Baaghi TV

Tag: حمزہ علی عباسی

  • پرے ہٹ لو  فلم  کیسی ہوگی؟  ایاز خان

    پرے ہٹ لو فلم کیسی ہوگی؟ ایاز خان

    کچھ عرصہ قبل ماہر ہ خان کے انسٹا گرام سے ایک شارٹ ویڈ یو ریلیز ہوئی ۔۔جس میں وہ لال رنگ کا جوڑا پہنے ”پرے ہٹ “ کہتی نظر آئیں ۔۔یہ سین اُنکی آنے والی فلم ’پرے ہٹ لو‘ سے تھا۔ چند روز پہلے اس فلم کا ٹریلر ریلیز کیا گیاہے ۔۔اگر چہ اس فلم میں ماہر ہ کا لیڈ رو ل نظر نہیں آتا۔۔لیکن شائد لیڈ رول میں وہ لوگوں کو اتنا متاثر نہ کر پاتیں جو انہوں نے اپنے سائیڈ رول میں کیاہے ۔

    پرے ہٹ لو فلم کا ٹریلر دیکھتے ہی ایسا لگتاہے جیسے یہ بڑٹش لو کامیڈی فلم ” فور ویڈنگز اینڈ اے فیونرل“ کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے ۔جو ایسے نوجوان کی کہانی ہے جو کسی شادی میںاچانک کسی لڑکی سے ملتا ہے او ر اسے اپنی منزل سمجھ بیٹھتا ہے ۔۔۔۔پرے ہٹ لو میں بھی یہی کہانی نظر آتی ہے ۔۔ٹریلر بڑی حویلی میں شادی کی تقریبات دکھائی گئی ہیں. شروع میں فلمسٹار ندیم ایکٹر شہریار کو کہتے نظر آتے ہیں ”تم ڈرامہ ایکٹر ہو نہ“۔۔۔ویسے تو اس فلم میں سارے ہی ڈرامے سے آئے ہوئے ہیں ۔۔کیا کریں پاکستان میں فلم انڈسٹری تو رہی نہیں۔۔بس اب انہی سے ہی کام چلے گا لیکن اچھا چل نکلا ہے ۔۔ فلمسٹار میر ا جو فلم باجی میں لیڈ رول کررہی ہیں وہ بھی پر ے ہٹ لو کے ٹریلر میں ڈانس کرتی نظر آئی ہیں ۔

    ٹریلر پرے ہٹ لو 

    اس فلم میں شہریا ر (غریبوں کا ر ہتک روشن) اور مایا علی (طیفا گر ل) کا مر کزی کردارہے۔ عاصم رضا کی گزشتہ فلم ہو من جہاں میں شہر یا ر کے ساتھ ماہرہ خان کا مرکزی کردار تھا۔
    شہریار ایک ایسا لڑکا ہے جو شادیوں میں شرکت کرتاہے لیکن خود اپنی شادی کے نام سے دور بھاگتاہے ۔پھر اچانک۔۔۔جیسے کہ فلموں میں ہوتاہے ۔۔ایک لڑکی (مایا علی )پر اُسکی نظر پڑتی ہے جوچراغوں کے پیچھے سے نمودا ر ہوتی ہے ۔۔اور وہ اسے دیکھتا ہی رہ جاتاہے۔۔جیسے کہہ رہا ہو تو ہی وہ حسیں ہے ۔۔جس کی تصویر خیالوں میں مدت سے بنی ہے ۔۔خیر ایسی شاعری اب کہاں
    سننے کو ملتی ہے ۔۔لڑکا لڑکی ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں ۔۔اور ہندی فلموں کی طرح شادی والی حویلی کی چھت پر اکیلے ملتے نظر آتے ہیں اور فیض کے شعر ایک دوسرے کو سناتے نظر آتے ہیں ۔ اس کے بعد گانا ۔ موج مستی ۔بس کی چھت پر سفر ۔پھر وہی جو ہوتاہے۔ ۔جو کہ اس فلم کے ٹائٹل سے بھی واضع ہے کہ ۔”پر ے ہٹ لو“ لڑکی لڑکے کو کہتی نظر آتی ہے کہ عشق وشق کے چکرمیں تو نہیں پڑ گئے ۔۔۔اور پڑنا بھی مت ۔۔اور پھر اچانک اسے اپنے منگیتر سے اُسے ملواتی ہے تو اُسے احساس ہوتاہے کہ وہ تو واقعی اس چکر میں پڑ چکاہے ۔۔۔اسکے بعد ایکٹر کی آنکھیں لال اور لڑکی کو پکڑ کر اسے گزرے لمحوں کا احسا س دلاتانظر آتاہے۔۔اور لڑکی اسے جھٹک کرایک طرف کرتی ہے . پھر اچانک کسی کی موت دکھائی گئی ہے ٹریلر میں جان اس وقت پڑتی ہے جب ماہرہ خان کی اچانک دھانسو انٹری ہوتی ہے۔
    بہت بڑے سیٹ پر مجرہ کرتی جلو ہ گر ہوتی ہیں۔ماہرہ خان کے اس ڈانس کو دیکھ کر مادھوری ڈکشٹ کاخیال آتاہے . یہی نہیں ڈائریکٹر ماہرہ خان کوکئی آئینوں میں دکھا کر فلم مغل آعظم میں مدھو بالا کے گانے جب پیار کیا تو ڈرنا کیا سے بھی متاثر نظر آتاہے ۔
    فلم میں کامیڈی کے لیےوہی گھسے پھٹے اداکاروں احمد بٹ او ر ڈارمہ ایکٹریس مومو حنا دلپزیر وغیر ہ کو ڈالا گیاہے ۔۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ واقعی فلم بینوں کو ہنسا پاتے ہیں یانہیں۔کیونکہ ”ہو من جہاں میں“ کامیڈی کا فقدان تھا ۔
    ٹریلر کے آخر میں فواد خا ن کی مہمان اداکار کی طرح انٹری ہے جو شاہ رُخ کی طرح زندگی کا فلسفہ جھاڑتے نظر آتے ہیں کہ ”لوگوں کو مزہ کراﺅ انہیں جینا مت سکھاﺅ “ لگتاہے فواد خان کا ےہ مشورہ حمزہ عباسی کے لےے ہے ۔جو آئٹیم سانگ کے خلاف باتیں کرتے نظر آتے ہیں .
    مہمان اداکاروں کو فلم میں ڈالنا فلم کی پرموشن کا پرانا فارمولا ہے اپنی پہلی فلم ہومن جہاں میں بھی عاصم رضا نے حمزہ علی عباسی ، فواد خان، زوہیب حسن اور سائرہ شہروزجیسے مہمان اداکاروں کا سہارہ لیاتھا.
    ٹریلر سے نظر آتا ہے کہ بڑے بجٹ کی فلم ہے ۔سنمیٹو گرافی سے لے کر پروڈکشن میں جان نظر آتی ہے۔
    بہاولپور سے لیکر استبنول کے مناظر۔دکھائے گئیں ہیں ۔ کچھ لوگ اسے گھسی پھٹی لو سٹوری کہہ رہے ہیں آج کل نیا آئیڈیا بہت ہی مشکل ہے ۔ہر آنے والی فلم یا تو ری میک ہے یا پھر کئی فلموںکا چربہ نظر آتی ہے ۔ہر فلم کسی نہ کسی پرانی کہانی سے متاثر ہوتی ہے لیکن فلم کا سکرپٹ، ڈائلاگ ، ٹریٹمنٹ ، اسکی پروڈکشن اور خاص طور پر ایکٹنگ اسے نیا اور الگ بناتی ہے۔جیساکہ شاعر نے کہا ہے کہ
    سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں
    امید کی جاتی ہے فلم پر ے ہٹ لو میں یہ کوشش کی گئی ہے اور یہ فلم شائقین کو اچھی انٹرٹینمٹ فراہم کرے گی ۔

  • حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    حمزہ عباسی اور آئٹم سانگ، نوید شیخ کا بلاگ

    پاکستان میڈیا انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے حمزہ علی عباسی آج کل ایک نجی ٹی وی چینل سے رئیلٹی شو کو جج کر رہے ہیں۔ اس شو میں ایک بچی کی پاکستانی آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر کی گئی پرفارمنس کو حمزہ علی عباسی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حمزہ نے لڑکی کو پرفارمنس کے دوران ہی روک دیا اور بھاشن دیتے ہوئے کہا ” میں پاکستانی فلم ڈائریکٹرز و پروڈیوسرز کی منتیں کرتا ہوں کہ ہماری فلموں میں آئٹم سانگ نہ رکھا کریں ہماری بچیاں ان گانوں پر پرفارم کرتی ہیں جو کہ مناسب نہیں ہے”۔

    مزید پڑھیئے: تحریک انصاف کا بجٹ بم ۔۔۔ کپتان اجازت دے تو تھوڑا سا گھبرا لیں … نوید شیخ

    حمزہ علی عباسی کے اس رویے کو مختلف شعبہ ہائے زندگی تعلق رکھنے والے افراد نے مختلف طریقے سے جج کیا۔ جہاں بعض حلقوں نے حمزہ کی اس بات کو سراہا وہاں کئی حلقوں نے اسے کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ خصوصا سوشل میڈیا پر ان کی اس رائے کو خوب آڑھے ہاتھوں لیا گیا۔
    شوبز کے اندرونی حلقوں نے حمزہ کی رائے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حمزہ عباسی اپنی فلم میں نازیبا اور فحش سین بھی فلما چکے ہیں۔ فلم "جوانی پھر نہیں آنی” میں انہوں نے مختصر لباس میں موجود لڑکی کے ساتھ سوئمنگ پول میں اور ساحل سمندر پر ایسے سین عکسبند کئے جن پر آج وہ تنقید کر رہے ہیں۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    شوبز کی بعض حلقوں میں تو یہ چہ مگوئیاں بھی ہیں کہ اس آئٹم سانگ "مجھے کہتے ہیں بلی” پر فلم میں صدارتی ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلمسٹار مہوش حیات نے پرفارم کیا تھا اور چونکہ حمزہ علی عباسی اور مہوش حیات کی آپس میں بنتی نہیں ہے تو حمزہ علی عباسی نے موقع کا فائدہ اٹھا کر در پردہ مہوش حیات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    مزید پڑھیے : عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    رئیلٹی شو میں حمزہ علی عباسی کے اس رویے اور لڑکی کے آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کی تنقید کو "پبلسٹی سٹنٹ” بھی کہا جا رہا ہے تاکہ اس سے رئیلٹی شو اور چینل کی ریٹنگ میں اضافہ ہو۔ اگر چینل اور ججز آئٹم سانگ پر کی گئی پرفارمنس کے خلاف تھے تو وہ گانا اس سٹیج پر کیوں چلایا گیا اور ظاہر ہے یہ گانا چینل کی مینجمنٹ کی اجازت اور پروڈیوسر/ڈائریکٹر کی مرضی سے ہی چلایا گیا ہوگا۔ اگر چینل اور ججز کی پالیسی میں ایسے گانے نہیں تھے تو ایسا گانا منتخب کیوں ہوا اور اس پر پرفارمنس کیسے ہو گئی، یہ ایک ایسا سوال ہے جو حمزہ عباسی کی تنقید کے بعد ججز اور انتظامیہ کے کردار کو مشکوک بناتا ہے کیونکہ شو میں حصہ لینے والی بچی اور گانا تو پہلے سے ہی فائنل کیا جا چکا ہوتا ہے تو پھر پرفارمنس کی بعد ایسی دوغلی پالیسی کیوں ؟
    امید ہے کہ چینل انتظامیہ اور حمزہ علی عباسی اس کی وضاحت ضرور دیں گے۔

     

     

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں