Baaghi TV

Tag: دہشتگردی

  • سیکیورٹی فورسز  کی کاروائی ؛ چھ دہشتگرد ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کی کاروائی ؛ چھ دہشتگرد ہلاک

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا ہے اور ا س کے نتیجے میں چھ دہشت گرد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک سپاہی شہید ہوگیا خیال رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کیا ہے۔

    واضح رہے کہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے اور اس شدید فائرنگ کے تبادلے میں چھ دہشت گرد مارے گئے ہیں جبکہ تقریبا آٹھ زخمی ہوگئے ہیں جو اب سیکورٹی کی گرفتاری میں ہے جبکہ آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ مارے گئے دہشت گردوں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے اور ہلاک دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے خلاف مختلف کاروائیوں میں ملوث تھے.

    ویویک اوبرائے کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ
    بھارت کی دوسری وکٹ بھی گرگئی
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    انڈونیشین طیارہ پاکستان اور پی آئی اے طیارے وہاں، مزاکرات مکمل
    جبکہ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس فائرنگ کے تبادلے میں 33 سالہ سپاہی عبدالحکیم نے دہشت گردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کا رتبہ پایا ہے اور شہید سپاہی کا تعلق بلوچستان کے ضلع نصیر آباد سے تھا اور اب ملک پر اپنی جان قربان کرگئے ہیں جبکہ آئی ایس پی آر نے اپنے اعلامیہ میں بتایا کہ اس علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے سرچ آپریشن تاحال بھی جاری ہے اور علاقہ مکینوں نے سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کی تعریف کی ہے جبکہ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز سے مکمل تعاون کا عزم دہرایا ہے.

  • فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    فاٹا میں طالبان کا اثرورسوخ اور پاکستان پر اثرات

    مولانا فضل الرحمان نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی غالب موجودگی کو اجاگر کیا ہے۔ یہ مسلح گروہ خطے میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مشکلات کھڑی کرتا ہے،منصوبوں کی تکمیل کے لئے لاگ کا 10 فیصد حصہ مانگا جاتا ہے اور نہ ملنے کی صورت میں منصوبے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، فاٹا کے خیبرپختونخوا (کے پی کے) میں انضمام کے بعد سے، ٹی ٹی پی نے اس کی علیحدگی، اور اپنی سابقہ خود مختار حیثیت پر واپسی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    15 اگست 2021 کو طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد سے، نہ صرف فاٹا بلکہ صوبہ بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے واقعات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے 21 ماہ کے دوران ایسے واقعات میں 73 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ سیکورٹی چیلنجز پاکستان کی پہلے سے ہی کمزور معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔

    ایس راجارتنم اسکول آف انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک ریسرچ فیلو عبدالباسط کا مشاہدہ ہے، "یہ پورا خطہ غیر مستحکم ہے، چاہے وہ افغانستان ہو یا پاکستان۔ یہ افغانستان میں ہونے والی پیشرفت کا ایک اثر ہے۔”

    ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کی کوششوں نے بدقسمتی سے دہشت گرد تنظیم کو دوبارہ منظم ہونے اور حملوں کو تیز کرنے کے مواقع فراہم کیے ۔ ایسی صورت حال میں پاکستان کے پاس صرف دو ہی قابل عمل آپشن رہ جاتے ہیں۔ پہلی بات حقانی کی طرف سے بیان کی گئی ہے، جو دلیل دیتے ہیں، "پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت یہ تسلیم کرنے سے گریزاں ہے کہ پرتشدد بنیاد پرست، اسلام پسند صرف ناراض لوگ نہیں ہیں. جنہیں مذاکرات کے ذریعے منایا جا سکتا ہے۔” [The New Humanitarian] اس آپشن میں ان شرپسند عناصر کے خلاف ایک جامع فوجی مہم شروع کرنا شامل ہے۔دوسرے آپشن میں بات چیت کے ذریعے تصفیہ شامل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی آپشن پاکستان کے لیے مثالی حل پیش نہیں کرتا۔

    ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکراتی تصفیہ کی ماضی کی کوششوں کو جب بھی عسکریت پسندوں کے لیے موزوں تھا نظر انداز کیا گیا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی سمجھوتہ ہو بھی جاتا ہے، تو اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ ٹی ٹی پی مزید رعایتوں کا مطالبہ نہیں کرے گی. ممکنہ طور پر ریاست کو ایک غیر یقینی صورت حال میں ڈالے گی، اور ایک پریشان کن مثال قائم کرے گی۔ ان عسکریت پسندوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے آپشن کے متعلق، یہ تبھی کارگر ثابت ہو گا جب سرحد پار سے دراندازی کے ہر راستے کو سختی سے سیل کر دیا جائے تاکہ بیرونی حمایت کو ختم کیا جا سکے۔

    ٹی ٹی پی سے نمٹنے کے لئے ، ایک پائیدار حل تلاش کرنا پیچیدہ اورغیریقینی سی صورتحال ہے،ان سیکورٹی خدشات کو حل کرنے کے لئے کثیر الجہتی نقطہ نظر کی ضرورت ہے،

  • امریکا میں پاکستانی ڈاکٹرکو دہشتگردی کےالزام میں سزا سنادی گئی

    امریکا میں پاکستانی ڈاکٹرکو دہشتگردی کےالزام میں سزا سنادی گئی

    امریکی ریاست منی سوٹا میں مقیم پاکستانی ڈاکٹر کو دہشتگردی کے الزام میں سزا سنادی گئی، 216 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، جو کہ 18 سال کے برابر ہے-

    باغی ٹی وی: عدالتی دستاویزات کے مطابق31 سالہ پاکستانی ڈاکٹر محمد مسعود نے داعش کیلئے کام کرنے کے ارادے کا اعتراف کیا تھا، وہ منی سوٹا کی میڈیکل کمپنی کیلئے کام کر رہا تھا ڈاکٹر محمد مسعود نے جنوری سے مارچ 2020 میں دہشتگرد تنظیم داعش میں شمولیت اور اس کیلئے اردن جانے کے ارادے کا اظہار کیا تھا،ڈاکٹر محمد مسعود H1B ویزہ پر امریکہ آیا تھا، اسے مارچ 2020 میں منی ایپلس ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا، مسعود نے دہشت گرد تنظیم میں شمولیت کے لیے اپنے بیرون ملک سفر کی سہولت کے لیے ایک خفیہ پیغام رسانی کی ایپلی کیشن کا استعمال کیا-

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    مسعود نے دولت اسلامیہ عراق و الشام (ISIS) میں شامل ہونے کی اپنی خواہش کے بارے میں متعدد بیانات دیئے، اور اس نے نامزد دہشت گرد تنظیم اور اس کے رہنما سے اپنی وفاداری کا عہد کیا مسعود نے امریکہ میں "لون وولف” دہشت گرد حملے کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔ 21 فروری 2020 کو، مسعود نے شکاگو، الینوائے سے عمان، اردن کے لیے ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدا اور وہاں سے شام جانے کا ارادہ کیا۔

    16 مارچ 2020 کو مسعود کے سفری منصوبے بدل گئے کیونکہ اردن نے کورونا وائرس وبائی امراض کی وجہ سے آنے والے سفر کے لیے اپنی سرحدیں بند کر دیں اس کے بعد مسعود نے ایک ایسے فرد سے ملنے کے لیے منیاپولس سے لاس اینجلس جانے پر رضامندی ظاہر کی جس کے بارے میں اسے یقین تھا کہ وہ اسے ISIS کے علاقے تک پہنچانے کے لیے کارگو جہاز کے ذریعے سفر میں اس کی مدد کرے گا۔

    کینیڈین نائب وزیراعظم کو ٹریفک پولیس نے جرمانہ کردیا

    19 مارچ 2020 کو، مسعود نے روچیسٹر سے منیپولس سینٹ کا سفر کیا پال بین الاقوامی ہوائی اڈے (MSP) لاس اینجلس، کیلیفورنیا کے لیے جانے والی پرواز میں سوار ہونے کے لیے۔ ایم ایس پی پہنچنے پر، مسعود نے اپنی فلائٹ میں چیک ان کیا اور بعد میں ایف بی آئی کی جوائنٹ ٹیررازم ٹاسک فورس نے اسے گرفتار کر لیا۔

    مسعود کی گرفتاری کے بعد امریکی ایف بی آئی کے جوائنٹ ٹیررسٹ ٹاسک فورس نے تحقیقات میں حصہ لیا تھا مینیسوٹا ڈسٹرکٹ کے اسسٹنٹ یو ایس اٹارنی اینڈریو آر ونٹر اور ٹرائل اٹارنی دمتری سلاوین نیشنل سیکیورٹی ڈویژن کے انسداد دہشت گردی سیکشن نے مقدمہ چلایا جبکہ گزشتہ سال اگست میں ڈاکٹر محمد مسعود نے اعتراف کیا تھا کہ وہ دہشتگرد تنظیم کو سپورٹ کرنے کا ارادہ رکھتا تھامنی سوٹا کی عدالت نے دہشتگردی کے الزام میں ڈاکٹر محمد مسعود کو 18 سال قید کی سزا سنا دی-

    امریکی طیارہ کیلیفورنیا میں گر کر تباہ

  • خیبر پختونخواہ میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 361 بم ناکارہ بنا دیئے گئے ہے،بی ڈی یو رپورٹ

    خیبر پختونخواہ میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران 361 بم ناکارہ بنا دیئے گئے ہے،بی ڈی یو رپورٹ

    خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل یونٹ نے اپنی ایک رپورٹ جاری کی ہے،جس کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں رواں سال کے پہلے 6 مہینوں کے دوران برآمد ہونے والے مختلف نوعیت کے 361 بم ناکارہ بنا دئے ہیں۔ بی ڈی یو رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ بم مردان میں ناکارہ بنا دئے ہیں جنکی مجموعی تعداد 115 تھی جن میں 33 راکٹ، 79 ہینڈ گرنیڈ، 2 ٹائم بم اور ایک ریموٹ کنڑول بم شامل ہے۔جاری کردہ اعداد وشمار میں بتایا گیا ہے کہ پشاور میں خودکش جیکٹ سمیت 89 بم، کوہاٹ میں 55 بم، دیر میں 31 راکٹ جبکہ ملاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 11، 11 ہینڈ گرنیڈ کو ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ضلع کرم میں 6، کرک اور مہمند میں 4 ہینڈ گرنیڈ، ضلع خیبر میں 4 جبکہ لکی مروت میں 3 دستی بموں کو ڈیفیوز کیا گیا ہے۔ بی ڈی یو رپورٹ کے مطابق وزیرستان، اورکزئی اور صوابی میں بھی ایک ایک ہینڈ گرنیڈ کو ناکارہ بنایا گیا ہے۔
    اسی طرح بم ڈسپوزل ٹیم چارسدہ اور بنوں میں 9 بارودی مواد اور ہنگو میں 6 ہینڈ گرینڈ اور ایک ٹائم آئی ڈی کو ناکارہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

  • کے پی کے پولیس پولیو ڈیوٹی کے لئے اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب

    کے پی کے پولیس پولیو ڈیوٹی کے لئے اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب

    خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کی پولیس نے پولیو ڈیوٹی سے انکار کے بعد اپنے مطالبات منظور کروا کے ہی دم لی،۔ پولیس نے پولیو ڈیوٹی انجام دینے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا کے ساتھ خیبر پولیس کے مذاکرات کامیاب ہوگئے۔جس کے بعد پولیس نے پولیو ڈیوٹی انجام دینے کی یقین دہانی کرادی۔
    قبائلی اضلاع میں پولیس نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔یاد رہے کہ تین روز قبل ضلع خیبر میں پولیس کے سکیورٹی نہ دینے پر پولیو مہم ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔خیبر پولیس نے پیر کو انسداد پولیو مہم جیسی اہم قومی ذمہ داری سے انکار کیا تو ضلعی انتظامیہ کو اگلے روز منگل سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم ملتوی کرنی پڑ گئی تھی۔انسداد پولیو مہم میں ڈیوٹی کے حوالے سے خیبر پولیس کا مؤقف تھا کہ انھیں اعزازیہ نہیں دیا جاتا۔
    اس لئے پولیس نے اعزازیہ نہ ملنے پر سیکیورٹی دینے سے انکار کردیا تھا، تاہم اب آئی جی کے ساتھ خیبر پولیس کے مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جس کے بعد اہلکاروں نے پولیو ڈیوٹی انجام دینے کی حامی بھر لی ہے۔

  • پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت

    پشاور ہائیکورٹ میں ارمی پبلک اسکول حملے میں گرفتار ملزمان کی کیس کو انسداد دہشتگردی عدالت سے سیشن کورٹس منتقل کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی ہے، سماعت جسٹس نعیم انور اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال نے کی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل دانیال چمکنی پیش ہوئے،عدالت میں آٹارنی جنرل کی جانب سے دلائل پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ملزمان کمانڈر اور شکیل 2019 سے اے پی ایس حملے میں گرفتار ہے، اور
    ملزمان کے خلاف اے ٹی سی عدالت میں اس کیس پر بہت کام ہوا ہے، اے اے جی نے مزید کہا کہ ملزمان کا کیس اے ٹی سی عدالت نے سیشن کورٹ منتقل کردیا ہے، ملزمان میں شکیل کی عمر 18 سال سے کم ہے جسکو بنیاد بنا کر اے ٹی سی نے کیس سیشن کورٹ بھیج دیا، اے اے جی نے مزید کہا کہ دوسرا ملزم کمانڈر جوینائل نہیں ہے پھر بھی اے ٹی سی عدالت نے کیس سیشن کورٹ منتقل کردیا، آٹارنی جنرل نے عدالت سے کہا پشاور ہائیکورٹ کے ایک فیصلے کو بنیاد بنا کر اے ٹی سی عدالت نے کیس منتقل کردیا، اور یہ خصوصی کیس ہے اسلئے اس پر جوینائل قوانین لاگو نہیں ہوتے،اٹارنی جنرل کی جانب سے استدعا کیا گیا اے ٹی سی عدالت کا کیس منتقلی کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، جس پر عدالت رکارڈ طلب کر کے سماعت 23 اگست تک ملتوی کردی،

  • جمرود خود کش دھماکے میں مزید سات سہولت کار گرفتار،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

    جمرود خود کش دھماکے میں مزید سات سہولت کار گرفتار،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی

    25 جولائی کو جمرود کے علاقہ علی مسجد خودکش دھماکہ کے سہولت کاری میں ملوث 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ، ان خیالات کا اظہار پشاور،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی سہیل خالد نے پریس کانفرنس میں کئے، سہیل احمد کے مطابق پولیس کو مسجد میں مشکوک افراد کی اطلاع ملی تھی جہاں ،پولیس پہنچی تو دھماکہ ہوا ،انہوں نے مزید بتایا کہ ایک دہشت گرد کو موقع پر گرفتار کیا گیا، جس نے تفتیش میں مزید انکشافات کئے، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کے مطابق سہولت کاری میں ملوث 7 افراد گرفتار ہوچکے ہیں، دہشت گردوں کا ٹارگٹ پولیس موبائل اور ایف سی کانوائے تھا، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے مزید کہا کہ خودکش بمبار حملے سے پانچ دن قبل افغانستان سے پاکستان آیا ، سہیل خالد کے مطابق پکڑے گئے دہشت گردوں سے خودکش جیکٹ ،اسلحہ ،افغان سم اور دیگر اشیاء برآمد ہوئیں،
    واضح رہے کہ25 جولائی کو جمرود کے علاقہ علی مسجد میں خودکش دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ایس ایچ او شہید ہوئے،

  • بنوں،پولیو ٹیم پر نا معلوم ملزمان کا حملہ پولیس اہلکار جاں بحق

    بنوں،پولیو ٹیم پر نا معلوم ملزمان کا حملہ پولیس اہلکار جاں بحق

    بنوں میں پولیو ٹیم پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ کے نتیجے میں میں پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا۔ پولیس کے مطابق میریان روڈ پر پولیو ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملے میں پولیو ٹیم کیساتھ ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار کامران زخمی ہوا ہے۔زخمی پولیس اہلکار کامران کو ڈی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں زخموں کی تاب نہ لاکر وہ جاں بحق ہوگیا۔ واقعہ اخوند خیل پمپ کے سامنے رونما ہوا، ملزمان فرار ہوگئے۔
    واقعے کے بعد پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ حملے کے بعد علاقے میں پولیو مہم کو روک دیا گیا ہے۔

  • خیبرپختونخوا میں شروع ہونے والی پولیو مہم سیکیورٹی نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار

    خیبرپختونخوا میں شروع ہونے والی پولیو مہم سیکیورٹی نہ ملنے کی وجہ سے تاخیر کا شکار

    محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پولیس کی جانب سے ڈیوٹی سے انکار کی وجہ سے آج سے شروع ہونے والی پولیو مہم تاخیر کا شکار ہو گئی ہے،
    محکمہ صحت کے حکام کے مطابق پولیو کے اس اہم ایونٹ کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے اور مزید کہا کہ وہ پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے حوالے سے پولیس حکام سے بات چیت کر سکیں گے۔ محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ٹیموں کو سیکیورٹی دینے کے بعد پولیو مہم شروع ہو جائے گا۔
    دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے اور انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پولیس کا کوئی سروس سٹرکچر نہیں ہے۔
    پولیس حکام کے مطابق ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کو کوئی سہولت نہیں دی گئی اور جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں ہوتے وہ پولیس ٹیموں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔
    خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں حالیہ دنوں میں پولیس کے خلاف دہشت گردانہ حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
    گزشتہ روز 9 تاریخ کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار جاں بحق ہوگئے تھے،
    پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے اہم انسداد پولیو مہم کا آغاز اس دن سے ہوا، جس کا مقصد پانچ سال سے کم عمر کے 80 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔

  • شمالی وزیرستان،بم حملے میں میاں بیوی جاں بحق

    شمالی وزیرستان،بم حملے میں میاں بیوی جاں بحق

    شمالی وزیرستان کے علاقے سیدگی غلام خان میں دھماکے کے نتیجے میں میاں بیوی جاںبحق ہو گئے، پولیس حکام کے مطابق دھماکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی گاڑی کے قریب ہوا۔ لیکن بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ محفوظ رہا۔ تاہم دھماکے کے زد میں میاں بیوی آکر جاں بحق ہو گئے،پولیس کے مطابق دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقہ کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ علاقے کے سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دھماکا غلام خان کے علاقے صدیقی میں اس وقت ہوا جب بم ڈسپوزل سکواڈ علاقے کی چیکنگ میں مصروف تھا۔
    اس سے قبل شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے گاؤں کھڈی میں نئے تعمیر شدہ پل کے نیچے دھماکہ خیز مواد رکھا گیا تھا اور اسے دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔
    پولیس کے مطابق پل کو تباہ کرنے والوں کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہے۔
    حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی جانب سے حملوں اور بم دھماکوں میں کافی حد تک تیزی آئی ہے۔
    پیر کی رات پشاور کے علاقے بڈہ بیرہ میں دہشت گردوں کے حملے میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔
    اس کے علاوہ دو ہفتے قبل دبوجور کے علاقے خار میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے اجلاس میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 60 سے زائد افراد شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ زخمی