Baaghi TV

Tag: حکومت

  • امریکی قرارداد  مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی قرارداد مسترد، وزیر خارجہ کا مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان

    امریکی کانگریس میں پاکستان کے حوالے سے منظور ہونے والی قرارداد پر نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس میں ردعمل دیا ہے

    اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی کانگریس میں منظور قرارداد کو پاکستان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعمیری بات چیت کا خواہاں ہے، پاکستان کے اندرونی معاملات میں کسی ملک کو مداخلت کی اجازت نہیں، امریکی قرارداد کے جواب میں ہم بھی قرارداد لائیں گے، قرارداد کا مسودہ تیار کرلیا ہے اپوزیشن سے بھی شیئر کریں گے، امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر دفتر خارجہ نے اپنا مؤثر ردعمل دیا ہے،پاکستان آزاد اور خودمختار دنیا کی پانچویں بڑی جمہوری قوت ہے۔ ہم بھی دیگرممالک کےحوالےسے50چیزوں پرتنقیدکرسکتےہیں،

    بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے،وزیر خارجہ
    اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ماضی کی حکومت میں سی پیک پر کام کو روک دیا گیا تھا، وزیراعظم شہباز شریف نے سی پیک پرکام کو دوبارہ شروع کرایا، پاکستان 182 ووٹ حاصل کر کے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا، ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر کئی بار کام کرنے کی کوشش کی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیاں بڑا مسئلہ ہے، پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں، ہم نے ماضی میں اپنے تعلقات دوسرے ملکوں سے خود خراب کیے، خارجہ پالیسی پر ایوان کا خصوصی اجلاس بلانے کی تجویز مناسب ہے، بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے، موجودہ حکومت نے معاشی سفارت کاری کا آغاز کیا ہے،ہم چاہتے ہیں افغانستان مضبوط ہو ،افغانستان ہماری ترجیح ہے،انکےساتھ مذہبی ،ثقافتی رشتہ ہے ،دوحہ میں چند ہفتوں میں سمٹ ہونےجارہی ہے،اس سمٹ میں افغانستان اورہم بھی ہوں گے،ہم چاہتے ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کوووٹ کاحق ملے،ایسانہیں ہوسکتاکوئی میانوالی،پشاورمیں جاکرووٹ کرے ،اوورسیز چاہتے ہیں کہ ان کی چندسیٹوں کی نمائندگی ہونی چاہئے،

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے

    امریکی قرارداد پاکستان کے سیاسی حالات سے ناواقفیت پر مبنی ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    گولڈسمتھ 2.0 کے حصے کے طور پر قرارداد 901 پاکستان کو کمزور کرنے کی کوشش

  • جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،شیخ رشید

    جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر داخلہ، عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو بجلی کی ننگی تاروں پر لٹکا دیا ہے ، جو بھی حکومت سے بات کرے گا منہ کالا کرے گا،

    سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ یہ تو اپنے کیس ختم کروانے آئے تھے، اور وہ کر رہے ہیں، ایک لاکھ 68ہزار میرا بجلی کا بل آیا ہے، غریب عوام کہاں جائے ، کھانے کو روٹی نہیں اور بلوں کی بھرمار ہے،اگلے ماہ کے آخر تک نوازشریف بھی اپنا بیانیہ بدل لیں گے، جب چور چوکیدار بن جائیں تو پھر اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے، حکومت بتائے کسی ملک نے ان کو اب تک 5 ڈالر بھی دیئے ہیں، میری مارکیٹ کے 18 دکاندار دکانیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں، اصل مذاکرات فوج کیساتھ کئے جائیں اور درمیانی راستہ نکالاجائے، چور، ڈاکو، لٹیرے، ناکام، نااہل بجٹ پیش کرنے والی حکومت کو گھر بھیجا جائے۔

    شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے بعد کے پی اور بلوچستان میں بھی حالات خراب ہو رہے ہیں، امریکی کانگریس کے 368 ارکان فارم 47 والے نہیں ہیں، قوم چین کے وزیر کی اسلام آباد میں تقریر پر بھی غور کرے۔

    سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی اسلام آباد ہائی کورٹ آمد ہوئی، شیخ رشید احمد نے اپنے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کے عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی وصول کی۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے بلاول بھٹو سے متعلق نازیبا گفتگو پر شیخ رشید احمد کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیاتھا.

    چلّہ اتنا سخت تھا کہ اس سے بہتر تھا کہ مجھے مار ہی دیتے، شیخ رشید

    لاہور ہائیکورٹ کا شیخ رشید کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم

    ایک ہی الزام،شیخ رشید پر متعدد مقدمے،عدالت نے رپورٹ کی طلب

    طبیعت کچھ ٹھیک نہیں ہے، عدالت کے استفسار پر شیخ رشید کا جواب

    شیخ رشید اڈیالہ جیل سے رہا ،نہیں معلوم کیا ہونے جا رہا،شیخ رشید

    شہریار ریاض کو پی ٹی آئی نے3 کروڑ میں ٹکٹ دیا، شیخ رشید کا ویڈیو بیان وائرل

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    امریکی کانگرس کی قرارداد 901 کو دیکھ کر یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ آپریشن گولڈ سمتھ کا ایک حصہ ہے۔جس کا مقصد پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو بدنام کرنا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد 901 پیش کی گئی تھی جو پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کی حمایت کیلیے تھی، یہ قرارداد ریپبلکن سینیٹر رچرڈ میک کارمک نے گزشتہ برس 30 نومبر 2023 کو پیش کی تھی۔امریکی سینیٹر کی اس قرار داد کو 21 مارچ 2024 کو امریکی کمیٹی برائے خارجہ امور میں بحث کے لئے بھیجا گیا تھا،جس کے بعد 24 جون 2024 کو قرارداد کو ایوان میں غور کے لیے پیش کیا گیا ،امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد 901 کی وقفے وقفے سے ٹیبلنگ کے اوقات کافی دلچسپ ہیں ، قرارداد 901 میں پاکستان میں جمہوریت اور انسانی حقوق کی صورتحال کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ بھی کسی صورت درست نہیں ہیں،اصل میں یہ قرارداد ترقی کرتے پاکستان کو کمزور کرنے کی مذموم کوشش و سازش ہے

    امریکی کانگریس کی قرارداد 901 "آپریشن گولڈ اسمتھ 2.0” کی ایک کڑی نظر آتی ہے،جو کہ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان اور اس کی مسلح افواج کو نشانہ بنانے والی بدنامی کی مہم ہے، جس کا آغاز ایک سیاسی جماعت نے کیا تھا اور وہی ان سارے عوامل کے پیچھے ہے، حقائق کے برعکس بات کرنا، پروپیگنڈہ پھیلا کر قرارداد 901 کا مقصد جمہوریت اور انسانی حقوق کے شعبوں میں پاکستانی حکومت کی کارکردگی کے بارے میں بے بنیاد شکوک و شبہات کو جنم دینا ہے۔

    حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی رکھنے والا ملک ہے، پاکستان میں 8 فروری کو رواں برس پرامن انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں حکومت تشکیل میں آئی جو جمہوریت کے روح کے مطابق کام کر رہی ہے، حکومت بجٹ پیش کر چکی ہے.پاکستانی معیشت سنبھل رہی ہے، مہنگائی میں کمی ہو رہی ہے، جہاں تک انسانی حقوق کا تعلق ہے،تو پاکستان میں انسانی حقوق کے حالات پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک سمیت پاکستان قدرے بہتر ہے.

    پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی اداروں کی حکومت کو مکمل حاصل ہے، یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہے، دہشت گردوں، انکے سہولت کاروں کے خلاف پاکستان نے ابھی چند دن قبل ہی آپریشن عزم استحکام کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے.

    فروری میں ہونے والے انتخابات کے بعد بننے والی سیاسی حکومت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کر کے معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ سخت معاشی اقدامات کے ذریعے ڈالر کے غیر قانونی بہاؤ، اسمگلنگ اور کارٹیلز کی اجارہ داری کو کنٹرول کرنے میں کامیابی ہوئی ہے۔ نتیجتاً، فصلوں کی پیداوار کی سطح میں بہتری آئی ہے، افراط زر میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے اور تمام معاشی اشاریے تیزی کا رجحان دکھا رہے ہیں۔ پاکستان کی سٹاک ایکسچینج تاریخ میں پہلی بار 78 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گئی۔ معروف اقتصادی ویب سائٹ بلومبرگ کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کی 27 فیصد اسٹاک ریلی ایشیا میں آگے ہے اور اس سال کے آخر تک 10 فیصد مزید اضافہ متوقع ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کا تجربہ کامیاب رہا ہے، جس کا منافع اپنے قیام کے ایک سال کے اندر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ حکومت پاکستان ریاست اور اس کے اداروں پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ عوام اور افواج کے درمیان سماجی معاہدہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہا ہے۔

    امریکی ایوان نمائندگان میں پاکستان کے حوالہ سے قرارداد اسرائیل اور بھارت نواز رکن کانگریس کے ذریعے جمع کروائی گئی، امریکی قرارداد جس شخص نےامریکی ایوان نمائندگان میں پیش کی، اِس شخص کا نام رچ میک کارمک (Rich McCormick) ہے۔ یہ کانگریس میں امریکہ میں اسرائیلی لابی کو کا سب سے بڑا سپورٹر ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران اِس نے اپنی ایک ٹویٹ میں اسرائیلی بربریت کی کھلم کھلا سپورٹ کی اور فلسطینی مسلمانوں کو برائی سے تشبیہ دی ہے ،آج کل یہ شخص پی ٹی آئی کا سب سے بڑا لابیسٹ ہے۔ پاکستانیوں سے گزارش ہے کہ اپنی ریاست کے خلاف اِس سازش کو سمجھیں، اور اپنے گردو نواح اُن لوگوں کو پہچانیں جو اِس سازش کے آلہ کار ہیں اور پاک فوج کو کمزور کر کے پاکستان کو عراق اور لیبیا بنانا چاہتے ہیں۔

    یہ لابی پہلے سے پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دینے میں مصروف ہے جس کا پی ٹی آئی سے براہ راست گٹھ جوڑ ہے،امریکہ میں ایک لابسٹ فرم کی خدمات بھی اسی سلسلے میں حاصل کی گئی تھیں جس نے 9 مئی کو فالس فلیگ آپریشن ثابت کرنے والی رپورٹ چھپوانے کیلئے ایک امریکی سینیٹر کو ڈیڑھ لاکھ ڈالر ادا کئے۔ آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالے سے باتیں سوشل میڈیا پر پہلے ہی زیر گردش ہیں، خبریں اور تجزیئے شائع کرانا آپریشن گولڈ سمتھ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی میں بھی مخصوص سیاسی جماعت نے 25 ہزار ڈالر ماہانہ کے عوض امریکی فرم کی خدمات حاصل کیں،بیرون ملک مخصوص جماعت کے حامی پاکستان میں انتخابات سے متعلق گمراہ کن پراپیگنڈہ کر تے رہے، مخصوص سیاسی جماعت سوشل میڈیا پروپیگنڈا کے ذریعے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے تمام حدیں پار کر چکی۔ آپریشن گولڈ سمتھ کا مقصد پاکستان پر سفارتی اور انسانی حقوق کے اداروں کے ذریعے دباؤ بڑھانا ہے۔

    آپریشن گولڈ سمتھ کے حوالہ سے سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ایک وی لاگ میں انکشافات کیے تھے اور کہا تھا کہ اب آپریشن گولڈ سمتھ جو ہے چڑیل کی خبر کے مطابق وہ لانج ہو گیا ہے اب آپ دیکھیں گے کہ عنقریب پاکستان کے میڈیا میں آپ کو خبریں آئیں گی ایک اور پینڈورا باکس کھلے گا ایک طوفان بدتمیزی مچایا جائے گا آن لائن ہو گا پاکستان میں نہیں ہوگا پہلے باہر ہو گا اور اسی سے آپ کڑیاں ملا سکتے ہیں پہلے باہر ہو گا پھر پاکستان میں آئے گا پھر ٹی وی پر ہم بحث کریں گے مقصد یہ ہے کہ پاکستان میں آپریشن گولڈسمتھ انتشار پھیلائے گا اور لوگوں کو مزید کنفیوز رکھے گا لوگ اب جو سیٹل ہونا شروع ہو گئے ہیں امیدیں بننا شروع ہو گئی ہیں کہ اب گورننس بہتر ہو رہی ہے،ان میں انتشار پھیلے گا-

  • ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں، ہر شعبے، ہر کاروبار پر ٹیکس لگا دیے گئے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں، ہر شعبے، ہر کاروبار پر ٹیکس لگا دیے گئے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک دیوالیہ ہورہا ہے، آپ کی توجہ صرف ٹیکس لگانے پرہے، بجٹ میں تنخواہ اور کاروبارپرٹیکسزعائد کردیئے-

    قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مجھے یہ مان نہیں رہا میں کوئی اقتصادی ماہر ہوں، ایوان میں اقتصادی ماہر موجود ہوں وہ اس پر بہتر بات کر سکتے ہیں، جتنے بھی بجٹ پیش کیے گئے ہیں حکومتیں بجٹ کو عوام دوست قرار دیتی رہی ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج ہم دیوالیہ پن کے قریب ہیں بجٹ میں حکومت نے مزید ٹیکس لگانے کا سوچ رہی ہے، ایوان کے سامنے اپنے کچھ تحفظات رکھنا چاہتا ہوں، ایسے ارکان موجود ہیں جو بجٹ پر تکنیکی بحث کر سکتے ہیں، 1988 سے ایوان میں ہوں بہت سارے بجٹ دیکھ چکا ہوں، تمام حکومتیں یہی کہتی ہے کہ ان کا بجٹ عوام دوست ہے آج دیکھنا ہوگا کہ ملک میں معیشت کی کیا حالت ہے، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں، ہر شعبے پر، ہر کمائی میں، ہر کاروبار پر ٹیکس لگا دیے گئے ہیں، قوم سے ڈیمانڈ کرتے ہیں کہ ٹیکس دے تاکہ ملک کی معیشت مستحکم ہو، عام آدمی کو اطمینان ہو کہ اس کے بچوں کا گزر بسر ہوتا رہے لیکن حقوق نہیں دے رہے، جب قوم کو حقوق نہیں ملتے تو ٹیکس کیسے لے سکتے ہیں؟ عوام امن اورمعاشی خوشحالی کا مطالبہ کرتے ہیں، ملک کے بیشتر علاقوں میں صورتحال فاقوں تک پہنچ چکی، لوگوں نے اپنے ہی ملک میں ہجرت کی، چمن بارڈر پر 9 ماہ سے لوگ دربدر بیٹھے ہوئے ہیں، یہ میں اور آپ پاک افغان بارڈر کہتے ہیں، افغانستان اسے ڈیورنڈ لائن سمجھتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شیریں مزاری کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیدیا

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ریاست شکی القلب ہوچکی ہے کہ اپنے باشندوں کو تحفظ تک نہیں دے رہی، شرائط لگائیں لیکن قابل برداشت ہوں، ملک کی وفاداری پر آپ قبضہ کرلیتے ہیں، کوئی اور بات کرے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے سفارتی لحاظ سے ہمارے وزیر اعظم کامیاب ہوکر نہیں آئے، چین کے مہمان آئے انہوں نے جواب دیا پاکستان میں عدم استحکام ہے، سیکیورٹی کے حالات ٹھیک نہیں ہے، ایسے لگتا ہے کچھ مہینوں میں بنوں ڈی آئی خان میں امارت اسلامیہ قائم ہو جائے گا۔

    توہین الیکشن کمیشن کیس:ہمارے ساتھ جو ہوا ہے اب اس کیس کی گنجائش نہیں …

    مولانا فضل الرحمان کہا کہ مجھے لگتا ہے اس آپریشن کے ذریعے چین کی بات پوری کی جارہی ہے، یہ آپریشن عزم استحکام نہیں عدم استحکام ہے، اس آپریشن پر اسٹیبلیشمنٹ کا موقف بھی واضح نہیں ہے، پارلیمان اپنا مقدمہ ہار چکی ہے، اسٹیبلشمنٹ الیکشن میں دھاندلی کرے گی تو ایسا ہی ہوگا، اسٹیبلشمنٹ سیاست سے باہر ہوجائے تو خیر ہوجائے گی، حکومت اور اپوزیشن ایک میز پر بیٹھ جائیں گی۔

  • معمولی جرائم میں ملوث افراد سرینڈر کریں تو معافی مل سکتی ہے،شرجیل میمن

    معمولی جرائم میں ملوث افراد سرینڈر کریں تو معافی مل سکتی ہے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے کہا ہے کہ ہم انشاء اللہ اٹھائیس جون تک صوبائی بجٹ پاس کرالیں گے۔
    میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کو معافی نہیں، مگر جو افراد معمولی جرائم میں ملوث ہیں وہ ہتھیار پھینک کر سرینڈر کریں، اپنے آپ کو قانون کے حوالے کریں، تو ان کو معافی مل سکتی ہے۔ جو ڈاکو پکڑے گئے اور جیل میں ہیں انکو موقع دیا جائے کہ وہ توبہ کر لیں، ایسا نہیں ہو سکتا، قبائلی جھگڑے ختم کئے جائیں، اس کے لئے مفاہمت کا راستہ اپنایا جائے گا، جو لوگ کچے میں وارداتیں کر رہے ہیں اس میں قبائلی سرداروں کو انگیج کیا جائے کہ ان سے بات کریں، جو معافی مانگے گا، سرنڈر کرے گا، اس سے بات چیت ہو گی پھر کوئی راستہ نکلے گا، اگر منشیات فروش اپنا کام جاری رکھے گا تو کوئی معافی نہیں، ہم تمام ان لوگوں سے جو اس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں انکے وارننگ اور آفر ہے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ صدر آصف زرداری کا دورہ انتہائی اہم تھا،انہوں نے سیکورٹی امور پر اجلاس کئے، صدر مملکت کی ہدایات پر ہم عمل کریں گے،کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی ہوئی ہے، جنوری میں جو وارداتیں ہوئی اس حساب سے اب کمی آئی ہے، کل آئی جی سندھ سے بریفنگ لی تھی،حکومت نے سیکورٹی فورسز کو جدید اسلحہ دینا شروع کر دیا ہے، پولیس کی مراعات میں اضافہ کیا جا رہا ہے،سندھ میں ڈاکوؤں، منشیات فروشوں کے خلاف آپریشن ہو رہا ہے، آپریشن عزم استحکام کو ویلکم کرتے ہیں،دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہونا چاہئے،پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کا حصہ نہیں ہے، اگر پیپلز پارٹی ووٹ نہ دے تو بجٹ پاس ہونا مشکل ہے لیکن پیپلز پارٹی یہ نہیں چاہتی کہ ملک افرا تفری کا شکار ہو، پیپلز پارٹی ملک میں جمہوریت کی بالادستی چاہتی ہے.

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ کچے میں آپریشن جاری ہے، اور جاری رہے گا، پہلے سے کچے کے حالات بہتر ہیں اور مزید بہتر ہوں گے،سرداروں کے آپسی جھگڑے حل کرنا ہوں گے تاہم عوام کو بچایا جا سکے، سرداروں کو مفاہمت کے لئے انگیج کیا جائے گا،حکومت سندھ بھر میں امن و امان قائم کرے گی.منشیات فروشوں کے خلاف قائم ریپڈ رسپانس فورس کا ہیلپ لائن نمبر "634 374 111 021” ہے،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز بس سروس کے مزید نئے روٹس شروع کر رہے ہیں، شہید بینظیر آباد میں اس ہفتے پیپلز بس سروس شروع کی جائے گی۔

  • سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں،شیری رحمان

    سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں،شیری رحمان

    منگل کو چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔

    سرکاری ملکیتی ادارے گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی آرڈیننس سینیٹ میں پیش کردیا گیا وزیر مملکت خزانہ علی پرویز ملک نے آڈیننس پیش کیا۔ سرکاری ملکیتی ادارے گورننس اینڈ آپریشنز ترمیمی آرڈینسس بل متعلقہ کمیٹی کےسپرد کردیا گیا.

    سینیٹر خالدہ عطیب نے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ کل ایمل ولی نے کہا کہ میرا تعلق مہاجر قومی موومنٹ سے ہے، میں وضاحت کروں کہ میرا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے ہے،میں اس بات کی تصیح کرتی ہوں کہ ہم بلا تفریق ہر قومیت کی بات کرتے ہیں۔

    اگر اپوزیشن کو دیوار سے لگائیں گے تو ایوان کو چلنے نہیں دیں گے، شبلی فراز
    قائد حزب اختلاف شبلی فراز نے کہاکہ پریزائیڈنگ افسران کا رویہ نامناسب رہا ہے آئندہ ایسے پریزائیڈنگ نہ بنائیں جو پانچ منٹ کی ملنے والی ذمہ داری کو پامال کریں ہمارے سولات اور توجہ دلائو نوٹس شامل نہیں کیے جاتے جو قابل مذمت ہے آپ اپوزیشن کو دیوار سے لگانا چاہتے ہیں ایسا نہیں چلے گا ہمارے سوالات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا ، یہ ہمارا آئینی و قانونی حق بنتا ہےہم یہاں حکومت کو بے نقاب کرنے کے لیے ہیں سوالات کی اجازت نہ دینا تشویشناک ہے، میں مسترد کیے گئے سوالات کی فہرست چیئرمین سینیٹ کو فراہم کروں گا ،پیپلزپارٹی کی پارلیمانی لیڈر نے گزشتہ روز ایک قرارداد پیش کی آپ جو قرارداد منظور کرنا چاہتے ہیں وہ یکطرفہ طور پر لگا دیتے ہیں وہ قرارداد ہمیں دکھائی تک نہیں گئی آپ نے ہائوس کو ایک راجواڑہ بنا دیا ہےاگر اپوزیشن کو دیوار سے لگائیں گے تو ایوان کو چلنے نہیں دیں گے، پیپلزپارٹی خود کو جمہوری جماعت کہنا بند کردے آپ یہ نہ سمجھیں کہ آپ ہمیشہ یہاں بیٹھے رہیں گے اس زعم میں کوئی نہ رہے کہ ہم یہ ہیں ہم وہ ہیں ،کل آپ کو ہماری ضرورت پڑے گی ،ہمیں آج بھی ہے ، چیئرمین سینیٹ ایوان کے کسٹوڈین ہیں کسی ایک جماعت کے نہیں ،چیئرمین سینیٹ ہمارے تحفظات کو ختم کریں ۔

    قائد حزب اختلاف روزانہ ماتھے پر غصہ لے کر آتے ہیں،اتنا سریا اچھا نہیں ہوتا، شیری رحمان
    سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ میں نہیں سمجھتی کہ سوالات نظر انداز ہونے چاہئیں قائد حزب اختلاف سراپا احتجاج ہیں، قرارداد سے متعلق قائد حزب اختلاف غلط بیانی کررہے ہیں، میں نے وزیرقانون سے قرارداد پر اپوزیشن کے دستخط کروانے کی التجا کی تھی وزیرقانون نے بتایا کہ وہ دستخط نہیں کررہے یہ نہیں ہوسکتا کہ حکومت قرارداد لائے اور اپوزیشن سے بات نہ کرے،اپوزیشن لیڈر سن لیں اتنا سریا اچھا نہیں ہوتا ،میں بطور اپوزیشن لیڈر آپ کو ساتھ لے کر چلتی تھی، کسی ایک رکن کی بھی توقیر ہوتی ہے قائد حزب اختلاف روزانہ ماتھے پر غصہ لے کر آتے ہیں، پاکستان میں جتھوں کا معاملہ ایک حساس معاملہ ہے، ہم نے قرارداد میں صرف خیبرپختونخواہ کا نہیں پنجاب اور دیگر صوبوں کا بھی ذکر کیا آپ اپنے گریبان کو جھانکیں کنپٹی پر پستول رکھ کر باتیں کی، شاید قائد حزب اختلاف کو ایسا کرنے کی ہدایات ہیں میں روز کھڑے ہوکر نہیں کہتی کہ ہمارے سب سے زیادہ ممبر ہیں دہشتگردی کے خلاف آپریشن پہلے بھی ہوئے ہیں آپ نے ہمیں بجٹ پر بحث نہیں کرنے دی، آپ نے ایوان میں جو رویہ رکھا بہت افسوسناک ہے کوئی معقول بات لے کر آئیں آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے ،سینیٹ کے بجٹ کے حوالے سے اختیارات بہت محدود ہیں یہ ایوان سیکنڈ کلاس نہیں ہے یہ صوبوں میں توازن رکھتا ہے سینیٹ نے قومی اسمبلی کو 128 بجٹ سفارشات پیش کی ہیں جس پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ،امریکہ میں بجٹ دونوں ایوانوں سے منظور ہوتا ہے .قومی اسمبلی سینیٹ کے کئی دن کے کام کو ایک منٹ میں مسترد کردیتی ہے، بجٹ میں ہمارا کردار اس لئے نہیں کہ سینیٹ براہ راست منتخب نہیں ہوا سینیٹ کے انتخاب کا طریقہ تبدیل کردیں ہم براہ راست منتخب ہوکر آجائیں گے قائد ایوان اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر سینیٹ کے اختیارات کا دفاع کیا ۔

    امن کی بحالی کے لیے استحکام پاکستان آپریشن کی حمایت کرتے ہیں،سینیٹر منظور احمد کاکڑ
    سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں دو سو یونیورسٹیاں ہیں جن کے لئے بجٹ میں صرف ساٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں ہمیں اپنی نئی نسل کو معیاری تعلیم دینے کی ضرورت ہےہمیں نوجوانوں کو تعلیمی وظائف دینے کے لئے فنڈز رکھنے چائیےہمیں عوام کو مشکلات سے نکالنے کے لئے سوچنا ہو گاپاکستان میں امن کی بحالی کے لیے استحکام پاکستان آپریشن کی حمایت کرتے ہیں ہمیں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کی ضرورت ہے امن ہو گا تو ملک ترقی کرے گا۔سینیٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا

    آپریشن عزم استحکام کا مقصد کیا؟ وزیراعظم آفس سے اعلامیہ جاری

    آپریشن عزم استحکام کی مخالفت کر کے کیا پی ٹی آئی ملک دشمن قوتوں کی حمایت کر رہی ہے؟ شیری رحمان

    ماضی کے جتنے آپریشن ہوئےانکے نتائج تو سامنے رکھیں،مولانا فضل الرحمان

    ایپکس کمیٹی میں ایک نام عزم استحکام آیا لیکن آپریشن کا ذکر نہیں تھا،وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ

    آپریشن عزم استحکام،کامیابی کیلئے اتحاد ضروری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    وفاقی کابینہ اجلاس، آپریشن عزم استحکام کی منظوری دے دی گئی

  • سندھ اسمبلی ،وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ پیش کر دیا

    سندھ اسمبلی ،وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ پیش کر دیا

    سندھ اسمبلی میں مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کیا گیا
    سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اویس قادر شاہ کی صدارت میں ہوا، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 30کھرب روپے سے زائد تخمینے کا بجٹ پیش کیا، بجٹ دستاویز کے مطابق سندھ کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 959 ارب روپے ہوگا، ترقیاتی بجٹ میں جاری شدہ ترقیاتی اسکیمز بھی شامل ہیں،صوبائی بجٹ میں 32 ارب محمکہ تعلیم اور 18 ارب روپےصحت جبکہ محکمہ توانائی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    سندھ حکومت بازی لے گئی، تنخواہوں میں 30 فیصد اضافے کا فیصلہ
    بجٹ تجویز کے مطابق صوبائی اسمبلی کیلئے فنڈز میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ تنخواہوں میں 22 سے30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،لوکل گورنمنٹ329 ارب روپے کے مجوزہ بجٹ کیساتھ ٹاپ تھری میں شامل ہے،بجٹ بنیادی طور پر سیلاب سے متاثرہ کی بحالی اور غریبوں کیلئے سماجی تحفظ پر مرکوز ہے، گریڈ 1 سے 16 تک ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد تک اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گریڈ 17 سے زائد والے ملازمین کی تنخواہ میں 22 فیصد تک اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ کم از کم اجرت 37 ہزار مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    بجٹ پیش کرتے وقت اپوزیشن نے سندھ اسمبلی میں احتجاج کیا اور بجٹ دستاویزات پھاڑ دیں، اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ تقریر جاری رکھی.

    سندھ حکومت کامختلف محکموں میں 5 ہزار 295 نوکریاں دینے کا فیصلہ
    نئے مالیاتی بجٹ میں مختلف محکموں کیلئے 5295 نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت میں ایک ہزار نوکریاں دی جائیں گی، ایجوکیشن ایڈمنسٹریشن میں 3 ہزار 45 نوکریاں دی جا ئیں گی، سندھ اسمبلی میں 271، محکمہ انسانی حقوق میں 6، کالج ایجوکیشن میں 74 آسامیاں پیدا کی گئیں، ہائیر سیکنڈری میں 355، ایلیمنٹری اینڈ مڈل ایجوکیشن میں 118آسامیاں پیدا کی گئی ہیں،پرائمری ایجوکیشن میں 35 ، محکمہ قانون اور پارلیمانی میں 93 نوکریاں دی جائیں گی، پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں 31نئی خالی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں، فنانس اور ایس اینڈ جی ای ڈی ڈیپارٹمنٹس میں 30،30 نوکریاں دی جائیں گی، نئے مالیاتی بجٹ میں ان ملازمتوں کیلئے 17 ارب 13 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں.

    وفاقی حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی،وفاقی حکومت نے سرکلر ریلوے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے،وزیراعلیٰ سندھ
    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں سولر کےذریعے 5 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جائے گی، اس منصوبے کے لئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،کراچی میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے لئے دوسال سے بجٹ مختص کررہے ہیں، وفاقی حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی،وفاقی حکومت نے سرکلر ریلوے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے،وزیراعظم نے سی پیک منصوبے میں سرکلر ریلوے پر کام شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی ،سرکلر ریلوے کی کنسلٹنسی کیلئے 45ملین کا بجٹ رکھا گیا ہے ،حکومت سندھ سرکلر ریلوے کی جب جہاں ضرورت ہوگی فنڈز دے گی ،

    خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس کی شرح 13 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے،ٹیلی کام خدمات پر 18 فیصد ان پٹ ٹیکس کریڈٹ وصول کرنے کی سفارش کی گئی ہے،1500 سے3 ہزار سی سی تک کی امپورٹڈ گاڑیوں پر لگژری ٹیکس ساڑھے 4 لاکھ کرنے کی تجویز ہے،پرفیشنل ٹیکس کو 500روپے سے بڑھا کر 2ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے،پیٹرول پمپس ،سی این جی اسٹیشنز پر پروفیشنل ٹیکس 5ہزار سے بڑھاکر 20 ہزار کرنے کی تجویز ہے،800سے لیکر2100سی سی تک کی گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس 500سے بڑھا کر 5ہزار کرنے کی تجویز ہے،بورڈ آف ریونیو کی تمام لیویز کو بھی بڑھانے کی تجویز ہے،سندھ حکومت کی ہوائی کے ٹکٹ اور الاٹمنٹ پر بھی ڈیوٹی چارجز بڑھانے کی تجویز ہے.
    مختلف پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ اور گڈز گاڑیوں کی فیس میں اضافے کی تجویز

    انتخابات میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا وقت شروع ہورہا ہے،وزیراعلیٰ سندھ
    قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت کابینہ کا پری بجٹ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، چیف سیکریٹری، چیئرمین پی اینڈ ڈی، سیکریٹری خزانہ اور دیگر متعلقہ افسران شریک تھے، سندھ کابینہ اجلاس میں نئے مالی سال 25-2024ء کی بجٹ تجاویز پر غورکیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کے 10 نکات پر عملدرآمد کے حساب سے بجٹ بنایا گیا ہے، چیئرمین بلاول بھٹو کے انتخابات میں کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا وقت شروع ہورہا ہے، بجٹ میں غربت کے خاتمے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی تجاویز ہیں، اجلاس میں نئے مالی سال میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی تجویز پر غور کیا گیا، سندھ کابینہ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن بڑھانے پر بھی غور کر رہی ہے،

  • ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    ہتک عزت ایکٹ،فریقین کو نوٹس جاری،سماعت 4 جولائی تک ملتوی

    لاہور ہائیکورٹ، ہتک عزت ایکٹ کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوے جواب طلب کر لیا ،عدالت نے ایکٹ پر عمل درآمد کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا ،عدالت نے کہا کہ دیکھنا ہے کونسی ہنگامی صورتحال تھی کہ قانون کا نفاد کر دیا گیا ،لاہور ہائیکورٹ نے درخواستوں پر سماعت 4 جولائی تک ملتوی کر دی، جسٹس امجد رفیق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر قانون کافریم ہی غلط ہے تو قانون کیسے برقرار رہ سکتا ہے۔بیس دن بعد ویسے ہی قانون بنناتھاتو اتنی ایمرجنسی کیاتھی کہ قائم مقام گورنرنے دستخط کردئیے۔

    کیا آپ نہیں سمجھتے یہ قانون ہونا چاہیے ،صبح صبح اٹھو تو عجیب عجیب وی لاگر وی لاگ کررہے ہوتے ہیں :جسٹس امجد رفیق
    وکیل درخواست گزار نے کہا کہ اس قانون کو لانے کا مقصد پروفیشنل صحافیوں کو کام سے روکنا ہے،جسٹس امجد رفیق نے استفسار کیا کہ آپکو نہیں لگتا کہ اس طرح کا قانون ہونا چاہیے؟ وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ قانون پہلے سے موجود ہے اس قانون کو منظور کروانے کی ضرورت نہیں تھی ،یہ قانون آزاد عدلیہ کو بھی متاثر کررہا ہے ،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ مطلب اس قانون کو بہتر کیا جاسکتا ہے ،کیا آپ نہیں سمجھتے یہ قانون ہونا چاہیے ،صبح صبح اٹھو تو عجیب عجیب وی لاگر وی لاگ کررہے ہوتے ہیں ،وکیل ابو ذر سلمان نیازی نے کہا کہ اس قانون کا مقصد فیک نیوز ختم کرنا نہیں بلکہ بنیادی حقوق ختم کرنا ہے،جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ ان درخواستوں میں بہت اہم نکات اٹھائے گئے ہیں، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ ہم سے کہا گیا کہ مشاورت کے بعد قانون سازی کرینگے،پروفیشنل صحافی ذمہ داری کے ساتھ خبر دیتا ہے،جسٹس امجد رفیق نے سیکرٹری پی ایف یو جے اور ایمنڈ سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی

    ہتک عزت کے قانون میں پیش ہونے والے وکیل خواجہ طارق رحیم اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے مختصر تاریخ چار جولائی ڈالی ہے،عدالت کو تمام قانونی پہلوؤں پر آگاہ کردیا ہے عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کردیا ہے،یہ قانون غیر قانونی بنایا گیا ہے

    ہتک عزت کا قانون آزادی صحافت پر حملہ اور آئین پاکستان سے متصادم ہے.ارشد انصاری
    دوسری جانب ہتک عزت کے متنازعہ کالے قانون کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی کال پر صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کی قیادت میں پنجاب اسمبلی میں بھرپوراحتجاج کرتے ہوئے بجٹ سیشن سے واک آﺅٹ کیاگیا۔ صحافیوں نے ہتک عزت قانون 2024 کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کیا اور کالا قانون نہ منظور کے نعرے لگاتے ہوئے اسمبلی کی سیڑھیوں پربازوﺅںپرکالی پٹیاں باندھ کر بھرپور احتجاج کیا۔احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے کہا کہ ہتک عزت کا قانون آزادی صحافت پر حملہ اور آئین پاکستان سے متصادم ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ہم نے اسے لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جبکہ صحافیوں کی تمام تنظیمیں اے پی این ایس، سی پی این ای ، پی ایف یوجے، ایمنڈ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس قانون کے خلاف متحد ہیں اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے اس قانون کے خلاف عدالت سمیت ہر فورم پر مل کر جدوجہد کررہی ہیںاور اپوزیشن کے ارکان بھی ہمارے ساتھ جدوجہد میں شریک ہیں۔ انھوں نے ہتک عزت بل پر پیپلز پارٹی کے دوہرے کردار اور گورنر پنجاب کی طرف سے بل کو اعتراض کے ساتھ واپس بھجوانے کی بجائے اپنے پاس رکھنے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ارشد انصاری کا کہنا تھاکہ صحافی مادر پدر آزادی نہیں چاہتے، جو لوگ خبر کی بنیاد پر جھوٹ کا کاروبار کرتے ہیں انھیں قانون کے دائرے میں لانا چاہیے اس بارے میں اگر حکومت ہماری تجاویز کو شامل کر لیتی تو اس بل سے جھوٹ کو روکنے میں فائدہ ہو سکتا تھا۔انھوں نے مزیدکہا کہ ہم عدالت کے بعد اس قانون کے خلاف احتجاج کے دیگر طریقہ کار پربھی مرحلہ وارعمل کریں گے اور اعلان کیا کہ اب صحافی برادری اپنی تمام ڈیوٹی کالی پٹیاں باندھ کر انجام دے گی۔ ارشد انصاری نے کہا ہم اس بل کے خلاف عدالت میں ہیں،ہمیں امید ہے عدالت ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کرے گی۔ پریس گیلری کے سیکرٹری خواجہ حسان احمد نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہتک عزت قانون ناصرف آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کے بھی منافی ہے اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ اس موقع پر لاہورپریس کلب کے سیکرٹری زاہد عابد سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

    لاہور ہائیکورٹ،ہتک عزت قانون کے خلاف دائر درخواست قابل سماعت قرار

    پاکستان تحریک انصاف کا ہتک عزت بل کے خلاف عدالت جانے کا اعلان

    قائم مقام گورنر کا ہتک عزت بل پر دستخط کرنا آزادی اظہار رائے پر پابندی کے مترادف ہے، امیر جماعت اسلامی

    ہتک عزت بل پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ، یہ بل حرف آخر نہیں ہے، گورنر پنجاب

    ہتک عزت قانون،کوئٹہ پریس کلب کی تالہ بندی،صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

    ہتک عزت بل 2024ء پنجاب اسمبلی میں منظور،اپوزیشن نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں

    ایمنڈ کا پنجاب ہتک عزت بل 2024 کے قیام پر شدید تحفظات کا اظہار

    لاہور پریس کلب نے پنجاب حکومت کا مجوزہ ہتک عزت قانون 2024 مسترد کر دیا

    گورنر پنجاب کو چاہیے پہلے ہتک عزت قانون پڑھیں پھر تبصرہ کریں: عظمیٰ بخاری

  • امریکی محکمہ خزانہ کے وفد کی وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری سے ملاقات

    امریکی محکمہ خزانہ کے وفد کی وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری سے ملاقات

    وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس لغاری سے امریکی محکمہ خزانہ کے وفد نے ملاقات کی۔ امریکی وفد کی قیادت اسسٹنٹ سیکرٹری برائے خزانہ برینٹ نیمن کر رہے تھے۔ ملاقات کا مقصد توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون کو فروغ دینا تھا۔

    وفاقی وزیر برائے پاور سردار اویس لغاری نے کہا کہ پاور سیکٹر میں خامیاں دور کرنے کے لیے اصلاحاتی پلان بنا لیا ہے۔ان اصلاحات کا مقصد پاکستان کے انرجی مکس کو بہتر بنانا اور پاور سیکٹر کی باقی خرابیوں کو دور کرنا ہے ۔ وزیر نے سیکرٹری کو بتایا کہ پاکستان میں بجلی کی تقسیم اور ترسیل میں نجی شعبے کی شراکت بڑھانے کے لیے اصلاحات نافذ کی جا رہی ہیں۔ ان اصلاحات کا مقصد پاکستانی عوام کو فراہم کی جانے والی سروسز کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔

     وزیر نےکہا کہ پاکستان پنکھوں کی تبدیلی کا پروگرام شروع کر رہا ہے جس سے توانائی کی بچت ہوگی ۔سردار اویس لغاری نے موسمی پیداوار اور طلب کے فرق کو دور کرنے کے لیے امریکی تکنیکی مدد کی ضرورت کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کے پاور سیکٹر کے لیے زیادہ سازگار شرحوں پر بین الاقوامی فنانسنگ حاصل کرنے میں امریکی امداد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

    امریکی معاون وزیر خزانہ نے پاکستان کے پاور سیکٹر میں اصلاحات کے اقدامات کو سراہا اور پاکستان کے پاور سیکٹر کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    میں آپکی بیویوں کے کرتوت بتاؤں گی، حریم شاہ کی دو سیاستدانوں کو وارننگ

    حریم شاہ کے ہاتھ میں شراب کی بوتلیں اور….ویڈیو وائرل

  • وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    وفاقی بجٹ ،قومی اسمبلی سیکورٹی کے سخت انتظامات،ہنگامہ آرائی کا خدشہ

    وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 25-2024 کیلئے 18 ہزار ارب روپے سے زائد مالیت کا وفاقی بجٹ آج پارلیمنٹ ہاؤس میں پیش کرے گی

    وزارت خزانہ نے بجٹ تیاریوں کو حتمی شکل دے دی ہے، وفاقی کابینہ بجٹ کی حتمی منظوری دے گی جس کے بعد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سالانہ وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کریں گے،اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات ہوں گے، اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پیش کرنے کے موقع پر ہنگامہ آرائی کا امکان ہے.

    مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں موجودہ اتحادی حکومت کا یہ پہلا وفاقی بجٹ ہے، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب آج اپنا پہلا بجٹ پیش کریں گے،بجٹ میں‌نئے مالی سال کیلئے ایف بی آر کے محصولات کا ہدف 12 ہزار ارب روپے سے زائد رکھنے اور وفاق اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 3.792 ٹریلین روپے رکھنے کا امکان ہے جس سے مجموعی قومی پیداوار کی شرح میں اضافہ ممکن ہو سکے گا جو جاری مالی سال کے دوران 2.4 فیصد رہا،نئے مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کا ہدف 3.6 فیصد سے زائد جبکہ وفاقی بجٹ میں وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 1221 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق بجٹ میں ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 12 ہزار970 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ قرض اور سود ادائیگیوں پر 9 ہزار 700 ارب روپے تک خرچ کئے جانے کا تخمینہ ہے،وفاقی بجٹ کا خسارہ ساڑھے 9 ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا تخمینہ ہے، بجٹ میں وفاق کی آمدن کا تخمینہ 15 ہزار 424 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے،وفاقی بجٹ میں ٹیکس آمدن کا تخمینہ 13 ہزار 320 ارب روپےلگایاگیاہے، براہ راست ٹیکسوں کا حجم 5 ہزار 291 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے جبکہ نان ٹیکس آمدن کا تخمینہ 2103 ارب روپے لگایا گیا ہے ، آئندہ مالی سال مرکزی بینک کے منافع کی مد میں 11 سو ارب ‏روپے اکٹھے ہونےکا تخمینہ ہے جبکہ آئندہ برس مجموعی اخراجات کا تخمینہ 24 ہزار 710 ارب روپے لگایا گیا ہے اور جاری اخراجات کے لئے 22 ہزار 37 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے،بجٹ میں دفاع کے لئے 1252 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ صوبائی و وفاقی حکومت کے ترقیاتی بجٹ کا حجم 3 ہزار595 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔

    آئندہ بجٹ میں سبسڈی کا حجم ایک ہزار 509 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت 7 ہزار ارب روپے جاری کیے جائیں گے،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں پنشن بل کا تخمینہ 960 ارب تک ہونے کا امکان ہے جبکہ بی آئی ایس پی کو 593 ارب روپے کا بجٹ فراہم کرنے کی تجویز ہے۔

    آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں،مہنگائی میں کمی ہو رہی،وزیر خزانہ

    جبری مشقت بارے آگاہی،انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی لاہور میں میڈیا ورکشاپ

    بہت ہو گیا،طوائفوں کی ٹیم، محسن نقوی ایک اور عہدے کے‌خواہشمند

    قومی اسمبلی،غیر قانونی بھرتیوں پر سپیکر کا بڑا ایکشن،دباؤ قبول کرنے سے انکار

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    جمخانہ کلب میں مبینہ زیادتی،عظمیٰ تو پرانی کھلاڑی نکلی،کب سے کر رہی ہے "دھندہ”

    حکومت کاغیر منقولہ جائیداد اور شیئرز پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ
    آئندہ بجٹ میں جائیداد کے خریدنے پر ایڈوانس ٹیکس 3 سلیب میں لینے کی تجویز بھی شامل ہے جبکہ فائلر کو 5 کروڑ کی جائیداد خریدنے پر 3 فیصد ٹیکس لگانے کا امکان ہے،مالی سال 25-2024 ٹیکس تجاویز میں جائیداد خریدنے پر ایڈوانس 3 سلیب میں ٹیکس لینے کی تجویز بھی زیر غور ہے،بجٹ میں پانچ سے 10کروڑ کی جائیداد پر 4 فیصد ٹیکس جبکہ نان فائلر کی ٹیکس کی شرح 12 فیصد طے کرنے کا امکان ہے، 10کروڑ سے زائد کی جائیداد پر 5 فیصد ٹیکس جبکہ نان فائلر کے لیے ٹیکس کی شرح 15فیصد کیے جانے کا امکان ہے۔حکومت نےغیر منقولہ جائیداد اور شیئرز پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے،غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر 15 فیصد کیپٹل گین ٹیکس متعارف کرانے کی تجویز ،شیئرز کی فروخت پر نان فائلر 35 اور فائلرکےلیے 15 فیصد تک ٹیکس متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے.

    تنخواہ دار طبقے کے لیے5ٹیکس سلیب متعارف
    حکومت نے تنخواہ دار طبقے کے لیے5ٹیکس سلیب متعارف کروا دیئے،6لاکھ تک سالانہ انکم والوں کے لیے چھوٹ برقرار رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے،6سے 12 لاکھ روپے والوں کے لیے ٹیکس بڑھا کر 2500 روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے،12لاکھ سے 22 لاکھ سالانہ تنخواہ دار کے لیے ٹیکس ریٹ 15 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے کی تجویز دی گئی ہے،22سے 32 لاکھ تنخواہ لینے والوں کے لیے 35 ہزار 8 سو 34 روپے ماہانہ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،32سے 41 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کے لیے ماہانہ 58 ہزار سے زائد ٹیکس مختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے،14لا کھ سے اُوپر تنخواہ لینے والوں پر 35 فیصد ٹیکس مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے

    نکوٹین پاؤچ اور ای سگریٹ پر فیڈرل ایکسائیز ڈیوٹی لگانے کی تجویز دی گئی ہے،ای سگریٹ پر ایف ای ڈی ریٹ در آمدی ڈیوٹی کے مطابق لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے،نکوٹین پاؤچ پر ایف ای ڈی 2 ہزار روپے فی کلو گرام کرنے کی تجویز دی گئی ہے، نشہ آوور ادویات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،

    موبائل فون کے ایس کے ڈی اور کٹس پر 18 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،850سی سی گاڑی پر 25 ہزار روپےود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،850سے 1000 سی سی گاڑیوں پر 40 ہزار روپے ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے،1000سی سی 1300 سی سی تک گاڑیوں پر 67500 روپے ٹیکس، 1300سے 1800 سی سی گاڑیوں پر ایک لاکھ 20ہزار روپےٹیکس،18000سے 2000سی سی گاڑیوں پر4 لاکھ 50 ہزار ٹیکس،2000سے 2500 سی سی گاڑیوں پر 8 لاکھ 75 ہزار روپے ٹیکس،2500سے 3000 سی سی گاڑیوں پر 13 لاکھ 50 ہزار روپے ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے.

    آئندہ مالی سال کیلئے پاور سیکٹر کے 19 منصوبے مکمل ہونے کا تخمینہ
    مکمل ہونے والے منصوبوں سے ایک ہزار 962 میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی. بجٹ دستاویزات کے مطابق 660میگاواٹ صلاحیت کاجامشورو پاور پراجیکٹ جولائی میں مکمل ہوگا،221میگاواٹ کا سکی کناری پاور پروجیکٹ یونٹ ون جولائی میں مکمل ہوگا ،221میگاواٹ کا سکی کناری یونٹ ٹو بھی اگست 24 میں مکمل ہوگا،221میگاواٹ کا سکی کناری یونٹ 3 ستمبر 2024 میں مکمل ہوگا ،221میگاواٹ یونٹ 4 سکی کناری منصوبہ اکتوبر 24 میں مکمل ہوگا،بہاولپور میں 110 میگاواٹ سولر پراجیکٹ اکتوبر 24 میں مکمل ہوگا،بجٹ دستاویز
    لوئرچترال میں 69 میگاواٹ کا پن بجلی منصوبہ جنوری 2025 میں مکمل ہوگا،جون 2025 تک بجلی کی پیداوار میں ایک ہزار 962 میگاواٹ اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے،جون 2025 تک بجلی کی پیداواری صلاحیت کو 43 ہزار 310 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ ہے،جون 2025 تک سولر سے بجلی کی پیداوار 782 میگاواٹ ہو جائے گی،آئندہ سال ہوا سے بجلی کی پیداوار 1 ہزار 845 میگاواٹ ہو جائے گی، آئندہ سال پانی سے بجلی کی پیداوار 11 ہزار 820 میگاواٹ ہو جائے گی، آئندہ سال ایل این جی سے بجلی کی پیداواری صلاحیت 8 ہزار 125 میگاواٹ ہو جائے گی

    ایوی ایشن ڈویژن کیلئے7ارب 25 کروڑروپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ
    دفاعی ترقیاتی بجٹ میں66 فیصد کااضافہ کیاگیا ،دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال دفاعی پیداوارکے ترقیاتی بجٹ میں89 فیصدکا اضافہ کیا گیا،آئندہ مالی سال دفاع کا ترقیاتی بجٹ 5 ارب63کروڑ60لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں،رواں مالی سال دفاع کا ترقیاتی بجٹ 3ارب 40 کروڑ روپے رکھا گیا تھادفاعی پیداوارکا ترقیاتی بجٹ 3ارب77 کروڑ60 لاکھ روپے مختص کیا گیا ہے،رواں مالی سال کیلئے دفاعی پیداوارکاترقیاتی بجٹ 2ارب روپے مختص کیا گیاتھا،ایوی ایشن ڈویژن کیلئے7ارب 25 کروڑروپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ ،ایوی ایشن ڈویژن کے11جاری منصوبوں کیلئے 4 ارب روپےسے زائد،ایوی ایشن ڈویژن کے2 نئے منصوبوں کیلئے3ارب روپے سے زائد کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے.نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے 3 ارب روپے سے زائد کا بجٹ تجویزکیا گیا ہے،آئندہ مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 3 ارب 70کروڑڈالرمقررکیا گیا ہے،تجارتی خسارے کا ہدف 24 ارب 94 کروڑڈالرمقرر کیا گیا ہے،آئندہ مالی سال ملکی برآمدات کا ہدف 32 ارب 34 کروڑ ڈالرمقررکیا گیا ہے،درآمدات کا ہدف 57 ارب 27 کروڑ ڈالر مقررکیا گیا ہے،ترسیلات زر کا ہدف 30 ارب 27 کروڑ ڈالر مقررکیا گیا ہے.

    تنخواہوں میں 25 فیصد، پنشن میں 15 فیصد اضافہ کی وزیراعظم نے دی منظوری
    وزیراعظم نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دے دی،گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،گریڈ 17 سے 20 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 20 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،گریڈ 21 سے 22 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ کی منظوری دی گئی،ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی

    بجٹ اجلاس، سنی اتحاد کونسل نے حکمت عملی طے کر لی
    پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل نے بجٹ25-2024 کے اجلاس کیلئے حکمت عملی طےکر لی ہے،پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں آج ہونے والے بجٹ اجلاس کیلئے حکمت عملی طے کی گئی،باخبر ذرائع کے مطابق فیصلہ کیا گیا کہ بجٹ اجلاس کے دوران شورشرابا کیا جائے گا، عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی جائے گی.بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بجٹ جب پیش ہو گا تو یقینی طور پر ہم اس پر بات کریں گے، بظاہر یہی لگتا ہے کہ مسلم لیگ ن آئی ایم ایف کو الزام دے گی اور پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن پر الزام عائد کرے گی، آج پیش ہونے والا بجٹ ایک بلیم گیم ہے، اس بجٹ میں عوام کے لیےکچھ نہیں ہو گا،

    حکومت نے شعبہ زراعت اورکاشتکار کے ساتھ سوتیلی ماں کاسلوک روا رکھا ہواہے.سردارظفرحسین خاں
    کسان بورڈپاکستان کے مرکزی صدرسردارظفرحسین خاں نے کہاہے کہ حکومت کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اقتصادی سروے 2023-24 کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران گندم پیداوار 3کروڑ14 لاکھ ٹن رہی جبکہ19سال میں پہلی مرتبہ کپاس کی پیداوار میں 108فیصد کا اضافہ ہوا، ایک کروڑ دو لاکھ گانٹھ روئی پیدا ہوئی۔ چاول کی پیداوار34 فیصد بڑھی، چاول کی پیداوار95 لاکھ70 ہزار ٹن رہی،اس کے باوجود حکومت نے شعبہ زراعت اورکاشتکار کے ساتھ سوتیلی ماں کاسلوک روا رکھا ہواہے۔حکومت کے گندم نہ خریدنے کے فیصلہ سے کسان کو30 ہزارروپے سے زائد فی ایکڑ نقصان اٹھانا پڑا جس سے اگلی فصلوں کی کاشت پر منفی اثر پڑے گا اور آئندہ زراعت کا شعبہ بھی ترقی نہیں کر سکے گا۔۔انہوں نے کہاکہ ملک کی70 فیصد آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہونے کے باوجود حکومت زراعت کی ترقی کے لیے کسانوں کو سہولیات دینے کی بجائے انہیں زندہ درگور کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ افسر شاہی کی غلط پالیسیوں اور کمیشن مافیا کی ملی بھگت کے باعث آج کسان در بدر ہے۔ حکومت نے اپنے ملک کے کسانوں سے گندم خریدنے کی بجائے ایک ارب ڈالر کی گندم باہر سے امپورٹ کر لی اور اپنے کسانوں کو900 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ فصلوں کی بہتر پیداوار کے لئے جدید اور معیاری پیچ ستے نرخوں پرفراہم کئے جائیں، ملاوٹی کھادوں، جعلی ادویات اور جعلی بیچ فروخت کرنے والے ڈیلروں کو عمر قیدکی سزائیں دی جائیں،ملک میں زرعی ایمرجنسی کا نفاذ کرتے ہوئے زراعت کیلئے کسانوں کے نمائندوں کی مشاورت سے زرعی پالیسی کا اعلان کیا جائے، زرعی اور زرخیز زمینوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیاں بنانے پر پابندی عائد کی جائے،زرعی اجناس کی پیدواری لاگت کم کرنے کے لیے زرعی ان پٹس جن میں کھاد اور زرعی ادویات شامل ہیں پر سبسڈی دی جائے،بجلی، گیس اور ڈیزل کی قیمت میں نمایاں کمی کی جائے۔