Baaghi TV

Tag: حکومت

  • "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    "دو نہیں ایک پاکستان ” نعرے کی حقیقت کیا ؟ علی چاند

    حالیا الیکشن کے دوران حکمران جماعت نے جو نعرہ سب سے ذیادہ لگایا وہ تھا دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام نے پچھلے 70 سالوں میں صرف اور صرف نعرے ہی سنیں ہیں ۔ وہی سیاسی جماعتیں ، وہی چہرے ، وہی نعرے ہاں اگر ان میں کچھ نیا تھا تو وہ تھا یہ نعرہ کہ دو نہیں ایک پاکستان ۔ پاکستانی عوام یہ نعرہ سن کر یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ شاید اب کی بار ہی ہماری قسمت بدل جاٸے ، شاید اب کی بار ہی ہمیں وہ حقوق مل جاٸیں جن پر برسوں سے ہمارا حق تھا ، شاید اب ہماری دعاٸیں رنگ لے آٸیں جو ہم برسوں سے اپنی غریبی اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے مانگ رہے تھے ۔ عوام تو سمجھ رہے تھے کہ شاید اب ہمارے وزیر اور مشیر ہمارے ساتھ عوامی گاڑیوں میں سفر کریں گے ، ان وزیروں کے بچے ہمارے بچوں کے ساتھ ایک ہی جگہ ، ایک ہی سکول ، ایک ہی نصاب ، ایک ہی طریقہ تدریس ، ایک ہی استاد سے تعلیم حاصل کریں گے ۔ لیکن کیا فرق آیا ابھی تک ۔ وہی جو کچھ پرانی حکومتوں میں حکمران اور وزیر مشیر کرتے تھے ۔ آج بھی غریب کا بچہ فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر رہا ہے بلکہ کچھ جگہوں پر تو فرش بھی میسر نہیں ۔ استاد کا دل کرے پڑھاٸے دل کرے تو نہ پڑھاٸے ۔ جبکہ امیر کا بچہ دنیا کا مہنگا ترین نصاب ، سکول اور جدید ترین طریقہ تدریس کے مطابق قابل اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم حاصل کر رہا ۔ امیر تو آج بھی اپنے علاج مہنگے ترین پراٸیویٹ اسپتالوں سے کرواتے ہیں جبکہ غریب کا بچہ آج بھی کتے کے کاٹے کی ویکسین نہ ہونے کی وجہ سے کمشنر آفس کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دے دیتا ہے ۔ کسی ایم پی اے یا ایم این اے نے آج بھی کسی سکول یا کالج کا دورہ کرنا ہو تو غریب کی بیٹیاں اب بھی گھنٹوں روڈز پر کھڑی ہوتی ہیں تاکہ ان عوامی نماٸیندوں کا استقبال بہترین طریقے سے کیا جاسکے۔ آج بھی بڑے بڑے چور ڈاکو مقدمات ہونے کے باوجود پروٹوکول کے ساتھ اسمبلی میں آتے ہیں ، آج بھی سرکاری خرچ پر علاج کروا رہے ہیں ، قوم کے پیسے سے عیاشیاں کر رہے ہیں جب کہ دوسری طرف صلاح الدین جیسے غریب کو تفتیش کے دوران ایسی اذیت ناک موت دی جاتی ہے کہ اللہ کی پناہ ۔ 500 روپے چوری کرنے والے کو تو مار مار کر قتل کر دیا جاتا ہے جبکہ قوم کا خون تک نچوڑ کر اپنی اولاد پر لٹا دینے والے کو جیلوں میں بھی عیاشیاں کرواٸی جا رہی ہیں ۔

    قصور کی زینب کو انصاف نہ مل سکا کیونکہ پاکستان میں امیر اور غریب کے لیے الگ الگ نظام تھے لیکن قصور کے بچے تو اب بھی زینب کی طرح دردناک موت کا سامنا کر رہے ہیں جن کا کوٸی پرسان حال نہیں ۔ ساہیوال جیسے واقعات جہاں فیڈر ہاتھوں میں پکڑے بچے دہشت گرد قرار دے دٸیے جاتے ہیں جن کے سامنے ان کے والدین کو شہید کر دیا جاتا ہے کیا انہیں انصاف مل پایا ؟ کیا صلاح الدین جیسے لوگوں کو انصاف مل پایا ؟ کیا اب عدالتی نظام ، سکول کا نظام ، پولیس کا نظام امیر اور غریب کے لیے ایک جیسا ہے ؟ کیا اب عام وزیر سے لے کر وزیر اعظم تک مدینہ کے سربراہ کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔ کیا اب عوامی نماٸیندے عوام کے ساتھ سفر کرتے ہیں ؟ کیا وزیر اعظم پاکستان اب ایک مزدور کے برابر تنخواہ لیتا ہے ؟ کیا امیر اور غریب کے بچے کا معیار تعلیم ، معیار خوراک ، معیار ادویات ایک جیسا ہوگیا ہے ؟ کیا اب گستاخوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزاٸیں دی جاری ہیں یا پھر تحفظ دیا جارہا ہے ؟ کیا اب حکمرانوں کے بچے پاکستان میں ہی رہ کر یہی کے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ؟ کیا یہ عوامی نماٸیندے اب عوام کی طرح سرکاری ہسپتالوں میں دھکے کھا کر ہی اپنا علاج کرواتے ہیں ؟ قصور وار کون ؟ ہم ہیں قصور وار ۔ ہاں ہم عوام ہی قصور وار ہیں کیونکہ ہم شخصیت پرست ہے دو دو چار چار سو میں پرچی بیچ دینے والی عوام ، دو دو چار چار سو کے لیے اپنا ضمیر بیچ دینی والی قوم ، اپنی زبان ، اپنی ٹویٹ ، اپنی پوسٹ بیچ دینے والی عوام ۔ جنہوں نے کبھی ان عوامی نماٸیندوں ، ان وزیروں مشیروں کا گریبان نہیں پکڑا ، ان سے سوال پوچھنا تو دور جو سوال پوچھے اسے ہم بیچ چوراہے ایسا ذلیل و رسوا کرتے ہیں کہ وہ انسان دوبارہ کسی حکمران سے سوال پوچھنے کی غلطی نہیں کرتا ۔

    اللہ کرے کہ کبھی ان شہدا کا پاکیزہ خون رنگ لے آٸے جنہوں نے پاکستان بنانے سے لے کر اب تک اس پاک دھرتی کے لیے قربانیاں دی ہیں ، جانیں لٹاٸی ہیں تاکہ یہ پاک وطن حقیقی معنوں میں اسلامی ریاست بن سکے ۔ آمین

  • مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    مہنگائی تو ہر دور میں رہی ہے تو ۔۔۔۔۔۔۔ محمد رفیع شاکر راجن پور

    نئی حکومت کے آتے ہی تجاوزات آپریشن کی آڑ میں ن لیگ پیپلز پارٹی کے بااثر شخصیات سے قبضے واگزار کرانے کے لیے اور اپنی دلی تسکین کے لیے پورے ملک میں تباہی مچا دی گئی مگر اس کا حاصل کیا ہوا کیا ان واگزار کروائی گئی لاکھوں ایکڑ زمین سے کوئی فائدہ مل رہا ہے جبکہ اس کو قانونی طریقے سے بولی کے ذریعے اشتہارات کے ذریعے لیز پر دے کر اچھی خاصی انکم حاصل کی جاسکتی تھی جبکہ دوسری طرف وہ بے روزگار طبقہ بھی کام میں لگ سکتا تھا جو آج اسی تجاوزات اور واگزار آپریشن میں عام مزدور طبقہ ملازم طبقہ متاثر ہوا ہے۔

    لیکن اس آپریشن سے الٹا لوگ بے روزگار کاروبار تباہ املاک تباہ زمینیں واگزار مگر فائدہ کچھ نا ہوا ہے البتہ کرائم روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے کیونکہ بھوک میں لوگ پھر یا تو مانگ کر کھائیں گے یا چھین کر اور روز روز بھی کون مانگنے پر دیتا ہے۔۔

    اگر وہی سرکاری املاک یا زمینوں یا پتھاروں پر سال چھے ماہ کے لیے ٹیکس لگا دیا جاتا تو اس سے سینکڑوں ارب ڈالر کا ریونیو حاصل کیا جاسکتا تھا اور ایک سال یا چھے ماہ کا نوٹس دے کر ختم بھی کیا کرایا جاسکتاتھا جس سے نقصان بھی نا ہوتا اور لوگ اپنا کوئی متبادل بھی بنا لیتے یا شفٹ کرلیتے اپنے کاروبار دکانیں وغیرہ دنیا میں کہیں بھی کوئی ملکی پالیسی یا قانون بنایا جاتا ہے تو پہلے لوگوں کو آگاہی دی جاتی ہے پھر آہستہ آہستہ لاگو کیا جاتا ہے مگر پاکستان میں تو قانون اتنے بنا دیے کہ اب اگر لاگو ہوجائیں تو بندہ ایک دن بھی جی نہیں سکتا کسی نا کسی قانون میں دھر لیا جائے گا اور جو قانون بنتا ہے دوسرے دن لاگو اور عمل درآمد شروع جس سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں

    جبکہ دوسری طرف عوام کو این ٹی این کے چکر میں ڈال کر ذلیل و خوار کر دیا گیا۔ آج نیب اور ایف بی آر کے خوف سے پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں کرنا چاہتا اور آج کی ایک اور بری خبر بھی آگئی کہ وزیراعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی منظوری دے دی ہے

    حکومت نے عوام پر آج یکم اگست 2019 کو ایک اور بم بھی گرادیا ہے۔‏وزیر اعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی سمری منظور کر لی ‏اوگرا کی سفارشات پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا۔ ‏پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 15 پیسے فی لیٹر اضافہ۔ ‏پیٹرول کی نئی قیمت 117.83 روپے فی لیٹر ڈیزل کی قیمت 132.47 روپے۔ مقرر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہو چکا ہے۔

    آج اپوزیشن کی کی ہوئی ہر بات سچ ثابت ہوتی جارہی ہے۔ آئی ایم ایف سے مہنگائی کرنے کی ڈیل کی خبریں بھی سچ ہونے لگیں ہیں جس سے ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے ہر آنےوالا دن متوسط اور غریب لوگوں پر بم بن کر گر رہا ہے لوگوں میں مایوسی پھیلتی جا رہی ہے

    لوگ ویسے تو ہر دور میں مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں جبکہ جو چیز پاکستان میں ان کو 100 روپے کی ملتی ہے وہی چیز دوبئی میں 500 روپے کی بڑی خوشی کے ساتھ خریدتے نظر آتے ہیں تو اس مہنگائی کا رونا رونے کی اصل وجہ لوگوں کو آج تک شائد سمجھ نہیں آسکی ہے۔ اصل میں مہنگائی کا رونا انسان اس وقت روتا ہے جب اس کے پاس آمدن ۔ انکم ۔ آمدنی ۔ کاروبار ۔ روزگار ۔ ذرائع آمدن نہیں ہوتے اور ضروری خرچے ہی پورے نہیں ہوتے تو وہ مہنگائی مہنگائی کا رونا روتے نظر آتے ہیں اگر ہر انسان کی بنیادی ضروریات اور خرچے بھی پورے نا ہوں تو وہ بے چارے پریشانی کے عالم میں بس مہنگائی مہنگائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن اصل بات کی ان کو سمجھ نہیں آتی ہے۔
    یہی صورتحال آجکل کچھ پاکستان اور اس کی عوام کی ہے جو آپ کو بھٹو دور میں بھی شائد اگر کچھ یاد کرنے پر مہنگائی کا رونا روتی نظر آئی ہوگی تو کبھی بے نظیر بھٹو تو کبھی نوازشریف تو کبھی آصف زرداری تو کبھی عمران خان کے دور میں بھی مہنگائی مہنگائی کا رونا روتی نظر آتی ہے

    ضرورت اس چیز کی ہے کہ حکومت پاکستان ایسے حالات اور پالیسیاں مرتب کرے جس سے ملک میں خوش حالی کا دور دورہ ہو لوگ اپنے اپنے کاموں روزگار کاروبار میں مصروف ترین زندگی گزار رہے ہوں

    یہ محاظ آرائی کی موجودہ پالیسیاں عمران خان اور حکومت کا طریقہ عوام میں اور ملک پاکستان میں افراتفری پریشانی کے سوا کوئی فائدہ نہیں دے رہی ہے۔ عوام کو کوئی پرواہ نہیں ہے کسی بھی کرپٹ یا کسی بھی دہشت گرد کوچاہے کسی کو بھی پھانسی لگا دیں مگر خدارا عوام کو اس پریشانی کے عالم سے نکالیے اب آپ کی لچھے دار تقریریں بھی اچھی نہیں لگتی ہیں اب صرف یہی بات بار بار کر کر کے آپ اچھے نہیں بن سکتے کہ فلاں برا تھا فلاں غلط تھا کچھ کر کے آپ کو اپنے آپ کو ثابت کرنا ہے جو تاحال عملی طور پر کچھ نا ہوسکا ہے البتہ باتیں بہت بڑی بڑی ضرور ہیں کیونکہ عمران خان صاحب اب تک آپ نے پاکستانی عوام کو کچھ نا دیا ہے البتہ چھینا ضرور ہے اور آپ کے اداروں میں بھی عوام کو ریلیف نہیں مل رہا ان کے کام میرٹ انصاف اور وقت ضائع کیے بغیر نہیں ہو رہے ہیں آج بھی وہی تھانہ کلچر وہی افسر شاہی کلچر وہی کرپشن کلچر وہی لوڈ شیڈنگ وہی سرکاری اداروں میں زلالت اور خواری ہے آج بھی تھانے میں ایم پی اے ایم این اے کی مرضی کے بغیر پولیس والے ایک قدم نہیں اٹھاتے ہیں یا پھر قائد اعظم کی سفارش کے بغیر کام نہیں ہوتا ہے۔ بس صرف رپورٹیں سب اوکے اوکے اوکے کی ضرور کی جا رہی ہوں گی مگر حقیقت یہی ہے کہ عوام آج جتنی مشکلات پریشانیوں کا شکار ہے لگتا یہی ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں شائد اتنی نا تھی یا شائد ہم نہیں جانتے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی 40 سالا زندگی میں اتنے پریشان لوگ نہیں دیکھے تھے۔۔۔۔۔

    *امید رکھتے ہیں حکومت و حکمرانوں کی آئندہ پالیسیوں کا محور عام آدمی ہوگا اور اس ملک و قوم کی بہتری کے لیے زبانی سے زیادہ عملی اقدامات کیے جائیں گے۔۔۔۔۔۔

    رہے نام اللہ کا

  • اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

    اک سال امیدوں کا ۔۔۔ عشاء نعیم

    پاکستان میں 2018 کے الیکشن میں برسر اقتدار آنے والی جماعت پی ٹی آئی کو اقتدار سنبھالے ہوئے جولائی 2019 میں ایک سال مکمل ہو گیا ۔
    پی ٹی آئی ایک ایسی جماعت ہے جسے نوجوانوں کی جماعت سمجھا جاتا ہے ۔
    پاکستانیوں کی اکثریت نے اس جماعت کو نجات دہندہ سمجھا ہوا ہے ۔کیونکہ اس کے سربراہ عمران خان ہیں جو دنیائے کرکٹ میں ایک بڑا نام ہونے کے ساتھ پاکستان کو اپنی کپتانی میں ورلڈ کپ جتوانے والے تو اس کے بعد پاکستان میں پہلی مرتبہ کینسر ہسپتال قائم کرنے والی شخصیت ہیں جہاں غرباء کا مفت علاج بھی ہوتا ہے ۔عمران خان پاکستان کی عوام میں سیاست سے پہلے ہی ہیرو کے طور پہ جانے جاتے ہیں سو لوگوں کو ان سے سیاست میں بھی ہیروئیک کردار کی توقع ہے ۔
    وہ ان سے ملک کے تمام مسائل کے خاتمے کی توقع رکھتے ہیں ۔
    یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر اچھے کام کو بہت زیادہ سراہا جاتا ہے لیکن اگر کوئی کام غلط لگے تو بھی ان کے کارکنان اسے بھی صحیح بنا کر پیش کرنے کی پوری تگ و دو کرتے ہیں ۔
    عوام سمجھتی ہے کہ ملک سے ‘مہنگائی ‘کرپشن ‘دہشت گردی ‘لوٹ مار غرض تمام برائیاں عمران خان صاحب ختم کر دیں گے۔
    اس حکومت نے بہت بڑے بڑے فیصلے کئے خو انتہائی مشکل بھی تھے ۔
    ان میں سے ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کے کرپشن کیسز بنانا اور ان کے سربراہان کی گرفتاری بھی شامل ہے ۔
    نواز شریف اور آصف علی زرداری دو بڑے لیڈد جنھیں پکڑنا کسی دیوانے کا خواب لگتا تھا اس حکومت نے پورا کر کے سب کو حیران کردیا ۔
    عمران خان کسی ضدی بچے کی طرح تمام کرپٹ لوگوں سے پیسہ نکلوانے پہ مصر ہیں اور کسی قسم کا کمپرومائز کرنے پہ تیار نہیں ۔
    عوام کی اکثریت ان کے اس کارنامے پہ خوش ہے ۔
    دوسرا کارنامہ خان صاحب کا بیرون ممالک میں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہ قانون بنانے کا مطالبہ ہے ۔عوام اس کارنامے پہ انھیں ایک اچھے مسلمان کے طور پہ دیکھتی ہے ۔
    خان صاحب کے اچھے کاموں کے ساتھ کچھ ایسے کام بھی تھے جو عوام میں ناپسندیدہ تھے جن میں معاشی بدحالی مہنگائی ‘آسیہ مسیح کی رہائی پہ تو عوام کی اکثریت تڑپ اٹھی ۔
    اس کے علاوہ ملک کی ایک محب وطن جماعت ‘جماعت الدعوہ کو بین کرنا ‘ اور کچھ عرصے بعد اس جماعت کے امیر حافظ محمد سعید صاحب کی گرفتاری یہ ایسے امور ہیں جن پر عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا۔
    سوشل میڈیا پہ عمران خان کو زبردست مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ۔
    کیونکہ حافظ سعید صاحب پہ جو دہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا وہ بے بنیاد ہے ۔
    حافظ سعید صاحب ایک محب وطن پاکستانی، عالم دین اور پرامن شہری ہیں ۔ان پہ ممبئی حملوں کا جو الزام ہے وہ تو ایک جرمن صحافی بھی ثبوتوں کے ساتھ بتا چکا ہے کہ وہ بھارت کا خودساختہ ڈرامہ تھا ۔
    خان صاحب کے کچھ وزرا بھی اپنی وزارت کو چلانے میں ناکام رہے جن کی خان صاحب کو چھٹی کروانی پڑی ۔
    البتہ حال ہی میں کیے گئے امریکی دورے میں خان صاحب کا وی آئی پی مہنگے طیارے کی بجائے عام طیارے کا استعمال ‘مہنگے روزانہ لاکھوں کے کرائے کے ہوٹل میں قیام کی بجائے پاکستان کے سفارت خانے میں قیام ‘اور امریکی صدر سے دوٹوک بات کرنا اور امریکی صدر ٹرمپ کا مسئلہ کشمیر میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی خواہش کے اظہار کی وجہ سے خان صاحب پھر عوام کہ آنکھ کا تارا بنے ہوئے ہیں ۔
    امید ہے خان صاحب کی حکومت پاکستان کو تمام چھوٹے بڑے مسائل سے نکال کر ‘کرپِشن کا پیسہ واپس لا کر اور سی پیک کا منصوبہ مکمل کر کے عوام کی امیدوں پہ پورا اترے گی ۔

  • حکمرانوں کے نام ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    حکمرانوں کے نام ۔۔۔ سلیم اللہ صفدر

    اے میرے وطن کے حکمرانو….! وہ وقت یاد کرو جب حکمرانی کو اعزاز و اقتدار نہیں بلکہ بوجھ اور ذمہ داری سمجھا جاتا تھا…. جب ایک ادنیٰ اور غریب کا بیٹا حاکم وقت سے پوچھ سکتا تھا کہ مال غنیمت کی اس چادر کا لباس تو نے کن پیسوں سے حاصل کیا…. وہ وقت یاد کرو جب مسلم حکمرانوں کی طرف سے بیت المال اور ذاتی مال کی اصلاحات متعارف کی گئیں…. وہ وقت یاد کرو جب خلیفہ وقت آدھی رات کو اٹھ کر اپنی قوم کا پہرہ دیا کرتا تھا….. وہ وقت جب حاکم وقت دریائے فرات کے کنارے مرنے والے کتے کے حساب سے بھی خوفزدہ رہتا تھا…. اور وہ وقت جب مسلم حکمران بادل کے ٹکڑے کو دیکھ کر کہتا تھا کہ آے بادل کے ٹکڑے….! تو نے جہاں بھی برسنا ہے جا برس. لیکن تو نے جہاں بھی برسنا ہے اس کھیتی کا غلہ میرے پاس پہنچے گا. مسلم علاقے میں ٹیکس کی مد میں اور غیر مسلم علاقے میں خراج کی صورت میں….!

    تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
    ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیِ داماں بھی ہے

    ہفت کشور جس سے ہو تسخیر بے تیغ و تفنگ
    تو اگر سمجھے تو تیرے پاس وہ ساماں بھی ہے

    وہ صرف گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے بھی غازی تھے. وہ فاتحین عرب و عجم ہی نہیں…. بلکہ عرب و عجم میں بسنے والے ہر مسلمان کے دل کے حکمران تھے. انہوں نے دنیا کو مرنے کا فن اور جینے کا ڈھنگ سکھایا. انہوں نے امت مسلمہ کو خالق حقیقی کے آگے گردن جھکانا اور باطل کے سامنے اسی گردن کو جھکائے بغیر کٹوانا سکھایا.

    حکمت، تدبر، سیاست اور دور اندیشی کے بل بوتے پر اور سب سے بڑھ کر اللہ کی توفیق سے ان کا ہر فیصلہ امت مسلمہ کے لیے خیر کا پیغام لیکر آتا تھا. وہ تین سو تیرہ ہوتے مگر ہزاروں سے ٹکرا جاتے…. وہ تنہا ہوتے مگر ان کا عزم پہاڑوں کے کلیجے پھاڑ دیتا. وہ ساحلوں پر کشتیاں چلاتے اور بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑاتے. وہ کھجوروں کی ایک چھوٹی سی بستی سے نکلے مگر ان کی بصیرت اور ان کی سیاست نے اللہ کی مدد کے ساتھ قیصر کے شہر قسطنطنیہ کی فصیلیں، کسری کے قصر ابیض کے دروازے اور شام کے پھاٹک کھول دیے….. دنیا کے تمام خزانے ان کے قدموں میں ڈھیر کر دیے….یہ دنیا کے اندر انعام تھا بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ رب العزت کی غلامی میں دینے کا. انہوں نے دہشت گردی سے پاک اور مالی آسودگی سے مزین ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا کہ ایک پردہ دار خاتون حیرہ شہر سے نکل کر مکہ مکرمہ بیت اللہ کے طواف کی نیت سے سفر کرتی اور اسے اللہ کے علاوہ اور کسی کا خوف نہ ہوتا ….ایک مسلمان صدقہ کرنے کی نیت سے گھر سے باہر نکلتا لیکن اس کو کوئی صدقہ لینے والا نہ ملتا.

    صرف یہی نہیں…. مسلم حکمرانوں نے اپنی رعایا پر علم و فنون کے دروازے کھول دیئے. جس وقت سارا یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا…. سپین کے صرف ایک شہر کے اندر ہزاروں لائبریریاں موجود تھیں. جب لوگ غاروں اور جنگلوں میں رہنے پر مجبور تھے…. اندلس کے حکمران عبدالرحمن ثالث اور اس کے جانشین فن تعمیر کو نقطہ ِمعراج تک پہنچا چکے تھے…! اور جس وقت صلیبی پادری سائنس اور دینی علوم و فنون کے خلاف فتوے لگا رہے تھے…. مسلمان سائنسدان کیمسٹری، بیالوجی، ریاضی، علم الارضیات، اور فلکیات کے میدانوں میں اپنی ذہانت کا لوہا منوا رہے تھے.

    اے مسلمان حکمران…! آج پھر اسی عہد کو دہرانے کا وقت ہے. ابو بکر کی صداقت، عمر کی عدالت، عثمان کی سخاوت اور علی کی شجاعت کو دہرانے کا وقت ہے. اسلام کے نام پر بنی اس پاک سر زمین پر اسلام کے سنہری اصولوں کو آزمانے کا وقت ہے…. امت مسلمہ کے ہر پریشان و غمگین دل کو آپس میں ملانے کا وقت ہے…. اور عالم کفر کی ہر چال کو مٹانے کا وقت ہے.

    اے مسلم حکمراں ! توحید کا پرچم اٹھا پھر سے
    ذرا تکبیر کے نعروں سے امت کو جگا پھر سے
    ہر اک نفرت ختم کر کے دلوں کو اب ملا پھر سے
    یہ ملت جسدِ واحد ہے یہ دنیا کو بتا پھر سے

    سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا
    لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

  • اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلامی معاشرے میں عورت کا مثالی کردار ۔۔۔ ثناء صدیق

    اسلام اپنے ماننے والوں کو ہر قسم کی آزادی دیتا ہے جو شخص اسلامی معاشرے کا فرد بن جاتا ہے وہ ہر قسم کی آزادی سے بہرہ ور ہو جاتا ہے۔ اسلامی معاشرہ جو معاشرتی لحاظ سے جامعیت رکھتا ہے یہ وہ معاشرہ ہے جس کی تشکیل نے عورت کو پستیوں سے نکال کر آسمان کا ستارا بنا دیا اس معاشرے نے عورت کو عزت و وقار عطا کیا یہ وہ معاشرہ ہے جو پاکیزگی اور عزت سے مالا مال ہے اسلامی معاشرے سے پہلے جہالت کے معاشرے میں دیکھا جاۓ تو ہر قسم کے بے حیائی اور فحش کام کرنے کے لیے عورت کا انتخاب ہوتا تھا اگر تاریخ اٹھا کر دیکھا جاۓ تو کسی معاشرے کے مرد کو اس کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے اور اسے گمراہ کرنے کے لیے لوگ عورت کا استعمال کرتے تھے لیکن موجودہ دور میں اسلامی معاشرے میں بھی خواتین کو ہی ان کے مقاصد سے ہٹانے کے لیے استعمال کرنے کی غرض سے لنڈے کے دیسی لبرلز نے عورتوں میں فحاشی اور عریانی کو رواج دیا۔ ان لبرلز نے خواہ وہ کسی کمپنی کی کمرشل ہو یا فیشن کے نام ہو مسلمان با حیاء عورتوں کے پردے اور ایمان کا جنازہ نکال دیا ہے یہ عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کے ایجنٹوں نے میرے وطن عزیز میں بے حیائی اور عریانی پھلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کافر اور ملحدوں کی شدید خواہش ہے کہ میرے وطن عزیز کو عزت اور شرم حیاء والی سوچ سے خالی کر دیں اسلامی معاشرے میں بے حیائی کا پھیل جانا اللہ کے عذاب کو کھلم کھلا دعوت دینا ہے۔ فحاشی اور عریانی تو غیر مسلم کا شعار تھا لیکن افسوس یہ اسلامی معاشرے میں پھیل گیا۔ کبھی اے اسلامی معاشرے کی پاک بیٹیو جو تم پردے سے آزادی چاہتی ہو سوچا ہے کہ تم کس پاک نبیﷺ کی امت کی بیٹیاں ہو جس نے ایک یہودی عورت کی چادر چھن جانے سے پوری قوم یہود کو جنگ کے لیے للکارا تھا۔
    کسی بھی قوم کا ماضی اس کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے ماضی میں دیکھیے جہاں انہوں نے عورت کو پردے کا پابند کیا جہاں ان عورتوں نے احکام الہی کو مانا ہے وہاں ان عورتوں نے وہ کام کر کھایا ہے جو اج کی مسلمان عورت پردے سے آزادی کی بات کرتی ہے پردے کے بےغیر بھی شاید نہ کر سکے۔ اصل میں پردہ عورت کو قید نہیں کرتا بلکہ وہ باعزت مواقع فراہم کرتا ہے کہ تم پردہ کر کے پہچانی جاؤ گی اور تکلیف نہ دی جاؤ گی بلکہ آرام سے اپنا کام کرو گی۔ نبی پاکﷺ کے دور میں عورتوں نے وہ کام کر دکھایا جو آج کے لبرلز کےمنہ پر طمانچہ ہے کہ پردہ داغ نہیں بلکہ ترقی کی راہ میں قیمتی چیز ہے۔ صحابیاتؓ نے جس جوش سے خدمت جہاد کی ہے آج کے دور میں اس کی مثال مشکل سے ہی ملے گی۔ غزوہ احد میں جب کافروں نے عام حملہ کر دیا تو ام عمارہ سینہ سپر ہو گئیں انہوں نے کندھے پہ گہرے زخم کھائے لیکن ابن قیمہ کو نبی پاکﷺ کے پاس نہیں جانے دیا غزوہ خندق میں حضرت صفیہؓ کی بہادری اور تدبیر نے یہودیوں کو حملہ نہیں کرنے دیا غزوہ حنین میں ام سلیمؓ کا خنجر لے کر نکلنا بہت مشہور ہے جنگ یرموک میں اسماء بنت ابوبکرؓ جویریہؓ ہندؓ خولہؓ نے بڑی بہادری سے قبرص کی بحری جنگ میں قبرص کی فتح میں ام حرام بنت ملحانؓ اس میں شامل تھیں اس علاوہ زحمیوں کی مرہم پٹی کرنا شہداء کی لاشوں کو اٹھانا جنگی مجاھدین کے لیے کھانا بنانا جیسی خدمات قابل حیرت ہیں۔ یرموک میں جب مسلمان ہٹنے لگے تو ہند ؓاور خولہؓ نے اشعار پڑھہ کر غیرت دلائی صحابیاتؓ اس کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتی تھیں حضرت شفاء بنت عبداللہؓ بہت بڑی صاحب الراۓ تھیں حضرت عمرؓ نے کئی بار بازار کا انتظام ان کے سپرد کیا تھا عورت کے پاس اتنا سیاسی اختیار تھا کہ وہ کسی بھی قیدی کو پناہ دے سکتی تھی اسلامی علوم میں خواتین بہت ماہر تھیں حضرت عائشہؓ ام ورقہؓ اور ام سلمہؓ نے پورا قرآن پاک حفظ کیا تھا ام سعد ؓدرس قرآن دیتی تھی حضرت عائشہؓ بہت ساری احادیث کی روای ہیں فقہ میں ان کے فتاویٰ بہت مشہور ہیں۔ اسلامی علوم کے علاوہ دیگر علوم میں بھی خواتین ماہر تھں ام سلمہؓ علم الااسرار سے پوری واقفیت رکھتی تھیں خطابت میں اسماء بنت یزیدؓ بہت مشہور تھیں۔ خوابوں کی تعبیر میں اسماء بنت عمیسؓ ماہر تھیں طب اور جراحی میں اسلمتہ ؓام مطاعؓ ام کبشہؓ حمنہ بنت جحشؓ ام سلیمؓ ام عطیہؓ کو مہارت حاصل تھی شاعری میں خنساءؓ ہندؓ خولہؓ ام ایمنؓ عاتکہؓ بنت زیدؓ بہت ماہر تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سی انصار عورتیں کاشتکاری اور کپڑا بننے کا کام کرتی تھیں بہت سی عورتیں پڑھنا لکھنا جانتی تھیں شفاء بنت عبداللہ ؓ نے دور جاہلت میں ہی پڑھائی لکھائی جان لی تھی۔ حضرت حفصہؓ اور بنت عقبہؓ ام کلشومؓ بھی پڑھنا لکھنا جانتی تھیں۔ حضرت عائشہؓ پڑھنا جانتی تھی اس کے علاوہ خواتین تجارت بھی کرتی تھیں حضرت خدیجہؓ بہت بڑی تاجر تھیں۔ خولاءؓ اور ملکیہؓ عطر کی تجارت کرتی تھیں بنو امیہ میں رابعہ بصریؒ بہت بڑی زاہدہ خاتون تھی عباسی دور میں پردے کا عام رواج تھا تو عورتوں نے اس دور میں بھی بہت سی خدمات سر انجام دی ملکہ خزان ملکہ زبیدہ ملکہ بوران امور حکومت میں دلچسپی لیتی تھیں خلیفہ منصور کے عہد میں دو اسلامی شہزادیوں ام عیسی اور لبانہ نے بزنطیوں کے خلاف جہاد کیا تھا ہارون کے عہد میں کئی عورتیں سپہ سالار مقرر ہوئی تھیں خلیفہ مقتدر کی والدہ عدالت عالیہ میں اپیلوں کی سماعت کرتی تھی اور غیر ملکی سفیروں سے امور مملکت پر تبادلہ خیال کر تی تھی عباسی دور کی عورتیں بہت علم پرور تھیں وہ مردوں کے دوش بدوش علمی مجالس میں شریک ہوتی تھیں ملکہ زبیدہ ایک بلند پایہ شاعرہ تھی ایک خاتون شیخہ ادب اور تاریخ پر لیکچر دیتی تھی ایک خاتون زینب بہت بڑی قانون دان تھی درس گاہوں میں قانون کی تعلیم دیتی تھی صلاح الدین ایوبی کے دور میں ایک ترک عورت درس حدیث دیتی تھی ان عورتوں کے واقعات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں لیکن ہم ان لبرل عورتوں کو کس طرح ان خرافات سے سمجھا سکتے یہ تو اس طرح ہے جس طرح کوڑے کے ڈھیر پورے ملک میں ہوں ان کی صفائی کے لیے چند لوگ تو نہیں درکار ہو سکتے نہ اس کام کے لیے لاکھوں لوگ درکار ہوں گے اسی طرح ان لنڈے کے لبرلز کو سمجھانے کے لیے ایسے کئی لوگ چاہئیں جن کی اپنی زندگی ایسی خرافات سے پاک ہو۔

  • فیلنگ آف اے لوز گورننس ۔۔۔ سلمان آفریدی

    فیلنگ آف اے لوز گورننس ۔۔۔ سلمان آفریدی

    صاحب کا ااقبال بلند ہو ۔۔۔ بھاگ لگے رہن ۔۔۔  مسند مبارک تا بہ ابد سلامت رہے ۔۔۔ نادار مگر ناداری کی لکیر سے نیچے ہی گھسٹتا چلا جا  رہاہے  ۔۔۔ اور غریب ہے کہ ناپید ہی ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔ رہے نام اللہ کا 

    جناب والا ! جب سے آپ کی حکومت آئی ہے عوام تبدیلی کی راہ تک رہے ہیں ۔ اس میں کچھ قصور تو حضور کے قبل اور بعد از الیکشن بیانات کا ہے جن میں آنجناب کی جانب سے نوے روز میں تبدیلیوں کا سیل رواں برپا کرنے ‘ کھڑے کھڑے ملک و قوم کے مسئلے حل کرنے اور مملکتِ خداداد کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے بلند و بانگ دعوے تھے جبکہ جلتی پر تیل "انڈیلنے” کا کام آپ  کے "نو رتن” سر انجام دیے چلے جاتے ہیں

    حضور کے سب دعوے منظور ۔۔۔ آپ کی ہر منطق قبول ۔۔۔ تکلیف کا سبب مگر یہ بات ہے حکومت کے ہوتے ہوئے بھی محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ساکنان سر زمین شاد باد ” بے حکومتے ” ہی بس رہے ہیں۔ آپ کی عقابی نگاہ تلے ڈالر مہاجن کا سود ہوا جاتا ہے جبکہ دواؤں کی قیمتیں گرمی کے تاپ کی  طرح چڑھ اور اتر رہی ہیں۔ عین آپ کی ناک کے نیچے ذخیرہ اندوزوں ، گراں فروشوں اور عوام کا خون چوسنے والوں کی چاندی ہوئ پھرتی ہے۔

    عالی جناب ! پوچھنا یہ ہے کہ جب آپ اس قدر اچھی تیاری کےساتھ الیکشن میں اترے تھے کہ کامیابی آپ کو واضح نظر آتی تھی تو ایسے میں کوئی ” شیڈو کیبنٹ ” بنانے یا ” پالیسی میکنگ ” نامی کام کرنے کا کوئی تردد کیوں نہیں کیا گیا ؟ حکومت میں آنے سے پہلے اور زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد وزراء کے ناکافی ” ہوم ورک ” ، لمبی چوڑی بیان بازیوں اور کار حکومت چلانے کے تجربہ کی کمیابی کا سد باب کرنے کے واسطے ” قیادت ” نے کونسے اقدامات اٹھاے ؟ اگر یہ معلوم تھا اور لازماً  احتمال موجود تھا کہ ” اسٹیٹس کو ” کے حامی سیاسیان اور اسٹیبلیشمنٹ کرپشن کے خلاف جاری مہم کی کامیابی کے اثر کو کم سے کم کرنے کے لیے مصنوعی  بحرانوں کا سہارا لے سکتے ہیں تو ان سے نمٹنے کو ہماری دوربین قیادت نے کیا حکمت عملی وضع کی ؟؟؟

    والا تبار ! گستاخی کی معافی چاہتا ہوں کہ خو گر حمد سے تھوڑا سا گلہ سننا آپ کے ، اس ملک کے اور سب سے بڑھ کر اس قوم کے فائدے میں ہے ۔ عرض فقط اتنی سی ہے کہ آپ کی دستیابی ، عوام میں موجودگی  اور کسی نہ کسی بہانے عوامی رابطہ مہم بہت سی پریشانیوں ، سازشوں اور پراپیگنڈوں کا گلا اپنےآپ گھونٹ دے گی۔ مزید برآں یہ کہ  عوام کو یہ احساس  ہر آزمائش سے گزرنے پر تیار رکھے گا کہ ہوا کے سرد و گرم تھپیڑوں میں اور کچھ نہ سہی مگر آپ ان کے درمیان کھڑے ہیں اور وہ اس افتاد میں تنہا نہیں وگرنہ هم اس سےبڑھ کر
    کہہ

    بھی

    کیا سکتے

    ہیں

    کہ

    صاحب کا اقبال بلند ہو ۔۔۔ بھاگ لگے رہن ۔۔۔  مسند مبارک تا بہ ابد سلامت رہے ۔۔۔ نادار مگر ناداری کی لکیر سے نیچے ہی گھسٹتا چلا جا  رہاہے  ۔۔۔ اور غریب ہے کہ ناپید ہی ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔ رہے نام اللہ کا