Baaghi TV

Tag: روس

  • یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس

    یو اے ای کی علیحدگی کے باوجود اوپیک پلس متحد رہے گا،روس

    روس نے کہا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک کا اتحاد اوپیک پلس متحد رہے گا-

    روسی خبر رساں اداروں کے مطابق روس کے نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ یو اے ای کے اخراج کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کسی پرائس وار کا امکان نہیں کیونکہ اس وقت مارکیٹ میں پہلے ہی سپلائی کی کمی موجود ہے۔

    الیگزینڈر نوواک نے انٹرفیکس خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں قیمتوں کی جنگ کی بات نہیں کی جا سکتی کیونکہ مارکیٹ میں پہلے ہی تیل کی قلت موجود ہے اس وقت صنعت ایک گہرے بحران سے گزر رہی ہے بڑی مقدار میں تیل مارکیٹ تک نہیں پہنچ رہا جبکہ طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث شدید عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی کشیدگی اور لاجسٹک رکاوٹیں ہیں، روس 2016 میں قائم ہونے والے اوپیک پلس اتحاد کا حصہ بنا رہے گا اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

    واضح رہے کہ منگل کے روز متحدہ عرب امارات نے اوپیک سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جسے توانائی کی عالمی منڈی کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سپلائی بحران شدت اختیار کر چکا ہے-

  • ٹرمپ نے  ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنےکی روسی پیشکش مسترد کردی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو سنبھالنے اور اسے روس منتقل کرنے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    پیوٹن نے ایران کے ساتھ جوہری تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ تجویز دی تھی، لیکن ٹرمپ نے اسے ٹھکرا دیا اور پیوٹن پر زور دیا کہ وہ اس کے بجائے یوکرین میں جنگ ختم کرنے پر توجہ دیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیوٹن سے کہا: "میں چاہوں گا کہ آپ یوکرین میں جنگ ختم کرنے میں شامل ہوں، میرے لیے، یہ زیادہ اہم ہو گا”۔

    پیوٹن نے ایران کے 60 فیصد تک افزودہ یورینیم (جسے ٹرمپ اکثر "گرد” یا ‘dust’ کہتے ہیں) کے ذخیرے کو روس منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ جوہری بحران کو کم کیا جا سکے۔

    ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کی ترجیح یوکرین کے تنازع کا خاتمہ ہے، نہ کہ ایران کے جوہری مواد کے انتظامات میں روس کی مدد لینا، یہ پیشکش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب ایران نے 2018ء میں امریکا کے جوہری معاہدے سے نکلنے کے بعد 11 ٹن سے زائد افزودہ یورینیم جمع کر لیا ہے اور 2025ء کے آخر میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔

    یہ بات چیت میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران سامنے آئی۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور یوکرین کے تنازع پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ کال تقریباً 90 منٹ سے زائد جاری رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو دو ٹوک اور پیشہ ورانہ نوعیت کی تھی۔ اس گفتگو کے دوران صدور نے خاص طور پر ایران کی صورتحال اور خلیج فارس کے معاملات پر توجہ مرکوز کی۔

    یوری اوشاکوف کے مطابق ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف کی پیوٹن کا ماننا ہے اس فیصلے سے مذاکرات کو ایک موقع ملے گا اور مجموعی طور پر خطے کی صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    تاہم پیوٹن نے اس خطرے سے بھی آگاہ کیا کہ اگر امریکا اور اسرائیل نے دوبارہ فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا تو اس کے نتائج نہ صرف ایران اور اس کے پڑوسیوں بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے انتہائی تباہ کن ہوں گےانہوں نے واضح کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ہر ممکن سفارتی مدد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور یہ رابطہ ماسکو کی پہل پر کیا گیا تھا۔

    دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی جنگ پر بھی تبادلہ خیال کیا جو سن 2022 میں روسی حملے کے بعد اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکی ہےاوشاکوف نے بتایا کہ ٹرمپ کی درخواست پر ولادیمیر پیوٹن نے فرنٹ لائن کی تازہ صورتحال بیان کی جہاں ان کے بقول روسی افواج اسٹریٹجک برتری حاصل کیے ہوئے ہیں اور دشمن کو پیچھے دھکیل رہی ہیں۔

    یوری اوشاکوف کا کہنا تھا کہ ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے زیلنسکی کی قیادت میں کیف حکومت کے رویے کے بارے میں تقریباً ایک جیسی رائے کا اظہار کیا، جس کے مطابق یورپی ممالک کی حمایت سے اس تنازع کو طول دینے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔

    یوکرین میں جاری اس جنگ نے اب تک ہزاروں شہریوں کی جانیں لے لی ہیں اور لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہےگفتگو کے دوران پیوٹن نے ’یومِ فتح‘ کی تقریبات کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کرنے پر آمادگی ظاہر کی، جس کی ٹرمپ نے فعال طور پر حمایت کی۔

    ٹرمپ نے اس بات کو نوٹ کیا کہ یہ دن دونوں ممالک کی مشترکہ فتح کی علامت ہے۔ روس ہر سال 9 مئی کو دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی فتح کی یاد میں یومِ فتح مناتا ہے، تاہم یوکرین کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرے کے پیشِ نظر اس بار ماسکو میں ہونے والی فوجی پریڈ کو محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روس کی 9 مئی کے دن یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے دن یوکرین کے ساتھ جنگ بند کرنے کی پیشکش کی ہے۔

    روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے 9 مئی کے موقع پر یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش کی ہے جسے سفارتی حلقوں میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے 9 مئی کو روس نازی جرمنی پر سوویت یونین کی فتح کا دن مناتا ہے-

    فرانسیسی خبر ایجنسی نے روسی صدر کے سفارتی مشیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیوٹن نے یومِ فتح کی تقریبات کے دوران لڑائی روکنے پر آمادگی ظاہر کی تاکہ اس دن کو پرسکون ماحول میں منایا جا سکے،صدر ٹرمپ سے بات چیت کے دوران پیوٹن نے کہا کہ وہ اس بات پر تیار ہیں کہ روسی یوم فتح کی تقریبات کے دوران جنگ بندی رکھی جائے،امریکی صدر نے پیوٹن کی اس تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ نازی جرمنی پر فتح کا دن ہماری مشترکہ فتح کا دن ہے۔

    تاہم اس ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے یوکرین کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو روس میں یوم فتح بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے جو دوسری جنگ عظیم میں نازی جرمنی کے خلاف سوویت یونین کی کامیابی کی یاد دلاتا ہے۔

  • چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل ایٹمی پاور پلانٹ کو شدید نقصان،حکام نے عالمی برادری کو خبردار کردیا

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے

    دنیا کے بدترین ایٹمی حادثے کو 4 دہائیاں گزرنے کے باوجود چرنوبل نیوکلئیر پاور پلانٹ ایک بار پھر عالمی خطرے کا مرکز بن گیا ہے یوکرین پر روسی حملے اور حالیہ ڈرون حملوں نے اس حساس مقام کی حفاظت پر مامور ‘نیو سیف کنفائنمنٹ’ نامی دیوہیکل حفاظتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے تابکاری کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

    فروری 2025 میں ایک روسی ڈرون نے اس ڈھانچے کی چھت کو نشانہ بنایا، جس سے 15 مربع میٹر کا سوراخ ہو گیا، یہ ڈھانچہ، جو ڈھائی ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیا گیا تھا، سنہ 1986 کے دھماکے سے تباہ ہونے والے ری ایکٹر نمبر 4 کے گرد بنائے گئے عارضی کنکریٹ کے تابوت (سارکوفیگس) کو ڈھانپنے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    پلانٹ کے ڈائریکٹر جنرل سرہی تاراکانوف کے مطابق، اس حملے سے ڈھانچے کے اندر نمی کنٹرول کرنے والا نظام تباہ ہوگیا ہے، جو اسٹیل کے اس ڈھا نچے کو زنگ سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے اگر یہ ڈھانچہ کمزور ہو کر گرتا ہے، تو اس کے اندر موجود 180 ٹن سے زائد ایٹمی ایندھن اور تابکار گرد فضا میں شا مل ہوسکتی ہے، جو ایک بار پھر عالمی تباہی کا سبب بنے گی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے4 سالوں میں اس کی مکمل مرمت ضروری ہے، بصورتِ دیگر اس ڈھانچے کی 100 سالہ زندگی کی ضمانت نہیں دی جاسکے گی اس مرمت کے لیے تقریباً 50 کروڑ یورو درکار ہیں، جو جنگ زدہ یوکرین کے لیے ایک بھاری بوجھ ہےمرمت کا کام انتہائی خطرناک ہے کیونکہ متاثرہ مقام پر تابکاری کی سطح اتنی بلند ہے کہ ایک مزدور سال بھر میں وہاں صرف چند گھنٹے ہی کام کرسکتا ہے اس پیچیدہ کام کے لیے 100 سے زیادہ ماہر تعمیراتی عملے کی ضرورت ہے جو مختصر دورانیے کے لیے باری باری کام کرسکیں،روسی افواج نے 2022 کے حملے کے آغاز میں ہی اس مقام پر قبضہ کر لیا تھا اور وہاں خندقیں کھودیں، جس سے تابکار مٹی فضا میں بکھرنے کا خطرہ پیدا ہوا۔

    اگرچہ بعد ازاں روسی فوج وہاں سے نکل گئی، لیکن اب بھی روسی میزائل اور ڈرون اس علاقے کے قریب سے گزرتے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثاتی یا دانستہ طور پر پلانٹ کو نشانہ بنا سکتے ہیں،اکتوبر 2024 سے اب تک بجلی کے گرڈ پر حملوں کی وجہ سے پلانٹ 4 بار مکمل بلیک آؤٹ کا شکار ہوچکا ہے، جس کے دوران ایٹمی فضلے کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہنگامی ڈیزل جنریٹرز کا سہارا لینا پڑا۔

    چرنوبل کی تباہی کی 40 ویں برسی پر حکام نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے اور جنگ کے اثرات سے اس مقام کو محفوظ نہ بنایا گیا، تو دنیا کو ایک بار پھر 1986 جیسی ہولناک تابکاری کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ان کا کہنا ہے کہ خطرہ ٹلا نہیں ہے بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

  • روس اور چین کا مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ

    روس اور چین کا مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ

    روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف 2 روزہ سرکاری دورے پر منگل کو چین پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کیے۔

    روس اور چین نے مغربی دباؤ کے مقابلے میں اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے عالمی و علاقائی امور پر قریبی تعاون جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے مغرب پر بیجنگ اور ماسکو کو محدود کرنے کی کوششوں کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

    ماسکو کے مطابق ان مذاکرات میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، یوکرین بحران سمیت متعدد اہم عالمی و علاقائی امور پر بات چیت کی گئی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO)، جی 20 اور ایپیک جیسے عالمی فورمز میں مشترکہ تعاون کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔

    ملاقات کے ابتدائی مرحلے میں دونوں وزرائے خارجہ نے کہا کہ حالیہ عرصے میں عالمی نظام کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔ سرگئی لاروف نے کہا کہ لاطینی امریکا، وینزویلا اور مشرقِ وسطیٰ میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ موجودہ بحرانوں کی بڑی وجہ مغربی ممالک کی پالیسیاں ہیں۔

    انہوں نے یوکرین جنگ کو ’مصنوعی طور پر پیدا کردہ تنازع‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مغرب کا مقصد روس کو اسٹریٹجک طور پر کمزور کرنا ہے یورپی ممالک اس تنازع کو استعمال کرتے ہوئے یوریشیا کے مغربی حصے میں ایک نیا جارحانہ اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں یوریشیا کے مشرقی حصے میں بھی تائیوان، جنوبی بحیرۂ چین اور جزیرہ نما کوریا کے گرد ’خطرناک کھیل‘ کھیلے جا رہے ہیں، جن کا مقصد چین اور روس کو محدود کرنا ہے۔

    چین نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی پر امریکی پابندیوں کو ’خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ اقدام‘ قرار دیا ہے، جس سے خطے میں پہلے سے موجود نازک جنگ بندی متاثر ہو سکتی ہے،چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی کا احترام کریں، مذاکرات کو آگے بڑھائیں اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جلد بحال کی جائے۔

    روسی اور چینی وزرائے خارجہ نے 2026 کے لیے باہمی سفارتی رابطوں کا روڈ میپ بھی طے کیا، جسے روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ممکنہ دورۂ چین کی تیاری کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے لاوروف نے عندیہ دیا کہ رواں سال دونوں ممالک کی قیادت کے درمیان مزید ملاقاتوں کے مواقع موجود ہیں اور ان ملاقاتوں کی تفصیلات پر بات چیت جاری ہے۔

  • بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں،روس

    روسی وزارت خارجہ نے کہا ہےکہ عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔

    روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ خلیج فارس کے خطے میں پیچیدہ بحران کے حل کا ایک اہم موقع پیدا ہو رہا ہے، بیشتر ممالک ان مذاکرات کی کامیابی کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں اور اس سے امن کی راہ ہموار ہونے کی امید رکھتے ہیں۔

    تاہم روس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بعض قوتیں دانستہ یا غیر دانستہ طور پر قیام امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں بیان میں ان عناصر پر تنقید کی گئی جو ایران کے خلاف کارروائیوں کے بعد اب آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل کا ذمہ بھی ایران پر ڈال رہے ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ کے مطابق واقعات کی اصل ترتیب کو مسخ نہیں کیا جانا چاہیے اور یہ حقیقت مدنظر رکھنی چاہیے کہ 28 فروری تک آبنائے ہرمز ایک اہم عالمی گزرگاہ کے طور پر بلا تعطل فعال رہی اس وقت سب سے اہم ہدف خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کا خاتمہ ہے، جس کے اثرات خلیجی ممالک ، لبنان اور اسرائیل-لبنان سرحدی علاقوں تک پھیل چکے ہیں، جہاں فوجی سرگرمیاں فوری طور پر بند ہونا ضروری ہیں۔

    روس نے زور دیا کہ تمام تنازعات کو سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور اس سلسلے میں وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے روسی وزارت خارجہ نے اسلام آباد مذاکرات کے شرکا پر زور دیا کہ وہ ذمہ دارانہ طرز عمل اختیار کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جو اس اہم سفارتی موقع کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔

    روس نے خلیج فارس کے لیے ایک جامع سیکیورٹی ڈھانچے کی اپنی دیرینہ تجویز کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام ساحلی ممالک، بشمول عرب ریاستوں اور ایران کے درمیان مکالمہ اور بیرونی شراکت داروں کی تعمیری شمولیت ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

  • امریکا  ایران کو الٹی میٹم دینا بند کرے،روس

    امریکا ایران کو الٹی میٹم دینا بند کرے،روس

    روس نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو الٹی میٹم دینا بند کرے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے یہ اہم بیان وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کی ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے ساتھ ہونے والی تفصیلی گفتگو کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

    بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس سنگین بحران کے سیاسی اور سفارتی حل کے امکانات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنے پر بات پر زور دیا ہے روس مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا اور پائیدار استحکام کے مفاد میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے خطے میں امن کے اس عمل کو اسی صورت میں تقویت مل سکتی ہے جب امریکا دھمکیوں اور الٹی میٹم کی زبان ترک کر کے صورتِ حال کو سفارت کاری اور مذاکرات کی جانب واپس لائے۔

    ایران کے اسرائیلی شہر حیفہ پر شدید فضائی حملے

    دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں روس کے نمائندے میخائل اولیانوف نے اس معاملے پر ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ امریکا سمجھ نہیں پارہا ہے کہ ایران الٹی میٹم قبول نہیں کرتا بلکہ معاہدوں اور معقول سمجھوتوں کو قبول کرتا ہے-

    روسی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق روس نے امید ظاہر کی کہ ایران کے حوالے سے کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک کی جانب سے کی جانے والی کوششیں کامیاب ہوں گی امریکا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ شہری تنصیبات پاورپلانٹس خصوصاً بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر پر حملے بند کرے جہاں روسی ماہرین خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    ایپسٹن نے خود کو ٹرمپ کا خاص بندہ بتاتے ہوئے امبانی کی دفاعی اور سفارتی معاملات پر رہنمائی کی،امریکی میڈیا

  • روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی

    روس نے دنیا بھر کو پیٹرول کی فراہمی بند کردی

    یکم اپریل سے 31 جولائی تک پیٹرول کی برآمدات پر پابندی عائد کردی ہے،اس اقدام کا مقصد ملکی سپلائی کو برقرار رکھنا اور قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی نائب وزیر اعظم الیگزینڈر نوواک نے وزارت توانائی کو پیٹرول برآمدات پر پابندی کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کردی ہے نوو اک نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ نے تیل اور پیٹرولیم کی عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کو بڑھا دیا ہے اس کی وجہ سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا ہے۔ روس روزانہ 120,000 سے 170,000 بیرل پیٹرول برآمد کرتا ہے۔

    اس فیصلے سے چین، ترکی، برازیل، افریقی ممالک اور سنگاپور کے زیادہ متاثر ہونے کا امکان ہے یہ ممالک روسی پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریدار ہیں، ہندوستان پر اس کا اثر کم سے کم ہوگا کیونکہ وہ ریفائنڈ پیٹرول کے بجائے خام تیل درآمد کرتا ہے۔

    نائب وزیر اعظم نوواک نے اجلاس کے دوران بتایا کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں تیل کمپنیو ں نے توثیق کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ دستیاب ہے اور یہ کہ ریفائنریز پوری صلاحیت پر یا اس سے بھی زیادہ کام کر رہی ہیں، اس طرح موجودہ طلب کو پورا کیا جا رہا ہے۔

  • روس نے یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز  داغ دیئے

    روس نے یوکرین پر قریباً ایک ہزار ڈرونز داغ دیئے

    روس نے یوکرین پر گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران قریباً ایک ہزار ڈرونز سے بڑا حملہ کیا ہے، جسے حالیہ مہینوں کی سب سے بڑی کارروائیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 40 افراد زخمی ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد افراد ہلاک ہوئے، حملوں میں ایوانو فرانکیوسک اور لیفیو سمیت مختلف شہروں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں رہائشی عمارتیں، شہری مراکز اور ایک زچگی اسپتال بھی متاثر ہوئے ایک تاریخی عباد ت گاہ کو بھی جزوی طور پر نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    یوکرینی فضائیہ کے مطابق بڑی تعداد میں بغیر پائلٹ طیاروں کو مار گرایا گیا یا ناکارہ بنایا گیا، تاہم کئی مقامات پر حملوں کے باعث جانی اور مالی نقصان ہوا، دو سری جانب روسی علاقے کورسک میں بھی جوابی کارروائیوں میں ایک شخص ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، یوکرینی قیادت کا کہناہےکہ اس بڑے حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس جنگ کے خاتمے میں سنجیدہ نہیں۔

  • اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج کا روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ

    اسرائیلی فوج نے بحیرۂ کیسپین میں روس ایران ہتھیاروں کی سپلائی لائن پر حملہ کردیا۔

    وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی افواج نے بحیرۂ کیسپین میں ایک ایرانی بحری تنصیب کو نشانہ بنایا، جہاں مبینہ طور پر روس اور ایران کے درمیان ڈرونز، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان کی ترسیل کے لیے ایک سپلائی کوریڈور استعمال کیا جا رہا تھا یہ کارروائی گزشتہ ہفتے کی گئی اور اسے بحیرۂ کیسپین میں اسرائیل کی پہلی معروف کارروائی قرار دیا جا رہا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی اندرونی آبی گزرگاہ ہے یہ سمندر روس اور ایران کے ان بندر گاہوں کو جوڑتا ہے جو تقریباً 600 میل کے فاصلے پر واقع ہیں،جس سے ممالک کو گندم اور تیل جیسے سامان کے ساتھ ہتھیاروں کو آزادانہ طور پر تبدیل کرنے کا موقع ملتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ راستہ جنگ کے دوران اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کی ترسیل کے لیے، جو دونوں ممالک میں تیار کیے جا رہے ہیں روس ان ڈرونز کو یوکرین کے شہروں پر حملوں میں استعمال کر رہا ہے، جبکہ ایران نے انہیں خلیجی خطے میں تنصیبات اور اہداف کے خلاف استعمال کیا ہے، روس اور ایران کے درمیان تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، جہاں روس مبینہ طور پر سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون ٹیکنالوجی میں بہتری فراہم کر رہا ہے تاکہ اہداف کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکے۔

    اسرائیلی حکام کے مطابق حملے میں بندرگاہ بندر انزلی میں موجود متعدد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں جنگی بحری جہاز، بندرگاہی انفراسٹرکچر، ایک کمانڈ سینٹر اور مرمت کا شپ یارڈ شامل ہیں بندرگاہ پر موجود ایرانی بحری ہیڈکوارٹر کو نقصان پہنچا ہے اور کچھ بحری جہاز تباہ ہوئے ہیں، تاہم مجموعی نقصان کا مکمل اندازہ ابھی سامنے نہیں آ سکا۔

    سابق اسرائیلی بحری کمانڈر ایلیزر ماروم کے مطابق اس کارروائی کا مقصد روسی ہتھیاروں کی ترسیل کو محدود کرنا اور ایران کو یہ پیغام دینا تھا کہ بحیرۂ کیسپین میں اس کی بحری دفاعی صلاحیتیں محدود ہیں۔