Baaghi TV

Tag: روس

  • روس سے 2500 مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس چھین لیا ہے یوکرینی صدر

    روس سے 2500 مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس چھین لیا ہے یوکرینی صدر

    یوکرین نے روس سے 2500 مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس چھین لیا ہے یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ یوکرین کی فوجوں نے روس 2500 مربع کلو میٹر کا علاقہ واپس چھین لیا ہے۔روس کے زیر قبضہ چلے جانے والے اس علاقے کے لیے پچھلے ماہ سے لڑائی جاری تھی۔ اس سے پہلے بھی یوکرین اپنے علاقوں کو روس سے واپس لینے کی بات کر چکا ہے۔

    امریکی صدر جوبائیڈن نے عالمی ایٹمی جنگ کے خطرے سے آگاہ کردیا

    صدر زیلنسکی نے کہا ‘اس ہفتے ہمارے فوجیوں نے تنہا 776 مربع کلو میٹر کا علاقہ آزاد کرایا ہے، یہ علاقہ ہماری 29 آباد کاریوں کے مشرق میں ہے اور اس میں چھ بستیاں لوہانسک ریجن کے علاقے کی بھی شامل ہیں۔’

     

     

    یوکرینی صدر نے مزید کہا ‘مجموعی طور پر 2434 مربع کلو میٹر کا علاقہ اور 96 بستیاں ہم پہلے ہی روس سے آزاد کرا چکے ہیں۔اس بات کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ہر روز شئیر کی جانے والی تقریر میں کیا ہے۔ یوکرین کے حق میں ان دنوں کافی کامیابیوں کی اطلاعات دی جارہی ہیں۔

    ادھر روس اور کریمیا کو جوڑنے والے پل پر ٹرک بم دھماکے کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک ہوگئے۔کریمیا اور روس کو ملانے والے واحد پل پر دھماکے کے نتیجے میں کارگو ٹرین اور گاڑیوں میں بھیانک آگ بھڑک اٹھی اوردو میل طویل پُل کا بڑا حصہ گرگیا۔

    روسی حکام کا کہنا ہے ٹرک بم دھماکے میں تین افراد ہلاک ہوئے، ساحل پر کھڑے کئی بحری جہاز ڈوب گئے، سڑک اور ریل پل پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہوگئی۔یہ پل یوکرین میں روسی فوجی ساز وسامان پہنچانے کا ایک اہم راستہ تھا ور دھماکے کے بعد روڈ ٹریفک کیلئے استعمال ہونے والا پل کا حصہ گرگیا ہے۔
    <h2 class=”title”><a class=”post-title post-url” href=”https://login.baaghitv.com/the-cipher-sent-from-the-us-is-completely-secure-spokesperson-of-the-ministry-of-foreign-affairs/”>امریکا سے بھیجا جانے والا سائفر مکمل محفوظ ہے:ترجمان وزارت خارجہ</a></h2>
    <div></div>
    دومیل طویل پل صدی کی بہترین تعمیر ہے، اس پل کو دوہزار اٹھارہ میں کھولا گیا تھا اور اسے روس کریمیا ٹرانسپورٹ نیٹ ورک سے ملانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

  • روس اور کریمیا کو ملانے والا اہم پل تباہ

    روس اور کریمیا کو ملانے والا اہم پل تباہ

    روس اور کریمیا کو ملانے والا واحد پل آئل ٹینکر میں دھماکے بعد ٹرین میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی کے باعث بند کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی : روس اور کریمیا کے ایک اہم پل پر ہفتے کی صبح آتشزدگی کے واقعے کے بعد یوکرین اور روس دونوں کی طرف سے مختلف اطلاعات سامنے آئی ہیں اور کسی نے بی کوئی حتمی موقف پیش نہیں کیا ہے۔

    امریکا نے کویت کو جدید میزائل سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دیدی

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق روس کی جانب سے 2014 میں اپنے تسلط میں لیے گئے علاقے کریمیا کے کیرچ اسٹریٹ پل کو فوجی سازو ساان کی ترسیل کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔


    یوکرین کے ذرائع نے اسے ایک آئل ٹینکر میں دھماکے کا واقعہ قرار دیا ہے جو عین کریمیا اور روس کے درمیان رابطے کے اہم ترین پل پر ہوا ہے اور ان دنوں اس کی اہمیت اور بڑھ چکی ہے۔

    اس حوالے سے یوکرین حکوت کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بری طریقے سے جل رہا ہے۔

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی کے مشیر میخائلو پوڈولیک کی جانب سے پل پر لگنے والی آتشزدگی کے باعث ہونے والے نقصان کو آغاز قرار دیا گیا تاہم انہوں نے یوکرین کے براہ راست ملوث ہونے کی کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہر غیر قانونی چیز تباہ کر دی جائے گی، چوری کی گئی ہر شے دوبارہ یوکرین کو حاصل ہو گی اور روس کی جانب سے قبضے میں لی گئی ہر چیز نکال دی جائے گی۔

    عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، گیس کی قیمت میں کمی

    دوسری جانب روس نے اس واقعے کو کار بم دھماکے قرار دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس کار بم دھماکے سے کریمیا اور روس کے اہم پل پر بہت بڑی آ گ بھڑک اٹھی۔ تاہم روس نے اس واقعے کے حوالے سے ابھی تک یوکرین یا کسی اور پر کوئی الزام نہیں لگایا ہے۔

    روس کی انسداد دہشتگردی کمیٹی (این سی اے) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کریمیا جانے والے پل پر ایک گاڑی میں دھماکا ہوا جس نے ٹرین کی 7 فیول بوگیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، دھماکے کے بعد موٹر وے سیکشن کو بند کر دیا گیا ہے۔

    روس کے صدر ولادمیر پیوٹن کو دھماکے کے حوالے سے بریف کیا گیا جس کے بعد انہوں نے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق اس کار بم دھماکے ذریعے ٹرین کے ساتھ موجود سات آئل ٹینکروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ واضح رہے یہ پل ٹرین کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جبکہ یوکرین کے ساتھ جنگ کی وجہ سے یہ پل روس کے لیے جنگی سامنان کی ترسیل کیلیے بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے اس ٹینکر دھماکے بعد پل پر سے گزرنے والی ٹریفک معطل ہو گئی حتیٰ کہ ٹرینوں کی آمدو رفت بھی رک گئی۔

    بیٹوں کو یوکرین کیخلاف جنگ میں بھیجنے کا انعام،پیوٹن نے چیچن سربراہ کوروسی فوج کے…

    یاد رہے کہ روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے کریمیا کو 2014 میں اپنا حصہ بنانے کے 4 سال بعد 2018 میں کیرچ اسٹریٹ کا افتتاح کیا تھا۔

  • یوکرین کے چار مقبوضہ علاقوں سے الحاق،امریکہ نے روس پر نئی پابندیاں لگا دیں

    یوکرین کے چار مقبوضہ علاقوں سے الحاق،امریکہ نے روس پر نئی پابندیاں لگا دیں

    امریکہ نے یوکرین کے چار مقبوضہ علاقوں سے الحاق کے خلاف روس پر سخت پابندیاں عائد کر دیں-

    باغی ٹی وی : امریکی پابندیوں کے تحت روس کے سیکڑوں افراد اور کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ روسی ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اور قانون سازی کرنے والے ارکان بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آگئے۔

    روس کا یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان:یوکرین اورمغربی ممالک نے مسترد کردیا

    امریکی وزیر خزانہ جنیٹ ییلن نے اعلان کیا ہے کہ روس کی طرف سے یوکرین کے چار علاقوں کو دھوکہ دہی کے ذریعے اپنا حصہ بنانے کے لیے کرائے گئے ریفرنڈم کو ہم نہیں مانتے اور اس روسی اقدام کے باعث روس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں یہ پابندیاں روس سے باہر بھی ہر اس شخص پر بھی ہوں گی جو روس کو اس سلسلے میں تعاون فراہم کرے گا اور سیاسی یا معاشی مدد دے گا۔


    وزیر خزانہ نے کہا کہ ان پابندیوں کا اطلاق روسی فوجی صنعتی کے 14 افراد، ان کے اہل خاندان اور سینئیر روسی حکام پر ہوگا، روسی قانون ساز ادارے کے 278 ارکان اور روسی مالیاتی شعبے کی تین اہم شخصیات پر یہ پابندیاں عائد ہوں گی-

    پیوٹن اپنے کیے کا خیمازہ بھگتیں گے،جوبائیڈن کی روسی صدر کو وارننگ

    امریکی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ ہم دھوکہ بازی کے ساتھ یوکرینی علاقوں کو روس میں شامل کرنے والے پیوٹن کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گےجس نے یوکرین کے علاقوں کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے اس لیے ہم روسی فوجی صنعت کو مزید کمزور کرنے کے لیے یہ اعلان کر رہے ہیں۔

    امریکی وزارت خزانہ کے ذیلی شعبے جو غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کا ذمہ دار ہے روسی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے 278 ارکان پر بھی پابندیوں کا اعلان کیا ہے ان میں ڈوما کے 109 ارکان جبکہ فیڈرل کونسل کے 169 ارکان بھی شامل ہیں اسی روسی سنٹرل بنک کے گورنر پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    امریکی پابندیوں میں چینی کمپنی بھی آئی ہے امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چینی کمپنی روس کی دفاعی صنعت کی مدد کر رہی تھی، حالانکہ امریکہ نے اس پر پابندیاں کر رکھی ہیں روسی نائب وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے علاوہ روسی قومی سلامتی کونسل کے حکام پر بھی پابندیاں لگائی ہیں۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر فائرنگ کے واقعے میں ہلاک

    امریکا نے اعلان کیا ہے کہ وہ 910 روسی حکام اور افراد پر امریکی ویزوں کے حصول کے لیے پابندی لگا رہے ہیں۔ ان میں روسی فوجی حکام کے ، بیلا روس کے فوجی حکام اور تمام روسی پراکسیز کے ارکان بھی شامل ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ دھوکہ دہی سے یوکرین کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔

    دوسری جانب روس نے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی یوکرینی علاقوں کے الحاق کے خلاف امریکہ کی قرارداد ویٹو کردی ہے۔

    واضح رہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے 4 علاقوں کو اپنے ملک کا حصہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔یہ اعلان یوکرین کے ان خطوں میں ایک ریفرنڈم کے بعد کیا گیا جس کے نتائج میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 99 فیصد عوام روس کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔

    روسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ڈونیٹسک،لوہانسک، خیرسون اور زاپورزیا علاقوں کے عوام اب ہمارے ہم وطن بن گئے ہیں۔

    روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

  • پیوٹن اپنے کیے کا خیمازہ بھگتیں گے،جوبائیڈن کی روسی صدر کو وارننگ

    پیوٹن اپنے کیے کا خیمازہ بھگتیں گے،جوبائیڈن کی روسی صدر کو وارننگ

    امریکی صدر جوبائیڈن نے روسی ہم منصب کی حالیہ تقریر کے بعد انہیں خبردار کردیا۔

    باغی ٹی وی : روسی صدر پیوٹن نے گزشتہ روز یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا اوراس موقع پر انہوں نے ان علاقوں کے دفاع کے لیے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی بھی دھمکی دی۔

    روسی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرکے ایک مثال قائم کی ہے یوکرین کے جن علاقوں سے الحاق کیا گیا وہ اب ہمیشہ روس کا حصہ رہیں گے۔

    روسی صدر کےبیان پر امریکی صدر نے اپنے رد عمل میں پیوٹن کو ایک لاپرواہ شخص قرار دیا اور کہا کہ پیوٹن ہمیں ڈرا نہیں سکتے، امریکا اور اس کے اتحادی خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں تقریب سے خطاب کے دوران جوبائیڈن نے روسی صدر کو وارننگ دی اور براہ راست پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے انگلی کیمرے کی طرف کی۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینیئر کمانڈر فائرنگ کے واقعے میں ہلاک

    امریکی صدر جو بائیڈن نے پیوٹن کو دھمکی دی کہ دنیا ان کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرے گی اور یہ کہ واشنگٹن یوکرین کے علاقوں زابوریجیا، خیرسن، ڈونیسٹک اور لوگانسک کے روس سے الحاق کو تسلیم نہیں کرے گا۔

    جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ نیٹو کی سرزمین کے ایک ایک انچ کے دفاع کے لیے مکمل تیار ہے، مسٹر پیوٹن آپ اسے غلط مت سمجھیں جو میں کہہ رہا ہوں، ایک انچ۔

    انہوں نے کہا کہ پیوٹن کسی پڑوسی ملک کی سرزمین پر قبضہ نہیں کر سکتے اور ان کے بقول اپنے کیے کا خیمازہ بھگتیں گے روسی صدر یوکرین کی جنگ کے اثرات سے دوچار ہیں اور انہوں نے اپنے ہم منصب کے حالیہ اقدامات کا حوالہ دیا۔

    بائیڈن کا خیال تھا کہ پیوٹن واشنگٹن پر نارڈ سٹریم گیس پائپ لائن کو سبوتاژ کرنے کا الزام لگا کر جھوٹ بنا رہے ہیں۔ ان کا ملک روس کے خطرات سے اپنے تمام نیٹو اتحادیوں کا دفاع کرنے کے لیے تیاری کا اعلان کر رہا ہے۔

    نیٹوکے سیکرٹری جنرل نے روس کے اس الحاق کوانتہائی سنگین قرار دیا ہے۔

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

  • روس کا یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان:یوکرین اورمغربی ممالک نے مسترد کردیا

    روس کا یوکرین کے 4 خطوں کے ساتھ الحاق کا اعلان:یوکرین اورمغربی ممالک نے مسترد کردیا

    ماسکو:روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے 4 خطوں کو اپنے ملک کا حصہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ماسکو سے ذرائع کے مطابق اس حوالے سے ایک تقریب میں روسی صدر نے یوکرین کے 4 خطوں کے روس کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے۔

    اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ‘یہ لاکھوں افراد کی مرضی ہے اور اب یہ چاروں روس کے نئے خطے بن چکے ہیں’۔یہ اعلان یوکرین کے ان خطوں میں ایک ریفرنڈم کے بعد کیا گیا جس کے نتائج میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 99 فیصد عوام روس کا حصہ بننے کے خواہشمند ہیں۔پانچ روز جاری رہنے والی پولنگ کے نتائج کو یوکرین اور مغربی ممالک نے مسترد کر دیا تھا۔

    روسی صدر نے اپنے خطاب میں کہا کہ ‘ڈونیٹسک،لوہانسک، خیرسون اور زاپورزیا خطوں کے عوام اب ہمارے ہم وطن بن گئے ہیں’۔انہوں نے یوکرین پر فوجی کارروائی روکنے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر زور دیا۔اس الحاق کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب یہ جنگ اس سرزمین پر لڑی جارہی ہے جسے روس نے اپنا قرار دیا ہے۔

    گزشتہ دنوں روسی صدر نے کہا تھا کہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے ضرورت ہوئی تو ہم جوہری ہتھیاروں کا استعمال بھی کرسکتے ہیں۔

    دوسری جانب یوکرین کی حکومت نے روس کے قبضے میں چلے جانے والے مقامات کو دوبارہ حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے ان خطوں کے الحاق کا فیصلہ مذاکرات کے امکان کو ختم کردے گا۔

     

    یوکرین میں سویلین قافلے پر روسی حملے میں 23 افراد ہلاک ہوگئے۔امریکی اور برطانوی میڈیا کے مطابق یہ حملہ یوکرین کے جنوبی ریجن زاپوریزیا میں کیا گیا جس میں 28 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں۔

    یہ تمام افراد مشترکہ طور اسی ریجن میں روس کے زیر قبضہ علاقے میں پھنسے ہوئے اپنے رشتہ داروں کو نکالنے جارہے تھے۔روس کی جانب سے سویلین قافلے پر ایس 300 سسٹم سے 16 میزائل داغے گئے۔یہ حملہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا جب روسی صدر پیوٹن بہت جلد یوکرین کے اس خطے سمیت دو علاقوں خرسون اور زاپوریزیا کو خودمختار حیثیت قرار دینے کی دستاویز پر دستخط کرنے والے ہیں۔

     

     

    ان علاقوں میں روس نے ایک متنازع ریفرنڈم کا انعقاد کرایا تھا جس پر یوکرین اور مغربی ممالک نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔اس سے قبل روس فروری میں ڈونسٹک اور لنشک کو بھی خودمختار علاقے قرار دینے کا اعلان کرچکا ہے۔

    ہیکرز نے دعوی کیا ہے کہ اب مزید آڈیو جمعہ کو جاری کی جائیں گی

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

  • یو کرین مقبوضہ علاقوں میں روس نواز رہنماؤں کا روس سے الحاق کا مطالبہ

    یو کرین مقبوضہ علاقوں میں روس نواز رہنماؤں کا روس سے الحاق کا مطالبہ

    یوکرین کے لوگانسک اور خیرسن خطوں کے روس نواز رہنماؤں نے بدھ کو صدر ولادیمیر پیوٹن سے ان علاقوں کا ماسکو کے ساتھ الحاق کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : روس نے یوکرین کے قابض علاقوں پر اب اپنی گرفت مضبوط کرنا شروع کر دی ہے لوگانسک اور خیرسن خطوں کے کریملن کے حامی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ یوکرین کے ان علاقوں کے رہائشیوں نے ریفرنڈم میں روس سے الحاق کی حمایت کی ہے۔

    روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    یوکرین کے روس کے قبضے میں جانے والے علاقے لوگانسک کے روس نواز رہنما لیونیڈ پاسیچنک نے صدر پیوٹن سے الحاق کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہاں کے باشندے آٹھ سالوں سے یوکرینی فوج کے حملوں کی زد میں ہیں۔

    روس نے اسی سال جزیرہ نما کرائمیا پر بھی قبضہ کر کے روس کے ساتھ الحاق کر لیا تھاپاسیچنک نے ایک بیان میں صدر پیوٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریفرنڈم میں جمہوریہ کی آبادی کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ لوہانسک کو روسی فیڈریشن کا حصہ بنانے پر غور کریں۔

    پاسیچنک کے اس اعلان کے فوری بعد یوکرین کے جنوبی خطے خیرسن علاقے کے روس نواز رہنما ولادیمیر سالڈو کی جانب سے بھی اسی طرح کی اپیل کی گئی۔ اس خطے کو روس نے رواں سال فروری میں حملے کے بعد اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔

    سالڈو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ہماری عوام نے تاریخی ریفرنڈم میں روسی فیڈریشن کی کثیر القومی آبادی کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے جس میں تمام لوگ قانون کی نظر میں برابر ہیں-

    حالات نےمجبورکیا توجوہری ہتھیاراستعمال کرنےسےگریزنہیں کریں گے:روس

    ادھر جرمنی نے کہا ہے کہ روس کے مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں ہونے والے روس سے الحاق کے ریفرینڈم کے نتائج کو وہ کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔

    جرمنی کے چانسلر اولف شولز نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کو فون کال پر بتایا کہ جرمنی اس جعلی ریفرینڈم کے نتائج کبھی قبول نہیں کرےگاجنوب میں خیرسن اور زیپوریژیا اور مشرق میں دونیتسک اور لوگانسک کےعلاقےروس اور کرائمیا کے درمیان ایک زمینی راہداری بناتے ہیں۔

    روس نے جزیرہ نما کرائمیا کو 2014 میں ضم کر لیا تھا۔ مجموعی طور پر یہ علاقے یوکرین کے رقبے کا 20 فیصد بنتے ہیں۔ ریفرینڈم کے بعد یوکرین نے یورپی یونین اور نیٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس پر زیادہ سخت پابندیاں عائد کریں اور یوکرین کے لیے مزید فوجی امداد بھیجیں۔ یہ مطالبہ روس کی اس دھمکی کے باوجود آیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ یوکرین کے حملوں کے خلاف ایٹمی اسلحہ استعمال کر سکتا ہے۔

    امریکا کا پاکستان کو مزید 10 ملین ڈالر دینے کا اعلان

  • روس سے جرمنی گیس پائپ لائنوں میں لیک کا واقعہ تخریب کاری قرار

    روس سے جرمنی گیس پائپ لائنوں میں لیک کا واقعہ تخریب کاری قرار

    لندن :روس سے جرمنی گیس پائپ لائنوں میں لیک کا واقعہ تخریب کاری قرار,اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کے سربراہ جوزپ بوریل نے روس اور جرمنی میں دو گیس پائپ لائنوں میں لیک کو جان بوجھ کر کیا گیا عمل قرار دیا ہے۔

    بدھ کو ایک بیان میں جوزپ بوریل کا کہنا تھا کہ یورپ میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں جان بوجھ کر کوئی خلل ڈالنا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے، اور اس کا ایک متحد جواب دیا جائے گا۔

    اے ایف پی کے مطابق جوزپ بوریل نے نورڈ سٹریم 1 اور 2 پائپ لائنوں سے لیک ہونے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تمام دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لیک ایک دانستہ فعل کا نتیجہ ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی تحقیقات کی حمایت کریں گے جس کا مقصد مکمل وضاحت حاصل کرنا ہو کہ کیا اور کیوں ہوا۔

    دوسری طرف یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ نارڈ سٹریم کی تخریب کاری کی کارروائیاں یورپی یونین کو توانائی کی فراہمی کو مزید غیر مستحکم کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں۔

    خیال رہے کہ روس سے جرمنی تک گیس پہنچانے والی پائپ لائنوں نورڈ سٹریم 1 اور 2 روس کو یورپ سے جوڑنے والے سٹریٹیجک انفراسٹرکچر ہیں جو سویڈن اور ڈنمارک کے اقتصادی زونز کے مقامات پر لیک ہوئی۔

    سویڈن اور پولینڈ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ بحیرہ بالٹک میں پائپ لائنوں سے لیک کی سب سے زیادہ ممکنہ وجہ تخریب کاری تھی، جبکہ پولینڈ نے روس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی وجہ یوکرین میں جنگ کو بڑھاوا دینا ہو سکتا ہے۔

    منگل کو روسی حکومت کے ترجمان نے بھی میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ لیکس پر انہیں شدید تشویش ہے اور اس کی فوری تحقیقات ہونی چاہیے۔

  • روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں:ہنگری

    ہنگری کے وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ روس کے خلاف پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

    فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ہنگری کے وزیراعظم ویکٹر اوربن نے یورپی یونین سے اپیل کی ہے کہ وہ دیر ہونے سے قبل روس کے خلاف امریکی پابندیوں کے بارے میں واشنگٹن سے بات چیت کرے۔انھوں نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیاں یورپی عوام کی غربت کا باعث بنی ہیں اور یہ غربت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔اوربن نے کہا کہ روس کے خلاف عائد کردہ پابندیوں کا خود یورپی ملکوں پر الٹا اثر پڑ رہا ہے۔

    حال ہی میں ہنگری کے وزیر خارجہ نے بھی روس کے خلاف پابندیوں کے یورپ پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کی بنا پر ان پابندیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

    واضح رہے کہ روس کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کے بعد سے روسی گیس کے متبادل کے فقدان کی بنا پر ہنگری ہمیشہ ان پابندیوں پر تنقید کرتا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک میں توانائی کی قلت اور تیل و گیس کی قیمت مسلسل بڑھتی جا رہی ہے جس سے ان ممالک کے عوام پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ دنیا گزشتہ دو سال تک کورونا جیسی عالمی وبا سے نبرد آزما ہوکر لاک ڈاؤن کے باعث بد ترین معاشی بحران کا شکار ہونے کے بعد دوبارہ معاشی استحکام کی طرف لوٹ رہی تھی کہ رواں سال کے آغاز میں روس یوکرین جنگ نے اس معاشی بحران کو دوچند کر دیا ہے، دنیا بھر میں بڑھتے مہنگائی کے رجحان نے اس کرہ ارض پر غذائی قلت کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔

    یورپی شہریوں نے فالتو اخراجات سے بھی ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا ہے ، جس کے بعد اب وہ صرف ضروری اشیا کی خریداری پر ہی اکتفا کر رہے ہیں۔ افراطِ زر میں بے تحاشہ اضافے کے بعد اب اشیائے خورونوش کی منڈیوں اور تیل کے ساتھ ساتھ کارسازی اور تعمیرات کے شعبوں میں بھی قیمتوں میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے اور اب امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ رواں برس 27 رکنی یورپی یونین کو مجموعی طور پر 7 فیصد سے زائد افراطِ زر کا سامنا ہوگا۔ مختلف یورپی ممالک میں مچھیروں اور کسانوں نے مجموعی مہنگائی کے تناظر میں اپنی پیداوار میں اضافہ کر دیا ہے تو دوسری جانب پٹرول کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے کی وجہ سے مال بردار ریل گاڑیوں اور سامان بردار ٹرکوں کی نقل و حرکت میں بھی کمی آئی ہے۔

    خوراک کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے روزمرہ استعمال کے لیے روٹی کی مختلف اقسام بھی مہنگی ہوچکی ہیں اور خاص طور پر پولینڈ سے بیلجیم تک اشیائے خورونوش کی دکانوں پر بریڈ مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ، پولینڈ میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے بعد بعض یورپی حکومتوں نے ٹیکسوں کی مد میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی امداد کے اشارے بھی دیے ہیں۔

    اس جنگ نے توانائی اور خوراک کے حوالے سے ساری دنیا کو اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کردیا ہے۔ پاکستان اور دنیا کے دیگر ممالک جہاں امریکا نواز حکومتیں قائم ہیں وہاں روسی تیل حزب اختلاف کے لیے ایک سیاسی ہتھیار بھی ہے۔

    اچھا ہوتا وزیراعظم اپنی تقریر میں ڈاکٹر عافیہ کا ذکر کرتے۔ حافظ سعد رضوی

     یہودی عبادت گاہ میں ہلاک یرغمالی ملک فیصل اکرم نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ملاقات کروائی جائے، اہلخانہ عدالت پہنچ گئے

  • حالات نےمجبورکیا توجوہری ہتھیاراستعمال کرنےسےگریزنہیں کریں گے:روس

    حالات نےمجبورکیا توجوہری ہتھیاراستعمال کرنےسےگریزنہیں کریں گے:روس

    جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا حق حاصل ہے، روس نے خبردار کردیا،اطلاعات کے مطابق روس نے ایک بار پھر دنیا پر واضح کردیا ہے کہ ماسکو اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جارحیت کے جواب میں وہ جوہری ہتھیار استعمال کر سکتا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں روسی سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدویدیف نے کہا کہ ماسکو کو اپنے جوہری نظریے کی سختی سے تعمیل کرتے ہوئے ضرورت پڑنے پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا حق ہے۔

    میدویدیف کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن اور برطانوی وزیرِ اعظم لِزٹرِس کے ساتھ ساتھ دیگر مغربی سیاست دان نفرت کی آگ کو بھڑکارہے ہیں۔انہوں نے کہا کے ایک طرف مغرب کی جانب سے روس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ ‘جوہری بٹن’ سے اپنا ہاتھ ہٹا لے ساتھ ہی دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر روس نے جوہری ہتھیاروں کا استعمال کیا تو ہمیں تباہ کن نتائج کے لئے تیار رہے۔

    میدویدیف نے انکشاف کیا کہ برطانوی وزیرِاعظم لِز ٹرِس نے روس کے ساتھ جوہری جنگ شروع کرنے کے لیے بھی آمادگی ظاہر کردی ہے۔یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اگرجنگ مزید طویل ہوئی تو روس یوکرین کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کے خلاف جوہری حملہ کرسکتا ہے تاکہ یوکرین کو دی جانے والی کمک کو روکا جاسکے

  • پیوٹن یوکرین میں آپریشن کی خود کمان کررہے ہیں،امریکی انٹیلی جنس

    پیوٹن یوکرین میں آپریشن کی خود کمان کررہے ہیں،امریکی انٹیلی جنس

    امریکی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ پیوٹن یوکرین میں آپریشن کی خود کمان کررہے ہیں-

    باغی ٹی وی : امریکی انٹیلی جنس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوج اس بات پر منقسم ہے کہ اس ماہ میدان جنگ میں یوکرین کی غیر متوقع پیش قدمی کا مقابلہ کیسے کیا جائے ماسکو مشرق اور جنوب دونوں میں اپنے آپ کو دفاعی انداز میں تلاش کر رہا ہے۔

    "العربیہ” کے مطابق دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن خود میدان میں موجود جرنیلوں کو براہ راست ہدایات دیتے ہیں۔ یہ انتظامی حربہ جدید فوج میں انتہائی غیر معمولی ہے ان ذرائع نے عندیہ دیاکہ پیوٹن کی مداخلت قیادت کے ڈھانچے میں خرابی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس نے یوکرین کے ساتھ جنگ کو دوچار کیا۔

    ان ذرائع میں سے ایک نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو بتایا کہ روسی افسران کی بات چیت کی مداخلت سے آپس میں دلائل اور ماسکو سے فیصلے کے ماخذ کے بارے میں گھر واپس آنے والے دوستوں اور رشتہ داروں کی شکایات سامنے آئیں۔

    روس نے یوکرین میں اجتماعی قبریں ملنےکی خبرکو جھوٹا قرار دیدیا

    انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ فوجی رہنماؤں کے ساتھ فوجی حکمت عملی پر بڑے اختلافات ہیں جو اس بات پر متفق ہونے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں کہ دفاعی خطوط کو مضبوط بنانے کے لیے اپنی کوششوں کو کہاں مرکوز کیا جائے۔

    روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ شمال مشرق میں خارکیف کی طرف افواج کو دوبارہ تعینات کر رہا ہے، جہاں یوکرین نے سب سے زیادہ ڈرامائی کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن امریکی اور مغربی ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی افواج کا بڑا حصہ جنوب میں موجود ہے، جہاں یوکرین بھی موجود ہے اور آپریشن کر رہا ہے۔

    نیٹو کے ایک سینیر اہلکار نے کہا ہے کہ’ماسکو میں حکام روس کی پسپائی کے لیے دیگر عوامل کو موردِ الزام ٹھہرانے میں جلدی کر رہے ہیں کریملن کے حکام اور سرکاری میڈیا کے تجزیہ کار خارکیف میں ناکامی کی وجوہات پر بے تکلفی سے بحث کر رہے ہیں اور ایک مثالی انداز میں ایسا لگتا ہے کہ کریملن پیوٹن اور روسی فوج سے جنگی جرائم کےالزامات ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    روس کا ایک بار پھر یوکرین کے جوہری پلانٹ پر حملہ