Baaghi TV

Tag: روس

  • ہیکرز نے تاوان  ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پرمریضہ کی برہنہ تصاویر شئیر کر دیں

    روسی ہیکرز نے تاوان ادا نہ کرنے پر امریکی مریضہ کی برہنہ تصاویر شیئر کردی۔

    باغی ٹی وی: عالمی میڈیا کے مطابق روسی ہیکرز نے 4 مارچ کو امریکی ریاست پینسلوینیا کے اسپتال لی ویلی ہیلتھ نیٹ ورک کے ڈیٹا پر سائبر حملہ کیا جس کے بعد 6 مارچ کو اسپتال انتظامیہ نے سائبر حملے کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کو آگاہی دی تاہم ہیکرز اسپتال کا ڈیٹا چرانے میں کامیاب رہے۔

    اقوام متحدہ میں عرب ممالک کا قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات پر …

    ہیکرز نے اسپتال انتظامیہ کو ای میل کی گئی جس میں انہوں نے لکھا کہ لمبے عرصے سے ہم آپ کے نیٹ ورک میں موجود تھے اور آپ کا تمام ڈیٹا ہمارے پاس آگیا ہے، جس میں مریضوں کی تفصیلات، ان کے پاسپورٹس کی مندرجات، سوال نامے، نجی معلومات اور برہنہ تصاویر شامل ہیں۔

    امریکی حکام کے مطابق ڈارک ویب پر ڈیٹا جاری نہ کرنے کے بدلے میں ہیکرز کی جانب سے 15 لاکھ امریکی ڈالرز تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

    بھارتی فوج نے اپنے ہی گاؤں پر گولہ گرادیا ،3 دیہاتی ہلاک اور متعدد زخمی

    اسپتال کی جانب سے تاوان کی رقم دینے سے انکار کے بعد ہیکرز نے کینسر کی مریضہ کی تفصیلات پر مبنی سات دستاویزات اور ریڈی ایشن اونکولوجی ٹریٹمنٹ لیتے ہوئے تین برہنہ تصاویر کے اسکرین شاٹس سمیت دیگر ڈیٹا ڈارک ویب پر اپلوڈ کر دیا۔

    ہیکرز نے کہا کہ ہمارے بلاگ کو دنیا بھر میں دیکھا جاتا ہے، کیس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی جائے گی، اور آپ کے کاروبار کو کافی نقصان پہنچے گی-

    امریکی محکمہ صحت اور انسانی خدمات نے جنوری میں کہا تھا کہ بلیک کیٹ نے 1.5 ملین ڈالر تک تاوان کا مطالبہ کیا ہےایلنٹاؤن، پنسلوانیا میں مقیم کمپنی نے کہا کہ مریض کا ڈیٹا شائع کرنا ‘قابل نفرت’ تھا۔

    کمپنی نے کہا، ‘یہ غیر ذمہ دارانہ مجرمانہ فعل کینسر کا علاج کروانے والے مریضوں کا فائدہ اٹھاتا ہے، اور LVHN اس نفرت انگیز رویے کی مذمت کرتا ہے-

    ہیلتھ کیئر کمپنی کے سی ای او برائن نیسٹر نے کہا کہ وہ ابھی تک اس واقعے میں ملوث معلومات کی شناخت کر رہے ہیں ہم ان لوگوں کو نوٹس فراہم کریں گے جن کی معلومات اس میں شامل تھیں۔

  • روس کی عظیم جدت پسند شاعرہ انا اخماتووا

    روس کی عظیم جدت پسند شاعرہ انا اخماتووا

    انا اخماتووا بین الاقوامی شہرت یافتہ روسی شاعرہ ہیں جنھیں روس میں اور دوسرے ممالک میں غنائی شاعری کے لیے بڑی شہرت و مقبولیت حاصل ہے۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    انا اخماتووا یوکرین کے شہر اوڈیسا، روسی سلطنت میں 23 جون 1889ء میں پیدا ہوئیں۔ حب الوطنی کی جنگ کے زمانے میں انا اخماتووا نے اپنے ریڈیو نشریوں میں اور اخبارات میں عوام کے گیت گائے۔ پچھلے برسوں میں ان کی نظموں کے ترجمے انگریزی، بلگاریائی، چیکاسلواکیائی، جرمن، رومانیائی، فرانسیسی، فارسی اور اردو زبانوں میں کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔ انا اخما تووا اپنی وفات سے دو سال پہلے روسی ادیبوں کی انجمن کی صدر منتخب ہوئیں۔
    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)نیم شب کی نظمیں
    ۔ (2)خاکِ وطن
    ۔ (3)شام ڈھلے
    ۔ (4)جہانِ سخن
    ۔ (5)حلف
    ۔ (6)مردانگی

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    روس کی عظیم جدت پسند شاعرہ انا اخماتووا 76 سال کی عمر میں 05 مارچ 1966ء کو ماسکو، سویت یونین میں حرکتِ قلب بند ہونے کے باعث وفات کر گئیں اور لینن گراڈ میں تدفین ہوئی۔

  • سعودی عرب کا یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان

    سعودی عرب کا یوکرین کیلئے 40 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان

    ریاض: سعودی عرب کی جانب سے یوکرین کو انسانی بنیادوں پر 40 کروڑ ڈالر کی امداد دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب نے یوکرین کے ساتھ ایک معاہدے اور مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دست خط کیے ہیں، جس کے تحت سعودی عرب جنگ زدہ ملک کو انسانی امداد کے طورپر40 کروڑڈالرنقدی یا مصنوعات کی شکل میں مہیّا کرے گا۔

    دونوں ملکوں کے درمیان یہ معاہدہ اور سمجھوتا اتوارکوسعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے یوکرینی دارالحکومت کیف کے دورے کے موقع پر طے پایا ہے ان کی قیادت میں سعودی وفد نے یوکرین کے صدرولودی میرزیلنسکی سے کیف میں ان کی صدارتی رہائش گاہ پرملاقات کی۔

    سعودی میڈیا کے مطابق شہزادہ فیصل بن فرحان نے ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امورکے علاوہ مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مواقع پرتبادلہ خیال کیا۔

    سعودی میڈیا کا کہنا ہےکہ سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کا مقصد یوکرین کے بحران کوپُرامن طریقے سے حل کرنا اور یوکرین اور اس کے عوام کوجنگ کے سماجی اور معاشی منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے مدد مہیاکرنا ہے۔

    دست خط شدہ مفاہمت کی یادداشت کے مطابق سعودی فنڈ برائے ترقی یوکرین کی 30 کروڑ ڈالر مالیت کی تیل کی مصنوعات کی شکل میں مالی اعانت کرے گا اور اس پر فنڈ کے چیف ایگزیکٹو سلطان عبدالرحمٰن المرشد نے دست خط کیے تھے۔

    اس امدادی پیکج کا اعلان سب سے پہلے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے گذشتہ سال اکتوبر میں یوکرین کے صدر سے فون پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔ولی عہد نے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت اور تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری رکھنے پرآمادگی کا اظہار کیا تھا۔

  • ممکنہ جوہری حادثے کی منصوبہ بندی کرلی گئی: روس

    ممکنہ جوہری حادثے کی منصوبہ بندی کرلی گئی: روس

    ماسکو:روسی وزرات دفاع نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل ماسکو کو قصوروار قرار دینے کے مقصد سے یوکرین پر اپنی سرزمین پر جوہری حادثے کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک یورپی ملک سے ریڈیو ایکٹیو مواد یوکرین منتقل کیا گیا ہے اور کیف کی جانب سے اس اشتعال انگیز منصوبے پرعمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اشتعال انگیز اقدام کا مقصد یوکرین میں ریڈیو ایکٹیو مواد کی تنصیبات پر حملے کا الزام روس پر عائد کرنا ہے تاکہ اس کے رساؤ اور پورے علاقے کے، اس سے آلودہ ہونے کا ذمہ دار روس کو قرار دے دیا جائے۔

    جنگ یوکرین مختلف شعبوں میں ہونے والی تباہی کے ساتھ تقریبا ایک سال سے جاری ہے جبکہ اس جنگ کو جاری رکھنے کے مقصد سے مغربی ممالک یوکرین کو بڑے پیمانے پر اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔روسی حکام، ماہرین اور مغربی ذرائع ابلاغ اس جنگ کو روس کے خلاف مغرب کی پراکسی وار قرار دیتے ہیں۔

    امریکہ کی سرکردگی میں مغربی مغربی ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مہم کے بہانے بہت سی جنگیں شروع کی ہیں جن میں عراق و افغانستان کی جنگ بھی شامل ہے جس میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کو کچھ ہاتھ نہیں لگا اور ممالک تباہی و بربادی کی نذر ہو گئے جبکہ دہشت گردی کو مزید فروغ حاصل ہوا، تاہم اب امریکہ اور یورپ یوکرین کی اسلحے کے ذریعے مدد و حمایت کر کے ایک اور تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

  • امریکی صدرکا یوکرین کاغیراعلانیہ دورہ،500 بلین ڈالرفوجی امداد کا اعلان

    امریکی صدرکا یوکرین کاغیراعلانیہ دورہ،500 بلین ڈالرفوجی امداد کا اعلان

    امریکی صدر جوبائیڈن پیر کے روز یوکرین کے دارالحکومت کیف کے غیر اعلانیہ دورے پر پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی :کیف میں،بائیڈن نے یوکرین کے صدارتی محل میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ساتھ خاتون اول اولینا زیلنسکا سے ملاقات کی۔ امریکی صدر روس کے یوکرین پر حملے کی پہلی برسی سے چند دن قبل کیف پہنچے-

    یوکرین پر روس کے حملےکے بعد امریکی صدرکا یہ پہلا دورہ یوکرین ہے امریکی صدر کے دورے کے موقع پر کیف میں فضائی بمباری کے سائرن بھی بجے تاہم خبر ایجنسی کا کہنا ہےکہ کیف میں روسی میزائل یا بمباری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

    وائٹ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق بائیڈن نے یوکرینی صدارتی محل میں صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی اور اپنی حمایت کا یقین دلایا صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو پیوٹن کا خیال تھا کہ یوکرین کمزور ہے اور مغرب تقسیم کا شکار ہے اس لیے ہمیں ختم کیا جاسکتا ہے مگر وہ انتہائی غلطی پر تھے۔

    زیلنسکی کے ساتھ مشترکہ ریمارکس میں، بائیڈن نے یوکرین کے لیے500 بلین ڈالر کی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس پیکج میں مزید فوجی سازوسامان شامل ہوں گے، جن میں توپ خانے کے گولہ بارود، مزید جیولن اور ہووٹزر شامل ہیں۔

    جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یوکرین کو دی جانے والی نئی فوجی امداد میں لائٹ ملٹی پل راکٹ لانچر بھی شامل ہیں۔

    تبصرے میں، بائیڈن نے یوکرائنی مزاحمت کی لچک کے بارے میں بات کی کیونکہ جنگ اپنے دوسرے سال میں داخل ہو رہی ہے بائیڈن نے کہا کہ ایک سال بعد، کیف کھڑا ہے۔ اور یوکرین کھڑا ہے جمہوریت کھڑی ہے۔

    زیلنسکی نے مزید کہا کہ اس نے اور بائیڈن نے "طویل فاصلے کے ہتھیاروں اور ان ہتھیاروں کے بارے میں بات کی جو یوکرین کو اب بھی فراہم کیے جاسکتے ہیں حالانکہ پہلے اس کی فراہمی نہیں کی گئی تھی۔”

    بائیڈن کا دورہ 12 ماہ کے تنازعے کے ایک نازک لمحے پر آیا ہے، جب روس متوقع موسم بہار کے حملے کی تیاری کر رہا ہے اور یوکرین جلد ہی علاقے پر دوبارہ قبضہ کرنے کی امید کر رہا ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک جنگ کی رفتار کو تبدیل کرنے کی امید میں یوکرین کو اسلحہ، ٹینک اور گولہ بارود پہنچا رہے ہیں۔

    یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں پر بات ہوئی ہے، جوبائیڈن کا دورہ یوکرین کے شہریوں کے لیے حمایت کی اہم علامت ہے۔

    زیلنسکی نے خود دسمبر میں اوول آفس میں بائیڈن سے ملنے اور کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے کے لیے واشنگٹن کا سفر کیا جنگ شروع ہونے کے بعد سے یوکرین سے باہر ان کا پہلا دورہ تھا-

    یوکرین کے رہنما نے ماہ قبل بائیڈن کو کیف کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا خیال ہے کہ امریکی رہنما کے لیے صورتحال کو قریب سے دیکھنا ضروری ہے۔

  • ماسکو نے یوکرین کی سرزمین پر اپنی جنگ میں چینی ڈرون استعمال کیے ،امریکا

    ماسکو نے یوکرین کی سرزمین پر اپنی جنگ میں چینی ڈرون استعمال کیے ،امریکا

    امریکہ کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے انکشاف کیا ہے کہ ماسکو نے یوکرین کی سرزمین پر اپنی جنگ میں چینی ڈرون استعمال کیے تھے۔

    باغی ٹی وی: وال سٹریٹ جرنل نےاپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہےکہ امریکی عہدہ دار نے کہا کہ چین کے ڈرونز کیف سے انٹیلیجنس جمع کرتے ہیں انہوں نے کہا وہ حکمت عملی، ٹیکنالوجی اورطریقہ کار کودیکھنے کےقابل ہیں وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ڈرون سائبر وارفیئر حملوں کا جواب کیسے دیتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق بڑے پیمانے پرمغربی دباؤ کی مہم کے باوجود جس کا مقصد ماسکو کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کرنا تھا پینٹاگون کو خدشہ ہے کہ یہ ڈرون نہ صرف روس کی جنگی کوششوں کوہوادیتےہیں بلکہ چین کو میدان جنگ میں اہم انٹیلی جنس معلومات اکٹھی کرنے کا موقع بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ڈرون جو سویلین اورفوجی دونوں مقاصد کے لیےاستعمال ہوتے ہیں اکثر تیسرے فریق خریدتے ہیں اور پھر چین سے بھیجے جاتے ہیں۔

  • کچھ قوتیں مذاکرات کو کامیاب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتیں،چین

    کچھ قوتیں مذاکرات کو کامیاب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتیں،چین

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے یوکرین جنگ میں روس کی مدد کرنے پر چینی ہم منصب کو نتائج سے خبردار کر دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق میونخ میں جاری بین الاقوامی سلامتی کانفرنس کی سائیڈ لائن پر امریکی وزیر خارجہ اور ان کے چینی ہم منصب وانگ ژی کے درمیان ایک گھنٹے تک ملاقات ہوئی۔

    سینیئر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ملاقات کے دوران امریکی وزیر خارجہ نے جارحانہ انداز میں چینی ہم منصب کو یوکرین جنگ میں روس کی مٹیریل سپورٹ کرنے کے نتائج سے آگاہ کیا۔

    اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ہمارے پاس اطلاعات ہیں کہ چین کی جانب سے روس کو جنگی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے یوکرین جنگ پر اپنے رد عمل میں ڈائیلاگ کے ذریعے جنگ کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے یورپی ممالک کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کا مشورہ دیا تھا۔

    انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ کچھ قوتیں مذاکرات کو کامیاب ہوتا نہیں دیکھنا چاہتیں، یا پھر جنگ کا جلد خاتمہ نہیں چاہتیں۔

    واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان امریکی فضائی حدود میں مشتبہ چینی غبارہ مار گرانے کے بعد تعلقات کشیدہ ہوگئے تھےامریکا کی جانب سے غبارے کو چینی جاسوس غبارہ قرار دیا جا رہا تھا جبکہ چین کی جانب سے غبارے کے معاملے پر امریکی رد عمل کو اوور ری ایکٹ قرار دیا گیا تھا۔

    چین نے غبارے کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کی تردید کی چین کے مطابق غبارہ موسم کی معلومات جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا اور اپنے راستےسےبھٹک گیا تھاچین کا غبارہ بحراوقیانوس کے اوپر 40 ہزار فٹ کی بلندی پرتھا جب اسےامریکی جنگی طیارے نے مار گرایا تھا،کوئی غلط سوچ نہ رکھے۔ اگر کوئی چیز امریکی شہریوں کے لیے باعث خطرہ بنے گی تو اسے مارگرایا جائے گا۔

    جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں امریکی صدر جو بائیڈن نے دعویٰ کیا تھا کہ چین غبارے کو جاسوس کے لیے استعمال کررہا تھا تاہم شمالی امریکا میں مار گرائے گئے تین اجسام کسی ملک کے لیے جاسوسی نہیں کررہے تھے، غبارے کے معاملے پر چینی ہم منصب شی جن پنگ سے بات کریں گے۔ ہم کوئی نئی سرد جنگ نہیں چاہتے تاہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔

  • بھارت نے جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے سستا پیٹرول درآمد کیا

    بھارت نے جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے سستا پیٹرول درآمد کیا

    نئی دہلی: بھارت اب روس سے پیٹرول خریدنے والا ایک بڑا ملک بن گیا ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے "روئٹرز” کے مطابق بھارت نے گزشتہ ماہ جنوری میں ریکارڈ مقدار میں روس سے پیٹرول درآمد کیا جو اس کی مجموعی ضرورت کا 27 فیصد تھا جنوری میں روسی تیل کی درآمدات 1.4 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی جو دسمبر کے مقابلے میں 9.2 فیصد زیادہ ہے ماسکو اب بھی نئی دہلی کو سب سے زیادہ ماہانہ تیل بیچنے والا ملک ہے، اس کے بعد عراق اور سعودی عرب ہیں-

    بھارت کے روس سے سستا پیٹرول خریدنے کے باعث اب اس کی خلیجی ممالک سے خام تیل کی خریداری میں 84 فیصد تک کمی آئی ہے گزشتہ ماہ بھارت کی طرف سے درآمد کیے گئے 5 ملین بی پی ڈی خام تیل کا تقریباً 27 فیصد حصہ روسی تیل کا تھا،جو کہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا تیل درآمد کرنے والا اور صارف ہے۔

    1.4 بلین آبادی والا بھارت اس وقت تیل کی درآمدات میں دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے یہی وجہ ہے کہ خلیجی ممالک سمیت پیٹرول برآمد کرنے والے دیگر ممالک بھارت کو خصوصی توجہ بھی دیتے ہیں۔

    بھارت کی تیل کی درآمدات عام طور پر دسمبر اور جنوری میں بڑھ جاتی ہیں کیونکہ سرکاری ریفائنرز حکومت کی طرف سے مقرر کردہ اپنے سالانہ پیداواری اہداف کو پورا کرنے کے لیے پہلی سہ ماہی میں دیکھ بھال کے بند ہونے سے گریز کرتے ہیں۔

    بھارت میں ریفائنرز، جو مہنگی لاجسٹکس کی وجہ سے شاذ و نادر ہی روسی تیل خریدتے تھے، روس کے کلیدی آئل کلائنٹ کے طور پر ابھرے ہیں، جس نے گزشتہ فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد سے مغربی ممالک کی طرف سے رعایتی خام تیل کو چھین لیا ہے۔

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پچھلے مہینے روسی سوکول خام تیل کی بھارت کی درآمدات اب تک سب سے زیادہ 100,900 بی پی ڈی تھی، کیونکہ Sakhalin 1 فیلڈ سے پیداوار ایک نئے روسی آپریٹر کے تحت دوبارہ شروع ہوئی، ڈیٹا نے ظاہر کیا۔

    جنوری میں، بھارت کی کینیڈا سے تیل کی درآمدات بڑھ کر 314,000 بی پی ڈی تک پہنچ گئیں کیونکہ ریلائنس انڈسٹریز نےطویل فاصلے کے خام تیل کی خریداری میں اضافہ کیا، اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے۔

    اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بعد جنوری میں کینیڈا بھارت کو پانچویں سب سے بڑا سپلائر بن کر ابھرا جنوری میں بھارت کی عراقی تیل کی درآمد 983,000 بی پی ڈی کی سات ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو دسمبر سے 11 فیصد زیادہ ہے۔

    اپریل سے جنوری کے دوران، اس مالی سال کے پہلے دس مہینوں کے دوران، عراق ہندوستان کو تیل فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک رہا، جبکہ روس دوسرا سب سے بڑا سپلائر بن گیا، جس نے سعودی عرب کی جگہ لے لی جو اب تیسرے نمبر پر ہے۔

    اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی تیل کی زیادہ خریداری نے مشرق وسطیٰ سے بھارتی درآمدات کو 48 فیصد کی اب تک کی کم ترین سطح پر گھسیٹا اور پیٹرولیم برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (OPEC) کے رکن ممالک کی شرح اب تک کی کم ترین سطح پر آ گئی۔

    یوکرین پر حملے کے نتیجے میں عالمی قوتوں نے روس پر اقتصادی اور معاشی پابندیاں عائد کی تھیں جس میں خام تیل کی برآمدات بھی شامل ہے تاہم بھارت نے شروع دن سے ہی پابندی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے خام تیل کی خریداری کی۔

    یورپی ممالک میں پابندیوں کے شکار روس کو بھی اپنے تیل کی فروخت کے لیے ایک بڑی مارکیٹ درکار تھی جو اسے بھارت کی شکل میں مل گئی اور بھارت کو قدرے سستا پیٹرول ملنے لگا۔

    خیال رہے کہ موجودہ پاکستانی حکومت نے بھی روس سے پیٹرول خریدنے کے لیے بات چیت کی ہے تاہم ابھی اس میں مزید لگ سکتا ہے۔

  • برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی،نیٹو

    برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی،نیٹو

    نیٹو کا کہنا ہےکہ برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی۔

    باغی ٹی وی :غیرملکی میڈیا کے مطابق برطانیہ کو اس سال نیٹو ریپڈ ری ایکشن فورس کی کمان سنبھالنا ہے، لیکن نیٹو چاہتا ہے کہ برطانیہ اس سال ریپڈ ری ایکشن فورس کی کمان نہ سنبھالے۔

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    30 ممالک پر مشتمل سیاسی و عسکری اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے مطابق برطانیہ ریپڈ ری ایکشن فورس کے لیے اضافی 5 ہزار اہلکار دینےکی پوزیشن میں نہیں ہے، یوکرین فورس کی تربیت اور اسلحہ فراہمی کے سبب برطانیہ کے پاس وسائل کی کمی ہے اور برطانوی فوج روس کامقابلہ نہیں کرسکتی۔

    خیال رہے کہ جرمنی اس وقت نیٹو کی ریپڈ ری ایکشن فورس کی کمان سنبھالے ہوئے ہے، نیٹو چاہتا ہےکہ جرمنی ریپڈ ری ایکشن فورس کی کمان اگلےسال بھی سنبھالے رہے، اخراجات میں کمی کے باعث بھی برطانیہ کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔

    برطانوی بادشاہ کی تاجپوشی کی تقریبات،مہمانوں کی فہرست تیار،ہیری اور میگھن کو مدعو کرنے کا فیصلہ

  • 2023 کا آغاز ایسے چیلنجز کے ساتھ کیا ہے جو ہماری زندگی میں پہلے کبھی سامنے نہیں آئے،نتونیو گوتریس

    2023 کا آغاز ایسے چیلنجز کے ساتھ کیا ہے جو ہماری زندگی میں پہلے کبھی سامنے نہیں آئے،نتونیو گوتریس

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ روس اور یوکرین کا تنازع دنیا کو ایک ‘بڑی جنگ’ کی جانب لے جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اجلاس ہوا اس اجلاس میں یوکرین پر روس کے حملے، موسمیاتی بحران اور غربت جیسے موضوعات پر توجہ مرکوز کی گئی تھی خطاب کے دوران سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ ہم نے 2023 کا آغاز ایسے چیلنجز کے ساتھ کیا ہے جو ہماری زندگی میں پہلے کبھی سامنے نہیں آئے۔

    امریکہ یوکرین کو ایف سولہ لڑاکا طیارے فراہم نہیں کرے گا،جوبائیڈن

    انتونیو گوتریس نے کہا کہ سائنسدانوں اور سکیورٹی ماہرین نے ڈومز ڈے کلاک (قیامت کی گھڑی) کو مزید آگے بڑھایا ہے اور اب یہ گھڑی آدھی رات سے محض 90 سیکنڈ دور ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وہ اس گھڑی کے وقت میں اضافے کو خطرے کی علامت تصور کرتے ہیں یوکرین میں امن کے امکانات معدوم ہورہے ہیں اور اس تنازع کی شدت بڑھانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے،مجھے خدشہ ہے کہ دنیا کسی بڑی جنگ کی جانب نہ بڑھ جائے وقت آگیا ہے کہ ہم امن کے لیے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کریں۔

    یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی مدد،امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دیں

    انہوں نے مستقبل کی نسلوں کو ذہن میں رکھ کر اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے عالمی معیشت میں بنیادی تبدیلیوں کا مطالبہ کیاکہاکہ ہمارے اقتصادی اور معاشی سسٹم میں کچھ غلط ہے جس کےنتیجے میں غربت اور بھوک میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ امیر اور غریب کے درمیان خلا بڑھ رہا ہے۔

    واضح رہے کہ سائنسدانوں کے گروپ کی جانب سے اس ڈومز ڈے کلاک کے وقت کا تعین گزشتہ سال کے واقعات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوسکے کہ انسانیت تباہی کے کتنے نزدیک یا دور ہےسائنسدانوں کے مطابق گھڑی کا وقت آدھی رات سے جتنا قریب ہوگا، اتنے ہی زیادہ ہم خطرے کی زد میں ہوں گے۔

    امریکا کا یوکرین کوطویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل بھیجنے کا فیصلہ