Baaghi TV

Tag: خواجہ آصف

  • عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

    عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نومئی کومنصوبہ بندی کےتحت حملےکیےگئے، ڈیڑھ سال سے یہ چیز لٹک رہی تھی ، نو مئی کو حساس تنصیبات پر حملے کیے گئے ، حملہ کرنے والے تربیت یافتہ افراد تھے۔عمران خان شوکت خانم ڈونر کے پیسے کھاتا ہے یہ قومی نوعیت کا معاملہ تھا جس میں فیصلوں کی فوری ضرورت تھی، فیصلوں میں سب سے بڑی رکاوٹ عدلیہ نے کھڑی کی ۔وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ قوم کی دفاعی فوج کو للکارا گیا ، یہ للکار ہندوستانی فوج کی جانب سے نہیں تھی ، منصوبہ بندی کے تحت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حملے کئے گئے، کسی ملک کی تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ اس کے دفاع کو چیلنج کیا گیا۔خواجہ آصف نے کہا کہ جن 25افراد کو فوجی عدالتوں سے سزائیں ملیں ان کی ویڈیوز موجود ہیں ، حملہ آواروں کی ویڈیو میں ان کے چہرے اور آوازیں واضح ہیں ، اسی بنیاد پر انہیں سزائیں دی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ پانامہ کیس کا فیصلہ عدلیہ کیلئے باعث شرم ہے، جنرل باجوہ اور دیگر مائنس نوازشریف پر کام کر رہے تھے، نوازشریف کو مائنس کرنے کا اسٹیبلشمنٹ کا پرانا منصوبہ تھا، مجھے ذاتی طور پر اپروچ کیا گیا ، میں قائد ن لیگ کو بتا کر ان سے ملا تھا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ان کا مقصد عمران خان کو اقتدار میں لانا تھا جبکہ بانی پی ٹی آئی خود فوج کی سب سے بڑی پیداوار ہیں، جب اقتدار سے الگ ہوئے تو امریکہ کے خلاف ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کا نعرہ لگایا، اب یہ لوگ امریکہ کی حمایت کا اعلان کررہے ہیں اور امریکہ کا کندھا استعمال کرکے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں ۔190ملین پاؤنڈ سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں آنے چاہیے تھے، عمران خان نے یہ رقم ملک ریاض کو دے دی اور ملک ریاض سے واجبات ایڈجسٹ کرائے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 2018ء کے الیکشن میں آرٹی ایس سسٹم بیٹھا کر عمران خان کو اقتدار دلوایا گیا، یوٹرن لینے والا کبھی لیڈر نہیں بن سکتا،10روز قبل یہ صرف اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرنا چاہتے تھے، آج حکومت سے مذاکرات کیلئے رضا مند ہیں ، تحریک انصاف سے مذاکرات کیلئے حکومت نے کمیٹی بنا دی ہے۔

    پاورسیکٹرکیلئے مزید 50 ارب سے زائد سبسڈی کافیصلہ

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

    انگلینڈ کا چیمپئنز ٹرافی کے لیےاسکواڈ کا اعلان

  • سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کو،منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نومئی بہت بڑا حادثہ تھا ، یہ سزائیں بہت پہلے سنا دینی چاہیئں تھیں

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں پلان پر عمل کرنے والوں کی دی گئیں ہیں ، شہدا کے مجسوں کو توڑنا ملک دشمنی اور غداری ہے، منصوبہ سازوں کی بھی جلد باری آئے گی، جب تک ہمارا دفاع مضبوط ہے ملک کو خطرہ نہیں،ڈیڑھ برس کے بعد مجرموں کو سزا سنائی گئی اور فیصلہ آیا، یہ بہت بڑا سانحہ تھا، امریکہ، برطانیہ میں ایسا حادثہ ہوا تو راتوں کو بھی عدالتیں کھلی رہیں اور سزائیں ہوئیں ،لیکن پاکستان میں تاخیر ہوئی،میانوالی،مردان، پشاور، لاہور، پنڈی تمام شہروں میں شہدا کے نشانوں کی توہین کی گئی،ملک کو باہر کی بجائے اندر سے خطرے اس طرح کے تھے،اختلاف کرنا حق ہے لیکن سیاست میں یہ چیزیں نہیں ہوتیں، پاکستان کے شہدا کی نشانیوں‌پر حملہ حب الوطنی نہیں ہے،شہدا کے مجسموں کو زمین پر پھینکا گیا، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ آج سانحہ 9مئی کے 25ملزموں کو سزائیں سنائی گئی ھیں۔ ھونا تو چاہئے تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی طرح فوری انصاف ھوتا۔ اس تاخیر نے ملزموں اور انکے سہولت کاروں کے حوصلے بڑھاۓ۔ ایک تاریک دن کی مذمت سے بھی گریز کیا گیا۔ جس سے شہداء اور غازیوں کی توھین کرنے والوں کو ھییرو بنا یا گیا۔

    واضح رہے کہ سانحہ نومئی، فوجی عدالتوں سے بڑا فیصلہ آ گیا، عدالت نے 25 مجرموں کو سزا سنائی ہے،فوجی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے 14 مجرموں کو دس سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے،ایک مجرم کو نو سال قید بامشقت، ایک مجرم کو سات سال قید،دو مجرموں کو چھ سال قید با مشقت ،دو مجرموں کو چار سال قید با مشقت ،ایک مجرم کو تین سال قید بامشقت،چار مجرموں کو دو برس قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے،

    سانحہ نومئی،14 مجرموں کو 10 سال قید،25 سزا یافتہ مجرموں کی تفصیل

    سانحہ نو مئی، فوجی عدالتوں کابڑا فیصلہ، 25 مجرمان کو سزا سنا دی

  • سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف اور شیر افضل مروت کی پارلیمنٹ ہاؤس میں مختصر ملاقات ہوئی ہے

    خواجہ آصف نے شیر افضل مروت کی نشست کے پاس سے گزرتے ہوئے ان سے مصافحہ کیا،بعد ازاں ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت ابھی تک تحریک انتشار کی ڈالی مشکلات دور کررہی ہے ،تحریک انصاف کے وزیرہوابازی کے ایک بیان نے پی آئی اے کا جو برا حشر کردیا تھا، وہ اب یورپین یونین کی جانب سے بحالی کے بعد پی آئی اے میں بہتری ہونے جارہی ہے، سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔میں تسلیم کرتا ہوں، میری زبان زہر اور آگ اُگلتی ہے، آپ بتائیں آپ کی طرف سے کون سے پھول جھڑتے ہیں،دھمکی سے مذاکرات نہیں ہوتے، میرے منہ سے آگ نکلنا چاہتی ہے مگر میں بریک لگا رہا ہوں،شیر افضل مروت کی باتوں سے پہلی بار خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے،اچھی بات ہے،یہ شروعات کم از کم اس ایوان میں اگر ایسی آوازیں اٹھتی رہیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں،

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ زہر گھولنے والے کو ہمدرد نہیں سمجھا جاتا نا ہی گلے لگایا جاتا ہے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیا گیا ہے، اسکے بعد بات چیت کر لیں گے، آپ بالکل سول نافرمانی کریں، دھمکی سے معاملات حل نہیں ہوتے، سیاستدان سیاسی زبان استعمال کرتے ہیں، بہت سی تلخیوں کا بوجھ ہم اٹھائے ہوئے ہیں، اسد قیصر یہاں بیٹھے ہیں وہ بتا دیں.آج بات ہوتی ہے جیل میں یہ سہولت نہیں، جیل میں 6 ٹمپریچر تھا مجھے کمبل دیدیا گیا، میں جنوری کی 12 راتیں جیل میں سویا، 2018 سے اب تک اس ہاؤس نے بہت تلخی دیکھی، کل بھی تصدیق کی تھی باضابطہ مذاکرات کی شروعات نہیں کی گئی، پہلی بار ادھر سے خوشگوار ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ہے۔لیکن سیاسی ذمہ داری آئینی ذمہ داری کے بعد آتی ہے

    خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ پارا چنار میں امن اومان کی صورتحال مخدوش ہے، دونوں سائیڈز سے افہام و تفہیم کی باتیں ہونی چاہئیں، مجھے بتایا گیا کہ کرم میں زمین کا جھگڑا ہے جو شیعہ سنی فساد میں تبدیل ہوگیا، آئین کہتا ہے یہ صوبائی حکومت کی ذمے داری ہے، پارا چنار میں پوری طرح آگ نہیں بجھی، ہم نے حلف لیا ہے پہلی ذمہ داری آئین کی ہے،اسلام آباد پر ضرور حملہ کریں لیکن صوبے کے حالات پر بھی غور کریں،

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

    قومی اسمبلی اجلاس، رانا تنویر اور اسد قیصر میں لفظی جھڑپ

  • مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا ،خواجہ آصف

    مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا ،خواجہ آصف

    اسلام آباد:وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش اور رابطے پر ردعمل دیا ہے-

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے لکھا کہ ‏پی ٹی آئی نے 24 نومبر کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 12 سے لے کر 278 تک بتائی اور کوئی ثبوت بھی فراہم نہیں کیے،پی ٹی آئی نے رینجرز اور پولیس کی شہادتوں کا اعتراف یا ذکر تک نہیں کیا، دوغلا پن اور دہرا معیار تحریک انصاف کی شناخت و کلچر ہے۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ ‏مذاکرت چند دن پہلے تک صرف اسٹیبلشمنٹ تک حلال تھے اور حکومت سے مذاکرات حرام تھے، یہ بھی زمانے کے انقلاب ہیں، ‏مذاکرات اچھی بات مگر عمران خان کی گارنٹی کون دے گا کیونکہ وہ تو دن میں کئی رنگ بدل لیتے ہیں،کوئی زمانہ تھا جب جنرل باجوہ اور فیض ضامن ہوتے تھے یہ تب کی بات ہے جب محبت جوان تھی۔

    واضح رہے کہ وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف نے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسپیکر ہاؤس میں ملاقات کی جس میں بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، صاحبزادہ حامد رضا اور وزیر قانون و پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا پلیٹ فارم استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا،مذاکرات کے لیے پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرنے کی تجویز اسپیکر نے دی، ان کی تجویز کو پی ٹی آئی اور حکومت دونوں نے تسلیم کر لیا۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ مذاکرات ہماری نہیں بلکہ پاکستان کی ضرورت ہیں، بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ معنی خیز مذاکرات کی بات کی ہے، 9 مئی اور 26 نومبر کے لئے جوڈیشل کمیشن بنانا چاہیے،میں نے پہلے بھی مفاہمت کی بات کی تھی، ہم چاہتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی جیل سے باہر آئیں، جیل جانے سے بانی پی ٹی آئی کا قد مزید بڑھا ہے، ہم بانی پی ٹی آئی سمیت تمام پارٹی اسیران کی فوری رہائی چاہتے ہیں، حکومتی لڑائی سے پوری قوم کا نقصان ہورہا ہےسیاسی کیسز واپس لینا حکومت کے بائیں ہاتھ کا کام ہوتا ہے، آخر اس معاملے میں دیر کیوں ہو رہی ہے۔

  • پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں کہ ہر شخص الگ بیان دیتا ہے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں کہ ہر شخص الگ بیان دیتا ہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ 26 نومبر کے احتجاج میں علی امین کے گارڈز نے اپنے ورکرز پر فائرنگ کی۔

    باغی ٹی وی : قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی نے 12 کارکنان کی شہادت کا ذکر کیا لیکن کسی کےورثا سامنے نہیں آئے، سیاسی تقریر میں سیاسی باتیں کریں پی ٹی آئی میں اختلافات ہیں کہ ہر شخص الگ بیان دیتا ہے، بغیر ثبوت کے اس قسم کی ہوائی باتیں کرنا اجتماعی شعور کی توہین ہے، تحریک انصاف کے رہنماؤں کے بیانات میں تضاد ہے، بشریٰ بی بی نے کہا کہ مجھے چھوڑ کر سارے لوگ بھاگ گئے۔

    وزیردفاع نے الزام عائد کیا کہ جب علی امین بھاگ رہے تھے تو ان کے ورکرز نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ کیا، یہ بھی آن ریکارڈ ہے علی امین کے گارڈز نے اپنے ورکرز پر فائرنگ کی، انہوں نے اب صوبائیت کا کارڈ کھیلنا شروع کردیا، پی ٹی آئی ابھی تک مرنے والوں کی تعداد نہیں بتا سکی، لطیف کھوسہ کچھ کہتے ہیں باقی سارے کچھ کہتے ہیں، اب یہ 12افراد کہہ رہے ہیں لیکن ان کا بھی ڈیٹا کسی کو نہیں دے سکے ہاؤس میں ان کے بھاگنے کی ویڈیوز چلائیں، جب دھرنے کا موقع آیا ، کھڑے رہنے کا موقع آیا تو یہ سارے بھاگ گئے۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ انہوں نے اب سول نافرمانی کی کال دی ہے، دس سال پہلے بھی انہوں نے سول نافرمانی کی کال دی تھی، کنٹینر پر کھڑے ہوکر بانی پی ٹی آئی نے یوٹیلٹی بلز جلائے تھے لیکن کسی نے ان کی کال پر لبیک نہیں کہا اور ان کی کال فیل ہوگئی۔

    انہوں نے کہا کہ میرا چیلنج ہے کوئی پاکستانی یوٹیلٹی بل دینے سے انکار نہیں کرے گا، میں اصرار کرتاہوں کہ سول نافرمانی کی کال پر یہ اسٹینڈ لیں، لوگوں نے انہیں مسترد کردیا تھا آج بھی عوام ان کو مسترد کریں گے، بیرون ملک رہنے والے بھی ان کی بات نہیں مانیں گے، انہیں سول نافرمانی کی تحریک پر کھڑے رہنا چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہوسکے کہ کتنے لوگ ان کے ساتھ ہیں۔

  • پی ٹی آئی میں پھوٹ نظر آرہی ہے یہ ساری فراڈ پارٹی ہے،خواجہ آصف

    پی ٹی آئی میں پھوٹ نظر آرہی ہے یہ ساری فراڈ پارٹی ہے،خواجہ آصف

    اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی میں پھوٹ نظر آرہی ہے یہ ساری فراڈ پارٹی ہے-

    باغی ٹی وی : وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ جسٹس منصور علی نے کہا ہے کہ 26 آئینی ترمیم کے بعد عوام کا اعتماد عدلیہ سےاٹھا جائےگا تو میں نےٹوئٹ میں ان سے پوچھا ہےکہ اس سےپہلے ثاقب نثار یا کھوسو صاحب کے وقت میں یا دوسرے جج صاحبان خاموشی سے گھر کیوں چلے گئے تھے اس وقت جو فیصلے ہورہے تھے اور میاں نوازشریف کا جو فیصلہ ہوا ان کو جس طرح عدالتوں نے ٹارگٹ کیا اس وقت ان جج صاحبان کو خیال نہیں آیا۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان بھائی ہیں کسی وقت بھی مدارس بل پر بیٹھ کر بات ہوسکتی ہے جو بھی تحفظات ہیں سنیں گے، ڈیجیٹل میڈیا کے حوالے سے ساری دنیا میں اقدامات کیے جارہے ہیں ملک میں اس چیز کی بہت ضرورت ہے قانون سازی ہونی چاہیے بانی پی ٹی آئی سول نافرمانی کی کال دے کر شوق پورا کر لیں اگر وہ کال دینا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں ان کی کال کو کوئی فالو نہیں کرے گا اس وقت ملک کے عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں اور مسائل اسی صورت حل ہوسکتے ہیں کہ ملک میں امن ہو اگر بار بار اسلام آباد پر حملہ ہوگابار بار خیبرپختونخوا کی طرف سے دھمکیاں دی جائیں گی اور جھوٹ کی سیاست کی جائے گی تو کبھی مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ آج تک پی ٹی آئی والے بارہ لاشیں بھی نہیں دیکھا سکے پہلے وہ ہزاروں پھر دو سو سے زائد قتل عام کہتے تھے لیکن یہ بارہ لاشیں بھی نہیں دیکھا سکے بلکہ بعض لاشیں زندہ ہوگئیں ہیں جن کو انھوں کہا کہ جاں بحق ہوئے ہیں وہ زندہ ہیں ، پارٹی میں بہت سے اختلافات ہیں یہ پارٹی نہیں بلکہ متجن ہے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ کی لڑائی ان کی بیگم کے ساتھ ہے وہ ایک الگ لیڈر شپ کی لڑائی ہے یہ پارٹی شکست کا شکار ہوجائے گی پی ٹی آئی میں پھوٹ نظر آرہی ہے یہ ساری فراڈ پارٹی ہے۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بشری بی بی جس گاڑی پر فائرنگ کا بول رہی ہیں وہ گاڑی لے آئیں کہیں کوئی سوراخ ہوئے ہوں گے بانی پی ٹی آئی کا بھی بیان تھا میری شلوار سے بارہ گولیاں گزر گئیں وہ بھی خاوند کی طرح بیان دے رہی ہے ویڈیو موجود ہے بشری بی بی گاڑی میں بیٹھ کر ہاتھ ہلاتی جارہی ہے۔

  • جسٹس منصور کے خط پر وزیردفاع خواجہ آصف کا ردعمل

    جسٹس منصور کے خط پر وزیردفاع خواجہ آصف کا ردعمل

    اسلام آباد: وزیردفاع خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے لکھے گئے خط پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ نہایت محترم جسٹس منصور علی شاہ صاحب نے اپنے خط میں خدشے کا اظہار فرمایا ہے کہ ان کے خط کے مندرجات پر اگر عمل درآمد نہ ہوا تو عوام کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ محترم جج صاحب اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ عرصہ دراز سے وابستہ ہیں اور اس وابستگی کے دوران عدلیہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس کے عینی گواہ ہیں، ثاقب نثار صاحب، کھوسہ صاحب، اعجاز احسن، مظاہر نقوی اور بہت سے صاحبان عدلیہ کے وقار کو پامال کرنے والے چند نام ہیں، نام اور بھی بہت ہیں، محترم شاہ صاحب اس وقت عوام کے اعتماد مجروح ہونے کا آپ کو خیال نہیں آیا یا یہ شکایت کسی ذاتی وجہ سے ہے،یہ سیلیکٹیو سینس آف جسٹس آپ کے مقام کو زیب نہیں دیتا۔

    قبل ازیں اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کے معاملے جسٹس منصور علی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کو بھی خط لکھ دیا ہے، جس میں انہوں نے رولز بنائے بغیر ججز کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کیا،جسٹس منصورعلی شاہ نے جوڈیشل کمیشن کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ججز تعیناتی سے پہلے واضح رولز بنائے جائیں، ججز تعیناتی کیلئے واضح پالیسی اور کرائیٹیریا بنانا ضروری ہے۔

    انہوں نے خط میں لکھا کہ میں ججز تعیناتی پر رولز بنانے والی کمیٹی کی سربراہی کر چکا ہوں، جس میں ججز کی تعیناتی سے متعلق رولز کا پیمانہ طے کیا گیا تھا،ججز کی قابلیت اور ورک لوڈ منیجمنٹ کی صلاحیت کو رولز میں شامل کیا جانا تھا، آرٹیکل 175 اے کے مطابق ابھی تک رولز بنائے ہی نہیں گئے۔

  • تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ،خواجہ آصف

    تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ،خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں ترقی کا سفر جاری ہے ،

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں پی آئی اے برباد ہوئی ، پی ٹی آئی دور حکومت میں پی ٹی آئی کیخلاف باتیں کی گئیں ، حکومت منزلیں عبور کرکے معیشت کو بحال کررہی ہے ،تحریک انصاف والے میدان چھوڑ کر بھاگے ، دنیا کی تاریخ میں اس طرح بھاگنے کی مثال نہیں ملے گی ،ہم نے کہا تھا ڈی چوک پر نہیں آنے دیں گے ،بشریٰ بی بی علی امین گنڈا پور کے ساتھ فرار ہوئیں ، علی امین گنڈا پور نے بڑی مشکل سے جان چھڑائی ، یہ یہاڑوں کو عبور کرکے فرار ہوئے ہیں ، لطیف کھوسہ نے کہا 278 لوگ مارے گئے ،پی ٹی آئی کا ہر رہنما ہلاکتوں کے حوالے سے مختلف نمبرز بتا رہا ہے ،آج تک کسی جنازے کی ویڈیو سامنے نہیں آئی، کوئی ایسا ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے ثابت ہو خونریزی ہوئی ،ہم نے ڈی چوک کے متبادل جگہ فراہم کرنے کی آفر لی جسے بانی پی ٹی آئی نے تسلیم کیا، لیکن ہجوم دیکھ کر بشریٰ بی بی بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئیں، انہوں نے کہا ہم ڈی چوک ہی جائیں گے،

  • بشریٰ بی بی”گیم” کر گئی،حکومت کو اسکا مشکور ہونا چاہیے،خواجہ آصف

    بشریٰ بی بی”گیم” کر گئی،حکومت کو اسکا مشکور ہونا چاہیے،خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کی طرف سے سمجھوتہ کر لیا جاتا اور عمران خان کے ساتھ ہونے والی مذاکراتی کوششیں کامیاب ہو جاتیں، تو آج پاکستان میں ایک بڑے سیاسی اور سماجی بحران کا سامنا ہوتا۔

    ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں خواجہ آصف کے مطابق، "اگر یہ سنگجانی بیٹھ جاتے، جیسا کہ عمران خان مان گئے تھے اور پی ٹی آئی کی لیڈرشپ بھی راضی تھی، تو آج سڑکیں بند ہوتی، انٹرنیٹ مشکل سے چلتا اور اسلام آباد پہنچنا بھی مشکل ہو جاتا۔”خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت ڈی چوک میں ہونے والے حملے کا خطرہ بدستور موجود تھا، اور اس حوالے سے حکومت کو بشری بی بی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، جنہوں نے اپنی ضد پر، بانی پی ٹی آئی کی رضامندی کے برعکس، خیبر پختونخوا سے آنے والے حملہ آوروں کو اسلام آباد میں ڈی چوک پر حملہ کرنے کی اجازت دی۔ خواجہ آصف نے کہا، "اگر بشری بی بی کی ضد نہ ہوتی تو پی ٹی آئی کے کارکنان اس طرح ڈی چوک میں حملہ آور نہ ہوتے۔”

    خواجہ آصف نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بشری بی بی کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنان نے "شلواریں، گاڑیاں، جھنڈے اور عمران خان کی تصاویر چھوڑ کر بھاگنے” کی عادت بنا لی۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی کمٹمنٹ اس معاملے میں شدید متاثر ہوئی ہے اور حکومت کو اس معاملے میں بشری بی بی کی پوزیشن پر غور کرنا چاہیے۔ "پی ٹی آئی کو اس بات کا چیک کرنا چاہیے کہ کہیں بشری بی بی کوئی دو نمبر گیم تو نہیں کھیل رہی ہیں۔ چیک کرنے میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس سے پارٹی کی کمٹمنٹ اور پاکستان کی سیاسی استحکام پر اثر پڑ رہا ہے۔”

    سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال میں جہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تناؤ ہے، وہیں بشری بی بی کا کردار مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو رہا ہے۔ بعض حلقے بشری بی بی کو پی ٹی آئی کے سیاسی فیصلوں میں ایک اہم شخصیت کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر اس بات پر سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا بشری بی بی کی ضد اور اس کے بعد کے فیصلوں نے پی ٹی آئی کے لیے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

  • سعودی حکومت کومعلوم ہے کہ  عمران خان اور  بشریٰ بی بی نے مل کر فراڈ کیا تھا،خواجہ آصف

    سعودی حکومت کومعلوم ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے مل کر فراڈ کیا تھا،خواجہ آصف

    سیالکوٹ: وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور باقاعدہ اسٹریٹیجی کے تحت لوگوں کو مروانا چاہتے ہیں-

    باغی ٹی وی : خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 24 نومبر کے حوالے سے حکومت نے اپنا لائحہ عمل طے کرلیا ہے، اگر یہ لوگ مسلح جتھے لائیں گے تو حکومت بھی ان کا مقابلہ کرے گی، یہ لوگ لاشوں کی سیاست کرنا چاہ رہے ہیں، حکومت ان حربوں سے گریز کر رہی ہے،یہ چاہتے ہیں لاشیں لے کر خیبرپختونخوا جاکر مسئلہ بنائیں، وزیراعلیٰ کے پی باقاعدہ اسٹریٹیجی کے تحت لوگوں کو مروانا چاہتے ہیں، یہی اسٹریٹیجی بانی پی ٹی آئی کی ہے، یہ ہدایات وہاں سے آتی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی کے بیان سے خارجہ پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑا، بانی پی ٹی آئی اور اہلیہ سے متعلق سعودی حکومت باخوبی واقف ہے، دونوں میاں بیوی کو جو گھڑیاں اور تحائف ملے ان کو بیچا گیا، سعودی حکومت کومعلوم ہے کہ دونوں میاں بیوی نے مل کر فراڈ کیا تھا، بدقسمتی سے اس طرح کے لوگ ہمارے حکمران بن جاتےہیں، سعودی حکومت اس کو ہماری کمزوری سمجھ کر درگزر کرے گی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ تحریک انصاف سے کسی سطح پر کوئی بات چیت نہیں ہو رہی، بیرسٹر گوہر سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکم بتانے سے متعلق رابطہ کیا گیا محسن نقوی کا بیرسٹرگوہر سے صرف ایک بار رابطہ ہوا ہےاور وہ بھی محسن نقوی نے بیرسٹر گوہر پر واضح کر دیا کہ احتجاج کی کوئی اجازت نہیں اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت نہیں۔ جو آئے گا گرفتار ہو گا۔

    عطا تارڑ نے کہا کہ کسی کو امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے احتجاج میں شریک سرکاری افسران کو آئندہ ترقی نہیں ملے گی اور خیبر پختونخوا سے آنے والے سرکاری افسران سے بھی نمٹا جائے گا، خیبر پختونخوا میں دہشتگردی ہو رہی ہے اور آپ اسلام آباد آرہے ہیں، اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو چاہیے کہ اپنے صوبے پر توجہ دیں آپ کی سیاسی جماعت ہے یا آپ ملک دشمن ہیں ؟۔