آل پاکستان مشائخ و علماء کانفرنس:خانقاہوں نے ہمیشہ پاکستان کی خاطر رسم ِ شبیری ادا کی۔
نور الحق قادری کا کہنا ہے کہ ریاست مدینہ کا جو نعرہ عمران خان نے لگایا مشائخ و علماء کو اس کی تکمیل کیلئے کردار ادا کرنا ہو گا:
بقول حبیب عرفانی عمران خان نے مسئلہ کشمیر اور ناموس رسالت کا معاملہ بھرپور طریقے سے ہر عالمی فورم پر اٹھایا۔
مفتی عاشق حسین، سیدحبیب اللہ چشتی، سیدعظمت حسین،مولانا محمد قاسم،کاظم حسین نقوی، محمد حسین گولڑوی، عامر حسین گیلانی نے خطاب کیا جس میں کہا کہ سندر شریف (پ ر) پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا مشائخ و علماء کرام نے خانقاہوں سے نکل کر رسم شبیری ادا کی اور وہ یہ کردار ہمیشہ ادا کرتے رہیں گے۔سابقہ حکمرانوں نے کرپشن اور بدنیتی کی وجہ سے توہین رسالت کے قانون کو نظر انداز کیا۔ عمران خان کی حکومت نے ناموس رسالت کے لیے اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پربھرپور آواز اٹھائی ہے۔ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے یہ بات سندر شریف میں آل پاکستان مشائخ و علماء کانفرنس
بعنوان ”پاکستان، عصر حاضر اور خانقاہ“میں شریک ملک بھر سے آئے ہوئے مشائخ و علماء نے مشترکہ اعلامیہ میں کہا کہ وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر نور الحق قادری نے کہا قیام پاکستان میں جو کردار مشائخ و علماء نے ادا کیا اُس کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے استحکام پاکستان کے لئے مشائخ اور علماء کرام کو آگے آنا ہو گا عمران خان نے ریاست مدینہ کا جو نعرہ لگایا اُس کو تکمیل تک پہنچانا مشائخ و علماء کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا عمران خان نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسلمانوں کی محبت کو اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت ہر عالمی فورم پر ببانگ دہل پہنچایا جب فرانس میں ملعون نے توہین رسالت کی کوشش کی اور فرانسیسی صدر نے حمایت کی تو صرف عمران خان اور طیب اردگان دو لیڈروں نے اس کو منہ توڑ جواب دیا۔ انہوں نے کہا صوفیاء کے بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو ہر جگہ پہنچانا ہو گا عمران خان نے کرپٹ لوگوں کے خلاف جو محاذ کھول رکھا ہے اُس میں مشائخ و علماء کو ساتھ دینا ہوگا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سنٹرل گورننگ کمیٹی انصاف مذہبی امور ونگ و سجادہ نشین سندر شریف پیر سید محمد حبیب عرفانی نے کہا سابق حکمران صرف کرپٹ ہی نہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنی کرپشن کو بچانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں اور افراد کو کرپشن میں ملوث رکھا۔ جس کی بدولت ملک کی خارجہ پالیسی، معیشت، انصاف، اداروں کی آزادی الغرض ہر سطح پر تباہی و بربادی کر دی۔ عمران خان حکومت نے مسئلہ کشمیراور ناموس رسالت کے معاملے کو اقوام متحدہ،او آئی سی سمیت ہرعالمی فورم پر بہترین انداز میں پیش کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کے اجلاس میں کی گئی تقریر کے بعد دیکھتے ہیں ہر تو کوئی اُس کو امت مسلمہ کے ویژنری رہنما کی حیثیت سے دیکھ رہا ہے تو کوئی بھارت کی دہشت گردی اورکشمیر یوں پر مظالم کو بہترین انداز میں اقوام عالم کے سامنے واضح کر دینے پر عمران خان کو خراج تحسین پیش کر رہا ہے۔ سابقہ حکمرانوں نے اپنی کرپشن اور بد نیتی کی وجہ سے توہین رسالت کے قانون کو بھی نظر انداز رکھا بلکہ اُن کی پالیسی ہمیشہ قادیانیوں کے لئے نرم رہی۔ انہوں نے کہا تحریک پاکستان میں کچھ مذہبی رہنماؤں نے قائداعظم اور مطالبہ پاکستان کی شدید مخالفت کی مگر اس برصغیر کی خانقاہوں / درگاہوں کے مشائخ اولیاء کرام اور ان کے مریدین نے قائداعظم کا بھرپور ساتھ دیا۔
انہوں نے کہا مسلمانوں کے متحد ہونے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اُن کا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق ہو۔ پاکستان کو ناکام نہیں ہونے دیں گے۔ کانفرنس سے مفتی سید عاشق حسین شاہ، سید حبیب اللہ شاہ،پیر سید عظمت حسین شاہ مانسہرہ،مولانا محمد قاسم چشتی، سید کاظم حسین نقوی،علامہ محمد حسین گولڑوی،سید عامر حسین گیلانی نے خطاب کیا۔دیوان احمد مسعود نے خصوصی دعا کروائی۔ کانفرنس میں د یوان احمد مسعود فاروقی، دیوان عظمت سید محمد، خواجہ فرید الدین فخری، خواجہ اسرار الحق نظامی،خواجہ محمد اکمل اویسی، پیر شمیم صابر صابری، خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ،پیر حسنین محبوب گیلانی،پیر افضال حسین زنجانی،پیر رشید احمد شاہ ر، اللہ دتہ پیر جی سرکار، پیر خواجہ نصر المحمود، خواجہ محمد معین الحق چشتی بصیر پوری ،پیر سید عظمت حسین شاہ مانسہرہ، پیر غلام رسول اویسی،خواجہ غلام قطب الدین فریدی، پیر عثمان نوری،پیر توصیف النبی،سید افضل حیدری،سید محمد ریحان،سید منصور، علامہ محمد حسین گولڑوی،سید آغا خورشید چشتی،محدم اکرم جاوید،مفتی سید عاشق حسین،علامہ حافظ کاظم نقوی،مولانا سید اویس الرحمن گیلانی،سید اعظم علی نقوی،سید ساجد نقوی،علامہ اصغر عارف چشتی،پیر سید عامر حسین گیلانی،شیخ امین،میاں عمران،سید محمد علی صابری، مولانا نسیم علی شاہ، مولانا محمد قاسم چشتی، میاں محمد اسلم ایڈووکیٹ، سید حبیب اللہ شاہ، مولانا سیف علی ڈومکی،علامہ آصف محمود، علامہ سید ہاشم موسوی،مولانا محمد حسین طارق، مفتی محمد سجاد، حافظ محمد بشارت جذبی، پروفیسر غلام فرید چشتی سمیت معروف مشائخ و علماء نے شرکت کی۔ کانفرنس کے تمام تر انتظامات کی نگرانی صاحبزادہ سید محمد اخیار حبیب عرفانی نے کی اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے۔
Tag: حکومت
-

عمران خان نے ناموس رسالت کے لیے اقوام متحدہ و عالمی فورم پربھرپور آواز اٹھائی،آل پاکستان مشائخ و علماء
-

مدارس کے نئے بورڈز کی منظوری، مولانا نے فیصلہ مسترد کردیا
حکومت کی جانب سے مدارس کے نئے پانچ بورڈز کی منظوری کا معاملہ حل کرنے کو لیے منصوبہ بندی کا عمل آغز کردیا ہے
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی جانب سے مدارس کے نئے بورڈ منظور کرنے کا فیصلہ مسترد کردیا ہے- مولانا فضل الرحمان نے مؤقف پیش کیا کہ علماء کا مطالبہ نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی خواہش پوری کی گئی- ان بورڈوں کا بھی وہی حال ہوگا جو مشرف کے مدرسے بورڈ کا تھا- ہمارے حکمران باہر کے غلام اور ایجنٹ ہے- وفاق المدارس ہماری تنظیم ہے، وفاق کے زمہ داران مدارس کا تحفظ کریں-
وفاق المدارس اگر مدارس کا تحفظ نہیں کرسکتی تو جمعیت علماء اسلام مدارس کا تحفظ کرے گی- مدارس کے تحفظ کو کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے- جےیوآئی مدارس کی چوکیدار ہے- وفاق المدارس العربیہ ہماری نمائندہ جماعت ہے اس کے علاوہ اور کوئی جماعت ہم تسلیم نہیں کریں گے-علماء کرام سے مشاورت کے بعد حکومت کے اس اقدام کے خلاف بڑا فیصلہ کریں گے- حکومت اپنے فیصلے کو واپس لیں نہیں تو ملک بھر کے مدارس کے طلباء سڑکوں پر ہوں گے-
-

سرکاری ملازمین پرلاٹھی چارج نہیں شفقت کا برتاؤ کیا جائے، رحمان ملک
چئیرمین قائمہ کمیٹی داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے سرکاری ملازمین پر تشدد اور گرفتاری کی شدید مذمت کا اظہار کیا ہے-
سینیٹر رحمان ملک نے سرکاری ملازمین پر تشدد اور گرفتاری پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کے پرامن احتجاج پر حکومتی تشدد قابل مذمت اور افسوس ہے- سرکاری ملازمین کے مطالبات سن کر معاملہ باہمی افہام و تفہیم کیساتھ حل کرنا چاہئے- سرکاری ملازمین ہماری سوسائٹی کا پسا ہوا طبقہ ہے- سرکاری ملازمین کا اپنے مطالبات کے لئے پرامن احتجاج جائز ہے- لاٹھی چارج و گرفتاریوں کی بجائے سرکاری ملازمین کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کیا جائے- گرفتار سرکاری ملازمین کو جلد رہا کیا جائے اور انکے مطالبات پورے کئے جائے-
-

مہنگی بجلی کی وجہ حکومت کی نالائقی ہے، شیری رحمان حکومت پر برس پڑیں
نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمت میں اضافہ پر شیری رحمان کا بیان سامنے آگیا-
شیری رحمان نے بجلی کی اضافی قیمتوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا نے بجلی کی قیمت میں 1 روپیہ 53 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا ہے- تباہی سرکار کے پاس عوام کو مہنگائی کے علاوہ دینے کو کچھ نہیں- مہنگی بجلی کی وجہ ماضی کے منصوبے نہیں حکومت کی نالائقی ہے-
توانائی کا گردشی قرضہ 2300 ارب روپے سے زیادہ ہو چکا ہے- تباہی سرکار ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں عوام پر اربوں روپے کا بوجھ ڈال رہی- حکومت ملازمین کی تنخواہ نہیں بڑھا سکتی تو قیمتیں کیسے بٹھائی جا رہی؟ ملازمین تنخواہ بڑھانے کا مطالبہ کریں تو ان پر لاٹھی چارج کی جاتی- لیکن آئے روز بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا- نیپرا عوام دشمن نوٹیفکیشن واپس لے-
-

حکومت کی کامیاب صنعتی پالیسی کے باعث تیزرفتاری سے نئے صنعتی یونٹس لگ رہے ہیں، میاں اسلم اقبال
صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال سے چیئرمین پاکستان کوٹینگ ایسوسی ایشن معظم رشید کی ملاقات ہوئی۔
پنجاب سرمایہ کاری بورڈ کے کمیٹی روم میں ہونے والی ملاقات میں کوٹینگ انڈسٹری کو درپیش مسائل پر بات چیت ہوئی۔ چئیرمین کوٹینگ ایسوسی نے فیڈمک سے متعلقہ کوٹینگ انڈسٹری کے معاملات، انڈسٹری کے لئے کیروسین آئل کی خریداری اور ریفنڈ کے ایشوز سے آگاہ کیا۔
صوبائی وزیر نے کوٹینگ انڈسٹری کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی دلائی۔مزید میاں اسلم اقبال نے کہا ہے کہ "حکومت کی کامیاب صنعتی پالیسی کے باعث تیزرفتاری سے نئے صنعتی یونٹس لگ رہے ہیں، حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ صنعت کاپہیہ چلے گا تو معشیت فروغ پائے گی اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ حکومت ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کو بہترین سہولتیں دے رہی ہے۔کوٹینگ انڈسٹری سے متعلقہ شارٹ کورسز کیلئے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کاقیام عمل میں لایا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے کوٹینگ انڈسٹری کے فیڈمک سے متعلقہ معاملات حل کرنےاور ادارے کے قیام کے لئے تیزی سے اقدامات کرنے کی سی ای او فیڈمک کوہدایت دی۔
سیکرٹری جنرل پاکستان کوٹینگ ایسوسی ایشن کرنل ریٹائرڈ قمر اور دیگر افسران بھی ملاقات میں موجود تھے۔ -

جماعت اسلامی کا حکومتی نا اہلی کے خلاف آٹھواں جلسہ، تیاریاں مکمل
جماعت اسلامی آج کے روز مردان میں جلسہ عام کر رہی ہے- جماعت اسلامی کے مردان کے اس جلسہ عام کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں- جماعت اسلامی کے ارکان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے – جماعت اسلامی وزیر اعظم کو مہنگائی کے خلاف یوٹرن لینے پر مجبور کرے گی -عالمی ادارے بھی کرپشن میں ترقی کی تصدیق کر رہے ہیں – مردان میں ہونے والا یہ جلسہ حکومت کی نا اہلی ، مہنگائی ، بے روزگاری ، کرپشن کے خلاف کیا جارہا ہے- حکومت کی نا اہلی کے خلاف جاری تحریک کا یہ آٹھواں جلسہ ہے –
25 دسمبر کو گوجرانوالہ سے حکومت کے خلاف تحریک کے دوسرے فیز کا آغاز کیا گیا تھا – جلسے میں لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے- پنڈال کو جھنڈوں اور بینروں سے سجایا گیا ہے – امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سوپہر تین بجے کے بعد خصوصی خطاب کریں گے اور عوام کے سامنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے -امیر جماعت اسلامی کے پی سینیٹر مشتاق احمد خان اور دیگر قائدین بھی خطاب کریں گے-
-

چار برسوں میں چترال کی 14 خواتین پنجاب میں قتل، مصطفی کمال کا بڑا مطالبہ
*مورخہ 6 فروری 2021*
پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے 4 سال کے مختصر وقت میں چترال کی 14 بیٹیوں کے شادی بعد پنجاب میں بیہیمانہ قتل پر شدید غم، غصے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان 14 بیٹیوں کی قاتل حکومت وقت ہے، گزشتہ 7 سال سے تحریک انصاف کی خیبرپختونخواہ میں حکومت ہونے کے باوجود چترال کی بچیوں کو نا تو تحفظ فراہم کیا گیا، نا قتل کی جانے والی لڑکیوں کے لواحقین کو انصاف میسر آسکا اور نا ہی پی ٹی آئی کی خیبرپختونخواہ کی حکومت نے پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری کےلئے رابطہ کیا۔ تحریک انصاف کے دور حکومت میں انصاف نام کو نہیں، عوام بے حال ہے، انکا کوئی پرسانِ حال نہیں، ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے، انسانی شکل میں درندے دندناتے پھر رہے ہیں کیونکہ حکمرانوں کی تمام تر توجہ سیاسی مخالفین کو زیر کرنے پر لگی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع سے کچھ ذہنی بیمار نوسرباز پہلی شادی کو صیغہ راز میں رکھتے ہوئے چترالی بچیوں سے شادی کرتے ہیں اور بعد ازاں وہ بچیاں مردہ پائی جاتی ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے حال ہی میں چینوٹ میں وقوع پزیر ہونے والے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چترال کی ایک بیٹی کے ساتھ ساتھ اسکی سات ماہ کی بیٹی کو بھی بے دردی سے زبح کردیا گیا، آج تک قاتلوں کیخلاف کاروائی نہیں ہوسکی۔ 14 لڑکیوں کے قتل پر چترال کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ایسا نا ہو کہ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے پھر حکمرانوں کو کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی۔ مصطفیٰ کمال نے مطالبہ کیا کہ حکومت وقت چترال کی تمام لڑکیوں کے قتل کی شفاف تحقیقات کرائے۔ پاک سرزمین پارٹی تمام مظلوموں کیساتھ کھڑی ہے اور تکلیف کی اس گھڑی میں چترال کی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ غریب خاندانوں کی غربت اور شرافت کا فائدہ اٹھانے والے ان انسانیت کے قاتلوں کو نشان عبرت بنایا جائے تاکہ آئندہ کوئی درندہ صفت بیٹیوں کیساتھ ایسا سلوک نا کرسکے۔ -

انصاف نہ ملنے پرلوگ اپنے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکیاں دینے لگ گئے: ویڈیو وائرل
بہاولپورمیں انصاف نہ ملنے پر بچوں کو قتل کرنے کی دھمکی ۔
شہری نے حکومت سے انصاف نہ ملنے پر اپنے بچوں کو قتل کرنے کی دھمکی دے دی ۔ بلال نامی شہری کی اپنے چار بچوں کو قتل کرنے کی دھمکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو 7 نیوز کو موصول ہوئی ۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتاہے کہ چاروں بچوں کے ہاتھ پاؤں باندھ کر منہ پر ٹیپ لگا کر شہری دھمکی دے رہا ہے ۔ شہری ویڈیو میں دھمکی دینے کا ساتھ ساتھ چھری بھی لہرا رہاہے ۔
-

کیا حکومت کو اپنے اراکین اسمبلی پراعتماد نہیں؟ شازیہ مری کی حکومت پر تنقید
شازیہ مری نے بیان دیا کہ کل قومی اسمبلی میں حکومتی وزرا ءنے ہنگامہ آرائی کی نئی مثال قائم کی – جو احتجاج عموما اپوزیشن کرتی ہے وہ کل حکومت کرتی نظر آئیں – جب حکومت "ایک پیج” پر ہے تو سینیٹ الیکشن کو لیکر کیوں پریشان ہے ؟ سینٹ الیکشن کو لیکر حکومت کو اپنے اراکین پر اعتماد نہیں ہے- جس فنڈ کو عمران نیازی رشوت کہتے تھے آج پچاس پچاس کروڑ بانٹ رہے ہیں- سینیٹ الیکشن سے دو ہفتے قبل آئینی ترمیم کے پیچھے کیا راز ہے ؟
حکومت کہتی ہے مہنگائی کم ہے لیکن آج مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے- پی ٹی آئی حکومت نے اپنی کارکردگی سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سلیکٹڈ ہے- کل قومی اسمبلی میں حکومتی وزراء احتجاج کرتے نظر آئے- پارلیمنٹ میں عوامی اشوز پر بات کرنے نہیں دی جاتی- پی ٹی آئی کے غیر سنجیدہ رویے نے پارلیمنٹ کو بہت نقصان پہنچایا ہے- پارلیمنٹ کو یرغمال ہونے نہیں دیں گے-
-

کیا حکومت کا قومی اسمبلی کےبعد سینیٹ کو تباہ کرنے کا ارادہ ہے؟
سینیٹ اجلاس
سینیٹ اجلاس میں شیری رحمان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں شفافیت پر کسی کو اعتراض نہیں ہے- اس سارے عمل میں شراکت داری کی ضرورت ہے- وزیراعظم اور حکومت پارلیمان کو اعتماد میں لیتے تو ہم میثاق جمہوریت سے آگے جاتے- میثاق جمہوریت کے 70 فیصد فیصلوں پر پیپلز پارٹی حکومت نے عمل کیا-
ہم سینیٹ انتخابات میں شفافیت چاہتے ہیں- لیکن آپ عجلت میں فیصلے نہیں لے سکتے- ان کے ایم پی ایز ان کے قابو میں نہیں ہیں- ایک طرف معاملہ عدالت میں ہے دوسری طرف آپ ترمیم لا رہے ہیں- یہ قومی اسمبلی کو تباہ کر کے سینیٹ کو تباہ کرنا چاہتے ہیں- صدر بائیڈن نے اپنی تقریر میں 11 بار اتحاد کی بات کی- یہاں یہ کہتے ہم ان سے این آر او مانگ رہے- جس کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں وہ یہ بل کیسے لا رہے ہیں-