Baaghi TV

Tag: حمزہ شہباز

  • حمزہ شہباز نےنیشنل ہاکی سٹیڈیم میں کمشنر لاہور انڈر 13 ہاکی لیگ 2022 کا افتتاح کیا

    حمزہ شہباز نےنیشنل ہاکی سٹیڈیم میں کمشنر لاہور انڈر 13 ہاکی لیگ 2022 کا افتتاح کیا

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے آج نیشنل ہاکی سٹیڈیم میں کمشنر لاہور انڈر 13 ہاکی لیگ 2022 کا افتتاح کیا۔
    پاکستان ہاکی فیڈریشن تحلیل، صدر، سیکریٹری اور خزانچی فارغ

    وزیر اعلی نے ہاکی سے گیند کو شارٹ لگا کر ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز کیا اور ہاکی لیگ کی ٹرافی کی رونمائی کی۔ وزیراعلی حمزہ شہباز نے ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے تمام کھلاڑیوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ کمشنر لاہور انڈر 13 ہاکی لیگ کے ٹرائل میں 1100 کھلاڑیوں نے شرکت کی اور 180 کھلاڑی میرٹ پر منتخب ہوئے۔

     

    دورہ سری لنکا: قومی کرکٹ اسکواڈ کے مساجرملنگ علی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا

     

    امید ہے کہ اس ینگ ٹیلنٹ ہی میں سے کھلاڑی قومی ہاکی ٹیم کا حصہ بنیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔انہوں نے کہا کہ انڈر 13 ہاکی لیگ کی ٹیلنٹ ہنٹ سکیم کو پنجاب سپورٹس بورڈ کے سالانہ کیلنڈر میں شامل کر دیا گیا ہے اور ہر سال منعقد ہونے والے اس ہاکی لیگ کا یہ سلسلہ پورے پنجاب تک وسیع کیا جائے گا۔

    قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عیدالاضحیٰ پر صوبے کی جیلوں میں معمولی جرائم میں بند قیدیوں کی سزائیں ایک ماہ کم کردیں۔سزا میں معافی پانے والے قیدی اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ عید منا سکیں گے۔وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے سزاؤں میں کمی کی منظوری دیتے ہوئے کہا جیلوں کو اصلاح گھر ہونا چاہئے۔معمولی جرائم میں لائے گئے قیدیوں کو سدھارنا مقصد ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ معمولی جرم میں آنے والے قیدی عملے اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے رویئے کی وجہ سے بڑئے مجرم بن کر نکلیں۔

    مزید برآں وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف سے ترکی کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و فارن افیئرز سیلامی کیلک(Mr. Selami Kilic) کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی. ترکی کے قونصل جنرل امیر اوزبے (Mr. Emir Ozbay) بھی اس موقع پر موجود تھے ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور شعبہ صحت میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا،فیملی میڈیسن سسٹم،نرسنگ،ویکسینیشن اور ہیلتھ کیئر کی معیاری سہولتیں کی فراہمی کے لئے تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا.

  • وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا عیدالاضحیٰ پر بڑا فیصلہ.

    صوبے کی جیلوں میں معمولی جرائم میں بند قیدیوں کی سزائیں ایک ماہ کم کردیں۔سزا میں معافی پانے والے قیدی اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ عید منا سکیں گے۔وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے سزاؤں میں کمی کی منظوری دیتے ہوئے کہا جیلوں کو اصلاح گھر ہونا چاہئے۔معمولی جرائم میں لائے گئے قیدیوں کو سدھارنا مقصد ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ معمولی جرم میں آنے والے قیدی عملے اور دیگر جرائم پیشہ افراد کے رویئے کی وجہ سے بڑئے مجرم بن کر نکلیں۔

    اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی بھی ٹی وی پرعوام تک پہنچانے کا فیصلہ

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف سے ترکی کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و فارن افیئرز سیلامی کیلک(Mr. Selami Kilic) کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی. ترکی کے قونصل جنرل امیر اوزبے (Mr. Emir Ozbay) بھی اس موقع پر موجود تھے ،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور شعبہ صحت میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا،فیملی میڈیسن سسٹم،نرسنگ،ویکسینیشن اور ہیلتھ کیئر کی معیاری سہولتیں
    کی فراہمی کے لئے تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا.

    عید الاضحی،سکیورٹی پلان فائنل،صفائی کے لیے کنٹرول روم قائم

     

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ ترک بھائیوں سے ملاقات میرے لئے باعث مسرت ہے۔پاکستان اورترکی ہر موسم کے حقیقی دوست ممالک ہیں۔ ترکی کے ساتھ تعلقات ایک بار پھر بلندیوں پر لے جانا چاہتے ہیں۔پنجاب کے عوام کو صحت کی معیاری سہولتیں فراہم کرنا ہمارا مشن ہے۔ معیاری ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے ترکی کے تجربے سے مزید استفادہ کرنا چاہتے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف کے دور وزارت اعلی میں ترک وزارت صحت نے شعبہ صحت میں پنجاب حکومت کی بھرپور معاونت کی۔

    ترکی کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل برائے یورپی یونین و فارن افیئرز سیلامی کیلک(Mr. Selami Kilic) نےوزیراعلیٰ حمزہ شہبازشریف کو ترکی کے دورے کی دعوت دی

    سیلامی کیلک شعبہ صحت کی بہتری کے لئے پنجاب حکومت کے ساتھ پہلے بھی تعاون کیا، آئندہ کریں گے،
    صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، خواجہ احمد حسان ، لیگل ایڈوائزر علی رضا، چیئرمین منصوبہ بندیوترقیات،سیکرٹری صحت اور اعلی افسران بھی اس موقع پر موجود تھے

  • حمزہ شہباز سے نیدرلینڈ کے سفیرکی ملاقات،زراعت سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق

    حمزہ شہباز سے نیدرلینڈ کے سفیرکی ملاقات،زراعت سمیت کئی شعبوں میں تعاون پر اتفاق

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف سے وزیراعلیٰ آفس میں نیدر لینڈ کے سفیر ووٹر پلمپ (Mr. Wouter Plomp) نے ملاقات کی۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا۔ماحولیاتی تغیرات و موسمی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی صورتحال اور جی ایس پی پلس کے کنونشنز پر بھی گفتگو کی گئی۔ ملاقات میں زراعت، فوڈ سکیورٹی، فوڈ پروسیسنگ، ماحولیات اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیاگیا۔

     

    بجلی کے نرخوں میں اضافے کی سفارش کابینہ نے مسترد کی،وفاقی وزیر

     

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان او رنیدرلینڈ کے مابین اچھے دوستانہ تعلقات موجو د ہیں۔جی ایس پی پلس کے لئے سپورٹ پرنیدر لینڈ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ پنجاب میں زراعت، فوڈ پروسیسنگ، فوڈسکیورٹی، ماحولیات اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈ کو زراعت، فوڈ پروسیسنگ اور واٹر مینجمنٹ کے شعبو ں میں خاص مہارت حاصل ہے۔پنجاب ایک زرعی صوبہ ہے اور زرعی معیشت کا فروغ ہماری ترجیح ہے-فوڈ سکیورٹی اور زرعی شعبے میں پیداوار بڑھانے کیلئے نیدر لینڈ کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

    فیری سروس سے پاکستان میں سیاحت کو فروغ حاصل ہوگا،صدر عارف علوی

    انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے میں نیدر لینڈ کی تکینکی معاونت سے فائدہ پنجاب کے کاشتکاروں کو پہنچے گا۔وزیر اعلی حمزہ شہباز نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں پوری دنیا کے لئے بہت بڑا چیلنج ہیں۔پاکستان کو بھی ماحولیاتی تغیرات کا سامنا ہے۔اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے اقوام عالم کو تیزی سے مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    نیدر لینڈ کے سفیر نے کہا کہ پنجاب کے زرعی شعبے میں تعاون کے بہت مواقع موجود ہیں – پنجاب حکومت کے ساتھ اشتراک کار کو فروغ دینا چاہتے ہیں -نیدر لینڈ کے اکنامک قونصلر پال ایڈرر (Mr. Paul Ederer)، لاہور میں نیدرلینڈ کی اعزازی قونصل عاصمہ حامد، لیگل ایڈوائزر علی رضا، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹری زراعت، سیکرٹری اطلاعات، چیئرمین پنجاب سرمایہ کاری بورڈ اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

    دریں اثناء وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے مون سون سیزن اور ممکنہ سیلاب کے خدشے کے پیش نظر تمام انتظامی مشینری کو 24/7 الرٹ رہنے کا حکم دے دیا ہے۔ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ کمشنرز اربن فلڈنگ اور ممکنہ سیلاب کے خدشے کے تناظر میں تمام تیاریاں مکمل رکھیں۔دریاؤں کے بیڈکے اندر آبادیوں کا بروقت انخلاء پہلی ترجیح ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں کے بیڈکے اندر تجاوزات کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور دریاؤں کے بیڈکے اندر آبادیوں کے بروقت انخلاء یقینی بنانے کے لئے عوامی نمائندوں کو بھی آن بورڈ لیا جائے۔موسم کی صورتحال انتہائی غیر متوقع ہے اور غیر معمولی موسمی حالات کے پیش نظر آپ کی تیاریوں کا لیول بھی غیر معمولی اقدامات کا متقاضی ہے۔

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کہا کہ آپ کے پلان تیار ہیں، اصل چیلنج پلان پر عملدرآمد ہوتا ہے۔آپ کی تیاریاں زمین پر نظر آنی چاہئیں اور جہاں بھی کمی کوتاہی ہے، فی الفور دور کی جائے۔ مخلوق خدا کو تکلیف ہوئی تو سخت ایکشن لوں گا۔تمام متعلقہ صوبائی اور وفاقی ادارے مربوط اور بہترین کوآرڈینیشن کے تحت فرائض سرانجام دیں۔ وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے کمشنرز کو دریاؤں کے بند کی انسپکشن کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سطح پر مستند معلومات اور ڈیٹا کیلئے تمام انتظامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے۔تھرڈ پارٹی آڈٹ کا کام پروفیشنل اپروچ کے ساتھ کرایا جائے اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کا ادارہ جاتی میکنزم تشکیل دیا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی ناگہانی آفت کی صورت میں محکمہ صحت کے پاس ضروری ادویات خصوصاً سانپ کے کاٹے کے علاج کیلئے ادویات وافر مقدار میں موجود ہونی چاہئیں۔ واساز سے متعلقہ ایشوز کو جلد حل کیا جائے۔ بارشوں میں بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ساتھ تسلسل کے ساتھ رابطے میں رہا جائے۔ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیر صدارت آج وزیراعلیٰ آفس میں اجلاس منعقد ہوا۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ممکنہ سیلاب اور مون سون کی تیاریوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ ڈویژنل کمشنرز نے اپنے اضلاع میں ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے پیشگی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا۔

    رکن پنجاب اسمبلی ذیشان رفیق، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ، سیکرٹری آبپاشی، کمشنر لاہورڈویژن، سیکرٹری بلدیات، سیکرٹری ہاؤسنگ، سیکرٹری اطلاعات، فورکور کے نمائندے، ڈی جی ریسکیو1122 اورمتعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ صوبائی وزیر ملک محمد احمد خان اور ڈویژنل کمشنرز وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

  • ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی،الیکشن کمیشن کا عطاءتارڑ کے بعد حمزہ شہباز کو نوٹس

    ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی،الیکشن کمیشن کا عطاءتارڑ کے بعد حمزہ شہباز کو نوٹس

    پنجاب میں ضمنی انتخابات سے متعلق جاری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پرالیکشن کمیشن نے صوبائی وزیر داخلہ عطاءتارڑ کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو نوٹس بھیج دیا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق پنجاب میں 100 یونٹ فری بجلی کے سبسڈی ریلیف پیکج پر الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو نوٹس بھیجا ہے۔

    محنت کریں، حسد نہ کریں،مریم نواز کا مفت بجلی پر تنقید کرنیوالوں کوجواب

    الیکشن کمیشن کے مطابق ضمنی انتخابات سے قبل سبسڈی ریلیف پیکج کے اعلان پر حمزہ شہباز شریف کو7 جولائی کیلئے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہےکہ پنجاب کے20 حلقوں میں انتخابات کےشیڈول کا اعلان 25 مئی کو کیا گیا تھا، منتخب نمائندہ یا سرکاری اور حکومتی عہدیدار الیکشن شیڈول کے بعد ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کرسکتا، نوٹس وزیر اعلیٰ پنجاب کے ” روشن گھرانہ پروگرام ” کے تحت بجلی صارفین کے لیے 100 یونٹ سبسڈی ریلیف پیکج پردیا ہے۔

     

    فواد چودھری نے پنجاب کی سیاسی صورتحال پر سپریم کورٹ کو خط لکھ دیا

     

    خیال رہےکہ وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے گزشتہ روز صوبے میں 100 یونٹ تک استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو مفت بجلی دینےکا اعلان کیا تھا۔حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ جب بجلی کا بل آتا ہے تو قیامت ڈھاتا ہے، پچھلے6 ماہ میں جنہوں نے 100 یونٹ بجلی استعمال کی ہے، پنجاب حکومت انہیں مفت بجلی فراہم کرے گی، 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کے بل کا خرچہ اگست سے پنجاب حکومت اٹھا ئےگی۔

    قبل ازیں الیکشن کمیشن نے وزیر قانون پیجاب عطاء اللہ تارڑ کو الیکشن کمیشن کے ضابظہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر وضاحت طلب کر لی.الیکشن کمیشن کی جانب سے صوبائی وزیر داخلہ پنجاب عطاءاللہ تارڑ کی طلبی کا مراسلہ جاری کیا گیا ہے ،مراسلے میں کہا گیا کہ کہ وزیر داخلہ پنجاب نے 27 اور 28 جون کو جھنگ کا دورہ کیا اور جھنگ میں منعقد پونے والے ضمنی انتخابات کے سلسلے میں پی پی 125 اور پی پی 127 کے حلقوں میں الیکشن کمین میں حصہ لیا.وزیر داخلہ نے ان حلقوں میں لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا.

    مراسلے میں مزید کہا گیا کہ وزیر داخلہ پنجاب عطاءاللہ تارڑ کی جانب سے الیکشن کمپین میں حصہ لینے کی کئی ذرائع سے تحریرٰ اطلاعات ملی ہیں.مراسلے کے مطابق وزیر داخلہ پنجاب عطاء تارڑ کو خود یا اپنے وکیل کے ذریعے یکم جولائی 2022 کو دوپہر 2 بجے ڈ سٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر جھنگ الیکشن کمیشن کے روبرو پیش ہو کر وضاحت کریں بصورت دیگر ان کے خلاف الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی.

    مراسلے میں 15 جون کے ضمنی الیکشن کیلئے جاری کئے گئے ضابظہ اخلاق کو بھی دوبارہ دوہرایا گیا.اور بتا کیا کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطاباق صدر ،وزیراعظم ،چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ، اسمبلی کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر وفاقی وزراء،وزراء مملکت،گورنرز، وزراء اعلی، وزیراعظم اور وزراء اعلی کے معاونین ، مشیران ،میئرز، چیئرمین، اور ناظم الیکشن کے دوران کمپین میں حصہ نہیں لے سکتے.مراسلہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر الیکشن کمیشن برائے ضمنی الیکشن جھنگ محمد توصیف قادر کے دستخط سے جاری کیا گیا.

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے پنجاب حکومت کی جانب سے 100 یونٹ مفت بجلی کے اعلان پر سپریم کورٹ کو خط بھی لکھا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر مرکزی نائب صدر فواد چوہدری کی جانب سے سپریم کورٹ کو لکھےگئے خط میں کہا گیا ہےکہ پنجاب کو بحران سے نکالنے کے لیے وزیراعلیٰ کا فارمولا سیاسی فوائدکے لیے ہے، یہ فیصلہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے، عدالت نے انہیں حکم دیا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب 22 جولائی تک صرف ضابطے کے اختیارات استعمال کریں گے۔

  • 100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کی بجلی مفت،حمزہ شہباز کا بڑا اعلان

    100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کی بجلی مفت،حمزہ شہباز کا بڑا اعلان

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے صوبے میں 100 یونٹ استعمال کرنے والےگھریلو صارفین کو مفت بجلی دینےکا اعلان کردیا۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ آج ہمیں اس ملک کو بچانا ہے، ہمیں عوام کی مشکلات کا احساس ہے، مجبوری کے تحت سخت فیصلے کیے گئے۔

    حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ آج پاکستانی قوم سے اور صوبے کی عوام سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں،سیاسی کارکن کسی اور نظر سے زندگی کو دیکھتا ہے،اتار چڑھاؤ زندگی میں آتے رہتے ہیں، آج جو بات بھی ہونی چاہیے وہ صحیح ہونی چاہیے،چوہتر سال بعد قوم ایک دہرائے پر کھڑی ہے،سیاست نہیں ریاست کو بچانا ہے معیشت کو بچانا ہے، قوم دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے دو ہزار اٹھارہ میں ن لیگ حکومت مکمل کرکے گھر جارہی تھی، کیا گروتھ ریٹ پانچ اعشاریہ اٹھارہ نہیں تھا.

    عمران مجرموں کا سرغنہ ہے لہذا انکے خلاف مقدمہ بنایا جائے گا. وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کیا لوڈشیڈنگ زیرو پر نہیں تھی، ان چار سالوں میں ایسا کیا ہوگیا لوڈشیڈنگ کو یہ واپس لے آئے،میں کبھی عمران نیازی کی طرح نہیں کہوں گا نوے دن میں سب مسئلے حل ہوجائے گے، میں کبھی یہ نہیں کہوں گا آئی ایم ایف کے پاس چلا گیا تو خودکشی کرلوں گا، میں جب تک وزیر اعلی رہوں گا سچی بات کروں گا، چور ڈاکو کے نعرے نہیں لگاؤں گا ، ان نعروں سے عوام کے کان پک گئے ہیں، پچھلے تین مہینوں میں میرا سفر آئین اور قانون کے بحران سے بھرا پڑا ہے،کبھی وزیر اعلی کے الیکشن کے دوران ڈپٹی اسپیکر پر حملہ کردیا جاتا ہے،میں آج تین مہینوں کا حساب دینے آیا ہوں،آج مجھے خوشی ہے کہ آج انٹرنیشنل مارکیٹ ساڑھے پانچ ہزار من گندم ریٹ پر جاچکی ہے، ہم نے پچاس لاکھ ٹن گندم کسانوں سے خریدی.

    گیس پر چلنے والے کارخانوں کے لئے گیس لوڈ شیڈنگ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت

     

    حمزہ شہباز نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ دو سو ارب کی سبسڈی بغیر کابینہ کے دے رہے ہیں کل نیب والے پوچھیں گے، ہم نے دس کلو آٹے کے تھیلے پر ایک سو ساٹھ روپے کم کیئے، آج شہروں میں غریب آدمی صحت کارڈ لے کر جاتا ہے تو ڈاکٹر نسخہ تھما دیتے ہیں،تمام اضلاع میں عام آدمی کو ٹی ایچ کیو اور ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں دوائیاں مفت مل رہی ہیں، ہم نے لوکل باڈیز کا بل اسمبلی سے پاس کروایا،میں نے کبھی یہ سنا نہیں کہ کہیں شخص یہ کہے کہ مجھے نکال دیا تو ایٹمی سسٹم ، فوج ، ادارے تباہ ہوجائیں گے، ڈونلڈ لو وہ شخص نہیں ہے جو کل تک غدار تھا آج تعلقات بنانے کی کوشش کررہے ہیں.

    انہوں نے کہا کہ کہاں ہیں وہ گھڑیاں جو آپ نے پیسے بیچ کر پیسے جیب میں ڈال لئے، میں صوبے میں بیٹھا ہوں کیوں فرح گوگی کا نام نہ لو، پچاس کروڑ کا پلاٹ آپ کی بیوی کی دوست نے اپنی والدہ کے نام کروالیا ،ایک کروڑ نوکریوں کی بات کرکے لاکھوں لوگوں کی نوکریاں کھا گئے عمران نیازی، فارن فنڈنگ کا فیصلہ بھی آنے والا ہے. اس سے بڑا کھلواڑ کیا ہوسکتا ہے کہ آپ کی کابینہ کو نہیں پتہ اور آئی ایم ایف سے خود فیصلے کئے، اس وقت کے وزیر خزانہ نے کہا کہ میں پٹرول سستا نہیں کروں گا ،دکھی اور بھاری دل سے پٹرول مہنگے کرنے کے فیصلے کیئے، یہ سخت فیصلے ضرور ہیں دن رات محنت کریں گے.

     

    تحریک انصاف نے امریکن سفیر ڈونلڈ لو سے معافی مانگ لی. خواجہ آصف

     

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ کہاں پر چار سال کی تباہی اور کہاں تین مہینے آئینی بحران کے ساتھ آئینی بحران،انھوں نے سی پیک کو بھی نشانہ بنایا ان پر کرپشن کے الزامات لگائے، آج ہم نے اس ملک کو بچانا ہے ، بجلی کا بل آتا ہے تو قیامت ڈھاتا ہے،صوبے کی عوام کا سب سے غریب ترین طبقے کو اس جولائی میں جنھوں نے سو یونٹ بجلی استعمال کی ہے ان کو مفت بجلی دیں گے،گھروں کو ہم ایک منصوبے کے تحت سولر پینلز دیں گے،کہتی ہیں فرح گوگی میری بیٹی ہے اس کو معاف کردو ،سترہ جولائی کو عوام فیصلہ کرے گ، ہم مفت بجلی دینے جارہے ہیں اس کے لئے سو ارب روپے رکھے ہیں، نوے لاکھ خاندان اس سے مستفید ہوگا، ہم خاندانوں کو سولر پینلز دیں گے ، لوگ خود اپنے پیروں پر کھڑے ہوں، ہم غریب آدمی کو سولر پینلز دیں گے تاکہ آنے والے سالوں وہ خود کفیل ہو

  • عیدالاضحی پر پنجاب میں صفائی کے بہترین انتظامات ہونے چاہئیں،حمزہ شہباز

    عیدالاضحی پر پنجاب میں صفائی کے بہترین انتظامات ہونے چاہئیں،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں عید الاضحٰی پر لاہور سمیت صوبہ بھر میں صفائی پلان کا تفصیلی جائزہ لیاگیا .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عید الاضحٰی پر لاہور سمیت پنجاب کے شہروں میں صفائی کے بہترین انتظامات کے لئے ٹاسک سونپ دیئے جبکہ حمزہ شہباز نے کمشنر لاہورڈویژن، ڈپٹی کمشنر لاہور سمیت دیگر اضلاع کے انتظامی افسران کو عید الاضحٰی پر فیلڈ میں موجود رہنے کی ہدایت کر دی.

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا کہ مخلوق خدا کو صاف ماحول فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔عوامی نمائندے بھی اپنے علاقوں میں صفائی کے انتظامات کی نگرانی کریں .وزیراعلیٰ نے یونین کونسل کی سطح پر عوامی نمائندوں کو صفائی کے عمل میں شریک کرنے اور کمیٹیاں تشکیل دیئے کی ہدایت کی.وزیر اعلی حمزہ شہبازنے صفائی کے انتظامات کی مانیٹرنگ کے لیے کنٹرول روم بنانے کا حکم بھی جاری کر دیا.

    عید الاضحی پراسپیشل ٹرینیں چلانے کا فیصلہ

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ صفائی پلان کی موثر مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا جائے۔صفائی پلان کے تحت کئے جانے والے تمام انتظامات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا. گنجان آبادیوں میں صفائی کے انتظامات پر خصوصی فوکس کیا جائے۔وزیر اعلی حمزہ شہبازنےعید الاضحٰی پر بارش کے امکان کے پیش نظر واسا کو چوکس رہنے کی ہدایت بھی کی.

    انہوں نے کہا کہ صفائی کے ساتھ نکاسی آب کے لئے موثر پلان مرتب کیا جائے۔ بارشوں کے پیش نظر واساز اور متعلقہ ادارے اپنی تیاریاں مکمل رکھیں۔ مویشی منڈیوں میں صفائی،نکاسی آب اور پارکنگ پر خصوصی توجہ دی جائے۔ الائشیں اٹھانے اور مناسب طریقے سے ٹھکانے لگانے کیلئے تمام ممکنہ وسائل بروئے لانے جائیں ۔

    حمزہ شہبازکا کہنا تھا کہ عیدالاضحی کے موقع پر پنجاب بھر میں صفائی کے بہترین انتظامات ہونے چاہئیں۔ آپ سب کی ذمہ داری ہے کہ صفائی کے انتظامات کو یقینی بنائیں،پیش کردہ صفائی پلان پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو صفائی کی صورتحال میں واضح بہتری نظر آئے۔

    اس موقع پر وزیراعلی پنجاب کو بریفنگ دی گئی کہ صفائی کے انتظامات کے لیے رواں برس عید الاضحٰی پر 1086 گاڑیاں فیلڈ میں ہوں گی۔ گزشتہ برس 480 گاڑیاں فیلڈ میں تھیں۔ الائشیں اٹھانے کے لئے3516 پک اپ کرائے پر لے رہے ہیں۔الائشیں اکٹھا کرنے کے لئے یونین کونسل کی سطح 280 کیمپ لگائے جائیں گے۔

    وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں کمشنر لاہورڈویژن اور چیف ایگزیکٹو آفیسر لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نےعید الاضحٰی پر صفائی کے انتظامات کے بارے وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف کو بریفنگ دی .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز نے صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کے بارے میں متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات دیں

    اجلاس میں خواجہ احمد حسان، چوہدری شہباز احمد، افتخار احمد، کبیر تاج، صبغت اللہ سلطان، غلام دستگیر، عمران گورایہ، سیکرٹری بلدیات، ایم ڈی واسا اور متعلقہ حکام نے شرکت کی.

  • 22جولائی کوجو بھی رزلٹ آیا، قبول کروں گا،حمزہ شہباز

    22جولائی کوجو بھی رزلٹ آیا، قبول کروں گا،حمزہ شہباز

    وزیر اعلی حمزہ شہباز نے کہا کہ صوبہ پنجاب کئی ماہ سے آئینی بحران کا شکار ہے،کبھی الیکشن ملتوی تو کبھی حلف کا معاملہ التوا ، کبھی گورنر آ رہا تو کبھی وہ سمری کو مسترد کررہے ہیں، پنجاب میں جتنے آئینی بحران تین ماہ میں آئے تو گینز ورک آف ریکارڈ میں آ جائیں.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شپہباز نے کہا کہ کابینہ نہ ہونے کے باوجود گندم کسانوں سے بائیس سو روپے من خریدی جو ساڑھے پانچ من بین الاقوامی سطح پر ہے، دس کلو آٹے پر دو سو ارب روپے کی سبسڈی دی،پہلے جولائی ہے پنجاب کے تمام اضلاع ٹی ایچ کیو اور چودہ ہسپتال میں مفت ادویات ملنے جارہی ہیں.

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں نے یہ نہیں کہا کہ تین ماہ دے دو، دودھ کی نہریں بہا دوں گا.انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں پرویز الہی اور پی ٹی آئی کا موقف الگ تھا، جمہوری انسان ہوں ستائیس سال جدوجہد کی، عدالت عظمی کو بتایا کہ اگر میرے پاس نمبر نہ ہوتے تو سامنے پیش نہ ہوتا ،گھر چلا جاتا.

    حمزہ شہباز نے کہا کہ ابھی الیکشن کروائیں جو ایوان فیصلہ کرے گا دل سے قبول کروں گا،ضمنی الیکشن کے بعد بائیس کو دوبارہ الیکشن کروائیں ،تو بھی قابل قبول ہوگا ،،سترہ کوبھی عوام کا فیصلہ قبول کروں گا، آئینی بحران کےباوجود عوامی منصوبوں سے کوئی نہ روک سکے گا۔ پہلے عدالت عالیہ کا فیصلہ آیا آج چیف جسٹس خود بیٹھے رہے،ان کے اپنے وکلاء، پارلیمانی لیڈر نے جو موقف دیا بائیس جولائی کو انتخاب ہوگا جو بھی رزلٹ آئے گا قبول کریں گے.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ اللہ سے ڈر کر کہتاہوں پنجاب کی عوام نوازشریف اور شہبازشریف پر اعتماد کااظہار کریں گے،پیٹرول کی قیمتیں عمران خان کی وجہ سے بڑھیں، عمران خان ایک طرف آئی ایم ایف سے وعدے کررہا تھا،اور دوسری طرف کہہ رہا تھا کہ عوام کو سستا پیٹرول دوں گا، ہم نے دل پر پتھر رکھ کر حکومت بچانے کےلئے نہیں پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کےلیے سخت فیصلے کئے.

    وزیر اعلی پنجاب کا مذید کہنا تھا کہ سیاسی بوجھ سے جو مسلم لیگ ن نے اٹھایا ہے عوام کو معلوم ہے جب بجلی کے اندھیرے آئے تو ایٹمی قوت کے بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کی،انہون نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سے میڈیا پر پابندیاں اٹھائیں گے،گرانٹ اس ماہ صحافیوں کو دیں گے ،عسکری ادارے کے سربراہ کے خلاف زہر اگلا گیا ،نیازی کی سازش کاپول کھل گیا ہے،فرح گوگی، توشہ خانہ ،چوریاں چھپانے کا پروگرام تھا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ سترہ جولائی کا دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگا ،ن لیگ سترہ جولائی کو جیتے گئ، مشکل وقت ہے دل پر پتھر کر فیصلے کررہۓ سخت فیصلے کے بعد عوام کےلئے آسانیاں آئیں گی.عدالت عظمی میں کہا آپ کا وقت قیمتی ہے جس طرح ڈپٹی سپیکر پر جان لیوا حملہ کیاگیا کون شاباشی کے اشارے کرتا رہا،کس منہ سے حراساں کا ہم انتقام نہیں لیں گے قانون اپنا راستہ ضرور لےگا.

    قبل ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس گنتی پوری ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے طلب کیے جانے پر وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے لاہور رجسٹری پہنچنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔

     

     

    عدالت نے تحریک انصاف کو سات دن کی مہلت دینے سے انکار کردیا

     

     

    قبل ازیں وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پرویز الہٰی سپریم کورٹ لاہور رجسٹری پہنچے تھے.حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ میں جہاں سے آ رہا ہوں وہاں گنتی پوری کر کے آ رہا ہوں، معاملہ ابھی کورٹ میں ہے، دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے گزشتہ روز کے فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کی سماعت کے دوران وزیرِ اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کو طلب کر رکھا تھا.

    قبل ازیں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس جمال خان مندوخیل بینچ میں شامل ہیں پی ٹی آئی کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان روسٹرم پر آگئے ویڈیو لنک پر لاہور سے وکیل امتیاز صدیقی پیش ہوئے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 5درخواستیں ہیں کس کی طرف سے کون سا وکیل پیش ہورہا ہے ؟ بابر اعوان نے کہا کہ میں درخواست گزار سبطین خان کی طرف سے پیش ہورہا ہوں 16 اپریل کو حمزہ شہباز کو وزیر اعلیٰ منتخب کرنے کا انتخاب ہوا، وزیراعلیٰ کے انتخاب کے روز فلور پر پرتشدد ہنگامہ ہوا، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس جج نے اختلافی نوٹ دیا ہے وہ ایک نکتے پر متفق بھی ہوئے ،فیصلے میں کہا ہے کہ جنہوں نے 197 ووٹ لیے ان میں سے25 نکال دیئے ہیں،جب وہ 25 ووٹ نکال دیتے ہیں تودوبارہ گنتی کرائیں، 4 ججز نے یہ کہا ہے کہ پہلے گنتی کرائیں اگر 174 کا نمبر پورا نہیں تو پھر انتخاب کرائیں،آپ یہ کہنا چاہتے ہیں آپ کے کچھ ممبران چھٹیوں اور حج پر گئے ہیں،جتنے بھی ممبرا یوان میں موجود ہوں گے اس پر ووٹنگ ہوگی،جو کامیاب ہوگا وہ کامیاب قرار پائے گا،آپ کی درخواست ہے کہ وقت کم دیا گیا ہے،

    بابر اعوان نے کہا کہ استدعا ہے زیادہ سے زیادہ ممبران کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی درخواست میں یہ بات نہیں ہم درخواست کو پڑھ کر آئے ہیں،بنیادی طور پر آپ یہ مانتے نہیں کہ فیصلہ آپ کے حق میں ہوا ہے،بابر اعوان نے کہا کہ اصولی طور پر اس فیصلے کو مانتے ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ 4ججز نے آج کی اور ایک جج نے کل کی تاریخ دی ہے،کیا آپ کل کی تاریخ پر راضی ہیں ؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو ممبران کہیں گئے ہوئے ہیں وہ 24سے48 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں؟ بابر اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ ہم الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ، لیول پلینگ فیلڈ کیلئے وقت دیا جائے،ہمیں سات دن کا وقت دیا جائے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سات دن کا وقت مناسب نہیں ہے۔ بابر اعوان نے کہا کہ
    ہم تو دس دن چاہتے تھے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ بتائیں جو مناسب وقت آپ کو چاہیئے، بابر اعوان نے کہا کہ ہماری پانچ مخصوص نشستوں پر خواتین کا نوٹیفیکیشن ہونا ہے اس کو سامنے رکھا جائے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ سات دن صوبہ وزیر اعلی کے بغیر رہے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں کیا ہے لکھا ہے کہ اگر وزیر اعلی موجود نہ ہوتو صوبہ کون چلائے گا۔ بابر اعوان نے کہا کہ اس صورت میں گورنر اس وزیر اعلی کو نئے وزیر اعلی آنے تک کام جاری رکھنے کی ہدایت کرتا ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صوبہ دو دن بغیر وزیر اعلی کہ رہ سکتا ہے، بابر اعوان نے کہا کہ ایسی صورت میں عبوری حکومت آئے گی اگر وزیر اعلی بیمار ہو تو سینیئر وزیر انتظامات سنبھالے گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب ہم سمجھے ہیں کہ ہائیکورٹ کے 5 رکنی ججز نے ایسا فیصلہ کیوں دیا،وہ چاہتےہیں کہ صوبے میں حکومت قائم رہے۔ موجودہ وزیراعلی ٰنہیں تو پھر سابق وزیر اعلی ٰکا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا،سابق وزیر اعلی کی اکثریت میں سے 25 میمبران تو نکل گئے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر25 ووٹرز نکال لیں تو پھر موجودہ وزیر اعلی ٰبھی برقرارنہیں رہتا ،وکیل فیصل چودھری نے کہا کہ اگر ہمارے 25ممبران نکل بھی جائیں تو 169 ہمارے پاس ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیراعلی کے پاس 186 ووٹ نہیں ہیں تو انکا فی الحال وزیراعلی برقرار رہنا مشکل ہے،بابر اعوان نے کہا کہ پنجاب میں ایک قائم مقام کابینہ تشکیل دی جا سکتی ہے،

  • وزیراعلیٰ کا انتخاب، ن لیگ تیار،اراکین ہوٹل پہنچ گئے،پی ٹی آئی کو پھر لگنے والا ہے بڑا جھٹکا

    وزیراعلیٰ کا انتخاب، ن لیگ تیار،اراکین ہوٹل پہنچ گئے،پی ٹی آئی کو پھر لگنے والا ہے بڑا جھٹکا

    وزیراعلیٰ کا انتخاب، ن لیگ تیار،اراکین ہوٹل پہنچ گئے،پی ٹی آئی کو پھر لگنے والا ہے بڑا جھٹکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن دوبارہ کروانے کا حکم دیا ہے

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل جمعہ کو ہو گا لاہورہائیکورٹ کے حکم پر وزیراعلی ٰکے انتخاب کیلئے پنجاب اسمبلی کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے وزیراعلی ٰکے انتخاب کیلئے اجلاس کل شام 4 بجے ہوگا . ن لیگ اجلاس کے لئے متحرک ہے، اراکین اسمبلی کو ایک بار پھر ہوٹل پہنچا دیا گیا ہے، حمزہ شہباز اراکین کے ساتھ اجلاس میں جائیں گے،مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی نجی ہوٹل پہنچ گئے ایم پی اے میاں عبدالروف،توفیق بٹ،نواز چوہان و دیگر ہوٹل پہنچ گئے ہیں،

    حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح آج بھی عدالتی فیصلے کا احترام کرتے ہیں فیصلے سے پنجاب میں 3 ماہ سے جاری آئینی بحران ہمیشہ کیلئے ختم ہوگا،اپوزیشن نے اپنی انا کی تسکین کیلئے صوبہ کو آئینی بحران میں دھکیلا،آئینی بحران کا سب سے زیادہ نقصان صوبے کے عوام کو اٹھانا پڑا سیاست برائے سیاست کا قائل نہیں ، سیاست کو خدمت کا درجہ دیتا ہوں مخلوق خدا کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا زندگی کا مقصد ہے ،آئین اور قانون سے ماورا کوئی اقدام نہیں کیا

    قبل ازیں سابق وزیراعظم ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اجلاس ہوا، جس میں تحریک انصاف اور ق لیگ کی قیادت ویڈیو لنک کے ذریعے شریک تھی، اجلاس میں قانونی اور سیاسی لائحہ عمل کے حوالہ سے مشاورت کی گئی، اجلاس میں اسد عمر، پرویز الہی، مونسی الہیٰ و دیگر شریک تھے

    16 اپریل 2022 کو حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ بننے کیلئے 371 کے ایوان میں197 ووٹ ملے ، حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان اسمبلی ڈی سیٹ ہوئے، 25 ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر پنجاب اسمبلی میں ممبران کی تعداد 346 رہ گئی مسلم لیگ ن کے پاس 165 سیٹیں ، پیپلزپارٹی کے 7، آزاد 3 اور راہ حق پارٹی کا ایک ووٹ بھی ن لیگ کے پاس ہے جس کے بعد حکومتی اتحاد کے ووٹوں کی تعداد 176 بنتی ہے

    25 منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہونے پر پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی 158 رہ گئے ہیں پی ٹی آئی کے 158، ق لیگ کے 10 ارکان مل کر اپوزیشن کے 168 ایم پی اے بنتے ہیں پی ٹی آئی کو 5 مخصوص نشستیں مل بھی جائیں تو اپوزیشن اتحاد کی تعداد 173 بنتی ہے اور مخصوص نشستیں ملنے کے بعد بھی حکومتی اتحاد کو اپوزیشن اتحاد پر 3 ووٹوں کی برتری ہوگی

    371 کے ایوان میں وزیراعلیٰ منتخب ہونے کیلئے 186 ووٹ درکار تھے تا ہم اگر پانچ مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو ملنے کے بعد ایوان 351 کا تصور کیا جائے تو اس حساب سے وزیراعلیٰ منتخب ہونے کیلئے 176 ووٹ چاہیے ہوں گے۔، ن لیگ کے پا س اتحادیوں کو ملا کر ووٹ پورے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں ہے

    عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • لاہور ہائیکورٹ  نےوزیر اعلیٰ پنجاب  الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ نےوزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر فیصلہ سنا دیا

    لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلیٰ پنجاب الیکشن کیخلاف درخواست پر 8 صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ نے پریذائیڈنگ افسر کو 25 ووٹ نکال کر دوبارہ گنتی کا حکم دے دیا عدالت نے کہا کہ وزیراعلی ٰ الیکشن کے لیے مطلوبہ نمبر حاصل نہ ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخاب کروایا جائے کل 4 بجے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے، منحرف اراکین کے ووٹ نکال کر حمزہ شہبازکی اکثریت نہیں رہتی تو وہ وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے عدالت کے احکامات تمام اداروں پرلاگو ہوں گے، پنجاب اسمبلی کا اجلاس اس وقت تک ختم نہیں کیاجائے گا جب تک نتائج جاری نہیں کیے جاتے، صوبے کا گورنر اپنے فرائض آئین کے مطابق ادا کرے گا پنجاب اسمبلی کے نتائج آنے کے بعد گورنردوسرے دن 11 بجے وزیراعلیٰ کا حلف لیں گے عدالت پنجاب اسمبلی کے مختلف سیشنز کے دوران بدنظمی کو نظر اندازنہیں کرسکتی ،کسی بھی فریق کی طرف سے بدنظمی کی گئی توتوہین عدالت تصور ہوگی درخواست گزاروں کی تمام درخواستیں منظور کی جاتی ہیں درخواست گزاروں کی پٹیشن دوبارہ گنتی کی حد تک منظور کی جاتی ہے،پٹیشنز میں باقی کی گئیاستدعا رد کی جاتی ہے، اسپیکر کی جانب سے وزیراعلیٰ کی حلف برداری سےمتعلق اپیلیں نمٹا ئی جاتی ہیں،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا

    عدالتی کاروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرنیوالے وی لاگرزکیخلاف کاروائی کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ کیس کی سماعت کی رپورٹنگ پر میڈیا کے کردار کو سراہتے ہیں،چند وی لاگرز نےعدالتی کارروائی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ،ایف آئی اے اور پیمرا ایسے وی لاگرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں اگرکوئی بھی درخواست دے گا توکارروائی کے بعد ایسے وی لاگرزکے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی،

    ،جسٹس ساجد سیٹھی کا فیصلے میں اختلافی نوٹ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی ضرورت نہیں ،ڈپٹی اسپیکرکو وزیراعلیٰ کا انتخاب دوبارہ کرانا چاہیے،دوبارہ انتخاب ان امیدواروں کے درمیان ہونا چاہیے جنہوں نے زیادہ ووٹ لیے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 2 جولائی شام 4 بجے بلایا جائے ،اجلاس 2 جولائی کو بلانے کا مقصد دورسے آنے والے اراکین کو سہولت دینا ہے،پنجاب اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے ضروری ہے کہ اراکین کو وقت دیا جائے،وزیراعلیٰ کا دوبارہ انتخاب کا حکم دینا سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہوگا ،ہائیکورٹ کا ڈویژنل بینچ صاف ،شفاف اورغیر جانبدارالیکشن کرانے کا حکم دینے کا مجاز ہے، 25 منحرف اراکین کے ووٹ نکالنے کے بعد حمزہ شہباز کے حق میں 172 ووٹ رہ جاتے ہیں،حمزہ شہبا زوزیراعلیٰ کے آفس میں ایک اجنبی ہیں حمزہ شہبا زعہدے پر فائز رہے تو مخالف فریق پر سیاسی برتری ہوگی حمزہ شہبا ز کا بطور وزیراعلیٰ نوٹیفکیشن منتخب ہونے کے دن سے کالعدم قرار دیا جائے،عثمان بزدار کی جگہ حمزہ شہبا زکا بطور وزیراعلیٰ انتخاب بھی کالعدم قراردیا جاتا ہے،ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے انتخاب کے لیے بلایا جانے والا اجلاس بھی غیر قانونی ہے، عثمان بزدارکو بطوروزیراعلیٰ کام سے روکنے کا نوٹیفکیشن بھی غیر قانونی ہے ،حمزہ شہبا ز کی طرف سے 30 اپریل سے آج تک کے احکامات برقراررہیں گے

    لاہورہائیکورٹ نے تحریک انصاف کی درخواستوں کو نمٹا دیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب کے الیکشن کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستیں منظورکر لی گئی ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے انتخاب کالعدم قراردے دیا، فیصلہ چار ایک کے تناسب سے سنایا گیا جسٹس ساجد محمودسیٹھی نے فیصلے سے مشروط اختلاف کیا

    وکیل پی ٹی آئی علی ظفر کا کہنا ہے کہ عدالت نے وزیراعلیٰ حمزہ شہبازکا حلف کالعدم قراردیا ہے،ہماری درخواستیں منظورہوئی ہیں ہم نے آئین ،قانون اور انصاف کی بات کی ہے، لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمز ہ شہباز وزیراعلیٰ پنجاب نہیں رہے ،فیصلے میں کہا گیا جو وز یراعلیٰ ڈیفکٹو کے ووٹ سے منتخب ہواوہ ٹھیک نہیں ،

    گزشتہ روز وزیراعلیٰ پنجاب کے وکیل نےلاہورہائیکورٹ میں دلائل مکمل کر لیے تھے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سماعت کی تھی اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی سبطین خان ،محمود الرشیدم راجہ بشارت لاہور ہائیکورٹ میں موجود تھے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر اور اظہر صدیق بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے،

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے وکیل منصور اعوان جبکہ تحریک انصاف کے علی ظفر اور ق لیگ کے وکیل عامر سعید نے عدالت میں پیش ہو کر دلائل دیئے تھے۔ صدر مملکت کی نمائندگی احمد اویس، اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی کی بیرسٹر علی ظفر اور امتیاز صدیقی نے کی تھی

    لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد پنجاب کے سابق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے ہم پر جو عذاب مسلط تھا وہ اب نہیں رہا،فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کی روشنی میں اب عثمان بزدار نگران وزیر اعلی ٰہیں

    فارن فنڈنگ کیس میں بھی عمران خان کو اب سازش نظر آ گئی، اکبر ایس بابر

    حمزہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی پنجاب اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا

    آئین شکنوں کو گرفتار کر کے سلاخوں کے پیچھے ڈال دینا چاہئے،مریم نواز

    حلف اٹھانے کے بعد حمزہ شہباز کا عمران خان کے سابق قریبی دوست سے رابطہ

    وزیراعلیٰ پنجاب بارے ہائیکورٹ کا فیصلہ، ن لیگ کا خیر مقدم،تحریک انصاف کا چیلنج کرنے کا اعلان

    تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان کا کہنا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر پوری قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں ،عمران خان کا موقف درست ثابت ہوا، ہم پچھلی صورتحال میں واپس چلے گئے ہیں حمزہ شہبا ز نے جو بھی فیصلے کیے وہ تمام کالعدم ہوگئے،فواد چودھری کا کہنا تھا کہ لاہورہائیکورٹ کے فیصلے نے پنجاب کے سیاسی بحران میں مزید اضافہ کر دیا ،حمزہ کی حکومت برقرار نہیں رہی لیکن جو حل دیا گیا ا س سے بحران ختم نہیں ہو گا،فیصلے میں کئی خامیاں ہیں لیگل کمیٹی کی میٹنگ بلا لی ہے ہائیکورٹ کے فیصلے میں خامیوں کو لے کر سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے،

    لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد حمزہ شہباز نے مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماوں کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا، پنجاب کے صوبائی وزیر عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ہم کورٹ کے ہر فیصلے کا احترام کر تے ہیں، پچھلے انتخاب کا تسلسل رہے گا، ہماری تعداد 177 ہے، ہم 9 ووٹوں سے آگے ہیں، کلیئر فیصلہ ہے کہ وہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،ابھی تک ہمارے پاس اکثریت ہے، ہم پھر جیت جائیں گے خوش آئند فیصلہ ہے، تسلیم بھی کرتے ہیں اور عمل بھی کریں گے، تحریک انصاف کہہ رہی ہے وہ اپیل میں جائیں گے، ضرور جائیں،رانا مشہود کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جو دھوکہ عوام سے کرتی رہی آج بھی انہیں سمجھ نہیں آرہی،الیکشن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تو کارروائی عدالت کرے گی،کلیئر فیصلہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کے فیصلے برقرار رہیں گے،

    وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ ، ن لیگ نے حکمت عملی طے کر لی ارکان پنجاب اسمبلی کو آج ہوٹل ٹھہرایا جائے گا حمزہ شہباز کےہمراہ کل تمام ارکان اکھٹے پنجاب اسمبلی اجلاس میں جائیں گے، مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے خلاف عمران خان کے جرائم کی فہرست طویل ہے،منی گالہ گینگ کے ذریعے پنجاب کے پیسہ کے وسائل پر ڈاکہ ڈالا گیا، پنجاب کے عوام کو ان کے حق سے محروم کر کے مشکلات پیدا کیں،م

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے قانونی اور سیاسی ٹیم کے ساتھ مشاورت کی علی ظفر ایڈووکیٹ ، مونس الہٰی ، راجہ بشارت مشاورت میں شریک تھے حسین جہانیاں گردیزی ، حافظ عمار یاسر بھی مشاورت میں شریک تھے علی ظفر ایڈووکیٹ نے عدالتی فیصلے پر شرکا کو بریفنگ دی ہائیکورٹ کے فیصلے میں بعض ابہام کی طرف بھی بریفنگ میں نشاندہی کی گئی چودھری پرویز الہیٰ کا کہنا تھا کہ ہمارے11 آدمی حج پر چلے گئے ہیں،پہلے ہاوس مکمل کریں پھر گنتی کرائی جائے،پسمجھ نہیں آرہا کہ12گھنٹے دیئے گئے ہیں،لاہورہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جارہے ہیں،پ

    عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں

  • حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس،اراکین کو لاہورمیں ہی رہنے کا حکم

    حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس،اراکین کو لاہورمیں ہی رہنے کا حکم

    حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس،اراکین کو لاہورمیں ہی رہنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت صوبائی پارلیمانی پارٹی کا اہم اجلاس ہوا ہے

    اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے حلف اور انتخابات پر ممکنہ عدالتی فیصلے پر مشاورت کی گئی،حمزہ شہباز نے لیگی ارکان اسمبلی اور آزاد ارکان اسمبلی کو لاہور میں رہنے کی ہدایت کر دی ،وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ ہمارے نمبرز پورے ہیں دوبارہ انتخاب ہوا تب بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھیں گے،عدالتوں کا احترام کرتے ہیں جو بھی فیصلہ ہوگا اسے تسلیم کریں گے،

    حمزہ شہباز کی زیر صدارت اجلاس میں آئینی ماہرین سے مشاورت کی گئی ، ایوان میں تازہ نمبر گیم کا بھی جائزہ لیا گیا، حکومتی اتحاد کے تمام ارکان کو لاہوربلا لیا گیا ہے،اور تا حکم ثانی لاہور سے باہر نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے

    حمزہ شہباز کا آج میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ تین ماہ کے دوران پنجاب میں آئین کی پامالی کا ورلڈ ریکارڈ بنا، سابق حکومت نے اداروں کو مذاق بنا کررکھ دیا ہے۔ نیا پاکستان بنانے والوں نےپرانا پاکستان بھی برباد کردیا، پولیس افسران کی تعیناتی میں کوئی سیاسی مداخلت نہیں ہوگی،عوام کو ریلیف دینا ترجیح ہے۔

    واضح رہے کہ حمزہ شہباز کے وزیراعلیٰ کے انتخاب اور حلف کو تحریک انصاف نے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا، آج سماعت مکمل ہوئی،عدالت نے کل تک کے لئے سماعت ملتوی کی ہے لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صداقت علی خان کی سربراہی میں 5رکنی بینچ نے سماعت کی

    عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تھی تو عثمان بزدار نے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد پی ٹی آئی نے چودھری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا تھا، ن لیگ نے حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کا امیدوار نامزد کیا تھا، پنجا ب اسمبلی کے اجلاس اسمبلی ہال اور ایوان اقبال میں الگ الگ ہوتے رہے، حمزہ شہباز وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے کیونکہ پی ٹی آئی کے اراکین ن لیگ کے ساتھ مل گئے تھے، بعد ازاں پی ٹی آئی کی درخواست پر الیکشن کمیشن نے ن لیگ کے ساتھ ملنے والے اراکین کو ڈی سیٹ کر دیا تھا ، 20 صوبائی نشستوں پر الیکشن اب 17 جولائی کو ہو رہے ہیں

    موجودہ سیاسی صورتحال میں فوج پر بلا وجہ الزامات،بلاوجہ منفی پروپیگنڈہ

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔