Baaghi TV

Tag: روس

  • روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    ماسکو:روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی ،اطلاعات کے مطابق امریکا نے روس کے خلاف مہلک ہتھیاروں کی 90 ٹن وزنی کھیپ یوکرائن کے دارالحکومت میں پہنچادی ہے جبکہ روس نے بھی جنگ کے لیے صف بندی شروع کردی ہے۔

    خبر ایجنسی کے مطابق روس امریکی مذاکرات کی ناکام کے بعد یوکرائن تنازع شدت اختیار کرگیا ہے اور خطے پر جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں جبکہ یوکرائن بارڈر پر نیٹو کی فوجی تنصیبات کا عمل بھی جاری ہے۔

    رپورٹس کے مطابق روس نے بھی سرحد کے قریب اپنی فوج کی صف بندی کرنا شروع کردی ہے جبکہ امریکا کی جانب سے یوکرائن کو دی جانے والی مہلک ہتھیاروں کی پہلی کھیپ وہاں پہنچ گئی ہے۔

    یوکرائن میں قائم امریکی سفارتخانے نے کھیپ وصول کرنے کی تصدیق بھی کردی ہے۔

    واضح رہے کہ روس بارہا یہ باور کراچکا ہے اس کا یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم وہ اپنے دفاع کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔امریکی صدر جوبائیڈن نے دسمبر میں یوکرائن کے لئے 200 ملین ڈالرز سیکیورٹی پیکج کی منظوری دی تھی۔

    دوسری جانب برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

    برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

    روس کی جانب سے برطانوی دعوے کی تردید بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ برطانیہ فضول باتیں پھیلانے سے گریز کرے۔

    روسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران کو مزید بڑھا رہی ہیں۔

    دوسری طرف روس کی وزارت خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا ہے کہ ہم دفترخارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فضول باتیں پھیلانا بند کرے۔

    ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات اس بات کا اشارہ کرتی ہیں کہ نیٹو کی قیادت یوکرائن کے بحران مزید بڑھا رہی ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی سیکرٹری خارجہ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ جو معلومات جاری کی گئی ہیں وہ روسی منصوبے کو آشکار کرتی ہیں جبکہ یہ منصوبہ یوکرائن کو تباہ کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جس سے روس کی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یوکرائن میں روسی فوجی مداخلت ایک بڑی اسٹریجک غلطی ہوگی جس کی بھاری قیمت بھی چکانا پڑے گی، روس کشیدگی کو کم کرے اور اپنی جارحیت کو ترک کرکے سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے۔

    واضح رہے کہ برطانیہ کا دعوی ہے کہ روس یوکرائن میں اپنی مرضی کی حکومت لانے کی کوششیں کررہا ہے جبکہ متعدد سابقہ یوکرائن کے سیاست دانوں کے روس کی انٹیجلنس سروس سے رابطے ہیں۔

    برطانیہ کا دعوی ہے کہ یوکرائن کی پارلیمان کے ایک سابق رکن یووغن مورائیف کو روس کی جانب سے یوکرائن کے نئے لیڈر کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

  • روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    روس کی ایران اور چین سے فوجی مشقیں:بیلا روس کےساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان

    ماسکو:روس کی ایران اور چین فوجی مشقیں جاری: بیلا روس کے ساتھ بھی ہنگامی فوجی مشقیں شروع کرنے کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق روس کی بیلا روس کے ساتھ ہنگامی فوجی مشقیں شروع کےاعلان نے امریکہ اور اتحادیوں‌پر بجلی گرادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ نے روس کودھمکی آمیز پیغام بھیجنے کا پھرفیصلہ کیا ہے

    اطلاعات کے مطابق روس نے فوجی مشقوں کے لیے 2 فضائی دفاعی سسٹم بیلاروس بھیج دئیے،اور تازہ ترین اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ روس اور بیلاروس کے درمیان فوجی مشقیں 10 فروری کو شروع ہوں گی،اس سلسلے میں‌ فضائی دفاعی میزائل سسٹم اور 12 ایس یُو 35 جنگی طیارے بھی بیلاروس بھیجے جائیں گے،

    روسی دفاعی حکام کے مطابق روسی ایس 400 بیلاروس میں متوقع مشترکہ فوجی مشقوں میں شرکت کریں گے،

    ادھر پہلے ہی ایران، روس اور چین کے بحری بیڑوں نے بحیرہ ہند کے شمال میں وسیع پیمانے کی مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں۔

    ادھر ایران کی سرکار ی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق "2022 بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان اور "مِل کر امن و سلامتی کے لئے” کے سلوگن کے ساتھ بحیرہ ہند کے شمال میں 17 ہزار مربع کلو میٹر علاقے میں مشترکہ فوجی مشقیں جاری ہیں۔

    خبر کے مطابق مشقوں میں ایران کابحری بیڑہ ، پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے جنگی بحری جہاز اور فضائی یونٹیں اور روس اور چین کے جنگی و لاجسٹک بحری جہاز شامل ہیں ۔

    مشقوں کے ترجمان ایڈمرل مصطفیٰ تاج الدین نے کہا ہے کہ باب المندب، مالاکہ اور آبنائے ہرمز جیسی اہم آبی گزرگاہوں کے ساتھ رابطے کی وجہ سے بحیرہ ہند کا شمالی حصہ اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ "یہ مشقیں، طلائی تکون کے نام سے معروف اور عالمی تجارت کے لئے کلیدی اہمیت کے حامل علاقے میں، تینوں ممالک کے مفادات کے تحفظ اور پائیدار بحری سلامتی کو یقینی بنانے کی ایک مشترکہ کوشش ہیں”۔

    تاج الدین نے کہا ہے کہ مشقوں میں جلتے ہوئے بحری جہاز کو بچانے، اغوا شدہ بحری جہاز کی رہائی، متعینہ اہداف اور رات کے وقت فضائی اہداف کو نشانہ بنانے جیسے مختلف آپریشن کئے جائیں گے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی بحری تجارت کی سلامتی کو تقویت دینا، بحری ٹوئرازم اور بحری قزاقوں کے خلاف جدوجہد، تلاش و بچاو کے علاقوں میں معلومات کا تبادلہ اور جنگی چالوں کے آپریشنوں میں تجربات کا تبادلہ مشقوں کے سرفہرست اہداف ہیں۔

    واضح رہے کہ "بحری سلامتی بیلٹ ” کے زیرِ عنوان موجودہ مشقیں ایران، روس اور چین کے درمیان تیسری مشقیں ہیں۔مذکورہ مشقوں کی پہلی مشقیں دسمبر 2019 میں کی گئی تھیں۔

  • روس نے یوکرین پرحملہ کیا توبھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی صدر

    روس نے یوکرین پرحملہ کیا توبھاری قیمت چکانا پڑے گی، امریکی صدر

    واشنگٹن: امریکی صدرجوبائیڈن نے روس کی جانب سے یوکرین پرحملے کا خدشہ ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہوا توروس کوبھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    باغی ٹی وی : روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے اگر ایسا نہ ہوا تو ایسا ہوا توروس کوبھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی…

    امریکی صدرجوبائیڈن نے نیوزکانفرنس سے خطاب میں کہا کہ روس یوکرین پرحملہ کرسکتا ہے۔ ایسا ہواتواس کی ذمہ داری مکمل طورپرروسی صدرولادی میرپیوٹن پرعائد ہوگی۔

    امریکی صدرکا کہنا تھا کہ روس نے یوکرین میں کارروائی کی تو یہ وعدہ ہے کہ روس پراسی پابندیاں عائد کریں گے جو پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھی ہوں گی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کا یوکرین پرحملہ ایسا اقدام ہوگا جس کے دوررس نتائج نکلیں گے۔روس یوکرین میں کچھ کرنا چاہتا ہے اوروہ کرے گا۔

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکی صدرجوبائیڈن نے مزید کہا کہ امریکا پولینڈ سمیت خطے میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا رہا ہے۔ ایسا نیٹو معاہدے کے تحت کیا جارہا ہے واضح رہے کہ روس نے 2014 میں کریمیا پرحملہ کرکے قبضہ کرلیا تھا۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    قبل ازیں امریکہ نے روس کی دھمکی دی تھی کہ روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے جبکہ روس نے امریکہ کی اس دھمکی کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں-

    دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

  • ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ایرانی صدر کا دورہ ماسکو:امریکہ پریشان،اب کیا کرے گا ایران؟

    ماسکو:ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے دورہ روس کو دونوں مملک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دے دیا۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے صدر ابراہیم رئیسی منصب سنبھالنے کے بعد پہلی بار روس کے دو روزہ سرکاری دورے پر ماسکو پہنچ گئے جہاں انہوں نے روسی ہم منصب ولادی میرپیوٹن سے ملاقات کی۔

    ماسکو روانگی سے قبل میڈیا سے مختصر گفتگو میں ابراہیم رئیسی نے کہا کہ روس اور ایران خطے کے دو اہم خودمختار، مضبوط اور بااثر ممالک ہیں جو قریبی تعلقات اور بات چیت سے تجارت و سلامتی کو بڑھا سکتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایرانی صدر نے اپنے دورہ ماسکو کو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کا ٹرننگ پوائنٹ بھی قرار دیا۔
    روسی صدر سے ملاقات میں ایرانی صدر نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال پرتشویش ہے روس کےساتھ مستحکم اورجامع تعلقات کےخواہاں ہیں ہم روس کےساتھ تجارتی تعلقات کاحجم بڑھانےکےخواہاں ہیں۔

    ایرانی صدر نے واضح کیا کہ عالمی پابندیوں اور امریکا و اسرائیل کی دھمکیوں سے ایران کی ترقی کا سفر نہیں رکے گا۔

  • امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ

    ماسکو:امریکہ ہمیں‌جنگ کی دھمکیاں‌ دینا بند کردے:ایسی بات ہے تو ہم تیارہیں‌:روس کا جوابی حملہ ،اطلاعات کے مطابق روس اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اتحادیوں نے روس کو سخت سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا ہے ، شاید یہی وجہ ہےکہ امریکہ نے روس کی دھمکی دی ہے روس یوکرین کی سرحد پر کسی بھی حرکت سے باز رہے یا پھر جنگ کےلیے تیار رہے ،

    ادھر روس نے امریکہ کی اس دھمکی جا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگرامریکہ کو جنگ کرنے کا بہت ہی شوق ہے تو ہم تیار ہیں‌، دوسری طرف یہ بھی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور دیگر نیٹو اتحادی اس وقت روس کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنانے میں مصروف ہیں

    دوسری طرف روس نے امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی دھمکیوں‌ کو بھی مسترد کردیا ہے ،امریکہ میں تعینات روسی سفیر اناتولی انتونوف نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیاں ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتیں،

    روس کے سفیر اناتولی انتونوف کا میڈیا کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکی کانگریس کی جانب سے روس کے خلاف نئی پابندیوں کا مطالبہ بشمول ملک کی قیادت پر پابندیاں ماسکو کو خوفزدہ نہیں کریں گی۔

    روسی سفارت خانے کے فیس بک پیج پر شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ کیپیٹل ہل پر روس مخالف پابندیوں کے ساتھ ساتھ روسی فیڈریشن کی اعلیٰ قیادت کے خلاف ذاتی پابندیاں متعارف کروانے کے مطالبات اشتعال انگیز اور ناامید ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم کسی بھی صورت امریکہ کی اپاہج پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلیٰ سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے تھے۔

    مزید پڑھیں : روس امریکا مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم
    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

  • ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل

    بیجنگ:ایران پرامریکی پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں، چین کا سخت ردعمل ،اطلاعات کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ ایران پرامریکا کی یکطرفہ پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے ایرانی ہم منصب حسین عامر سے ملاقات میں کہا کہ ایران پریکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔

    چینی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ایران کی جاری مشکلات کی ذمہ داری امریکا پرعائدہوتی ہے جس نے یکطرفہ طورپر2015میں کئے گئے ایران اورعالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیارکی۔ چین ایران سے جوہری مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کا حامی ہے۔

    دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے چین کے ساتھ 25 سالہ معاہدے پر عمل شروع ہونے کا اعلان کیا ہے۔

    حسین امیر عبداللھیان نے چین کے دورے کے اختتام پر کہا: فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ جمعہ سے جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عملدرآمد کا اعلان کریں۔

    انہوں نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس سفر میں اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ طرفین 25 سالہ جامع اسٹریٹیجک تعاون کے معاہدے پر عمل درآمد شروع ہونے کا اعلان کریں۔

    ایران کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ صدر جمہوریہ ایران کا مکتوب پیغام انکے چینی ہم منصب کے لئے لے کر گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ چین دورے پر پابندیوں کے خاتمے سے متعلق ویانا مذاکرات کے بارے میں بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حسین امیر عبداللھیان نے بتایا کہ ویانا میں چین اور روس کے نمائندے اسلامی جمہوریہ ایران کے ایٹمی حقوق کی حمایت اور پابندیوں کے خاتمے کے لئے مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ مغربی فریق بھی حقیقت پسندانہ اور ایک اچھے معاہدے کے حصول کے نکتہ نگاہ کے ساتھ ، ویانا مذکرات میں مطلوبہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے، ایسا معاہدہ جس میں ایرانی قوم کے حقوق و مفادات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔

    حسین امیر عبداللھیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمترین مدت میں اچھے معاہدے کے حصول کا استقبال کرے گا لیکن یہ بات مغربی فریقوں پر منحصر ہے۔

  • امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    امریکہ سرحدوں سے فوج ہٹالے ورنہ نتائج سنگین ہوں گے، روس کی دھمکی

    ماسکو : امریکہ میں روس کے سفیر اناتولی انتونوف نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر ملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کرے اور اپنی فوجی صلاحیت کو روسی سرحدوں سے ہٹائے۔

    انہوں نے واضح الفاظ میں امریکہ کو متنبہ کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ گئے تو بصورت دیگر نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس پیچھے ہٹنے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے اور نیٹو کی افواج روس کی سرحدوں تک پہنچ چکی ہیں۔

    ایلچی نے مزید کہا کہ امریکا روس کے خلاف نہ صرف زمینی بلکہ سمندر اور فضا میں بھی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تاہم روس اپنے دفاع سے بالکل بھی غافل نہیں ہے۔
    .
    انتونوف نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ روس کے ساتھ مل کر بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک خصوصی ذمہ داری رکھتا ہے جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں بیان کیا گیا ہے۔

    روسی سفارت کار نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ غیرملکی توسیع کی جارحانہ بیان بازی کو ترک کر دیا جائے اور اس بارے میں سوچیں کہ آنے والی نسلیں کیسے ایک ساتھ رہیں گی۔

    ادھرچین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ جوہری جنگ پر فتح حاصل نہیں کی جا سکتی اور ایسی ہلاکت خیز جنگ کبھی شروع بھی نہیں ہونی چاہیے۔

    دنیا کی پانچ جوہری طاقتوں نے تین دسمبر پیر کے روز جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کا عہد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جوہری جنگ ہرگز کوئی متبادل نہیں ہے۔

    چین، فرانس، روس، برطانیہ اور امریکا نے مشترکہ طور پر جاری کردہ اپنے ایک غیر معمولی بیان میں کہا، ”ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ ایسے ہتھیاروں کے مزید پھیلاؤ کو روکنا بہت ضروری ہے۔” بیان میں مزید کہا گیا، ”جوہری جنگ جیتی نہیں جا سکتی اور کبھی لڑی بھی نہیں جانی چاہیے۔” پانچوں عالمی طاقتوں نے بیان میں اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ جب تک، ”جوہری ہتھیار موجود رہیں گے اس وقت تک وہ بس، دفاعی مقاصد کو پورا کرنے، جارحیت اور جنگ کو روکنے کے لیے ہی ہوں گے۔”

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچوں مستقل ارکان (پی فائیو) نے، ”جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کو جلد از جلد ختم کرنے اور جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق موثر اقدامات پر نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔” سبھی نے سخت اور موثر بین الاقوامی کنٹرول کے تحت عمومی اور مکمل تخفیف اسلحہ کے معاہدے پر بھی اتفاق کیا۔”

  • دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا

    ماسکو :دنیا روس اور امریکہ کے رحم وکرم پر:روس نے ایک بارپھرامریکی خواہشات پرپانی پھیر دیا ،اطلاعات ہیں‌ کہ یوکرائنی تنازعے پر جینوا میں ہونے والے روس امریکا کے اعلی سطح مذاکرات ایک بار پھر بے نتیجہ ختم ہوگئے،

    دوسری طرف معتبر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگریہ معاملات درست نہ ہوئے تو روس اورامریکہ ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں جس کا نتیجہ دنیا کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ،امریکہ اور روس کو معاملات بہم رضامندی سے حل کرنے چاہیں

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے سلامتی کی ضمانتوں پر روس امریکہ کی مشاورت کے بعد کہا کہ روس اور امریکہ نیٹو کی مشرق کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے معاملات پر کسی پیش رفت تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف اپنے وفد کے ہمراہ جنیوا میں قائم امریکی سفارتی مشن کے دفتر پہنچے جہاں ان کے امریکی نائب وزیر خارجہ کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوا۔

    نیٹو کے سربراہ نے اپنے حالیہ بیان میں روس کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اسے یوکرائن پر حملے کی صورت میں سنگین قیمت چکانی پڑے گی۔

    روسی نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا نے یوکرین کو نیٹو کی ممبرشپ نہ دینے کی ضمانت نہیں دی، روس کو مضبوط ضمانت چاہیے کہ یوکرین کو کبھی نیٹو کا حصہ نہیں بنایا جائے گا جبکہ روس یوکرائن پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

    روس کے نائب وزیر خارجہ سرگئی ریابکوف نے کہا کہ روس12 اور13 جنوری کو نیٹو اور او ایس سی ای کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد سلامتی کی ضمانتوں پر مزید اقدامات پر غور کرے گا۔

  • کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان

    الماتے :کل بروز پیرقزاقستان میں ایک روز عام سوگ کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق قزاقستان کی حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کو عام سوگ منایا جائے گا۔ دوسری جانب صدر توکایف نے، حالیہ بدامنی میں تباہ ہونے والی سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں کی فوری تعمیر نو کا حکم صادر کر دیا ہے۔

    قزاقستان کے صدر کے ترجمان کے مطابق صدر قاسم جامرت تاکایف نے حالیہ بدامنی میں مرنے والوں کی یاد میں پیر کے روز عام سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر تاکایف نے حالیہ بدامنی مرنے والوں کے لواحقین کے ساتھ یکجہتی اور عوام کو اطمینان دلانے کی خاطر، ایک روزہ سوگ منانے کا فیصلہ، اعلی سطی اجلاس کے دوران کیا۔ اس اجلاس میں ملک کے اٹارنی جنرل، قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ اور وزارت دفاع کے اعلی عہدیداران شریک تھے۔

    صدر تاکایف نے اس موقع پر حالیہ بدامنی کے دوران الماتی اور دیگر شہروں میں تباہ ہونے والے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو کا حکم بھی صادر کیا۔

    دوسری جانب قزاقستان کی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ حالیہ بدامنی میں ملوث کم سے کم چار ہزار افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ گرفتار شدگان کی بڑی تعداد کا تعلق الماتی سے بتایا جاتا ہے۔

    وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار شدگان میں پیشتر کو عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ مائع گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران دیگر شہروں کے مقابلے میں الماتی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    مظاہروں کے پرتشدد شکل اختیار کرجانے کے بعد ، سی ایس ٹی او ممالک کی امن فوج قزاقستان پہنچی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ امن فوج کے آنے کے بعد قزاقستان کی کشیدگی میں کمی واقع ہوئی ہے۔

    قزاقستان میں ایل پی جی قیمتوں میں دوگنا اضافے کے بعد دو جنوری کو بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ اگرچہ صدر توکایف نے ایل پی جی کی پرانی قیمت بحال کرنے سمیت دوسرے اقدامات کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے باوجود مظاہرے پرتشدد شکل اختیار کر گئے تھے۔

    ایران اور چین نے قزاقستان کے حالیہ واقعات میں بیرونی مداخلت کا امکان ظاہر کیا ہے۔ چین نے بڑے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مغربی ممالک ایک بار پھر قزاقستان میں انیس سو نوے جیسے رنگین انقلابات کا ڈرامہ دوبارہ رچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس کا امریکہ کو منہ توڑ جواب:امریکی دیکھتے ہی رہ گئے

    روس نے امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن کے بیان پر شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ قازقستان کو شاید روسی فوجیوں سے چھٹکارا پانے میں مشکل کا سامنا ہو۔

    امریکی سیکریٹری خارجہ کے بیان پر شدید ردِ عمل دیتے ہوئے روس نے کہا کہ انہیں اس کے بجائے دنیا بھر میں امریکی فوج کی مداخلت پر سوچنا چاہیئے۔

    جمعے کے روز بلنکن نے روس کی جانب سے کئی دنوں سے متشدد افراتفری کا شکار قازقستان میں فوج بھیجنے کی توجیہ پر سوال اٹھایا تھا۔

    بلنکن کا کہنا تھا ’ماضی قریب کا ایک سبق یہ ہے کہ ایک بار روسی آپ کے گھر میں آ جائیں، ان کا نکلا جانا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔‘

    روسی وزیر خارجہ نے بلنکن کے بیان کو ’ناگوار‘ قرار دیا اور ان پر قازقستان میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعات پر مذاق کرنے کا الزام عائد کیا۔

    وزارت نے اپنے ٹیلی گرام سوشل میڈیا چینل پرکہا کہ ’اگر انتھونی بلنکن کو تاریخ کے اسباق اتنے پسند ہیں، پر ان کو یہ معلوم ہونا چاہیئے: جب امریکی آپ کے گھر میں آ جائیں، تو زندہ رہنا، نہ لُٹنا یا ریپ نہ کیا جانا مشکل ہو سکتا ہے۔‘مزید یہ بھی کہا گیا ’ہمیں یہ صرف ماضی قریب سے نہیں بلکہ امریکی ریاست کے 300 سالوں سے پڑھایا گیا ہے۔‘

    وزارت کا کہنا تھا کہ قازقستان میں تعیناتی قازقستان کی درخواست کا قانونی جواب تھا تا کہ Collective Security Treaty Organisation(CSTO) کے تحت سپورٹ کیا جائے۔

    روس کی وزارت خارجہ نے اس سلسلے میں مختلف ملکوں منجملہ کوریا، ویتنام، شام اور عراق کی طرف اشارہ بھی کیا۔

    روس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے قزاقستان کے افسوسناک حالات کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے البتہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے کہ انھوں نے اس قسم کا مداخلت پسندانہ بیان دیا ہے ۔

    CSTO سابق سوویت ریاستوں کا ایک اتحاد ہے جس میں روس شامل ہے۔

    قازقستان میں فوج کی تعیناتی ایک ایسے موقع پر کی گئی ہے جب ماسکو اور واشنگٹن کے تعلقات شدید تناؤ میں ہیں۔

    دونوں ممالک پیر کو یوکرین بحران پر شروع ہونے والے مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ماسکو نے یوکرین کے قریب اپنی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی ہے لیکن روس کی جانب حملہ کرنے کے منصوبے کے مغربی الزامات کی تردید کی گئی ہے۔