Baaghi TV

Tag: روس

  • سویت یونین کے ٹکڑےہونے کے بعد کافی عرصے تک ٹیکسی چلاکر گزارا کیا ،روسی صدر

    سویت یونین کے ٹکڑےہونے کے بعد کافی عرصے تک ٹیکسی چلاکر گزارا کیا ،روسی صدر

    ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ سویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد کافی عرصے تک گھریلو اخراجات پورا کرنے کے لیے ٹیکسی چلائی تھی۔

    باغی ٹی وی :"ڈیلی میل” کے مطابق روسی صدر نے سقوطِ سویت یونین کو ایک دلخراش سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے پر روسی شہری غمگین ہوگئے تھے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    صدر پیوٹن نے جذباتی انداز میں کہا کہ سویت یونین کا حصے بخیرے ہونا دراصل تاریخی روس کے ٹکڑے ہونا تھا جو اس وقت سویت یونین کے نام سے موسوم تھا سویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد معیشت زمین بوس ہوگئی اور غربت نے ڈیرے ڈال دیئے تھے میں نے بھی ٹیکسی چلا کر گزارا کیا تھا ہم نے بڑی مشکل سے خود سنبھالا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کا صیہونی فوج کو ایران پر حملے کی تیاری کا حکم

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ان خیالات کا اظہار فلم سازوں سے گفتگو میں کیا جو روس کی تاریخ پر مبنی فلم کو روسی زبان میں ڈب کر رہے ہیں جس کا مقصد نئی نسل کو روس کی تاریخ سے آگاہ کرنا ہے۔

    واضح رہے کہ روسی سوشلسٹ ریاستوں پر مشتمل اتحاد ’’سویت یونین‘‘ کا قیام 1922 میں عمل میں آیا تھا اور 1991 تک برقرار رہا تھا-

    انچسٹر یونائیٹڈ کے پہلےجنوبی ایشیائی اور پاکستانی نژاد فٹبالرزیدان اقبال

  • امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    امریکی صدر جوبائیڈن کی روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی

    واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یوکرائن پر حملہ کیا تو بھاری قیمت اٹھانا پڑے گی انہوں نے کہا کہ یوکرائن پر حملے کی صورت میں روس کو تباہ کن معاشی نتائج کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔

    اس سے قبل بھی امریکی صدر جوبائیڈن روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو قاتل قرار دے چکے ہیں ایک انٹرویو میں امریکی صدر جوبائیڈن سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ روسی صدر پیوٹن کو قاتل سمجھتے ہیں، جس پر انہوں نے جواب میں ہاں کہا اس موقع پرجوبائیڈن نے مزید کہا تھا کہ آپ دیکھیں گے ولادیمیر پیوٹن کو عنقریب قیمت چکانی پڑے گی۔

    امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    قبل ازیں امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرائن کے ساتھ سرحد پر روس کی فوجی تشکیل پر کشیدگی کو کم کرنے کی جاری کوششوں کے درمیان اپنے یوکرائنی ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی سے بات کی جمعرات کو بائیڈن اور زیلنسکی کی کال امریکی صدر کی ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ دو گھنٹے کی بات چیت کے چند دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں روسی رہنما پر زور دیا گیا ہے کہ وہ صورتحال کو کم کرنے یا سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔

    امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں ملوث 4 ممالک پر پابندیاں عائد کر دیں

    زیلنسکی نے جمعرات کی سہ پہر ٹویٹر پر لکھا کہ”ریاستہائے متحدہ کے صدر نے مجھے پیوٹن کے ساتھ اپنی بات چیت سے آگاہ کیا یوکرائن کے صدر نے مشرقی یوکرین کے علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم نے ڈونباس میں تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ممکنہ فارمیٹس پر بھی تبادلہ خیال کیا اور یوکرائن میں داخلی اصلاحات کے حوالے سے بات کی۔”

    یوکرائن نے کہا ہے کہ اس سال اب تک 94,000 روسی فوجی سرحد پر تعینیات ہو ئے ہیں جس سے بائیڈن انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے متعدد بار انتباہی پیغام جاری کئے گئے جو ماسکو کو کیو کے خلاف "اہم جارحانہ اقدام” کرنے سے روکنا چاہتے ہیں۔

    سعودی عرب میں کنسرٹ، سلمان خان کے رقص پر حاضرین خوش:عربی جھومنے لگے

    امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ پیوٹن جنوری کے اوائل میں 175,000 فوجیوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہو سکتے ہیں۔

    روس نے یوکرائن پر حملہ کرنے کے منصوبے کی تردید کی ہے، لیکن پیوٹن نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں امریکی فوجی ہارڈ ویئر کی کسی بھی توسیع کے ساتھ ساتھ نیٹو میں ملک کا داخلہ "سرخ لکیریں” ہیں جنہیں عبور نہیں کرنا چاہیے۔

  • افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر

    بغداد:افغانستان کے بعد اب عراق سے امریکی افواج کا انخلا:روس اور چین کی کڑی نظر،اطلاعات کے مطابق افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد اب عراق سے امریکی و دیگر غیرملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق ہوگیا ہے۔

     

    بغداد سے عرب میڈیا کے مطابق عراق میں غیر ملکی فوجی انخلاء سے متعلق عراقی جوائنٹ آپریشن کمانڈر نے بیان میں کہا ہے کہ امریکی و اتحادی فوج رواں سال کے اختتام تک عراق سے مکمل انخلاء کریں گی۔

     

    عراقی کمانڈر نے مزید کہا کہ امریکی اور اس کے اتحادی اپنی افواج اور جنگی سرگرمیوں میں شامل عملہ عراق سےنکال لیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج جنگی مُہمات میں سرگرم عملےکا بڑا حصہ عراق سے انخلاء کرچکی ہے جبکہ باقی غیرملکی فوجیوں کا انخلاء دسمبر کے اختتام تک جاری رہے گا۔

    امریکی و دیگر اتحادی فوج کے صرف تکنیکی ماہرین عراق میں رہیں گے۔ عراقی کمانڈر کے مطابق اتحادی فوج عراقی فوج کو تکنیکی مدد اور تعاون فراہم کرے گی۔

    یاد رہے کہ یوکرین کے محاذ پرروسی افواج کے دباو اور چین کی بڑھتی ہوئی قوت سے خائف امریکہ نے دنیا بھر سے اپنی افواج کومحفوظ بنانے کے لیے ان کی امریکہ یاتری کا فیصلہ کرلیا ہے

    ادھر امریکہ کے اس اعلان کے بعد روس اور چین امریکی فوجی نقل وحرکت پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہیں اور یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ حالات کشیدہ بھی ہوسکتےہیں‌

  • بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا

    اسلام آباد :بریکنگ : امریکہ کی جمہوریت پر سمٹ،پاکستان کا شرکت نہ کرنے کا فیصلہ:امریکہ دیکھتا رہ گیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان نے امریکہ کی جانب سے جمہوریت پر منعقد کی جانے والی سمٹ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کی طرف سے دو ٹوک جواب سن کرامریکہ حواس باختہ ہوگیاہے

    امریکہ سے آمدہ تفصیلات کے مطابق ڈیموکریسی ورچوئل سمٹ 9 اور 10 دسمبر کو ہوگا۔ امریکا کی جانب سے سمٹ میں شرکت کے لئے چین اور روس کو دعوت نہیں دی گئی۔

    اسی حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہم سمٹ برائے جمہوریت میں شرکت کے لیے پاکستان کو مدعو کرنے پر امریکا کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان ایک بڑی فعال جمہوریت ہے جس میں ایک آزاد عدلیہ، متحرک سول سوسائٹی اور آزاد میڈیا ہے۔ ہم جمہوریت کو مزید مضبوط کرنے، بدعنوانی کے خاتمے اور تمام شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے ان اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع پیمانے پر اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔ ان اصلاحات کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ہم امریکا کے ساتھ اپنی شراکت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جسے ہم دو طرفہ اور علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے لحاظ سے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    ترجمان نے کہا کہ ہم متعدد مسائل پر امریکا کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ ہم مستقبل میں مناسب وقت پر اس موضوع پر ہو سکتے ہیں۔ اس دوران پاکستان مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے کے لیے بات چیت، تعمیری کردار اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا

    نیویارک: افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی:چین بھی اس موقف پرامریکہ کا حامی نکلا ا،طلاعات کے مطابق گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

    امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

    گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

    9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

    افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

    میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

    تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

    سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

    طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

    طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

    گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

    میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

    اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔

  • اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی

    بیجنگ : اولمپکس بائیکاٹ:امریکہ جان بوجھ کردشمنی پال رہا ہے:ایسی حرکتوں سے باز رہے:چین کی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق ایک طرف روس اور امریکہ کے درمیان حالات خراب ہورہے ہیں تو دوسری طرف امریکہ اور چین کے درمیان بھی سفارتی جنگ اس وقت عروج پر ہے ، امریکہ نے چین میں ہونے والے اولمپکس مقابلوں‌ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جس پر چین نے امریکہ کی جانب سے 2022 کے سرمائی اولمپکس کے سفارتی بائیکاٹ کو واشنگٹن کا ’نظریاتی تعصب‘ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ امریکی سفارتی بائیکاٹ اہم شعبوں میں دو طرفہ مذاکرات اور تعاون کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    پیر کو وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ چین کی جانب سے انسانی حقوق کی ’خلاف ورزیوں‘ کی وجہ سے، بیجنگ میں ہونے والے 2022 کے سرمائی اولمپکس کا بائیکاٹ کرے گی۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین ساکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ امریکی کھلاڑی اب بھی کھیلوں میں موجود ہوں گے لیکن کوئی باضابطہ سرکاری وفد نہیں بھیجا جائے گا۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے ردعمل میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین اس سفارتی بائیکاٹ کی خالفت کرتا ہے اور ’مضبوط جوابی اقدامات‘ کرے گا۔

    چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لی جیان نے بیجنگ میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں کہا: ’جھوٹ اور افواہوں پر مبنی، نظریاتی تعصب کی بنیاد پر بیجنگ سرمائی اولمپکس میں مداخلت کرنے کی امریکی کوشش صرف (اس کے) مذموم عزائم کو بے نقاب کرے گی

    انہوں نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ کھیلوں میں سیاست کو لانا بند کرے کیونکہ بائیکاٹ اولمپک اصولوں کے خلاف ہے۔

    امریکہ کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب کئی ماہ سے یہ توقع کی جارہی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ سرمائی اولمپکس کو چین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کے لیے دباؤ کے حربے کے طور پر استعمال کرے گی۔

    حالیہ برسوں میں امریکہ نے کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا ایسا فیصلہ کبھی نہیں کیا۔ اس سے قبل اوباما انتظامیہ نے 2014 میں روس میں ہونے کھیلوں کے دوران اعلیٰ حکام کو نہیں بھیجا تھا لیکن ان کے متبادل وفد بھیجا گیا تھا۔

    ادھر بائیڈن انتظامیہ چینی حکومت کی جانب سے اویغور مسلم اقلیت کے ساتھ برتاؤ پر بڑی نقاد کے طور پر سامنے آئی ہے۔ خاص طور پر سنکیانگ کے علاقے میں جہاں بین الاقوامی حقوق کے گروپوں نے الزام لگایا ہے کہ شہری مسلسل نگرانی میں رہتے ہیں۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے یہ مسئلہ چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی اٹھایا ہے جبکہ وائٹ ہاؤس ترجمان جین ساکی نے پیر کو اس معاملے پر اپنے مختصر بیان کے دوران خاص طور پر سنکیانگ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ خطے میں مبینہ طور پر ہونے والے ’مظالم‘ اور ’نسل کشی‘ نے بائیڈن انتظامیہ کے فیصلے کو ہوا دی۔

    اسی طرح امریکہ اور چین کے مابین تائیوان کے معاملے پر بھی کشیدگی پائی جاتی ہے، جس سے تاثر ملتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات کشیدہ ہیں۔

    دوسری جانب چین میں کھیلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات حالیہ ہفتوں میں چینی ٹینس سٹار پینگ شوائی کے حوالے سے تنازعے کے ساتھ مزید بڑھ گئے ہیں، جنہوں نے حکمران جماعت کے ایک سیاست دان پر جنسی حملے کا الزام عائدکیا تھا اور اس کے بعد سے وہ بظاہر منظر عام سے غائب ہیں، جن کی حفاظت کے حوالے سے سابق اور موجودہ ٹینس سٹارز نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

  • دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملہ:امریکہ واتحادی جوابی حملےکے لیےتیار

    واشنگٹن :دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر:یوکرین پرمتوقع روسی حملے کے لیے امریکہ واتحادی جواب کے لیےتیار،اطلاعات کے مطابق وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا ہے کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو امریکہ مشرقی یورپ میں اپنی فوج کی موجودگی بڑھا دے گا اور روس کو اس کی جانب سے ’شدید اقتصادی نقصان‘ کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یوکرین کے معاملے پر پچھلے 24 گھنٹوں سے صورت حال بڑی ہے اہمیت اختیار کرگئی ہے ، آج بھی وائٹ ہاوس اور پینٹا گان میں بڑی بڑے اہم اجلاس جاری ہیں‌ اس سلسلے میں‌ کل صحافیوں سے ایک پریس کال میں انتظامیہ کے سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے بتایا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ کرتا ہے تو نیٹو کے مشرقی اتحادی اضافی فوجیوں اور صلاحیتوں کی درخواست کریں گے اور امریکہ فراہم کرے گا۔

    یہ بھی یاد رہے کہ یوکرین پر روسی متوقع حملے کے بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس بھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ اگر روس یوکرین سے پیچھے نہیں ہٹتا، اس کی خودمختاری اور آزادی کے لیے خطرہ بنتا ہے تو ہم اور ہمارے اتحادی کارروائی کے لیے تیار ہوں گے۔‘ وائٹ ہاؤس کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آج یعنی منگل کو امریکی صدر جو بائیڈن روسی صدر ولادی میر پوتن کے درمیان ویڈیو کال متوقع ہے۔

    ذرئع کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ صدر بائیڈن صدر پوتن کو اس کال کے دوران خبردار کریں گے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اسے سنگین اقتصادی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب یوکرین کی سرحد پر دسیوں ہزار فوجی جمع ہونے کے بعد امریکہ روس کو یوکرین کے خلاف فوجی کارروائی شروع کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    ادھر اس حوالے سے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ اپنی ورچوئل ملاقات سے قبل بائیڈن نے پیر کو فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ کے رہنماؤں سے بھی بات کی، جس کے بعد مغربی طاقتوں نے اس ’عزم‘ کا اظہار کیا کہ یوکرین کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔

    ایک سینیئر امریکی عہدیدارنے دعویٰ‌کیا ہے کہ امریکی صدر اپنے یوکرینی ہم منصب ولادو میر زیلنسکی کو بھی فوری طور پر پوتن کے ساتھ اپنی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے، جو منگل کو ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہو رہی ہے، کیونکہ دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد کے قریب تعینات ہیں۔ مذکورہ عہدیدار نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کو نہیں معلوم کہ آیا پوتن نے یوکرین کے خلاف اپنی فوجی دستوں کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے یا نہیں، تاہم وہ براہ راست امریکی مداخلت کی دھمکی دینے سے باز رہے۔

    اس امریکی عہدیدار نے بڑے وثوق سے کہا کہ اگر روس نے حملہ کیا تو امریکہ اور یورپی اتحادی سخت ’جوابی معاشی اقدامات‘ کرسکتے ہیں جو روسی معیشت کو اہم اور شدید اقتصادی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ صدر بائیڈن یہ واضح کریں گے کہ اگر پوتن پیش قدمی کرتے ہیں تو مشرقی خطے کے اتحادیوں کی طرف سے اضافی افواج، دفاعی صلاحیتوں اور مشقوں کے لیے موجود درخواست پر امریکہ کی طرف سے مثبت جواب ملے گا۔

    وائٹ ہاؤس نے یورپی رہنماؤں کے ساتھ بائیڈن کی بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ مکمل بات چیت میں روس سے کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ ڈونباس میں تنازع کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔ یوکرین کے مطابق روس کی سرحد کے قریب ایک لاکھ کے قریب فوجی موجود ہیں۔

    دوسری جانب روس کسی بھی جنگی ارادے کی تردید کرتا ہے اور مغرب پر اشتعال انگیزی کا الزام لگاتا ہے، خاص طور پر بحیرہ اسود میں فوجی مشقوں کے ساتھ، جسے وہ اپنے اثر و رسوخ کے ایک حصے کے طور پر دیکھتا ہے۔ پوتن مغرب سے یہ وعدہ چاہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو کا حصہ نہیں بنے گا، جو سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لیے بنایا گیا ٹرانس اٹلانٹک اتحاد ہے۔

    پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ وہ روسی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کو ایک سنگین خطرے کے طور پر لے رہا ہے۔ روس کے صدر کے دفتر نے پیر کو کہا تھا کہ ماسکو بائیڈن- پوتن کال سے کچھ زیادہ توقعات نہیں رکھتا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کے مطابق ہے کہ امریکہ اب بھی سمجھتا ہے کہ روس اور مغرب کے درمیان یوکرین کی روس نواز علیحدگی پسندوں کے ساتھ جنگ ​​بندی پر عمل درآمد سے متعلق منسلک معاہدے ممکن تھے۔

    ترجمان کی طرف سے یہ بھی کہاگیا ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ اس مسئلے کو سفارتی طور پر حل کرنے کے لیے ہمارے سامنے ایک موقع، ایک آپشن موجود ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر روس اس میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتا تو امریکہ ’بھاری اثرات والے اقتصادی اقدامات کو لاگو کرنے کے لیے تیار ہے، جو ہم نے ماضی میں استعمال کرنے سے گریز کیا ہے۔‘

     

     

  • ٹھوس ثبوت ہیں  کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے:امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ

    واشنگٹن :ٹھوس ثبوت ہیں کہ روس یوکرائن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے، امریکی انٹیلیجنس کا دعوی ،اطلاعات کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس یوکرائن پر ممکنہ روسی حملے کے شواہد موجود ہیں۔

    امریکی خفیہ اداروں نے گزشتہ روز روس کی جانب سے یوکرائن کے خلاف فوجی حملے کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا تھا جو آئندہ برس کے اوائل میں ہو سکتا ہے۔

    اس حوالے سے امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ اس آپریشن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ 75 ہزار روسی فوجی شامل ہو سکتے ہیں۔

    واشنگٹن پوسٹ نے امریکی انٹیلیجنس حکام سے جو دستاویزات حاصل کی ہیں اس میں روسی افواج کو چار مقامات پر جمع ہونے اور ٹینکوں کی آمد کے واضح شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ اس دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یوکرائن کی سرحد کے قریب فی الوقت روسی فوجیوں کی تعداد 94 ہزار کے لگ بھگ ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی اور روسی حکام کا کہنا ہے کہ معاملے پر بات کرنے کیلیے امریکی صدر جو بائیڈن اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ملاقات کی کوشش کی جارہی ہے۔

    خارجہ امور کے روسی مشیر یوری اوشاکوف کا کہنا ہے کہ صدر پیوٹن مذاکرات کے دوران روس کی ان “سرخ لکیروں” کا اعادہ کریں گے جس میں بطور ضمانت وہ مطالبات شامل ہیں کہ نیٹو اپنی توسیع میں یوکرائن کو شامل نہیں کرے گا۔

    2014 میں کرائمیا کے الحاق اور یوکرائن کے مشرقی صنعتی علاقے ڈونباس میں علیحدگی پسندوں کی بغاوت کی حمایت کے بعد سے ہی روس اور یوکرائن کے درمیان تنازع چل رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس تنازعے میں اب تک 14 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

     

     

  • روس اور امریکا کے درمیان سفارتی جنگ تیز :امریکا نے روس کے 27 سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا

    روس اور امریکا کے درمیان سفارتی جنگ تیز :امریکا نے روس کے 27 سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا

    واشنگٹن:روس اور امریکا کے درمیان سفارتی جنگ تیز :امریکا نے روس کے 27 سفارت کاروں کو ملک بدر کردیا،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کے 27 سفارت کاروں کے ویزوں میں توسیع سے انکار کرتے ہوئے 30 جنوری تک ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا میں روس کے سفیر اناتولی انتونیوف نے میڈیا کو بتایا کہ 27 روسی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو امریکا سے واپس روس جانے کا کہہ دیا گیا ہے جس کے بعد یہ سفارت اہل خانہ سمیت 30 جنوری چلے جائیں گے۔

    روسی سفیر اناتولی انتونوف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہمارے سفارت کاروں کو نکالا جا رہا ہے جس سے ہمیں عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ میرے ساتھیوں کا ایک بڑا گروپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ 30 جنوری کو ہمیں چھوڑ کر روس واپس چلے جائیں گے۔

    ادھر روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ امریکا میں 29 اکتوبر تک تقریباً 200 روسی سفارت کار اپنے فرائض انجام دے رہے تھے جن میں اقوام متحدہ میں روسی مشن کا عملہ بھی شامل تھا۔

    دوسری جانب امریکی حکومت نے بھی گزشتہ ماہ کہا تھا کہ روس میں 2017 سے اب تک امریکی مشن 1200 سے گھٹ کر 120 تک رہ گیا ہے جس کی بنیادی وجہ بلاجواز بے دخلی اور پابندیاں ہیں۔

    اسی طرح روس نے بھی کہا تھا کہ 2016 سے تاحال 125 سے زائد روسی سفارت کاروں کو خاندانوں سمیت امریکا چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

     

     

     

     

  • نیول چیف کا روس، انڈونیشیا اور سری لنکا کے بحری جہازوں کا دورہ

    نیول چیف کا روس، انڈونیشیا اور سری لنکا کے بحری جہازوں کا دورہ

    امیرالبحر ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کا پاک بحریہ کی مشق امن میں شریک چند ممالک کے بحری جہازوں کا دورہ کیا۔
    نیول چیف نے روس، انڈونیشیا اور سری لنکا کے بحری جہازوں کا دورہ کیا، امیر البحر کی ہر جہاز پر  آمد کے موقع پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ دورے کے دوران امیرالبحر نے مشق میں شریک غیر ملکی جہازوں کے کمانڈنگ افسران اور عملے سے ملاقاتیں کیں، نیول چیف کو مشق میں شریک ممالک کے جہازوں پر خصوصی بریفنگز دی گئیں۔ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے مشق میں شرکت اور باہمی تعاون کے فروغ پر تمام شریک ممالک کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔