Baaghi TV

Tag: روس

  • روس ایران کو  امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے، یوکرینی  صدر

    روس ایران کو امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے، یوکرینی صدر

    یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے-

    صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جولائی کے آغاز سے یوکرینی حکام نے خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر روسی سیٹلائٹس کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے،روس کی جانب سے حاصل کی جانے والی یہ سیٹلائٹ تصاویر بعد ازاں ایران تک پہنچتی ہیں، اور ان تصاویر اور ایرانی حملوں کے درمیان واضح تعلق دیکھا گیا ہے یہ معلومات حملوں سے پہلے اہداف کی تیاری، حملوں کے دوران رہنمائی اور بعد میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں-

    زیلنسکی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ کیسپین میں ایران اور روس کے درمیان عسکری سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں نشانہ بنایا ہے،ان حملوں میں فوجی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کے علاوہ ایک جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کی انٹیلی جنس سروس نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ایسے بحری جہازوں پر ڈرون حملے کیے جو ایران اور روس کے درمیان فوجی سامان منتقل کر رہے تھے۔

    دوسری جانب ایران نے یوکرین کے اس مبینہ حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تہران میں تعینات یوکرینی ناظم الامور کو طلب کیا اور واقعے کو "جارحانہ اور مجرمانہ اقدام” قرار دیا،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یوکرین کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں کبھی فریق بننے کی کوشش نہیں کی۔

    امریکی میڈیا میں بھی گزشتہ چند ہفتوں سے یہ دعوے سامنے آتے رہے ہیں کہ روس ایران کو امریکی فوجی تنصیبات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں چین کا نام بھی اس حوالے سے لیا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • پاکستان اور روس میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور روس میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور روس نے تجارت، توانائی، رابطہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید وسعت دینے، کثیرالجہتی فورمز پر رابطہ کاری مضبوط بنانے اور اعلیٰ سطح کے سفارتی روابط کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منیلا میں 33ویں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے قبل روسی فیڈریشن کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی،ملاقات میں دونوں رہنماؤں نےپاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات سمیت علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور تجارت، توانائی، رابطہ کاری سمیت دیگر اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا،دونوں رہنماؤں نے کثیرالجہتی فورمز پر باہمی تعاون اور رابطہ کاری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔

    اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان اور روس کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے روابط اور مسلسل سفارتی تبادلوں کا تسلسل نہایت اہم ہے،ملاقات میں خطے اور عالمی سطح پر پیش آنے والی اہم پیشرفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر آئندہ بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    یہ ملاقات 33ویں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس کے موقع پر ہوئی، جہاں مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور عالمی چیلنجز سے متعلق امور پر غور کر رہے ہیں۔

  • روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ ،امریکا نے بھارت اور چین کے لیے پابندیاں کم کردیں

    روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ ،امریکا نے بھارت اور چین کے لیے پابندیاں کم کردیں

    امریکی سینیٹرز نے روس کے خلاف پابندیوں کے بل کا نیا مسودہ پیش کر دیا ہے، جس میں روسی تیل اور گیس درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً چین اور بھارت، کے لیے مجوزہ سخت ٹیرف میں نرمی کی گئی ہے۔

    امریکی سینیٹ میں منگل کو روس پر نئی پابندیوں کے بل کا نظرثانی شدہ مسودہ پیش کیا گیا، جسے آنجہانی لنزے گراہم کی اہم کاوش قرار دیا جا رہا ہے بل کے نئے مسودے میں روسی تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے ممالک پر مجوزہ 500 فیصد یکساں ٹیرف کی تجویز نرم کرتے ہوئے دنیا کے پانچ بڑے خریداروں کے لیے زیادہ سے زیادہ 100 فیصد ٹیرف کی حد مقرر کی گئی ہے بل کو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے سینیٹرز کی حمایت حاصل ہے اس کے تحت روسی حکام پر پابندیاں عائد کرنے کے ساتھ ساتھ چین اور بھار ت جیسے ممالک پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کی جائے گی تاکہ وہ روسی توانائی پر اپنا انحصار کم کریں۔

    سینیٹر لنزے گراہم نے اپنی وفات سے ایک روز قبل یوکرین کے دورے کے دوران کہا تھا کہ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کر لیا ہے یہ بل ایک سال سے زائد عرصہ قبل متعارف کرایا گیا تھا سینیٹ کے معاونین کے مطابق اس وقت بل کے 26 سینیٹرز شریکِ سرپرست ہیں اور مزید ارکان کی حمایت بھی متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بل کی منظوری کے امکانات روشن ہیں۔

    نظرثانی شدہ بل اپریل 2025 میں لنزے گراہم اور ڈیموکریٹ سینیٹر رچرڈ بلومینتھل کی جانب سے پیش کیے گئے اصل مسودے سے مختلف ہےنئے مسود ے میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ وہ ممالک جو روس کی قدرتی گیس کی برآمدات کا 15 فیصد سے کم درآمد کرتے ہیں اور اپنی درآمدات کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں، انہیں پابندیوں سے استثنا دیا جا سکے گا۔ اس رعایت سے جاپان، فرانس، ہنگری اور بیلجیئم مستفید ہو سکتے ہیں۔

    سینیٹ کے معاونین کے مطابق روسی خام تیل کے پانچ بڑے خریدار چین، بھارت، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان ہیں، جبکہ روسی قدرتی گیس درآمد کرنے والے بڑے ممالک میں چین، فرانس، جاپان، ہنگری اور بیلجیئم شامل ہیں۔

    بل میں روس کے نام نہاد ”شیڈو فلیٹ“ یعنی ایسے آئل ٹینکروں پر بھی پابندیوں کی تجویز دی گئی ہے جو مغربی بحری خدمات پر انحصار نہیں کرتے۔ اس کے علاوہ روس کے مرکزی بینک، دیگر مالیاتی اداروں اور یامال ایل این جی اور آرکٹک ایل این جی منصوبوں سمیت بڑے سرکاری توانائی منصوبوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا جائے گا۔

    بل میں ایک شق یہ بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر امریکی صدر اسے قومی مفاد میں سمجھیں تو وہ ان پابندیوں کو معطل کرنے کا اختیار رکھیں گےبل کی بعض شقوں میں نرمی سے متعلق سوال پر سینیٹ کے ایک معاون نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرا ت کے بعد ہی اس مسودے پر اتفاق ممکن ہو سکا یہی وہ بل ہے جس پر تمام متعلقہ فریق متفق ہیں اور جس کے منظور ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس بل میں ایران اور حزب اللہ کے خلاف پابندیاں بھی شامل کی جا سکتی ہیں، اور اگر ایسا ہوا تو یہ ایک بڑا قدم ہوگا،صدر ٹرمپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ یہ بل کانگریس سے منظور ہو کر قانون بن جائے گا ان کا کہنا تھا کہ یہ آنجہانی لنزے گراہم کا مشن تھا اور وہ اس بل کی منظوری کے لیے سب سے زیادہ پُرعزم تھے۔

  • ایران پر امریکی حملے، روس نے اپنا ‘ڈومز ڈے کمانڈ سینٹر’ طیارہ تہران بھیج دیا

    ایران پر امریکی حملے، روس نے اپنا ‘ڈومز ڈے کمانڈ سینٹر’ طیارہ تہران بھیج دیا

    امریکا کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے مسلسل حملوں کے بعد روس ایران کی مدد کیلئے میدان میں آ گیا-

    میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس نے اپنا سب سے خاص اور جدید ترین ’ڈومز ڈے‘ فوجی طیارہ، جسے ’ٹی یو-214 پی یو‘ کہا جاتا ہے، ایران کے دارالحکومت تہران بھیج دیا ہےاس طیارے کو اڑتا ہوا کمانڈ سینٹر بھی کہا جاتا ہے، یہ روس کا وہ خاص جہاز ہے جو کسی بھی بڑی جنگ یا ہنگامی صورتحال کے وقت اڑان بھرتا ہے اور اس کے اندر بیٹھ کر روس کے بڑے لیڈر اور فوجی کمانڈر محفوظ طریقے سے پوری جنگ کو چلا سکتے ہیں اور اپنے ملک سے رابطہ رکھ سکتے ہیں۔

    یہ طیارہ ایک ایسے وقت میں تہران پہنچا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان لڑائی حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جون کے مہینے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، لیکن پچھلے ہفتے آبنائے ہرمز کے سمندری راستے میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے بعد یہ جنگ دو بارہ شروع ہو گئی ہے۔

    اس طیارے کو تہران کی جانب بھیجنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ روس اب ایران کے ساتھ جنگی معلومات شیئر کر رہا ہے، اسے سیاسی اور فوجی مشورے دے رہا ہے یا پھر کسی بڑے خطرے سے نمٹنے کے لیے مل کر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور اس طیارے کا ایک مقصد ایران کی اعلیٰ قیادت کو وہاں سے نکالنا بھی ہوسکتا ہے۔

  • روس نے پنجاب سے آلو درآمد کرنے کی منظوری دے دی

    روس نے پنجاب سے آلو درآمد کرنے کی منظوری دے دی

    روس نے پنجاب سے آلو درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے-

    روس نے پاکستان کے صوبہ پنجاب سے آلو کی درآمد پر عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے 101 پاکستانی برآمد کنندگان کو 7 جولائی سے دوبارہ برآمدات کی اجازت دے دی ہے اس فیصلے کو پاکستان کی زرعی برآمدات کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف کسانوں کو فائدہ پہنچے گا بلکہ ملک کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

    نجی‌خبررساں ادارے کےمطابق پاکستان کے تجارتی افسر برائے ماسکو کے مطابق روسی حکام نےپاکستان کے محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کے فراہم کردہ قرنطینہ اور فائیٹو سینیٹری نظام کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا روسی فیڈرل سروس برائے ویٹرنری و فائیٹو سینیٹری نگرانی نے اس فیصلے سے باضا بطہ طور پر پاکستان کی وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔

    خط کے مطابق روس نے پنجاب سے آلو کی درآمد کی اجازت پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ فائیٹو سینیٹری ضمانتوں کی بنیاد پر دی ہے روسی حکام نے پاکستانی برآمد کنندگان کی فہرست اور برآمدی مقدار کا جائزہ لینے کے بعد 101 کمپنیوں کو کلیئر قرار دیا۔

    تاہم روس نے دو پاکستانی برآمد کنندگان کو بدستور برآمدات کی اجازت نہیں دی روسی حکام کا مؤقف ہے کہ ان کمپنیوں نے 2025 کے دوران روس کو آلو برآمد کرتے وقت یوریشین اکنامک یونین کے قرنطینہ اور فائیٹو سینیٹری ضوابط کی خلاف ورزی کی تھی، جس کے باعث انہیں اس رعایت سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

    روسی حکام نے یہ بھی یاد دلایا کہ رواں سال 8 اپریل کو تین پاکستانی برآمد کنندگان کو پہلے ہی محدود پیمانے پر برآمدات کی اجازت دی جا چکی تھی، ان میں چیس انٹرنیشنل، زاہد کنوں گریڈنگ اینڈ ویکسنگ پلانٹ اور نیشنل فروٹ شامل تھےپاکستانی تجارتی مشن نے وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے درخواست کی ہے کہ روسی فیصلے پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ برآمد کنندگان اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

    واضح رہے کہ روس نے مئی 2025 میں پنجاب سے آلو کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ بعض کھیپوں میں پوٹیٹو ٹیوبر موتھ اور ٹماٹو ولٹ وائرس کی موجودگی پائی گئی تھی اس کے بعد پاکستان نے فروری میں روسی حکام کے ساتھ معاملہ اٹھایا اور کیڑوں و بیماریوں سے پاک فصل کے ثبوت، لیبارٹری رپورٹس اور دیگر تکنیکی دستاویزات فراہم کیں، جن کے بعد روس نے پاکستانی فائیٹو سینیٹری نظام پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    ادھر ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (TDAP) اور پاکستان ہارٹیکلچر ڈیولپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (PHDEC) بھی پاکستانی برآمد کنندگان کو روسی منڈی سے فائدہ اٹھانے کے لیے ورچوئل کاروباری ملاقاتوں کا انعقاد کر چکی ہیں۔

    پاکستان میں اس سال آلو کی ریکارڈ پیداوار تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ ٹن رہی ہے، جس میں سے تقریباً 40 لاکھ ٹن اضافی پیداوار برآمد کے لیے دستیاب ہے۔ ماہرین کے مطابق روسی منڈی دوبارہ کھلنے سے اضافی ذخائر کی کھپت ممکن ہوگی، مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں استحکام آئے گا، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور ملکی برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

    یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ طورخم سرحد کی بندش کے بعد پاکستان چین اور ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں کو برآمدات کے لیے راستوں کا جائزہ لے رہا تھا۔ اس سیزن میں پیداوار 12 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ گئی، جس میں سے تقریباً 4 ملین میٹرک ٹن پیداوار وسطی ایشیا اور دیگر مقامات کو برآمد کرنے کے لیے اضافی قرار دی گئی-

  • نیویارک:ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ پر چڑھ کر محبت کا اظہار روسی جوڑے کو مہنگا پڑ گیا

    نیویارک:ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ پر چڑھ کر محبت کا اظہار روسی جوڑے کو مہنگا پڑ گیا

    نوجوان روسی جوڑے نے امریکا کے شہر نیویارک کی سب سے اونچی اور مشہور عمارت ’ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ‘ کی چوٹی پر چڑھ کر دنیا میں امن کا پیغام دیا، پھر وہیں منگنی کر لی، لیکن جیسے ہی یہ جوڑا نیچے پہنچا، نیویارک پولیس نے قانون توڑنے کے جرم میں گرفتار کرلیا-

    امریکی میڈیا کے مطابق انجیلا نیکولاؤ اور وانیا بیرکس نامی روسی جوڑا سیاہ لباس اور چہروں پر نقاب پہن کر 1,454 فٹ بلند ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کی ٹرانسمیشن ٹاور پر چڑھ گیا اور وہاں سے انٹرنیٹ پر اپنی ویڈیو اور تصاویر بھی شیئر کرتا رہا اینٹینا کی چوٹی پر پہنچ کر دونوں نے ایک بڑا سیاہ بینر بھی لہرایا، جس پر لکھا تھا، جب محبت کی طاقت، طاقت کی محبت پر غالب آ جائے گی تو دنیا امن کو جان لے گی، یہ جملہ برطانوی سیاست دان ولیم گلیڈ اسٹون سے منسوب کیا جاتا ہے، اگرچہ اکثر لوگ اسے موسیقار جمی ہینڈرکس کا قول سمجھتے ہیں۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے آبزرویشن ڈیک پر بڑی تعداد میں سیاح موجود تھے لوگوں نے حیرت سے دیکھا کہ دونوں سینکڑوں فٹ کی بلندی پر اینٹینا کے گرد گھوم رہے ہیں،بینر لہرانے کے بعد دونوں نیچے ایک پلیٹ فارم پر پہنچے جہاں وانیا بیرکس نے فلمی انداز میں گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انجیلا نیکولاؤ کو شادی کی پیشکش کی انجیلا نے خوشی سے یہ پیشکش قبول کر لی اور منگنی کی خوشی میں انجیلا نے اپنا چہرہ بھی ظاہر کیا۔

    واقعے کے بعد نیویارک پولیس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر آبزرویشن ڈیک خالی کرا لیا جبکہ عمارت کے اطراف کی چند سڑکیں بھی عارضی طور پر بند کر دی گئیں پولیس کا ہیلی کاپٹر بھی فضامیں نگرانی کرتا رہا،نیویارک پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کو کسی مزاحمت کے بغیر حراست میں لیا گیا اور ان پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حکام نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ممنوعہ حصے تک کیسے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

    ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ کے ترجمان نے اس واقعے کو ”غیر مجاز کارروائی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمارت پر شادی کی پیشکش کے لیے پہلے ہی ایک باقاعدہ پیکیج موجود ہے، جس کے تحت جوڑے محفوظ طریقے سے یہ یادگار لمحہ منا سکتے ہیں،سابق انجینئر جان کلیری نے خبردار کیا کہ اس ٹاور پر بغیر تربیت چڑھنا انتہائی خطرناک ہے کیونکہ وہاں براہ راست ٹی وی اور ریڈیو نشریات کے آلات نصب ہیں اور بجلی کی طاقتور لہریں موجود ہوتی ہیں اس ٹاور پر کام کرنے والے تکنیکی ماہرین خصوصی تربیت حاصل کرتے ہیں کیونکہ اتنی بلندی پر معمولی غلطی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جبکہ دونوں کو اینٹینا پر چڑھتے وقت حفاظتی بیلٹ پہنے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

    دوسری جانب انجیلا نیکولاؤ کے والد دیمتری نیکولاؤ نے کہا کہ میرے خیال میں کسی بھی ملک، حتیٰ کہ امریکہا میں بھی چھت پر چڑھنا ایک معمول کی بات ہے،جب ان سےپوچھا گیا کہ آپ کو بیٹی کی فکر نہیں ہوئی؟ تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ مجھے کیوں فکر ہو؟ میں خود سرکس کا کھلاڑی ہوں اور چھتوں پر چڑھتا رہتا ہوں، یہ تو ایک عام سی بات ہے ۔

    یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کوئی شخص ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ پر چڑھا ہو 2023 میں اداکار اور گلوکار جیرڈ لیٹو نے اپنی موسیقی کی تشہیر کے لیے اسی عمارت پر چڑھائی کی تھی، تاہم انہیں اس کی باقاعدہ اجازت حاصل تھی اور تمام حفاظتی انتظامات کیے گئے تھےاس سے قبل 1994 میں فرانسیسی کوہ پیما ایلین رابرٹ، جنہیں ”فرینچ اسپائیڈر مین“ بھی کہا جاتا ہے، بھی اس عمارت پر چڑھے تھے، تاہم بعد میں انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔

  • یوکرینی حملوں سے پیٹرول بحران،روس بھارت سے تیل خریدنے لگا

    یوکرینی حملوں سے پیٹرول بحران،روس بھارت سے تیل خریدنے لگا

    روس نے پیٹرول بحران کو دور کرنے کے لیے سمندری راستے کے ذریعے بھارت سے پیٹرول منگوانا شروع کر دیا ہے۔

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، تیل کی صنعت سے وابستہ دو ذرائع نے بتایا کہ یہ قدم یوکرین کی جانب سے روس کے بجلی اور توانائی کے نظام پر کیے جانے والے حملوں کے بعد اٹھایا گیا ہے، جس کی وجہ سے روس کے کارخانوں کو نقصان پہنچا ہےاس وقت روس کے تمام علاقوں میں پیٹرول کی شدید کمی محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث پیٹرول پمپس پر لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، لوگوں کو ناپ تول کر محدود پیٹرول دیا جا رہا ہے اور ملک میں پیٹرول کی قیمتیں ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہیں۔

    اس صورتحال پر روس کے صدارتی محل کریملن نے بھی تصدیق کی ہے کہ روس دوسرے ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے اور مناسب قیمتوں پر پیٹرول منگوانے کے لیے بات چیت کر رہا ہے،روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی وزراء اور سرکاری حکام کے ساتھ ایک ملاقات میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ یوکرین کے ڈرون حملوں کی وجہ سے کچھ علاقوں میں پیٹرول کی کمی ہوئی ہے، لیکن روس اس مسئلے کو حل کر رہا ہے۔

    تیل کی صنعت سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق اب تک بھارت سے کم از کم 60 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول روس کے لیے روانہ کیا جا چکا ہے، جبکہ ایک اور ذریعے نے بتایا کہ 30 سے 40 ہزار ٹن پیٹرول سے لدے دو بڑے بحری جہاز روس بھیجے گئے ہیں ایک اور ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ روس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہر مہینے مختلف ممالک سے کل چار لاکھ ٹن پیٹرول منگوانے کا ارادہ رکھتا ہے، جس میں اس کا پڑوسی ملک بیلاروس بھی شامل ہے جو پہلے ہی روس کو پیٹرول بھیج رہا ہے گرمیوں کے موسم میں جب پیٹرول کی مانگ بہت زیادہ ہوتی ہے، تو روس میں روزانہ کم از کم ایک لاکھ دس ہزار ٹن پیٹرول استعمال ہوتا ہے۔

    ایک طرف روس بھارت سے بنا بنایا پیٹرول خرید رہا ہے، تو دوسری طرف بھارت بھی روس سے ریکارڈ مقدار میں خام تیل منگوا رہا ہے جون کے مہینے میں بھارت نے روس سے روزانہ 27 لاکھ بیرل خام تیل خریدا، جو بھارت کی کل ضرورت کا آدھے سے زیادہ بنتا ہے بھارت نے یہ قدم آبنائے ہرمز کا سمندری راستہ بند ہونے کی وجہ سے دوسرے ممالک سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد اٹھایا ہے۔

  • یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    یوکرینی دارالحکومت پر روس کےحملے،8 افراد ہلاک متعدد زخمی

    روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر رات بھر ڈرونز اور میزائلوں سے شدید حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک اور 34 زخمی ہوگئے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق روسی افواج نے جمعرات کی شب یوکرین کے دارالحکومت کیف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملہ کیا، جس میں ڈرونز اور میزائلوں کے ذریعے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ حملوں میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شہر بھر میں تقریباً 3 درجن مقامات کو نقصان پہنچا، انہوں نے متاثرہ علاقوں کی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

    دوسری جانب کیف کے میئر ویتالی کلچکو نے بتایا کہ حملوں میں 34 افراد زخمی ہوئے، جن میں ایمبولینس اسٹیشن کے طبی عملے اور ڈرائیور بھی شامل ہیں ایک رہائشی عمارت کی پہلی سے چھٹی منزل تک کا حصہ براہِ راست میزائل حملے کے باعث منہدم ہوگیا، جبکہ کئی افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

    عینی شاہدین کے مطابق شہر میں متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، وسطی شیوچینکو بلیوارڈ پر واقع ایک ہوٹل کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ کئی علاقوں میں عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئیں حملوں کے دوران فضائی خطرے کے سائرن بجنے پر شہری بچوں، ضروری سامان اور اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ زیرِ زمین میٹرو اسٹیشنوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ یہ حملہ جون کے وسط کے بعد یوکرین پر روس کا سب سے بڑا فضائی حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے حملوں کے خدشے کے پیش نظر آئرلینڈ کا اپنا دورہ مختصر کر دیا۔ وہ یورپی یونین کی گردشی صدارت کے سلسلے میں ڈبلن گئے ہوئے تھے، یوکرین کی امریکا میں سفیر اولہا اسٹیفانیشینا نے حملے کو ”کیف کے شہریوں کے لیے ایک اور ہولناک رات“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو پوری رات پناہ گاہوں میں گزارنا پڑی۔

    دریں اثنا روس کے شمال مغربی لینن گراڈ ریجن کے گورنر الیگزینڈر دروزدینکو نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فضائی دفاعی نظام نے سات یوکرینی ڈرونز مار گرائے دوسری جانب روس کے سرحدی علاقے بیلگورود میں یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ اس کی اہلیہ زخمی ہوگئیں۔

  • روس کا اسٹارلنک کے مقابلے میں ’راسویٹ‘ سیٹلائٹ نیٹ ورک کی توسیع کا منصوبہ

    روس کا اسٹارلنک کے مقابلے میں ’راسویٹ‘ سیٹلائٹ نیٹ ورک کی توسیع کا منصوبہ

    ایلون مسک کے سیٹلائٹ اسپیس ایکس (SpaceX) کے اسٹارلنک کا مقابلہ کرنے کے لیے روس نے ’راسویت‘ (Rassvet) کے نام سے اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے کو نجی کمپنی ‘بیورو 1440’ (Bureau 1440) اور روسی خلائی ایجنسی کی مدد سے تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، منصوبے کا مقصد ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانا اور دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ راسویٹ بعض شعبوں میں اسٹارلنک سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے یہ منصوبہ نجی روسی خلائی کمپنی بیورو 1440 تیار کر رہی ہے، جس نے 2023 میں آزمائشی سیٹلائٹس بھیجے تھے جبکہ رواں سال تجارتی بنیادوں پر سیٹلائٹس کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    روسی حکومت کے مطابق 2026 کے اختتام تک 156 راسویٹ سیٹلائٹس مدار میں موجود ہوں گے، جبکہ 2035 تک ان کی تعداد بڑھا کر قریباً 900 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس منصوبے پر مجموعی طور پر قریباً 7 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے،راسویٹ سیٹلائٹس قریباً 800 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں کام کریں گے اور 5جی ٹیکنالوجی، لیزر کمیونیکیشن اور ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ تک ڈیٹا کی رفتار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    روسی حکام کے مطابق یہ نظام آرکٹک، سائبیریا اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدما ت بہتر بنانے میں مدد دے گا، راسویٹ نیٹ ورک شہری استعمال کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے سیٹلائٹ کنٹرول، فوجی مواصلات اور اہم سرکاری انفراسٹرکچر کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ روس کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ مغربی سیٹلائٹ نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے اور ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے-

  • پاکستان اور افغانستان متنازع امور کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں،روس

    پاکستان اور افغانستان متنازع امور کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں،روس

    روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پر ردعمل دیتے ہوئے دونوں ممالک سے معاملہ سفارتی طریقے سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے روس نے دونوں ہمسایہ ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان مسلح تصادم کا خاتمہ کریں پاکستان اور افغانستان متنازع امور کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کریں، ماسکو چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی قسم کے فوجی تصادم سے اجتناب کریں اور باہمی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہے۔

    واضح رہے کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے افغانستان سے آنے والے 4 ڈرونز کو کامیابی سے مار گرایا ہے،پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان حکومت نے 30 جون کو بلوچستان کی سرحد کی جانب چار ڈرونز بھیجے، تاہم پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے بروقت ان کی نشاندہی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا-