Baaghi TV

Tag: حکومت

  • حکومت جتنے اخراجات کم کر سکتی تھی کر دیئے،عطا تارڑ

    حکومت جتنے اخراجات کم کر سکتی تھی کر دیئے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ کابینہ کے اراکین تنخواہ لے رہے ہیں اور نہ مراعات،حکومت نے اپنے اخراجات کم کرکے دکھائے،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ڈبلیوڈی کرپشن کا ذریعہ تھا، پی ڈبلیوڈی کا محکمہ بند ہوگا ،
    ہمارے سابق ساتھیوں نے غلط اعداد و شمار پیش کیے، شاید کتاب غلط پڑھی،مفتاح اسماعیل نے بہت مشکل وقت میں بحیثیت وزیر خزانہ کام کیا، شاہد خاقان عباسی اور مفتاح اسماعیل کو ڈاؤن سائزنگ، محکموں کے بند ہونے ، کفایت شعاری پالیسی اور نجکاری کی تعریف کرنا چاہئیے تھی،کم سے کم تنخواہ میں 5 ہزار کا اضافہ کیا گیا ہے، ایک لاکھ روپے تنخواہوں پر 1200 روپے ٹیکس لگایا گیا ہے، لوگوں کو ٹیکس دینے کی طرف آنا ہو گا، ہمیں ٹیکس نیٹ کو بڑھانا ہے، ٹیکس نہ دینے والوں کابوجھ ٹیکس دینے والوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے،شاہد خاقان کا ارکان اسمبلی کو 500 ارب دینے کا دعویٰ درست نہیں،شاہد خاقان کی تو اپنی ایئر لائن تھی،انہیں پی آئی اے کی نجکاری خود کرنا چاہیے تھی،

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنا ہے، آنے والے مہینوں میں معیشت میں مزید بہتری آئے گی، نان فائلر کو فائلر بننا ہو گا،حکومت جتنے اخراجات کم کر سکتی تھی کر دیئے ہیں، وزیراعظم کی ذاتی کاوش سے سولر پینل،پنشنرز کی انکم پر کوئی ٹیکس نہیں لگا، حکومت باتوں پر نہیں،عملی اقدامات کر رہی ہے،حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے سے بچایا کر معاشی استحکام کی طرف گامزن کیا،

  • سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ، موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیلات طلب

    سپریم کورٹ،موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے قیام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے کہا کہ پنجاب اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں موسمیاتی تبدیلی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بارے تفصیلات فراہم کریں ،خیبر پختونخوا اور سندھ میں پالیسی تو ہے لیکن عملی اقدامات بھی اٹھاٸیں،تمام صوبے موسمی تبدیلی کیلٸے عملی اقدامات اٹھا کر رپورٹ 15 جولاٸی تک جمع کرواٸیں،جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی

    ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ پنجاب میں موسمی تبدیلی کیلٸے اقدامات کر رہے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں وہ بتاٸیں جو عملی اقدامات اٹھاٸے ہیں، زبانی جمع تفریق کے بجائے تحریری رپورٹ دیں،ہم نے تمام چیف سیکٹریز کو بلایا تھا بلوچستان سے کون آیا ہے،عدالت میں بتایا گیا کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی طبیعت خراب ہے اس لیے نہیں آٸے،سندھ سے چیف سیکرٹری عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ سندھ میں موسمی تبدیلی کیلٸے مکمل پالیسی بناٸی گٸی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ سندھ میں کیا موسمی تبدیلی کے حوالے سے بجٹ بھی رکھا گیا ہے ؟ میرے پاس مکمل پلان کیساتھ آٸیں، چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ سندھ میں موسمی تبدیلی سے بچاٶ والے 2 ملین گھر بنائے جاٸیں گے،اب تک 1.5 لاکھ گھر بن گٸے ہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں بھی موسمی تبدیلی کیلٸے بجٹ نہیں رکھا گیا،

    خیبر پختونخواکے چیف سیکرٹری بھی عدالت میں پیش ہوئےاور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کیلٸے فنڈز رکھے گئے ہیں،موسمیاتی تبدیلی کیلٸے خیبرپختونخوا حکومت اقدامات کر رہی ہے،عدالت نے سماعت پندرہ جولائی تک ملتوی کردی

    سابق سینیٹر جمال خان لغاری کی رومینہ خورشید عالم سے ملاقات

    ہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہیں،رومینہ خورشید عالم

    امن کی فاختہ میڈیا ، چھوٹی سی خبر کسی کی زندگی تباہ بھی کر سکتی ، بچا بھی سکتی ، رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی ایکشن میں صنفی شمولیت کیلیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔رومینہ خورشید عالم

    موسمیاتی تبدیلی پردنیا سے امداد نہیں تجارت چاہیے،رومینہ خورشید عالم

    گرمی کی لہر،مون سون کیوجہ سے سیلاب کے خطرات،عوامی آگاہی مہم شروع کرنیکا حکم

  • امریکی قرارداد  مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی کانگریس میں پاکستان کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس میں ردعمل دیا ہے

    اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی کانگریس میں منظور قرارداد کو پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعمیری بات چیت کا خواہاں ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں، امریکی قرارداد کے جواب میں ہم بھی قرارداد لائیں گے، قرارداد کا مسودہ تیار کرلیا ہے اپوزیشن سے بھی شیئر کریں گے، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر دفتر خارجہ نے اپنا مؤثر ردعمل دیا ہے،پاکستان آزاد اور خودمختار دنیا کی پانچویں بڑی جمہوری قوت ہے۔ ہم بھی دیگرممالک کےحوالےسے50چیزوں پرتنقیدکرسکتےہیں،

    بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے،وزیر خارجہ
    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی حکومت میں سی پیک پر کام کو روک دیا گیا تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک پرکام کو دوبارہ شروع کرایا، پاکستان 182 ووٹ حاصل کر کے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا، ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر کئی بار کام کرنے کی کوشش کی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیاں بڑا مسئلہ ہے، پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں، ہم نے ماضی میں اپنے تعلقات دوسرے ملکوں سے خود خراب کیے، خارجہ پالیسی پر ایوان کا خصوصی اجلاس بلانے کی تجویز مناسب ہے، بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے، موجودہ حکومت نے معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا ہے،ہم چاہتے ہیں افغانستان مضبوط ہو ،افغانستان ہماری ترجیح ہے،انکےساتھ مذہبی ،ثقافتی رشتہ ہے ،دوحہ میں چند ہفتوں میں سمٹ ہونےجارہی ہے،اس سمٹ میں افغانستان اورہم بھی ہوں گے،ہم چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کاحق ملے،ایسانہیں ہوسکتاکوئی میانوالی،پشاورمیں جاکرووٹ کرے ،اوورسیز چاہتے ہیں کہ ان کی چندسیٹوں کی نمائندگی ہونی چاہئے،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

  • جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،شیخ رشید

    جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر داخلہ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو بجلی کی ننگی تاروں پر لٹکا دیا ہے ، جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ یہ تو اپنے کیس ختم کروانے آئے تھے، اور وہ کر رہے ہیں، ایک لاکھ 68ہزار میرا بجلی کا بل آیا ہے، غریب عوام کہاں جائے ، کھانے کو روٹی نہیں اور بلوں کی بھرمار ہے،اگلے ماہ کے آخر تک نوازشریف بھی اپنا بیانیہ بدل لیں گے، جب چور چوکیدار بن جائیں تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے، حکومت بتائے کسی ملک نے ان کو اب تک 5 ڈالر بھی دیئے ہیں، میری مارکیٹ کے 18 دکاندار دکانیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اصل مذاکرات فوج کیساتھ کئے جائیں اور درمیانی راستہ نکالاجائے، چور، ڈاکو، لٹیرے، ناکام، نااہل بجٹ پیش کرنے والی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے بعد کے پی اور بلوچستان میں بھی حالات خراب ہو رہے ہیں، امریکی کانگریس کے 368 ارکان فارم 47 والے نہیں ہیں، قوم چین کے وزیر کی اسلام آباد میں تقریر پر بھی غور کرے۔

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی اسلام آباد ہائی کورٹ آمد ہوئی، شیخ رشید احمد نے اپنے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی وصول کی۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے بلاول بھٹو سے متعلق نازیبا گفتگو پر شیخ رشید احمد کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیاتھا.

    چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

    لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ایک ہی الزام،شیخ رشید پر متعدد مقدمے،عدالت نے رپورٹ کی طلب

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    امریکی کانگرس کی قرارداد 901 کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ آپریشن گولڈ سمتھ کا ایک حصہ ہے۔جس کا مقصد پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد 901 پیش کی گئی تھی جو پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کی حمایت کیلیے تھی، یہ قرارداد ریپبلکن سینیٹر رچرڈ میک کارمک نے گزشتہ برس 30 نومبر 2023 کو پیش کی تھی۔امریکی سینیٹر کی اس قرار داد کو 21 مارچ 2024 کو امریکی کمیٹی برائے خارجہ امور میں بحث کے لئے بھیجا گیا تھا،جس کے بعد 24 جون 2024 کو قرارداد کو ایوان میں غور کے لیے پیش کیا گیا ،امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد 901 کی وقفے وقفے سے ٹیبلنگ کے اوقات کافی دلچسپ ہیں ، قرارداد 901 میں پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ بھی کسی صورت درست نہیں ہیں،اصل میں یہ قرارداد ترقی کرتے پاکستان کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش و سازش ہے

    امریکی کانگریس کی قرارداد 901 "آپریشن گولڈ اسمتھ 2.0” کی ایک کڑی نظر آتی ہے،جو کہ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو نشانہ بنانے والی بدنامی کی مہم ہے، جس کا آغاز ایک سیاسی جماعت نے کیا تھا اور وہی ان سارے عوامل کے پیچھے ہے، حقائق کے برعکس بات کرنا، پروپیگنڈہ پھیلا کر قرارداد 901 کا مقصد جمہوریت اور انسانی حقوق کے شعبوں میں پاکستانی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بے بنیاد شکوک و شبہات کو جنم دینا ہے۔

    حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی رکھنے والا ملک ہے، پاکستان میں 8 فروری کو رواں برس پرامن انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں حکومت تشکیل میں آئی جو جمہوریت کے روح کے مطابق کام کر رہی ہے، حکومت بجٹ پیش کر چکی ہے.پاکستانی معیشت سنبھل رہی ہے، مہنگائی میں کمی ہو رہی ہے، جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے،تو پاکستان میں انسانی حقوق کے حالات پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک سمیت پاکستان قدرے بہتر ہے.

    پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی حکومت کو مکمل حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے، دہشت گردوں، انکے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان نے ابھی چند دن قبل ہی آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے.

    فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی سیاسی حکومت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سخت معاشی اقدامات کے ذریعے ڈالر کے غیر قانونی بہاؤ، اسمگلنگ اور کارٹیلز کی اجارہ داری کو کنٹرول کرنے میں کامیابی ہوئی ہے۔ نتیجتاً، فصلوں کی پیداوار کی سطح میں بہتری آئی ہے، افراط زر میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے اور تمام معاشی اشاریے تیزی کا رجحان دکھا رہے ہیں۔ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج تاریخ میں پہلی بار 78 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گئی۔ معروف اقتصادی ویب سائٹ بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی 27 فیصد اسٹاک ریلی ایشیا میں آگے ہے اور اس سال کے آخر تک 10 فیصد مزید اضافہ متوقع ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا تجربہ کامیاب رہا ہے، جس کا منافع اپنے قیام کے ایک سال کے اندر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت پاکستان ریاست اور اس کے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ عوام اور افواج کے درمیان سماجی معاہدہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے حوالہ سے قرارداد اسرائیل اور بھارت نواز رکن کانگریس کے ذریعے جمع کروائی گئی، امریکی قرارداد جس شخص نےامریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی، اِس شخص کا نام رچ میک کارمک (Rich McCormick) ہے۔ یہ کانگریس میں امریکہ میں اسرائیلی لابی کو کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران اِس نے اپنی ایک ٹویٹ میں اسرائیلی بربریت کی کھلم کھلا سپورٹ کی اور فلسطینی مسلمانوں کو برائی سے تشبیہ دی ہے ،آج کل یہ شخص پی ٹی آئی کا سب سے بڑا لابیسٹ ہے۔ پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ اپنی ریاست کے خلاف اِس سازش کو سمجھیں، اور اپنے گردو نواح اُن لوگوں کو پہچانیں جو اِس سازش کے آلہ کار ہیں اور پاک فوج کو کمزور کر کے پاکستان کو عراق اور لیبیا بنانا چاہتے ہیں۔

    یہ لابی پہلے سے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف ہے جس کا پی ٹی آئی سے براہ راست گٹھ جوڑ ہے،امریکہ میں ایک لابسٹ فرم کی خدمات بھی اسی سلسلے میں حاصل کی گئی تھیں جس نے 9 مئی کو فالس فلیگ آپریشن ثابت کرنے والی رپورٹ چھپوانے کیلئے ایک امریکی سینیٹر کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کئے۔ آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالے سے باتیں سوشل میڈیا پر پہلے ہی زیر گردش ہیں، خبریں اور تجزیئے شائع کرانا آپریشن گولڈ سمتھ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی مخصوص سیاسی جماعت نے 25 ہزار ڈالر ماہانہ کے عوض امریکی فرم کی خدمات حاصل کیں،بیرون ملک مخصوص جماعت کے حامی پاکستان میں انتخابات سے متعلق گمراہ کن پراپیگنڈہ کر تے رہے، مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے تمام حدیں پار کر چکی۔ آپریشن گولڈ سمتھ کا مقصد پاکستان پر سفارتی اور انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے دباؤ بڑھانا ہے۔

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے اب آپ دیکھیں گے کہ عنقریب پاکستان کے میڈیا میں آپ کو خبریں آئیں گی ایک اور پینڈورا باکس کھلے گا ایک طوفان بدتمیزی مچایا جائے گا آن لائن ہو گا پاکستان میں نہیں ہوگا پہلے باہر ہو گا اور اسی سے آپ کڑیاں ملا سکتے ہیں پہلے باہر ہو گا پھر پاکستان میں آئے گا پھر ٹی وی پر ہم بحث کریں گے مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں آپریشن گولڈسمتھ انتشار پھیلائے گا اور لوگوں کو مزید کنفیوز رکھے گا لوگ اب جو سیٹل ہونا شروع ہو گئے ہیں امیدیں بننا شروع ہو گئی ہیں کہ اب گورننس بہتر ہو رہی ہے،ان میں انتشار پھیلے گا-

  • ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں، ہر شعبے، ہر کاروبار پر ٹیکس لگا دیے گئے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں، ہر شعبے، ہر کاروبار پر ٹیکس لگا دیے گئے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک دیوالیہ ہورہا ہے، آپ کی توجہ صرف ٹیکس لگانے پرہے، بجٹ میں تنخواہ اور کاروبارپرٹیکسزعائد کردیئے-

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے یہ مان نہیں رہا میں کوئی اقتصادی ماہر ہوں، ایوان میں اقتصادی ماہر موجود ہوں وہ اس پر بہتر بات کر سکتے ہیں، جتنے بھی بجٹ پیش کیے گئے ہیں حکومتیں بجٹ کو عوام دوست قرار دیتی رہی ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج ہم دیوالیہ پن کے قریب ہیں بجٹ میں حکومت نے مزید ٹیکس لگانے کا سوچ رہی ہے، ایوان کے سامنے اپنے کچھ تحفظات رکھنا چاہتا ہوں، ایسے ارکان موجود ہیں جو بجٹ پر تکنیکی بحث کر سکتے ہیں، 1988 سے ایوان میں ہوں بہت سارے بجٹ دیکھ چکا ہوں، تمام حکومتیں یہی کہتی ہے کہ ان کا بجٹ عوام دوست ہے آج دیکھنا ہوگا کہ ملک میں معیشت کی کیا حالت ہے، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں، ہر شعبے پر، ہر کمائی میں، ہر کاروبار پر ٹیکس لگا دیے گئے ہیں، قوم سے ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ ٹیکس دے تاکہ ملک کی معیشت مستحکم ہو، عام آدمی کو اطمینان ہو کہ اس کے بچوں کا گزر بسر ہوتا رہے لیکن حقوق نہیں دے رہے، جب قوم کو حقوق نہیں ملتے تو ٹیکس کیسے لے سکتے ہیں؟ عوام امن اورمعاشی خوشحالی کا مطالبہ کرتے ہیں، ملک کے بیشتر علاقوں میں صورتحال فاقوں تک پہنچ چکی، لوگوں نے اپنے ہی ملک میں ہجرت کی، چمن بارڈر پر 9 ماہ سے لوگ دربدر بیٹھے ہوئے ہیں، یہ میں اور آپ پاک افغان بارڈر کہتے ہیں، افغانستان اسے ڈیورنڈ لائن سمجھتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ریاست شکی القلب ہوچکی ہے کہ اپنے باشندوں کو تحفظ تک نہیں دے رہی، شرائط لگائیں لیکن قابل برداشت ہوں، ملک کی وفاداری پر آپ قبضہ کرلیتے ہیں، کوئی اور بات کرے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے سفارتی لحاظ سے ہمارے وزیر اعظم کامیاب ہوکر نہیں آئے، چین کے مہمان آئے انہوں نے جواب دیا پاکستان میں عدم استحکام ہے، سیکیورٹی کے حالات ٹھیک نہیں ہے، ایسے لگتا ہے کچھ مہینوں میں بنوں ڈی آئی خان میں امارت اسلامیہ قائم ہو جائے گا۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    مولانا فضل الرحمان کہا کہ مجھے لگتا ہے اس آپریشن کے ذریعے چین کی بات پوری کی جارہی ہے، یہ آپریشن عزم استحکام نہیں عدم استحکام ہے، اس آپریشن پر اسٹیبلیشمنٹ کا موقف بھی واضح نہیں ہے، پارلیمان اپنا مقدمہ ہار چکی ہے، اسٹیبلشمنٹ الیکشن میں دھاندلی کرے گی تو ایسا ہی ہوگا، اسٹیبلشمنٹ سیاست سے باہر ہوجائے تو خیر ہوجائے گی، حکومت اور اپوزیشن ایک میز پر بیٹھ جائیں گی۔

  • معمولی جرائم میں ملوث افراد سرینڈر کریں تو معافی مل سکتی ہے،شرجیل میمن

    معمولی جرائم میں ملوث افراد سرینڈر کریں تو معافی مل سکتی ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ہم انشاء اللہ اٹھائیس جون تک صوبائی بجٹ پاس کرالیں گے۔
    میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کو معافی نہیں، مگر جو افراد معمولی جرائم میں ملوث ہیں وہ ہتھیار پھینک کر سرینڈر کریں، اپنے آپ کو قانون کے حوالے کریں، تو ان کو معافی مل سکتی ہے۔ جو ڈاکو پکڑے گئے اور جیل میں ہیں انکو موقع دیا جائے کہ وہ توبہ کر لیں، ایسا نہیں ہو سکتا، قبائلی جھگڑے ختم کئے جائیں، اس کے لئے مفاہمت کا راستہ اپنایا جائے گا، جو لوگ کچے میں وارداتیں کر رہے ہیں اس میں قبائلی سرداروں کو انگیج کیا جائے کہ ان سے بات کریں، جو معافی مانگے گا، سرنڈر کرے گا، اس سے بات چیت ہو گی پھر کوئی راستہ نکلے گا، اگر منشیات فروش اپنا کام جاری رکھے گا تو کوئی معافی نہیں، ہم تمام ان لوگوں سے جو اس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں انکے وارننگ اور آفر ہے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ صدر آصف زرداری کا دورہ انتہائی اہم تھا،انہوں نے سیکورٹی امور پر اجلاس کئے، صدر مملکت کی ہدایات پر ہم عمل کریں گے،کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی ہوئی ہے، جنوری میں جو وارداتیں ہوئی اس حساب سے اب کمی آئی ہے، کل آئی جی سندھ سے بریفنگ لی تھی،حکومت نے سیکورٹی فورسز کو جدید اسلحہ دینا شروع کر دیا ہے، پولیس کی مراعات میں اضافہ کیا جا رہا ہے،سندھ میں ڈاکوؤں، منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے، آپریشن عزم استحکام کو ویلکم کرتے ہیں،دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہئے،پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے، اگر پیپلز پارٹی ووٹ نہ دے تو بجٹ پاس ہونا مشکل ہے لیکن پیپلز پارٹی یہ نہیں چاہتی کہ ملک افرا تفری کا شکار ہو، پیپلز پارٹی ملک میں جمہوریت کی بالادستی چاہتی ہے.

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کچے میں آپریشن جاری ہے، اور جاری رہے گا، پہلے سے کچے کے حالات بہتر ہیں اور مزید بہتر ہوں گے،سرداروں کے آپسی جھگڑے حل کرنا ہوں گے تاہم عوام کو بچایا جا سکے، سرداروں کو مفاہمت کے لئے انگیج کیا جائے گا،حکومت سندھ بھر میں امن و امان قائم کرے گی.منشیات فروشوں کے خلاف قائم ریپڈ رسپانس فورس کا ہیلپ لائن نمبر "634 374 111 021” ہے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز بس سروس کے مزید نئے روٹس شروع کر رہے ہیں، شہید بینظیر آباد میں اس ہفتے پیپلز بس سروس شروع کی جائے گی۔

  • سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں،شیری رحمان

    سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں،شیری رحمان

    منگل کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔

    سرکاری ملکیتی ادارے گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی آرڈیننس سینیٹ میں پیش کردیا گیا وزیر مملکت خزانہ علی پرویز ملک نے آڈیننس پیش کیا۔ سرکاری ملکیتی ادارے گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی آرڈینسس بل متعلقہ کمیٹی کےسپرد کردیا گیا.

    سینیٹر خالدہ عطیب نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کل ایمل ولی نے کہا کہ میرا تعلق مہاجر قومی موومنٹ سے ہے، میں وضاحت کروں کہ میرا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے،میں اس بات کی تصیح کرتی ہوں کہ ہم بلا تفریق ہر قومیت کی بات کرتے ہیں۔

    اگر اپوزیشن کو دیوار سے لگائیں گے تو ایوان کو چلنے نہیں دیں گے، شبلی فراز
    قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہاکہ پریزائیڈنگ افسران کا رویہ نامناسب رہا ہے آئندہ ایسے پریزائیڈنگ نہ بنائیں جو پانچ منٹ کی ملنے والی ذمہ داری کو پامال کریں ہمارے سولات اور توجہ دلائو نوٹس شامل نہیں کیے جاتے جو قابل مذمت ہے آپ اپوزیشن کو دیوار سے لگانا چاہتے ہیں ایسا نہیں چلے گا ہمارے سوالات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ، یہ ہمارا آئینی و قانونی حق بنتا ہےہم یہاں حکومت کو بے نقاب کرنے کے لیے ہیں سوالات کی اجازت نہ دینا تشویشناک ہے، میں مسترد کیے گئے سوالات کی فہرست چیئرمین سینیٹ کو فراہم کروں گا ،پیپلزپارٹی کی پارلیمانی لیڈر نے گزشتہ روز ایک قرارداد پیش کی آپ جو قرارداد منظور کرنا چاہتے ہیں وہ یکطرفہ طور پر لگا دیتے ہیں وہ قرارداد ہمیں دکھائی تک نہیں گئی آپ نے ہائوس کو ایک راجواڑہ بنا دیا ہےاگر اپوزیشن کو دیوار سے لگائیں گے تو ایوان کو چلنے نہیں دیں گے، پیپلزپارٹی خود کو جمہوری جماعت کہنا بند کردے آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ ہمیشہ یہاں بیٹھے رہیں گے اس زعم میں کوئی نہ رہے کہ ہم یہ ہیں ہم وہ ہیں ،کل آپ کو ہماری ضرورت پڑے گی ،ہمیں آج بھی ہے ، چیئرمین سینیٹ ایوان کے کسٹوڈین ہیں کسی ایک جماعت کے نہیں ،چیئرمین سینیٹ ہمارے تحفظات کو ختم کریں ۔

    قائد حزب اختلاف روزانہ ماتھے پر غصہ لے کر آتے ہیں،اتنا سریا اچھا نہیں ہوتا، شیری رحمان
    سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ میں نہیں سمجھتی کہ سوالات نظر انداز ہونے چاہئیں قائد حزب اختلاف سراپا احتجاج ہیں، قرارداد سے متعلق قائد حزب اختلاف غلط بیانی کررہے ہیں، میں نے وزیرقانون سے قرارداد پر اپوزیشن کے دستخط کروانے کی التجا کی تھی وزیرقانون نے بتایا کہ وہ دستخط نہیں کررہے یہ نہیں ہوسکتا کہ حکومت قرارداد لائے اور اپوزیشن سے بات نہ کرے،اپوزیشن لیڈر سن لیں اتنا سریا اچھا نہیں ہوتا ،میں بطور اپوزیشن لیڈر آپ کو ساتھ لے کر چلتی تھی، کسی ایک رکن کی بھی توقیر ہوتی ہے قائد حزب اختلاف روزانہ ماتھے پر غصہ لے کر آتے ہیں، پاکستان میں جتھوں کا معاملہ ایک حساس معاملہ ہے، ہم نے قرارداد میں صرف خیبرپختونخواہ کا نہیں پنجاب اور دیگر صوبوں کا بھی ذکر کیا آپ اپنے گریبان کو جھانکیں کنپٹی پر پستول رکھ کر باتیں کی، شاید قائد حزب اختلاف کو ایسا کرنے کی ہدایات ہیں میں روز کھڑے ہوکر نہیں کہتی کہ ہمارے سب سے زیادہ ممبر ہیں دہشتگردی کے خلاف آپریشن پہلے بھی ہوئے ہیں آپ نے ہمیں بجٹ پر بحث نہیں کرنے دی، آپ نے ایوان میں جو رویہ رکھا بہت افسوسناک ہے کوئی معقول بات لے کر آئیں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے ،سینیٹ کے بجٹ کے حوالے سے اختیارات بہت محدود ہیں یہ ایوان سیکنڈ کلاس نہیں ہے یہ صوبوں میں توازن رکھتا ہے سینیٹ نے قومی اسمبلی کو 128 بجٹ سفارشات پیش کی ہیں جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ،امریکہ میں بجٹ دونوں ایوانوں سے منظور ہوتا ہے .قومی اسمبلی سینیٹ کے کئی دن کے کام کو ایک منٹ میں مسترد کردیتی ہے، بجٹ میں ہمارا کردار اس لئے نہیں کہ سینیٹ براہ راست منتخب نہیں ہوا سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں گے قائد ایوان اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر سینیٹ کے اختیارات کا دفاع کیا ۔

    امن کی بحالی کے لیے استحکام پاکستان آپریشن کی حمایت کرتے ہیں،سینیٹر منظور احمد کاکڑ
    سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں دو سو یونیورسٹیاں ہیں جن کے لئے بجٹ میں صرف ساٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں ہمیں اپنی نئی نسل کو معیاری تعلیم دینے کی ضرورت ہےہمیں نوجوانوں کو تعلیمی وظائف دینے کے لئے فنڈز رکھنے چائیےہمیں عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لئے سوچنا ہو گاپاکستان میں امن کی بحالی کے لیے استحکام پاکستان آپریشن کی حمایت کرتے ہیں ہمیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہے امن ہو گا تو ملک ترقی کرے گا۔سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

  • سندھ اسمبلی ،وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ پیش کر دیا

    سندھ اسمبلی ،وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ پیش کر دیا

    سندھ اسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کیا گیا
    سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت میں ہوا، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 30کھرب روپے سے زائد تخمینے کا بجٹ پیش کیا، بجٹ دستاویز کے مطابق سندھ کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 959 ارب روپے ہوگا، ترقیاتی بجٹ میں جاری شدہ ترقیاتی اسکیمز بھی شامل ہیں،صوبائی بجٹ میں 32 ارب محمکہ تعلیم اور 18 ارب روپےصحت جبکہ محکمہ توانائی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    سندھ حکومت بازی لے گئی، تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا فیصلہ
    بجٹ تجویز کے مطابق صوبائی اسمبلی کیلئے فنڈز میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ تنخواہوں میں 22 سے30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،لوکل گورنمنٹ329 ارب روپے کے مجوزہ بجٹ کیساتھ ٹاپ تھری میں شامل ہے،بجٹ بنیادی طور پر سیلاب سے متاثرہ کی بحالی اور غریبوں کیلئے سماجی تحفظ پر مرکوز ہے، گریڈ 1 سے 16 تک ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد تک اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گریڈ 17 سے زائد والے ملازمین کی تنخواہ میں 22 فیصد تک اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم اجرت 37 ہزار مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بجٹ پیش کرتے وقت اپوزیشن نے سندھ اسمبلی میں احتجاج کیا اور بجٹ دستاویزات پھاڑ دیں، اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر جاری رکھی.

    سندھ حکومت کامختلف محکموں میں 5 ہزار 295 نوکریاں دینے کا فیصلہ
    نئے مالیاتی بجٹ میں مختلف محکموں کیلئے 5295 نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت میں ایک ہزار نوکریاں دی جائیں گی، ایجوکیشن ایڈمنسٹریشن میں 3 ہزار 45 نوکریاں دی جا ئیں گی، سندھ اسمبلی میں 271، محکمہ انسانی حقوق میں 6، کالج ایجوکیشن میں 74 آسامیاں پیدا کی گئیں، ہائیر سیکنڈری میں 355، ایلیمنٹری اینڈ مڈل ایجوکیشن میں 118آسامیاں پیدا کی گئی ہیں،پرائمری ایجوکیشن میں 35 ، محکمہ قانون اور پارلیمانی میں 93 نوکریاں دی جائیں گی، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں 31نئی خالی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں، فنانس اور ایس اینڈ جی ای ڈی ڈیپارٹمنٹس میں 30،30 نوکریاں دی جائیں گی، نئے مالیاتی بجٹ میں ان ملازمتوں کیلئے 17 ارب 13 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں.

    وفاقی حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی،وفاقی حکومت نے سرکلر ریلوے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے،وزیراعلیٰ سندھ
    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں سولر کےذریعے 5 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جائے گی، اس منصوبے کے لئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،کراچی میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے لئے دوسال سے بجٹ مختص کررہے ہیں، وفاقی حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی،وفاقی حکومت نے سرکلر ریلوے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے،وزیراعظم نے سی پیک منصوبے میں سرکلر ریلوے پر کام شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی ،سرکلر ریلوے کی کنسلٹنسی کیلئے 45ملین کا بجٹ رکھا گیا ہے ،حکومت سندھ سرکلر ریلوے کی جب جہاں ضرورت ہوگی فنڈز دے گی ،

    خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس کی شرح 13 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ٹیلی کام خدمات پر 18 فیصد ان پٹ ٹیکس کریڈٹ وصول کرنے کی سفارش کی گئی ہے،1500 سے3 ہزار سی سی تک کی امپورٹڈ گاڑیوں پر لگژری ٹیکس ساڑھے 4 لاکھ کرنے کی تجویز ہے،پرفیشنل ٹیکس کو 500روپے سے بڑھا کر 2ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے،پیٹرول پمپس ،سی این جی اسٹیشنز پر پروفیشنل ٹیکس 5ہزار سے بڑھاکر 20 ہزار کرنے کی تجویز ہے،800سے لیکر2100سی سی تک کی گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس 500سے بڑھا کر 5ہزار کرنے کی تجویز ہے،بورڈ آف ریونیو کی تمام لیویز کو بھی بڑھانے کی تجویز ہے،سندھ حکومت کی ہوائی کے ٹکٹ اور الاٹمنٹ پر بھی ڈیوٹی چارجز بڑھانے کی تجویز ہے.
    مختلف پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ اور گڈز گاڑیوں کی فیس میں اضافے کی تجویز

    انتخابات میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا وقت شروع ہورہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ
    قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا پری بجٹ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری خزانہ اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے، سندھ کابینہ اجلاس میں نئے مالی سال 25-2024ء کی بجٹ تجاویز پر غورکیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کے 10 نکات پر عملدرآمد کے حساب سے بجٹ بنایا گیا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو کے انتخابات میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا وقت شروع ہورہا ہے، بجٹ میں غربت کے خاتمے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی تجاویز ہیں، اجلاس میں نئے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی تجویز پر غور کیا گیا، سندھ کابینہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے،

  • ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ، ہتک عزت ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے ایکٹ پر عمل درآمد کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا ،عدالت نے کہا کہ دیکھنا ہے کونسی ہنگامی صورتحال تھی کہ قانون کا نفاد کر دیا گیا ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواستوں پر سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قانون کافریم ہی غلط ہے تو قانون کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔بیس دن بعد ویسے ہی قانون بنناتھاتو اتنی ایمرجنسی کیاتھی کہ قائم مقام گورنرنے دستخط کردئیے۔

    کیا آپ نہیں سمجھتے یہ قانون ہونا چاہیے ،صبح صبح اٹھو تو عجیب عجیب وی لاگر وی لاگ کررہے ہوتے ہیں :جسٹس امجد رفیق
    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس قانون کو لانے کا مقصد پروفیشنل صحافیوں کو کام سے روکنا ہے،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ آپکو نہیں لگتا کہ اس طرح کا قانون ہونا چاہیے؟ وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ قانون پہلے سے موجود ہے اس قانون کو منظور کروانے کی ضرورت نہیں تھی ،یہ قانون آزاد عدلیہ کو بھی متاثر کررہا ہے ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ مطلب اس قانون کو بہتر کیا جاسکتا ہے ،کیا آپ نہیں سمجھتے یہ قانون ہونا چاہیے ،صبح صبح اٹھو تو عجیب عجیب وی لاگر وی لاگ کررہے ہوتے ہیں ،وکیل ابو ذر سلمان نیازی نے کہا کہ اس قانون کا مقصد فیک نیوز ختم کرنا نہیں بلکہ بنیادی حقوق ختم کرنا ہے،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ ان درخواستوں میں بہت اہم نکات اٹھائے گئے ہیں، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ ہم سے کہا گیا کہ مشاورت کے بعد قانون سازی کرینگے،پروفیشنل صحافی ذمہ داری کے ساتھ خبر دیتا ہے،جسٹس امجد رفیق نے سیکرٹری پی ایف یو جے اور ایمنڈ سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

    ہتک عزت کے قانون میں پیش ہونے والے وکیل خواجہ طارق رحیم اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مختصر تاریخ چار جولائی ڈالی ہے،عدالت کو تمام قانونی پہلوؤں پر آگاہ کردیا ہے عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیا ہے،یہ قانون غیر قانونی بنایا گیا ہے

    ہتک عزت کا قانون آزادی صحافت پر حملہ اور آئین پاکستان سے متصادم ہے.ارشد انصاری
    دوسری جانب ہتک عزت کے متنازعہ کالے قانون کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کی قیادت میں پنجاب اسمبلی میں بھرپوراحتجاج کرتے ہوئے بجٹ سیشن سے واک آﺅٹ کیاگیا۔ صحافیوں نے ہتک عزت قانون 2024 کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کیا اور کالا قانون نہ منظور کے نعرے لگاتے ہوئے اسمبلی کی سیڑھیوں پربازوﺅںپرکالی پٹیاں باندھ کر بھرپور احتجاج کیا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ ہتک عزت کا قانون آزادی صحافت پر حملہ اور آئین پاکستان سے متصادم ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ہم نے اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جبکہ صحافیوں کی تمام تنظیمیں اے پی این ایس، سی پی این ای ، پی ایف یوجے، ایمنڈ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کے خلاف متحد ہیں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے اس قانون کے خلاف عدالت سمیت ہر فورم پر مل کر جدوجہد کررہی ہیںاور اپوزیشن کے ارکان بھی ہمارے ساتھ جدوجہد میں شریک ہیں۔ انھوں نے ہتک عزت بل پر پیپلز پارٹی کے دوہرے کردار اور گورنر پنجاب کی طرف سے بل کو اعتراض کے ساتھ واپس بھجوانے کی بجائے اپنے پاس رکھنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ارشد انصاری کا کہنا تھاکہ صحافی مادر پدر آزادی نہیں چاہتے، جو لوگ خبر کی بنیاد پر جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں انھیں قانون کے دائرے میں لانا چاہیے اس بارے میں اگر حکومت ہماری تجاویز کو شامل کر لیتی تو اس بل سے جھوٹ کو روکنے میں فائدہ ہو سکتا تھا۔انھوں نے مزیدکہا کہ ہم عدالت کے بعد اس قانون کے خلاف احتجاج کے دیگر طریقہ کار پربھی مرحلہ وارعمل کریں گے اور اعلان کیا کہ اب صحافی برادری اپنی تمام ڈیوٹی کالی پٹیاں باندھ کر انجام دے گی۔ ارشد انصاری نے کہا ہم اس بل کے خلاف عدالت میں ہیں،ہمیں امید ہے عدالت ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کرے گی۔ پریس گیلری کے سیکرٹری خواجہ حسان احمد نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہتک عزت قانون ناصرف آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ اس موقع پر لاہورپریس کلب کے سیکرٹری زاہد عابد سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری