Baaghi TV

Tag: روس

  • رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کیلئے روسی ایوارڈز

    رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کیلئے روسی ایوارڈز

    ماسکو:روس نے نیم خودمختار مسلم اکثریتی آبادی والی ریاست چیچنیا کے سربراہ رمضان قادریوف کی اہلیہ سمیت 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کو سوویت یونین دور کا اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ ایوارڈز دینا شروع کر دیے۔دنیا میں جہاں بہت سے ممالک بڑھتی آبادی سے پریشان ہیں وہیں روس نے ملک کی آبادی بڑھانے کیلئے ایک دلچسپ اقدام اٹھایا۔

    روس کی آبادی میں مسلسل کمی کے باعث صدر پیوٹن نے رواں سال اگست میں 10 یا اس سے زائد بچے جنم دینے والی روسی خواتین کو سوویت یونین دور کے اعزازی خطاب ’مدر ہیروئن‘ اور 16 ہزار ڈالرز سے زائد ( 35 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد رقم) انعام میں دینے کا اعلان کیا تھا۔

    مدر ہیروئن کا اعزازی خطاب 1944 میں شروع کیا گیا تھا جو ان روسی خواتین کو دیا جاتا تھا جن کے بچے زیادہ ہوتے تھے اور وہ ان سب کی اچھی پرروش کرتی تھیں، تاہم 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے پر اسے ختم کردیا گیا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق روسی صدر کی جانب سے یہ اسکیم کورونا وبا کے دوران بچوں کی پیدائش کی شرح میں غیر معمولی کمی اور یوکرین جنگ میں ہزاروں روسی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی تھی۔تاہم 3 دہائیوں کے بعد اب پہلی بار روس نے یہ تاریخی ایوارڈ ر مضان قادریوف کی اہلیہ سمیت دیگر کو دے دیے ہیں۔

    رمضان قادروف اس وقت چیچن ریپبلک کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور انہوں نے اپنے بیٹوں کو پیوٹن کی یوکرین جنگ کے لیے فرنٹ لائن پر بھیجنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔روس کا 10 یا زائد بچوں کو جنم دینے والی خواتین کیلئے میڈل اور لاکھوں روپے انعام کا اعلان

    رپورٹس کے مطابق مدر ہیروئن کا ایوارڈ لینے کے کیلئے خواتین کو کچھ شرائط پوری کرنا ہیں جن میں تمام 10 بچوں کا زندہ ہونا ضروری ہے۔اس کے علاوہ یہ رقم اس وقت ادا کی جاتی ہے جب خاتون کا دسواں بچہ ایک سال کا ہوجاتا ہے جبکہ ان تمام بچوں کی بہتر پرورش کرنا بھی ضروری ہے، جن میں بہتر تعلیم، صحت ، اخلاقیات وغیرہ شامل ہیں۔

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • یوکرین اور پولینڈ منصوبہ بندی سے روس اور نیٹؤ کے درمیان جنگ کروانا چاہتے ہیں:روس

    یوکرین اور پولینڈ منصوبہ بندی سے روس اور نیٹؤ کے درمیان جنگ کروانا چاہتے ہیں:روس

    ماسکو:متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبنزیا کا کہنا ہے کہ یوکرین اور پولینڈ یوکرین کی سرحد کے قریب پولینڈ پر مارے جانے والے میزائل کے بارے میں "غیر ذمہ دارانہ بیانات” دے کر ان کے ملک اور نیٹو کے درمیان براہ راست تنازعہ کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔

    یہ میزائل منگل کو پولینڈ کے ایک دیہی علاقے میں گر کر تباہ ہوا، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ اگرچہ نیٹو نے میزائل کی شناخت ایک آوارہ پراجیکٹائل کے طور پر کی ہے جو کہ "غالباً” غلطی سے یوکرین کی طرف سے فائر کیا گیا تھا، اس نے کہا کہ روس بالآخر ذمہ دار ہو گا کیونکہ اس نے جنگ شروع کی۔ وائٹ ہاؤس نے بھی کہا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میزائل یوکرین کا تھا، اس کی حتمی ذمہ داری روس پر عائد ہوگی۔

    لیکن یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ میزائل یوکرین کی طرف سے داغا گیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے اعلیٰ کمانڈروں سے یقین دہانی ملی ہے کہ "یہ ہمارا میزائل نہیں تھا۔”

    بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں نیبنزیا نے کہا کہ اس طرح کے بیانات "بالکل غیر ذمہ دارانہ” ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر یہ میٹنگ طے شدہ نہ ہوتی تو اسے یوکرین اور پولینڈ کی روس اور نیٹو کے درمیان براہ راست تصادم پر اکسانے کی کوششوں پر بات کرنے کے لیے بلانا پڑتا۔

    نیبنزیا نے زیلنسکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "یہ بیانات ایک ایسے شخص کی طرف سے آئے ہیں جو یہ معلومات حاصل کرنے میں ناکام نہیں ہو سکتا تھا کہ یہ یوکرین کے میزائل تھے جو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فائر کیے گئے تھے جو پولینڈ کی طرف اڑ گئے تھے۔”

    روسی ایلچی نے مزید کہا کہ "اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف جان بوجھ کر غلط معلومات نہیں پھیلانا تھا بلکہ نیٹو کو، جو یوکرین میں روس کے ساتھ پراکسی جنگ لڑ رہا ہے، کو ہمارے ملک کے ساتھ براہ راست تصادم میں ملوث ہونے کے لیے اکسانے کی شعوری کوشش تھی۔”

    شوکت خانم کے باہر سے مشکوک شخص گرفتار

    جس کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہتا تھا اسے ڈاکو کی وزارت اعلیٰ کے نیچے عمران خان پر حملہ ہوا

  • یوکرین کے خلاف روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے،امریکی صدر

    یوکرین کے خلاف روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے،امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ روسی پسپائی سے اندازہ ہوتا ہے کہ روس کو جنگ میں مسائل کا سامنا ہے۔

    باغی ٹی وی : صدر جو بائیڈن نے واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ میں روس کے لیے جنگی حکمت کے حوالے سے اہم شہر خیرسن سے فوجی پسپائی کےاعلان پرکہا کہ یہ حقیقت اس بات کا ثبوت ہے کہ روس اور روسی فوج کو یوکرین کے ساتھ جنگ لڑنے میں حقیقی طور پر مسائل درپیش ہیں۔

    دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ تباہ کن ہو سکتا ہے،روس کا انتباہ

    صدر جو بائیڈن نے کہا ہمیں امید ہے کہ ہم خارجہ پالیسی کے میدان میں روس کے یوکرین پرحملے کا جواب دینے کا سلسلہ جاری رکھ سکیں گے۔

    واضح رہے روس نے یوکرین کے جوابی حملوں میں شدت کے پیش نظر بدھ کے روز دریائے دنیپرو کے مغربی کنارے خیرسن شہر سے اپنی افواج کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ روس کے اس فیصلے کو روس کے لیے پسپائی اور ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

    روسی وزارت دفاع نے یہ فیصلہ یوکرین کے قبضے میں لیے گئے شہر خیرسن کے نزدیک یوکرین کے حالیہ حملوں سے اپنے فوجی نقصان کو بچانے کی غرض سے کیا ہے۔

    خیرسن ان چار یوکرینی علاقوں میں سے ایک ہے جنہیں روس نے جاری جنگ کے دوران قبضے میں لیا اور بعد ازاں ایک متنازعہ ریفرنڈم کے ذریعے ان علاقوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا مبصرین روسی فوج کو اس علاقے سے پسپائی کے لیے ملنے والے احکامات کو روس کی یوکرین کے مقابلے میں بڑی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔ کہ روسی فوج اس علاقے میں یوکرینی حملوں کا جواب دینے اور انہیں روکنے کی پوزیشن میں نہیں رہی ہے۔

    روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    واضح رہے روس نے یوکرین پر 24 فروری کو حملہ کیا تھا۔ اب اس جنگ کو نو ماہ ہونے کو ہیں لیکن یوکرین مغربی اور امریکی حمایت کے سبب مسلسل روسی افواج کا مقابلہ کر رہا ہے۔

    روس کی اس جنگ کی کمان کرنے والے جنرل سرگئی سروی کن نے اس روسی فیصلےکے بارے میں کہاکہ یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ روسی فوج کی طرف سے خیرسن شہرکو سپلائی جاری رکھی جاتی انہوں نے تجویز کیا ہے کہ روس نے دریا کے مشرقی کنارے پر دفاعی پوزیشن قائم کرے۔

    یہ روسی فیصلہ ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں یوکرینی فوج کی پیش قدمی اور روس کی طرف سے ایک لاکھ کے قریب شہریوں کو دوسری جگہوں پر منتقل کرنےکا بتایا گیا تھا۔

    روسی کمانڈر نے کہا تھا کہ ہمارے لیے اپنے فوجیوں کی جانیں بچانا زیادہ ضروری ہے’۔ ‘ہم اپنے فوجیوں کی جان اور لڑنے کی صلاحیت کی حفاظت کریں گے۔ اس لیے ان کو دریا کے مغربی کنارے پر رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ اب ان میں سے بعض کو دوسرے محاذوں پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

    روسی ہیکرز کا امریکی وزارت خزانہ کے سسٹم پر سائبر حملہ

  • دنیا ایٹمی عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے:عالمی برادری آگے بڑھ کرجنگ روکے:چین

    دنیا ایٹمی عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے:عالمی برادری آگے بڑھ کرجنگ روکے:چین

    بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ ایٹمی جنگیں نہیں لڑنی چاہیئے اور عالمی قوتیں یورپ و ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو روکیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے جرمنی کے چانسلر اولاف شولز سے ملاقات کے دوران روس اور یوکرین جنگ کی ایٹمی جنگ میں تبدیل ہونے کے امکان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی قوتیں جوہری جنگ کی دھمکیوں کی مذمت اور مخالفت کرتے ہوئے یورپ اور ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کے استعمال کو مشترکہ طور پر روکنے کے لیے اقدامات کریں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ہی مغربی ممالک کے فوجی اتحاد نیٹو نے یورپ میں جوہری مشقوں کا ایک دور شروع کیا جس میں “ٹیکٹیکل” B61 جوہری بم استعمال کیئے گئے۔

    نیٹو کا کہنا تھا کہ یہ مشقیں روسی فوجی مشقوں کے متوازی کے طور پر ہوئیں جب کہ دونوں اطراف نے ان مشقوں کو معمول کے مطابق قرار دیا تھا تاہم حالیہ ہفتوں میں کئی عالمی رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 8 ماہ سے جاری روس اور یوکرین جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہوسکتے ہیں۔

    ادھر گروپ آف سیون (جی 7) صنعتی ممالک نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کے ساتھ اپنی جنگ میں کیمیائی، حیاتیاتی یا جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یاد رہے کہ روس نے بھی گزشتہ ماہ الزام عائد کیا تھا کہ یوکرینی افواج ایک “ڈرٹی بم” کا دھماکہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں تاکہ عالمی رائے عامہ کو روس کے خلاف بھڑکایا جاسکے تاہم یوکرین نے اس الزام کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

    دریں اثناء اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے نے روسی الزام کی تحقیقات کے لیے یوکرین میں تین مشتبہ مقامات کا معائنہ کیا تاہم انھیں کوئی غیراعلانیہ جوہری سرگرمیوں کا نشان نہیں ملا۔ یہ معائنہ یوکرین کی درخواست پر ہی کیا گیا تھا۔

    صدر پیوٹن نے ستمبر میں کہا تھا کہ اگر روسی علاقوں بشمول یوکرین کے غیر قانونی طور پر الحاق کیے گئے علاقوں کو نیٹو افواج کی طرف سے خطرہ لاحق ہو تو وہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

    روسی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ نیٹو ممالک “جوہری بلیک میلنگ” اور روس کو “تباہ” کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاہم نیٹو نے ان الزامات کی سخت الفاظ میں تردید کی تھی۔

    روسی صدر کے بیان پر عالمی قوتوں نے کڑی تنقید کی تھی اور امریکی ہم منصب جو بائیڈن نے خبردار کیا تھا اگر روس یوکرین میں ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرتے ہیں تو دنیا کو “آرماگیڈون” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    عالمی رہنماؤں کے سخت بیانات اور دباؤ پر روسی صدر پوٹن نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا اور نیٹو کے ساتھ کوئی بھی تصادم ہمارے مفاد میں نہیں ہے۔

    صدر پوٹن نے یہ بھی کہا کہ روس کا یوکرین کی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں، نہ سیاسی اور نہ ہی فوجی۔

    جس پر امریکی صدر جوبائیڈن نے ایک انٹرویو میں جواب دیا کہ اگر صدر پوٹن اس طرح کے ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے، تو پھر “وہ اس کے بارے میں بات کیوں کرتے رہتے ہیں؟”

  • دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ تباہ کن ہو سکتا ہے،روس کا انتباہ

    دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتوں کا ٹکراؤ تباہ کن ہو سکتا ہے،روس کا انتباہ

    روس نے خبردار کر دیا ہے کہ دنیا کی پانچ بڑی جوہری طاقتیں براہ راست مسلح تصادم کے دہانے تک پہنچ چکی ہیں جو کہ تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : "برطانوی خبررساں ادارے "انڈیپینڈنٹ” کے مطابق روسی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی جوہری طاقتوں کے درمیان کسی جوہری تصادم سے گریز کرنا ان کی اولین ترجیح ہے، اور یہ کہ روس جنوری میں امریکا، چین، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ جوہری جنگ سے بچنے کے لیے اپنی مشترکہ ذمہ داری کا اعادہ کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیے کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پیٹاگون کا یوکرین کو سیٹلائیٹ رابطےکا نظام فراہم کرنےکا اعلان

    لیکن انہوں نے متنبہ کیا کہ مغرب کو "بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے اشتعال انگیزی کی حوصلہ افزائی کرنا بند کرنا چاہیے، جو تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتے ہیں”۔

    روسی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ”ہم اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ پیچیدہ اور ہنگامہ خیز صورتحال میں، جو ہماری قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے غیر ذمہ دارانہ اور جاہلانہ اقدامات کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے، سب سے فوری کام جوہری طاقتوں کے فوجی تصادم سے بچنا ہے۔”

    تاہم انہوں نے مغرب پر الزام عائد کیا کہ مغرب کی جانب سے مستقل جوہری ہتھیاروں کےاستعمال پر اکسانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ انتہائی خطرناک کھیل ہے۔

    مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا بیانیہ بنایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب روس کا کہنا ہے کہ عالمی جوہری طاقتوں کے درمیان کسی بھی قسم کا تصادم روکنے کے لیے پُرعزم ہیں جوہری جنگ کی روک تھام کے پانچ ملکی مشترکہ بیان پر قائم ہیں، دیگر جوہری طاقتیں بھی کسی بھی تصادم کو روکنے کیلئے مل کر کام کریں۔

    واضح رہے کہ رواں برس 3 جنوری کو روس، امریکا، چین، برطانیہ اور فرانس نے مشترکہ بیان میں جوہری جنگ سے گریز کیلئے ذمہ دارانہ عزم کا اظہار کیا تھا۔

    امر یکہ ومغر بی مما لک چین کےاستحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں:چین

    روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ ہم پانچ جوہری ہتھیار رکھنے والے ممالک کے رہنماؤں کے جوہری جنگ کی روک تھام اور 3 جنوری 2022 سے ہتھیاروں کی دوڑ سے بچنے کے بارے میں مشترکہ بیان کے لیے اپنی وابستگی کا مکمل اعادہ کرتے ہیں-

    جنگ کے پہلے ہفتے کے آخر میں، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ملک کی اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں کی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا، اور اس کے بعد سے اس نے نیٹو کے لیے ایک انتباہ کے طور پر اس خطرے کو دہرایا ہے۔

    ماسکو نے بارہا کہا ہے کہ اگر روس کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو تو اس کا فوجی نظریہ جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دیتا ہےستمبر میں، مسٹر پیوٹن نے کہا کہ وہ "بجھ نہیں رہےجب انہوں نے کہا کہ روس اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے "تمام دستیاب ذرائع” استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

    انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر جاپان پر ایٹم بم گرانے کی مثال قائم کی تھی۔ چیچنیا کے علاقے کے رہنما اور پیوٹن کے اہم اتحادی رمضان قادروف نے روس سے یوکرین میں "کم پیداوار والے جوہری ہتھیار” استعمال کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ماسکو اکثر یہ الزام بھی لگاتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور جنگ کے آغاز پر الزام لگایا تھا کہ نیٹو نے روس کو دھمکی دینے کے لیے یوکرین کو ایک پل کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا تھا – یوکرین اور مغربی فوجی اتحاد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

    روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    کچھ مغربی ماہرین کو خدشہ ہے کہ صدر پیوٹن جوہری ہتھیاروں کا سہارا لے سکتے ہیں کیونکہ آسان فتح ان کی پہنچ سے دور نظر آتی ہے۔

    ان کا خیال ہے کہ صدر کو کمزور کر دیا گیا ہے، جس سے روس ممکنہ طور پر زیادہ خطرناک ہو گیا ہے اور اس میں "پلان بی” کے کوئی واضح آثار نہیں ہیں۔

    یوکرین کے حملے کے وقت، بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس نے روس کے جوہری ذخیرے کا تخمینہ لگ بھگ 4,477 وار ہیڈز لگایا تھا، جن میں سے تقریباً 1,588 اسٹریٹجک وار ہیڈز تھے جنہیں بیلسٹک میزائلوں اور بھاری بمبار اڈوں پر تعینات کیا جا سکتا تھا، جس میں تقریباً 977 اور اسٹریٹجک وار ہیڈز تھے۔ 1,912 نان اسٹریٹجک وار ہیڈز ریزرو میں رکھے گئے ہیں۔

    اگست میں ان قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے کہ کریملن جوہری ہتھیاروں کا سہارا لے سکتا ہے، روس کے وزیر دفاع سرگئی شوئیگو نے اسے "مکمل جھوٹ” قرار دیا تھا-

    فوجی نقطہ نظر سے، طے شدہ اہداف کے حصول کے لیے یوکرین میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ روسی جوہری ہتھیاروں کا بنیادی مقصد جوہری حملے کو روکنا ہے۔

    روسی ہیکرز کا امریکی وزارت خزانہ کے سسٹم پر سائبر حملہ

  • پیٹاگون کا یوکرین کو سیٹلائیٹ رابطےکا نظام فراہم کرنےکا اعلان

    پیٹاگون کا یوکرین کو سیٹلائیٹ رابطےکا نظام فراہم کرنےکا اعلان

    تہران: امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ روس یوکرین جنگ کے دوران یوکرین کی مدد کے لئے سیٹلائٹ رابطے کا نظام فراہم کر رہا ہے۔

    ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ وہ یوکرین کو چار عدد سیٹلائٹ رابطے کے سسٹم کی فراہم کر رہا ہے جن کی مالیت 275 ملین ڈالر ہے۔

    روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    پینٹاگون کی ترجمان سبرینا سنگھ نے بتایا کہ سیٹلائٹ رابطے کے ان نظاموں سے یوکرین فوج زیادہ موثر ہو جائے گی اور اس ملک کے لیڈروں کا کمانڈر سے رابطہ اور کنٹرول سسٹم بہتر ہو جائے گا۔

    پیٹناگون کی ترجمان نے مزید کہا کہ یہ سستم اسٹارلنک انٹرنیٹ سروس کی جگہ نہیں لیں گے بلکہ یہ یوکرینی فوج کے لئے میدان جنگ میں ایک دوسرے سے رابطے کا موثر ذریعہ فراہم کریں گے۔

    شاہ محمود قریشی بھی لانگ مارچ کے دوران زخمی ہوگئے

    جب کہ روس یوکرین کی مواصلاتی لائنوں پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ اس کی جوابی کاروائی کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے اور اس حوالے سے یوکرین کی ٹیلی کمیونیکشن اور سیکورٹی تنصیبات روسی حملوں کی مسلسل زد پر ہیں۔

    جسٹس نورمسکانزئی قتل کیس؛گرفتارملزم کا ایران میں تربیت لینےکاانکشاف

    امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلا میں موجود سیٹلائٹوں اور دوسرے انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی ہیں۔

  • روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    روس:جنگ میں سابق افغان فوجیوں کو استعمال کررہا ہے:یوکرین کا الزام

    کیف:یوکرین اور اتحادی اس بات پر خائف ہیں کہ ان کا مقابلہ افغآن مجاہدین سے ہورہا ہے اور یوکرین میں روس کی فتوحات کے پیچھے روس کے لیے لڑنے والے افغان مجاہدین ہیں جوماضی میں روس کے خلاف لڑتے رہے لیکن یہ افغان روس کے بہت زیادہ قریبی اتحادی ہیں ،
    طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے سے قبل افغان فوج کے سابق جرنیلوں نے روس پر الزام لگایا ہے کہ وہ سابق افغان فوجیوں کو بھرتئ کرکے انہیں یوکرین کے خلاف جنگ میں جھونک رہا ہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے ’’وائس آف امریکا‘‘ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد امریکا سے تربیت حاصل کرنے والے سابق افغان فوجی ایران اور دیگر پڑوسی ملک چلے گئے تھے۔ اعلیٰ ترین عکسری تربیت کے حامل یہ سابق فوجی اب روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے تیار ہیں۔

    روس کی جانب سے ان سابق فوجیوں کو ڈیڑھ ہزار امریکی ڈالر ماہانہ کے علاوہ محفوظ پناہ گاہوں کی پیش کش بھی کی گئی ہے، تاکہ وہ اور ان کے گھر والے افغانستان نہ جاسکیں۔

    سابق افغان حکومت میں فوج کے جنرل عبدالرؤف ارغندیوال نے کہا ہے کہ ان فوجیوں کو ویگنر گروپ نامی ایک روسی گروپ بھرتی کررہا ہے۔ یہ سابق افغان فوجی روس کی جنگ لڑنا نہیں چاہت، لیکن ان کے پاس کوئی چارہ بھی نہیں۔

    طالبان کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے افغان فوج کے آخری سربراہ جنرل ہیبت اللہ علی زئی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کو سابق افغان فوجیوں کو اپنی جانب راغب کرنے کے لئے ایک سابق اعلیٰ عہدے دار کی معاونت بھی حاصل ہے جو کہ فوجیوں سے ان کی اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے۔

  • روسی ہیکرز کا امریکی وزارت خزانہ کے سسٹم پر سائبر حملہ

    روسی ہیکرز کا امریکی وزارت خزانہ کے سسٹم پر سائبر حملہ

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ روسی ہیکرز نے امریکی وزارت خزانہ کے سسٹم پر سائبر حملہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی وزارت خزانہ کے ایک اہلکار نے منگل کے روز انکشاف کیا ہے کہ ایک روس نواز ہیکر گروپ نے گذشتہ ماہ وزارت کے کمپیوٹر سسٹم کو نشانہ بنایا تھا، لیکن اس واقعے سے بہت کم خلل پڑا تھا کیونکہ مالیاتی نظام کے حوالے سے سائبر سکیورٹی کے لیے وزارت کا بہتر طریقہ کار اچھا کام کر رہا ہے۔

    ایران کی طرف سے سعودی عرب کو دی جانےوالی دھمکیوں پرتشویش ہے،امریکا

    ڈپٹی ٹریژری سکریٹری ولی اڈیمو کے سائبر سکیورٹی ایڈوائزر ٹوڈ کونکلن نے ’روئٹرز‘ کو بتایا کہ ڈپارٹمنٹ نے ڈسٹری بیوٹڈ ڈینیئل آف سروس (DDoS) حملوں کی ذمہ داری Killnet پر عائد کی ہےجوایک روسی ہیکر گروپ ہےجس نےگذشتہ اکتوبرمیں کئی امریکی ریاستوں اور ہوائی اڈوں کی ویب سائٹس کو خراب کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    قبل ازیں ایک سینیر امریکی اہلکار نے گذشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ سائبر حملوں میں 10 اکتوبر کو امریکا کے کچھ بڑے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ذرائع نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ یہ کارروائی روسی فیڈریشن کے اندر ایک حملہ آور نے کی۔

    خوش قسمتی سے ان ہوائی اڈوں کے لیے ٹارگٹ سسٹم ایئر ٹریفک کنٹرول، ایئر لائن کمیونیکیشن اور کوآرڈینیشن، یا ٹرانسپورٹیشن سکیورٹی سسٹم کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا تاہم ان حملوں کی وجہ سے مسافروں کی ان ویب سائٹس تک "رسائی روک دی” جو انتظار کے اوقات اور ہوائی اڈے پر ہجوم کو ظاہر کرتی ہیں۔

    سلمان خان کی سکیورٹی میں مزید اضافہ

    ہوائی اڈوں نے سب سے پہلے صبح 3 بجے EDT کے قریب حملوں کی اطلاع دی جب سائبرسکیوریٹی اور انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی نے اطلاع دی کہ LaGuardia ہوائی اڈے کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تھا، لیکن اسے بحال کر دیا گیا تھا لیکن ملک بھر کے دیگر ہوائی اڈے پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں۔

    ہوائی اڈے کی ویب سائٹ پر اطلاع دی گئی تھی کہ پروگرامرز اور انجینیر ان خامیوں کو بند کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں جو ہیکرز کو ویب سائٹس ہیک کرنے کی اجازت دیتے ہیں یہ واقعہ ایک طرف ماسکو اور دوسری طرف واشنگٹن اور مغرب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آیا۔

    روسی سائبر حملے: درجن سے زائد امریکی ایئر پورٹس کی ویب سائٹس متاثر

  • ولادیمیرپیوٹن کی قریبی ساتھی معروف صحافی اور ٹی وی میزبان لتھوانیا فرار ہو گئی

    ولادیمیرپیوٹن کی قریبی ساتھی معروف صحافی اور ٹی وی میزبان لتھوانیا فرار ہو گئی

    روسی صدر ولادیمیرپیوٹن کی قریبی ساتھی لتھوانیا فرار ہو گئی ہیں-

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق لتھوانیا کے دارالحکومت ولنیئس میں انٹیلی جنس سروسز نے بتایا کہ معروف روسی صحافی اور ٹی وی میزبان کیسنیا سوبچک اور صدر ولادیمیر پیوٹن کی بپتسمہ یافتہ بیٹی ماسکو میں پولیس کے ان کے ایک گھر پر چھاپہ مارنے کے بعد لتھوانیا فرار ہو گئی ہیں۔

    روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی’طاس‘ کے مطابق ملک کی سکیورٹی سروسز کے پاس کیسنیا سوبچک کے اسی مجرمانہ کیس میں ملزم کے طور پر اس کے میڈیا ڈائریکٹر کرل سکھانوف کے وارنٹ گرفتاری تھے۔

    مفرور خاتون صحافی سینٹ پیٹرزبرگ کے سابق میئر اناتولی سوبچک کی بیٹی ہیں، جنہیں پوتین نے پہلے اپنا استاد قرار دیا تھا اور افواہیں ہیں کہ وہ پیوٹن کی پوتی ہیں اگرچہ یہ یقینی نہیں ہےلیکن روسی صدر کےساتھ ان کے طویل خاندانی تعلقات کے باوجود دونوں میں اختلافات بھی نمایاں رہے ہیں۔

    دس سال سزا پانے والے للا دی سلوا دوبارہ برازیل کے صدر منتخب

    کیسنیا روس کی ایک معروف میڈیا پرسن ہیں، جو صحافت میں کیریئر شروع کرنے سے پہلے ایک رئیلٹی شو کی میزبان کے طور پر شہرت حاصل کر چکی ہیں کیسنیا سنہ 2018ء میں روس کی صدارتی امیدوار بھی رہ چکی ہیں۔

    روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ سوبچک ماسکو سے دبئی کے راستے استنبول کے لیے ہوائی جہاز کے ٹکٹ خرید کر روسی حکام کو دھوکہ دے کر منگل کی شب بیلاروس کے راستے لتھوانیا کی سرحد کے پار پہنچ گئیں۔

    ملک کی کاؤنٹر انٹیلی جنس سروس کے سربراہ ڈاریوس یونسکیس نے جمعرات کی صبح ایک مقامی ریڈیو سٹیشن کو بتایا کہ بغیر کسی شک کے وہ لتھوانیا میں ہے سوبچک نے اپنے اسرائیلی پاسپورٹ کے ساتھ سرحد پار کی اور لتھوانیا، لٹویا اور ایسٹونیا نے گزشتہ ماہ سیاحتی ویزا رکھنے والے روسی شہریوں پر داخلے پر پابندی عائد کر دی ایک اسرائیلی شہری کے طور پر ایک درست پاسپورٹ کے ساتھ اسے ویزا کی ضرورت نہیں ہے اور وہ لتھوانیا میں داخل ہو سکتی ہے اور یہاں 90 دن تک رہ سکتی ہے۔

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

  • روس کا کیف پر 50 سے زائد میزائلوں سے حملہ،بجلی کا نظام شدید متاثر

    روس کا کیف پر 50 سے زائد میزائلوں سے حملہ،بجلی کا نظام شدید متاثر

    کیف: یوکرین نے کہا ہے کہ روس نے 50 سے زائد میزائلوں سے کئی شہروں کو نشانہ بنایا جس کے بعد بجلی کا نظام متاثر ہو گیا-

    باغی ٹی وی: یوکرین میں روسی فوجی آپریشن پیر کے روز جاری رہے یوکرین نے کہا کہ روس نے 50 سے زائد میزائلوں سے کئی شہروں کو نشانہ بنایا۔

    یوکرین جنگ میں روس اور امریکا تنازعہ خلا تک پہنچ گیا

    یوکرینی فوج نے ملک میں 50 سے زیادہ کروز میزائل” فائر کرنے کی تصدیق کی ہے یوکرین کی فضائیہ نے ٹیلی گرام پر کہا ہے کہ شمالی بحیرہ کیسپین اور روس کے روسٹوو کے علاقے سے Tu-95s اور Tu-160s سے 50 سے زیادہ X-101/X-555 کروز میزائل طیارے سے فائر کیے گئے۔

    یوکرینی ایوان صدر نے اطلاع دی کہ کئی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر”بڑے پیمانے پر روسی حملہ” ہوا ہےمقامی حکام نے رہائشیوں سے فضائی بمباری کی وارننگ ختم ہونے تک پناہ گاہوں میں رہنے کی اپیل کی ، جبکہ رہائشیوں کا کہنا تھا کہ انہوں نے شہر میں سلسلہ وار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔

    کینیڈا میں دیوالی کی تقریبات میں بھارتی اور خالصتان کا پرچم لہرانے والے سیکڑوں…

    یوکرین کے صدارتی مشیر کیریلو تیموشینکو نے کہا ہے کہ روسیوں نے ایک بار پھر کئی علاقوں میں توانائی کی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا۔ فضائی دفاع نے کچھ میزائلوں کو مار گرایا، جبکہ دیگر نے ہدف کو نشانہ بنایا۔


    شہر کے میئر نے روسی حملوں کے بعد کیف کے محلّوں میں بلیک آؤٹ کا اعلان کیا ہے۔ روسی بمباری سے بجلی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ دارالحکومت میں پاور ٹرانسمیشن سینٹر بمباری سے متاثر ہوئے ہیں۔

    واضح رہے کہ جہاں روسی فوج کے یونٹ یوکرین کے علاقوں پر مکمل کنٹرول بڑھانے اور کییف فورسز کے ٹھکانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہیں دوسری جانب یوکرینی فورسز مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں اوروہ کھوئے ہوئے علاقوں پر قبضہ دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یوکرین کو روس کے خلاف مزاحمت میں امریکا اور مغرب کی مادی اور فوجی مدد بھی حاصل ہے-

    دس سال سزا پانے والے للا دی سلوا دوبارہ برازیل کے صدر منتخب