Baaghi TV

Tag: خواجہ آصف

  • صوبوں کےحوالے سےسخت رویہ اختیار کرنا درست نہیں،خواجہ آصف

    صوبوں کےحوالے سےسخت رویہ اختیار کرنا درست نہیں،خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ صوبوں کےحوالے سےسخت رویہ اختیار کرنا ان کے خیال میں درست نہیں،پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں صوبوں کے معاملے پرعمل کیا جانا اچھا اقدام ہوگا-

    پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اسلام آباد کی اپنی اسمبلی یا صوبا ئی حکومت ہونا ایک اچھا اقدام ہے، دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں اس نوعیت کا انتظام موجود ہے پہلے مرحلے میں اسلام آباد میں صوبوں کے معاملے پرعمل کیا جانا اچھا اقدام ہوگا نئی دہلی کی حکومت مکمل طور پرالگ حکومت ہے، اگر اسلام آباد میں اس معاملے پرعمل درآمد ہوتا ہے تو باقی صوبوں میں بھی یہ عمل آسان ہوگا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ صوبوں کےحوالے سےسخت رویہ اختیار کرنا ان کے خیال میں درست نہیں نئے صوبوں کے بجائے نئے انتظامی یونٹس کی اصطلا ح استعمال کی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا تاہم انہیں وزیراعظم یا مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نئے صوبوں سے متعلق کسی پیشرفت کا علم نہیں۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر سندھ حکومت کا الگ مؤقف اختیار کرنا اس کا حق ہے، تاہم جب اس حوالے سے کوئی متفقہ فیصلہ ہوگا تو سب کو اسے تسلیم کرنا ہوگا اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنا اور عوام کے مسائل حل کرنا عوام کا حق ہے، انتظامی معاملات کو بہتر بنانے اوراختیارات عوام کے قریب لے جانے سے شہریوں کو سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔

  • خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟شرجیل میمن کی وفاق سے وضاحت  طلب

    خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟شرجیل میمن کی وفاق سے وضاحت طلب

    کراچی: سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیا ن پروفاقی حکومت سے وضاحت طلب کر لی-

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ وفاقی حکومت واضح کرے کہ خواجہ آصف کا بیان حکومتی پالیسی ہے یا ان کی ذاتی رائے؟ وفاقی وزرا کی بیان بازی صوبے کے خلاف سیاسی جارحیت کے مترادف ہے۔

    انہوں خواجہ آصف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف بیان بازی سے پہلے تاریخ، آئین اور پارلیمانی ریکارڈ کا مطالعہ کریں پیپلز پارٹی کا موقف دو رخی نہیں بلکہ دوٹوک، اصولی اور آئینی ہے، پنجاب اسمبلی سرائیکی صوبے کے حق میں دو مرتبہ قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی سندھ کے اندر مزید صوبے بنانے کے خلاف 8 مرتبہ قراردادیں منظور کرچکی ہیں۔

    انہوں نے (ن) لیگ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو خوش کرے مگر سندھ کو قربانی کا بکرا نہ بنائے جبکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ وفاق اور آئین کو بالادست رکھنے کی سیاست کی ہے،پیپلز پارٹی وفاق اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

    واضح رہے کہ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ناگزیر ہے جبکہ انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلز پارٹی کے متضاد مؤقف پر بھی تنقید کی تھی،کہا تھا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے پر پیپلز پارٹی حمایت یا نرم گوشہ رکھتی ہے جبکہ انتظامی یونٹس کی بات پر سندھو دیش کی بات شروع ہو جاتی ہے۔

    خواجہ آصف کا یہ بیان گزشتہ روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کو سندھودیش اور پاکستان میں تمام علیحدگی پسند تحریکوں کے خلاف سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ ملنے کے بعد سامنے آیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی پالیسی کے پیچھے کچھ اور دیکھتا ہوں جس کی تشریح وقت آنے پر کروں گا۔

  • وزارتِ اطلاعات نے خواجہ آصف کی بھارت سے متعلق ویڈیو کو فیک قرار دیدیا

    وزارتِ اطلاعات نے خواجہ آصف کی بھارت سے متعلق ویڈیو کو فیک قرار دیدیا

    وزارت اطلاعات و نشریات نےپاکستان اور بھارت کے درمیان موازنے کی وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سے منسوب ایک ویڈیو کو فیک قرار دیتے ہوئے “خبر شیئر کرنے سے قبل آفیشل سورسز سے ویری فائی” کرنے کی تلقین کی ہے۔

    وزارت اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی ویڈیو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر شیئر کی جس میں خواجہ آصف کو بظاہر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے،ویڈیو میں خواجہ آصف درخواست کرتے ہوئے دکھائے گئے ہیں کہ میرے عزیز ہم وطنو آج ذرا اپنے ملک کے حالات پر نظر ڈالیے۔

    ویڈیو کے مطابق وہ کہہ رہے تھے کہ پاکستان اور بھارت نے ایک ہی وقت میں آزادی حاصل کی، تاہم دونوں ممالک کی ترقی میں واضح فرق نظر آتا ہے،
    بلوچستان ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا ہے، خیبر پختونخوا میں عوام پریشان ہے، اور آزاد کشمیر کے لوگ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر اتر چکے ہیں،دوسری جانب بھارت ٹیکنالوجی، انفرا اسٹرکچر اور معیشت کے شعبوں میں ترقی کر رہا ہے۔

    ویڈیو میں ان سے یہ بھی منسوب کیا گیا کہ آج ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا میں سچ میں ایک ڈیموکریسی ہیں، اور دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے حکومت اور اپنی پالیسیوں پر سوال اٹھانے چاہئیں۔

    یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے ساتھ بھارتی میڈیا میں بھی رپورٹ ہوئی۔

    تاہم وزارت اطلاعات نے ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر جعلی ہے اور ویڈیو میں استعمال ہونے والی آواز مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے خواجہ آصف نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا، وزارت نے عوام پر زور دیا کہ خبریں شیئر کرنے سے قبل ان کی تصدیق سرکاری ذرائع سے کی جائے۔

  • نئے انتظامی یونٹس وجود میں آجائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ خواجہ آصف

    نئے انتظامی یونٹس وجود میں آجائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر آئندہ انتخابات کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، یہ معاملہ اگلے انتخابات سے پہلے ہی حل کرلیا جائےگا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہاکہ یہ ایک تعمیری بحث ہے جس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلنا چاہیے اگر اختیارات کا کچھ حصہ انتظامی یونٹس یا اضلاع کو منتقل کردیا جائے اور نئے انتظامی یونٹس وجود میں آجائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ انئے انتظامی یونٹس وجود میں آجائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اس وقت عوام کے لیے سروس ڈیلیوری کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، پورے پاکستان کے عوام کو شکایات ہیں، ہمیں سیاسی مصلحت کی وجہ سے اس معاملے میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔

    واضح رہے کہ کچھ عرصے سے پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث جاری ہے، جس میں اب شدت آ گئی ہے۔ تاہم، ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اس کے خلاف ہیں،پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ کچھ بھی ہو جائے سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیا جائےگا، جبکہ مسلم لیگ ن پنجاب کی تقسیم کے خلاف ہے۔

    دوسری جانب ایم کیو ایم ملک میں نئے صوبوں کا مطالبہ کررہی ہے، جبکہ حال ہی میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ سسٹم ناکام ہو چکا ہے، ہمیں نئے انتظامی یونٹس کی طرف جانا ہوگا۔

  • پی ٹی آئی کی عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

    پی ٹی آئی کی عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی خواہش نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی اپنے قائد عمران خان کے لیے این آر او حاصل کرنے کی خواہش اب نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں خواجہ آصف نے کہاکہ آج تحریک انصاف کے بے شمار بانیوں میں سے ایک کو عدلیہ کی جانب سے غیر معمولی ریلیف ملا، اور پارٹی نے جس انداز میں اس فیصلے کا جشن منایا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے نااہل قائد کو کسی بھی طریقے سے جیل سے باہر لانے کے لیے بے حد بے تاب ہے۔

    انہوں نے کہاکہ یہی وہ شخص ہے جو ماضی میں مطالبہ کرتا رہا کہ دیگر سیاستدانوں کو جیلوں میں ڈالا جائے اور ان کی قید کو مزید سخت بنایا جائے،اس سے بڑھ کر ستم ظریفی کا یوٹرن شاید ہی کوئی ہو سکتا ہے کہ جس شخص کو کبھی ناقابل شکست اور خود ساختہ آئرن مین کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، آج اس کی پوری جماعت شدت کے ساتھ مطالبہ کررہی ہے کہ اسے جیل سے اسپتال منتقل کیا جائے۔

    خواجہ آصف نے کہاکہ ماضی میں بھی جیلوں میں موجود قیدیوں کے لیے اسپتالوں میں علاج کی سہولت دستیاب رہی ہے اور آج بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں کہ عمران خان کو فوری، مؤثر اور مکمل طبی سہولیات فراہم کی جائیں، تاہم عدالتی فیصلوں پر جشن منانے سے پہلے تحریک انصاف کو اپنے ہی بیانیے میں موجود واضح تضادات کا ضرور جواب دینا چاہیے،یہ قدرت کا انتقام ہے، آج غرور کے ہمالیہ پہاڑوں سے بھی مارگلہ کی پہاڑیاں زیادہ بلند دکھائی دے رہی ہیں۔

    انہوں نے ساتھ ہی دعاکرتے ہوئے کہاکہ خلوص کے ساتھ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عمران خان کو تمام بیماریوں سے شفا عطا فرمائے۔

  • میر رضا قتل کیس : پہرہ دینا ہوگا ورنہ جس طرح پہلے مک مکا ہوا تھا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے، خواجہ آصف

    میر رضا قتل کیس : پہرہ دینا ہوگا ورنہ جس طرح پہلے مک مکا ہوا تھا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے میر رضا کیس میں حکومت سندھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا جس طرح کے نتائج سامنے آ رہے ہیں اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ پورا سسٹم کمپرومائزڈ تھا۔

    سوشل میڈیاسائٹ ایکس پرخواجہ آصف نے لکھا کہ آپ جس طرح اس کیس پر فوکس کر رہے ہیں اس کے نتائج اور حقائق سامنے آرہے ہیں پورا سسٹم کمپرومائزڈ تھا، اب بھی پہرہ دینا ہوگا ورنہ جس طرح پہلے مک مکا ہوا تھا دوبارہ بھی ہو سکتا ہے، جن لوگوں نے معاملے کو چھپانے کی کوشش کی ان کو بھی بے نقاب ہونا ہوگا۔

    دوسری جانب حکومت سندھ نے میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار کا کہنا تھا حکومت چاہتی ہے کہ میر رضا کی فیملی کو انصاف ملے، معاملے کی تحقیقات کے لیے نئی کمیٹی بھی تشکیل دیدی ہے اور متضاد رپورٹس کےمعاملےکافیصلہ کمیشن یا عدالت پر چھوڑیں گے۔

    واضح رہے کہ میر رضا 28 جولائی کو فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے اور ان کی لاش انتیس جولائی کو گلستانِ جوہر سے ملی تھی پولیس نے شروع میں اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی، لیکن مقتول کے والد میر حسین اور ان کے وکیل جبران ناصر نے موجودہ تفتیشی ٹیم پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے قتل قرار دیا۔

    عدالت کے حکم پر قبر کشائی کے بعد جب آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ نے دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی، تو اس میں تصدیق ہوئی کہ میر رضا کے جسم پر تشدد کے متعدد نشانات تھے، ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی اور گولی پیچھے کی جانب سے لگی تھی۔ اس رپورٹ کے بعد پولیس نے مقدمے میں اغوا کی دفعہ کے ساتھ قتل کی دفعہ 302 بھی شامل کر لی ہے۔

    تفتیشی ٹیم اب میر رضا کے موبائل فون کا ریکارڈ بھی چیک کر رہی ہے، جس کے مطابق انہوں نے موت سے قبل علی اور اپنے دوست عبداللہ سے فون پر بات کی تھی اور ان کے فون پر آخری آٹھ پیغامات بھی موصول ہوئے تھے جن کا جواب نہیں دیا گیا تھا۔

  • گمراہ کن بھارتی بیانات  زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں  کر سکتے ، خواجہ آصف

    گمراہ کن بھارتی بیانات زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے ، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے جموں و کشمیر سے متعلق گمراہ کن اور جھوٹے بھارتی بیانیہ پر شدید ردعمل دیاہے-

    ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہےایسے بیانات قانونی حقائق کو سیاسی پروپیگنڈے اور دھونس کے ذریعے مسخ کرنے کی ایک اور ناکام بھارتی کوشش ہے، گمراہ کن بھارتی بیانات نہ تو زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ خطہ کے امن میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہےبھارت کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات اس کے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے ریکارڈ کے باعث ناقابلِ اعتبار ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست اور عدم استحکام کا بنیادی محرک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کے حالیہ بیانات ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران اور مودی حکومت کیخلاف عوامی بے چینی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے،بھارت اپنے جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم کے ذریعے پورے خطے کو یرغمال بنائے ہوئے ہے، بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی خطے میں بین الریاستی تصادم کی شدت اور خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے،پاکستان امن اور مذاکرات کی اپنی پالیسی پر قائم ہے، پاکستان کا اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے عزم غیر متزلزل ہے۔

  • مریم نواز نے مالی دباؤ کے باوجود سیالکوٹ کے ترقیاتی منصوبوں کو مؤخر نہیں کیا، خواجہ آصف

    مریم نواز نے مالی دباؤ کے باوجود سیالکوٹ کے ترقیاتی منصوبوں کو مؤخر نہیں کیا، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ سیالکوٹ میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے،علاقے کی تقدیر بدلنے کا عمل شروع ہو چکا ہے-

    سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ مختلف ترقیاتی منصوبوں سے شہر کی متعدد یونین کونسلیں براہِ راست مستفید ہوں گی اور علاقے کی تقدیر بدلنے کا عمل شروع ہو چکا ہے،سیالکوٹ رنگ روڈ کے پہلے مرحلے پر جلد کام کا آغاز کیا جائے گا، جبکہ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ پہلے سے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ انہیں بروقت مکمل کیا جا سکے،کھاریاں سے راولپنڈی تک موٹرو ے منصوبے کا تقریباً 205 ارب روپے کا ٹھیکہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (FWO) کو دیا جا چکا ہے، جبکہ دریائے چناب پر پل کی تکمیل بھی آخری مراحل میں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں سیالکوٹ کو جی ٹی روڈ سے منسلک نہ ہونے کی وجہ سے نظر انداز کیا جاتا تھا، تاہم سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے شہر کو موٹر وے سے جوڑ کر اس محرومی کا ازالہ کیا۔ ان کے بقول رنگ روڈ کے پہلے مرحلے میں وزیرآباد روڈ، ڈسکہ روڈ، پسرور روڈ اور کشمیر روڈ سمیت اہم شاہراہوں کو آپس میں منسلک کیا جائے گا، جس سے ٹریفک کے مسائل کم ہوں گے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

    وزیر دفاع نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے مالی دباؤ کے باوجود سیالکوٹ کے ترقیاتی منصوبوں کو مؤخر نہیں کیا، جس پر وہ اور اہلِ سیالکوٹ ان کے شکر گزار ہیں انہوں نے وفاقی حکومت اور وزیراعظم کا بھی موٹروے منصوبے کی منظوری اور پیش رفت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے شہر میں ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ کھاریاں۔راولپنڈی موٹروے منصوبے کی منظوری اور فنڈز کی فراہمی میں عسکری قیادت نے بھی اہم کردار ادا کیا، کیونکہ یہ منصوبہ نہ صرف خطے کی معاشی ترقی بلکہ قومی دفاع کے لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہےرنگ روڈ شہر کی صنعت، برآمدی شعبے، ایئرپورٹ اور موٹروے کو آپس میں جوڑے گا، جبکہ ٹریفک کے بہاؤ میں نمایاں بہتری آئے گی، شہر میں جاری دیگر ترقیاتی منصوبوں کو بھی مشترکہ کوششوں سے جلد مکمل کیا جائے گا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ رنگ روڈ اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کو اس انداز میں مکمل کیا جائے گا کہ شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولت ملے اور ٹریفک کے مسائل کا مستقل حل نکلے،سیالکوٹ کے عوام نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کی قیادت پر اعتماد کیا ہے، جس کا قرض مکمل تو نہیں اتارا جا سکتا، تاہم عوام کی خدمت کے ذریعے اس اعتماد کا حق ادا کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔

    انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ کے عظیم شاعر فیض احمد فیض کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک اہم شاہراہ ان کے نام سے منسوب کی گئی ہے تاکہ نئی نسل اپنے قومی محسنوں سے آگاہ رہے، جو قومیں اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں، وہی تاریخ میں باوقار مقام حاصل کرتی ہیں۔

  • فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے، خواجہ آصف

    فوجی جوانوں کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے، خواجہ آصف

    وزیردفاع خواجہ آصف نے مولانا فضل الرحمان کےغیر ذمہ دارانہ بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے ان کے بیان کو شہداء کی قربانی کی توہین قرار دے دیا۔

    وزیردفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں کہا کہ؛مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتازمذہبی رہنما ہیں ،ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے،فوجی جوانوں کی وطن کیلئے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری ہے،کوئی شخص محض تنخواہ کیلئے اپنی قیمتی جان کی قربانی نہیں دیتا۔

    انہوں نے کہا کہ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے،عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے،آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلا ف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگی، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے دہشت گردی کیخلاف جنگ جاری ہے اور پاک فوج سمیت دیگر اداروں کےجوان اور شہری شہادتیں دے رہے ہیں ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے،مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء،غازیوں،بیواؤں اور یتیموں کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔

  • فتنہ الخوارج کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کو شہید کرنے کادعوی، خواجہ آصف کا ردعمل

    فتنہ الخوارج کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کو شہید کرنے کادعوی، خواجہ آصف کا ردعمل

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے گمراہ کن دعویٰ پر فتنہ الخوارج کے اوچھے ہتھکنڈوں کو بے نقاب کر دیا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے فتنہ الخوارج کی جانب سے گروپ کیپٹن عاصم کی شہادت پر جھوٹے پراپیگنڈے پر سخت تنقید کی ہے،انہوں نے ایکس پر فتنہ الخوارج کا دعویٰ بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کے ایک بہیمانہ قتل کی ذمہ داری طالبان قبول کر رہے ہیں ، فتنہ الخوارج کا کوئی اعتبار نہیں، کل کو شاید پاکستان میں چوری، ڈکیتی اور عام جرائم کا کریڈٹ بھی لینا شروع کر دیں،فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کا مقصد صرف کریڈٹ لینا ہے، حقیقت، اخلاقیات اور ذمہ داری سے انہیں کوئی غرض نہیں۔

    واضح رہے کہ اتوار کے روز ائیرفورس کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم خاتون کو بچاتے ہوئے شہید ہوگئے تھے ، واقعہ اسلام آباد کے نائنتھ ایوینیو پر پیش آیاگروپ کیپٹن عاصم نےموٹرسائیکل پرسوار شخص کو ایک خاتون کا ہاتھ کھینچتے دیکھا،گروپ کیپٹن عاصم موٹرسائیکل کے قریب رکے تو خاتون گاڑی کی دوسری طر ف بھاگ گئی-

    اسی دوران مبینہ ملزم نے گروپ کیپٹن عاصم سے بدکلامی کی اور ان پر فائرنگ کر دی،گروپ کیپٹن عاصم زخموں کی تاب نہ لاتے ہو ئے شہید ہوگئے، ملزم موقع سے فرار ہوگیا،خاتون کےمطابق ملزم ان کادفتری ساتھی ہےجس نےساتھ کام پرجانےکی پیشکش کی تھی،ملزم راستہ بدل کراسےکہیں اور لے جانا چاہتا تھا،گروپ کیپٹن عاصم نے بروقت مداخلت کر کے مجھے بچایا،گروپ کیپٹن عاصم شہید نے سوگواران میں بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے۔

    بعدازاں آئی جی اسلام آباد نے پریس کانفرنس کر کے اعلان کیا کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید کے قاتل کو واقعے کے بعد 9 گھنٹے میں گرفتار کر لیا گیا اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس میں گرفتار ملزم کو شناختی پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کردیا۔