Baaghi TV

Tag: خطیب احمد

  • لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    لاوڈ سپیکر اور سماعت کے مسائل — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں ہر 5 میں سے ایک فرد سماعت کے مسائل کا شکار ہے۔

    دنیا میں اس وقت 49 کروڑ سننے کے مسائل کا شکار ہیں۔ یہ تعداد 2050 تک 1.5 ارب ہونے کا خدشہ ہے۔

    یہ تعداد بڑھتی کیوں جا رہی ہے۔

    جب پھول کی ایک ننھی کلی چٹخ کھلتی ہے۔ یا کسی شاعر کی محبوبہ بغیر آواز پیدا کیے مسکراتی ہے تو 5 ڈیسی بل کی آواز پیدا ہوتی ہے۔ کلی کا چٹخنا اور کسی لڑکی کی بغیر آواز کی مسکراہٹ بھی سنی ج سکتی ہے۔ یہ آواز دنیا میں 0.5 فیصد لوگ سن سکتے ہیں۔

    نارملی ہم 15 سے 20 ڈیسی بل کی ہلکی سے ہلکی آواز سن سکتے ہیں۔ ہماری نارمل گفتگو 50 سے 60 ڈیسی بل تک کی ہوتی ہے۔ 70 ڈیسی بل تک کی اونچی آواز سننا کان کے لیے محفوظ ہے۔ 70 ڈیسی بل کی آواز موبائل فون سے ہینڈز فری لگا کر 7 نمبر والیوم پر سنی جا سکتی ہے۔ جس کے بعد موبائل وارننگ دیتا ہے کہ آگے جائیں گے تو آپکی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    90 ڈیسی بل پر آواز کے ساتھ تھرتھراہٹ شامل ہوجاتی ہے۔ 90 سے اوپر کی آواز جو فرد سن سکے اسے ڈیف کہتے ہیں۔ 100 ڈیسی بل کی آواز یعنی موبائل کا ہینڈز فری میں فل والیوم کرکے 30 منٹ تک سننے پر ہم اپنے کان کے اتنا نقصان پہنچا لیتے کہ جیسے آپکی ایک انگلی کا ایک پورا کاٹ دیا جائے۔

    راک سٹار میوزک میں آوازیں 120 ڈیسی بل تک جا رہی ہوتی ہیں۔ مگر اس آواز میں ساؤنڈ اور تھرتھراہٹ مکس ہوتی ہے۔ ووفر لگے ہوتے ہیں۔ ماہر ڈی جے آوازوں کی فریکوئنسی ہر لمحے بڑھا گھٹا رہا ہوتا ہے۔ کہ کان کا پردہ نہ پھٹ جائے۔ صرف 20 منٹ تک 120 ڈیسی بل کی آواز کان میں ڈالی جائے تو کان کا پردہ ہی نہیں دماغ کو آواز کے سگنل دینے والی نسیں بھی پھٹ جائیں۔

    اب ہو کیا رہا ہے؟ مساجد امام بارگاہوں کے اندر لگے ریگولر اسپیکرز اور دیگر مذہبی رسومات جیسے مجلس محفل جلسے میں یا شادی پر مہندی وغیرہ کی رسم پر ہم جو ساؤنڈ سسٹم استعمال کرتے ہیں۔ آپکو پتا ہے اسکی فریکوئنسی کتنی ہوتی ہے؟ کم سے کم 100 ڈیسی بل سے اوپر جو آواز مسلسل ہمارے کان ڈیمج کر رہی ہوتی۔

    میں اس رمضان میں تراویح پڑھ رہا تھا۔ اسپیکر کی آواز 100 سے110 ڈیسی بل کی تھی۔ دوسری تروایح میں مجھے نماز توڑ کر سپیکر بند کرنا پڑا نہیں تو میرے کان کا پردہ پھٹ جاتا۔ لوگ اتنی اونچی آواز سے اوزار ہوتے ہیں مگر مذہبی آداب کی وجہ سے چپ بیٹھے رہتے۔ اور اوپر سے کئی مولوی صاحبان گلا پھاڑ پھاڑ کر آواز کی فریکوئنسی کو مزید بڑھا رہے ہوتے ہیں۔

    میں نے اپنے امام صاحب کو گائیڈ کیا کہ آواز کم رکھیں کیوں سارے نمازیوں کو بہرہ کرنا ہے۔

    مسجدوں کی چھتوں پر لگے یونٹ بھی بہت خطرناک ہیں۔ انکی جگہ آواز کی تھرو کی رینج بڑھانے والے سپیکرز انسٹال کرنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ اسپیکروں کی فریکوئنسی 120 سے 140 تک ہوتی ہے۔ مسجد کے قریب گھروں میں لوگوں کی سماعت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ ابھی آپ میں سے کئی مجھ پر فتویٰ لگانے آجائیں گے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے۔ اذان اور قرآن روح کو سکون تب دے سکتے ہیں جب انکی آواز متوازن ہو اور 70 سے 80 ڈیسی بل تک ہی ہو۔

    محفل نعت، میلاد النبی کی محافل، مجالس عزا، جلسے، مہندی کے فنکشن میں خدارا اسپیکروں کی آواز کم رکھیں۔ ہینڈز فری کا والیوم کبھی بھی 7 سے اوپر نہ کریں۔ مساجد کی چھتوں پر لگے یونٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کریں۔ نماز اور جمعہ کی تقریر کے لیے مساجد میں استعمال ہونے والے ریگولر اسپیکرز کی آواز اگر کانوں کو سکون دینے کی بجائے بیزار کرتی ہے۔ تو قاری صاحب کو سمجھائیں کہ بلند آواز زیادہ اثر نہیں کرتی۔ اپنا مطالعہ وسیع کریں بات دلیل و منطق سے کریں دل بدل دے گی۔

    ہمارے کانوں کے ساتھ جو ظلم مذہبی اجتماعات میں ہوتا نجی محفلوں میں ہوتا۔
    مغرب میں یہ سب وہاں لوگوں کے ساتھ بار اور میوزیکل نائٹس میں ہوتا ہے۔

    وقتی تھرل Thrill کانوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہے۔ یہاں بھی وہاں بھی۔

    ہمیں مساجد اور بڑے اجتماعات میں ڈیسی بل میٹرز لگانے کی ضرورت ہے کہ جس سے معلوم ہو سکے آواز محفوظ کی حد سے بڑھ تو نہیں رہی۔

    ہینڈز فری کا استعمال خدا را کم سے کم کریں۔ اپنی سماعت کو بچائیں۔ کوئی بھی آلہ سماعت قدرتی سننے کی صلاحیت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

  • سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    سوچوں کی فریکوئنسی!!! — خطیب احمد

    کوئی چار سال پرانی بات ہے۔ مجھے ایک لڑکی اچھی لگی اور بائیک سے گاڑی پر شفٹ ہونے کا خیال بھی آیا۔ کہ "وہ” بائیک پر بیٹھی اچھی نہیں لگے گی۔ اور اس پر مٹی بھی پڑے گی۔ میں ان دنوں بڑے لمبے لمبے وٹس ایپ سٹیٹس لکھا کرتا تھا۔ میرے قریبی دوست جانتے ہیں۔ جیسے اب فیس بک پر لکھتا ہوں ایسے ہی وٹس ایپ پر لکھتا تھا۔ بڑی آڈئینس کے سامنے اپنے وچار رکھنے کی ہمت نہ تھی۔ اور لکھنے میں تب یہ روانی بھی تو نہ تھی۔ انہی دنوں میں یہ کتاب دی سیکرٹ پڑھی۔ اور آنٹی بائرن کی اسکے بعد آنے والی تینوں کتب میجک، پاور، ہیرو بھی پڑھیں۔

    ان سب کتب کا مدعا یہ تھا کہ ہم جو بھی سوچتے ہیں وہ ہو جاتا ہے۔ اپنی سوچوں کی فریکوئنسی سے ہم کائنات کو پیغام دیتے ہیں۔ اور جو ہم سوچتے ہیں وہ بس ہوجاتا ہے۔ اس بات میں نے سچ مان لیا۔ اور نہ صرف خود کچھ گولز سیٹ کیے بلکہ اپنے دوستوں کو بھی ترغیب دی کہ ہم خود ہی اپنی ایک لمٹ طے کر لیتے ہیں۔ اور اس سے باہر نہیں سوچتے۔ صرف سوچنا ہی تو کافی نہیں ہوتا۔

    اسکے بعد سامنے آنے والے مواقع و امکانات کو اویل بھی کرنا ہوتا ہے۔ مجھے تنخواہ کے حساب سے دو یوٹیوب چینلز نے آزاد کرایا جنکو میں سکرپٹ لکھ کر دیتا تھا۔ اور آمدن کا 30 فیصد مجھے ملتا تھا۔ پھر سپیشل بچوں کے والدین کو دی جانی والی کنسلٹنسی ایک اور آمدن کا حصہ بنی۔ اوپن یونیورسٹی کی ٹیوٹرشپ اور آن لائن لیکچرز سالانہ آمدن میں 2 سے 3 لاکھ اضافے کی وجہ بنے۔ اور کچھ نہ کچھ ایسا ہی ساتھ چلتا رہا۔

    میری یہ سوچ تھی کہ سرکاری جاب کو چلاؤں یا چھوڑ دوں میری آمدن ایک ہزار ڈالر سے کم نہ ہو بس۔ یورپ جانے کا خیال آیا پھر سوچا وہاں گاڑیوں میں پٹرول بھرنے یا کسی سٹور پر کام کرنے یا ٹرک چلانے سے تو رہا۔ جس فیلڈ کو زندگی کے قیمتی ترین 10 سال دے چکا اب وہی جینا مرنا ہے۔ اور اس 1 ہزار ڈالر والے گول کو میں نے 2021 کے آخر میں ہی حاصل کر لیا تھا۔ ہمیں بس اپنے کمفرٹ زون سے نکلنا ہوتا اور کچھ قربانیاں دینی ہوتی ہیں۔ چند سال راتوں کو کسی مقصد کی لگن میں جاگنا ہوتا ہے۔ اور اس سب کی قیمت ضرور ملتی ہے۔ ٹائم لگتا ہے مگر محنت کا پھل ملتا ضرور ہے۔ میری جاب بھی کوئی عام ملازمت تو ہے نہیں بلکہ میرا عشق ہے۔ جو بڑھتا ہی چلا گیا۔ کچھ بھی کروں وزیر اعظم پاکستان ہی کیوں نہ بن جاؤں ان سپیشل بچوں کے ساتھ براہ راست کام کرنا نہیں چھوڑ سکتا۔

    پہلی لائن میں مذکورہ لڑکی کی شادی جلد ہی ہوگئی تھی۔ آس پاس ٹھنڈی اے سی والی ہوائیں بس چند دن ہی چل سکیں تھیں۔ اور میں تو اسے پرپوز بھی نہ کر سکا تھا۔ جس گاڑی میں اسے بٹھانے کا سوچا تھا وہ اب کافی دیر بعد ملی ہے۔ ابھی کل ہی اسکا میسج آیا۔ گاڑی کی مبارک باد دی اور بتا رہی تھی کہ اسکی شادی شاید چل نہ سکے۔ وہ رشتہ بچانے کی ناکام کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ اسکا خاوند اولاد نہ ہونے کی وجہ فیملی پریشر میں ہے اور دوسری شادی کا سوچ رہا ہے۔ جہاں وہ شادی کرنا چاہتا انکی ڈیمانڈ ہے کہ پہلی کو طلاق دو پھر رشتہ دیں گے۔ اب اس سب میں جو ہونے جا رہا میرا تو کوئی قصور نہیں ۔ میں تو اسے پرپوز تک نہیں کر سکا تھا۔

    آنٹی بائرن کو ای میل کر دی ہے کہ بتائیں اب کیا کروں۔ گاڑی جو سوچی تھی چار سال بعد مل گئی۔ آپکا شکریہ کہ یہ خوشحالی کی طرف جانے کی سوچ اور راستہ آپ نے ہی دکھایا تھا۔ سالوں پہلے چھوڑی گئی فریکوئنسی یہاں کام خراب کر رہی ہے۔ ان لہروں کو واپس لانے کا کوئی طریقہ بتائیں کہ میری تو اب شادی ہو چکی ہے.

  • سماعت کی حس کے ابتدائی مدارج ماں کی کوکھ میں —  خطیب احمد

    سماعت کی حس کے ابتدائی مدارج ماں کی کوکھ میں — خطیب احمد

    صرف چار ہفتے کے حمل میں انسانی ایمبریو کا دماغ بن چکا ہوتا ہے۔ پانچویں ہفتے دماغ کی دونوں اطراف میں دو چھوٹے سے سوراخ بن جاتے ہیں۔ یہ کان کے اندرونی حصے کا آغاز ہوتا ہے۔۔ ایک دو ہفتوں میں یہ سوراخ اندر کی طرف گولائی میں فولڈ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ ہی دن میں یہ گولائی کاکلیا Cochlea بن جاتی ہے۔ جی بلکل سب سے پہلے کان میں کاکلیا بنتا ہے۔ کان کا اندرونی حصہ۔

    آٹھویں ہفتے میں کان میں موجود تین چھوٹی ہڈیوں کا سٹرچر بننا شروع ہوتا ہے۔ جو آواز کان میں آنے پر وائبریٹ کرتی ہیں اور آواز کو سننے میں مدد دیتی ہیں۔ ایک ٹیوب کی شکل میں کیویٹی جو اس سٹرکچر کے گرد بننا شروع ہوتی ہے۔ اسے ہم کان کا درمیانی حصہ کہتے ہیں۔ پہلے Inner ear بنا تھا اور اب middle ear بننے لگا ہے۔

    حمل کے بارہویں ہفتے میں کاکلیا کے اندر چھوٹے چھوٹے بال اگنا شروع ہوتے ہیں۔ جنہیں ساؤنڈ ٹرانسمیٹرز کہا جاتا ہے۔ یہ بال کاکلیا کے ساتھ ہی نس (Nerve) میں بھی شفٹ ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو آواز کے سگنل دماغ تک لے جا رہی ہے۔ یہ آواز کے سگنل لیجانے والی نس ہمارے برین کے ٹیمپورل لوب میں موجود آڈیٹری کارٹیکس کے ساتھ کنکیشن ہوئی ہوتی ہے۔ جہاں بے معنی شور کو پراسس کرکے دماغ معنی اور مخصوص پہچان عطا کرتا ہے۔

    حمل کے پندرہویں ہفتے تک بیرونی کان مکمل بن چکا ہوتا ہے۔ جیسے ہی حمل کے سولہویں ہفتے یعنی چار ماہ کے حمل میں خدا کے حکم سے بچے کے جسم میں روح پھونکی جاتی ہے تو جسم کے دیگر تمام حصوں کے ساتھ کان بھی اپنا ابتدائی کام کرنا شروع کرتا ہے۔

    تقریباً اٹھارہویں ہفتے میں بچہ ماں کے سانس لینے، کھانا ہضم کرنے، دل کی دھڑکن سننے لگتا ہے۔ باہر کی دنیا سے وہ ابھی کوئی آواز نہیں سن رہا۔

    حمل کے تئیسویں ہفتے بچہ کوکھ سے باہر کی دنیا میں سے آواز سنتا ہے۔ باہری دنیا کی آوازوں میں سے بچہ پہلے low-pitched ساونڈز سنتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ ماں کی آواز سے پہلے باپ کی آواز سنتا ہے۔ یا کوئی بھی مردانہ آواز۔ ایسے ہی وہ بلی کی آواز نہیں سن سکتا مگر کتے کے بھونکنے کی آواز سن سکتا ہے۔ مگر جیسے جیسے کانوں اور دماغ کا کنیکشن میچور ہوتا جاتا ہیں وہ ماں کی آواز بھی سننے لگتا ہے۔

    ماں کے پیٹ میں بچے کا کان انتہائی حساس ہوتا ہے۔ اللہ نے اسکی حفاظت کے لیے تین تہیں بنا دی ہیں۔ سب سے پہلے ماں کے پیٹ کی اسکن۔ دوسرے نمبر پر کوکھ کی اسکن۔ اور تیسرے نمبر پر کوکھ میں موجود پانی جو کان تک انتہائی اونچی آواز جانے میں حائل ہوجاتا ہے۔ واہ میرے مالک کون لوگ ہیں جو تیری ذات کا انکار کرتے ہیں۔ اگر صرف کوکھ میں یہ پانی ہی نہ ہو تو کسی بس کا ہارن یا دروازہ زور سے بند ہونے پر ماں کے پیٹ میں ہی بچے کی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    یہ آوازیں بچے کے لیے بامعنی نہیں ہوتیں۔ اسے نہیں پتا ہوتا کہ یہ کیا کہا جا رہا ہے۔ چھبیسویں ہفتے تک بچہ کسی آواز کو سننے پر تین طرح کے ری ایکشن دیتا ہے۔ اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے سانس تیزی ہوتی یا وہ حرکت کرتا ہے اور کائنات کو پیغام دے رہا ہوتا ہے میں سن رہا ہوں۔

    بتسویں ہفتے تک اگر بچے کا سونوگرام کیا جائے تو پاس کوئی بات کرکے یا میوزک چلا کر بچے کے چہرے کے تاثرات اور سمائل تک دیکھی جا سکتی ہے۔ پینتسویں ہفتے تک بچہ اپنے آس پاس سنی جانے والی اپنی امی اور ابو کی آواز سے غیر شعور میں مانوس ہو چکا ہوتا ہے۔

    یہی وجہ سے جب بچہ پیدا ہوتا تو باہر دنیا میں وہ اپنی ماں کی ڈائیریکٹ آواز سن کر روتے ہوتے ہوئے فوراً چپ کر جاتا ہے۔ اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس لڑکی کی آواز سنی سنی لگتی ہے۔ یہ لڑکی ضرور میری اپنی ہے۔ اس سے ضرور کوئی گہرا رشتہ ہے۔ سو لوگوں کی آوازوں میں سے وہ چند منٹوں کی زندگی کا بچہ اپنی ماں کی آواز میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ماں کی کوکھ میں بچے کی سماعت کا خیال کیسے رکھا جائے کہ وہ سماعت سے محروم نہ ہو؟

    اپنی من مرضی کی دوائیاں نہ کھائیں۔ کہ میری بہن نند جٹھانی دیورانی کو حمل میں یہ ہوا تھا اس نے یہ گولی کھائی تو وہ ٹھیک ہوگئی میں بھی کھا لیتی ہوں۔ یہ خطرناک ترین عمل ہے۔ دوران حمل کوئی بھی اینٹی بائیوٹک کھانے سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ حمل میں دانتوں کا علاج کروانے سے گریز کریں اس میں بہت ہیوی اینٹی بائیوٹک کھانا پڑتی ہے۔ جو بچے کی سماعت کو خراب یا ختم بھی کر سکتی ہیں۔

    آپکا گھر مسجد امام بارگاہ وغیرہ کے قریب ہے جہاں سپیکرز کی آواز بہت ہی زیادہ آتی ہے۔ تو پلیز حمل کے دنوں میں اس گھر سے کہیں اور شفٹ ہوجائیں۔ یا اذان کے وقت کسی ایسے کمرے میں یاد سے بیٹھ جائیں جہاں آواز بہت کم آسکے۔ اسپیکرز کی اتنی تیز اور ہائی پچ آواز ہوتی کہ بڑے لوگوں کی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچہ یا نومولود چھوٹا بچہ تو انتہائی رسک پر ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ بہت اونچی بولنے والی خواتین کے پاس حاملہ لڑکی 10 تا 20 منٹ سے زیادہ نہ بیٹھے۔ اونچی آواز میں میوزک نہ چلائے۔ شادیوں میں فوجی بینڈ والوں سے دور رہے۔ شبرات پر دوران حمل آپ کے آس پاس پھوڑا گیا کوئی پٹاخہ یا بم آپکے پیٹ میں موجود بچے کو ساری عمر کے لیے سننے سے صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے۔

    الکوہل اگر آپ پیتی ہیں تو دوران حمل پلیز نہ پئیں۔ یہ عادت بھی بچے کی سننے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    حاملہ لڑکی کو نو ماہ انتہائی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ اسے کوئی دکھ پریشانی نہ دیں۔ مالی مشکلات کو قرض لے کر ہی عارضی طور پر ختم کر لیں۔ ماں کا دوران حمل پریشانی و ٹینشن میں رہنا، یا خوش نا رہنا، ذہنی تناؤ میں رہنا بھی بچوں میں متعدد معذوریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    حمل میں مچھلی انڈے بادام کی سات سے نو گریاں روزانہ رات کو بھگو کر صبح، زیتون، کچا ناریل ضرور کھائیں۔ یہ پیدا ہونے والے بچے میں سماعت کی حس کو قدرتی طور پر اچھا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

  • اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا (برٹل بون) Osteogenesis Imperfecta (OI) — خطیب احمد

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا (برٹل بون) Osteogenesis Imperfecta (OI) — خطیب احمد

    زینب بیٹی جسکی دو ہفتے قبل میں نے وڈیو بھی لگائی تھی۔ اپنے علم کے مطابق جینو ویلگم Genu Valgum اور سکالئیوسز Scoliosis ہونے کا امکان ظاہر کیا تھا۔ جب سے اسے ملا میں اس بچی سے رابطے میں تھا مسلسل ریسرچ کر رہا تھا۔ مرہم ایپ کے ذریعے کئی آرتھوپیڈک و نیوروسرجنز سے مشورہ کر رہا تھا۔

    آج زینب کی اپائنٹمنٹ لاہور سے آئے ہوئے آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر ذکا اللہ ملک سے لی ہوئی تھی۔ زینب اپنے ماموں ذاد بھائی کے ساتھ صبح ہمارے گھر آئی۔ میری اہلیہ سے کافی دیر گپ شپ کرتی رہی۔ پھر ہم لوگ حافظ آباد زم زم ہسپتال گئے۔ ڈاکٹر ذکا اللہ ملک کے ساتھ ڈاکٹر خضر عباس سندھو بھی ڈائگنوسز میں شامل تھے۔ دونوں ڈاکٹرز کے پیلوک، پوری سپائن، دونوں ٹانگوں، دونوں بازوؤں، کندھوں کے ڈیجیٹل ایکسرے کیے۔ مکمل ہسٹری لی کچھ بلڈ ٹیسٹ کیے۔ اور ابتدائی طور پر اس نتیجے پر پہنچے کہ بیٹی کو جینو ویلگم، سکالئیوسز کے ساتھ اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا بھی ہے۔ اس کا مطلب ہے امپرفیکٹ بون فارمیشن۔ یعنی ہڈیوں کا ٹھیک سے نہ بننا۔ اس بیماری میں ہڈیاں بڑی کمزور ہوتی ہیں اور آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ یہ ایک پیدائشی جینیاتی بیماری ہے۔

    اسے پروفیشنلز او آئی (OI) کہتے ہیں۔ اس کے تین اور نام بھی ہیں۔ جو کہ یہ ہیں
    Fragilitas ossium
    Brittle bone disease
    Vrolik disease

    میں نے اس کی اب تک 19 اقسام پڑھی ہوئی ہیں جنہیں ٹائپ 1 سے ٹائپ 19 کے نام سے ہی عموماً جانا جاتا ہے۔ ابتدائی تشخیص میں زینب کو ٹائپ 1 جسے
    classic non-deforming osteogenesis imperfecta with blue sclerae
    کہتے ہیں۔ ڈائگنوز ہوئی ہے۔ مگر ابھی یہ کنفرم نہیں۔ ٹائپ 1 کے بچوں کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے۔ کہ انکی انکھ کا سفید حصہ مائنر سا نیلا ہوتا ہے۔ یہ ٹائپ 1 ویسے اس بیماری کی سب سے کم درجے پر ہڈیوں کا نقصان کرنے والی قسم ہے۔ تمام او آئی بچوں میں 50 فیصد کو یہی ہوتی ہے۔

    او آئی 1 بچوں کی اکثریت میں ریڑھ کی ہڈی ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ جوڑ بڑے کمزور ہوتے ہیں۔ پسلیاں بھی بیرل شیپ میں ہوتی ہیں۔ جوڑ ٹھیک سے نہیں بنے ہوتے۔ یہ سب کچھ زینب کے ساتھ بچپن سے ہے۔

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا کی بیماری عام طور پر دنیا بھر میں 15 ہزار بچوں میں سے 1 کو ہوتی ہے۔

    اسکی وجوہات جنیٹک میوٹیشن ہی ہمیشہ ہوتی ہیں۔ جب ہم جینیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مختلف جینز مختلف پروٹینز بنانے کا سافٹ ویئر اپنے اندر بلٹ ان رکھتے ہیں۔ ان میں سے کسی بھی جین میں کوئی گڑ بڑ ہوجائے تو جس چیز کو بنانے کے وہ ذمہ دار ہوتے اس میں خرابی یا بگاڑ آجاتا ہے۔ سائنس کے اساتذہ یا سٹوڈنٹس جانتے ہیں کہ کولاجن نامی پروٹین ہمارے جسم میں ہڈیاں بنانے اور ان کی گروتھ کی ذمہ دار ہے۔

    اور کولاجن کتنی بنانی ہے کب بنانی ہے اسے کنٹرول کرنے کی ذمہ داری میرے مالک نے ایک خاص ننھی منھی سے شے جسے ہم COL1A1 جین کہتے کے ذمے لگا رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسکا دوسرا جین بھائی COL1A2 ہے جو یہی کام کرتا ہے۔ ان دونوں میں کوئی بھی گڑ بڑ ہمارے پورے ہڈیوں کے ڈھانچے کو کسی بھی طرح خراب کر دیتی ہے۔ یہ دونوں ہی 90 فیصد ہڈیوں کی فارمیشن کے ذمہ دار ہیں گو کچھ اور جینز جیسے FKBP10 بھی ان کا ساتھ دیتا ہے۔

    اس مرض سے متاثرہ لوگوں کا قد نہیں بڑھتا۔ زیادہ سے زیادہ تین فٹ تک یہ جا پاتے ہیں۔ اور سپائن تقریباً سب کی ٹیڑھی ہو جاتی۔

    اوسٹیو جنیسز امپر فیکٹا
    autosomal dominant pattern of inheritance
    پر کام کرتا ہے۔ یعنی ہر سیل کی ایک کاپی ہی ہمارے جینز میں سوئی ہوئی اس بیماری کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ ٹائپ 1 سے 4 تک کے والدین میں سے کوئی ایک عموما اس کا کیرئیر ہوتا ہے۔ یعنی اس کے جینز میں یہ بیماری ہوتی ہے۔ جو جنیٹک ٹیسٹنگ سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ جنیٹک ٹیسٹنگ پر میں تفصیلی دو مضمون لکھ چکا ہوں انہیں آپ میری وال پر پن گئی پوسٹ میں دیے گئے لنک سے پڑھ سکتے ہیں۔

    علاج کیا ہے؟

    بچے کی عمر سب سے پہلے دیکھی جاتی۔ مجموعی صحت کا اندازہ لگایا جاتا۔ او آئ کے ساتھ جڑی ہوئی دیگر میڈیکل کنڈیشنز کو دیکھا جاتا ہے۔ کہ سرجری سے کوئی اور نقصان تو نہیں ہوگا۔

    ایسی دوائیاں مسلسل دی جاتی ہیں جو ہڈیوں کو مضبوط کریں۔

    بچے کا روز مرہ لائف میں گرنے چھلانگ لگانے وغیرہ کا رسک کم سے کم کیا جاتا۔

    کوئی لائٹ ویٹ بریس لگا دی جاتی۔

    سرجری بھی کچھ کیسز میں ہوتی ہیں۔

    کچھ بڑی ہڈیوں جیسے ران، پنڈلی، سپائن میں سٹیل کے راڈ بھی ڈالے جاتے ہیں۔

    بہت سے بچوں کے دانت بہت ٹیڑھے ہوتے ان کو کیپنگ بریسنگ کے ذریعے ٹھیک کیا جاتا۔

    فزیوتھراپی اور آکو پیشنل تھراپی ماہرین سے بہت ضروری ہے۔

    ٹیکنالوجیکل سپورٹ جیسے پاور ہائیڈرالک سسٹم والی وہیل چیئرز، سپیشلائزڈ کمپیوٹرز، کھانا کھانے کے چمچ گلاس وغیرہ ان کے لائف سٹائل میں ایڈ کئے جاتے۔

    دھکا لگا کر چلنے والی عام وہیل چیئر ان بچوں کے لیے سب سے خطرناک چیز ہے۔ اس میں ایک تو ان کی سپائن اور ڈیمج ہوتی۔ دوسرا ٹھوکر لگنے سے اکثر بچے اس کرسی سے نیچے گر کر ہڈیاں تڑوا لیتے اور فوت ہو جاتے۔

    ان کے لیے وہ وہیل چیئرز ہوتی ہیں جن پر بہت سے بیلٹ لگے ہوتے ہیں۔ بجلی سے چلتی ہیں۔ فلی آٹو میٹک ہوتی ہیں۔ کسی بھی طرح کی کھائی یا جمپ سے گزرنے پر الٹتی نہیں ہیں۔

    ہر کیس کو دیکھ کر اس کے لائف سٹائل اور علاج ک فیصلہ کیا جاتا ہے۔

    زینب بیٹی کے لیے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اب ان دونوں ڈاکٹرز نے ہمیں لاہور ڈاکٹر سلطان کے پاس ریفر کیا ہے۔ ان شاءاللہ چند دن میں ہی لاہور کا وزٹ ہوگا۔

    سرجری تو مشکل ہے زینب کی ہو۔ سپائنل کارڈ بہت خراب ہو چکی ہے۔ سٹیل راڈ ڈل گیا تو قد بڑھنا رک جائے گا۔ گھٹنے کی ہڈیوں میں سے بھی ایک ہڈی ٹوٹی ہوئی ہے۔ گھٹنے میں الگ پڑی ہوئی۔ گھٹنے کی سرجری بھی کسی خطرے سے خالی نہیں۔ میری سمجھ کے مطابق بچی کو ٹانگ اور سپائن کو سپورٹ دینے والے بریس لگانے کا ہم فیصلہ کریں گے۔ وہیل چیئر پر ابھی نہیں بٹھائیں گے۔ ورنہ جو تھوڑا بہت چل لیتی وہ بھی ختم ہوجانا ہے۔

    خیر ابھی کسی بھی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے کئی اور طبی ماہرین کے وزٹ و میڈیکل پراسس ہونا باقی ہیں۔ دعاؤں کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ زینب بیٹی اور اس طرح کے دیگر بچوں کو اپنی پناہ میں رکھے۔ اور ہمیں ان کا ہاتھ تھامنے کی توفیق عطا فرمائے۔

    میں اور ڈاکٹر ذکا اللہ ظہر کی اذان ہوجانے پر نماز پڑھنے مسجد جانے لگے تو زینب نے کہا انکل مجھے بھی لے جائیں۔ تو ہم اسے بھی ہسپتال کے اندر ہی واقع مسجد میں ساتھ لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب بھی بہت جذباتی ہو گئے اتنی پیاری بچی کو دیکھ کر اور آئندہ بھی پورے تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ کوئی ڈاکٹر اتنا وقت نہیں دیتا جتنا آج کوالٹی ٹائم زینب کو ملا۔

    ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے۔ کہ آپ جیسے سمجھ رکھنے والے لوگ والنٹیئرلی ایسے بچوں کے ساتھ آئیں تو ہمیں بڑی آسانی ہو۔ آپکو تو کچھ بتانا ہی نہیں پڑ رہا ہم کسی بھی ٹرم کا نام لیتے ہیں آپ تفصیل خود بتا رہے ہیں۔ والدین جو اکثر پڑھے لکھے نہیں ہوتے کو بات سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ بیماری کا سن کر کمرے میں مریض کے سامنے ہی رونے پیٹنے لگ جاتے۔ ہم پھر تفصیل بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ چپ کرکے اپنا علاج کرتے رہتے۔ اور وہ کہتے ڈاکٹر کو تو کچھ پتا ہی نہیں اس نے ہمیں کچھ بتایا ہی نہیں۔ اور آئے روز سادہ لوح لوگ کوئی کسے نئے ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے۔ اب لوگ بھی بیچارے کیا کریں۔ کس کو ساتھ لے کر جائیں۔ آج کے دور میں کون کسی کے لیے وقت نکالتا۔ ہر بندہ ہی اپنی لائف میں ایسا مصروف کہ اسکی ذات کے لیے بھی اس کے پاس وقت نہیں۔

    میں حیران ہوں۔ میرے مالک نے میرے وقت میں اتنی برکت کیسے ڈال دی ہے۔ چوبیس گھنٹے مجھے ایک ہفتے کی مانند لگتے ہیں۔

    دیکھیں کتنی ہیاری لگ رہی یہ بچی میری انگلی پکڑے ہوئے۔ میری زندگی کی یہ سب سے خوبصورت تصویر ہے۔ جس میں زینب نے میری انگلی پکڑی ہوئی۔

  • جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    جدید خاندانی منصوبہ بندی — خطیب احمد

    ہم مڈل کلاسیوں کی شادیوں میں شادی لڑکے کی ہو یا لڑکی کی جتنی بھی سادگی برتی جائے نہ نہ کرتے اخراجات قرض لینے کی سطح تک پہنچ ہی جاتے ہیں۔ گھر کی خواتین لڑکے اور لڑکی دونوں سائیڈ سے زیور کے بغیر شادی کو حرام سمجھتی ہیں۔ شادی کے بعد اکثریت میں جوڑے مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور وہ مشکلات پلس خاوند کی مالی حیثیت تب اور واضح ہو جاتی جب پہلے دوسرے ماہ ہی خوشخبری آجاتی۔

    بھائی یورین ٹیسٹ پازیٹو آنے کے فوری بعد کسی تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے اسکین کروا کر پریگنینسی کی لوکیشن معلوم کرنا ہوتی ہے۔ اور پھر اس اسکین کے ساتھ گائناکالوجسٹ سے ملنا ہوتا ہے۔ بنیادی ٹیسٹنگ اور اگر کسی دوا کی ضرورت ہو تو وہ شروع کر دی جاتی ہے۔ 20 روپے کی سٹک سے یورین ٹیسٹ کرکے گھر نہیں بیٹھنا ہوتا۔

    اگر خوشخبری ملنے پر آپکے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں۔ اور یہ کام اتنی جلدی ہو گیا ہے کہ ابھی شادی کا بھی قرض باقی ہے تو اگر پاس کچھ سونا موجود ہے وہ بغیر کسی کو بتائے دونوں میاں بیوی مشورہ کرکے بیچ دیں۔ اور خاوند اپنی حاملہ بیوی کی خود کئیر کرے۔ ہر چیز خود میسر کرے۔ نہ کہ اسے اپنی امی یا بہنوں یا گھر کی بزرگ خواتین کے حوالے کر دے۔ ہر ماہ ریگولر چیک اپ کرائیں اور ڈیلیوری بے شک نارمل ہی کیوں نہ بتائی گئی ہو۔ کسی بھی قیمت پر دائی یا کسی ایسے ہسپتال میں مت کرائیں جہاں بچے کو فی الفور آکسیجن لگانے کی سہولت میسر نہ ہو۔

    کوشش کریں کسی ایسی جگہ ڈیلیوری ہو جہاں بچوں کی نرسری موجود ہو۔ کم از کم وہاں سے قریب ہی کسی ہسپتال میں نرسری ہو۔ گاؤں سے شہر یا شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں آکسیجن لگوانے یا نرسری میں بچہ لیجانے تک وہ زندہ بچ بھی جائے اسکا برین کسی حد تک متاثر یا ڈیمج ہو چکا ہوتا۔ اس چیز کا فوری پتا نہیں چلتا۔ چند ماہ یا ایک دو سال تک جب بچہ اپنی عمر کے مطابق حرکات و سکنات نہیں کرتا تو ڈاکٹر پوچھتے کہ پیدائش کہاں ہوئی تھی۔ بچہ رویا تھا اسکا رنگ کیا تھا اسے آکسیجن لگی تھی ؟ تو خیال آتا گڑ بڑ کہاں ہوئی تھی۔

    برین ڈیمج کے نتیجے میں ہونے والی معذوری کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ اسے سیری برل پالسی کہتے ہیں۔ جسم مفلوج ہوجاتا اور ساری عمر بچے کو بیٹھنے کھڑا ہونے بات کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بروقت کیا گیا فیصلہ جو حاملہ ماں کی اچھی کئیر اور اچھی جگہ ڈیلیوری عمر بھر کے پچھتاوے سے بہتر ہے۔

    اگر زیور نہیں ہے تو کم از کم قرض اتر جانے یا قرض اترنے کی کوئی سبیل ہی بن جانے تک انتظار کر لیا جائے۔ فیملی بڑھانے کا فیصلہ باہمی رضا مندی سے مؤخر کر لیا جائے۔

    میں اور مہدی بخاری بھائی سکردو کے ایک ہوٹل میں رکے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھ والے کمرے میں ایک فرینچ کپل رکا تھا۔ ان سے چائے کی میز پر گپ شپ ہوئی تو معلوم ہوا کہ وہ ایک سال کے ہنی مون پر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں کا فیصلہ ہے ہم ایک سال تک کوالٹی ٹائم ساتھ گزاریں گے چھ ماہ چند ملکوں میں اور چھ ماہ پیرس میں جاکر گزاریں گے۔ پاکستان میں وہ ایک ماہ رکنے والے تھے۔ اور پھر فیملی بڑھائیں گے۔ یہاں یہ کنسپٹ تو جیسے گناہ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کو نیو بیاہتا جوڑوں تک پہنچانے کی ضرور کوشش کریں۔۔

  • البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم یا سورج مکھی — خطیب احمد

    البینزم کا شکار افراد کو البینو یا پنجابی میں بگے کہا جاتا ہے۔ تصویر میں چیچنیا کے ایک گاؤں قشلوئے کی ایک بارہ سالہ البینو لڑکی آمنہ ہے۔ جسکی ایک آنکھ نیلی اور دوسری گہری براؤن ہے۔ دنیا بھر میں اس بچی کے حسن کے چرچے ہیں ۔

    کیا آپ جانتے ہیں البینزم انسانوں کے علاوہ دیگر کئی مخلوقات میں بھی پایا جاتا ہے؟

    جن میں ہمارے آس پاس البینو یعنی بلکل سفید چوہے، کینگرو، مگر مچھ، ہاتھی، کوے، طوطے، گائے، بھینس، زیبرے، گدھے، گوریلے، ریچھ، بلی بندر، گلہری پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں ایک البینو سفید زرافہ بھی ہے۔

    البینزم سے متاثر بچے و معمر افراد دنیا کے جس مرضی کونے میں ہوں یہ غیر معمولی سفید، بھورے رنگ و بالوں کے ساتھ ہونگے۔ ان کی آنکھوں کا رنگ بھی نیلا، سبز، بھورا اور سرخ ہو سکتا ہے۔ عمر گزرنے کے ساتھ آنکھوں کا رنگ بدلتا بھی رہتا ہے۔ ایک آنکھ کا دوسری آنکھ سے رنگ مختلف ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں اس کی ریشو 17 ہزار سے 20 ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں ایک بچہ البینو کی ہے۔ یعنی ایک لاکھ میں سے 5 اور ایک کروڑ میں سے 500. پاکستان کی 22 کروڑ آبادی میں تقریباً 11 ہزار کے آس پاس البینو ہو سکتے ہیں۔

    یہ ڈس آرڈر مرد و خواتین دونوں میں پایا جاتا ہے۔ (سوائے اوکولر کے وہ آگے پڑھیں گے)

    یہ والدین سے وراثت میں ملنے والا ایک پیدائشی ڈس آرڈر ہے جس کا جدید سائنسی ترقی کے باوجود آج تک دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہماری جلد، بالوں اور آنکھوں کا رنگ بنانے میں جس کا کردار ایک خاص سیاہ مادہ جسے میلانن Melanin pigment کہا جاتا ہے کرتا ہے۔ میلانن کی کمی یا مکمل غائب ہونا البینو بچے کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔

    ہمارے جسم کی رنگت کیسی ہوگی اسکا مکمل انحصار ہمارے جسم کے سیلز میں موجود میلانن کی مقدار پر ہے۔ اسکی جتنی مقدار زیادہ ہوگی ہمارا رنگ اتنا ہی کالا ہوگا جتنی کم ہوگی اتنا ہی سفید ہوگا۔ یوں سمجھیے یہ ایک طرح کی سیاہی ہے جو ہمارے جینز کے کوڈز میں ہوتی ہے اور جب پروٹین بننے کے بعد سکن سیلز بنتے تو اسکی مقدار ہماری رنگت کا تعین کرتی ہے۔

    میلانن کا ایک اور کام ہماری آپٹک نروز کے بننے میں بھی ہے۔ اسکی مقدار میں کمی جہاں رنگت میں فرق ڈالتی وہیں بصارت میں بھی کمی کا سبب بنتی سکتی

    اکثر اوقات البینو بچوں کا رنگ نارمل رنگ سے معمولی سا مختلف ہوتا اور کبھی بلکل ہی سفید۔ مگر انکی جلد انتہائی حساس اور پتلی ہوتی ہے جو عام سورج کیروشنی بھی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتی۔ انہیں بہت دھوپ سے جلد چھائیاں پڑ جاتی ہیں اور تیز دھوپ و روشنی میں اسکن جل بھی جاتی ہے۔ یہ دھوپ میں نکلتے ہوئے کوئی سن بلاک یا حفاظتی کریم وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ اوپر بھی بتایا گیا کہ اسکا کوئی علاج نہیں ہے بس اپنی حفاظت ہی کرنی ہے شدید گرمی سے خصوصاً اور شدید سردی سے بھی عموماً۔ کیونکہ کوئی بھی شدید موسم ان لوگوں کی اسکن پتلی ہونے کی وجہ سے برداشت نہیں کر سکتی۔

    بینائی کا زیادہ مسئلہ ہوتا ہے تو اسے زرا تفصیل سے دیکھتے ہیں۔

    البینزم کی کوئی بھی قسم ہو حس بصارت میں سو فیصد خرابی ہوگی۔ یہ اس ڈس آرڈر کی بنیادی علامت ہے جو فرد کی زندگی کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔

    تیزی سے غیر ارادی طور پر آنکھیں آگے پیچھے حرکت کرتی ہیں جسے (nystagmus) کہا جاتا ہے۔

    آنکھوں کی غیر ارادی حرکت کو روکنے اور فوکس کرکے دیکھنے کی کوشش میں فرد اپنے سر کو ہلانے لگتا ہے کہ آنکھوں کی حرکت رک جائے۔

    دونوں آنکھوں کا مرکز و فوکس ایک پوائنٹ پر کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے جسے (strabismus) کہا جاتا ہے۔ دونوں آنکھیں ایک جگہ پر فوکس نہیں کریں گی تو دیکھنے میں یقیناً دشواری ہو گی۔

    شدید قسم کی قریبی نظر میں یعنی nearsightedness یا دور کی نظر میں کمی farsightedness ہوگی۔

    تیز یا ہلکی لائٹ بھی آنکھوں میں پڑے گی تو تکلیف ہوگی جسے (photophobia) کہا جاتا۔

    آنکھ کا پارٹ ریٹینا ٹھیک طرح سے بن ہی نہیں پاتا تو آنکھ کی دیکھنے کی قدرتی صلاحیت ہی کم ہوتی۔

    اگر ریٹینا کسی حد تک ٹھیک ہے تو جو سگلنز ریٹینا سے آپٹک نروز کے راستے ہمارے برین میں جاتے وہ نروز ڈیمیج ہونگی تو امیج ٹھیک نہیں بنے گا۔

    (misrouting of the optic nerve)

    سطح زمین پر چلتے ہوئے کسی گہری جگہ کا اندازہ ٹھیک سے نہیں ہو پاتا۔

    شدید ترین صورتحال میں لیگل بلائنڈنیس یعنی بصارت 20/200 سے کم ہوگی۔ یا البینو میں مکمل نابینا پن بھی ہو سکتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    ماں کے پیٹ میں جب بچہ اللہ کے حکم سے خون سے گوشت کا لوتھڑا بن رہا ہوتا ہے تو بہت سارے جینز ملکر انسٹرکٹشنز دیتے ہیں کہ جب گوشت سے پہلے پروٹین بنے گی تو میلانن کی پروڈکشن و مقدار مخصوص سیلز میں کیا ہوگی۔ میلانن جن سیلز میں بنتی ہے انہیں میلانو سائٹس melanocytes کہا جاتا ہے۔ یہ سیلز خصوصاً ہماری اسکن، بالوں اور آنکھوں میں پائے جاتے ہیں اور ان تینوں کے رنگ کا تعین کرتے ہیں۔

    پیغامات یا انسٹرکٹشنز دینے والے کسی ایک جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر mutation ہوتا ہے تو میلانن کا تناسب بگڑ جاتا ہے۔ کونسے جین میں بدلاؤ ہوا ہے اسی بنا پر البینزم کی قسم کا تعین ہوتا ہے کہ میلانن کی مقدار کم ہوئی ہے یا سرے ہی میلانن بنا ہی نہیں۔

    البینزم کی اقسام کونسی ہیں؟

    1. او کو لو کو ٹینئیس البینو
    Oculocutaneous albinism (OCA

    یہ سب سے زیادہ پائی جانے والی قسم ہے۔ اس میں متاثرہ بچہ اپنی امی اور ابو دونوں فریقوں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے۔
    (autosomal recessive inheritance) سات جینز میں سے جنہیں OCA1 سے OCA7 تک لیبل کیا جاتا ہے کسی ایک جین میں میوٹیشن ہونے پر یہ قسم سامنے آتی ہے۔ اس میں میلانن کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اسکن بال اور آنکھیں متاثر ہوتی ہیں۔

    2۔ اوکولر البینو Ocular albinism

    اس قسم میں عموماََ بینائی متاثر ہوتی ہے سکن اور بالوں کا رنگ نارمل ہی ہوتا ہے۔ اس کی سب کامن قسم ٹائپ 1 ہے جس میں X کروموسوم کی جین میوٹیشن ہوتی ہے۔ X لنکڈ اوکولر البینو میں بچہ اپنی ماں سے متاثرہ جین حاصل کرتا ہے اور البینو پیدا ہوتا ہے۔ جسے
    (X-linked recessive inheritance) کہا جاتا ہے۔ یہ قسم صرف مردوں میں ہی پائی جاتی ہے کوئی لڑکی اس سے متاثر نہیں ہوتی۔ اور پہلی قسم OCA سے بہت زیادہ کم ہے۔

    3۔ تیسری قسم جو سنڈرومز سے تعلق رکھتی ہے Albinism related to rare hereditary syndromes

    مثال کے طور پر Hermansky-Pudlak سنڈروم OCA کی ایک قسم میں پایا جاتا ہے جس میں جلدی خون بہنے لگنا، پھپھڑوں اور مثانے کے امراض شامل ہیں۔ اس کے بعد Chediak-Higashi سنڈروم سے OCA کی ہی ایک قسم میں قوت مدافعت بہت کم ہوجاتی۔ بہت جلد انفیکشن ہوجاتے جو جلدی ٹھیک نہیں ہوتے۔ اسکے ساتھ نیورولوجیکل مسائل بھی سامنے آنے لگتے جو شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ سنڈروم سے متعلقہ اقسام پہلی قسم OCA میں ہی آئیں گی۔

    ان افراد کو مسائل کہاں پیش آتے ہیں؟

    دیکھنے اور اسکن کی حساسیت تو بیان ہوچکی اس کے علاوہ انہیں بے شمار سماجی، معاشی و جذباتی غیر منصفانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    بینائی میں کمی کی وجہ سے لکھنے پڑھنے کچھ سیکھنے دوران ملازمت یا ڈرائیونگ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
    جلد پتلی ہونے کی وجہ سے سب سے زیادہ خطرہ سن برن کا ہوتا ہے۔ جو بہت زیادہ ہونے لگیں تو خدا نخواستہ اسکن کے کینسر کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔

    سماج میں رہتے ہوئے البینو افراد کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا۔ انہیں کم پڑھے لکھے افراد کی طرف سے ضرورت سے زیادہ فوکس کرکے دیکھا جاتا جیسے یہ کوئی اور مخلوق ہوں اور اکثر منفی کمنٹس پاس کیے جاتے ہیں۔ انکے برے نام رکھے جاتے برے ناموں سے پکارا جاتا۔ دکھ دینے والے سوال کیے جاتے بیچارہ معذور کہہ کر ان افراد کا دل دکھایا جاتا ہے۔ کسی بھی سماج میں کیونکہ یہ افراد واضح طور پر مختلف ہوتے ہیں تو ان سے آوٹ سائیڈرز کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جو ان افراد میں تنہائی مایوسی اور ذہنی دباؤ و بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل یہ افراد مرد و خواتین آپس میں اور نارمل لوگوں سے بھی شادی کر سکتے ہیں۔ انکے بچے بھی ان جیسے ہونگے یہ ضروری نہیں ہے مگر بچے پیدا کرنے سے قبل کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کرلیا جائے کوئی احتیاطی تدابیر ہوں تو وہ اپنائی جائیں۔

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    جی بلکل پی ایچ ڈی تک دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں۔ عام سکولوں میں ایڈجسٹ نہ ہو بچہ تو قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں داخل کروا دیں۔

    ایورج عمر کیا ہے؟

    کسی بھی معاشرے کے افراد کی جو ایورج ایج یوگی وہی البینو کی بھی ہوگی۔ کیونکہ میلانن کا کم یا زیادہ ہونا مجموعی زندگی اور صحت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔

    آئی کیو لیول کتنا ہوگا؟

    ذہانت میں یہ افراد نارمل افراد کی طرح ہی ہونگے۔ میلانن کی کمی بیشی ذہانت کو بلکل متاثر نہیں کرتی۔

  • مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    مسکولر ڈسٹرافی — خطیب احمد

    آپ کی عمر 2 سال سے 60 سال تک ہے۔ آپ بڑی پرفیکٹ زندگی جی رہے ہیں۔ یہ قاتل آپ کے اور میرے جسم میں بھی چھپا یا سویا ہو سکتا ہے۔ جو کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی جسے عام زبان میں پٹھوں کی بیماری کہا جاتا ہے۔ اسے ہمارے جینز میں چھپا ہوا قاتل سمجھا جاتا ہے۔ جو عمر کے کسی بھی حصے میں جاگ کر جسم کے چند حصوں یا پورے جسم میں تہس نہس مچا دیتا ہے۔ اور یہ قاتل ہستے کھیلتے زندگی کی بہاریں دیکھتے اپنے شکار کو موت کے منہ کے قریب لے جاتا ہے۔

    مسکولر ڈسٹرافی پر آج میں انشاء اللہ تفصیل سے بات کروں گا۔ اور اس قاتل کی چالوں و حملوں سے بچنے کے طریقوں پر بات ہوگی۔ تحریر پڑھنے کے لیے جو کر رہے ہیں پلیز اسے ابھی چھوڑ دیجیے۔ یہ ایک انتہائی اہم موضوع ہے جسے آپ کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

    اس بیماری کی یوں تو 8 اقسام ہیں مگر تصویری پریزنٹیشن میں 6 اقسام ہیں۔ جو کہ عام ہیں۔ آپ نے تحریر پڑھتے ہوئے تصویر کو a سے شروع کرکے نیچے f کی طرف دیکھتے جانا ہے۔

    آئیے اس خاموش قاتل کے تمام طریقہ واردات پر باری باری بات کرتے ہیں۔

    اے۔ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی
    Duchene Muscular Dystrophy

    مسکولر ڈسٹرافی کے مریضوں میں یہ سب سے کامن قسم ہے۔ یہ ایک جنیٹک یا موروثی بیماری ہے۔ اور جو سب سے چھوٹی عمر میں ہوتی ہے وہ یہی ہے ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی۔ یہ ہمیشہ لڑکوں کو ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کے اندر ماں اسکی کیرئیر ہوتی ہے۔ اور بیماری جب ظاہر ہوتی ہے تو پیدا ہونے والے لڑکوں میں ظاہر ہوتی ہے۔

    اب اس میں ہوتا کیا ہے؟ بچہ بلکل ٹھیک پیدا ہوتا ہے۔ تمام مائل سٹون اپنی عمر کے باقی بچوں کی طرح پورے کرتا ہے۔ چلنا باتیں کرنا سب کچھ پرفیکٹ ہوتا ہے۔ جیسے ہی عمر 5 سال ہوتی تو قاتل اندر سے جاگ کر بچے کے پاؤں کی ایڑھی زمین سے اٹھا دیتا ہے۔ اور اپنے شکار پر ہلا بولنے کی پہلی نشانی اسے پنجوں پر چلانا شروع کرتا ہے۔ چند ہی ماہ بعد بچہ اپنا چھاتی یعنی سینہ باہر نکال کر چلنا شروع ہوتا ہے۔ جیسے پہلوان سینہ تان کر چلتے ہیں۔ اندر چھپا ہوا قاتل ہی سینہ تان کر ایڑھیاں اٹھا کر للکار رہا ہوتا ہے میں آگیا ہوں آؤ اب میرے مقابلے میں۔

    والدین بچے کو ڈانٹ رہے ہوتے کہ یہ تم کیسے چل رہے ہو؟ ایڑھی نیچے لگاؤ سینہ پیچھے کرو۔ مگر بچہ ایسا کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ اور والدین اسے بچے کی کوئی عادت سمجھ کر اگنور کر رہے ہوتے۔ اور بزدل قاتل اپنا وار بچے کے پٹھوں پر تیز سے تیز کرتا جا رہا ہوتا۔

    پھر چند ماہ بعد کیا ہوتا ہے کہ بچہ پیراں بھار بیٹھا ہوا جب اٹھنے لگتا تو اس سے اٹھا ہی نہیں جاتا۔ پیچھے گر جاتا۔ یا اٹھے بھی تو گھنٹوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھتا ہے۔ اور دن بدن ٹانگیں کمزور ہوتی جاتیں۔ بظاہر تو ٹانگیں ٹھیک ہونگی مگر اندر موجود مسلز کمزور ہو کر بڑی تیزی سے ٹوٹ رہے ہوتے۔ کیونکہ والدین کو تو پتا ہی نہیں بچے کے اندر کونسی جنگ چھڑ چکی ہے۔ اور دشمن اپنے وار معصوم پر دن رات کیے جا رہا۔

    اس گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر اٹھنے سے بیماری کی شناخت شروع ہوتی ہے۔ اسے گاور سائن کہتے ہیں۔ والدین اب جا کے بچے کو سیریس لیتے ہیں۔ بچے کی عمر 7 سے 8 سال ہو چکی ہوتی۔ یعنی 2 سے 3 سال مسلسل قاتل اپنا کام کرتا رہا اور والدین کو خبر ہی نہ ہوئی۔ اب کسی ماہر ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ پہچان لیتا کہ یہ تو مسکولر ڈسٹرافی ہے۔ اکثریت آبادی کی رسائی ماہر ڈاکٹروں تک نہیں ہو پاتی وہ کسی عطائی، مالشیے ہڈی جوڑ والے جراح کے پاس جاتے جو اپنے ٹوٹکے لگا کر قاتل کو اپنا شکار نگلنے میں اور وقت فراہم کر دیتے۔ جب تک بیماری کی مکمل تشخیص ہوتی بچہ موت کے منہ میں پہنچ چکا ہوتا۔

    بیٹھ کر اٹھنا مشکل ہوا۔ پھر سیڑھیاں چڑھنا مشکل ہوا۔ اب کندھوں کے جوڑ کمزور ہونا شروع ہوئے۔ اور بازوؤں کے اوپری حصے کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ 10 سال کی عمر تک بازو کو کندھے سے حرکت دینا بہت مشکل اور کئی کیسز میں بلکل ناممکن ہوجاتا ہے۔ ٹانگیں اور بازو مکمل یا 90 فیصد مفلوج ہو چکے ہوتے۔

    بچہ اب پانی نہیں پی سکتا۔ روٹی کا نوالہ نہیں توڑ سکتا۔ کنگھی نہیں کر سکتا۔ قمیض پہنتے ہوئے ہاتھ اوپر نہیں اٹھتا۔ یہ کمزوری دن بدن بڑھتی جاتی ہے۔ اور کچھ بچوں میں دل کے پٹھے بھی کمزور ہونا شروع ہوتے ہیں۔ قاتل اب خون پمپ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرنے کی طرف اپنا وار کرتا ہے۔ اسے ہم کارڈیو مایو پیتھی کہتے ہیں۔ یہ اگر ہو جائے تو بچے کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    یہ ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار بچے 10 سال تک کسی طرح چل لیتے ہیں۔ پھر وہیل چیئر یا چار پائی پر آجاتے ہیں۔ اور دوبارہ کبھی بھی کھڑے نہیں ہو سکتے یا چل نہیں سکتے۔ یا کسی سہارے سے چلنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

    خطرناک صورت حال کب بنتی ہے؟ بیماری نے حملہ کر دیا ہوا۔ اور بچے کو بخار ہوگیا۔ ابھی بیماری کا آغاز ہے اور بچے کو والدین لٹائے رکھتے ہیں۔ ساکت پڑے ہوئے بچے پر قاتل اپنا حملہ بہت تیز کر دیتا ہے اور مسلز بڑی تیزی سے ضائع ہونے لگتے۔ ان بچوں کو بخار میں ہر وقت کبھی بھی لیٹنے نہ دیں۔ پیراسیٹامول دے کر بچوں کو تھوڑا تھوڑا چلائیں۔ ایک دفعہ مسلز ضائع ہونے ٹوٹنے شروع ہوگئے آپ ان کو پھر روک نہیں سکتے۔ کمان سے تیر نکل جائے گا۔

    نیم حکیم یا عطائی یا ہمارے گھر کے ہی بڑھے بوڑھے سیانے کہتے ہیں کہ بچے کو ورزش کروائیں۔ اس سے پٹھوں میں جان آئے گی۔ یہ سب سے بڑی غلطی ہے جو والدین کرتے اور پٹھے جو پہلے ہی کمزور ہورہے ہوتے وہ تباہ ہوجاتے۔ اتنی ورزش کریں کہ جوڑ جڑ نہ جائیں۔ ان میں تھوڑی حرکت رہے اور کوئی بھی چیز اٹھائے بغیر باڈی ویٹ پر ہی معمولی ورزش کریں۔ بچے کو تھکنا نہیں چاہیے۔ ان بیماری میں بچوں کے پٹھے کاغذ کی طرح ہو چکے ہوتے وہ بڑی جلدی ٹوٹ جاتے ہیں۔

    ایک اور بلنڈر والدین یا ماجھے و نورے قسم پریکٹشنر ان بچوں کے ساتھ کیا مارتے ہیں۔ وہ یہ کہ بچہ جب ایڑھی اٹھاتا ہے تو وہ کسی عطائی، ہڈی جوڑ یا نئے نئے بنے آرتھوپیڈک یا جنرل سرجن کے پاس چلے جاتے۔ وہ اس کی وجہ سے بے خبر ایڑھی کو زمین پر لگانے کی کوشش کرتا۔ نہیں لگتی تو کئی ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی بچوں کے پاؤں کے آپریشن ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ اب اس بچے کا آپریشن کرنے والے عطائی یا سرٹیفائیڈ ڈاکٹر کا میرا بس چلے تو مرڈر کر دوں۔ والدین کو تو پتا ہی نہیں آپ لوگ ہی عقل کر لیا کریں۔ نہیں پتا کسی سے پوچھ ہی لو۔

    ایڑھی اٹھتی پتا کیوں ہے؟

    ٹانگوں، کولہوں اور کمر کے پٹھے سکڑ رہے ہوتے۔ اب جسم اپنے خود کار دفاعی نظام کے تحت ان پٹھوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے خود بخود پاؤں کی ایڑھی اٹھا کر ان پٹھوں کو Compensate کرنے کی کوشش میں ہوتا ہے۔ کہ والدین اس بچے کو بچا لیں۔ اس کی ٹانگوں کے پٹھوں کو ضائع ہونے سے بچا لیں۔ جب کسی بھی طرح ایڑھی زمین پر لگا دی جاتی تو پٹھے ٹوٹ کر ہمیشہ کے لیے ضائع ہوجاتے۔

    پیٹ باہر نکل رہا ہوتا تو بیلٹ کبھی نہ لگائیں۔ اس سے پیرا سپائنل مسلز کمزور ہونا شروع ہو جائیں گے۔

    ہم قاتل کے وار سے بچ کیسے سکتے ہیں؟

    اسکا پوری دنیا میں کوئی علاج نہیں ہے۔ جو اسے بلکل ختم کر سکے۔ ہاں سٹیم سیل تھراپی شاید چند سالوں بعد اسکے علاج میں مددگار ہو مگر ابھی آج کے دن تک کوئی علاج نہیں ہے۔

    پاکستان میں ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کا شکار اکثریت بچے دیر سے تشخیص ہونے کے باعث ٹین ایج (13 سے 19) میں ہی فوت ہوجاتے ہیں۔ اگر شروع سے پتا چل جائے اور کوالٹی آف لائف بہتر کر دی جائے۔تو بچوں کی زندگی 30 سے 40 اور بہت کم کیسز میں 50 تک بھی جا سکتی ہے۔ ہمیں ان بچوں کے لیے ان کے لائف سٹائل اور اوور آل ماحول و سپورٹ سسٹم کو بدلنا ہوتا ہے۔ ان کو اٹھا کر چلانا نہیں ہوتا بلکہ وہیل چیئر پر ہی ان کو زندگی کا کوئی مقصد دینا ہوتا ہے۔ جو مقصد انکی عمر بڑھا دیتا ہے۔

    ایک بات میری یاد رکھیں کہ ہم اپنی بھی اور ان مسکولر ڈسٹرافی والے بچوں کی کوالٹی آف لائف تو بہتر کر سکتے ہیں مگر کوانٹٹی آف لائف نہیں بڑھا سکتے۔ یہ ایک موٹا پرنسپل یاد رکھیں۔

    مالش بلکل نہیں کرنی۔

    کوئی بریس کوئی سپیشل جوتا نہ پہنائیں۔

    کوئی سرجری نہیں کروانی۔

    بچوں کو بیکری کی تمام اشیاء، چاول، کولڈ ڈرنکس، مصنوعی جوسز، بلکل نہیں دینے۔

    بچوں کو بلکل بھی موٹا نہیں ہونے دینا۔

    جیسا ہی بچہ موٹا ہوا سمجھیں وہ زندگی سے گیا۔

    ان کو سکول بھیجنا ہے مگر جب تک آسانی سے جا سکیں۔

    پڑھائی اور امتحانوں کا سٹریس نہیں دینا۔

    خوش رکھنا ہے۔ ڈپریشن میں نہیں جانے دینا۔

    بہت زیادہ ڈاکٹر نہیں بدلنے۔ اس کی کوئی دوا نہیں ہے بس لائف سٹائل بدلنا ہوتا۔

    جتنی بار نئے نئے ڈاکٹروں کے پاس جائیں گے بچے میں سٹریس بڑھے گی کہ میں ٹھیک نہیں ہوسکتا۔

    اس معذوری کو ڈے ون سے قبول کریں۔ اور بچے کو بھی اچھی طرح سمجھائیں کہ آپکی زندگی اب وہیل چیئر کے ساتھ گزرنی ہے۔

    چلنے کا خواب معصوم آنکھوں کو نہ دیں جو پورا ہی نہیں ہونا۔ ادھورے یا پورے نہ ہو سکنے والے جاگتی آنکھوں سے دیکھے گئے خواب اکثر ہمیں بڑوں کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔یہ تو پھر معصوم بچے ہوتے۔

    خود نہیں افورڈ کر سکتے کسی سے درخواست کرکے زیور مال مویشی بیچ کر ان بچوں کو بجلی سے چلنے والی جاپانی پاور وہیل چیئر لے کر دیں۔ جو پانچ دس سال نکال بھی جائے۔

    بچوں کو وہ وہیل چیئر آپریٹ کرنا سکھائیں۔ اپنے گھر کا لیول باہر گلی یا سڑک کے لیول سے بس 6 انچ یا 1 فٹ اونچا رکھیں۔ اور ریمپ بنائیں۔ جب جی چاہے بچہ باہر جائے گھر آئے۔ اسے ایک کمرے گھر یا چارپائی پر محدود نہ کریں۔

    کوشش کریں مسجد، مندر، چرچ، امام بارگاہ، گر دوارہ میں ریمپ بنوائیں۔ بچے کی وہیل چیئر کو مسجد میں بغیر کسی کے دھکا لگائے رسائی دیں۔ وضو کی جگہ سپیشل بنائیں کہ یہ بچہ مسجد میں وہیل چیئر پر بیٹھا ہی وضو کر سکے۔ وہ وہیل چیئر پر بیٹھا ہوا ہی مسجد کے اندر چلا جائے۔ عبادت کرے اور کوئی اسے روکنے والا نہ ہو۔

    خدا سے تعلق جتنا مضبوط ہوگا۔ زندگی میں کچھ کر گزرنے کی لگن اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ اور روحانی طاقتیں بھی کوالٹی آف لائف کو بہتر کر دیں گی۔

    ان بچوں کو بولنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ یوٹیوب چینل بنا سکتے ہیں۔

    وائس اوور آرٹسٹ بن سکتے ہیں۔

    نیوز کاسٹر بن سکتے ہیں۔

    وی لاگنگ کر سکتے ہیں۔

    ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی عام روٹین سے کافی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    ہر بار جب یہ ران کے پٹھوں پر زور دے کر اٹھتے ہیں۔۔تو وہ پٹھے ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور اٹھنے کی صلاحیت کم ہوتی ہوئی ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ان کے بیٹھنے کی جگہ ہی اونچی کر دیں۔ اٹھتے وقت بلکل زور نہ لگے۔

    شادی کی طرف نہ ہی آئیں تو بہتر ہے۔ ڈاکٹر سے مشورہ کرکے بیماری کی شدت دیکھ کر شادی کا فیصلہ کیا بھی جا سکتا ہے۔

    ڈوشین مسکولر ڈسٹرافی کی میڈیکل تشخیص کے لیے سب سے کامن و عام ٹیسٹ ہے۔ cpk ۔ یہ ایک بلڈ ٹیسٹ ہے۔ جو کی مقدار ایورج سے ہزاروں گنا زیادہ ہوتی ہے۔ نارمل سی پی کے 150 کی رینج میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ EMG ہو سکتا ہے۔ مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔

    بی۔ بیکر مسکولر ڈسٹرافی

    Becker’s Muscular Dystrophy

    ڈوشین 4 سے 5 سال میں ظاہر ہوتی۔ جبکہ بیکر 15 سے 19 سال تک ظاہر ہوتی ہے۔ ابتدائی علامتیں ڈوشین جیسی ہی ہونگی۔ اکثر بچوں میں ڈوشین کی طرح ایڑھی نہیں بھی اٹھتی۔ مگر پیٹ اور سینہ باہر کو نکلنے لگتا ہے۔ بیٹھ کر اٹھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ چلتے چلتے گر سکتا ہے۔ یا سٹیبل نہیں رہتا لڑ کھڑانے لگتا ہے۔ ٹانگوں میں جان نہیں رہتی۔

    بی والی تصویر زرا دیکھیں۔ کندھے اور ہاتھ کام کرنا چھوڑنے لگتے ہیں۔ بازو اوپر نہیں اٹھتے۔ علامتیں ڈوشین والی ہی ہیں مگر عمر کا فرق ہے۔ اس میں قاتل 4 سال میں جاگا اور یہاں 15 سے 19 سال تک چھپا رہا۔

    بیماری کے آغاز میں تشخیص ہو جائے تو یہ بچہ اگلے دس سال تک چل سکتا ہے۔ کہ اسے سپورٹ دی جائے۔ یہ چیز بھی ختم نہیں ہونی۔ بس ہم نے مریض کی کوالٹی آف لائف ہو بہتر کرنا اور لائف سٹائل کو مکمل بدلنا ہے۔ 30 سے 32 سال کی عمر تک ہر قسم کی سپورٹ کے باوجود یہ بچے بھی بلا آخر وہیل چیئر پر آجاتے ہیں۔

    ان بچوں کے لیے بھی وہ سب احتیاطی تدابیر اور لائف سٹائل میں تبدیلیاں ہیں جو اوپر ڈوشین میں لکھی ہیں۔ موٹے نہ ہوں۔ بہت ورزش نہ کریں۔ خود کو تکلیف دے کر چلیں نہیں۔ علاج کے پیچھے شہر شہر بستی بستی ناں بھاگیں۔ بریس، بیلٹ نہ لگائیں۔ سرجری نہ کروائیں۔ ان کی وہیل چیئر یا کرسی چارپائی اونچی رکھیں۔ بیڈ صوفہ الغرض جس بھی چیز پر یہ سکول کالج یا آفس میں بیٹھتے ہیں وہ نیچے اینٹیں وغیرہ رکھ کے اونچا کر دیں۔ کہ اٹھنے میں بہت زور نہ لگے۔ اٹھنا چاہیں تو جیسے ہی پاؤں زمین پر لگیں یہ کھڑے ہوجائیں۔

    الیکٹرک ٹرائی سائیکل لیں جس پر جہاں مرضی جائیں۔ 150 ہزار کی اچھی الیکٹرک ٹرائی سائیکل آجاتی جو ڈوشین اور بیکر دونوں کے لیے بہترین ہے۔

    تین پہیوں والی موٹر سائیکل ان کے لیے نہیں ہے۔ اس سے گر سکتے ہیں۔ وہ پولیو والے افراد کے لیے ٹھیک ہے۔ ان کا اوپری دھڑ بڑا مضبوط ہوتا ہے۔ جبکہ ان کا اوپری دھڑ بہت کمزور ہوتا۔ ہینڈل نہیں سنبھال سکتے۔

    اس میں ہو سکتا ہے۔ ٹیسٹ کروانے پر سی پی کے cpk زیادہ نہ ہو۔ اس میں صرف ای ایم جی کروا کے یا کلینکل کو رلیشن کرکے معلوم کر سکتے ہیں۔ یا مسل بیاپسی بھی ہو سکتی ہے۔ تشخیص کے بعد لائف سٹائل کو بدلنا ہے علاج پر وقت ضائع نہیں کرنا۔ میں بار بار یہ کہہ رہا ہوں۔

    سی۔ لمب گرڈل مسکولر ڈسٹرافی
    Limb Girdle Muscular Dystrophy

    اچھا یہ والی قسم ایسی ہے جو 2 سال سے لیکر 40 سال تک کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے۔ علامات سب وہی ہونگی۔ اس میں جو مسلز کمزور ہونگے وہ
    hip and shoulder areas (limb-girdle area)
    پر ہونگے۔ علامات وہی ہونگی۔ احتیاط بھی سب وہی ہے۔

    مگر اس قسم میں بیماری کا حملہ 40 سال کی عمر تک ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے قاتل بلکل خاموش سویا ہوا ہے۔ آپ بڑی آئیڈیل و صحت مند زندگی جی رہے ہیں۔

    ڈی۔ فیشیو سکیپولو ہیومرل ڈسٹرافی

    facioscapulohumeral muscular dystrophy

    یعنی چہرہ کندھا دونوں اس میں متاثر ہوتے ہیں۔ ڈی والی فوٹو دیکھیں۔ اس میں چہرے کی ساخت یا سائز ایک یا دونوں سائیڈوں سے سکڑ جاتا ہے۔ کندھے اور بازو بہت کمزور ہو جاتے ہیں۔ بیماری کی قسم 20 سال سے لیکر 50 سال تک کسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے۔۔عموما چالیس کے بعد اس کا ایج آف آن سیٹ دیکھا گیا ہے۔
    اس میں عموماً ٹانگیں بہت کم انوالو ہوتی ہیں۔

    جس مرضی عمر میں سویا ہوا قاتل جاگ جائے احتیاط و لائف سٹائل سب وہی ہیں جو اوپر آپ پڑھ کے آئے۔

    ای۔ ڈسٹل مسکولر ڈسٹرافی

    Distal Muscular Dystrophy

    یہ بیماری بھی عمر کے کسی حصے میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ عموماً یہ 40 سے 60 سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس میں آپ فوٹو میں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ ڈسٹل پارٹس آف باڈی۔ یعنی سنٹر سے دور دراز کے علاقے متاثر ہوتے ہیں۔ بازوں کے کہنیوں سے نچلے حصے اور ٹانگوں کے گھٹنے سے نچلے حصے۔

    اس میں بھی علامات اور باقی سب باتیں وہی ہونگی جو ڈوشین میں ہیں۔

    ایف۔ اکولو فرینجئیل مسکولر ڈسٹرافی

    Oculopharyngeal Muscular Dystrophy

    یہ بھی مسکولر ڈسٹرافی کی ایک رئیر فارم ہے۔ جو عموماً 40 سے 60 سال کی عمر میں اس سے متاثرہ مردوں و عورتوں دونوں میں ظاہر ہو سکتی ہے۔ اس میں آنکھوں اور گلے کے مسلز کمزور ہونا شروع ہوتے۔ اور آنکھوں کی شیپ بدل دیتے۔ ہمارے بھنویں نیچے لٹک جاتے ہیں۔ اور گے کی اسکن بھی ڈی سیپ ہو جاتی ہے۔ اس مریض کو دیکھنے و کھانے میں مسئلہ پیش آتا ہے۔ کوئی سچ ایز علاج نہیں ہے۔ بس لائف سٹائل بدلنا ہے۔

    اب ساری کہانی کا کرکس نکالوں تو دو باتیں کہوں گا۔

    1. لانگ لائف ری ہیبلی ٹیشن پراسس ہوگا۔ اسے لائف ٹائم بھی کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ کوئی ایک ہی اچھا ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ چن لیں۔ جس سے آن لائن ہی رابطے میں رہیں۔ اور زندگی گزرنے کے ساتھ پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے اس سے راہنمائی لیتے رہیں۔ ایڈوانس ممالک میں ایسے بچوں کے ساتھ کام کرنے والے ری ہیبلی ٹیشن سپیشلسٹ سالانہ فیس لیتے ہیں۔ اور فون کال پر دستیاب ہوتے ہیں۔ میں خود پرائیویٹلی یہ سروس فراہم کرتا ہوں۔

    ابھی میرے پاس دو بچے ہیں جن کے والدین کو میں بڑی جد و جہد کے بعد علاج کی نفسیات سے نکال کر ری ہیبلی ٹیشن میں لا چکا ہوں۔ ترقی یافتہ ممالک میں ان بچوں کا ڈائٹ پلان، تعلقات، تعلیم، جاب، لائف سٹائل، زندگی کے بڑے فیصلے سب کچھ ماہرین کی سپر ویژن میں ہوتا ہے۔

    آپ ایک دو بار مجھ سے فون پر بات کر سکتے ہیں۔
    مجھے مل کر مشورہ کر سکتے ہیں۔ یہ سروس ساری عمر ساتھ چلنے والی کنڈیشنز مسکولر ڈسٹرافی، سیری برل پالسی اور ڈاؤن سنڈروم بچوں کے لیے بلکل فری یے۔

    اور یہاں کیا ہوتا؟ جیڑھی رات قبر ویچ اے او باہر نئیں

    جنھے لایا گلیں میں اوہندے نال چلی

    جیہڑا رب بیماری لا سکدا اے او کٹ وی تے سکدا اے ( اور اسی لاحاصل امید کے چکر میں علاج کے پیچھے شہر شہر جا جا کر بچے کی باقی ماندہ صلاحیتوں پر اچھے بھلے سمجھدار والدین پانی پھیر دیتے ہیں)

    2. ان بچوں کے لیے گھر میں سکول کالج مسجد آفس ہر جگہ بدلاؤ کرنے ہیں۔ انہیں بے مقصد زندگی نہیں گزارنے دینی۔ جہاں بھی بچے کے ساتھ مسکولر ڈسٹرافی جڑ جائے۔ اس کے والدین نہیں کر سکتے تو کمیونٹی کے دیگر افراد مل کر اس بچے کی رسائی ہر ممکن جگہ تک یقینی بنائیں۔ پارک میں اس کی رسائی کے لیے پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی پارک و گراؤنڈز کی راہداری اور گیٹ کھلا کرنے کا قانون طور پر پابند ہے۔ تمام بنک ریمپ بنانے کے پابند ہیں۔ مگر جیسے ریمپ بنکوں میں بنے ہوتے وہ بلکل بھی ٹھیک نہیں ہوتے۔ خانہ پری ہوتی یے وہ بس۔ پلازوں میں دفاتر میں ریمپس بنائے جائیں اور ان لوگوں کو وہیل چیئر سمیت ہر جگہ رسائی ملے۔

  • ایپرٹ سنڈروم (Apert Syndrome) اور سنڈیکٹلی (syndactyly) — خطیب احمد

    ایپرٹ سنڈروم (Apert Syndrome) اور سنڈیکٹلی (syndactyly) — خطیب احمد

    ایپرٹ سنڈروم رئیر ڈی زیزز (Rare Disease) کی کیٹگری میں شامل ہے۔ کہ دنیا بھر میں یہ سپیشل کنڈیشن بہت کم ہوتی ہے۔ اسے ایک اور نام ایکرو سیفیلو سنڈیکٹلی ٹائپ 1

    acrocephalo syndactyly type 1

    بھی کہا جاتا یے۔ یہ craniosynostosis سنڈروم سے مشابہت بھی رکھتا ہے۔ اس سے متاثرہ بچے کی شکل اور ہاتھ آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں۔

    اسے دانشورانہ پسماندگی (Intellectual disabilities) کی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے۔

    یہ کنڈیشن وراثت میں autosomal dominant ہے۔ یعنی والدین کو نہیں بھی ہوگا فیملی ہسٹری میں نہیں ہے تو بھی ہو سکتا ہے۔ ان بچوں کی مشترکہ خصوصیات میں

    آنکھیں بڑی بڑی باہر کو نکلی ہوئی ہوتی ہیں،

    اوپری جبڑا ٹھیک سے نہ بنا ہونے کی وجہ سے دانت ایک دوسرے کے اوپر چڑھے ہوتے ہیں۔

    کئی کیسز میں ایسے ہی نیچے والا جبڑا بھی ہوتا ہے۔

    ناک طوطے کی چونچ کی طرح اوپر اٹھی ہوئی گول مٹول سی ہوتی اسے Beaked Nose کہا جاتا ہے۔ رنگ عموماً سفید و سرخ ہوتا ہے۔

    اوور آل چہرہ درمیان سے نیچے بیٹھا ہوا چپٹا سا ہوتا ہے۔

    کھوپڑی نارمل شیپ سے مختلف ہوسکتی عموماً کون کی شکل ہوتی ہے۔ ڈاکٹری زبان میں turribrachycephaly
    کہا جاتا ہے۔ کھوپڑی بہت بڑی یا بہت چھوٹی یا ٹیڑھی میڑھی سی کہیں سے اونچی کہیں سے نیچی ہو سکتی ہے۔

    سنڈیکٹلی (syndactyly) کیا ہے؟

    ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ایک کنڈیشن اور ہے جو ایپرٹ سنڈروم کے بغیر بھی ہوسکتی ہے۔ اسے سنڈیکٹلی کہا جاتا ہے۔ ایپرٹ سنڈروم اور سنڈیکٹلی 99 فیصد کیسز میں ایک ساتھ ہوتے ہیں۔

    اس میں پیدائشی طور پر ہاتھوں اور پاؤں کی دو دو یا تین تین انگلیاں جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ نوے فیصد رنگ فنگر اور ساتھ والی انگلی جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ شہادت انگلی اور چھنگلیا جسے پنجابی میں چیچی کہتے الگ ہوتی ہیں۔ اور انگوٹھا بھی آزاد ہوتا ہے۔ مگر 5 فیصد کیسز میں چھنگلیا کو چھوڑ کر تینوں انگلیاں جڑی ہوتی ہیں۔ اور پاقی 5 فیصد میں چاروں انگلیاں ہی جڑیں ہوتی ایک بڑی سی انگلی بنی ہوتی ہیں۔ اور انگوٹھا الگ ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ آگے چل کر دیکھتے ہیں۔

    آبادی میں کتنے فیصد ایپرٹ سنڈروم ہیں؟

    مختلف سٹڈیز بتاتی ہیں کہ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ بچوں کی پیدائش کی ریشو ہر 65 ہزار میں سے ایک بچہ ہے یعنی 2 لاکھ میں سے 3 بچے ایپرٹ سنڈروم کا شکار ہوتے ہیں۔ پاکستان میں اسی ریشو کا حساب کیا جائے تو 22 کروڑ میں سے 3 ہزار سے 32 سو کے آس پاس لوگ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں National Organization for Rare Disorders (NORD) کے مطابق ہر 165،000 سے 200،000 بچوں میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ جبکہ وہاں کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن کے مطابق 65 ہزار سے 88 ہزار بچوں میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    فیملی ہسٹری کے بغیر بھی یہ سنڈروم بچے میں آ سکتا ہے۔ اگر والدین میں سے ایک ایپرٹ سنڈروم ہو تو 50 فیصد چانسز ہوتے ہیں بچے میں ایپرٹ سنڈروم منتقل ہوگا۔ اسی لیے انکی شادیوں کو سپورٹ نہیں کیا جاتا۔

    یہ ایک جینیٹک کنڈیشن ہے۔ جیسے کسی سافٹ ویئر یا موبائل ایپ کی کوڈنگ ہوتی ہے ناں؟ بالکل اسی طرح ہمارا وجود جب پانی کا ایک گندہ قطرہ ہوتا ہے۔ جو ماں کے رحم میں بیضے سے ملاپ کرتا ہے۔ تو خدا کی ذات اس سپرم اور بیضے کے ملنے بننے والے زائیگوٹ میں ایک سسٹیمیٹک کوڈنگ کرتی ہے۔ جسے ہم DNA کے نام سے جانتے ہیں۔

    ڈی این اے میں آدھی جنیٹک انفارمیشن ماں کی طرف سے اور آدھی باپ کے جینز سے آتی ہے۔ ڈی این اے ایک کوڈنگ سسٹم ہے جو ہماری ازل سے ابد تک کی ساری انفارمیشن ہمارے مرنے کے ہزاروں لاکھوں سال بعد تک بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اور جینز اسکے مزید پارٹ ہیں۔ جینز پانی کے اس قطرے سے ہماری شکل عقل رنگ روپ قد کاٹھ جسامت بنانے میں ڈی این اے میں محفوظ کوڈنگ پر عمل کرتے ہیں۔

    پانی سے خون اور پھر گوشت کا لوتھڑا بننے کے دوران جینز میں کئی تبدیلیاں اور تغیرات آتے ہیں۔ ڈی این اے نہیں بدلتا وہ وہی رہتا ہے۔ اب کونسے جین میں میوٹیشن mutation ہوئی ہے؟ وہ طے کرتی ہے کہ مسئلہ کہاں ہوگا؟ اگر سب جینز بالکل ٹھیک رہیں تو ہم بغیر کسی جسمانی عارضہ کے پیدا ہوتے ہیں۔

    ایپرٹ سنڈروم میں
    fibroblast growth factor receptors 2 (FGFR2)

    نامی جین میں کوئی تبدیلی یا خرابی واقع ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ جینز پروٹین بناتے ہیں اور وہ پروٹین آگے ہڈیوں اور اسکن کے سیلز بناتی ہے۔ یہ والا FGFR2 جین ہڈیوں کی مجموعی ڈیویلپمنٹ کے سگنل دینے کا کام کرتا ہے۔ یعنی یہ جین ہی ہماری ہڈیاں بنانے کا ذمہ دار ہے۔ اب اس میں خرابی کے باعث پروٹین سے اگلے مرحلے میں ہڈیاں بننے کے عمل میں ہمارے ڈھانچے کو ملنے والے سگنل اپنے نارمل دورانیے سے لمبے عرصے تک ملتے رہتے ہیں۔ تو کھوپڑی کی ہڈیوں کو یہ جین وقت سے پہلے ہی بند کر دیتا ہے۔

    اور اوپر ریشے چڑھا دیتا ہے۔ یہ عمل نارمل گروتھ پیٹرن میں چند سال کی عمر میں ہونا تھا۔ جو ماں کے پیٹ میں ہی ہو گیا۔ اب کھوپڑی بڑی ہونے لگتی ہے۔ تو مسلز کے گچھے اسے بڑھنے نہیں دیتے روکتے ہیں۔ ان مسلز کی انفارمیشن کے مطابق برین مکمل ہوچکا ہے جبکہ ہوا نہیں ہوتا۔ اور کھوپڑی ابنارمل طریقے سے بڑی ہونا شروع ہوتی ہے۔ جہاں سے اسے موقع ملتا ہے بڑھ جاتی ہے۔ بلکہ کئی بچوں کی کھوپڑی ڈیمج ہوجاتی ہے۔ ہاتھوں پاؤں کی انگلیوں میں موجود ہڈیاں ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہیں۔ اور جسم کی باقی ہڈیوں میں بھی کسی حد تک کوئی بگاڑ آ سکتا ہے۔

    اسی جین FGFR2 میں خرابی کی وجہ سے چند اور منسلکہ ڈس آرڈر بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ

    Pfeiffer syndrome
    Crouzon syndrome
    Jackson-Weiss syndrome

    ایپرٹ سنڈروم مردوں اور عورتوں میں برابر پایا جاتا ہے۔

    تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

    ایک بات یاد رکھیں بیسویں ہفتے میں حاملہ ماں کا الٹرا ساؤنڈ کسی میل ریڈیالوجسٹ سے کلر ڈاپلر ٹو ڈی یا تھری ڈی کے ساتھ ضرور کروائیں۔ گائنا کالوجسٹ کو الٹرا ساؤنڈ کا اتنا علم نہیں ہوتا۔ جتنا ایک ریڈیالوجسٹ کو۔ اور میل کی معاملہ فہمی و ایسے سکینز کی تشخیص فی میل سے ہر معاملے میں کچھ بہتر ہی ہوتی ہے۔ یہ میرا ذاتی تجربہ ہے آپ اس سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں۔ حمل کے چھٹے ماہ میں ڈھانچے کا سکین کرنے سے پتا چل جاتا ہے کہ بچہ ایپرٹ سنڈروم ہے یا نہیں۔ کوئی اور بھی سپیشلٹی ہو تو ڈاکٹر بتا دیتے ہیں۔ کھوپڑی ٹھیک نہ بنی ہو تو نظر آ رہی ہوتی۔ یا پیدا ہونے پر ہی معلوم ہوجاتا کہ بچہ ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ ہے۔ پیدائش کے بعد سی ٹی سکین سے ہڈیوں میں خرابی کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    ایورج عمر کتنی ہو سکتی؟

    عموماً ایپرٹ سنڈروم کا شکار بچے باقی مقامی لائف سپین کے مطابق عمر گزارتے ہیں۔ ایورج عمر اتنی ہی ہوگی جتنی انکے باقی بہن بھائیوں کی۔ البتہ دل کا کوئی مسئلہ ہو تو وہ الگ بات ہے۔

    ایپرٹ سنڈروم کے ساتھ بچے کو مسائل کیا ہوتے ہیں؟

    مسائل بہت زیادہ ہیں جو ساری عمر در پیش رہ سکتے ہیں۔ والدین یا سرپرست کو اس بات کو دل سے تسلیم کر لینا چاہیے کہ یہ بچہ ساری عمر سپیشل اٹینشن اور میڈیکل ٹریٹمنٹ کے زیر سایہ ہی رہے گا۔

    سماعت کا جزوی یا کلی طور پر نہ ہونا
    بولنے میں دشواری ہونا
    شدید ایکنی Acne ہونا جس سے پورے جسم چہرے گردن پر دانے اور پمپل بن جانا
    بہت زیادہ پسینہ آنا
    گردن میں سپائنل بون کا جڑا ہوا ہونا جو قد کو بڑھنے میں رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے
    آئلی سکن ہونا
    پلکیں اور بھنویں بہت اکثر کم یا نہ ہونا
    گروتھ اور ڈیویلپمنٹ میں شدید تاخیر ہونا
    تالو کا کٹا ہوا ہونا یعنی Cleft palate
    آئے روز کانوں کا انفیکشن ہونا۔
    معمولی سے لے کر درمیانے لیول کی دانشورانہ پسماندگی intellectual disabilities ہونا۔

    علاج کیا ہے؟

    ہر بچے کا علاج مختلف ہوتا ہے۔ عمر کے ابتدائی دو سالوں میں سرجری کرکے برین کو بڑھنے سے روکنے والے مسلز کو کافی حد تک ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ چہرے کی سرجری کرکے جبڑوں اور چہرے کی دوسری ہڈیوں میں موجود خلا یا بگاڑ کو بھی درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن چیک اپ ساری عمر جاری رہیں گے یہ کنڈیشن بلکل ٹھیک کبھی نہیں ہوگی۔ جن چیزوں میں بہتری لائی جا سکتی ان میں

    بصارت کے مسائل کا بہتر ہونا
    گروتھ اور ڈیویلپمنٹ میں تاخیر کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے
    دانتوں کے ابنارمل پیٹرن کو درست کیا جا سکتا ہے

    تعلیم حاصل کر سکتے ہیں؟

    دانشورانہ پسماندگی نہ ہو یا ذہانت کم ہو تو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق یہ بچے نارمل یا سپیشل ایجوکیشن سیٹ اپ میں تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

    شادی کر سکتے ہیں؟

    بلکل کر سکتے ہیں۔ مگر انکی شادیاں دنیا بھر میں کم ہی ہو پاتی ہیں۔ اگر شادی کریں تو کوشش کریں بچے نہ پیدا کریں۔۔

    مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس

  • کزن میرج اور معذوری — خطیب احمد

    کزن میرج اور معذوری — خطیب احمد

    ہم میں سے اکثر کے پاس شادی کے لیے maximum پانچ آپشن ہوتے ہیں۔ اماں کی طرف سے خالہ یا ماموں کی بیٹی یا بیٹا۔ کہ بیٹا ان میں سے ایک چن لو یا بچپن میں ہی سوچ لیا جاتا۔

    اگر ابا کی سائیڈ پر بات کریں تو باقی تین آپشن چچا تایا اور پھوپھی کی بیٹی یا بیٹا کی آپشن آتی ہے۔

    ہم اور ہمارے والدین بچپن سے ان پانچ آپشنز میں اپنا ذہن سیٹ کرتے ہیں کبھی ہمارا بھی ہوجاتا اور نا بھی ہو تو بچوں کی رائے کی کم ہی پرواہ کی جاتی بنا معیار دیکھے۔ اور مرضی پوچھے رشتہ کر دیا جاتا ہے۔ کہ اپنا ہے مار کے بھی پھینکے گا تو چھاؤں میں پھینکے گا۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا اکثر اپنے ہی مار کر الٹا لٹکا دیتے ہیں وہ بھی دھوپ میں۔ چھاؤں میں مار کر پھینکنے والی بات پرانی ہوئی اب۔

    اکثریت میں آج کل قریبی رشتے داروں میں بغض انا نفرت حسد پایا جاتا۔ کئی والدین جانتے ہوتے رشتہ داروں کو اور رشتہ نہیں کرنا چاہ رہے ہوتے مگر بچے ضد کر لیتے۔ میرے پائیو تے پینو باز آجاؤ ہجے وی ٹیم جے۔ یقین کرو بڑیاں کڑیاں تے بڑے منڈے۔ اک توں اک ودھ کے سوہنا جوڑ اللہ بنائے گا ان شاءاللہ۔ خود کو کسی شخص کا غلام نہ کرو۔ اور کزن کا تو بلکل بھی نہیں۔ پیار وی دوجی واری ہو جائے دا چھڈ دیو کزن دی جان۔

    مگر شادی کے بعد وہی پچھلی نسل کی چپقلش کے طعنے نیو بیاہتا بچے سنتے ہیں۔ انکے لیے شادی خوشی نہیں والدین کی ماضی کی لڑائیوں و رنجشوں کی تلافی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لڑکی کو عموما یہ طعنہ دیا جاتا ہم جانتے ہیں تمہاری ماں کیسی تھی تمہارا باپ کیسا تھا۔ وہ اپنے آپ میں ہی مر جاتی ہے کہ انہی والدین نے اسکی مرضی کے خلاف رشتہ کیا اور یہ لوگ کیا صلہ دے رہے۔ وہ والدین کو بھی کچھ نہیں بتاتی۔ بتا دے تو کہیں طلاق واقع ہوجاتی اور سارا خاندان ہی بکھر جاتا پرانے رشتے بھی تا مرگ ختم کر دیے جاتے۔ نہ بتائے تو والدین کی عزت کی خاطر نمانی اپنا آپ مار کے خود گھٹ گھٹ کر مرتی رہتی۔ اور سب اچھا ہے اپنے گھر بتاتی۔

    دوسری بڑی اہم بات کہ شادی کے بعد میاں بیوی میں وہ مٹھاس والا رشتہ کم ہی جڑ پاتا ہے۔ جو ایک مکمل اجنبی فرد سے نکاح ہونے پر بنتا ہے۔ کہ چند سال تو دونوں کا چاء (خوشی) ہی نہیں ختم ہوتی۔ جھجھک رکھ رکھاؤ اور ایک دوسرے کو سمجھنے تک دونوں ایڈجسٹ ہو چکے ہوتے۔

    ہم پاکستانی اور خصوصا پنجاب سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے بچوں کی شادیوں میں پہلی ترجیح کزن کو دیتے ہیں۔ لندن میں مستقل مقیم پاکستانی بھی یہی غلطی دہرا رہے ہیں۔ اور وہاں مستقل مقیم پاکستانی کمیونٹی میں سپیشل بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر کزن میں کوئی جوڑ بس عمر کی وجہ سے نہ ہو تو پھر اپنی ذات برادری میں یہاں کر لیتے ہیں۔

    میری تعلیم اور شعبہ خصوصی بچوں و افراد سے متعلق ہے۔ معذوری کی جہاں اور بہت سی وجوہات ہیں وہاں ایک بڑی وجہ فرسٹ کزن بھی میرج ہے۔ میں یہ بات کسی مفروضے کے طور پر نہیں کہہ رہا بلکہ ریسرچ اس بات کو ثابت کر چکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق معذوری کی وجہ میں کزن میرج کا رول 25 سے 50 فیصد تک ہے۔ آپ اپنی فیملی یا آس پاس سپیشل بچوں کے والدین کا شادی سے پہلے رشتہ دیکھ لیں اکثریت میں کزن ہونگے۔ پاکستان میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ سپیشل ہیں۔ جو ہماری آبادی کا 8 فیصد ہیں۔

    کزن میرج کے نتیجے میں معذوری واضح نہ بھی ہو کزن میرج سے ہونے والی اولاد جسمانی و ذہنی لحاظ سے ان بچوں سے بہت ذیادہ کمزور و کند ذہن ہوگی جنکے والدین کزن نہیں ہیں۔

    یہ بات ریسرچ سے ثابت شدہ ہے آپ اسکا اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے پاکستان میں سے کتنے سائنسدان بنے؟ آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی کتنے ہیں؟ اولمپکس چیمپیئن کتنے ہیں؟ ایتھلیٹ کتنے ہیں؟ فٹ بالرز کتنے ہیں؟ کس فیلڈ میں پاکستان کے افراد دنیا کو Compete کر رہے ہیں؟

    گنے جائیں تو چند ایک ہی ہونگے باقی سب ایورج ہیں۔ عقل کے پورے ہیں۔ کزن سے شادی ہوئی بچے بیوی اور والدین پالے اور ایورج سی زندگی گزار کر مر گئے۔

    کہ ذہنی اسطاعت ہی اتنی ہے اس سے آگے کوئی سوچ نہیں نہ ذہانت اس بات کی اجازت دیتی کہ کوئی تخلیقی تعمیری یا منفرد کام کیا جا سکے۔ نہ ہم خود سے کچھ بہتر لوگوں میں رشتہ کرتے کہ ہماری اگلی نسل ہی بدل سکے۔ جیہو جئے اسی آپ اوہو جئے ساڈے ساک۔

    میں نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کزن میرج پر حالیہ لٹریچر پڑھا تو معلوم ہوا یورپی ممالک میں سے 29 میں فرسٹ کزن میرج غیر قانونی ہے۔ آپ شادی فرسٹ کزن سے کر ہی نہیں سکتے۔ وہ لوگ اس پر قانون بنا چکے ہیں۔ امریکہ کی بیشتر states میں کزن میرج prohibited ہے۔ سٹیٹ 24 میں میرے ایک دوست رہتے ہیں وہ کہتے یہاں بھی کزن میرج پر پابندی ہے۔

    یہودی جو پوری دنیا کی معیشت کو قابو کرتے جا رہے کزن میرج ہر گز نہیں کرتے۔ شادی سے پہلے بیسوں قسم کے ٹیسٹ کرواتے ہیں کہ آنے والی نسل نا صرف جسمانی بلکہ ذہنی اعتبار سے بھی صحت مند ہو۔ اور یہاں خیر سے ذہنی صحت و ذہانت کا کوئی شعور ہی نہیں۔

    آپ پاکستان میں مقیم مسیحی کمیونٹی کے شادی سسٹم کو ہی دیکھ لیں وہ سب سے پہلے اپنی ذات برادری میں کبھی بھی شادی نہیں کرتے وہ اس بات کو اوروں سے بھی پوچھتے ہیں کہ اسکی ذات کیا ہے اپنی ذات نکل آئے تو شادی نہیں کرنی۔ مثلا مٹو کی شادی مٹو اور غوری مسیح غوری برادری میں کبھی شادی نہیں کرتا۔

    وہ اپنی چچا اور تایا ذاد سے بھی کبھی شادی نہیں کرتے۔ ماموں خالہ اور پھوپھی ذاد بہن سے تب کرتے ہیں جب اور کہیں کوئی آپشن مناسب نہ مل رہی ہو۔ وہ جس بھی وجہ سے ایسا کرتے ہیں۔ بہت اچھا کرتے ہیں۔

    کزن میرج حرام نہیں ہے آپ کریں مگر سب کچھ دیکھ سمجھ کر۔ بنیادی ٹیسٹ کروا کر جو ان شاءاللہ کل لکھوں گا۔ مگر خود کو صرف کزن تک ہی محدود نہ رکھیں۔

    کوئی حکم یا تاکید قرآن کی کسی ایک آیت میں بھی نہیں کہ آپ صرف کزن سے ہی نکاح کریں۔ کوئی ایک بھی سند کے اعتبار سے صحیح حدیث کزن میرج کو سپورٹ نہیں کرتی کہ جیسے کچھ مذہبی پیشوائی والے خاندان ہر صورت کزن سے ہی شادی کرتے ہیں کہ ہم باہر کرتے ہی نہیں۔ ایک اور بڑی بونگی سی بات ہوتی کہ ہم غیر ذات سے لڑکی لے لیتے ہیں اپنی دیتے نہیں۔

    کیوں پائی تواڈی کڑی بوہتے لعلاں آلی اے تے دوجیاں دی ایڈی وادھو اے؟ لڑکیو ایسے دوہرے معیار والے لوگوں میں کبھی بھی شادی نہ کرنا۔ ایسا کہنے والو کس اصول کے ساتھ یہ بات کرتے ہو ویسے؟ ایسا کہنا یا کرنا صرف جہالت ہے اور کچھ نہیں۔ جہاں کسی کی بہن بیٹی باہر سے لے سکتے ہو تو اپنی بہن بیٹی بھی باہر دو۔ پلیز اس جہالت سے نکالو خود کو۔ اسلام سے پہلے مذاہب میں کزن سے شادی حرام قرار دی جاتی تھی جو اللہ نے قرآن میں حکم دے کر حلال کر دی کہ کر سکتے ہیں شادی کزن سے حرام نہیں ہے۔ مگر باقی آپشنز کو حرام نہ کریں پلیز فیملی ہسٹری پہلے دیکھیں۔

    میں یہاں واضح کرتا چلوں کہ فرسٹ کزن میرج سے پیدا ہونے والے بچے کو معذوری کا خطرہ اس صورت میں اور ذیادہ ہوجاتا ہے جب دونوں یا والدین میں سے کسی ایک کی فیملی میں پہلے بھی کوئی پیدائشی معذوری موجود ہو۔ یہ کوئی مفروضہ نہیں سائنس سے ثابت شدہ بات ہے۔ بچے معذور پیدا نہ بھی ہوں وہ کسی قسم کی جسمانی و ذہنی کمزوری کا شکار ضرور ہونگے۔ انکی اگلی نسل مزید کمزور ہوگی۔ اور تیسری سے چوتھی پیڑھی میں بچے معذور ہوجائیں گے۔ عین ممکن ہے سب بچوں میں ایک ہی معذوری ہو۔ کوئی سپیشل ایجوکیشن سکول وزٹ تو کریں آپ کو پتا چلے میں کیا کہہ رہا ہوں۔

    ہمارے سپیشل بچوں کے سکولوں میں ہم سپیشل بچوں کے اساتذہ و دیگر معاون عملہ تقریبا ہر سکول میں ہر معذوری کے دو تین اور کبھی 4 ایک ہی معذوری کا شکار بہن بھائی دیکھتے ہیں۔ انکے والدین کا سوچ کر ان سے مل کر دل دکھ سے پسیج جاتا ہے۔ کل ایک داخلہ آیا چار بہن بھائی سماعت و گویائی سے مکمل محروم ہیں۔ ان کے والدین مامے پھپھی کے بچے تھے۔ سائیکالوجسٹ آپی یا انکے والدین سے پوچھنے پر پتا چلتا ہے انکے والدین ذیادہ تر کزن ہی ہوتے ہیں انہیں یہ بتانے والا ہی کوئی نہیں ہوتا کہ آپ کزن ہیں فیملی ہسٹری میں معذوری ہے ایک بچہ سپیشل پیدا بھی ہوگیا اب آگے بچہ پیدا کرنے کا رسک نہ لیں یا کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔

    خون گروپ جسے RH فیکٹر کہا جاتا کہ ماں اور ماں کے پیٹ میں بچے کا خون گروپ مختلف ہوجانا جیسے ماں کا رو مثبت ہے اور بچے کا منفی تو یہ بھی معذوری کی ایک بڑی وجہ ہے۔

    معذوری کی ایک اور بڑی وجہ پیدائش کے وقت دائی یا کسی ناتجربہ کار ڈاکٹر کی miss handling ہوتی ہے۔ آکسیجن کی کمی پیدائش کا دورانیہ لمبا ہوجانا بچہ ہاتھ سے چھوٹ کر گر جانا سر پر ذیادہ دباو آجانا وغیرہ تمام عمر کی معذوری کی وجہ بن سکتا ہے۔

    شادی کے بعد حاملہ دلہن کو خاوند کی عدم توجہ یا بن نا آنا، ساس، نند، جٹھانی یا سسرال میں جائنٹ فیملی کے اندر کسی کی طرف سے بھی مسلسل پریشان کرنا اس معصوم کو ذہنی اذیت سے دوچار رکھنا اسے اچھی غذا نہ فراہم کرنا بھی پیدا ہونے والے بچے کی معذوری کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔

    ایک حاملہ لڑکی کو اگر خوش رکھا جائے اسے مکمل غذا مہیا کی جائے تو نیا مہمان صحت مند و انشاء اللہ بنا کسی کمی و معذوری کے اس دنیا میں آئے گا۔

    فیملی میں پہلے ہی پیدائشی معذوری ہونے پر لوگوں کو کزن میرج سے منع کریں انہیں کہیں وہ کسی اچھے ڈاکٹر یا قریبی سپیشل ایجوکیشن سکول میں جا کر خاتون ماہر نفسیات سے مشورہ کر لیں ان سے پوچھیں کہ آپ کے پاس کتنے بچے کزن میرج کی پیدائش ہیں۔ شاید وہ اس طرح ہی اس سے باز آجائیں۔ کزن میرج ایک دو جنریشن میں ہوگئی اب اسکی جان چھوڑ دیں آگے نسل در نسل نہ اسے چلاتے جائیں۔

  • دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    دانشورانہ پسماندگی (انٹلیکچوئل ڈس ایبلٹی) — خطیب احمد

    اوپر والی تصویر میں ایک طرف میرے ماموں انور علی (ائیر فورس ریٹائرڈ) ہیں۔ دوسری طرف انکا صاحبزادہ میرا ماموں ذاد معظم علی ہے۔ معظم علی مجھ سے چار سال بڑا ہے۔ ماموں جی اپنی سروس کے آخری سالوں میں کراچی تھے تو ڈاکٹروں نے کہا آپکا اکلوتا بیٹا مائلڈ لیول کا ذہنی معذور ہے۔ اسکا آئی کیو 50 سے 70 کے درمیان ہے۔ زبان میں بھی شدید لکنت تھی۔ جسے آپ ہکلانہ کہتے ہیں۔ ایورج آئی کیو 90 سے 120 ہوتا ہے۔ ماہرین نے بتایا معظم علی نارمل بچوں کے سکول نہیں پڑھ سکے گا۔ زرا سوچ کے دیکھیں کسی کی کل کائنات ایک بیٹا ہو اور وہ بھی ذہنی معذور تو والدین پر کیا گزرے گی؟ مامی نے اتنی ٹینشن لی کہ دائمی تیز فشار خون و شوگر کی جوانی میں مریضہ بن گئیں۔ رشتہ داروں میں کیا کہا جائے گا کہ میرا بچہ پاگل ہے۔ یہی تو دیہاتوں میں کہا جاتا ہے۔ اور سپیشل بچے کو والدین کے ہی ماضی کے برے اعمال کی سزا سمجھا جاتا ہے۔

    ماموں جی فوجی تھی۔۔ اعصابی طور پر ایک مضبوط شخص تھے۔ ماموں کہتے ہیں خطیب احمد بیٹا میں نے سب سے پہلا جو کام کیا۔ اس سچائی کو قبول کر لیا۔ اور کراچی کے ایک سپیشل ایجوکیشن سکول میں سنہ 1992 میں معظم علی کو 7 سال کی عمر میں داخل کرا دیا۔ جہاں سپیچ تھراپی اور تعلیم شروع ہو گئی۔ ماموں کہتے ہیں میں معظم کو خود انگلش اور اردو کے حروف تہجی پڑھاتا تھا۔ 92 کے سال پاکستان نے کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ سارے ملک میں جشن تھا کراچی اس رات کو پہلے سے بھی روشن ہو چکا تھا۔ اور ہمارے جیسے ساری خوشیاں ختم ہو چکی تھیں۔ میں نے معظم کو لیا اور ساحل سمندر پر ہم باپ بیٹا چلے گئے۔ ہم نے خوب موج مستی کی۔ ماموں کہتے میں نے بیٹے کی معذوری کو اپنی زندگی جینے کا مقصد بنا لیا۔ مجھے اب باقی زندگی مختلف طریقے سے جینا تھی۔ جس کے لیے میں خود کو تیار کر چکا تھا۔

    1994 میں ماموں ریٹائر ہوئے۔ 280 ہزار روپے پنشن و گریجویٹی کے ملے۔ اب ماموں کی نظر میں بیٹے کی تعلیم تھی۔ اپنے آبائی شہر حافظ آباد آئے سپیشل بچوں کے سکول کا پتا کیا۔ کوئی نہیں تھا یہ تو اس وقت ضلع بھی نہیں تھا گوجرانولہ کی تحصیل تھی۔ گوجرانولہ گئے گل روڑ پر ایک ادارہ تھا جس سے ماموں مطمئن نہ ہوئے۔ لاہور گئے اور لاہور میں موجود ادارے وزٹ کیے جن کی حالت کچھ قابل قبول تھی۔ ماموں جی نے نشاط کالونی آر اے بازار میں 5 مرلہ کا پلاٹ لیا اور لاہور بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے شفٹ ہوگئے۔ میری مامی گاؤں رہنا چاہتی تھیں مگر ماموں کے ذہن میں کچھ اور تھا انہوں نے اپنی مرضی کی۔

    معظم کچھ سکولوں سے ہوتا ہوا ڈاکٹر عبدالتواب مرحوم اور ان کی اہلیہ کے گھر میں شروع کیے گئے سپیشل بچوں کے سکول رائزنگ سن ڈیفنس سکول لاہور داخل ہوگیا۔ تب تک معظم کافی بہتر ہوچکا تھا۔ کئی سال کی سپیچ تھراپی معظم کی زبان کی لکنت قدرے کم کر چکی تھی۔ رویے میں قدرے بہتری آچکی تھی۔ لرننگ کا موڈ بن چکا تھا۔ عمر 15 سال ہوچکی تھی جب معظم رائزنگ سن میں داخل ہوا۔ ماموں کہتے ہیں اس سکول میں ایک بڑی پیاری سی گوری چٹی ٹیچر تھی معظم نے ضد کی کہ وہ پڑھے گا تو اسی ٹیچر سے ورنہ پرانے سکول چھوڑ آئیں۔۔معظم کی بات سکول انتظامیہ نے مان لی۔ اس بہن کا میں نے پتا کرنا ہے جس نے میرے بھائی کو لکھنا پڑھنا سکھایا۔ ماموں کہتے اس ٹیچر سے اس کا انٹریکشن بہت اچھا ہو گیا۔ وہ ایک انتہائی محنتی ٹیچر تھی۔ اس کا میں نے شکریہ ادا کرنا ہے۔۔ اسے بتانا کہ دیکھیں آپ کی محنت کا رنگ اللہ نے کیسا چڑھایا ہے معظم پر۔ اور اس کے سکول بھی جا کر انتظامیہ کو معظم سے ملوانا ہے۔

    معظم نے اس ٹیچر سے الحمدللہ اردو انگلش پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ بنیادی حساب سیکھا۔ صاف رہنا سیکھا۔ نماز سیکھی۔ بڑوں کا ادب سیکھا۔ اپنے کام خود کرنا سیکھا۔ معظم اپنے سب کاموں میں آزاد صرف چھ ماہ میں ہوگیا۔ اس خدا کی بندی نے معظم کو بازار سے سودا سلف خریدنا سکھایا۔ معظم دوکان سے سبزی سودا سلف دودھ تندور سے روٹی لانے لگا۔ فلٹر سے پانی بھر کے لانے لگا۔ معظم کو گانے کا بہت شوق تھا۔ ماموں مولوی تھے تو اسکا یہ شوق گھریلو مذہبی رجحان کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا۔ آج بھی معظم کو کئی گانے پورے پورے یاد ہیں۔ کبھی ویڈیو ریکارڈ کروں گا۔

    معظم کو سپیشل کوٹے پر سیفائر کپڑے کی فیکٹری میں اوور لاک مشین پر ملازمت بھی ملی تھی۔ تین ماہ گیا ماشاءاللہ بہت اچھا کام کرتا تھا۔ نظر کافی کمزور ہونے کی وجہ سے وہ جاب نہ کر سکا۔ اور چھوڑ دی جاب۔

    آج الحمدللہ معظم علی اپنے سب کام خود کر لیتا ہے۔ اپنے ماموں کی سبزی کریانہ کی دوکان پر ملازمت کرتا ہے۔ گھر کے سب کام کرتا ہے۔ اردو انگلش ماشاءاللہ لکھ اور پڑھ لیتا ہے۔ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اسے اچھی طرح تعارف ہے۔ اہل بیت کا پتہ ہے۔ بنیادی جنرل نالج بھی ہے۔ سارے خاندان کے بچے بچے کا نام پتا ہے۔

    میں معظم سے ایک بار کہا آئی لو یو یار۔ تو وہ مجھے کہنے لگا یار توں میری ورگے بالاں نوں پڑھان آلی ڈگری جو کیتی اے۔تینوں پتا اے میں سپیشل بچہ واں، تاں توں میرے نال بڑا پیار کرنا ایں۔ جنہاں نوں میرا نئیں پتا اوہ مینوں پاگل کملا رملا شیدائی کہندے نیں۔ مینوں وٹے ماردے نیں۔ مینوں چھیڑدے نیں۔ میرے ابو نوں پتا سی تاں مینوں لہور لے آئے سی۔ میں پنڈ ہندا تے واقعی پاگل ہو چکیا ہندا۔ اس کی یہ بات سن کر میری آنکھیں نم ہوگئیں۔ اسکا ماتھا چوما اور گلے لگا لیا۔

    نیچے والی تصویر میں معظم جیسا ہی ایک لڑکا ہے۔ میرے گاؤں کے پاس رہتا ہے۔ سارا گاؤں اسے سائیں کہتا ہے۔ جو کبھی سکول نہیں گیا۔ گھر والے صبح گھر سے نکال دیتے ہیں۔ شام کو واپس آجاتا ہے۔ اسے میں نے کبھی شلوار پہنے نہیں دیکھا کیونکہ ٹائلٹ ٹرینڈ نہیں ہے تو گھر والے شلوار پہناتے ہی نہیں۔ ایسا ایک آدھ سائیں آپکے گاؤں محلے شہر میں بھی ہوگا؟ جسے بچے پتھر مارتے ہونگے۔ اسے چھیڑ کر اس سے گالیاں لیتے ہونگے؟ بڑے بھی اس سے ٹھٹھہ کرتے ہونگے؟ اسے تنگ کرتے ہونگے؟ شاید آپ بھی ایسا کرتے ہونگے؟ پلیز ایسا نہ کریں۔ نہ کسی کو کرنے دیں۔

    اپنے آس پاس کوئی چھوٹا بچہ دیکھیں تو اسے سکول داخل کروانے میں والدین کی مدد کریں۔ والدین کو گائیڈ کریں کہ سکول جانے کے بعد آپکا معظم علی طرح ہوسکتا ہے اور نہ جا کر گلی محلوں میں آوارہ پھرتا آگے جا کر سائیں آپکا بچہ ہو سکتا ہے۔

    پنجاب کے ہر ضلع ہر تحصیل ہر ٹاؤن میں الحمدللہ سرکاری سپیشل ایجوکیشن سکول ہیں۔ آپ ہماری ہیلپ لائن 1162 پر کال کرکے ہمارے تمام اداروں کی معلومات لے سکتے ہیں۔ مجھے پوچھ سکتے ہیں ایک میسج کال کی دوری پر ہوں۔ پورے پنجاب کے سب سکولوں کا مجھے پتا ہے۔ بلکل فری تعلیم ہے۔ آئیں ہم سب مل کر عہد کریں اگلی پیڑھی میں ہم ملک پاکستان میں انشاء اللہ کسی کو گلی محلوں میں لوگوں کے تماشے کا سامان بننے والا سائیں نہیں بننے دیں گے۔

    معظم علی کو ایسا معظم بنانے میں میرے ماموں جی نے ایک ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ ایسے گمنام ہیروز کو ضرور ٹرائی بیوٹ پیش کیا جانا چاہیے۔ میری کوشش ہے لاہور میں ایک اچھا پروگرام ارینج کروں۔ جس کے چیف گیسٹ میرے ماموں اور ان کا صاحب زادہ ہو۔ ان کی اس 32 سالہ بے لوث سروس پر انہیں سلام پیش کیا جائے۔ وہ اپنے تجربات سب سے شئیر کریں۔ سپیشل بچوں کے والدین کو یقینا میرے ماموں جان بہت آسانی دے سکتے ہیں۔ ماموں جی آپ کا بھانجا ہونے پر مجھے فخر ہے۔ معظم یار تم نے مجھے ہمیشہ موٹی ویشن دی ہے۔ تمہاری وجہ سے ہاں صرف تمہاری وجہ سے میں سرکاری سکول کا ماسٹر ہو کر بھی روایتی ماسٹر نہیں ہوں۔ نہ ہی کبھی بن سکوں گا۔ جیو میرے شہزادے بہت خوشیاں مانو۔