وزیراعلی پنجاب کی مخدوم احمد محمود سے ملاقات،ضمنی الیکشن اکثریت سے جیتیں گے،حمزہ شہباز

    90-شاہراہِ قائد اعظم آفس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کا فیلڈ سٹاف صفائی کے بہترین انتظامات پر دادو تحسین کا مستحق ہے۔ متعلقہ افسران اور عملے نے جذبے کے ساتھ کام کرکے پورے پنجاب کو صاف ستھرا بنایا۔ ماضی میں لاہور سمیت دیگر شہر کوڑے کا ڈھیر بنے نظر آتے تھے، اس سال شاندار کام کیا گیا۔ آئندہ بھی اسی جذبے سے کام کرنا ہو گا۔ عید صفائی پلان پر من وعن عملدرآمد سے بہترین نتائج سامنے آئے۔

     

    آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ بہت جلد متوقع

     

    انہوں نے کہا کہ محنت لگن اور خدمت کے جذبے سے لاہور سمیت ہر شہر کو پھولوں کا شہر بنائیں گے۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس کے دوران عید الاضحی پر کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی۔ اجلاس میں مری میں ٹریفک اور سیاحوں کے بہترین انتظامات پر آر پی او راولپنڈی اور سی ٹی او کی کارکردگی کو سراہا گیا۔

    اجلاس میں بتا یا گیا کہ صفائی کے حوالے سے لاہور اور راولپنڈی ڈویژن کے کمشنرز کی کارکردگی سب سے بہتر رہی۔ بہاولپور ڈویژن کے کمشنر نے کارکردگی کے حوالے سے دوسری پوزیشن اور ساہیوال ڈویژن کی کمشنر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے کارکردگی کے حوالے سے پہلی، ڈپٹی کمشنر لاہور نے دوسری اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نے پہلی، چیف ایگزیکٹو آفیسر راولپنڈی نے دوسری اور چیف ایگزیکٹو آفیسر بہاولپور نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

     

    عطاءاللہ تارڑ نے فرح خان گوگی کے لیگل نوٹس کا جواب دے دیا

     

    اجلاس میں خواجہ احمد حسان، چوہدری شہباز، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صوبہ بھر سے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، میونسپل کمیٹیوں کے چیف آفیسرز اور واسا حکام ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک تھے۔

  • حمزہ شہباز نےعوام کوسو مفت یونٹ کا تحفہ دیا توعمران نیازی عدالت چلا گیا،مریم نواز

    حمزہ شہباز نےعوام کوسو مفت یونٹ کا تحفہ دیا توعمران نیازی عدالت چلا گیا،مریم نواز

    پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام جانتی ہے مہنگائی عمران خان کی وجہ سے ہے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل سمیت دیگر قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف عوام کو آنے والے چند مہینوں میں پٹرولیم مصنوعات پر بہت بڑا ریلیف دینگے۔

    شیخوپورہ کے حلقے پی پی 140 میں اتنخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے کہا کہ میں یہاں کی عوام کودونوں ہاتھوں سے سلام کرتی ہوں، جتنی محبت مجھے اس گرمی کے باوجود مجھے شہر نے دی ہے میرا بس نہیں چل رہا میں عوام میں آ جاؤں۔ یہاں جذبے دیکھ کر لگتا ہے کہ 17 جولائی کو شیر واپس آ رہا ہے۔ عوام کا جم غفیر گراؤنڈ کے باہر موجود ہے۔ میاں خالد محمود کو مبارکباد دیتی ہوں ، اس حلقے سے آپ الیکشن جیت چکے ہیں۔ عمران خان شیخوپورہ یہاں سے چھوٹا سے جلسہ کر کے گیا، بتانا چاہتی ہوں یہ شہر مسلم لیگ ن کا ہے۔ عمران خان بتا نہیں سکتا گزشتہ چار سال میں کوئی کام نہیں کیا، یہ ہمارے نام بدل کر پکارتا ہے، یہ ہمیشہ جھوٹ بولتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے اڑھائی ماہ میں بہت کام کیے، لیکن عمران خان نے چار سال میں ایک کام نہیں کیا، مہنگائی ضرور ہے، اپنی کمپین شروع کرنے لگی تو لوگوں نے کہا عمران خان کی وجہ سے ہمیں مہنگائی کرنی پڑی، ائی ایم ایف کے معاہدے کے باعث ہمیں پٹرول سمیت مہنگائی بڑھی، ن لیگ کیلئے عوام کی شفقت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ پنجاب آج بھی شیر کے پاس کھڑا ہے، عوام جانتی ہے مہنگائی عمران خان کی وجہ سے ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ پی ٹی آئی نے کیا تھا۔ مشکل جتنی بھی بڑی ہوں، نواز شریف، شہباز شریف سمیت مسلم لیگ ن بحرانوں سے نکالے گی۔عوام کی امید کبھی ٹوٹنے نہیں دینگے۔

    مریم نواز نے کہا کہ حمزہ شہباز نے پنجاب کی عوام کو سو مفت یونٹ کا تحفہ دیا، خیبرپختونخوا کی عوام کو مفت بجلی دینے کے بجائے یہ عدالت چلا گیا، عوام کو ریلیف مل رہا ہے اس کے خلاف یہ عدالت چلا گیا ہے، عمران خان پنجاب کی دشمنی بہت حد تک آگے نکل گیا ہے اور اس نے ظلم کروا کر ختم کروا دیا، عوام اسے معاف نہیں کرے گی، 17 جولائی تک نہ صحیح 17 جولائی کے بعد پنجاب کے عوام کی بجلی مفت کریں گے۔ عالمی مارکیٹ میں تیل سمیت دیگر قیمتیں تیزی سے نیچے آ رہی ہیں، شہباز شریف عوام آنے والے چند مہینوں میں پٹرولیم قیمتوں پر بہت بڑا ریلیف دینگے۔فتنہ خان شہباز شریف آپ کے چودہ طبق روشن کرے گا۔ 75 سال بعد یہ پہلا وزیراعظم ہے جس کے اپنے لوگوں نے اسے مار مار کر عہدے سے فارغ کروایا ہے۔

    ن لیگ کی نائب صدر نے مزید کہا کہ میاں خالد محمود کو ووٹ دینا، یہ شیر کا امیدوار ہے، اس نے پنجاب کا مینڈیٹ آپ کو واپس دلوایا اور اپنی سیٹ کی پرواہ نہیں کی۔ فتنہ خان کو پتہ ہے کہ اگلے سال تک ہماری حکومت رہی تو مہنگائی کم ہو جائے گی، معیشت ٹھیک ہو جائے گی، حالات ٹھیک ہو جائینگے، ان کی سیاست ختم ہو جائے گی، مسلم لیگ ن کو اپنی عوام کو تکلیفوں سے نکلوائے گی۔ انشاء اللہ مسلم لیگ ن چند مہینوں میں عوام کو بحرانوں سے نکالے گی۔