Baaghi TV

Tag: حکومت

  • حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مذاکرات بے نتیجہ

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان جاری مذاکرات گزشتہ روز کسی حتمی اور مثبت نتیجے تک نہ پہنچ سکے، جس کے بعد ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کی اپنی کال برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا۔

    حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی مثبت اور حتمی نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے، جس کے بعد 9 جون کو ہڑتال کی کال بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے حکومتی ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل کے دوران حکومت نے مسلسل لچک اور مفاہمت کا مظاہرہ کیا اور تمام متعلقہ امور پر بات چیت کے دروازے کھلے رکھے، تاہم اس کے باوجود فریقین کسی قابلِ قبول نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔

    حکومتی مؤقف کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب عوامی مسائل کے حل، معاشی سرگرمیوں کے تسلسل اور ریاستی استحکام کو ترجیح دی جانی چاہیے تھی، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کے راستے پر قائم رہنے کے فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے اگر مذاکرات جاری تھے اور مسائل کے حل کے لیے بات چیت کا عمل موجود تھا تو پھر ایسی کون سی مجبوری تھی جس کے باعث ایکشن کمیٹی نے ہڑتال کے آپشن کو ترجیح دی،جس قیادت کا منشور مسائل کے حل کے بجائے مسلسل احتجاج اور دھرنوں پر مبنی ہو، وہ عوامی خدمت کے بجائے سیاسی کشیدگی کو فروغ دینے کا سبب بن سکتی ہے ذمہ دار قیادت کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل راستے تلاش کرے، نہ کہ ایسے اقدامات اختیار کرے جو معمولاتِ زندگی کو متاثر کریں۔

    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے عوام سکون، ترقی، معاشی استحکام اور معمولاتِ زندگی کے تسلسل کے خواہاں ہیں، ایسی سیاسی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جو مسائل کے حل، باہمی مفاہمت اور ریاستی استحکام کو فروغ دے، نہ کہ ہر چند ماہ بعد ہڑتالوں اور احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے نظامِ زندگی کو مفلوج کرنے کا سبب بنے، حکومتی حلقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کے دروازے بدستور کھلے رہیں گے اور عوامی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔

  • کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری

    کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری

    وفاقی حکومت نے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے کی تیاری شروع کر دی جس کے تحت آئندہ صرف مخصوص مستحق افراد ہی رعایت کے اہل ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلیوں پر کام کر رہی ہے اور نئی پالیسی کے تحت ماہانہ 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے تمام صارفین کو دی جانے والی عمومی سبسڈی مرحلہ وار ختم کی جائے گی یکم جنوری 2027 سے صرف وہی گھرانے رعایت حاصل کر سکیں گے جو حکومت کی مقرر کردہ مالی شرائط پر پورا اتریں گے۔

    ذرائع کے مطابق یہ اقدام عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی شرائط کے مطابق کیا جا رہا ہے تاکہ سبسڈی صرف کم آمدنی والے اور مستحق طبقے تک محدود رکھی جا سکےمجوزہ پالیسی کے تحت بجلی، گیس اور آٹے جیسی بنیادی سہولیات پر سبسڈی صرف ان افراد کو دی جائے گی جن کی ماہانہ آمدنی 20 سے 30 ہزار روپے کے درمیان ہو گی نئے نظام میں صارفین کے کوائف کو نادرا کے ریکارڈ سے منسلک کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ مالی حیثیت کی تصدیق کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم متعارف کروانے پر بھی غور جاری ہے اصلاحات نافذ ہونے کے بعد 200 یونٹ تک بجلی پر رعایت صرف ان صارفین کو ملے گی جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ ہوں گے یا حکومت کے مقرر کردہ غربت کے معیار پر پورا اتریں گے۔

  • وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر اٹھنے والے اہم سوالات کے واضح جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر سنگین نوعیت کے سوالات موجود ہیں، لیکن پوچھا کچھ اور جا رہا ہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ہم نے کوئی قیاس آرائی نہیں کی بلکہ صرف سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہےحتمی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آگ کیسے لگی، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سانحے کے 20 سے 22 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر کیوں پہنچے اسی طرح میئر کراچی بھی 23 گھنٹے بعد وہاں پہنچے، اور تنقید کے بعد بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں تھے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب آپ تقریباً ایک دن بعد حادثے کے مقام پر پہنچے اور عوام کے ردعمل کو دیکھا تو تب جا کر واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوا اصل سوالات یہ ہیں کہ ان تاخیروں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کا جواب کون دے گا، اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمارت لیز پر تھی تو کیا اس لیز کو کبھی چیلنج کیا گیا؟ کیا لیز میں یہ لکھا تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں اسے بجھایا نہیں جائے گا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ شہر میں کتنے فائر ٹینڈرز درست حالت میں ہیں اور کتنے خراب ہیں، اور گزشتہ 18 برسوں میں کتنے نئے فائر اسٹیشنز قائم کیے گئے یہ سوالات ہیں اور ان کا جواب بھی انہی 18 سالوں کی حکمرانی میں دینا ہوگاجب حکومت سے سوال کیا جائے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ سانحے پر سیاست نہ کریں، مگر یہ بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے اور وزرا کی اتنی بڑی تعداد کہاں غائب تھی۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2008 سے سندھ کے وسائل پر قابض رہنے والوں سے سوال ہے کہ مزید کتنی عمارتوں کے جلنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور کب تک صرف متاثرہ عمارتوں اور پلاٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہے گا،وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا، کیونکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر مزید خاموشی ممکن نہیں۔

  • حکومت نے یوٹیوبر عادل راجا پر بڑی پابندی عائد کردی

    حکومت نے یوٹیوبر عادل راجا پر بڑی پابندی عائد کردی

    حکومت نے یوٹیوبر عادل فاروق راجا کے خلاف انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ان پر پابندی عائد کردی ہے۔

    اس ضمن میں وزارت داخلہ کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے،عادل فاروق راجا کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ وفاقی کابینہ نے بھی ان پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔

    وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات پر کیا گیا ہےسوشل میڈیا کے ذریعے ریاست مخالف بیانیہ پھیلانے پر عادل فاروق راجا کے خلاف انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی شق ’11 ای ای‘ کے تحت کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔

    دو روزہ تر بیتی کارگاہ بعنوان، رموز و اوقاف ،تحریر: عنبرین فاطمہ

    بھارت کیجانب سے کھیلنے اور بھارتی جھنڈا لہرانے پر پاکستانی کھلاڑی پر پابندی عائد

    پاکستان کا 5 سال میں ملائیشیا کو حلال گوشت کی 52 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدف

  • حکمران زنا کیلیے آسانی اور حق نکاح کیلیے مشکلات پیدا کررہے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    حکمران زنا کیلیے آسانی اور حق نکاح کیلیے مشکلات پیدا کررہے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ہم کس طرح خود کو اسلامی ملک کا شہری ہونے پر فخر کریں، حکمران زنا کیلیے آسانی اور حق نکاح کیلیے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔

    لاڑکانہ میں مدرسے میں حفظ قرآن کی اختتامی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے سعادت حاصل کرنے والے طلبا کو مبارک باد دی اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس کی برکات اور فیوض سے امت مسلمہ کی پریشانیوں اور مسائل کو دور کرے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مغرب اسلام کے علوم سے خوفزدہ ہے مگر افسوس کہ ہمارے حکمران بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں،امریکا جسے خطرہ سمجھتا ہے۔ ہمارے حکمران بھی بلا سوچے سمجھے اسی کو خطرہ قرار دے دیتے ہیں صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر شریعت کو مورد الزام ٹھہرانا دراصل کھلی اسلام دشمنی ہے۔

    چھٹی کے باوجود تمام سرکاری ادارے کھلے رکھنے کا اعلان

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ شریعت کے خلاف نفرت انگیز بیانات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں اور قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی آئین پاکستان سے بغاوت کے مترادف ہے کیونکہ پاکستان کے آئین میں حاکمیت اللہ تعالیٰ کی ہے نہ کہ اقوام متحدہ یا کسی اور عالمی ادارے کی، غیر اسلامی قانون سازی اللہ اور اس کے رسولﷺ کے فیصلوں سے انحراف ہے ہم نے نہ کبھی آزادی پر سودا کیا ہے اور نہ ہی دین پر کریں گے،حکمرانوں کو مغرب کی تقلید کے بجائے دین اسلام کی پیروی کرنی چاہیے-

    انہوں نے کہا کہ ملک میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی کو زیادتی اور زنا بالجبر قرار دینے کا قانون بنایا جارہا ہے، میں جانتا ہوں ان اسمبلیوں نے زنا کی سہولیات کیلیے قانون پاس کیے ہیں،یہ کیسا اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ہم کس طرح خود کو اسلامی ملک کا شہر ی ہونے پر فخر کریں، حکمران زنا کیلیے آسانی اور حق نکاح کیلیے مشکلات پیدا کررہے ہیں۔

    روس کا چاند پر نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کرنے کا اعلان

    انہوں نے کہا کہ یورپ میں جنس تبدیل ہوتی ہے، وہاں مرد کو عورت، عورت کو مرد جبکہ انسان کو جانور بننے کا حیوانیت والا تصور موجود ہے اور ہمارے حکمران اس تصور کو ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں، ان کا عمل مشکوک ہے، انہیں رب سے معافی مانگنی چاہیے اس ملک کو مکمل ہم اسلامیہ جمہوریہ بنائیں گے اور جے یو آئی کے پروانے اس کیلیے قربانیاں بھی دیں گے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں مذاکرات کر کے اُن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا اور تمام غلطیوں سے پاک کر کے اسمبلی میں لانے پر مجبور کیا، ہم نے سود کے مکمل خاتمے کا فیصلہ لیا، دینی مدارس کی رجسٹریشن کا فیصلہ لیا، وفاقی شرعی عدالت کو مضبوط بنانے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو اسمبلی میں بحث کیلیے لانے کی تجویز دی مگر ایک سال ہوگیا کچھ بھی نہیں ہوا، اس سے ان کی بدنیتی کا اندازہ ہوتا ہےحکومت کے پاس 26ویں آئینی ترمیم کے وقت دو تہائی اکثریت نہیں تھی، الیکشن بھی نہیں ہوئے تو ان کے پاس دو تہائی اکثریت کہاں سے آگئی؟ تم نے ممبران کو خریدا، اُن کے ہاتھ مروڑ کر تشدد کیا، جبر سے مںظور ہونے والی 27ویں آئینی ترمیم کو ہم تسلیم نہیں کرتے۔

    تحریک تحفظ آئین پاکستان نےحکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کردی

    انہوں نے کہا کہ ایسی آئینی ترمیم کو نہیں مانتے جس میں جنس کی تبدیلی کو جائز، 18 سال سے پہلے نکاح کو زیادتی اور زنا کا درجہ دیا جائے تمھیں خدا کا خوف ہے یا نہیں ہےَ اقلیتوں کے کمیشن میں قوانین مرتب کیے تو ایک جملہ ڈالا کہ یہ تمام قوانین پر بالا ہوں گے، اس کے ذریعے قادیانیوں کی راہ ہموار اور انہیں خفیہ راستہ دینے کی کوشش کی گئی ہے مگر ہم نے باریکی پکڑ کر انہیں دبوچ کر قانون لینے پر مجبور کیا،ووٹ ایک بیعت ہے اگر اس کو دھاندلی، جھوٹ اور پیسے کمانے کیلیے استعمال کیا جائے تو بیعت ہی نہیں رہتی، ہم ایسے حکمرانوں کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں،ایسے حکمرانوں کے ساتھ پھر لڑائی ہے اور ہم لڑیں گے۔

    پی ٹی آئی جب پہیہ جام ہڑتال کرے گی تب حکومت دیکھ لے گی،خواجہ آصف

  • بلوچستان کی خوشحالی کے لیے حکومت، اداروں اور قبائلی عمائدین کے باہمی تعاون پر اتفاق

    بلوچستان کی خوشحالی کے لیے حکومت، اداروں اور قبائلی عمائدین کے باہمی تعاون پر اتفاق

    بلوچستان کے ضلع سبی میں منعقدہ گرینڈ جرگے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صوبے کی پائیدار خوشحالی اور امن و استحکام کے لیے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور قبائلی عمائدین کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔

    گرینڈ جرگے میں گورنر بلوچستان جعفر مندوخیل، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر کور 12 لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم سمیت سبی ڈویژن کے مختلف علاقوں کے بااثر قبائلی عمائدین نے بھرپور شرکت کی۔اس موقع پر شرکاء نے بلوچستان کی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور امن و امان کی بہتری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا۔ جرگے میں مقامی مسائل، خصوصاً تعلیم، صحت، روزگار، انفراسٹرکچر اور قبائلی تنازعات کے حل کے حوالے سے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔

    قبائلی رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے کی سلامتی اور ترقی کے لیے وہ حکومت اور اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔ گورنر اور وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے خطابات میں کہا کہ عوامی اعتماد اور قبائلی قیادت کے تعاون کے بغیر صوبے میں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔کمانڈر کور 12 لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے صوبے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں، اور قبائلی عمائدین کے تعاون سے ترقی کے سفر کو مزید تیز کیا جائے گا۔

    اسرائیلی حملے میں 6 فلسطینی شہید، دوحہ میں نمازِ جنازہ ادا

    میکسیکو سٹی: گیس ٹینکر دھماکے میں 3 افراد جاں بحق، 70 سے زائد زخمی

    صدر زرداری کا پاک فو ج کے شہداء کی قربانیوں کو خراج تحسین

    برطانوی وزیراعظم نے مجرم سے تعلقات پر امریکا میں سفیر کو برطرف کردیا

  • متنازع پیکا ایکٹ کالعدم قرار دینے کی درخواست،حکومت نے تحریری جواب جمع کروا دیا

    متنازع پیکا ایکٹ کالعدم قرار دینے کی درخواست،حکومت نے تحریری جواب جمع کروا دیا

    اسلام آباد:متنازع پیکا ایکٹ کالعدم قرار دینے کی درخواست پر سماعت میں حکومت کی جانب سے تحریری جواب جمع کروا دیا گیا۔

    متنازع پیکا ترمیمی ایکٹ 2025ء کو کالعدم قرار دینے کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، سماعت جسٹس انعام امین منہاس کے روبرو ہوئی جس میں حکومت کی جانب سے تحریری جواب جمع کروا دیا گیا۔

    سرکاری وکیل نے دورانِ سماعت عدالت کو بتایا کہ درخواست میں صوبائی حکومتوں کو بھی فریق بنایا گیا ہے رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا ، جسے دور کر دیا گیا تھا بعد ازاں عدالت نے درخواست گزار وکلا کو دلائل دینے کی ہدایت کی، جس پر پی ایف یو جے کے وکیل ڈاکٹر یاسر امان خان نے دلائل کا آغاز کر دیا۔

    مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    جسٹس انعام امین منہاس نے سماعت کے آغاز پر استفسار کیا کہ آپ نے کوڈ آف کنڈکٹ بھی ساتھ ساتھ بتانا ہے کہ پہلے کیا تھا اور فرق کہاں پر آیا؟ پہلے بیک گراؤنڈ بتائیں تاکہ کیس سمجھ آ سکے۔

    پی ایف یو جے کے وکیل ڈاکٹر یاسر امان خان نے بتایا کہ 2016ء میں پیکا ایکٹ لایا گیا، 2025 ترمیمی ایکٹ میں 2016 والے ایکٹ کی کچھ چیزیں نکالی گئیں کچھ شامل کر دی گئیں، ترمیمی ایکٹ میں سوشل میڈیا کمپلینٹ کونسل کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، اینکرز اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے متنازع پیکا ایکٹ کالعدم قرار دینے کے لیے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔

    صدر اور وزیراعظم کا حوالدار لالک جان شہید کو خراج عقیدت

  • حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا ،شاہد خاقان عباسی

    حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا ،شاہد خاقان عباسی

    اسلام آباد:عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا کسان بدترین مشکلات کا سامنا کر رہا ہے اور پورے ملک میں کسان سراپائے احتجاج ہے، لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور کنوینر عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا کسان بدترین مشکلات کا سامنا کر رہا ہےاور پورے ملک میں کسان سراپااحتجاج ہے، لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی کسان گندم اگاتا ہے تو ملک کو آٹا ملتا ہے، اگر کسان ہی پریشان ہو گا تو سب متاثر ہوں گے جب کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا، لیکن آج کسان اپنا اثاثہ لگا کر بھی منافع نہیں کما رہا۔

    شاہد خاقان عباسی نے خبردار کیا کہ اگر حالات یہی رہے تو آئندہ برس ملک کو گندم درآمد کرنی پڑے گی اگر ملک کی منڈی کسان کے لیے سازگار نہیں، تو کم از کم اسے اپنی گندم برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، آج کسان کو 3 ہزار روپے فی من لاگت آ رہی ہے اور اسے اپنی پیداوار 2100 روپے میں بیچنے پر مجبور کیا جا رہا ہے چند ووٹوں کے لیے کسان کو قربان مت کریں جب کسان کی آمدنی نہیں بڑھے گی تو معیشت کی دیگر چیزیں جیسے ٹریکٹر، موٹرسائیکل کی خریداری بھی متاثر ہوگی۔

    کینال پراجیکٹ جاری رکھا گیا تو ہم حکومت کا حصہ نہیں رہیں گے، ناصر حسین شاہ

    شاہد خاقان عباسی نے پنجاب حکومت کی انسینٹیو اسکیم پر کہا کہ اس سے صرف چند لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں، اکثریتی کسان اب بھی محروم ہیں انہوں نے گندم کی ایسی قیمت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا جس سے عوام اور کسان دونوں کو فائدہ ہوعالمی منڈی میں کئی مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوئیں، مگر حکومت نے اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا پرانے بلوں میں 10 روپے تک ریلیف کی گنجائش تھی، مگر پھر بھی عوام کو کچھ نہ ملا۔

    پاکستان کے ساتھ مزید مضبو ط تعلقات کے خواہاں ہیں،ہنگری وزیر خارجہ

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب عالمی قیمتیں بڑھیں گی تو عوام پر بوجھ ضرور ڈالا جائے گا، مگر جب کمی آتی ہے تو کوئی ریلیف کیوں نہیں ملتا؟ پیٹرول کے منافع سے بلوچستان میں سڑکیں بنانے کی بات کی جا رہی ہے، اگر پیٹرول سے بچت نہ ہو تو کیا بلوچستان میں سڑکیں نہیں بن سکتیں؟ملک حکومت کے مثبت فیصلوں سے ترقی کرتا ہے، مگر موجودہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا ایک اور موقع ضائع کر دیا ہے۔

    ملک اب ترقی اور خوشحالی کی راہ پر چل پڑا ہے،وزیراعظم

  • نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سالانہ فیس  کی حد مقرر

    نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سالانہ فیس کی حد مقرر

    اسلام آباد: حکومت نے ملک بھر کے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں کی سالانہ فیس کی حد مقرر کر دی-

    باغی ٹی وی : اس فیصلے کا اعلان ایک سرکاری اعلامیے میں کیا گیا، جس کے مطابق ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس پروگرامز کے لیے 18 لاکھ روپے کی حد مقرر کر دی ہے۔

    باغی ٹی وی : اعلامیے کے مطابق فیسوں میں کنٹرول اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے نجی اداروں کو اپنی مالی تفصیلات پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کوفراہم کرنا ہوں گی نجی میڈیکل کالجوں کوفیسوں میں سالانہ اضافہ صرف کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ غیر ضروری فیسوں میں اضافے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    حکومتی فیصلے کو والدین اور طلبہ کے دیرینہ مطالبے کی تکمیل قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے مہنگی میڈیکل تعلیم پر احتجاج کرتے رہے ہیں اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر اس فیصلے کی منظوری دی گئی تاکہ نجی میڈیکل کالجوں میں تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔

    ننکانہ : عیدالفطر کے لیے ریسکیو 1122 کا ایمرجنسی پلان جاری

    حکومت کے اس اقدام کو طلبہ اور ان کے والدین نے سراہا ہے، کیونکہ اس سے مہنگی فیسوں کا مسئلہ حل ہونے کی امید ہے۔

    مصر : 45 افراد سے بھری سیاحتی آبدوز ڈوبنے سے 6 افراد ہلاک

  • حکومت کا جسٹس منصور کے فل کورٹ تشکیل سے متعلق آرڈر کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا جسٹس منصور کے فل کورٹ تشکیل سے متعلق آرڈر کو چیلنج کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے آرڈرز کو واپس لے لیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے کسٹم ریگولیٹر ڈیوٹی کیس کی سماعت کے دوران اہم فیصلے کیے ہیں آئینی بینچ نے جسٹس منصور علی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے آرڈرز کو واپس لے لیا ہے، آئینی بینچ نے نذر عباس توہین عدالت کیس کا ریکارڈ کسٹم ڈیوٹی کیس کے ساتھ منسلک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

    دوران سماعت وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصورعلی شاہ کے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کیخلاف توہین عدالت کیس کے فیصلے میں فل کورٹ کی تشکیل سے متعلق آرڈر کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے آئینی بینچ کو وفاقی حکومت کے فیصلے سے متعلق مؤقف سے آگاہ کیا کہ غیر آئینی فیصلہ ہونے کی وجہ سے وفاقی حکومت اسے چیلنج کرے گی۔

    محسن نقوی کے ساتھ تصویر کیوں؟عمران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پربرس پڑے

    جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیئے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے کسٹم ڈیوٹی کا کیس اپنے بینچ میں لگانے کا حکم دیا ہے، کیا اس آرڈر کی موجودگی میں آگے بڑھ سکتے ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل نےریمارکس میں کہا کہ عدلیہ کی آزادی کی فکر صرف چند کو نہیں سب کو ہے، جو کام کریں وہ تو ڈھنگ سے کریں، کونسی قیامت آگئی تھی، یہ بھی عدالت ہی ہے، زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہوتا، سپریم کورٹ اور عدالتوں نے رہنا ہے، ہمیں ہی اپنے ادارے کا خیال رکھنا ہے، کوئی پریشان نا ہو اس ادارے کو کچھ نہیں ہونا۔

    جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ 13 جنوری کو آرڈر دیا کہ سماعت 27 جنوری کو ہوگی، پھر سماعت اچانک اگلے روز کے لیے کیسے مقرر ہوگئی، تین رکنی بینچ سے ایک جج الگ ہو گئے،جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا وہ جج یہ حکم دے سکتا تھا کہ یہ کیس مخصوص بینچ کے سامنے لگے؟جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ کیا بینچ دوبارہ قائم کرنے کا اختیار اسی جج کے پاس تھا؟-

    رمضان شوگر ملز ریفرنس،مدعی کمرہ عدالت میں بیان سے منحرف

    جسٹس نعیم افغان نے بیرسٹر صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں لگتا ہے کہ اس سارے کرائسز کے ذمہ دار آپ ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ عدالتی حکمنامہ کے مطابق آپ کا اصرار تھا کہ یہ ریگولر بینچ یہ کیس سن سکتا ہےجسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ کو ہم ججز پر اعتماد نہیں؟ میں نااہل ہوں یا مجھے قانون نہیں آتا تو مجھے بتا دیں؟ یہ نیا سسٹم ہے کسی کو پسند نہیں تو وہ ایک الگ بات ہے۔

    بعدازاں، آئینی بینچ نے جسٹس منصورعلی شاہ کے 13 اور 16 جنوری کے فیصلے واپس لے لیے۔

    رمضان شوگر ملز ریفرنس،مدعی کمرہ عدالت میں بیان سے منحرف

    دوران سماعت جسٹس محمد علی مظہر اور بیرسٹر صلاح الدین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مجھے تاثر مل رہا ہے آپ یہاں سنجیدہ نہیں ہیں، جس پر بیرسٹر صلاح الدین بولے کہ آپ میری ساکھ پر سوال اٹھائیں گے تو ویسا ہی سخت جواب دوں گا۔

    جسٹس امین الدین خان نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ بات کسی اور طرف جا رہی ہے، ایسے نہ کریں، بیرسٹر صلاح الدین نے موقف اپنایا کہ جسٹس جمال نے کہا ابھی ہم اس کیس کو یہاں آگے نہیں بڑھا رہے، یا تو آپ کہیں میرٹ پر کیس چلانا ہے تو یہیں دلائل دیتا ہوں۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نہیں فائل تو ابھی بند ہے، ہم تو اپنی سمجھ کیلئے آپ سے معاونت لے رہے ہیں، جس پر بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ فائل بند ہے تو پھر آپ مفروضوں پر سوال پوچھے جائیں، میں مفروضوں پر جواب دیتا ہوں۔

    چین اور بھارت کا دوبارہ براہ راست فضائی سروس پر اتفاق

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کے خلاف توہین عدالت کیس کا فیصلہ سنایا تھا جس میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجرکمیٹی اور ججز آئینی کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کیاجسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دورکنی بینچ نے فیصلہ سنایا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ نذر عباس نے جان بوجھ کر توہینِ عدالت نہیں کی، نذر عباس کیخلاف توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لے کر معاملہ چیف جسٹس پاکستان کو بھیجا جاتا ہے۔

    فیصلے میں کہا گیا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو اختیار نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل آرڈر کے باوجود کیس واپس لے، ججز آئینی کمیٹی کو بھی یہ اختیار ہی نہیں تھا کہ وہ جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں انتظامی آرڈر کے ذریعے کیس واپس لیتی۔ نذر عباس کی کوئی غلطی نہیں ہے نہ ہی انہوں نے جان بوجھ کر کیس فکس کرنے میں غفلت برتی، نذر عباس کا کیس فکس نہ کرنے پر کوئی ان کا ذاتی مفاد نہیں تھا، ان کے اقدام میں کوئی بدنیتی ظاہر نہیں ہو رہی، نذر عباس کا اقدام توہینِ عدالت کے زمرے میں نہیں آتا۔

    سعودی عرب کی جائیداد میں غیرملکیوں کو سرمایہ کاری کی اجازت

    عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ نذر عباس کی وضاحت قبول کرکے توہینِ عدالت کی کارروائی ختم کرتے ہیں ججز کمیٹیوں نے جوڈیشل آرڈر نظر انداز کیا یا نہیں، یہ معاملہ فل کورٹ ہی طے کر سکتا ہے، اس حوالے سے 14 رکنی بینچ کا ایک فیصلہ بھی موجود ہے، چیف جسٹس پاکستان فل کورٹ تشکیل دے کر اس معاملے کو دیکھیں۔ فل کورٹ آئین کے آرٹیکل 175 کی شق 6 کے تحت اس معاملے کو دیکھے، کسٹمز کیس واپس اسی بینچ کے سامنے مقرر کیا جائے جس تین رکنی بینچ نے یہ کیس پہلے سنا تھا۔

    عدالتی فیصلے میں تحریر کیا گیا ہے کہ ہم نے اس سوال پر بھی غور کیا ہے کہ کیا مبینہ توہین کے مرتکب افراد کے خلاف شوکاز نوٹس ختم ہونے کے بعد معاملے کو نمٹا ہوا سمجھا جائے یا یہ معاملہ ان دو کمیٹیوں کے اراکین کے خلاف مزید کارروائی کے لیے جاری رہے پہلی کمیٹی نے غیر قانونی طور پر زیر سماعت مقدمات کو ایک بینچ سے واپس لے کر انتظامی حکم کے ذریعے دوسری کمیٹی کے سپرد کیا، جس سے عدالتی حکم کا اثر زائل ہوا، دوسری کمیٹی نے عدالتی حکم کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے محض پہلی کمیٹی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے مقدمہ 27 جنوری 2025 کو آئینی بینچ کے سامنے مقرر کر دیا۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی مختلف مقدمات میں ضمانت میں توسیع

    فیصلے کے مطابق دونوں کمیٹیاں 17 جنوری 2025 کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایسے انتظامی فیصلے لینے کی مجاز نہیں تھیں، اس پس منظر میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان دو کمیٹیوں کے اراکین کے خلاف مزید کارروائی کی جانی چاہیے تاہم عدالتی روایات اور وقار کا تقاضا ہے کہ اس سوال کو سپریم کورٹ کے فل کورٹ کے ذریعے طے کیا جائے تاکہ اسے حتمی اور مستند طور پر حل کیا جا سکے۔

    بنچ نے فیصلے میں یہ بھی لکھا کہ ہم یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ ایک ہائیکورٹ کے رجسٹرار کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کو اتنی اہمیت دی گئی کہ 14 ججوں پر مشتمل ایک بڑا بنچ تشکیل دیا گیا، لہٰذا ہماری رائے میں یہ مسئلہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، جو اس عدالت کے تمام ججوں کی اجتماعی اور ادارہ جاتی غور و فکر کا متقاضی ہے، اس لیے ہم اس معاملے کو چیف جسٹس کے سامنے پیش کرتے ہیں تاکہ فل کورٹ تشکیل دے کر اس اہم مسئلے پر غور اور فیصلہ کیا جا سکے۔

    سیالکوٹ:وزیر اعلیٰ پنجاب کی کاوشوں سے ترقی کی رفتار تیز.منشاء اللہ بٹ

    فیصلے میں کہا گیا کہ یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس معاملے کو ایکٹ کی دفعہ دو2 کے تحت قائم کمیٹی کے حوالے نہیں کیا گیا کیونکہ اس کی اتھارٹی سپریم کورٹ کے بینچز کی تشکیل تک محدود ہے، عدالت کے بنچز اور فل کورٹ کے درمیان فرق آئین کے آرٹیکل203J(2)(c) اور (d) کی دفعات میں تسلیم شدہ ہے اور فل کورٹ بلانے کی ذمے داری روایتی طور پر چیف جسٹس کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔