Baaghi TV

Tag: خطیب احمد

  • مائیکرو سیفلی — خطیب احمد

    مائیکرو سیفلی — خطیب احمد

    مائیکرو کا مطلب ہے چھوٹا اور سیفلی کا مطلب ہے سر تو اس اصطلاح کا مطلب ہوا چھوٹا سر۔ یہ ایک نیورولاجیکل کنڈیشن ہے جس میں ماں کی کوکھ میں ہی یا پیدائش کے بعد بچے کا سر ایورج سے بہت زیادہ یا قدرے چھوٹا رہ جاتا ہے۔ اور پنجاب میں ان بچوں کو زمانہ جاہلیت میں "شاہ دولا پیر کے چوہے” کہا اور مانا جاتا تھا۔

    ان کو درباری ملنگ بنا کر ان کے ہاتھ میں کاسہ دے کر سبز کپڑے پہنا کر بھیک منگوائی جاتی تھی۔ یہ پریکٹس اب بھی خال خال دیکھنے کو ملتی ہے۔ لوگ ان کو شاید ولی اللہ سمجھتے ہیں اور ان کو بھیک نہ دینا ان کا دل دکھا کر خود کو کسی مشکل میں ڈالنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔ ان سے دعا بھی کرواتے ہیں۔ ان کی دعا میں وہی اثر ہے جو کسی بھی اور شخص کی دعا میں۔ پلیز اس غلط فہمی سے نکالیں خود کو باہر۔

    یہ سب جاہلیت ہے۔ ان کا کسی شاہ دولے پیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بچے پوری دنیا میں پیدا ہوتے ہیں۔ جن کی وجوہات میں سے چند یہ ہیں۔

    1. حاملہ ماں کو متوازن غذا کا میسر نہ ہونا بچوں کی گروتھ پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ جہاں اور مسائل پیدا ہوتے وہیں مائیکرو سیفلی بھی اکثریت میں ماں کو اچھی غذا نہ ملنے سے رونما ہوتا ہے۔

    2. جنیٹک یا کروموسومل وجوہات بھی اس کے پیچھے ہو سکتی ہیں۔ جیسے ڈاؤن سنڈروم۔ ڈاؤن سنڈروم بچوں کا سر بھی چھوٹا رہ جاتا ہے۔

    3. حمل کے دوران حاملہ لڑکی کو ہونے والے انفیکشنز جیسا کہ زیکا وائرس، rubella, toxoplasmosis, cytomegalovirus, chickenpox وغیرہ

    4. دوران حمل بچے کے سر کو آکسیجن کا پورا نہ ملنا اسکی ایک بڑی وجہ بنتا ہے۔ اسی لیے کہتا ہوں کہ اپنا ریگولر سکین ہمیشہ کسی ماہر ریڈیالوجسٹ سے کروایا کریں۔ گائنی ڈاکٹر ریڈیالوجسٹ نہیں ہوتیں۔ وہ الگ ڈاکٹر ہوتے ہیں جو صرف ایکسرے و الٹرا ساؤنڈ ہی کرتے ہیں۔

    5. حاملہ لڑکی کو (phenylketonuria (PKU ہونا۔ اس پی کے یو پر پھر کسی دن تفصیلی مضمون لکھوں گا۔

    6. بچے کی سر کی ہڈیوں کا وقت سے پہلے آپس میں جڑ جانا جسے ہم craniosynostosis کہتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا تو اس کے سر کی ہڈیوں ابھی الگ الگ ہوتی ہیں۔ جو بعد میں جڑتی ہیں۔ مائیکرو سیفلی میں وہ جلدی جڑ جاتی ہیں۔ اور سر بڑا ہونے سے رک جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ کچھ ماحولیاتی عوامل بھی مائیکرو سیفلی کی وجہ بنتے ہیں۔ حاملہ لڑکی کا بہت زیادہ ادویات لینا، شراب یا نشہ آور چیزیں لینا الکوحل کا استعمال بھی اس کی وجہ بن سکتا ہے۔

    مائیکرو سیفلی کے ساتھ مسائل کیا ہوتے ہیں؟

    ڈویلپمنٹ کے پانچویں ایریاز بولنا، چلنا، سوچنا سمجھنا، اپنے کام خود کرنا، اور سوشلائزیشن میں واضح ڈی لے ہوگا۔ فزیکل گروتھ بھی ایورج سے کم ہوگی۔ یہ بچے عموماً آپ کو مجموعی طور پر دبلے پتلے سے چھوٹے قد کے ہی نظر آتے ہیں۔ سر کے ساتھ قد بھی چھوٹا رہ جاتا ہے جسے Dwarfism کہتے ہیں۔

    لرننگ ڈس ابیلیٹیز یا ڈفی کلٹیز ہو سکتی ہیں۔
    چلنے پھرنے اور چلنے میں بیلنس قائم کرنے کے مسائل ابتدائی عمر میں کافی شدید ہوتے ہیں۔
    بچے بہت زیادہ روتے رہتے ہیں۔ کچھ بچوں کو ڈس فیجیا Dysphagia بھی ہوتا ہے۔ یعنی وہ کوئی چیز نگلنے میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ سماعت سے جزوی یا مکمل محرومی ہو سکتی ہے۔ نظر کم ہو سکتی ہے۔ اور ہائپر ایکٹویٹی ہو سکتی ہے۔ یعنی ایک جگہ ٹک کر نہیں بیٹھیں گے۔ ان کی جان کو سکون نہیں ہوگا۔

    کچھ کیسز میں جہاں علامات شدید ہوں۔ ان بچوں کی چند دن یا چند ماہ میں ہی وفات ہو جاتی ہے۔ ہر مائیکرو سیفلی اپنی وجوہات اور ساخت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔

    کچھ مائیکرو سیفلی تو بلکل نارمل زندگی گزارتے ہیں۔ ان کا آئی کیو اور باقی سب کچھ نارمل ہوتا ہے۔ بس سر چھوٹا ہوتا ہے۔

    اور اکثریت میں ان بچوں کی زندگی نارمل گزر سکتی ہے۔ ان کو بس رحم اور ترس سے نکال کر تعلیم و تربیت دی جائے۔

    جیسے ہی بچہ پیدا ہو تو ہر ماہ اس کے سر کی پیمائش کریں۔ گھر پڑا انچ ٹیپ ہی استعمال کریں اور سینٹی میٹرز میں سر کو ماتھے سے پیچھے کی جانب گول ناپیں۔ اور ایک چارٹ تیار کریں جس پر 36 ماہ تک یہ پریکٹس جاری رکھیں۔ وزن اور قد بھی اس کے ساتھ لکھتے رہیں۔ جہاں کوئی ریڈ فلیگ نظر آئے کہ سر نہیں بڑھ رہا یا قد نہیں بڑھ رہا وزن نہیں بڑھ رہا تو کسی چائلڈ سپیشلسٹ سے ملیں۔

    علاج کیا ہے؟

    اس کا دنیا بھر میں کوئی علاج نہیں ہے۔ ہاں ان بچوں پر سالہا سال محنت کرکے ہم ان کے معیار زندگی کو بلند اور بہتر کر سکتے ہیں۔ ان کو تعلیم دے سکتے ہیں۔ ان کو کوئی ہنر سکھا سکتے ہیں۔ ان کو کوئی ٹریننگ دے سکتے ہیں۔ اور یہ اپنی زندگی بڑی آسانی سے مالی خود مختار ہوکر گزار سکتے ہیں۔ شادی کرکے بچے پیدا کر سکتے ہیں۔ ہمارے اپنے ادارے سے پاس آؤٹ دو مائیکرو سیفلی بچے بلال اور احمد الحمدللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک آلو چنے کا اپنی ہی گلی میں اسٹال لگا کر روزانہ 1 ہزار روپے تک منافع کما لیتا ہے۔ اور دوسرا لڑکا ایک فاسٹ فوڈ پوائنٹ پر ویٹر ہے۔ جس کی تنخواہ اور ٹپ ملا کر کوئی 20 ہزار ماہانہ کما رہا ہے۔ دونوں نوشہرہ ورکاں میں ہیں کوئی دوست جب بھی چاہے ان سے آکر میرے ساتھ خود مل سکتا ہے۔

    اگر ایک بچہ مائیکرو سیفلی پیدا ہو جائے تو دوسرا بچہ پیدا کرنے سے پہلے کم سے کم پروفیسر گائنی ڈاکٹر سے ضرور ملیں۔ورنہ 25 فیصد زیادہ چانسز ہونگے دوسرا بچہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ ڈاکٹرز پہلے بچے کی وجوہات کا تعین کرکے گائیڈ کرتی ہیں کہ اگلے بچے کو اس سے کیسے بچائیں مگر انتہائی قابل اور تجربہ کار ڈاکٹر ہی ان معاملات میں گائیڈ کر سکتی ہیں۔

    بھیک مانگنے والے مائیکرو سیفلی کو پلیز ان حرام خور پیشہ ور بھکاریوں سے آزاد کریں۔ وہ ان کو ٹھیکے پر لے کر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔ آپ ترس کھا کر ان کو دس بیس دے دیتے اور یوں ہی نسل در نسل یہ بھیک کی لعنت مائیکرو سیفلی کے ساتھ جڑی ہوئی نظر آتی۔

  • ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    ہمیں چلتے رہنا ہوتا — خطیب احمد

    چند دن پہلے سکول سے واپسی پر گاؤں جا رہا تھا تو میرے آگے بائیک ایک لڑکے کے پیچھے کوئی ستر سے اسی سالہ بزرگوں کی جوڑی بیٹھی جا رہی تھی۔ سنگل سڑک تھی اگر انکو کراس کرتا تو ان پر بہت زیادہ دھول مٹی پڑنی تھی کہ آجکل دیہاتی سڑکوں پر ٹریکٹر ٹرالیوں اور بڑی مشینوں کے چلنے کیوجہ سے بہت دھول بن جاتی ہے۔ فصل کٹنے کے بعد ٹریکٹر ٹرالیوں پر جانے والی مٹی سڑک کر گرتی وہ بھی بہت دھول بناتی ہے۔ میں بائیک کے پیچھے پیچھے آرام سے گاڑی چلا رہا تھا کہ دس کلو میٹر تک جہاں بھی انکو کراس کرتا انہوں نے مٹی میں نہا جانا تھا۔ بائیک ڈرائیور نے ایک دو بار خود ہی مجھے سپیس دی مگر میں نے کراس نہیں کیا۔ آدھے راستے میں جاکر بائیک والے نے بائیک روک لی کہ میں گزر جاؤں۔ میں نے پیچھے ہی گاڑی روکی اور خود اتر کر آگے گیا۔

    اور اس لڑکے سے کہا کہ میں خود ہی آگے نہیں جا رہا آپ چلتے جائیں۔ پریشان نہ ہوں۔ مجھے راستہ نہ دیں میں پیچھے ہی آؤں گا۔ میں پیچھے آنے ہی لگا تھا کہ مجھے بوڑھی ماں نے آواز دی کہ پتر میری بات سنو۔ تم کیوں نہیں آگے جا رہے؟

    میں نے کہا کہ میں اگر آگے گزروں گا تو آپ پر مٹی پڑے گا جو میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ میں کسی پر بھی مٹی ڈال کر اسے کراس نہیں کرتا چاہے جتنی بھی جلدی میں ہوں۔ اماں نے پوچھا تم کہاں سے آئے ہو اور کیا کرتے ہو؟ میں نے کہا نوشہرہ ورکاں سے آیا ہوں اور بھڑی شاہ رحمان میرا گھر ہے ایسے سپیشل بچوں کے ایک سرکاری سکول کا ٹیچر ہوں جو دیکھ نہیں سکتے یا بول اور سن نہیں سکتے یا چل پھر نہیں سکتے۔ بس میرے یہ بات کہنے کی ڈیر تھی وہ اماں پیچھے سے اتری اور مجھے گلے لگا کر میرا منہ ماتھا چومتے ہوئے ڈھائیں مار کر رونے لگ گئی۔ بابا جی اترے اور وہ بھی گلے لگ کر رونے لگ گئے۔ اتنی دیر میں پیچھے بھی سڑک پر چند گاڑیوں اور رکشوں کی لائن لگ گئی۔ مگر کوئی بھی ہارن نہیں بجا رہا تھا کہ راستہ چھوڑو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے بس کار سائیڈ پر کر لینے دیں ادھر ہی رکیں۔

    گاڑی سائیڈ پر لگائی کہ پیچھے کی چیزیں گزر سکیں۔ اور انکے پاس آیا۔ اماں جی نے بتایا کہ میں نے جو بات کہی ہے یہ بات مجھے الہام ہوئی ہے۔ یہ بات انہی الفاظ میں انکا اکلوتا بیٹا کہا کرتا تھا جو چھ سال قبل 30 سال کی عمر میں شیخوپورہ روڑ پر ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں موقع پر ہی وفات پا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ انکی شادی کے 20 سال بعد اللہ نے بیٹا دیا جب وہ اولاد کی امید ہی چھوڑ چکے تھے۔ جب وہ بائیس سال کا ہوا تو غیر قانونی راستے سے یونان چلا گیا۔ 8 سال وہاں رہا جب کاغذ بنے تو چھٹی آیا اور اسکا رشتہ دیکھ رہے تھے کہ ایک روڑ ایکسیڈنٹ میں وفات پا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ انکا اس دنیا میں واحد سہارا تھا۔ اماں نے کہا کہ وہ یونان جانے سے پہلے جب مجھے اور تمہارے چاچے کو بائیک پر کہیں لے کر جاتا تھا ناں۔ اور لوگ کراس کرتے ہوئے دھول اڑا جاتے تھے تو وہ کہتا تھا اماں جب میرے پاس گاڑی آئے گی ناں تو میں کسی پر بھی دھول نہیں ڈالوں گا۔ چاہے ایک گھنٹے کا سفر تین گھنٹوں میں ہی کیوں نہ طے کروں۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو کراسنگ میں دھول کے بادل اڑا کر بائیک والوں اور سائیکل سواروں کے سارے کپڑے گندے کر جاتے ہیں۔

    وہ یونان سے آکر گاڑی خریدنے ہی والا تھا کہ اللہ کا حکم آگیا اور وہ اگلے جہان چلا گیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے اور کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم نوشہرہ ورکاں دوائی لینے گئے ہوئے تھے اور یہ لڑکا ہمارا ہمسایہ ہے بائیک ہماری اپنی ہے جو ہمارے بیٹے کی تھی اسے ساتھ بطور ڈرائیور لائے ہیں۔ لوکل گاڑیاں بہت دیر لگا دیتی ہیں۔

    میں نے اس لڑکے سے کہا تم بائیک لیکر چلو میں اماں اور چاچا جی کو لیکر تمہارے پیچھے ہی آرہا ہوں۔ مگر رہو گے تم آگے ہی اور سپیڈ سے چلو زرا اب۔

    اماں کو میں نے فرنٹ پر بٹھایا اور چاچا کو پیچھے اور گاڑی انکے گاؤں کی طرف موڑ لی۔ رستے میں اماں جی نے بتایا کہ تمہارا چاچا جوانی میں پالتو جانوروں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جوڑا کرتا تھا۔ بڑی دور سے لوگ آکر لیجایا کرتے تھے اور چھوڑ بھی جاتے تھے۔ تب ہر گھر میں مویشی ہوا کرتے تھے۔ اور گاہے بگاہے کام آتا رہتا تھا چند کنال زمین بھی تھی جس سے گھر کے چاول گندم آجاتے تھے۔ وہ بیٹے کے یونان جانے پر بیچ دی تھی۔ جو جانوروں کی ہڈیاں جوڑنے کا فن جانتا ہوں وہ انسانی ہڈیاں کیوں نہیں جوڑ سکتا۔ مویشی کم ہوئے تو انسانی ہڈی جوڑ کا کام شروع کر دیا اور انکی جوڑی ہوئی ہڈی کبھی خراب نہ ہوتی تھی۔ یہ کام بیٹے کی وفات تک چلتا رہا۔ جب وہ فوت ہوا تو کام چھوڑ دیا اب بس روتے رہتے ہیں۔

    انہی باتوں میں ہم انکے گھر پہنچ گئے۔ کوئی چھ سات مرلے کا ڈبل سٹوری گھر ماشاءاللہ بہت اچھا بنا ہوا تھا۔ جو انکے بیٹے نے یونان سے پیسے بھیجے تو بنایا گیا تھا۔ اماں نے مجھے پوچھا تمہیں کوئی جانے کی جلدی تو نہیں؟ میں نے کہا بلکل بھی نہیں میں تو رات یہاں ہی رکوں گا۔ میری یہ بات سننے کی دیر تھی کہ وہ دونوں میاں بیوی جیسے خوشی سے نہال ہو گئے۔ اماں نے کہا تم بیٹھو میں گوشت لیکر آتی ہوں۔ میں نے کہا آپ بیٹھیں میں لے آتا ہوں۔ مجھے ہانڈی پکانی آتی ہے آپ اجازت دیں تو میں ہانڈی پکا لوں ؟ اماں پھر میرے گلے لگ گئی کہ میرے غلام فرید کو بھی ہانڈی پکانی آتی تھی کہ وہ ہماری بیٹی اور بیٹا دونوں تھا۔

    ہانڈی میں نے پکائی اماں کو آٹا گوندھ کر دیا اور اماں نے روٹیاں پکائیں۔ کھانا کھایا اور پھر سے باتیں کرنے بیٹھ گئے۔ رات کوئی بارہ بجے تک ہم باتیں کرتے رہے۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ بیٹے کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے پڑے ہیں جو ہمارے لیے کافی ہیں۔ جو اسنے یونان سے کمائے تھے۔ جتنی ضرورت ہو ہم کسی کے ساتھ جاکر بنک سے لے آتے ہیں۔ وہ جاتے ہوئے ہمیں کسی کا محتاج نہیں چھوڑ کر گیا۔ ہم نے کسی سے کبھی ایک پیسے کی بھی مدد نہیں لی بلکہ کسی ضرورت مند کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ بنک کا مینجر بھی ہماری بڑی عزت کرتا ہے۔ اماں ہی زیادہ بات کرتی تھی۔ چاچا بس کبھی کبھار کوئی بات کرتا اور ہماری باتیں سنتا رہتا۔ اماں نے بتایا کہ بیٹا پہلے ہم دعا کرتے تھے کہ اللہ ہمیں اولاد دے۔ جب دعا چھوڑ دی تو اللہ نے بیٹا دے دیا اور بیٹا بھی ایسا فرمانبردار جیسے فرزند ابراہیمی کی صحبت پائی ہو۔ ہم خوش تھے کہ بڑھاپے کا سہارا ہے اب پوتے پوتیاں ہونگے کہ اللہ کا حکم آگیا اور ہم پھر تنہا ہوگئے۔

    اسکے حکم بڑے ڈاڈھے ہیں۔ ماننے پڑتے ہیں۔ اسکے راز وہ ہی جانتا ہے۔ ہم اسکی رضا میں خوش ہیں۔ سوچتے ہیں وہ اولاد دیتا بھی نہ تو ہم کیا کر سکتے تھے۔ اسنے اولاد دی اور ایک وقت مقررہ تک اسے زندگی بھی دی۔ ہم بھی اپنی زندگی پوری کریں گے اور وہاں پھر اپنے بیٹے سے مل لیں گے۔ جہاں ہم پھر کبھی بھی جدا نہ ہو سکیں گے۔ کہ غیب کی باتیں اور حکمتیں تو وہی جانتا ہے۔ ہم سب کا یہاں ایک متعین رول ہے جو پلے کرکے ہم چلے جائیں گے۔ یہی باتیں کرتے ہم سو گئے صبح اٹھ کر میں سکول آگیا اس وعدے کے ساتھ کہ مہینے میں ایک بار ضرور ملنے آیا کروں گا۔

    کہیں سے بھی ملنے والے دکھ درد تکلیفیں اور حادثے زندگی کا لازمی حصہ ہیں یارو۔ زندگی وہ ہر گز نہیں ہے جو ہم سوچتے ہیں بلکہ وہ ہے جو ہمارے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر زندہ تو رہنا ہوتا ہے اور یہی زندگی کی حیثیت اور حقیقت ہے۔ آج غم ہیں تو خوشی ضرور آئے گی اور کبھی خوشیوں کو اچانک سے غم بھی آلے گا۔ بس ہمیں چلتے رہنا ہوتا اور اپنا ایک متعین سفر جاری رکھنا ہوتا۔

  • سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سٹیم سیل تھراپی ( آٹزم کے علاج میں امید کی ایک کرن) —- خطیب احمد

    سائنسدان جہاں حضرت انسان کو ملٹی پلانیٹری بنانے پر دن رات کام کر رہے ہیں۔ اور امید کی جا رہی ہے کہ سنہ دو ہزار پچاس میں 2 ارب چالیس کروڑ روپے میں ایک کپل سیارہ مارس پر اپنی رہائش کا بندوبست کر پائے گا۔ دو ہزار ساٹھ تک تین لاکھ لوگ مارس پر رہائش پذیر ہو چکے ہونگے۔ مکانات کے بعد سبزیاں اگا کر یونیورسٹی اور ہسپتال بننا شروع ہوچکے ہونگے۔ اور ایمازون مارس پر زمین سے ڈاک و دیگر پراڈکٹس ڈیلیور کرنے کی خدمت راکٹس کے ذریعے سر انجام دے گا۔

    وہیں انسانوں کو بیماریوں سے بچانے اور بڑی سی بڑی بیماری کو چند لمحوں یا گھنٹوں میں ٹھیک کرنے پر بھی دنیا بھر کے سائنسدان کام کررہے ہیں۔ تقریباً سو بیماریوں کے علاج کو سٹیم سیل تھراپی سے جوڑا جا رہا ہے۔ دنیا میں سب سے پہلے اس طریقہ علاج سے ہڈیوں کے کینسر bone marrow کا علاج سنہ 1957 میں اس طریقہ علاج کے موجد ای ڈونل تھامس E.Donnall Thomas نے کیا۔ جنہیں 1970 میں فلسفہ اور طب کی فیلڈ میں خدمات پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔

    سٹیم سیل کیا ہے؟ پہلے یہ دیکھتے ہیں۔

    قدرتی یا مصنوعی (ivf) طریقے سے انسانی نطفے (سپرم) اور بیضے (ایگ) کے ملاپ سے جو زائیگوٹ وجود میں آتا ہے۔ وہ انسانی وجود کی ایک بنیادی اکائی ہوتی ہے۔ زائیگوٹ بھی ایک سٹیم سیل ہے جو مزید سٹیم سیلز بنا دیتا ہے) زائیگوٹ کے سٹیم سیل کے کردار کو آپ ایسے سمجھ سکتے کہ جب زایئگوٹ تقسیم ہونے کے دوران الگ ہو جائے تو دونوں زائیگوٹ الگ مکمل جاندار بنا دیتے ہیں۔ جنہیں جڑواں کہا جاتا ہے۔ جو ہوبہو ایک دوسرے کی کاپی ہوتے ہیں۔ یہ اپنی ساخت میں ایک سٹیم سیل ہوتا ہے جس میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 23 باپ کی طرف سے اور 23 ماں کی طرف سے۔ اس ذائیگوٹ کو مشکل سے ہی انسانی آنکھ سے دیکھ سکتی ہے۔

    یہ ذائیگوٹ بڑی تیزی سے ایک سے دو ، دو سے چار اور چار سے آٹھ سیلز میں ایک دوسرے سے الگ ہوئے بغیر تقسیم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس تقسیم کے عمل کو مٹوسس mitosis کہا جاتا ہے۔ اس تقسیم ہوتے ذائیگوٹ سے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک سیل نکال کر محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ جسے سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سٹیم سیل کی پہلی اور سب سے زیادہ اہم قسم ہے۔

    یہ والا سٹیم سیل ہمارے جسم کا کوئی بھی حصہ وہ گوشت یا پٹھے ہوں دل ہو ہڈیاں ہوں مسلز یعنی پٹھے ہوں بال ہوں خون ہو جسم کا کوئی بھی حصہ خراب ہوجانے یا کٹ جانے پر دوبارہ بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پانچ دن کے بعد یہ زائیگوٹ فلاپیئن ٹیوب سے ماں کے رحم میں سرکنا شروع کرتا ہے۔ اور بلاسٹو سسٹ Blastocyst کی شکل اختیار کرتا ہے۔ بلاسٹو سسٹ دو ہفتوں کے بعد ایمبریو میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ پھر اس ایمبریو سے بھی سٹیم سیل نکالا جاتا ہے۔ جسے ایمبریونک سٹیم سیل کہتے ہیں۔ یہ سیل بھی بہت زیادہ سیل بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر یہ ذائیگوٹک سٹیم سیل کی طرح جسم کا ہر حصہ دوبارہ بنانے کے قابل نہیں ہوتا۔ یہ سٹیم سیل کی دوسری قسم ہے۔

    اس ایمبریو کے گرد پیاز کے چھلکے جیسی اسکن کی ایک باریک تہہ بننا شروع ہوتی ہے۔ اور یہ ایمبریو پلاسینٹا (خوراک و آکسیجن کی نالی) سے جڑ جاتا ہے۔ باریک تہہ کے اندر ایک لیس دار پانی جسے لائیکر یا Amniotic fluid کہتے ہیں بننا شروع ہوتا ہے۔ یہ پانی کوئی عام پانی نہیں ہوتا. اس میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں. جنہیں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔
    یہ سٹیم سیل کی تیسری قسم ہے۔

    اسکے بعد جب بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ تو بچے کے ساتھ ہی پلاسینٹا ماں کے رحم سے باہر آتا ہے۔ اس نالی میں بھی خون کی کچھ مقدار ہوتی ہے۔ جسے بلڈ کارڈ یا کارڈ بلڈ کہتے ہیں۔ اس کارڈ بلڈ میں بھی لاکھوں سٹیم سیل ہوتے ہیں جنہیں پہچان کر اس خون سے نکال لیا جاتا ہے۔ یہ سٹیم سیل کی چوتھی قسم ہے۔

    اسکے علاوہ کسی بھی عمر کے انسانی جسم کے کسی بھی حصے، گوشت اور عموماً کولہے کی ہڈیوں میں سے اس فرد اپنے سٹیم سیلز بھی تلاش کرکے نکالے جاتے ہیں۔ سٹیم سیلز عام سیلز سے رنگ و ساخت میں مختلف ہوتے ہیں۔ یہ سٹیم سیلز کی اب تک کی دریافت شدہ پانچویں اور آخری قسم ہے۔

    ذائیگوٹک، ایمبریونک، ایمنیوٹک فلیوڈ سے نکالے گئے سٹیم سیل پر مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو تحفظات ہیں۔ کہ یہ طریقہ درست نہیں ہے۔ اسلامی، عیسائی، یہودی اور بھی کئی مذہبی حلقے شروع سے پہلی دو اقسام کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔ کہ جس ذائیگوٹ یا ایمبریو سے یہ لیے جائیں گے اسے بھی کوئی خطرہ پہنچنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ اور یہ قانون فطرت میں چھیڑ چھاڑ تصور ہوتی ہے۔ جو جائز نہیں۔ خیر یہ ایک اور لامتناہی بحث ہے۔ سائنسدان اب ماں کے پیٹ سے باہر مصنوعی طریقے سے بنائے گئے ذائیگوٹ جس میں نطفہ اور بیضہ انسانی ہی ہوتا ہے۔ پہلے دونوں سٹیم سیل نکال رہے ہیں۔ وہ اب حاملہ ماں کے رحم سے کوئی سیل نہیں نکالتے۔

    کارڈ بلڈ اور انسان کے اپنے سٹیم سیلز پر کسی کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پچھلی ایک دہائی میں انہی دونوں اقسام کا استعمال مسلمان حلقوں عام ہوا ہے۔ جو پاکستان میں بھی پانچ سال قبل شروع ہو چکا ہے۔

    سٹیم سیل اپنے اندر مزید سیلز بنانے کی قدرتی صلاحیت رکھتا ہے۔ اور بیماری کی تشخیص نوعیت لیول کا تعین ہونے کے بعد ڈاکٹر دیکھتا ہے۔ کہ سٹیم سیل کی کونسی قسم اسکا بہتر علاج ہو سکتی ہے۔ پھر سٹیم سیل کو خون میں جدید مشینری کے ذریعے شامل کرکے متاثرہ جگہ پر انجیکٹ کر دیا جاتا ہے۔ دل کے امراض، نابینا پن کا علاج، مرگی، آٹزم، جگر کے مردہ سیلز کو زندہ کرنا، ہڈیوں کا کینسر، کمر کے مسلز کا کچلا جانا جسکی وجہ سے نچلا دھڑ ناکارہ ہو جاتا ہے۔ منیبہ مزاری اس نچلے دھڑ کے ناکارہ ہونے کی ایک مشہور مثال ہے۔

    اور بھی کئی بیماریوں اور معذوریوں کو سٹیم سیل سے ٹھیک کرنے کے دنیا بھر میں ہزاروں کامیاب تجربے ہوچکے ہیں۔ ہزاروں لوگ جزوی و مکمل بینائی حاصل کر چکے ہیں۔ اور کئی لوگ حادثوں کی وجہ سے ویل چیئر پر چلے جانے کے بعد دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ بلکہ اب تو سٹیم سیل سے نئی ہڈیاں اور اسکن سیلز بنانے کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔ بری طرح ٹوٹی ہوئی جڑنے کے ناقابل اور ناکارہ ہڈیوں کو جسم سے باہر بنائی گئی بلکل قدرتی ہڈی سے بدلہ جاسکے گا۔ آنکھ کے قارنیہ تو ہزاروں لوگوں کے ری پلیس کیے جا چکے ہیں۔ جس سے انکی بینائی لوٹ آئی ہے۔ جسم کے جلنے والے حصے کو اسی انسان کے سٹیم سیلز لیکر نئی جلد اگا کر جسم کے ساتھ جوڑی جا سکے گی۔ پلاسٹک سرجری کی جگہ حقیقی جلد لینے کے بلکل قریب ہے۔

    میرا موضوع آٹزم ہے تو اس مرض کے علاج میں اب تک کا سب سے موثر ترین علاج سٹیم سیل تھراپی ہی ہے۔ جسکے دنیا بھر میں نتائج بڑے حوصلہ افزا رہے ہیں۔ جسم کے وہ سیلز جو خراب ہوتے ہیں۔ جنکی وجہ سے آٹزم کا شکار بچوں میں مختلف مسائل پائے جاتے ہیں۔ ان سیلز کو سٹیم سیلز سے بدل دیا جاتا ہے۔ خراب سیلز کے ساتھ سٹیم سیلز جڑ کر نئے اور تندرست سیلز بغیر کسی بھی فالٹ کے بنانا شروع کرتے ہیں۔ اور نئے تندرست سیلز کی بتدریج بڑھتی ہوئی تعداد پرانے خراب، ڈیمج سیلز پر غالب ہو کر بیماری کے اثر کو کم کرنا شروع کر دیتے ییں۔

    سٹیم سیلز تھراپی کراچی اور اسلام آباد میں کامیابی سے کی جارہی ہے۔ علاج زیادہ مہنگا نہیں ہے۔ پیسے جتنے بھی لگیں جب بچہ ٹھیک ہونے لگے تو پیسے بھول جائیں گے۔ کچھ دھوکے باز ڈاکٹرز مختلف شہروں میں پی آر پی PRP کو ہی سٹیم سیل تھراپی بتا کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹ رہے ہیں۔ سٹیم سیل تھراپی میں استعمال ہونے والی مشینیں بہت مہنگی ہیں جو ہر کوئی نہیں خرید سکتا۔ (پی آر پی کیا ہے یہ کسی اور دن سہی۔ یا ابھی خود سرچ کر لیں)

    آٹزم سوسائٹی آف پاکستان کے مطابق اس وقت تین لاکھ پچاس ہزار 350٫000 بچے آٹزم کا شکار ہیں۔ ان بچوں کے لیے یہ ایک گیم چینجر طریقہ علاج ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔ پاکستان کی تقریباً تمام بڑی یونیورسٹیاں سٹیم سیل پر تحقیق کر رہی ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ طریقہ علاج ہر بیماری کے لیے استعمال ہوگا۔

    (مصنف کی زیر تصنیف کتاب "میں مختلف ہوں” سے اقتباس)

  • آٹزم (خود محویت)، ڈس ابیلیٹی کے سوشل ماڈل کی ڈیفی نیشن میں — خطیب احمد

    آٹزم (خود محویت)، ڈس ابیلیٹی کے سوشل ماڈل کی ڈیفی نیشن میں — خطیب احمد

    آٹزم پر ریسرچ کے دوران میرے اوپر ایک ایسا وقت بھی آیا کہ میں نے خود کو آٹسٹک پرسن سمجھنا شروع کر دیا۔ میں ایک بات شروع میں واضح کر دوں یہ کوئی معذوری نہیں ہے۔ بلکہ ایک نیورو ڈیویلپمنٹل ڈائیورسٹی (تنوع) ہے۔ جسکے آگے مختلف درجے ہیں۔ اور اسکے ساتھ کچھ مزید چیزیں جڑی ہو سکتی ہیں۔ ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی اسکی وجوہات اور علاج ممکن نہیں ہے۔

    مگر کریں کیا؟

    آٹزم یا آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر کی بات کریں۔ تو اسکی علامات دو تین سال کی عمر سے لیکر عمر کے کسی بھی حصے میں نمایاں ہو سکتی ہیں۔ یہ علامات مائلڈ اور شدید دونوں طرح کی ہو سکتی ہیں۔

    ماہرین نفسیات و ورکنگ سپیشل ایجوکیشنسٹس کے مطابق آٹزم کی بعض علامات یہ ہیں

    سماجی تعلقات سے کترانا۔

    طبیعت میں جارحانہ پن۔

    نام سے پکارے جانے پر جواب نہ دینا۔

    ہر وقت کی بے چینی اور خوف۔

    بہت ہی ظالم یا بہت ہی نرم دل۔

    توجہ دینے میں دشواری ۔

    تنہائی پسند اور گوشہ نشین۔

    بات کرتے وقت آنکھیں چرانا۔

    الفاظ اور جملوں کو بار بار دہرانا۔

    ذرا سی بات پر پریشان ہو جانا۔

    اپنا مطلب سمجھانے یا بات کا اظہار کرنے میں دشواری ہونا

    ہاتھوں کو چڑیا کے پروں کی طرح پھڑپھڑانا (Hand Flapping)

    ایک ہی کام کو بار بار کرنا

    ایک جگہ پر سکون سے نہ بیٹھنا، بیٹھے ہوئے اچھلنا کودنا

    بات کرتے ہوئے آئی کانٹیکٹ نہ دینا

    بات سن لینا مگر کوئی رسپانس نہ دینا

    بہت زیادہ ضد کرنا، شور مچانا، چیزیں توڑنا، نقصان کرنا، اگریشن

    عام بچوں سے زیادہ شرمیلا ہونا

    بات کو سمجھنے اور اپنی بات کا اظہار کرنے میں دشواری ہونا

    اپنی مرضی کے موضوع پر ہی بات کرنا۔

    ایم فل ڈیویلپمنٹل ڈس ابیلیٹیز کرنے کے ساتھ دس سال کے فیلڈ ایکسپیرئنس اور گزشتہ بارہ دنوں میں 120 گھنٹوں کی متواتر گہری (deep) و جدید (latest) ریسرچز کو پڑھنے، دنیا بھر کے آٹسٹک افراد کے انٹرویوز سننے کے بعد میں آٹزم کو ایک مختلف نظر سے دیکھنے کے قابل ہوا ہوں۔ مجھے لگتا ہے مضمون تھوڑا لمبا ہوجائے گا مگر مجھے آج وہ سب کچھ کہنا ہےجو بہت کم کہا سنا اور لکھا گیا۔

    حالیہ برسوں میں آٹزم کی ریشو بہت تیزی سے بڑھی ہے۔ ایک راؤنڈ نمبر میں ہر سو میں سے ایک بچہ آٹزم کے ساتھ ہے۔ اسی تناسب سے دنیا کی 7.9 ارب آبادی کا ایک فیصد یعنی 8 کروڑ آٹزم کے ساتھ ہے۔ پاکستان کی بات کی جائے تو 22 کروڑ میں سے 22 لاکھ افراد آٹزم کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ پاکستان آٹزم سوسائٹی کی آٹزم کے عالمی دن 2 اپریل 2021 کو جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا کہ پاکستان میں اس وقت 4 لاکھ بچے آٹزم کے ساتھ ہیں۔ ہمارے ہاں شناخت کے عمل سے وہی آٹسٹک گزرتا ہے۔ جس میں آٹزم کی اوپر بیان کرنا انتہائی علامات پائی جاتی ہیں۔ اور بے شمار لوگ اپنے آٹسٹک بچوں کی وسائل و شعور کی کمی کے باعث باقاعدہ اسسمنٹ ہی نہیں کروا پاتے۔

    آٹسٹک کی اسسمنٹ کرتا کون ہے؟ عموماً ڈاکٹرز یا ماہر نفسیات؟ یہ دونوں فریق اور تیسرا فریق والدین آٹزم کو زیادہ تر ڈس ابیلیٹی کے میڈیکل ماڈل میں دیکھتے ہیں۔ میڈیکل ماڈل میں آٹزم کو ایک ذہنی بیماری، نیورو لاجیکل یا جنیٹک ڈس آرڈر، کوئی میڈیکل کنڈیشن یا ٹریجڈی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ نیورو لاجیکل ڈیویلپمنٹل ٹھیک نہیں ہوئی۔ تو یہ بچہ نارمل نہیں ہے۔ جسے نارمل کرنے پر کام شروع ہو جاتا۔ اسکا علاج ہونا چاہئے۔ پہلی یہی ازمشپن والدین ڈاکٹرز اور کچھ ماہر نفسیات اپناتے ہیں۔ اور بچے کا علاج کے چکروں میں ابتدائی سالوں میں ہی بیڑہ غرق کرکے رکھ دیتے۔

    میں بحثیت سپیشل ایجوکیشنسٹ اس میڈیکل ماڈل کو آٹزم کے تناظر میں کلی طور پر رد کرتا ہوں۔ ڈاکٹرز کیا کرتے ہیں؟ ٹیسٹ وغیرہ؟ اور سائیکالوجسٹ اسسمنٹ کرتے یا ان میں سے کچھ انکے ساتھ سیشن بھی لیتے؟ اور سپیشل ایجوکیشنسٹ کیا کرتے؟ اسسمنٹ کے ساتھ دنیا بھر میں ان بچوں کے ساتھ والدین کے بعد زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ ایک آٹسٹک بچہ جیسے خود کو ڈس ایبلڈ نہیں سمجھتا۔ اور نہ وہ حقیقت میں ہوتا ہے۔۔ڈس ایبلٹی کے سوشل ماڈل میں ہم سپیشل ایجوکیشنسٹ آٹزم کو کوئی بیماری یا معذوری نہیں سمجھتے۔ کہ جسکا علاج کیا جائے۔ اسے ٹھیک کیا جا سکے یا اسکی روک تھام ہو سکے۔

    دنیا بھر میں ہر سال کروڑوں اربوں ڈالر آٹزم کی ریسرچ پر لگائے جا رہے ہیں۔ میں نے جب آٹزم کی فنڈنگ پر ریسرچ کی تو میرے سامنے بات کچھ یوں آئی۔

    40 فیصد فنڈز اس فیلڈ میں خرچ ہو رہے ہیں کہ اسکی جنیٹک اور بائیولوجیکل یا دیگر وجوہات کیا ہیں؟ اسکی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ ایک سو سال کی ریسرچ کے بعد بھی یہ سوال یوں کا توں ہے۔

    20 فیصد فنڈز اس بات پر کی جانے والی ریسرچ پر لگ رہے کہ اسکا علاج کیا ہے؟ ہم آٹزم کو کیسے نارمل کر سکتے ہیں؟

    20 فیصد فنڈز آٹزم کے مسائل اور رویوں کی تلاش میں کی جانے والی سالوں پر محیط تحقیقات میں کھپ رہے ہیں۔

    صرف 7 فیصد فنڈز آٹسٹک لوگوں کی ویلفیئر اور انکی مدد کرنے میں لگ رہے۔

    آٹسٹک لوگوں میں خود کشی کا رجحان عام لوگوں سے 9 گنا زیادہ ہے۔

    آٹزم کی ایوریج لائف دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی 54 سال ہے جبکہ نارمل لائف سپین 68 سال تک ہے۔ اور کچھ ممالک میں 80 سال تک بھی ہے۔

    دنیا کی ترجیحات ہی آٹزم کو لیکر غلط ہیں۔ کینیڈا انگلینڈ امریکہ فرانس جرمنی دوبئی میں مقیم پاکستانی والدین سے میری بات ہوئی تو انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہاں بھی ان بچوں کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہم خود ہی کرتے ہیں جو بھی کریں۔ میڈیکل ماڈل پر ہی کام ہوتا ہے۔ شدید ذہنی اضطراب میں نیند کی گولیاں دے دی جاتی ہیں۔ یا ہمیں نہیں معلوم ہمارے بچے کے ساتھ ری ہیبلی ٹیشن سنٹر میں کیا کرتے ہی ۔

    آٹزم خواتین کی نسبت مردوں میں بہت زیادہ ہے۔ دس آٹسٹک بچوں میں سے ایک لڑکی اور نو لڑکے ہو سکتے ہیں۔ یا سولہ میں سے ایک لڑکی ہو سکتی ہے۔

    آٹزم سوشل ماڈل کے تحت ہے کیا؟

    آٹزم کوئی ڈس ایبلٹی نہیں ہے۔ یہ ایک نیورولوجیکل ڈیویلپمنٹ کا مختلف پیٹرن ہے۔ ان بچوں کی سوچنے سمجھنے رسپانس کرنے برتاؤ کرنے گفتگو کرنے میل جول رکھنے کی عادات اکثریت سے مختلف ہوتی ہیں۔ اور آٹزم کے ساتھ لوگوں کی آپس میں بھی ان ایریاز میں ترجیحات اور علامات ایک دوسرے مختلف ہیں۔

    کچھ لوگ نارمل لوگوں کی ڈیفی نیشن میں بھی انٹرو ورٹ Introvert اور ایکسٹرو ورٹ Extrovert ہوتے ہیں۔ MBTI کا ٹول استعمال کرکے آپ اپنی پرسنیلٹی ٹائپ معلوم کر سکتے ہیں۔ میں ENFP ہوں۔ یہ میرا ایک پرسنیلٹی کوڈ ہے۔ میں ایکسٹرو ورٹ ہوں۔ اس کوڈ کو میں نے ایک لائف کوچ سے فیس دے کر اپنی پرسنیلٹی اسسمنٹ کروا کر معلوم کیا ہے۔ آپ کا بھی کوئی پرسنیلٹی کوڈ ہوگا؟ جو ہمارے سیکھنے اور زندگی گزارنے کے مخصوص طریقے بتاتا ہے۔ جب کوڈ معلوم ہوجائے تو ہمارے لیے یہ آسان ہوجاتا ہے۔ ہم کس فیلڈ کے لیے بنے ہیں؟ کس کام میں تھوڑا کام کرکے زیادہ اور جلدی نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ کونسا کام کرتے ہوئے ہم تھکیں گے نہیں۔

    اکثریت ساری عمر اپنی ناپسند کے کام میں ہی لگی رہتی۔ اور لوگ زندگی میں کچھ بھی بڑا نہیں کر پاتے۔
    آپ بھی اپنا پرسنیلٹی کوڈ معلوم کیجئے۔ اور پھر اس کام میں جت جائیے۔ بس دس سال سر نہیں اوپر اٹھانا۔ ٹکا کر محنت کرنی ہے۔ اور انشاء اللہ اگلا سو سال آپکا نام اس فیلڈ میں زندہ رہے گا۔ جتنی محنت زیادہ مقصد بڑا ہوگا اتنا نام معتبر ہوگا۔

    آٹزم کی اسسمنٹ تو کروا لی۔ والدین اب کیا کریں؟

    اس بچے کو اپنے دیگر بچوں سے مختلف بچہ قبول کریں۔ یہ مشکل ہے خصوصاً ایک ماں کے لیے۔ مگر میری بہن آپ اس بات کو لیکر کسی دکھ یا صدمے میں پلیز ہر گز نہ جائیں۔ نہ ہی اس بچے کو ٹھیک کرنے کے غلط راستے پر چل پڑیں۔ یہ بچہ ساری عمر دوسرے لوگوں کی طرح نہیں ہو سکے گا۔ یہ اپنے انداز میں ایک شاندار زندگی گزار سکتا ہے۔ اگر آپ اسے جو ہے جیسے ہے کی بنیاد پر قبول کر لیں۔۔اور اسکی بہتری پر کام شروع کر دیں۔

    اس بات کو چھپائیں بھی نہیں۔ سب کو بتائیں فخر سے کہ آپکا بچہ آٹسٹک ہے۔ اسکی پسند ناپسند عادات و اطوار تھوڑی یا زیادہ مختلف ہیں۔ فیملی و خاندان والوں کو ایجوکیٹ کریں۔ کہ اسکے ساتھ برتاؤ کیسے کرنا ہے۔

    کچھ بچے وربل اور اکثریت نان وربل کی ہوتی ہے۔ کچھ بچے ساری عمر ایک لفظ بھی نہیں بول پاتے۔ اشاروں کی زبان سیکھ جاتے ہیں۔ یا کوئی مخصوص الفاظ بولتے ہیں۔ جیسے انڈہ امی ابو آم کوئی ایک ایک لفظ وہ بھی جب انکی مرضی ہو۔

    تفصیلی اسسمنٹ جو ایک فرد واحد نہیں بلکہ پروفیشنلز کی ایک پوری ٹیم کرے۔ اور کئی دن پر وہ اسسمنٹ محیط ہو۔ وہ طے کرے گی کہ آٹزم کے ساتھ کونسی کنڈیشنز جڑی ہوئی ہیں؟ جنکی وجہ سے اسے سپیکٹرم کہا جاتا۔ اور

    اسکا علاج نہیں کرانا (جو دنیا بھر میں ہے بھی کوئی نہیں) بلکہ مینجمنٹ اور ایجوکیشن کا پلان کیسے بنانا ہے۔

    آٹزم کے ساتھ سب سے شدید کنڈیشن جو جڑتی وہ نابینا پن (Blindness) ہے۔ دنیا کی سب مشکل کنڈیشن ہے یہ اگر آٹزم شدید ہو۔
    اسکے علاوہ لرننگ ڈس ایبلٹیز،

    Expressive language disorder
    Receptive language disorder
    Sensory processing issues
    Obsessive compulsive disorder
    ADHD
    Hydrocephalus
    Epilepsy
    Schizophrenia
    Bipolar Disorder
    Depression
    Anxiety
    Disrupted sleep
    Gastrointestinal (GI) problems
    Feeding issues

    یہ بچے عام بچوں سے مختلف انداز میں سیکھتے ہیں۔ انکو سب سے پہلے بنیادی باتوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اپنے ذاتی کام کیسے خود کرنے ہیں۔ ممکنہ توجہ اور بول چال پر ماہرین سالوں سال کام کرتے ہیں۔ تو جا کر کوئی معمولی سا آوٹ پٹ ملتا ہے۔ ان بچوں کی ون ٹو ون ٹیچنگ ہے۔ دو بچے بھی ایک وقت میں ایک جگہ نہیں پڑھ سکتے۔ پنجاب سپیشل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان بچوں کو اس وجہ سے نہیں لیتا۔ کہ وہاں ہر کیٹگری میں بچوں کی ریشو استادوں کی تعداد سے پہلے ہی بہت زیادہ ہے۔

    ہمارے بے شمار سکولوں میں دانشورانہ پسماندگی کے ساتھ بچوں والے پورشن میں ایک ٹیچر کے پاس دس بیس بچوں کے ساتھ ہی ایک کونے میں یہ بچہ بھی چپ چاپ سہما ہوا بیٹھا رہتا ہے۔ دس بیس سال بھی وہاں بیٹھا رہے۔ کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ اسے انفرادی توجہ اور ون ٹو ون ٹیچنگ کی ضرورت ہے۔ جہاں ان بچوں کو پڑھایا جاتا وہاں کوئی ڈسٹریکشن نہیں ہوتی۔ کوئی آواز کسی فرد کا گزر نہیں ہونے دیا جاتا۔ کہ یہ بچے انسٹرکشن پر فوکس کر سکیں۔

    ان بچوں کے علاج اور بحالی پر دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی ہزاروں نیم حکیم، عطائی، پیر، ڈاکٹر، ماہر نفسیات، سپیچ تھراپسٹ، سپیشل ایجوکیشنسٹ، آکو پیشنل تھراپسٹ اور کئی بغیر کسی ڈگری کے ہی صرف ماہرین کے ساتھ کام کرکے سیکھے ہوئے افراد، والدین و بچے کا وقت برباد کرنے کے ساتھ انکا پیسہ بھی برباد کر رہے ہیں۔ والدین کو دھوکہ دے رہے ہیں کہ والدین کو کچھ پتا ہی نہیں۔ نیٹ سے معلومات لے کر کوئی نتیجہ نکالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس فیلڈ کے ماہرین ہی کوئی حتمی رائے قائم کر سکتے ہیں۔۔ایک عام آدمی سب کچھ نیٹ سے نہیں سیکھ سکتا۔ ناں ہی سب کچھ جان سکتا ہے۔ جان بھی لے تو بہت زیادہ وقت لے گا۔

    اس سارے سین کے بعد خوشی کی بات کیا ہے؟

    ان بچوں میں اگر کچھ خرابیاں ہیں تو خدا کی ذات نے کچھ خوبیاں بھی رکھیں ہونگی؟ عقل مانتی ہے ناں اس بات کو؟ مثبت ایریاز کو تلاش کرکے ان پر کام کرکے ان بچوں سے غیر معمولی کام لیے جا سکتے ہیں۔
    تو یہ لیں ان بچوں کے کچھ مثبت ایریاز:

    مثبت سوچ
    انتہائی پاورفل و شاندار یاداشت
    حد سے زیادہ مخلص
    فوکس کرنے کی اعلی ترین خوبی
    باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کی صلاحیت
    لوگوں کو گلے لگانا چومنا پیار کرنا
    پڑھنا بہت چھوٹی عمر میں شروع کر دینا Hyperlexia
    تصویری اشیا سے سیکھنے کی صلاحیت
    لاجیکل تھنکنگ
    سائنس ریاضی طب انجینرنگ کے مضامین بلا کی ذہانت و فطانت
    ٹیکنکل اور لاجیکل مضامین میں مہارت
    تخلیقی صلاحیتوں کے سمندر ان بچوں میں قید ہوتے
    انتہائی ذمہ دار ہوتے یہ بچے

    ایسا تب ہو سکتا ہے۔ اگر ان بچوں کے علاج کو چھوڑ پر انکی تعلیم و تربیت پر فوکس کیا جائے۔ گو قابل ماہرین بہت کم ہیں مگر موجود ہیں۔ آپکو ان بچوں کے لیے کچھ پیسے زیادہ کمانے ہونگے۔ ایک ماہر ٹیچر آپ ہائیر کریں گے جو آکے گھر پڑھائے گا۔ وہ ایک ماہ روزانہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ٹائم دینے کا بیس ہزار سے کم کسی صورت نہیں لے گا۔ اور یہ سلسلہ چار پانچ سال سے لیکر دس سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ ایک ہی وقت میں دو سے تین لوگ بشمول ماہر نفسیات و آکو پیشنل تھراپسٹ بھی ضرورت کے تحت سیشن لیتے ہیں۔

    پاکستان کی ہر ڈویژن اور پنجاب کے ہر ضلع تحصیل ٹاؤن سپیشل ایجوکیشن سنٹر سے کسی ٹیچر کا پتا کر لیں جو سکول کے بعد ٹائم دے سکے۔ آپ بچے کی ماں ہیں یا والد خود بھی ساتھ ٹریننگ لیں۔ دنیا بھر میں کامیاب آٹسٹک بچوں کے ٹیچر اکثریت میں انکے والدین ہی تھے۔ یہ بچے ٹیچر کو منہ پر تھپڑ مارتے ہیں۔ تھوک دیتے ہیں۔ چکیاں کاٹتے ہیں۔ اوپر پانی گرا دیتے دھکا وغیرہ دے دیتے ہیں۔ ٹیچر یہ سب کیوں برداشت کرتا ہے؟ کہ اسے اسکا معاوضہ ملے گا۔ پانچ دس ہزار میں کوئی قابل ٹیچر یہ سب سہنے کے لیے نہیں ملے گا۔ آپکو تو پیسوں سے غرض نہیں؟ آپ ٹیچر سے کہیے آپکو بھی ٹرین کرے۔ اگر نہیں کر سکتے تو پیسے زیادہ کمائیے اور بچے کی باقاعدہ تعلیم و تربیت کیجیے۔ ورنہ بچہ گلیوں میں لوگوں کے ٹھٹھہ مذاق کا سورس ہوگا۔۔یا گھر کے کسی کونے میں پڑا زندگی کے دن پورے کرتا رہے گا۔ یا آپکی ساری زندگی اسکی اور آپکی ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے مشکل میں گزرے گی۔

    یہ بچے ارلی انٹروینشن کے بعد تعلیمی نظام کا حصہ بن کر پی ایچ ڈی تک کر سکتے ہیں۔ کئی آٹسٹک پی ایچ ڈی ہیں۔ انکے لیے بہترین ملازمت کے چند پیشے یہ ہیں۔ جن میں یہ اپنی سپر پاورز دکھا سکتے ہیں۔ اور یقیناً آپکی سہی ہوئی تکلیفیں اور خرچا ہوا سرمایہ سب کچھ یہ واپس لوٹا دیں گے۔ اگر آپ نے انہیں کسی قابل بنا دیا۔

    انیمل سائنسز جیسے زووالوجی یا جانوروں کو کسی کام کے لیے ٹرین کرنا (دنیا بھر میں ہر نسل کتوں کو سدھارنے اور مختلف کام سکھانے والے ماہرین آٹسٹک لوگ ہیں)

    ریسرچر کوئی بھی ان جیسا نہیں بن سکتا

    آرٹ اینڈ ڈیزائن (گرافک ڈیزائننگ)

    پینٹنگ (کہا جاتا ہے صادقین، اسمائیل گل جی اور جمیل نقش صاحب ملک کے تینوں عالمی شہرت یافتہ پینٹر بھی آٹسٹک تھے) ان لوگوں کی پینٹنگز آج کروڑوں میں بکتی ہیں۔ جمیل نقش صاحب کی بیٹی بتا رہی تھی کہ اسکے ابو اپنی ساری زندگی میں بس چند ایک دفعہ ہی گھر سے باہر نکلے۔ ایک بار جب انکی شادی ہوئی پھر جب انکی مسز فوت ہوئی جنازہ کے لیے۔ تیسری دفعہ جب پاسپورٹ بنوانا تھا اور چوتھی دفعہ جب انہوں نے لندن جانا تھا۔ سنہ 2019 میں جمیل نقش صاحب لندن میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے۔ آج انکے کام کو دنیا جانتی ہے۔ وہ کسی سے بھی نہیں ملتے تھے بس اپنے کام میں کھوئے رہتے تھے۔

    مینو فیکچرنگ (کسی بھی چیز کی)

    انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے سافٹ ویئر اور موبائل ایپس بنایا۔ سافٹ ویئر کی خرابی چیک کرنا (امریکہ میں ایک آئی ٹی کمپنی ہے جو فرمز کے بڑے بڑے خراب سافٹ ویئر ٹھیک کرتی ہے۔ ان کے سارے ملازمین اسپرجر سنڈروم کے ساتھ ہیں۔ یہ آٹزم کی ہی مائلڈ شکل ہے)

    کسی بھی قسم کی انجینرنگ ملازمت

    یہ بچے سائنسدان بن سکتے ہیں (کیونکہ سائنسدان بھی کسی سے بات نہیں کرتے بس اپنے تجربات میں کھوئے رہتے ہیں۔ تین بڑے سائنسدان آئزک نیوٹن، البرٹ آئنسٹائن اور ہینری کیویندش (ہائیڈروجن کا موجود) بھی آٹسٹک تھے۔

    جرنلزم میں یہ لوگ کمال کے کالم نگار ہوتے ہیں کہ لکھنا ریسرچ کرکے ہوتا ہے۔۔ریسرچ کرنا ان پر ختم ہے

    کسی بھی مشین کے مکینک یہ بہترین ہو سکتے ہیں۔ جان ڈئیر مشینیں بنانے والی مشہور زمانہ امریکن کمپنی میں ٹاپ مکینک آٹسٹک لوگ ہیں۔

    دنیا کے ٹاپ وکلاء کے پیرالیگل سٹاف میں آٹسٹک لوگ ہو سکتے جو کسی کیس کی اسٹڈی میں رسرچ کرتے ہیں۔

    سپیس سائنسز کاسمالوجی میں ان سے بہتر کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ ناسا میں کئی آٹسٹک لوگ ہیں۔

    ان تمام شعبوں کے بائی ڈیفالٹ و بائی برتھ بادشاہ آٹسٹک لوگ ہیں۔ یہ سب شعبے انتہائی ذہانت اور لاجیکل تھنکنگ مانگتے ہیں۔ حد سے زیادہ فوکس اور لگن مانگتے ہیں۔ اینٹی سوشل لوگ ہی ہمیشہ تخلیقی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں۔ اور انکی تو گھٹی میں پڑی ہوئی یہ خوبی کہ کسی سے بات ہی نہیں کرنی جاؤ جو ہوتا ہے کر لو۔ بس اپنی دنیا میں ہی مگن رہنا ہے۔

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈس ایںبلٹی کے میڈیکل ماڈل کی بجائے سوشل ماڈل کو اپناتے ہوئے ان بچوں کو قبول کیا جائے۔ اور انکی تعلیم و تربیت کا مناسب انتظام کیا جائے۔

    #autismawareness