رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں سحر اور افطار کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے،مختلف ممالک میں سحر اور افطار کے انداز، پکوان اور روایات ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود ایک مشترکہ روحانی جذبے کی عکاسی کرتے ہیں۔
ایشیائی ممالک میں رمضان کی رونقیں اور بھی منفرد رنگ لیے ہوتی ہیں پاکستان، بھارت، ترکی، ایران، بنگلہ دیش اور مشرق وسطیٰ کے ممالک میں سحری اور افطار کے دسترخوان روایتی اور مقامی ذائقوں سے بھرے ہوتے ہیں کہیں حلیم، کہیں کباب، کہیں کھجور اور کہیں اسپیشل چاول اور گوشت کے پکوان، یہاں سحری صرف ایک کھانا نہیں بلکہ ایک ثقافتی روایت اور خاندانی اجتماع کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔
انہی خوبصورت روایات کے درمیان بھارت کا تاریخی شہر حیدرآباد اپنی شاہی سحری اور منفرد دکنی ذائقوں کی وجہ سے خاص مقام رکھتا ہےحیدرآباد کی سحری اپنی روایتی ترکیبوں، خوشبودار مصالحوں اور نوابی انداز کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے، جہاں رمضان کی راتوں میں گلیاں کھانوں کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہیں اور دسترخوان پر ایسے لذیذ پکوان سجائے جاتے ہیں جو اس شہر کی ثقافتی پہچان بن چکے ہیں۔
دوستوں پراندھا دھند فائرنگ کے واقعہ کے بعد دوسرے فریق نے بھی درخواست دے دی
کھچڑی، کھٹا اور قیمہ روایت اور ذائقے کا بہترین امتزاج حیدرآباد کی سحری کی پہچان سمجھا جاتا ہے نرم اور ہلکی کھچڑی، جو چاول اور مونگ کی دال سے تیار کی جاتی ہے، اس کے ساتھ کھٹا پیش کیا جاتا ہے جو املی، مونگ پھلی اور تل سے بنا ایک منفرد کھٹا سالن ہوتا ہے ساتھ مزیدار اور مصالحہ دار قیمہ بھی ہوتا ہے، یہ ڈش نہ صرف پیٹ بھرتی ہے بلکہ جسم کو دیر تک توانائی بھی فراہم کرتی ہے اور صدیوں سے اس شہر کی سحری کا اہم حصہ ہے۔
سحری کے موقع پر بھیجا فرائی کو خاص اہمیت حاصل ہے اسے مکھن اور خوشبودار مصالحوں کے ساتھ توے پر اچھی طرح پکایا جاتا ہے۔ اس کی نرم ساخت اور منفرد ذائقہ اسے خاص بناتا ہے۔ عام طور پر اسے گرم تندوری یا روٹی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔
نہاری حیدرآباد کی مشہور ترین ڈشز میں شامل ہے جو پوری رات ہلکی آنچ پر پکائی جاتی ہے، جس سے گوشت انتہائی نرم اور ذائقے سے بھرپور ہو جاتا ہے اس کا گاڑھا شوربہ اور خوشبودار مصالحے اسے سحری کا بہترین انتخاب بناتے ہیں اسے عام طور پر گرم اور نرم کلچوں کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
میری ترجیح ہے کہ ایران کا مسئلہ سفارتکاری سے حل ہو،صدر ٹرمپ
تلا ہوا گوشت ایک آسان مگر انتہائی لذیذ پکوان ہے مٹن کے چھوٹے ٹکڑوں کو ادرک، لہسن، ہری مرچ اور کڑی پتے کے ساتھ اچھی طرح تل لیے جاتے ہیں اسے اکثر کھچڑی یا سادہ چاول کے ساتھ بطور سائیڈ ڈش پیش کیا جاتا ہے یہ ڈش نہ صرف مزیدار ہوتی ہے بلکہ روزہ دار کو دیر تک توانائی فراہم کرتی ہے۔
حیدرآباد میں سحری کے آخر میں ملائی، نان ختائی اور شاہی ٹکڑا جیسی میٹھی چیزیں پیش کی جاتی ہیں یہ میٹھی ڈشز نہ صرف ذائقہ بڑھاتی ہیں بلکہ جسم کو توانائی بھی فراہم کرتی ہیں رمضان کے دوران حیدرآباد کے خصوصی پکوان نہ صرف مقامی افراد بلکہ دنیا بھر سے آنے والے لوگوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ حیدرآباد کی سحری کو ایشیا کی شاہی اور یادگار سحریوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب حیدرآبادی حلیم کی فروخت اس سال مختلف ہندوستانی شہروں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فوڈ کاروباری حلقوں کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے مقابلے میں فروخت میں 30 سے 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ صرف حیدرآباد میں روزانہ 50,000 سے 70,000 کلو گرام حلیم فروخت ہو رہی ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ 35,000 سے 45,000 کلو گرام تھی۔
سعودی کابینہ کی پاکستان کے مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں کی منظوری
چنئی میں حیدرآبادی حلیم کی مانگ میں 40 سے 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بنگلورو میں جمعہ اور ہفتہ کو حلیم کی دکانوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں، جبکہ آن لائن آرڈر دگنا ہو گئے ہیں۔ پرانی دہلی کے علاقوں میں افطار کے اوقات میں فروخت میں 20 سے 30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حیدرآبادی حلیم اب ایک ملک گیر برانڈ کے طور پر ابھرا ہے۔ حیدرآبادی حلیم کے نام سے کئی معروف برانڈ دوسرے شہروں میں نمایاں فروخت حاصل کر رہے ہیں۔ فوڈ ڈیلیوری ایپس کی طرف سے خصوصی پروموشنز نے مانگ میں مزید اضافہ کیا ہے۔
بڑھتی ہوئی طلب کا براہ راست اثر ہنر مند حلیم باورچیوں کی کمائی پر پڑا ہے۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ حیدرآباد کے بڑے آؤٹ لیٹس پر کام کرنے والے تجربہ کار حلیم شیف رمضان کے ایک مہینے میں 200,000 سے 250,000 روپے کے درمیان کما رہے ہیں جو کہ کئی کارپوریٹ ملازمتوں کی ماہانہ تنخواہوں سے زیادہ ہے۔ چھوٹے دکانوں یا عارضی حلیم مراکز پر کام کرنے والے باورچی اور معاون عملہ روزانہ 3,000 سے 5,000 روپے کما رہے ہیں معروف برانڈز ٹاپ شیفز کو چھ ماہ تک پہلے سے بک کرتے ہیں اور انہیں بونس اور اضافی فوائد بھی فراہم کرتے ہیں۔
پاک روس تعلقات مزید مضبوط بنانے کیلیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی،سحرکامران
حلیم کی تیاری میں 12 سے 18 گھنٹے تک آہستہ آہستہ پکانے کا عمل شامل ہے۔ اس میں مخصوص مصالحوں کا متوازن استعمال، گوشت کو اچھی طرح نرم کرنا، اور کامل مستقل مزاجی حاصل کرنے کے لیے مکسچر کو مسلسل ہلانا شامل ہے۔ ان تمام مراحل کو صرف تجربہ کار اور ہنر مند باورچیوں کے ذریعے ہی درست طریقے سے انجام دیا جا سکتا ہے۔