Baaghi TV

Tag: خطیب احمد

  • سپائنا بیفیڈا  (Spina Bifida) — خطیب احمد

    سپائنا بیفیڈا (Spina Bifida) — خطیب احمد

    فولک ایسڈ کی گولی کبھی کھائی یا نام تو سنا ہوگا؟ آج ہم دیکھیں گے فولک ایسڈ ہر حاملہ ماں کو کیوں دیا جاتا ہے۔ نہ دیا جائے تو کیا ہو سکتا ہے۔

    آپ نے اپنے آس پاس دیکھا یا ایسا سنا ہوگا کہ بچہ پیدا ہوا۔ اسکی کمر میں پھوڑا تھا۔ آپریشن ہوا۔۔اور نیچے والا دھڑ مفلوج ہوگیا۔ پیشاب و پاخانہ پر اب بچے کا کنٹرول نہیں۔ نہ ہی چل سکتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں یہ کونسی بیماری ہے؟ اسکی وجوہات، بچوں کا لائف سٹائل اور علاج کیا ہے؟

    آئیے دیکھتے ہیں یہ کیا ہے ۔

    یہ ایک نیورل ٹیوب ڈیفیکٹ ہے۔
    جسے سپائنا بیفیڈا Spina bifida کہتے ہیں۔

    جو پیدائشی طور پر بچوں میں ہوتا ہے۔ اس میں بچے کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ٹھیک سے جڑ نہیں پاتے۔ اور حرام مغز ایک پھوڑے یا غبارہ کی شکل میں کمر کے نچلے حصے میں جسم سے باہر نکل آتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم کے نچلے حصے کی حرکات متاثر ہوتی ہیں۔

    اس مرض والے بچوں کی دنیا بھر میں ایورج عمر 30 سے 40 سال ہے۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار میں یہ بچے ایک ہزار میں 0.5 سے 2 بچے تک ہو سکتے ہیں۔

    ماں حاملہ ہوئی۔ پانی سے خون بنا، خون سے گوشت بنا اور پھر حضرت انسان کی جسمانی نشوونما روح سے پہلے شروع ہوئی۔ جب باری آئی سپائنل کالم میں موجود سپائنل کارڈ کی تو وہ کسی جگہ سے ٹھیک طرح جڑ نہیں سکا۔ ہماری ریڑھ کی ہڈی ایک زپ کی طرح بند ہوتی ہے۔ اور اس بیماری میں کوئی مہرہ Vertebrae ٹھیک سے دوسرے مہرے سے جڑا نہیں ہوتا۔

    پوسٹ کے ساتھ لگی فوٹو دیکھیں۔ اور پڑھنے میں جہاں مشکل پیش آئے پھر فوٹو دیکھ لیں۔

    ایک ریڈیالوجسٹ دو سے تین ماہ کے حمل میں ہی بتا دیتا ہے کہ یہ مسئلہ ہے۔ خیر بچہ پیدا ہوتا ہے۔ کمر پر نچلے حصے میں ایک نیلے یا سرخ سرخ رنگ کا جھلی نما غبارہ سا ہوتا ہے۔ جس میں سیری برو سپائنل فلیوڈ ہوتا ہے۔۔ اس کے ساتھ ہی وہ نسیں Nerves بھی جو سپائنل کارڈ کے ساتھ نیچے جا رہی ہوتی ہیں۔ جسم سے باہر اس غبارے میں آجاتی ہیں۔

    ایسا ہو تو۔ آپ دیکھیں گے متاثرہ بچے کی ٹانگوں کی حرکت نہیں ہے۔ یا بہت ہی کم ہے۔ فوراً بچے کو کسی نیورولوجسٹ یا نیورو سرجن کے پاس لے کر جائیں۔ وہ دیکھے گا کہ مسئلہ کس حد تک سنگین ہے۔۔آپریشن فوراً کرنا ہوتا ہے۔ نہیں تو انفیکشن جسم میں داخل ہوکر دماغ تک جا سکتا ہے۔۔جس سے بچے کی اسی دن موت واقع ہو سکتی ہے۔ اس غبارے پر عموماً اسکن نہیں ہوتی۔

    آپریشن ہوگیا۔ جو نسیں نیچے والے دھڑ ٹانگوں باؤل اور بلیڈر کو کنٹرول کر رہی تھیں۔ وہ کٹ گئیں یا زخم کو سینے میں دب گئیں۔ اب آپریشن کے بعد بھی ٹانگوں میں حرکت نہیں ہے۔ یہ نارمل ہے۔ آپریشن ہو یا نہ ہو یہ ہونا ہی ہوتا ہے۔ بیماری کی شدت کیسی تھی آپریشن کیسا ہوا یہ تعین کرتا ہے کہ نچلے دھڑ کا نقصان کتنا ہوگا۔

    کچھ بچوں میں یہ پھوڑا یا غبارہ نہیں ہوتا۔ بلکہ کمر کے نچلے حصے پر بالوں کا ایک گچھا ہوتا ہے۔۔یا ایک ابھار ہوتا ہے اور اس کے اوپر اسکن ہوتی ہے۔ یہ سپائنا بیفیڈا کی تین اقسام ہیں۔

    یوں تو اسکی دو بڑی اقسام ہیں۔ سپائنا بیفیڈا اوکلٹا
    Spina bifida occulta
    اور دوسری سپائنا بیفیڈا اوپرٹا
    Spina bifida opera
    اوکلٹا میں کمر پر بالوں کا ایک گچھا سا ہوتا ہے۔ یہ اس بیماری کی معمولی قسم ہے۔۔اس میں کوئی آپریشن نہیں کروانا۔ سپائنل کارڈ نیچے بلکل ٹھیک ہے۔ پوسٹ کے ساتھ لگی فوٹو دیکھیں۔

    دوسری قسم اوپرٹا میں آگے دو مزید اقسام ہیں ایک ہے می ننگو سیل Meningocele جس میں صرف سپائنل کارڈ میں چلنے والا پانی مہروں سے باہر نکل کر جسم سے باہر ابھار کی شکل میں آجاتا ہے۔۔اس پر اسکن ہو بھی سکتی ہے اور نہیں بھی ہو سکتی۔۔مگر اس میں نسیں نہیں ہوتیں جو نچلے دھڑ کو کنٹرول کرتی ہیں۔ اگر پھوڑے پر اسکن ہو تو آپریشن نہ کروائیں۔ آپریشن کروا کر مزید خرابی ہوگی۔

    اوپرٹا کی دوسری اور اس بیماری کی سب سے شدید قسم ہے مائیلو می ننگو سیل Myelo meningocele۔ اس میں حرام مغز بمع ساری نسیں سارا جسم سے باہر آجاتاہے۔ اور آپریشن سے پہلے ہی نچلا دھڑ تقریباً مفلوج ہوتا ہے۔ آپریشن کے بعد کچھ بہتری کی امید ہوتی ہے۔ جو کئیر کرنے سے آ بھی جاتی ہے۔

    اس شدید والی قسم یعنی Myelomeningocele میں تین چیزیں دیکھنے اور سمجھنے کی ہیں۔

    پہلی بات: ٹانگوں میں طاقت نہیں ہوتی۔ یا بہت کم طاقت ہوتی ہے۔۔اپریشن کے بعد بھی وہی حالت رہتی ہے۔ کچھ بچوں کی ٹانگوں میں طاقت ہوتی بھی ہے۔ ایسا نہیں کہ سب ہی مفلوج ہوں گے۔ کتنی نسیں دبی اور کٹی ہیں۔ یہ طے کرے گا کہ ٹانگوں میں حرکت کتنی ہوگی۔ بہت سے بچے آپریشن کے بعد سہارے اور بغیر سہارے کے چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کئی تو بھاگنا تک شروع کر دیتے۔

    دوسری بات یہ کہ آپریشن کے بعد ان کی ٹانگوں اور کولہوں میں کچھ محسوس کرنے Sensation کی صلاحیت کم یا بلکل بھی نہیں ہوتی۔ پیروں ٹانگوں اور کولہوں پر ایک جگہ پڑا رہنے سے زخم بن جاتے ہیں۔ جو ناسور کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ کئی بچوں کو بائیک پر بٹھایا جاتا پاؤں سائیلنسر پر لگتا۔ کیونکہ محسوس تو کچھ ہوتا نہیں پاؤں جل جاتا اور زخم ٹھیک ہونے کا نام ہی نہیں لیتا۔ زخم کو ٹھیک کرنے کا حکم تو دماغ نے بھیجنا ہے۔ اور اس سے رابط ہی منقطع ہوتا۔ زخموں سے حتی الامکان ان بچوں کو بچائیں۔

    تیسری اور اہم بات یورین کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ کچھ بچوں کا ہوتا بھی ہے۔ کچھ نالی لگا کر یورین پاس کر لیتے۔۔کچھ نالی لگائے ہی رکھتے۔ نالی لگانا ایک انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔ کچھ پیمپر لگائے رکھتے۔ آپریشن کے بعد کسی یورالوجسٹ کو ملیں۔۔وہ ایک ٹیسٹ کرے گا جسکا نام ہے
    Urine dynamic studies
    یہ لازمی کروائیں۔ اس سے گردے مثانہ وغیرہ کی صحت اور فعالیت کا اندازہ ہوگا۔ ایک بات جان لیں یورین کو کنٹرول کرنے کا مسئلہ ساری عمر رہے گا۔ یہ مکمل ٹھیک نہیں ہو سکتا۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    بہت سے کیسز میں اس کی وجوہات نامعلوم ہیں۔ کچھ جنیٹک فیکٹرز ہوتے ہیں۔ اور ایک وجہ وٹامن فولک ایسڈ کی کمی بھی اس کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر فیملی ہسٹری ہے تو زیادہ امکان ہیں خاندان میں کوئی اور بچہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ فیملی ہسٹری ہونے پر کزن میرج بلکل نہ کریں۔

    لڑکی شادی کے فوراً بعد ماں بننا چاہتی ہو تو شادی سے تین ماہ قبل 0.4mg فولک ایسڈ کی گولی روز کھانا شروع کر دے۔ یہ کوئی دو تین روپے کی گولی ہے۔ اگر حمل کی طرف جانے والی کنواری یا ایک دو بچوں کی ماں کو ہائی بلڈ پریشر ہے مرگی ہے شوگر ہے ٹی بی ہے تو فولک ایسڈ کی ڈوز ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بڑھا لیں۔ ڈاکٹر سے حمل سے پہلے مشورہ ضرور کریں۔ یہ گولی نو ماہ پورے حمل میں روزانہ کھائیں۔ فولک ایسڈ سبز پتوں والی سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ پالک میتھی ساگ وغیرہ کھائیں۔ مگر گولی ہر لڑکی حمل میں سو فیصد کھائے۔

    سپائنا بیفیڈا کے ساتھ دو کنڈیشنز عموماً جڑی ہوتی ہے۔ ایک ہے کلب فٹ Club foot یعنی پاؤں ٹیڑھا ہونا یا ایڑھی زمین پر نہ لگنا۔ اور دوسرا ہائیڈرو سیفلس Hydrocephalus۔ ہائیڈرو سیفلس میں دماغ کے اندر سیری برو سپائنل فلیوڈ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور دماغ کا سائز بہت بڑا ہونا شروع جاتا ہے۔ ڈاکٹر ایک نالی جسے شنٹ Shunt کہتے ہیں دماغ سے ڈال کر پیٹ میں اس جگہ جوڑ دیتے جہاں اس پانی نے آکر جذب ہونا ہوتا۔ تو مسئلہ کسی حد تک ٹھیک ہوجاتا ہے۔

    سپائنا بیفیڈا کے ساتھ یہ دونوں کنڈیشنز یا ان میں سے ایک یا کوئی بھی نہیں ہو سکتی۔

    مینجمنٹ کیسے کرنی ہے؟

    جن بچوں کی ٹانگوں میں کوئی جان ہے ہی نہیں۔ ان کو چلانے کی کوشش نہ کریں یہ ان پر زیادتی ہوگی۔ میں نے کئی بچے دیکھے نیم حکیم مالش دیتے۔ اور کئی ڈاکٹر تو آپریشن تک کر دیتے کہ بچہ چلنے لگے گا۔ مگر یہ سب غلط ہے۔ ٹانگ کا آپریشن بلکل نہیں کروانا کسی بھی صورت میں یہ انتہائی سنگین غلطی ہوگی۔ مسئلہ ٹانگوں میں نہیں بلکہ انکو ملنے والے سگنلز میں ہے۔ جب انکو حرکت کرنے کا دماغ سے جاری ہونے والا حکم ہی نہیں ملنا تو وہ کیسے حرکت کریں؟

    جو بچہ نہیں چل سکتا وہیل چیئر دیں۔ چھوٹے بچوں کو پاور وہیل چیئر دیں موٹر والی۔ واکر دیں کرچز دیں۔ ٹانگ میں کچھ جان ہے تو بریس لگا دیں۔۔ بریس کی کئی اقسام ہیں AFO, AKFO, HKAFO جیسی ٹانگ ویسی بریس لگوائیں۔ اب تو دنیا میں چند بچوں کو ربوٹک ایک یا دو ٹانگیں بھی لگائی گئی ہیں۔ بچہ روبوٹ کی طرح چلتا پھرتا ہے۔ یہ ری ہیبلی ٹیشن کے ایکسپرٹ بتاتے ہیں۔ کہ چلانے کی کوشش کریں یا نہیں۔ ان کی بات مانیں۔ اپنے تجربے پلیز نہ کریں۔

    بچے کو جیسا ہے دل سے قبول کریں۔ ٹھیک کرنے کی عقلمندانہ کوشش کریں۔ کسی ان پڑھ جراح و ہڈی جوڑ والے کے پاس جا کر بچے کو تکلیف نہ دیں۔ یہ بچہ ساری عمر ایسے ہی رہنے والا ہے۔ اس کے لیے خود کو تیار کریں۔ اس کے بدلے خدا کی ذات آپکو بہت نوازنے والی ہے۔ یہ ایک دکھ ہے تو کئی سکھ بھی اس کے ساتھ آئیں گے۔ انشاء اللہ

    دنیا میں اب تک اس بیماری والے چار بچوں کے آپریشن پیدائش سے پہلے ہی ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دو سال قبل امریکہ کی ایک ریاست پین سیل وینیا Pennsylvania کے شہر فیلے ڈیلفیا Philadelphia کے مرکزی سرکاری چلڈرن ہسپتال میں ہوا۔ جو لوگ امریکہ میں رہتے وہ جانتے ہونگے یہ ہسپتال یونیورسٹی آف پین سیل وینیا کے کیمپس کی مغربی دیوار کے بلکل ساتھ واقع ہے۔ یہ ہسپتال امریکہ میں بچوں کے ہسپتالوں میں دوسرے نمبر پر اچھا ہسپتال ہے۔ اور پوری دنیا میں اسکا شمار ٹاپ 10 میں ہوتا احمد

    دنیا کا سب سے بہترین بچوں کا ہسپتال
    Boston Children’s Hospital
    ہے۔ جو امریکہ میں ہی ہے۔ اس ہسپتال کے پاس تین ہزار سائنس دانوں کی ٹیم ہے۔۔جو مسلسل ریسرچ کرکے بچوں کی بیماریوں کی وجوہات اور جدید علاج دریافت کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ اس ہسپتال سے آپ اپنا جین اور ڈی این اے ایڈیٹ کروا سکتے ہیں۔ پورے امریکہ میں جنیٹک ٹیسٹنگ اور جنیٹک انجینئرنگ کی سروسز بھی سب سے اچھی اسی ہسپتال کی ہیں۔۔

    خیر ایک حاملہ ماں جس کے پیٹ میں سپائنا بیفیڈا اوپرٹا مائلو می ننگو سیل بچہ تھا کو Philadelphia کے ہسپتال لایا گیا۔ ڈاکٹرز کی ایک پوری ٹیم جس میں کارڈیالوجی کے سرجن، یورالوجی کے سرجن، گیسٹرالوجسٹ، اسکن سرجری کے پروفیسر سرجن، نیورولوجی کے سرجن اور دیگر بھی تقریباً تمام فیلڈز کے سرجنز کو آپریشن کے لیے تیار کیا گیا۔ ہسپتال کی بہترین اور نیشنل ایوارڈ یافتہ نرسیں مددگار عملے میں شامل ہوئیں۔

    یہ حمل کا چوبیسواں 24 ہفتہ تھا۔ آپریشن ہوا۔ بچہ دانی جسم سے باہر نکال کر پیٹ کے نچلے حصے پر رکھ دی گئی۔ مگر بچہ دانی کو جسم سے الگ نہیں کیا گیا۔ وہ ماں کے جسم سے جڑی ہوئی تھی۔ بچے کے گرد موجود جھلی سے لائیکر یعنی پانی ایک انجیکشن کی مدد سے نکالا گیا۔ جھلی کو چھوٹا سا کٹ لگایا گیا۔ بچے کے دل کی دھڑکن کو بڑھ جانے پر ٹھیک کیا گیا۔ پلاسینٹا کو فری رکھا گیا کہ آکسیجن اور خون کی سپلائی کسی لمحے بھی رکنے نہ پائے۔ بچے کو باہر کی آکسیجن نہیں دینی تھی۔ کمر پر موجود غبارے کو انتہائی مہارت سے کاٹ کر سب سے پہلے سپائنل کارڈ کو ٹانکے لگا کر بند کیا گیا۔ پھر مہرے بند کیے گئے۔ پھر اسکن کو سیا گیا۔ پھر جھلی کو جدید ٹیکنالوجی کے تحت بند کر دیا گیا۔ کہ اس میں پانی نیچرل طریقے سے پھر سے بننا شروع ہو جائے۔

    بچہ دانی ماں کے پیٹ میں رکھی گئی۔ اور پیٹ پر ٹانکے لگا دیے گئے۔ الحمدللہ آپریشن کے بعد ماں اور بچہ دونوں بلکل ٹھیک تھے۔ ہسپتال میں جشن کا سا سماں تھا۔ حمل کے سینتسویں 37 ہفتے بچے کو ڈیلیور کرنے کا پلان ہوا۔ آپریشن ہی ہونا تھا۔ آپریشن ہوا۔ بچہ کلب فٹ کے ساتھ پیدا ہوا۔ مگر کمر بلکل ٹھیک ہو چکی تھی۔ ٹانگوں میں حرکت بھی تھی۔ بچہ اب دو سال کا ہے اور سہارے کے ساتھ چل رہا ہے۔۔امید ہے ایک سال تک بغیر کسی بھی سہارے کے چل سکے گا۔ والدین اور اس آپریشن میں شامل ڈاکٹروں کی بنائی گئی ویڈیو یوٹیوب پر رکھی ہے آپ دیکھ سکتے ہیں۔

    سائنس ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ فیٹس سرجریز اب عام ہو رہی ہیں۔ میڈیکل کے عالمی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ سپائنا بیفیڈا کی فیٹس سرجری کو دنیا بھر میں پھیلایا جائے گا۔ پاکستان میں بھی بے شمار ماہر ڈاکٹرز ہیں وہ سٹیپ لیں تو کوئی ایک کیس کرکے مثال بنا سکتے ہیں۔ جس کے بعد راہ کھل جائے گی۔ مگر کوئی اتنا سر درد نہیں لیتا۔ دوسرا اس آپریشن کی کاسٹ کئی ملین ہو سکتی ہے۔

    ابھی یہاں پاکستان میں پیدائش کے بعد ہی آپریشن ہوتے ہیں۔ اور اکثریت میں مس ہینڈلنگ سے بچہ عمر بھر کے لیے معذور ہوجاتا ہے۔ آپریشن کے بعد انتہائی نگہداشت کی ضرورت کئی سال تک ہوتی ہے۔ جو بچے کو نہیں مل پاتی۔ کہیں مالی مشکلات اور کہیں ماہرین کا نہ ہونا ان بچوں کو سماج کا کارآمد حصہ بننے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

    ایسے بچوں کی شادیاں عموماً نہیں کی جاتیں۔ اکثریت میں انکا ری پرو ڈکٹویو Reproductive سسٹم بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کا ہوتا بھی ہے۔ یہ بچے ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، ٹیچر ، سائنسدان ، رائٹر، بلاگر، کالم نگار، فری لانسر اور جو چاہیں بن سکتے ہیں۔ بس جس میں ان کو زیادہ چلنا پھرنا نہ پڑے۔

    ہر حاملہ لڑکی کو فولک ایسڈ ضرور دیں۔ جسے نہیں پتا اسے گائیڈ کریں۔ اور ایک سپائنا بیفیڈا بچے کے بعد دوسرا بچہ پیدا کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ ایک کے بعد دوسرے بچے میں بھی سپائنا بیفیڈا ہونے کا امکان ہوگا۔ میرے پاس ایک بچہ سکول پڑھنے آیا وہ دو بہن بھائی سپائنا بیفیڈا کا شکار تھے۔ دونوں کو ہم نے سکول سے وہیل چیئرز دیں۔ بہت ہی غریب لوگ تھے۔ لڑکے کا ابو پیسے جوڑ جوڑ کر ٹیکسی کرواتا کبھی سلطان باہو کے دربار اور کبھی کسی پیر کے پاس بچوں کو لے کے جاتا۔ میں اسے منع کرتا، سمجھاتا، کہ یہ میڈیکل کنڈیشن ہے۔ مگر وہ نہ مانتا کہ اللہ کے خزانوں میں کمی نہیں ولی کی دعا ضرور سنے گا۔ ایک سال کے بعد وہ لوگ کہیں دوسرے شہر شفٹ ہو گئے۔

  • اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟ — خطیب احمد

    زیادہ عمر کے لڑکے شادی کے لیے خود سے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے۔ اور دوسری طرف زیادہ عمر کی لڑکیاں کم عمر لڑکوں کے رشتے خود ٹھکرا دیتی ہیں کہ انہیں لگتا خاوند عمر میں بڑا ہی ہونا چاہیے۔

    اور اسی چیز کا رواج بھی ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کئی جگہوں پر دیکھا لڑکے والے ترلے کر رہے ہوتے مگر لڑکی اسی بات پر اڑ جاتی کہ عمر میں چھوٹے لڑکے سے شادی کسی صورت نہیں کروں گی۔

    دونوں پارٹیاں عمر کو میچ کرنے میں کئی قیمتی سال گنوا لیتی ہیں۔ جبکہ عمر میں چار پانچ سال کی اونچ نیچ دونوں طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہاں دونوں پارٹیاں میچور ہوں۔

    اسی طرح ایک ڈس ابیلٹی اپنی ہی ڈس ابیلٹی کو شادی کے لیے سوٹ ایبل گردانتی ہیں۔ جیسے ڈیف کی شادی ڈیف سے بلائنڈ کی شادی بلائنڈ سے اور وہیل چیئر یوزر کی دوسرے وہیل چیئر یوزر سے پولیو افیکٹڈ کے لیے پولیو افیکٹڈ یا کلب فٹ رشتہ تلاش کیا جاتا۔ اسی طرح بونوں کی شادیاں بونوں میں ہی ہوتی ہیں اور یہ پریکٹس بھی بدلنے کا نام تک نہیں لے رہی۔ کہ جو جیسے ہو رہا ہے ہم اسکو اسی روٹین میں کرنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ اور ایک دائرے کے باہر کچھ بھی دیکھنے یا سوچنے کی صلاحیت جیسے کھو چکے ہیں۔

    ایک طلاق شدہ لڑکی ہو یا لڑکا دونوں کے لیے سیکنڈ آپشن طلاق شدہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ لڑکوں کو تو کنواری لڑکیاں اکثر مل جاتی ہیں۔ مگر کسی طلاق شدہ یا بیوہ لڑکی کو کنوارہ لڑکا ملنا مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ میں نے کئی طلاق شدہ لڑکیوں کو کنوارے لڑکے کی بیوی بنتے دیکھا ہے بس انہوں نے اس معاملے کو زرا سمارٹلی ہینڈل کیا ہوتا۔

    جو ہوتا آرہا ہے ہم بھی ویسا ہی کریں گے۔ ایسا ضروری نہیں ہوتا۔ سب سے پہلا کام جو کرنا ہوتا وہ خود کو ویلیو دینا ہوتی ہے۔ اور پھر آپکو ویلیو دینے والے بھی مل جاتے ہیں۔

    خود کو ویلیو یا اپنی کئیر بس شادی تک ہی نہیں کرنی ہوتی؟ بلکہ شادی کے بیس سال بعد تک تو ہر صورت کرنی ہوتی ہے۔ اور میرا مخاطب لڑکے ہیں۔ آپ جو شادی کے بعد پیٹ بلٹ سے باہر لٹکا کا جھارا پہلوان بن جاتے یہ کیا ہے؟ وزن بڑھنا تو ایک پہلو ہے ہم لڑکے کئی پہلوؤں سے اپنی کئیر کرنا اور آگے بڑھنا شادی کے بعد ختم کر دیتے ہیں۔ دوستیاں ختم ہو جاتیں ٹوور ختم ہو جاتے کئیریر وہیں کا وہیں جام ہو جاتا اور وہی ہوتا جو ہمارے ابا جی کے ساتھ ہوا تھا۔ اس ساری پریکٹس کو کون بدلے گا؟

  • جنیٹک ٹیسٹنگ (Genetic testing) — خطیب احمد

    جنیٹک ٹیسٹنگ (Genetic testing) — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی 8 ارب آبادی میں سے 15 فیصد یعنی 1 ارب لوگ کسی نہ کسی سپیشل کنڈیشن یا معذوری کا شکار ہیں۔ ان میں 20 کروڑ یعنی پاکستان کی کل آبادی جتنے افراد شدید قسم کی ناقابل علاج ڈس ایبیلٹیز کے ساتھ ہیں۔ ایک ارب میں سے دنیا بھر میں 49 کروڑ سماعت سے محروم و متاثرہ سماعت ہیں۔ 2018 میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب سے زیادہ ہوگی۔ جس میں 1.5 ارب سماعت سے متاثرہ و محروم افراد ہونگے جس کی وجہ لاؤڈ اسپیکرز، ہینڈز فری، بلیو ٹوتھ، ائیر پاڈز ایم پی تھری ڈیوائسز وغیرہ کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ باقی معذوریوں کی ریشو آپ خود نکال سکتے ہیں۔

    جہاں دنیا بھر میں 1 ارب لوگ سپیشل ہیں۔ وہیں ان میں سے سپر پاورز کے حامل سپیشل افراد اور دیگر انسان اپنی اگلی پیڑھی کو معذوریوں سے بچاؤ کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ کسی طرح معذوری کو ہونے سے پہلے ہی روکا جائے۔۔کیونکہ بے شمار بیماریاں اور معذوریاں آج بھی ناقابل علاج ہیں۔

    اس روک تھام میں کلیدی کردار انسانی جینیاتی علوم کا ہے۔ جینیاتی ماہرین جنیٹک ٹیسٹنگ کی فیلڈ میں نت نئے تجربات و مشاہدات کرکے انسانی جسم کو وائرسز، دائمی امراض، انفیکشنز، جان لیوا بیماریوں، معذوریوں سے بائی ڈیفالٹ ہی محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔سائنس فکشن فلموں میں ہم اپنے بچپن سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ جو اب کسی حد تک حقیقت میں بھی ہونے لگا ہے۔ گو اب بھی اس میں کئی افسانے ہیں مگر میں کوئی افسانہ نہیں سنانے والا۔ کچھ عملی باتیں ڈسکس کروں گا۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ پر جانے سے پہلے کچھ بنیادی باتیں سمجھ لیں۔ ماں کے تخم اور والد کے نطفے سے حمل ٹھہرنے پر بننے والا زائگوٹ یک خلوی جاندار ہوتا ہے۔ جسے بنیادی خلیہ یا سٹیم سیل کہتے ہیں۔

    اس سیل میں ایک نیوکلئیس ہوتا ہے۔ نیوکلئیس کو خوردوبین سے دیکھیں تو اس میں ننھی منھی سی چھوٹی چھوٹی دھاگے نما چیزیں حرکت کرتی نظر آتی ہیں۔ جنہیں ہم کروموسوم کہتے ہیں۔ یہ 23 جوڑے یعنی ایک انسانی سیل میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ مختلف جانداروں جانوروں و پودوں میں ان کروموسومز کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً بلی میں 38 اور کتے میں 78 کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایک کیکر کے درخت میں 12 اور ایک کبوتر میں 80 کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایک ہاتھی میں 56 کروموسوم ہوتے ہیں۔

    جب کروموسوم کو خوردوبین میں بڑا کرکے دیکھیں تو اس میں گول گول گھومتی ہوئی سیڑھی نما چیزیں دکھائی دیں گی۔ جنکو ہم DNA 🧬 کے نام سے جانتے ہیں۔ ایک ڈی این کے چھوٹے سے ٹکڑے کو ہم جین Gene کہتے ہیں۔

    انسانی جینوم یعنی انسانی کوڈ میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 20 ہزار جین ہوتے ہیں۔۔اور ایک انسانی جینوم میں 3 ارب معلومات کے مقام ہوتے ہیں۔

    کروموسوم جین جینوم ڈی این اے یہ سب مل کر انسانی حصوصیات وراثتی معلومات کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

    جینوم ایک ریسپی بک اور جین ایک ریسپی کی ترکیب ہوتی ہے۔ جنیوم طے کرتا ہے کہ ہمارا سارا سٹرکچر کیسا ہوگا۔ اور جین جسم کے ہر حصے کو بنانے کے لیے ڈی این اے میں محفوظ معلومات پر عمل درآمد کرواتا ہے۔ ہمارے دانت آنکھیں رنگ وزن قد کیسا ہوگا یہ سب جینز کا کام ہے۔ جینز پروٹین پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں اور پروٹین انسانی جسم بناتی ہیں۔ کونسے جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر آیا ہے۔ یہ طے کرتا کہ جسم کا کونسا حصہ ٹھیک نہیں بن سکا۔

    ہزاروں جینز کے نام ہیں۔ مثلا OCA2 نامی جین میں تغیر آجائے تو جسم میں میلانن پروٹین نہیں بن سکے گی یا کم بنے گی۔ میلانن ہمارے جسم میں کالے رنگ کی مقدار طے کرتی ہے۔ اس جین کی خرابی والے افراد Albinism یعنی سورج مکھی کا شکار ہوتے ہیں۔ میلانن پگمنٹ ہی طے کرتا ہے ہماری اسکن آنکھوں اور بالوں کا رنگ کیا ہوگا۔ وہ ہوگا ہی نہیں تو آنکھیں لائٹ کلر کی بال اور جسم بلکل سفید ہوگا۔ اسکن عام دھوپ سے جل سکتی ہے۔

    خیر جنیٹکٹس کی بنیادی معلومات سمجھ آگئی ہیں ناں؟ کہ ہم ایک انسان بنتے کیسے ہیں۔

    اب آتے ہیں جنیٹک ٹیسٹنگ کی طرف۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ میں ہمارے خون تھوک پسینے یا ایک سیل کا سامپل لیکر ڈی این اے کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کہ ہمارا جسم کیسے فنکشن کر رہا ہے۔ جین ڈی این اے کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔ اس ٹیسٹنگ میں معلوم کیا جاتا ہے کہ کونسے جینز میں میوٹیشن ہوئی ہے۔ آیا ہمارے پاس کوئی سویا ہوا کینسر ہیموفیلیا تھیلیسیمیا سسٹک فائبروسس کا جین تو نہیں۔ جو ہمارے بچوں میں جا کر جاگ سکتا ہے۔ ہم ٹھیک ہیں ہمارے بچے ان بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اور اس سے ہمارے اپنے جسم میں کیا تبدیلی آسکتی ہے۔ یعنی کوئی بیماری یا کسی معذوری کا پیشگی اندازہ لگانا۔ یا اگلی پیڑھی کو یہ جین منتقل کرنے کی روک تھام پر ماہرین سے جنیٹک کاونسلنگ لینا۔

    بے شک جنیٹک ٹیسٹنگ کسی بھی مسئلے کا سراغ لگا کر اس سے بچاؤ اور علاج میں مددگار ہے۔ مگر ہم اسے سو فیصد درست نہیں کہہ سکتے۔ ڈی این اے اور جینز کے اندر اربوں کھربوں گھتیاں ہیں۔ جو انسانی عقل ابھی لاکھوں سال بعد سلجھا پائے گی۔

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ انسانی جین دیگر جانوروں اور پودوں میں بھی پائے جاتے ہیں؟ اسکا مطلب ہے کہ زندگی کا آغاز کھربوں سال قبل ایک سیل سے ہوا تھا اور اسی سے ساری کائنات وجود میں لائی گئی۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ میں پروٹین ان کوڈنگ encoding کے پارٹس جنکو ہم Exome کہتے ہیں۔ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کہ کہاں کوئی تنوع ہے۔ جو ہماری صحت یا ہمارے بچوں کو کسی طرح متاثر کر سکتا ہے۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ کی سات بڑی اقسام ہیں۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ دنیا بھر میں جینیاتی بیماریوں کی مختلف لیولز پر کھوج لگانے میں مدد گار ہوتی ہے۔ اگر کسی جینیاتی نقص کا علم ہوجائے تو اسکا علاج یا روک تھام کیسے کرنی ہے اس پر کام کیا جاتا ہے۔

    میں نے اسی مضمون کے پہلے حصے میں لکھا کہ جینیاتی ٹیسٹوں کو ہم سات بڑی اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ جینیاتی بیماریاں کیا اور کیسی ہوتی ہیں تفصیل سے پچھلی پوسٹ میں لکھا گیا ہے۔۔ اسکا لنک اسی پوسٹ کے اختتام میں موجود ہے۔

    سات طریقہ ہائے ٹیسٹ یہ ہیں۔

    1.تشخیصی ٹیسٹ (Diagnostic Testing)

    اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے اندر کسی بھی ایسی بیماری یا معذوری یا Disease کی علامات ہیں جو کہ جینیاتی ہیں۔ ان کو ہم عام زبان میں جینیاتی تغیر یعنی mutated genes کہتے ہیں۔ جنیٹک ٹیسٹنگ ایسے کیسز میں تصدیق کرتی ہے کہ آپ میں واقعی کوئی جینیاتی مرض ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر ہم سسٹک فائبروسس Cystic fibrosis یا Huntington’s disease کا پتا ڈائیگناسٹک ٹیسٹنگ سے لگا سکتے ہیں۔

    2. علامات ظاہر ہونے سے پہلے جنیٹک ٹیسٹنگ کروانا
    Presymptomatic and predictive testing

    اگر خاندان میں کوئی جینیاتی بیماری موجود ہے۔ اور آپ میں اس کے کوئی آثار یا علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ ایسے میں یہ ٹیسٹنگ کی جاتی ہے کہ آپ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے رسک پر تو نہیں ہیں۔ عموماً اس میں کولو ریکٹل کیسنر colorectal cancer شامل ہے۔ اس کینسر کو ہم bowel cancer, colon cancer, or rectal cancer بھی کہتے ہیں۔ ہماری بڑی انتڑی کے حصے کولن اور ریکٹم میں کیسنر ہوجاتا ہے۔ اس کینسر کے 10 میں سے 8 مریض تشخیص کے بعد ایک سال بعد ہی وفات پاجاتے ہیں۔

    3. کیرئیر ٹیسٹنگ (Carrier testing)

    اگر آپ کے خاندان میں کوئی جینیاتی امراض کی فرد یا ہسٹری موجود ہے۔ جیسے سکل سیل انیمیا Sickle cell Anemia یا ہیموفیلیا یا سسٹک فائبروسس، سپائنل مسکولر اٹرافی وغیرہ۔ یا آپ کسی ایسے ایتھنک گروپ سے ہیں جہاں کوئی مخصوص بیماری یا معذوری بہت عام ہے۔ مثلاً ملتان کے ایک محلے میں 70 افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ اور کرک کے ایک گاؤں میں 50 سے زائد بونے لڑکے لڑکیاں موجود ہیں اور ان دونوں مخصوص ایریاز میں ان دونوں جینیاتی امراض کی ریشو بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

    آپ کے بچوں میں یہ مرض نہ جائے اس کے لیے ہم کیرئیر ٹیسٹنگ کرواتے ہیں کہ آیا ہم میوٹڈ جین کیری کیے ہوئے ہیں یا نہیں۔

    میں یہاں بتاتا چلوں کہ اگر ماں اور باپ دونوں ایک ہی جینیاتی مرض کے صرف کیرئیر ہیں۔

    "ان میں وہ مرض ہے نہیں”

    تو 25 فیصد چانسز ہیں وہ بچہ اس مرض کے ساتھ پیدا ہوگا۔

    اور 50 فیصد چانسز ہیں کہ بچہ اگر اس کے ساتھ پیدا نہیں ہوا تو کیرئیر ضرور ہوگا۔

    اگر صرف ماں کیرئیر ہے تو بھی بچے کے جینوم میں 50 فیصد وہ جین منتقل ہونے کے جانسز ہیں۔

    4. فارماکو جینیٹکس (Pharmacogenetics)

    اگر آپ کسی مخصوص و دائمی صحت کی خرابی کے مرض یا ڈی زیز میں مبتلا ہیں۔ اور ڈاکٹروں سے سمجھ سے باہر ہے دوائی کیا دیں؟ تو جنیٹک ٹیسٹنگ کی یہ قسم اپلائی کی جاتی ہے۔ تاکہ پراسرار یا ناقابل فہم بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے دوائی کا سالٹ اور ڈوزیج معلوم کی جا سکے۔

    مشہور گولی پیناڈول کا سالٹ پیراسیٹا مول ہے اور پیناڈول ایکسٹرا کے سالٹ میں پیراسیٹا مول کے ساتھ کیفین Caffeine بھی شامل ہوتی ہے۔ پہلے ایک گولی میں ایک سالٹ ہوتا تھا اب دو سے تین سالٹ تک ایک گولی میں ڈالے جا رہے ہیں۔ مطلب جہاں آپ دو یا تین گولیاں کھاتے تھے اب ایک ہی کھائیں گے۔

    5. دوران حمل ٹیسٹنگ (Pre natal testing)

    اگر آپ حاملہ ماں ہیں۔ کچھ ٹیسٹ بتا سکتے ہیں کہ آپکے پیدا ہونے والے بچے میں کوئی ابنارمل جین تو نہیں ہے۔ ڈاؤن سنڈروم اور ٹرائی سومی 18 Edwards syndrome یا ٹرائی سومی 18 یعنی Patau syndrome اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ سب پری نیٹل جنیٹک ٹیسٹنگ میں ماں کے پیٹ سے سیری برو سپائنل فلیوڈ یا پلاسینٹا سے بلڈ سیل لیکر حمل کے پہلے تین ماہ میں روح پھونکے جانے سے پہلے ہی معلوم ہو سکتے ہیں۔ اب تک 2 ہزار سے زیادہ سنڈروم دریافت ہو چکے ہیں۔ 5 کے قریب تو میں پڑھ چکا ہوں۔ موسٹ کامن 20 کے قریب ہیں وہ سب میری زیر تصنیف کتاب میں شامل ہیں۔

    اسی سال ایک جدید ٹیسٹ دریافت ہوا ہے جسے سیل فری ڈی این اے ٹیسٹ cell-free DNA testing کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی اس میں ہمیں یوٹرس سے پانی یا بچے کا خون لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی سے ماں کے خون سے ہی پیٹ میں موجود بچے کا ڈی این اے نکال کر اسکا ٹیسٹ ہوجائے گا۔ جین ڈی این اے کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔ چارپائی ایک ڈی این اے ہے اور اسکی ایک چھوٹی سی رسی ایک جین۔

    6. نومولود بچوں کی سکریننگ (Newborn screening)

    دنیا بھر میں یہ سکریننگ عام ہے۔ مگر پاکستان کے بڑے سے بڑے مہنگے ترین ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کو اسکا شعور نہیں ہے۔ میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کر رہا ہوں کہ نومولود بچوں کا 1 سے 2 فیصد ہسپتالوں کو چھوڑ کر کسی بھی جگہ سماعت و بصارت کا ابتدائی ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ جو کہ دنیا بھر میں یونیورسل ٹیسٹ بن چکا ہے۔ اسکے علاوہ رئیر جنیٹک اور ہارمونل تغیرات کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ کچھ میٹابولک خرابیوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو بچے کی جان تک لے سکتے ہیں۔ کیوں پیدائش کے بعد پہلے سال ہی لاکھوں بچے فوراً بیمار ہو کر ایک سے دو دن میں فوت ہوجاتے؟ وجہ یہی ہے کہ ابتدائی ٹیسٹ نہیں ہوپاتے۔ اگر ہوجائیں فوری اسکا علاج ہو تو بچے فوت ہونے سے بچ سکیں۔

    7۔ پری امپلانٹیشن ٹیسٹنگ (Preimplantation testing)

    جب ہم مصنوعی طریقہ حمل ان ورٹو فرٹی لائزیشن IVF کے ذریعے حمل کی طرف جاتے ہیں۔ تو بلاسٹو سسٹ یا ایمبیریو میں سے لیزر کے ذریعے ایک دو سیل لے کر انکی جنیٹک ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ ایمبیریو میں موجود میوٹڈ جین کو نکال دیا جاتا ہے۔۔اور صحت مند بلکل ٹھیک ایمبریو کو بچہ دانی میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس سے چند ممکنہ جینیاتی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔

    ان میں سے پانچ قسم کی ٹیسٹنگ میری معلومات کے مطابق پاکستان میں ہو رہی ہے۔ آغا خان اور شوکت خانم لیبارٹری جینیٹک ٹیسٹنگ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ کچھ اور بھی کر رہے ہونگے معتبر اور قابل اعتماد یہ دونوں نام ہیں۔ یہ ٹیسٹنگ کافی مہنگی ہے۔ مگر ایک اسکی قیمت آپکے یا آپکے بچوں میں عمر بھر کے روگ سے تو کسی صورت بھی زیادہ نہیں ؟

  • ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس (Elephantiasis) — خطیب احمد

    ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس (Elephantiasis) — خطیب احمد

    لاکھوں میں ایک فرد آپ کو ایسا نظر آئے گا جس کا ایک پاؤں ٹانگ ہاتھ یا بازو دوسرے کی نسبت بہت موٹا ہوگا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بیماری ایک مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتی ہے؟ جی ہاں ایک ایسا مچھر جس کے اندر filarial parasites کے لاروا ہوتے ہیں۔ ان کو (roundworms) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لاروا انفیکٹڈ مچھر کے کاٹنے سے مچھر سے انسانی جسم داخل ہوتے اور وہاں اپنا اگلا لائف سائیکل پورا کرکے بڑے ہوجاتے۔

    جس طرح کسی عمارت میں پانی کی نکل و حرکت کے لیے ایک سیورج سسٹم ہوتا ہے بلکل اسی طرح انسان جسم میں بھی خون کی نالیوں سے خودکار نظام کے تحت نکلنے والی رطوبتوں کو ٹھکانے لگانے کے Lymphatic system کام کرتا ہے۔ اب فلیرئل لاروے بڑے ہو کر لمف نارڈ lymph nodes کو بند کر دیتے۔ اور وہ رطوبتیں اپنی مطلوبہ جگہ جانے کی بجائے وہیں ٹانگ کے نچلے حصے یا بازو میں کہنی کے نچلے حصے میں جمع ہونا شروع ہو جاتیں۔ ایک طرف تو وہ پانی جمع ہو رہا ہوتا دوسری طرف جسم میں موجود پیراسائٹ تیزی سے اپنا سائز اور اپنی تعداد بڑھا رہے ہوتے۔

    نتیجتاً پاوں ٹانگ ہاتھ یا بازو کا سائز ایسے ہوجاتا جیسے ہاتھی کا پاؤں ہے۔ ایک طرف تکلیف تو دوسری طرف سوشل سٹگما الگ سے جان لے رہا ہوتا۔ لوگ ڈرنا شروع کر دیتے کہ اس متاثرہ فرد کو کاٹنے والا مچھر ہمیں بھی کاٹ کر انفیکٹڈ نہ کر دے۔ اور انکا یہ ڈر کسی نہ کسی حد تک درست ہوتا ہے۔ مگر ایسا ہر قسم کے مچھر کے کاٹنے سے بلکل نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثریت کیسز میں مچھر کی ایک خاص قسم Culex کے کاٹنے سے منتقل ہوتی ہے۔ اور نہ ہی خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے اس فرد کو کاٹنے والا مچھر جسے کاٹے گا وہ بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔

    ڈاکٹرز کی طرف سے اس مرض سے متاثرہ مریض کو ہدایت کی جاتی کہ وہ ہر ممکن حد تک خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔ پرسنل ہائی جین کا بہت خیال رکھے۔ جن لوگوں کا امیون سسٹم مضبوط ہوتا ان کو انفیکٹڈ مچھر کاٹنے کے بعد بھی عموماً لاروا اپنا لائف سائیکل مکمل نہیں کر پاتا اور ہمیشہ لاروا سٹیج میں ہی رہتا ہے۔ جسکی وجہ سے انکو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

    ہاتھ پاؤں ٹانگ یا بازو موٹا ہونے سے پہلے ہی عموماً گردن کے دائیں سائیڈ پر خون کی نالیاں بڑی نمایاں ہو کر اسکن سے باہر ابھری ہوئی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس اسٹیج پر مرض کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے اور کیمو تھراپی سے اسے کافی حد تک بڑھنے اور نقصان کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ایک عام ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ڈرما ٹالوجسٹ Dermatologist اس مرض کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔ علاج میں ابھی تک کوئی ایسا نہیں ہے جو اس چیز کو سو فیصد ختم کر سکے۔ ڈاکٹرز پوری دنیا میں Diethylcarbamazine (DEC) نامی دوائی ان مریضوں کو دیتے ہیں۔ اس دوا کا بنیادی مقصد جسم میں موجود adult worm کو مارنا ہوتا ہے۔ پانی کو خشک کرنے یا نکالنے پر کام کیا جاتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اندر گوشت بڑھ گیا ہوا ہے اور آپریشن کرکے ایک ہی بار ٹانگ یا بازو کو نارمل کر دیا جائے۔ احتیاط اور علاج لمبے عرصے تک جاری رہتا ہے۔

    ایسے افراد سے ڈرنے کی بجائے ان سے محبت کی جائے۔ اور انکو تنہائی سے نکال کر ہر قسم کے فیملی و سوشل ایونٹس میں ضرور شریک کیا جائے۔ اور ایسے افراد خود بھی کوئی ایسی سافٹ ہا ہارڈ اسکل سیکھ کر خود کو مصروف رکھیں جس میں کہیں آنے جانے کی ضرورت کم سے کم ہو۔

  • کب تک؟ — خطیب احمد

    کب تک؟ — خطیب احمد

    ایک اندازے کے مطابق صرف پنجاب کے دیہاتوں شہروں، گلی محلوں میں موجود چھوٹے بڑے پرائیویٹ سکولز کی تعداد 50 ہزار کے قریب ہے۔

    کسی بھی نوعیت کی معمولی معذوری کے حامل صرف 2 بچوں کو اگر ایک پرائیویٹ سکول داخلہ دے تو اس نئے سال میں 1 لاکھ آوٹ آف سکول سپیشل بچے تعلیمی دھارے میں آسکتے ہیں۔ ایسا ہی اگر پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں میں ہو تو لاکھوں بچے سکول جا سکتے ہیں۔

    محکمہ سپیشل ایجوکیشن پنجاب کے زیر انتظام چلنے والے 300 اداروں میں اس وقت لگ بھگ 35 ہزار سپیشل بچے زیر تعلیم ہیں۔ ہمارے سکول پنجاب کے ہر ضلع، تحصیل، ٹاؤن اور چند بڑے قصبات میں موجود ہیں۔ آپ کسی بچے کے داخلے کے لیے اپنے قریبی سپیشل ایجوکیشن سنٹر کے متعلق مجھ سے بھی پوچھ سکتے ہیں۔

    آپ کا کوئی پرائیویٹ سکول ہے تو آپ نیکی کا ارادہ کیجئے۔ سکول کے بچوں سے ہی پوچھیے کہ انکا کوئی بہن بھائی یا گلی محلے میں کوئی سپیشل بچہ ہے تو آپ کو بتائیں۔ میں اس پر آج کل ہی میں ان شاءاللہ تفصیلی مضمون لکھتا ہوں کہ کن بچوں کو آپ آسانی سے انرول کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے بس دل میں خود سے یہ بات آنے کی دیر ہے۔

    آپ سپیشل بچوں کے والدین ہیں تو آپ سے میری گزارش ہے۔ بچے کے علاج کے ساتھ اسکا تعلیمی سفر بھی شروع کیجیے۔ اسے ایک وہیل چیئر لے کر دیجئے اور قریبی کسی سکول اسے پڑھنے بھیجئے۔ سکول انتظامیہ کے خدشات ہم انکو گائیڈ کرکے دور کردیں گے ان شاءاللہ۔ وہ یہی اعتراض کرتے کہ وہ بچہ دوسرے بچوں کو تنگ کرے گا اور دیگر بچوں کے والدین کمپلین کریں گے۔

    پاکستان میں ہوئی بے شمار تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ نارمل بچوں کے والدین اپنے بچوں کو سپیشل بچوں کے ساتھ ایک کلاس یا سکول میں نہیں پڑھانا چاہتے۔ تو پی ٹی ایم پر والدین کو اچھے طریقے سے گائیڈ کیا جا سکتا ہے کہ آپ کا محض ایک وہم ہے۔ نہ تو کسی کی معذوری ساتھ پڑھنے سے کسی کو لگ سکتی ہے۔ نہ ہی آپکے بچے کی تعلیم کا ان شاءاللہ کوئی حرج ہوگا۔

    کب تک اپنے سپیشل بچے کو چارپائی پر پڑا یا وہیل چیئر پر بیٹھا دیکھ کر روتے رہیں گے؟ کب تک اسے شہر شہر ایک سے دوسرے تیسرے چوتھے ہسپتالوں میں لیجاتے رہیں گے؟ اسے پلیز اب سکول کا رستہ دکھائیے۔ اسے اسکی زندگی اسکے مخصوص مدار میں ہم سے مختلف رہ کر جینے دیجئے۔

    چند ایسی معذوریاں ہوتی ہیں جن میں ایک استاد کے ساتھ ایک ہی بچہ پڑھنے پڑھانے یا سیکھنے سکھانے کے کام میں موجود ہوتے ہیں۔ جیسے آٹزم ، ADHD شدید دانشورانہ پسماندگی، یا سماعت و بصارت سے ایک ساتھ محروم ہونا جیسے ہیلن کیلر تھی۔

    اس کے علاوہ Rare سنڈروم یا معذوریاں ہوتی ہیں جو لاکھوں کی آبادی میں ایک دو ہی کیس ہوتے۔ یا ایک ساتھ دو یا دو سے زائد معذوریاں ہونا۔ جیسے سی پی کے ساتھ ہی اس بچے میں سماعت کا کم ہونا یا نہ ہونا۔ سی پی کے ساتھ انٹلیکچوئل ڈس ابیلٹی ہونا وغیرہ۔

    ان کے علاوہ تقریباً تقریباً تمام ہی اقسام کے سپیشل بچوں کو کسی بھی گلی محلے کے سکول میں بھیجا جا سکتا ہے۔ ہاں اس سکول کے ساتھ قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول یا کوئی سپیشل ایجوکیشن کی تعلیمی بیک گراؤنڈ رکھنے والا ٹیچر مسلسل رابطے میں ہو یا معذوری کی نوعیت دیکھتے ہوئے وہاں مستقل ڈپیوٹ کیا جائے۔

    اشاروں کی زبان یا بریل سیکھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ چند ماہ میں ہی ایک ٹیچر یہ چیزیں سیکھ جاتا ہے۔ اور سکول میں آکر کتابیں پڑھنا ہی پڑھائی نہیں ہوتی۔ ٹائم مینجمنٹ ، سیلف کئیر ، اخلاقیات، سوشلائزیشن، فرینڈ شپس، گیمز میں حصہ، اسمبلی میں جانا، صفائی ستھرائی سیکھنا، تنہائی کی قید سے باہر نکلنا کیا تعلیم کا حصہ نہیں ہے؟

    کیوں کاپی کتاب اور کلاسز پاس کرنے کو ہی تعلیم سمجھ لیا گیا ہوا ہے؟ ایک سپیشل بچہ اپنی ذہنی اور جسمانی استعداد کے مطابق لکھنا پڑھنا سیکھ کر پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہے۔ اور کئی سالوں کی محنت کے بعد صرف لکھنا پڑھنا ہی سیکھ پاتے۔ بنیادی حساب اور خدا رسول یا مذہب کو جان پاتے، یا دیگر کچھ معلومات عامہ انکی یاداشت کا حصہ بن جاتیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ سپیشل بچوں کے والدین کا ایک گروپ تو بچوں کو کسی قابل ہی نہیں سمجھتا کہ یہ کیا کر سکتے ہیں۔۔اور دوسرے ان کو انکی قابلیت سے بہت آگے سمجھ لیتے اور سکول پر سکول بدل رہے ہوتے کہ ہمارے بچے کے ساتھ ٹھیک سے کام ہی نہیں ہورہا۔ تیسرا گروپ ان والدین کا ہوتا جو تھوڑا نہیں ٹھیک ٹھاک پڑھے ہوتے ہیں انکا مطالعہ بڑا وسیع ہوتا اور اپنے بچے کی ڈس ابیلٹی کو ٹھیک سے جان کر قبول کر چکے ہوتے۔ اور بچے کو اپنی کپیسٹی اور مخصوص سپیڈ میں آگے بڑھنے کا موقع دیتے۔

    بات کو آسان کرکے کہوں تو تمام سپیشل بچوں کو کسی نہ کسی طرح سکول بھیجنے کا انتظام کیجئے۔ آپ دیکھیں گے کہ بچے میں کتنی مثبت تبدیلیاں چند ماہ میں ہی نظر آنا شروع ہونگی۔ اچھا ایک اور غلط فہمی کہ ہمارا سپیشل بچہ سپیشل بچوں کے یا دوسرے بچوں کے سکول جائے گا تو اسے دوسرے بچے ماریں گے یا اسکا برا نام رکھیں گے تو ہم بھیجتے ہی نہیں ہیں۔ یہ بلکل غلط سوچ ہے۔ اس سوچ کو بھی بدلیے اور باقاعدہ فالو اپ رکھئیے۔

  • کارنیل ٹرانسپلانٹ (keratoplasty) —- خطیب احمد

    کارنیل ٹرانسپلانٹ (keratoplasty) —- خطیب احمد

    (کسی کو آنکھیں عطیہ کرنا)

    انسانی آنکھوں کو دنیا کی ہر زبان کے ادب میں موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ کوئی محبوب کی آنکھوں کو سمندر سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی ان آنکھوں کی سیاہی میں اپنی زندگی کی روشنی تلاش کرتا ہے۔ بقول عدیم ہاشمی

    کیا خبر تھی تری آنکھوں میں بھی دل ڈوبے گا
    میں تو سمجھا تھا کہ پڑتے ہیں بھنور پانی میں

    آنکھیں جہاں خوبصورتی کا ایک پیمانہ ہیں تو وہیں آنکھوں سے جڑے امراض بھی پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 10 لاکھ افراد بینائی سے مکمل یا جزوی محروم ہیں۔ دنیا بھر میں 4 کروڑ افراد بینائی سے مکمل محروم ہیں اور اڑھائی ارب جزوی طور پر کسی نہ کسی درجے میں محروم بصارت ہیں۔ اس موضوع پر تو کئی کتب لکھی جا سکتی ہیں۔ آج ہم بات کریں گے کارنیا کے ٹرانسپلانٹ پر۔ اسے ڈاکٹرز keratoplasty ھی کہتے ہیں۔

    کارنیا ہماری آنکھ کے نظر آنے والے گہرے گول سے حصے کے اوپر ایک صاف شفاف شیشہ سا ہے۔ جو آنکھ کے اندرونی حصے میں جراثیم، دھول، مٹی، انفیکشن جانے سے روکتا ہے۔ کورنیا روشنی کو اندر جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اور روشنی کی شعاعوں کو اس طرح موڑتا ہے کہ فوکس پر آ جائیں۔ یعنی ہماری آنکھ کا فوکس کارنیا بناتا ہے۔ کارنیا میں پیدائشی یا بعد میں کسی خرابی ہو یا کسی بیماری و حادثے کی صورت میں کارنیا ڈیمج یا خراب ہوجائے تو دنیا بھر میں خراب کارنیا نکال کر نیا کارنیا لگا دیا جاتا ہے۔

    کارنیا کا مکمل خراب ہونا بینائی سے ممکل محرومی کا سبب بن جاتا ہے۔ امریکہ میں ہر سال 50 ہزار لوگوں کا کارنیل ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں سالانہ کارنیل ٹرانسپلانٹ کی تعداد 2000 کے آس پاس رہتی ہے۔ جن میں سے 800 ٹرانسپلانٹ سالانہ تو الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں ہوتے ہیں۔ ہر پیدائشی نابینا فرد کو ضروری نہیں کارنیا ڈال کر بصارت لوٹائی جا سکے مگر چیک ضرور کروا لینا چاہیے کہ کارنیا تو خراب نہیں۔ اگر وہ ہے تو کوشش کرکے ٹرانسپلانٹ کروا لیں۔

    پاکستان میں کارنیا عموماً امریکہ اور سری لنکا سے آتے ہیں۔ وہاں لوگ مرنے سے پہلے وصیت کر جاتے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد آنکھیں عطیہ کر دی جائیں۔ جیسے ہی فرد فوت ہوتا ہے 6 گھنٹوں کے اندر اس کی دونوں آنکھوں کی اوپری ٹرانس پیرنٹ جھلی یعنی کارنیا 8 یا 9 ملی میٹر گولائی میں کاٹ لی جاتی ہے۔ اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور جلد ہی کسی انسانی آنکھ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں اب تو آرٹیفشل کارنیا بھی موجود ہیں مگر وہ پائیدار اور قابل اعتماد نہیں ہیں۔ کسی جانور کا کارنیا انسان کو نہیں لگایا جا سکتا۔

    ہم پاکستان میں بھی کارنیا ٹرانسپلانٹ سنٹرز جیسے الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں جاکر وصیت لکھ سکتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کو اس بارے میں بتا سکتے ہیں۔ کہ ہماری موت کے بعد ہماری آنکھوں سے کارنیا لیکر کسی نابینا فرد کو ڈال دیا جائے۔ کچھ علماء اسے حرام کہتے ہیں اور کچھ حلال۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارا جسم ہمارے مال کی طرح اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک عطیہ ہے۔ جیسے ہم مال اسکی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں ویسے ہی ہماری آنکھ کی ایک معمولی سی جھلی کسی کی تاریک دنیا کو روشن کر سکتی ہے تو یہ کام ضرور کرنا چاہیے۔ میں انشاء اللہ اپنی آنکھوں کے عطیہ کی وصیت بہت جلد کردونگا۔۔کہ میری وفات کے بعد کارنیا لے کر کسی نابینا فرد کو لگا دیے جائیں۔ زندگی میں ایسا کرنا کسی کو ایک یا دو کارنیا دینا مناسب نہیں۔ ایک گردہ یا جگر کا ایک حصہ دے سکتے ہیں۔ مگر ان سب کی کوئی قیمت نہ وصول کی جائے۔

    اعضا کے ہم مالک نہیں ہیں۔ اور کسی کو زندگی یا موت کے بعد دے نہیں سکتے۔ میرا اس بیانیے سے اتفاق نہیں ہے۔ بے شمار جید علماء اکرام بھی اسے درست نہیں مانتے۔ مولانا اسرار احمد مرحوم کا بھی یہی موقف تھا جو میرا ہے۔ تقریباً تمام عالمی سطح کے اسکالرز کا یہی موقف ہے۔ اور یہ کام پاکستان میں ہو بھی رہا ہے۔

    آئیے اس پیغام کو عام کریں۔ اپنے آس پاس نابینا بچوں و افراد کے والدین کو گائیڈ کریں کہ وہ انکی آنکھوں کا چیک اپ کروائیں۔ اگر کارنیا ٹرانسپلانٹ سے بینائی لوٹ سکتی تو ان کے لیے کارنیا ارینج کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک لمحے کے لیے تصور تو کریں آپ نابینا ہو جائیں تو کیا ہو؟ اگر کسی نابینا کو بینائی مل جائے تو اسکی زندگی کیسی خوبصورت ہوجائے گی؟

  • پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    ایک انسانی پاؤں میں 26 ہڈیاں، 30 جوڑ اور 100 پٹھے، Tendons اور ligaments ہوتے ہیں۔ پٹھے یعنی مسلز تو آپ نے قربانی کرتے ہوئے جانوروں میں دیکھے ہوں گے۔ یہ ایک طرف ہماری ہڈیوں اور دوسری طرف اسکن کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ پٹھے کا رنگ عموماً سرخ ہوتا ہے اور ہڈی کے ساتھ جو چیز اسے جوڑتی اسے ٹینڈن tendon کہتے ہیں۔ یہ سفید رنگ کا چھوٹا سا حصہ ہوتا جو مسل اور ہڈی کا مضبوط کنکشن بناتا ہے۔ Ligaments کو آپ ایلاسٹک کہہ سکتے ہیں۔ جن کی وجہ سے ہمارے جوڑ حرکت کرتے ہیں۔ اور مطلوبہ حرکت کے بعد واپس اپنی جگہ پر آجاتے ہیں۔ جوڑوں کی حرکت میں لچک ان کی ہی وجہ سے ہے۔

    پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ بچوں کے پاؤں میں ہڈیاں پوری 26 ہی ہوتی ہیں۔ مسلز بھی پورے ہوتے ہیں۔۔ بس Achilles tendon کا سائز کافی چھوٹا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاؤں کی پوزیشن نارمل نہیں رہتی۔ اور پاؤں اندر یا نیچے (in and under) مڑ جاتا ہے۔ اسے ہم کلب فٹ کہتے پیں۔ یہ سو فیصد ایک قابل علاج کنڈیشن ہے۔ اگر بروقت علاج کروا لیا جائے تو متاثرہ بچہ بلکل ٹھیک ہو سکتا ہے۔

    ہر سال پاکستان میں تقریباً 6 ہزار بچے پیدائشی طور پر ایک یا دونوں پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ 1 ہزار میں سے 1 بچہ اس کنڈیشن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ہر تین متاثرہ بچوں میں سے دو لڑکے اور 1 لڑکی ہوتی ہے۔ یعنی لڑکوں کی تعداد لڑکیوں کی نسبت ڈبل ہے۔ متاثرہ 100 بچوں میں سے 50 کا ایک پاؤں ٹیڑھا ہوگا اور باقی پچاس کے دونوں پاؤں۔ یہ ٹیڑھا پن تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے یا تو اندر کی طرف ہوتا ہے یا پاؤں نیچے مڑا ہوتا ہے ایڑھی زمین پر نہیں لگتی۔ کچھ کیسز میں پاؤں کی ہتھیلی پیچھے کو بھی مڑی ہو سکتی ہے۔

    ان بچوں کی متاثرہ پاؤں والی ٹانگ بھی دوسری سے معمولی سے چھوٹی ہو سکتی ہے۔ جو چلتے ہوئے محسوس ہوسکتی ہے نہیں بھی محسوس ہو سکتی۔ اور متاثرہ پاؤں دوسرے پاؤں سے 1 یا آدھا انچ چھوٹا رہ سکتا ہے۔ یعنی بڑے ہوکر بھی ایک پاؤں میں جوتا 40 نمبر اور دوسرے میں 39 آئے گا۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    اس کی سب سے بڑی قسم Idiopathic Clubfoot ہے۔ اس میں پیدائشی طور پر بچے کا ایک یا دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے ایک بچہ اسی قسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی کوئی مستند معلوم وجہ نہیں ہے۔ دوران حمل والدہ کا سگریٹ یا شراب پینا، بچہ دانی میں حمل کے شروع سے ہی امنیاٹک فلیوڈ Amniotic fluid کی مقدار بہت کم ہونا، والد یا والدہ کو یہ مسئلہ ہونا یا انکے خاندان میں کوئی ہسٹری ہونا اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ چاند گرہن کسی عورت کے سائے، اٹھرا وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دوسری قسم میں Neurogenic Clubfoot آتا ہے۔ اگر بچہ سپائنا بیفیڈا یا سیری برل پالسی کے ساتھ پیدا ہوا ہے تو امکان ہیں بچے کو کچھ عرصہ بعد کلب فٹ بھی ہو جائے گا۔ سپائنا بیفیڈا میں جب آپریشن ہوتا ہے تو بہت سی نسیں دب یا کٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے پوری ٹانگ بشمول پاؤں کے مسلز و نسیں کھچ جاتی ہیں اور پاؤں مڑ جاتے ہیں۔

    تیسری قسم میں Syndromic Clubfoot ہوتا ہے۔ بونے بچوں میں بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔ جن سنڈرومز کے ساتھ کلب فٹ ہو سکتا وہ یہ ہیں
    arthrogryposis, constriction band syndrome, tibial hemimelia and diastrophic dwarfism.

    علاج کیا ہے؟

    اس کی روک تھام تو ابھی تک پوری دنیا میں نہیں ہے۔ مگر اسکا علاج انتہائی سستا اور آسان ہے۔ بروقت علاج سے سو فیصد بچے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاج میں دو سٹیجز ہیں۔ پہلی میں متاثرہ بچوں کو پیدائش کے دوسرے ہفتے میں ہی پاؤں کی پوزیشن کو سیدھا کرکے اوپر پلستر لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی آپریشن نہیں ہوتا۔ چھوٹے بچوں کے مسلز اور ٹینڈن اتنے لچکدار ہوتے ہیں کہ ان کو جیسے مرضی موڑ لیں بچے کو کوئی نقصان یا تکلیف نہیں ہوتی۔ اسے پروفیشنل Ponseti Serial Casting کہتے ہیں۔ یہ پلستر ہر 7 سے 10 دن بعد بدل دیا جاتا ہے۔ عموماً چھٹے پلستر میں اگر Achilles tendon بقدر ضرورت لمبے نہ ہوئے ہوں تو پاؤں میں ایک چھوٹے سے بلیڈ سے کٹ لگا کر ایک دوائی لگا کر آخری پلستر کر دیا جاتا ہے جو دو سے تین ہفتے تک رہتا ہے۔ اور پاؤں بلکل سیدھا ہو جاتا ہے۔

    دوسرے مرحلے میں اس سیدھے پن کو قائم رکھنے کے لیے Bracing کی جاتی ہے۔ یہاں بہت سے والدین لاپرواہی کر جاتے ہیں۔ اور پاؤں پھر سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے جس کا آپریشن سے بھی کئی بار علاج ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ایسا جوتا پلستر والا کام ختم ہونے کے اگلے دن سے ہی بچے کو پہنایا جاتا ہے۔ جس میں پاؤں کی پوزیشن چلتے پھرتے ایک جیسی رہے۔ یہ جوتا شروع میں 2 ماہ تک چوبیس میں سے 23 گھنٹے پہننا ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد مزید دو سال رات کو وہی جوتا پہنا کر بچے کو سلانا ہوتا ہے۔ دن میں چلتے پھرتے تو پاؤں ٹھیک رہتا ہے۔۔ رات کو وہ بریس نہ پہنی ہو تو پاؤں اپنی خراب حالت کی طرف واپس مڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس میں بھی لاپرواہ قسم کے والدین معاملہ اللہ کی سپرد کرکے رات کو بریس نہ پہنا کر سارے کیے کترے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

    یوں سمجھیے کہ تین سے چار سال کی محنت جس میں کوئی زیادہ پیسے نہیں لگ رہے۔ آپ کے بچے یا بچی کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہے۔

    میں دیکھتا ہوں بے شمار نوجوان لڑکے لڑکیاں ٹیڑھے پاؤں کے ساتھ ہیں۔کئی آپریشن کروا چکے ہیں۔ جو فرق پیدا ہونے کے فوراً بعد علاج سے پڑنا تھا وہ اب نہیں پڑ سکتا جو مرضی کر لیں۔ جتنی تاخیر سے علاج شروع ہوگا اتنے ہی کم چانسز ہیں کہ پاؤں سیدھا ہوجائے گا۔ آپ صرف دو چار ماہ تاخیر کردیں تو پاؤں سو فیصد ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ سالوں کی تاخیر تو کبھی بھی ریکور نہیں ہو سکتی۔

    ایسے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے رشتے کرنے میں بھی والدین کو بہت مشکل پیش آتی ہے۔ ان افراد کو ساری عمر امتیازی و ناروا سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ ایک ٹیڑھے پاؤں والی لڑکی میرے سرکل میں باٹنی کی لکچرر تھی۔ نین نقش عقل شکل کد کاٹھ حسب نسب سب کچھ اچھا تھا۔ مگر کلب فٹ کی وجہ سے بلکل گئے گزرے لوگ اسے قبول کرتے تھے۔ کوئی بھی مناسب سا رشتہ نہیں مل رہا تھا۔ ان پڑھ و لالچی قسم کے لوگوں کے رشتے آتے تھے جن کی بظاہر نظر لڑکی کمائی پر ہوتی تھی۔ کوئی پڑھا لکھا شخص اسے قبول نہ کرتا تھا۔

    اسکی شادی شدہ بہن کی اکٹوپک حمل کی وجہ سے وفات ہوگئی اور اسی جگہ اسکا نکاح ہوگیا۔ اپنے ایک بیٹی کے ساتھ بہن کے بھی دو بچوں کو پال رہی ہے۔ میں جانتا ہوں اس نے 6 سال اپنے رشتے کی وجہ سے جس ناقابل برداشت رجیکشن کا سامنا کیا اس کی وجہ سے اسکی شخصیت کس قدر تباہ ہوگئی تھی۔ اب بھی وہ کسی سے بلکل رابطے میں نہیں ہے۔ وہ وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی تھی بہت روتی تھی کہ مجھے وہ بندہ نہیں پسند مجھ سے پندرہ سال بڑا ہے۔ مگر گھر والوں نے زبردستی کر دی کہ اور تو کوئی ڈھنگ کا رشتہ مل نہیں رہا۔

    ایسے ہی جوڑ اس کنڈیشن والے لڑکوں کی شادی کے وقت بنتے ہیں۔ساری عمر بظاہر مکمل ہو کر بھی ایک ادھورے پن میں گزرتی ہے۔

    اسکا علاج ملک بھر میں کسی بھی سرکاری و پرائیویٹ آرتھوپیڈک سرجن سے کروایا جا سکتا ہے۔ مگر پیدائش کے فوراً بعد بغیر کسی بھی تاخیر کے۔

  • جینو ویرم/ ٹیڑھی ٹانگیں (Genu Varum / Bowlegs) —  خطیب احمد

    جینو ویرم/ ٹیڑھی ٹانگیں (Genu Varum / Bowlegs) — خطیب احمد

    بوہ لیگز Bow legs بچوں میں ایک ایسی حالت ہے۔ جس میں ان کی ٹانگیں تیر کمان کی طرح گھٹنوں سے باہر کی طرف ٹیڑھی ہوتی ہیں۔ یہ عموماً تب دیکھا جاتا ہے جب بچہ چلنا شروع ہوتا ہے۔ میڈیکل یا ہڈی جوڑ کی فیلڈ سے وابستہ افراد جلد ہی یہ چیز دیکھ لیتے ہیں۔ چلتے ہوئے اگر پاؤں ساتھ جڑتے ہیں۔ گھٹنے ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ٹانگوں کا نچلا حصہ گھٹنوں والی جگہ سے ایک دوسرے سے دور ہے تو آپکے بچے کو "جینو ویرم” ہے۔

    یہ مسئلہ ایک ٹانگ میں اور دونوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ اکثریت میں دونوں ٹانگیں ہی باہر کو مڑی ہوتی ہیں۔

    ماں کی کوکھ میں کچھ بچوں کی پوزیشن نارمل پوزیشن سے الٹ ہوجاتی ہے۔ عام طور پر کوکھ میں بچے کا سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوتے ہیں مگر کچھ بچوں کا سر اوپر اور پاؤں نیچے بھی ہو سکتے ہیں۔ آخری دو تین ماہ یہ پوزیشن رہے بچہ تھوڑا صحت مند ہو (وزن 3 کلو سے زیادہ) تو بچے کی ٹانگیں ٹیرھی ہو سکتی ہیں۔ اکثریت میں پیدائش کے بعد 18 ماہ کی عمر تک یہ مسئلہ خود سے ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔

    ویسے بھی 18 ماہ کی عمر تک ٹانگوں کا ٹیڑھا پن نارمل ہے۔ اگر تین سال کی عمر کے بعد بھی ٹانگیں ٹیڑھی ہی رہتی ہیں تو ہڈیوں کے ڈاکٹر سے ملنے کی ضرورت ہے۔

    جنیو ویرم کی وجوہات کیا ہیں؟

    1. اسکی پہلی وجہ Blount’s disease ہے۔ ہماری پنڈلی میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں۔ بڑی مین ہڈی کو Tibia اور اسکی مددگار ہڈی کو fibula کہتے ہیں۔ ٹیبیا یعنی بڑی ہڈی کسی بھی ڈیویلپمنٹل ابنارملیٹی کی وجہ سے وہ باہر کو مڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور نتیجتاً "بوہ لیگز” بنا دیتی ہے۔

    2. دوسری بڑی وجہ Rickets ہے۔ بچوں میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی وجہ سے ہڈیاں کمزور رہ جاتی ہیں۔ اور جب ٹانگوں پر وزن پڑتا تو ٹانگیں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں۔

    3. آپ نے دیکھا ہوگا بونوں یا لٹل پیپلز کی ٹانگیں عموماً ایسی ہی ہوتی ہیں؟ باہر کو مڑی ہوئی۔ کہنیوں سے بازو بھی باہر کو مڑے ہوتے۔ Dwarfism بھی بوہ لیگز کی وجہ بنتا ہے۔ بونا پن ایک جنیٹک ڈس آرڈر یے جس میں cartilage سے ہڈیاں بننے میں کوئی خرابی ہوجاتی یے اور پورے جسم کی ہڈیوں کی گروتھ خراب ہوجاتی ہے۔

    4. بچوں کا چھوٹی عمر میں جنک فوڈ کولڈ ڈرنکس آرٹیفیشل جوسز یا چینی کے شربت کھانے کی وجہ سے بہت موٹا ہوجانا بھی ان کی ٹانگوں کو ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں تمیز اور بیلنس بچوں کو بچپن میں سکھائیں کہ بھوک رکھ کر سب کچھ کھانا ہے ورنہ بڑے ہو کر بھی جانوروں کی طرح ہر جگہ کچھ نہیں چھوڑیں گے۔ جو بچے بچپن میں ہی گھر باہر ہر جگہ ہر کھانے والے شے کا اجاڑا کر دیتے ہیں وہ بڑے ہو کر بھی اسی تربیت کا مظاہرہ ساری عمر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    5. اگر بچپن میں ٹانگ کے نچلے حصے میں کوئی شدید چوٹ لگ جاتی ہے۔ اور ہڈی ٹوٹ کر ٹھیک سے جڑ نہیں پاتی۔ تو اسکی گروتھ کا پیٹرن ابنارمل ہو کر باہر کو بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ عطائی ہڈی جوڑ والوں کے بجائے کوشش کریں کسی ماہر آرتھوپیڈک سرجن سے ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑوائیں۔

    6. جو پانی ہم پیتے ہیں اس کوالٹی کی ہے؟ اس میں فلورائیڈ Flouride اور لیڈ lead کی مقدار کتنی ہے؟ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پانی میں لیڈ یعنی تیزابیت زنگ وغیرہ کی نارمل مقدار µg/L۔ 15 ہے۔ اس سے زیادہ نہ ہو۔ گندہ پانی حاملہ ماں پئیے یا نومولود بچہ ٹانگوں کے ٹیڑھا پن باعث بن سکتا ہے۔ اپنا پانی پہلی فرصت میں لیبارٹری ٹیسٹ ضرور کروائیں کہ اس کا ٹی ڈی ایس 1 ہزار سے زیادہ نہ ہو۔ فلورائیڈ اور لیڈ کی آمیزش نارمل کے آس پاس ہو۔ فلورائیڈ کی پانی میں نارمل مقدار ہے ppm۔ 1 – 0.5

    چھوٹے بچوں میں جینو ویرم کی تشخیص کے طریقے

    1. ایک سال کے چھوٹے بچے کی ٹانگیں بلکل سیدھی کریں اگر گھنٹوں میں وقفہ نارمل سے زیادہ لگے بوہ لیگز ہونگی۔

    2. 18 ماہ کی عمر میں ٹانگوں کے نچلے حصے کے ڈیجیٹل ایکسرے کی مدد سے اس مرض کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ کہ ہڈیوں کی گروتھ کا پیٹرن ابنارمل تو نہیں۔

    3. خون کے ٹیسٹ میں ہم وٹامن ڈی کی مقدار دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیرم alkaline phosphatase کا لیول اور فلورائیڈ و لیڈ کی مقدار بھی خون سے دیکھ کر اس مرض کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

    ماہرین عموماً بچے کی پاجامی اتار کر تھوڑا دور پر چل کر آنے کا کہتے ہیں۔ فرنٹ اور بیک پر کھڑے ہو کر دیکھتے اور اپنے تجربے کی بنا کر فزیکلی بھی دیکھ لیتے کہ مسئلہ کس حد تک ہے۔

    اس کا علاج کیا ہے؟

    عموماً تین سال کی عمر تک یہ مسئلہ خود ہی حل ہوجاتا ہے۔ اگر نہ ہو اور بڑھتا ہی جائے تو ہم مرض کی شدت اور اسکی وجہ کو دیکھتے ہوئے اسکے علاج کی طرف جاتے ہیں۔

    1۔ فزیکل تھراپی سے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو کہ عموماً ٹھیک ہو بھی جاتا ہے۔

    2. مسئلہ فزیکل تھراپی سے ٹھیک نہ ہو تو ٹانگوں پر بریس لگا دی جاتی ہے۔ جو ٹانگوں کو سیدھا رکھتی ہے۔ یہ ایک دو سال تک لگانی ہوتی۔ کئی کیسز میں کئی سال تک لگائے رکھنا ہوتی۔

    3. وٹامن ڈی اور کیلشیم بطور فوڈ سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں۔ صبح سورج نکلنے کے بعد 8 بجے اور شام سے کچھ دیر قبل سورج کی دھوپ میں چھوٹے بچوں کو پلیز کھیلنے دیا کریں۔ یہ دھوپ وٹامن ڈی ان بچوں کے جسم میں داخل کرنے کا قدرتی سب سے بڑا سورس ہے۔ یورپ میں آپ دیکھتے کہ بھائی اور آپیاں ساحل سمندر پر چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر لیٹے ہوئے سورج کی دھوپ لے رہے ہوتے۔ وہ اصل میں جسم میں وٹامن ڈی کی نارمل مقدار کو نیچرلی پورا کررہے ہوتے۔

    سورج کی دھوپ میں موجود ultraviolet B (UVB) ہمارے جسم میں موجود کولیسٹرول کو نیچرلی پراسس کرکے وٹامن ڈی میں بدل دیتی ہے۔ بچوں کو بھی اور خود بھی صبح اور شام کی کچھ دھوپ ضرور دیا کریں۔

    4. سرجری سب سے آخر میں آتی ہے۔ اگر کوئی طریقہ بھی کارگر نہ ہو رہا ہو تو ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم آپریشن کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس سرجری کو ہم osteotomy کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ bone grafting اور کئی بچوں کی ٹانگوں میں سٹیل کا راڈ بھی ڈالا جاتا ہے۔

    سرجری آخری آپشن ہو تو چار سال کی عمر تک کروا لینے سے ہم بہتر طریقے سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔

    عموماً سرجری کے بعد بھی کوئی بریس کا میٹل کا فریم کچھ ماہ کے لیے ٹانگوں کے ساتھ لگایا جاتا کہ ٹانگیں وزن پڑنے پر پھر سے ٹیڑھی نہ ہو جائیں۔

    اس مسئلے کی روک تھام کیا ہے؟

    1. بچہ جب چلنے لگے تو گھر میں موجود نوک دار جگہوں ہر فوم لگا دیں۔ بچے کی کسی طرح کوئی ہڈی نہ ٹوٹنے پائے۔ بیڈ کے بیک کے علاوہ ہر طرف نیچے فوم بچھا کر اوپر کارپٹ ڈال دیں۔

    2. پانی میں فلورائیڈ اور لیڈ کی مقدار نارمل رکھیں۔ اپنا پانی فوراً چیک کروائیں۔

    3۔ بچوں کو وٹامن ڈی اور کیلشیم والی نیچرل غذائیں دیں۔ دھوپ میں کھیلنے دیں۔ ماں ممکن ہو تو ضرور اپنا دودھ بچے کو پورے دو سال پلائے۔ یہ خدا کا حکم بھی یے۔ پاوڈر دودھ کی بجائے بکری یا گائے کا دودھ بچوں کو پلائیں۔

    اگر اس مسئلے کو حل کیے بنا چھوڑ دیں تو بچپن میں ہی بچوں کو ایک دائمی مرض Arthritis لگ جاتی ہے۔ گھنٹوں اور پاؤں میں سوجن اور شدید درد جو کبھی جان نہیں چھوڑتا۔

    اپنے آس پاس اس طرح کا کوئی بچہ دیکھیں تو اس کے والدین کو یہ آرٹیکل ضرور پڑھائیں۔ اور مستقبل میں والدین بننے والے لوگ ان سب باتوں کا خاص خیال رکھیں۔

  • آٹزم اور شادی — خطیب احمد

    آٹزم اور شادی — خطیب احمد

    تحقیقات بتاتی ہیں کہ ACTL6B نامی جین کی میوٹیشن آٹزم، مرگی اور تقریباً تمام اقسام کی دانشورانہ پسماندگی Intellectual disability کی وجہ بنتی ہے۔ جنیٹک انجینرنگ نے ابھی اتنی ترقی دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں کی کہ اس معلوم شدہ جینیاتی مرض کو درست کرکے والدین سے اگلی نسل میں منتقل ہونے سے روکا جا سکے۔

    اب ایشیاء میں غلطی یہاں ہوتی کہ جب اوپر بیان کردہ تینوں کنڈیشنر معلوم بھی ہو چکی ہیں تو مانا ہی نہیں جاتا۔ پڑھے لکھے والدین ایسے بچوں کو قبول کرتے ہیں ان پڑھ کہتے ہیں ہمارے بچے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ اپنی من مرضی سے اسے بھوت پریت یا کسی اور وجہ سے جوڑ کر ساری عمر علاج کے نام پر دم درود تعویز گنڈے کرانے کو در در کی ٹھوکریں کھاتے رہتے۔ اور پھر ایسے افراد کی معذوری چھپا کر یا کم بتا کر شادیاں کرنے کی کوشش کی جاتی۔ اور وہ کوشش کامیاب بھی ہو جاتی۔

    ان تینوں اقسام میں والدین کے پاس تو متاثرہ جین ہوتا ہے۔ جس کے اگلی نسل میں ٹرانسفر ہونے کے چانس 50 فیصد سے بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ یعنی دو میں سے ایک بچہ اسی کنڈیشن کے ساتھ پیدا ہوگا۔ اور جہاں بھی شادیاں ہوئی ہیں بلکل ایسا ہی ہوا بھی ہے۔ آپ بے شمار مثالیں دیکھ سکتے ہیں۔

    جنکا ایک ہی بیٹا ہوتا وہ یہ کہہ کر اسکی شادی کرتے کہ ہماری نسل نہ ختم ہو جائے۔ اور کچھ ایسے مرد جنکی غربت یا کسی اور وجہ سے شادی نہ ہو رہی ہو۔ وہ ان تینوں کنڈیشنز سے کم درجے کی متاثرہ لڑکی سے شادی کر لیتے ہیں۔ کہ اولاد ہوجائے گی۔ اور اگلی نسل میں معذوری ٹرانسفر ہو جاتی۔ ہاں مرگی سے متاثرہ لڑکی کے ماں بننے کے چانسز بہت کم ہوتے ہیں اگر وہ ریگولر دوا کھا رہی ہے۔ ظاہر ہے دوا چھوڑے گی تو پھر دورے پڑیں گے۔

    شادی ہو اور اولاد پیدا نہ کی جائے تو ان میں سے کم درجے یعنی معمولی معذوری کے حامل افراد کی شادی کرنے میں حرج نہیں ہے۔ مگر یہاں تو شادی کرنے کا پہلا مقصد کی اولاد ہوتا ہے۔ اور کوئی بھی وجہ ان افراد کی شادی کے لیے نہیں ہوتی۔ تو شادیاں کرنا ان افراد کو اور خود کو مزید مشکل میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ شادیوں سے پرہیز ہی کریں۔ ان افراد کو اپنی کئیر کرنا اور خود کو سنبھالنا یا اگر ممکن ہو تو مالی طور پر خود مختار کرنا سکھایا جائے۔ تاکہ اپنی زندگی بغیر کسی سہارے کے گزار سکیں۔

  • سماعت کا ٹیسٹ پیدائش کے فوراً بعد لازمی کروائیں!!! —- خطیب احمد

    سماعت کا ٹیسٹ پیدائش کے فوراً بعد لازمی کروائیں!!! —- خطیب احمد

    بچے کی پیدائش والے دن ہی یا زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کی عمر میں سو فیصد بچوں کی سماعت کا automated otoacoustic emission (AOAE) test ٹیسٹ کروائیں۔ یہ بات آپکو کوئی گائناکالوجسٹ پورے نو ماہ اسکے پاس ریگولر چکر لگانے پر بھی نہیں بتاتی۔ نہ پیدائش کے بعد کسی بھی ہسپتال میں یہ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ شاید ڈاکٹروں کو بھی اسکا شعور نہیں ہے۔ یا شعور ہے تو معاملے کی سنگینی کا اندازہ نہیں۔

    بچہ ایک یا دونوں کانوں سے سماعت مکمل یا جزوی محروم ہے۔ یا آواز سننے میں اسے مشکلات کا سامنا ہے۔ تو زندگی کے پہلے مہینے سے ہی اسے ارلی انٹروینشن فراہم کی جائے گی۔ Early Intervention جتنی جلدی شروع ہوگی۔ بچے کے نارمل ہونے کے چانسز اتنے زیادہ ہوتے ہیں۔

    انٹروینشن میں کیا ہوتا ہے؟

    والدین کی کاونسلنگ اور ٹریننگ سب سے پہلے ہے۔ کہ وہ اس صورت حال کو سمجھیں۔ اور بچے کو حکیموں دم درود والے پیروں کے پاس لیجانے کے جذباتی ری ایکشن کی بجائے بچے کی ان معنوں میں مدد کریں۔ جس سے بہتری ممکن ہے۔

    نوے فیصد والدین کو جس بھی عمر میں بچے کی کسی معذوری کا پتا چلتا ہے۔ وہ رونا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ گھر میں ماتم شروع ہوجاتا ہے۔ اور معذوری کو قبول کرنے کی بجائے اسکا انکار کر دیتے ہیں۔ یوں وہ اس بچے کو ٹھیک کرنے کی روایتی علاجوں سے کوشش کرتے ہیں۔ کہ بچہ کسی طرح بلکل نارمل دوسرے بچوں کی طرح ہو جائےجو اسنے نہیں ہونا ہوتا۔

    ہو بھی سکتا ہے البتہ جب ہمارے ہاں یہ بات مکمل طور پر معلوم ہوتی ہے کہ بچہ ڈیف ہے۔ تب تک پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے۔

    بچے کو فوراً سننے میں مددگار اگر ڈیوائس کی ضرورت ہے تو کسی مستند آڈیالوجسٹ سے مشورہ کر کے آلہ سماعت لگوائیں۔ یاد رہے اپنے آپ یا جگہ جگہ بیٹھے آلہ سماعت بیچنے والے ٹھگوں کے پاس نہیں جانا۔ جس کو نہیں بھی ضرورت ہوتی وہ اسے بھی لگا دیتے۔ یا اسکی سیٹنگ کا انہیں سطحی علم ہوتا ہے۔ جو کافی نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر کی فیس بچانے کے لیے بچے کی زندگی نہ برباد کریں۔

    اگر ڈیوائس کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹر بتاتا ہے کہ محض عام آواز سے ابھی تھوڑا سا اونچا بولنا ہے۔ تو ہدایات پر عمل کریں۔

    نیوٹریشن پلان بنوائیں۔

    ایک سال کی عمر میں سپیچ تھراپی شروع کروائیں۔

    سماعت سے محرومی اگر دونوں کانوں میں Profound لیول کی ہو یعنی 95 ڈیسی بل کی آواز سنی جا سکتی ہو۔ تو زندگی کے پہلے سال میں ہی کاکلئیر امپلانٹ کروائیں۔ آرٹی فیشل کاکلیا کان کے اندرونی حصے کا آپریشن کرکے لگایا جاتا ہے۔ جس سے بچہ نارمل سننا شروع کر دیتا۔

    کاکلیئر امپلانٹ کے بعد فوراً ریگولر ایک سال تک بچے کو کسی ماہر سپیچ تھراپسٹ سے سپیچ تھراپی کروائیں۔ خود استاد بننے کی کوشش نہ کریں۔ نہ یہ سمجھیں کاکلیا لگ گیا ہے تو بچہ بولنے لگ جائے گا۔

    کاکلئیر امپلانٹ زندگی کی ابتدائی 5 سالوں تک ہو سکتا ہے۔ جتنا تاخیر سے ہوگا۔ بچے کو بولنا سیکھنے میں اتنا ہی زیادہ وقت لگے گا۔ اسکے بعد بھی ہو سکتا ہے۔ مگر جتنی جلدی ممکن ہو کروا لیں۔

    ایسا کرنے سے امید کی جا سکتی ہے کہ بچہ انشاء اللہ نارمل لوگوں کی طرح آلہ سماعت کی مدد سے یا کاکلئیر امپلانٹ سے سننے کے قابل ہو جائے گا۔ جب سنے گا تو ظاہر ہے سپیچ تھراپی سے انشاء اللہ بولے گا بھی۔

    غلطی یہاں ہوتی ہے کہ کسی بھی مددگار ڈیوائس کے بغیر لوگ بچے کو نارمل سنانا چاہتے ہیں اسے بلوانا چاہتے ہیں۔ جو کسی طرح بھی ممکن ہی نہیں ہوتا۔ اور سماعت سے محروم لوگوں کی تعداد دن بدن خطرناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ سپیشل ایجوکیشن کے سکول مشہور ہی ان بچوں کے نام سے ہیں کہ گونگے بہرے بچوں کا سکول ہے۔ باقی سپیشل بچوں کی بھی تعلیم ہوتی ہے۔ یہ ہمیں بتانا پڑتا ہے۔ سکول میں سب سے زیادہ تعداد سماعت سے محروم بچوں کی ہی ہوتی ہے۔۔میرے اپنے سکول میں 85 ہیں۔

    ہر 600 میں سے ایک بچہ کسی نہ لیول کے سماعتی نقص کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق کسی بھی ملک کی 5 فیصد آبادی (تمام عمر کے افراد) کسی نہ کسی سطح پر سماعت سے محرومی کا شکار ہیں۔ پاکستان کی آبادی 20 کروڑ بھی مانیں تو ایک کروڑ سماعت سے محروم لوگ ہمارے ملک میں موجود ہیں۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ پیدا ہوتے ہیں سماعت کا ٹیسٹ ہر صورت کروائیں۔ بچہ رسپانس نہیں کرتا ایک ماہ کی عمر میں دو ماہ کی عمر میں پھر کروا لیں۔۔ یہ باتیں اپنے سرکل میں عام کریں۔ انکو ڈسکشن کا حصہ بنائیں۔ تاکہ آنے والی نسل کو اس معذوری سے بچایا جا سکے۔

    سماعت سے محرومی کی وجوہات، روک تھام، شادی، تعلیم، اور موزوں کام پر تفصیلی مضمون پھر کسی دن شئیر کروں گا۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ پیغام ہر فرد تک پہنچے۔