ضلع خیبر میں مسجد کے اندر خودکش دھماکے کے 3 سہولت کار گرفتار خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں علی مسجد کے اندر ہونے والے خودکش دھماکے کے 3 سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا۔محکمہ انسداد دہشتگرد (سی ٹی ڈی) نے ایک کارروائی کے دوران خودکش حملے کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔ دھماکے کے نیتجے میں ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی شہید ہوئے تھے۔ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق حساس اداروں کی کوششوں سے 3 سہولت کاروں کو ٹریس کیا گیا، ملزمان میں دلاور خان اور اس کے دو بیٹے ضابطہ خان اور عارف خان شامل ہیں۔سی ٹی ڈی کے مطابق تفتیش میں ملزمان نے واقعے میں سہولت کاری کا اعتراف کیا، ملزمان کے گھر سلطان خیل سے خودکش جیکٹ، کلاشنکوف و دیگر اشیا برآمد کر لی گئیں۔گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے جس میں انکشافات متوقع ہیں۔
Tag: دہشتگردی
-

باجوڑ دھماکہ دراصل چینی نائب وزیر اعظم کے دورہ پاکستان کی اہمیت کو متاثر کرنا تھا ۔مولانا فضل الرحمان
جمعیت علامہ اسلام مولانا فضل الرحمن نے باجوڑ ورکر کنونشن میں جاں بحق اور زخمیوں کے لئے اپنی طرف سے مالی امداد کا اعلان کیا،انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کی جانب سے جاں بحق افراد کو 5 لاکھ اور زخمیوں کو 3 لاکھ روپے کی امداد دی جائے گی،اسکے علاوہ حکومت نے بھی جاں بحق اور زخمیوں کے لئے مالی امداد کا اعلان کر دیا ہے، پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے اور سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کیلئے بے گناہوں کا خون بہایا گیا ۔ان خیالات کا اظہار جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سول کالونی جرگہ ہال میں شہداء کے لواحقین اور علاقے کے عمائدین کے ایک بڑے جرگے سے اپنے خطاب کے دوران کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم شہداء کے لواحقین کے ساتھ اس غم کی گھڑی میں شریک ہے،انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مسلمان کا قتل تمام انسانیت کا قتل ہے ہم اپنا مقدمہ اپنے رب کے حضور پیش کردیتے ہیں ۔ہم نے ہمیشہ مثبت اور تعمیری سیاست کو ترجیح دی ہے ۔
صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں ۔اتنے بڑے حملے کی منصوبہ بندی کا ان کو کانوں کان تک خبر نہ ہوئی ۔جس کے نتیجے میں 70 شہادتوں اور ڈیڑھ سو زخمیوں کا بدترین واقعہ رونما ہوا۔ -

ضلع خیبر مسجد خودکش دھماکے کی کہانی،ٹک ٹاکر کے زبانی
ضلع خیبر میں جمرود سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر علی مسجد نامی علاقے میں منگل کے روزجب ایک مبینہ خودکش بمبار نے ایک مقامی مسجد کے اندر خود کو اڑایا اور دھماکے سے مسجد شہید ہوئی تھی یہ مناظر ایک ویڈیو میں ریکارڈ ہوگئے۔ ویڈیو بنانے والا ایک ٹک ٹاکر تھا جس نے آج نیوز سے گفتگو میں اس پورے واقعے کو بیان کیا ہے۔دھماکے میں خیبر کے ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی شہید ہوئے جو مبینہ بمبار کو پکڑنے کیلیے مسجد میں داخل ہوئے تھے۔
ٹک ٹاکر کی ریکارڈ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عدنان آفریدی اس چھوٹی سی مسجد کے مرکزی ہال میں جھانکنے کی کوشش کر رہے ہیں جب زوردار دھماکے سے شعلے بلند ہوتے ہیں اور مسجد کی چھت مینار سمیت نیچے آگرتی ہے۔
ٹک ٹاکر عاصم خان(نام تبدیل کر دیا گیا) نے آج نیوز کو بتایا کہ کیسے وہ دھماکے کے وقت مسجد کے قریب پہنچا۔
یہ 25 جولائی کی بات ہے جب دوپہر کا وقت تھا، چونکہ گرمی زیادہ تھی اور گرمی کی شدت کم کرنے کے لئے ہم دوست ہفتے میں کم از کم دو تین بار جمرود کے قدرتی چشمے ( غار اوبہ ) کا رخ کرتے ہیں، اسی دن بھی ہم نے دوستوں سمیت یہاں جانے کا پروگرام بنایا،“ ہم وہاں پہنچے اور وہاں کافی دیر تک پانی میں نہاتے رہے، اسی دوران ہم نے فائرنگ کی آواز سنی اور یہ آواز ہمارے نزدیک ہی ایک جگہ سے آرہی تھی، ہم پانی سے نکلے اور میں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ قریبی گاوں والوں کا آپس میں کوئی تنازعہ ہوگا لہٰذا ایسے وقت میں یہاں ٹھہرنا خطرے سے خالی نہیں ہے اور ہم وہاں سے جانے لگے. ٹک ٹاکر کے مطابق
“جب ہم نے مسجد کے قریب واقع پل کو کراس کیا تو یہاں پر بہت سے لوگ جمع تھے جن میں پولیس اہلکار بھی تھے، زیادہ تر لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ یہ کیا ماجرا ہے، لیکن کسی کے پاس صحیح معلومات نہیں تھیں،ایسے میں میں نے اس مجمعے میں کسی سے سنا کہ کچھ افراد جنہوں نے نشہ کیا ہے اور وہ مسجد کے اندر چلے گئے ہیں، اور پولیس ان کو نکالنے کے لئے یہاں آئی ہے.
“میں نے اسی خیال سے موبائل فون نکالا کہ ابھی ان نشئی افراد کو مسجد سے نکالا جائے گا، اور میں ان کی ویڈیو بناؤں گا۔
میں نے ویڈیو سٹارٹ کی، اسی دوران ایک پولیس اہلکار( ایڈیشنل ایس ایچ او عدنان آفریدی ) مسجد کے احاطے میں داخل ہوئے اور چند ہی لمحوں بعد دھماکہ ہوا اور افراتفری کا ایک ماحول پیدا ہوگیا۔
“ہم روڈ پرذرا فاصلے پر کھڑے تھے جبکہ پولیس والے ہم سے آگے تھے جب دھماکہ ہوا تو ہم منٹوں سیکنڈوں میں وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے ۔ہمارے موبائل میں ریکارڈنگ پہلے سے آن تھی اس لئے سب ریکارڈ ہو گیا اور ہم بھاگ نکلے تب تک مسجد کی طرف دھواں ،دھول مٹی ہی دکھائی دے رہی تھی،”اس وقت میرے اعصاب ٹھیک طرح سے کام نہیں کررہے تھے کیونکہ ایک خوفناک دھماکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، جب گھر پہنچ کر اوسان کچھ بحال ہوئے ہوا اور گھر سے باہر جاکر اپنے دوستوں سے ملا تو مجھے دوستوں سے گفتگو میں ویڈیو کا خیال آیا اور وہ ہم نے ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کردی اور کافی لوگوں نے اسے ڈاؤنلوڈ کرکے اپنے اکاؤنٹس سے شیئر کردیا-“”تقریبا تین چارگھنٹے بعد ٹاک ٹاک نے اس ویڈیو کو ہٹا دیا۔“ -

مسجد کو شہید کرنے اور انسانی جانوں کا ضیاع کرنے والوں کا اسلام سے کو تعلق نہیں
اسلام امن کا درس دیتا ہے،اسلام کے نام پہ بے گناہ انسانوں کے جانوں کا ضیاع کرنے والے کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے نہ ہی وہ دائرہ اسلام میں آسکتے ہے،خیبر پختونخوا کے علاقے جمرود کی جامع مسجد علی میں ہونے والے دھماکے کی علمائے کرام نے شدید مذمت کی ہے اور اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
علامہ حذیفہ افضل نے کہا ہے کہ مسجد میں خود کش دھماکا کرکے اللہ کے گھر کو شہید کیا گیا، ہر ایسا فرد اور ہر ایسی تنظیم جو بم دھماکوں کے ذریعے مسجد کو شہید کرتی ہے یا انسانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع کرتی ہے، اس تنظیم یا فرد کا اسلام یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ایسی تنظیموں پر کڑی نظر رکھے اور ان کا سدباب کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ آنے والے وقت میں اللہ کے گھر اور مسلمانوں کی جان و مال ان تنظیموں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔علامہ ڈاکٹر ظہیر عباس قادری نے کہا کہ ایس ایچ او عدنان آفریدی نے دہشتگرد کا تعاقب کیا تاکہ اس کے عزائم کو خاک میں ملا سکیں مگر امن دشمن نے مسجد میں داخل ہوتے ہی خود کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔ظہیر عباس قادری نے کہا ہے کہ ان دہشتگردوں نے یہ پہلی مسجد شہید نہیں کی بلکہ پاکستان کے اندر مختلف مواقع پر یہ مساجد اسلامیہ پر حملے کرتے رہے ہیں۔ ایسے لوگ دہشتگرد ہیں اور اسلام کے دشمن ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں بطور عالم دین اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، نبی کریم ؐ کے فرمان کے مطابق یہ لوگ منافقین ہیں۔ اللہ ان کے شر سے پاکستان کو محفوظ رکھے۔ -

ضلع خیبر خود کش دھماکے کی تحقیقاتی رپورٹ جاری
ضلع خیبر مسجد میں ہوئے خودکش دھماکے سے متعلق تحقیقاتی کمیٹی کی تحقیقات جاری ہیں۔تحقیقاتی ٹیم کے مطابق خودکش حملہ آور کے سہولت کار کو موقع سے گرفتار کیا گیا۔ خودکش حملہ آور کے سہولت کار کے موبائل سے کال ڈیٹا حاصل کرلیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق خودکش حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا اور اس کا ٹارگٹ اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کی گاڑی تھی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور 20 جولائی کو پاکستان میں داخل ہوا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے تھانہ علی مسجد کی حدود میں دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں ایڈیشنل ایس ایچ او شہید ہوگئے۔ دوسری جانب سیکورٹی فورسیز کی جانب سے گھر گھر تلاشی کے دوران ایک خودکش جیکٹ بھی برآمد ہوئی ہے، جس کو بی ڈی ٰیو اہلکاروں نے ناکارہ بنا دیا، سی سی پی او پشاور کے مطابق مشکوک افراد کی اطلاع پر ایڈیشنل ایس ایچ او نے گزشتہ روز چند افراد کو تلاشی کے لیے آواز دی، تلاشی دینے کے بجائے خودکش حملہ آور مسجد کی جانب بھاگا۔انہوں نے بتایا کہ ایڈیشنل ایس ایچ او خودکش حملہ آور کے پیچھے بھاگا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑادیا۔
-

باڑہ تحصیل حملے میں زخمی ایک اور اہلکار شہید ہو گیا ،تعداد چار ہو گئ
باڑہ تحصیل کمپاؤنڈ حملے میں ایک اور کانسٹیبل عبدالہادی جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد دھماکے میں شہید اہلکاروں کی تعداد چار ہوگئی. گزشتہ دنوں باڑہ تحصیل کمپاؤنڈ کے پولیس اسٹیشن میں دہشت گردوں نے حملہ کردیا تھا ، حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 4اہلکار زخمی ہوئے۔
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم شدہ قبائلی ضلع خیبر کے تحصیل باڑہ بازار میں دھماکا اور فائرنگ کا واقع پیش آیا تھا ،ریسکیو ذرائع کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد شدید فائرنگ بھی کی گئی، دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد زخمی ہوگئے تاہم ریسکیو1122 نے دھماکے میں زخمیوں کو ایچ ایم سی علاج کے لئے منتقل کردیا ہے۔جس میں ایک اہلکار کی حالت تشویش ناک تھی ،اور ہسپتال میں زیر علاج تھے لیکن جانبر نہ ہو سکے جسکے بعد شہید اہلکاروں کی تعداد 4 ہو گیئ،پولیس کا کہنا تھا کہ باڑہ تحصیل کمپاؤنڈ کے پولیس اسٹیشن میں دہشت گردوں نے حملہ کیا ، دہشت گرد حملے میں 3 پولیس اہلکار شہید اور 4اہلکار زخمی ہوئے۔
حکام کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نےبروقت کارروائی کرکےدودہشتگردوں کو گیٹ پرروکا، دونوں حملہ آوروں کی جانب سے فائرنگ اور دھماکے کئے گئے، فائرنگ کے تبادلےمیں اہلکار زخمی ہوئے ، جس میں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
پولیس نے بتایا کہ دھماکےکی وجہ سے عمارت اور گیٹ کو نقصان پہنچا، بادی النظر حملہ آوروں نے اندر جانے میں ناکامی پر خود کو اڑا دیا۔ -

پشاور،خود کش حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے نہیں
پشاور ضلع خیبر اور حیات آباد میں ہونے والے خودکش دھماکوں کے حملہ آوروں کے فنگر پرنٹس کے ریزلٹ کے مطابق حملہ آور کا تعلق کہی اور سے تھا،۔ تفتیشی افسران کے طابق پشاور حیات آباد خودکش اور تحصیل کمپاؤنڈ باڑہ میں ہونے والے تینوں خودکش حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے ثابت نہیں ہوا۔
تفتیشی ٹیم نے تینوں خودکش حملہ آوروں کے فنگر پرنٹس نادرا کو بھیج دیے تھے تاہم نادرا ریکارڈ میں تینوں خودکش حملہ آوروں کا ڈیٹا موجود نہیں،
تفتیشی ٹیم نے تینوں خودکش حملہ آوروں کا تعلق ہمسایہ ملک سے ہو نے کا خدشہ ظاہر کیا ہے تاہم اس حوالے سے ابھی تحفیقات جاری ہیں، تفتیشی ٹیم کے مطابق تینوں دھماکوں میں ایک ہی گروہ ملوث ہو سکتا ہے،
یاد رہے کہ چند روز قبل پشاور کے علاقے حیات آباد میں ایف سی کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے میں 7 اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ خیبر کی باڑہ تحصیل کمپاؤنڈ میں ہونے والے خودکش حملے میں 4 سکیورٹی اہلکار شہید اور دو حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔ -

خیبر پختونخوا میں ایک سال کے دوران665 دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئیں،رپورٹ
انسداد دہشت گردی فورسز نے جون 2022 سے جون 2023 تک خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کی تفصیلات جاری کردی۔ جسکے مطابق
خیبرپختونخوا میں ایک سال کے دوران صوبے میں 14 خودکش 15 راکٹ اور 107 دستی بم حملے ہوئے،139 دہشت گردوں کو جہنم وصل کیا گیا۔جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے 665 واقعات میں 14 خودکش حملے، 15 راکٹ 107 دستی بم حملے ہوئے ۔ ایک سال کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے 382 بار فائرنگ ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف آپریشنز کے دوران 139 دہشتگرد ہلاک کیے اور 432 خطرناک دہشت گرد گرفتار کیے گئے۔ 18 دہشتگردوں کو عدالتوں سے سزائیں دلاوائی گئیں۔
-

پشاور،بھتہ وصول کرنے اور سنگین دھمکیاں دینےوالا ملزم گرفتار
پشاورڈی ایس پی ریگی فدا حسین کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ ریگی جاوید اختر خان کی اہم کاروائی، شہریوں کو فون کے زریعے بھتہ دینے کے لئے دھمکیاں دینے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا،اسکے ساتھ منشیات فروشوں کو بھی گرفت میں لے لیا گیا ہے ، گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے جرایم میں ملوث ہو نے کا اعتراف کر لیا ہے کاروائیوں کے دوران بھتہ خور کے قبضے سے موٹر سائیکل، موبائل فون جبکہ منشیات فروشوں کے قبضے سے ہزاروں روپے مالیت کی آئس برآمد کرلی گئی ہےجن کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئ چند دن پہلے ایک شہری کی جانب سے تھانہ ریگی پولیس کو نامعلوم ملزمان کے خلاف کال موصول ہو کر بھتہ وصولی کیلیے فون پر ڈرانے دھمکانے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کی رپورٹ موصول ہوئیں تھی جس پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے
ڈی ایس پی ریگی فدا حسین کی نگرانی میں ایس ایچ او تھانہ ریگی جاوید اختر اور تفتیشی ٹیم نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے سی ڈی آر اور موبائل ڈیٹا کے زریعے ملوث ملزم کا سراغ لگا کر گزشتہ روز اہم کاروائی کے دوران بھتہ خور وقاص خان ولد پرویز کو گرفتار کر لیا، گرفتار ملزم نے ابتدائی تفتیش کے دوران جرم میں ملوث ہونے کا اعترا ف کر لیا ،جس کے قبضے سے موٹر سائیکل اور موبائل فون بھی برآمد کرلی گئی ہے جس سے دوران تفتیش مزید اہم انکشافات کی توقع کی جارہی ہے
ادھر ایس ایچ او تھانہ ریگی جاوید اختر نے دیگر کاروائیوں کے دوران آئس فروشی میں ملوث تین ملزمان کو گر فتار کرلیا ،جن کا تعلق سفید سنگ،ملازئی اور ریگی سے ہے، ملزمان کے قبضے سے ہزاروں روپے مالیت کی آئس برآمد کر لی گئی ہے ،گرفتار ملزمان نے ابتدا ئی تفتیش کے دوران منشیا ت کے مکروہ دھندے میں ملوث ہو نے کا اعتراف کرلیا ہے،جن کے خلاف مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے -

باڑہ کمپاؤنڈ پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی چوری کی تھی
باڑہ خودکش حملہ آور کے زیر استعمال گاڑی ایک ہفتہ قبل راولپنڈی سے چوری ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق گاڑی کی چوری کا مقدمہ نیوٹاؤن راولپنڈی تھانے میں درج ہے، گاڑی کا نمبر ایل ای جی 9086 ہے۔دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑی 12 جولائی کو سٹی شاپنگ سینٹر راولپنڈی سے چوری ہوئی تھی۔
پولیس کے مطابق گاڑی کا ماڈل 2011 ہے اور اس کا رنگ سفید ہے، گاڑی کے مالک حمزہ نے چوری کے بعد ایف آر درج کروائی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو بیان میں گاڑی کے مالک حمزہ کا کہنا تھا کہ سٹی شاپنگ سینٹر میں فیملی کے ساتھ شاپنگ کررہا تھا واپس ایا تو گاڑی غائب تھی۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کی تحصیل باڑہ کے کمپاؤنڈ گیٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 8 زخمی ہوگئے جبکہ حملہ آور مارے گئے۔
