Baaghi TV

Tag: روس

  • روس یوکرین میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے،امریکا

    روس یوکرین میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے،امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ یوکرین میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال کرنے سے باز رہے۔

    باغی ٹی وی : امریکا کے صدر جو بائیڈن نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے روس کو خبردار کیا کہ وہ یوکرین جنگ میں کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیار استعمال نہ کرے۔اگر روس نے ایسا کیا تو اس سے جنگ کا نقشہ تبدیل ہوجائے گا۔

    یوکرین کو ہتھیار فروخت کرنا اخلاقی طور پر درست ہے،پوپ فرانسس

    صدر بائیڈن نے کہا کہ روس کی جانب سے کیمیائی یا ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے نتائج ہوں گےایسے کسی بھی اقدام کا جواب دیا جائے گا لیکن وہ کیا ہوگا اس کی تفصیل بتانا قبل از وقت ہوگا۔

    انہوں نے کہا کہ روس انتہا کی کارروائی کرے گا اس کی جوابی کارروائی بھی اسی شدت کی ہوگی۔یوکرین کیخلاف جنگ روسی توقعات کے برعکس ثابت ہوئی۔

    دوسری جانب یوکرین کے علاقے خار کئیف کے شہر ایزوم میں روسی فوج پر مغربی دنیا اور یوکرین کی جانب سے انسانیت سوز مظالم کے الزامات اب سیٹلائٹ تصاویر میں روسی افواج کی بربریت کے روح فرسا مناظر بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ سامنے آنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ درختوں کے درمیان اجتماعی قبر میں لاشیں ہی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔

    تصاویر میں روسی فوج کے انخلا سے پہلے اور بعد کے جنگل کے مناظر دکھائے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ درختوں کے درمیان اجتماعی قبر کھودی گئی تھی لاشوں کے یہ مناظر اس وقت سامنے آئے جب مقامی حکام نے قبر سے سینکڑوں لاشیں نکالنا شروع کیں جن میں کچھ کو ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ بعض کے گلے میں پٹے تھے۔

    ایران میں زیرحراست خاتون کی پولیس کے تشدد سے موت "ناقابل معافی” ہے،امریکا

    جمعے کے روز حفاظتی سوٹ اور ماسک پہنے ہوئے یوکرین کے اہلکاروں نے قبر کی جگہ کو کھودنا شروع کیا تو درختوں کے درمیان تقریبا 200 لاشیں بکھری ہوئی تھیں خار کئیف کے گورنر نے کہا یہ ایک اجتماعی قبر ہے لاشوں کے ہاتھ پیچھے سے بندھے ہوئے ہیں، حکام تحقیقات کریں گے اور اس معاملہ سے قانونی طور پر نمٹا جائے گا۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ قبرستان روسی جنگی جرائم کا ثبوت ہے انہوں نے کہا کہ بہت سی لاشیں شمال مشرق میں دیگرمقامات پربھی مدفون ہیں اس صورتحال میں غیرملکی طاقتیں یوکرین کو ہتھیاروں کی سپلائی بڑھائیں۔ جنگ کے نتائج کا انحصار باہر سے ہتھیاروں کی ترسیل کی رفتار پر ہے۔

    انہوں نے کہا یہاں 450 لاشوں کو دفن کیا گیا ہے لیکن بہت سے مقامات پر الگ الگ طور پر بھی لوگوں کو قتل کرکے دفنایا گیا ہے۔ ملنے والی ان لاشوں کی حالت سے واضح ہے کہ ان لوگوں پر تشدد کیا گیا۔ کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں سے پورے خاندان غائب ہیں۔

    یوکرینی فورسز کے شہر پر قبضہ کے بعد گزشتہ ہفتے روس نواز انتظامیہ کا سربراہ وٹالی گینشیف شہر سے نکل گیا تھا۔ گینشیف نے ان مناظر سامنےآنے کے ردعمل میں روسی سرکاری ٹی وی’’24‘‘ کو بتایا کہ میں نے ایزوم میں کسی اجتماعی تدفین کے متعلق نہیں سنا۔

    پاکستانی عوام اس وقت تباہی سے دوچار ہیں ،ایسی تباہی آپ نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہو گی، سیلاب پر…

    روسی صدر پیوٹن نے یوکرین کے ان الزامات کا فوری جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے یوکرینی افواج کی جانب سے جوابی کارروائیوں پر خبر دار کیا کہ اگر یوکرینی افواج کی جانب سے حملے جاری رہے تو ماسکو زیادہ طاقت سے جواب دے گا۔

    واضح رہے کہ یوکرین فوج نے تقریبا دو ہفتے قبل ایزوم کا قبضہ واپس لینے کیلئے حملے شروع کئے تھے یوکرینی فوج نے جنوب کا علاقہ واپس لینے کیلئے بھی بڑے حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ وہ دریائے دنیپرو کے مغربی کنارے پر موجود ہزاروں روسی فوجیوں کا محاصرہ اور خیرسون شہر کو بھی واپس لینا چاہتا ہے۔ خیر سون واحد بڑا شہر ہے جو اب روسی قبضہ میں ہے۔

  • ہم نے 2000 مربع کلو میٹرعلاقہ روسی فوج سے چھین لیا ہے، یوکرینی صدر

    ہم نے 2000 مربع کلو میٹرعلاقہ روسی فوج سے چھین لیا ہے، یوکرینی صدر

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نےکہا ہے کہ یوکرین کی فوج نے ستمبر میں 2000 کلومیٹر کے علاقےپر دوبارہ قبضہ کرکے اسے روسی فوج سے چھین لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق یو کرینی صدر زیلنسکی نے ہفتے کے روز زور دیتے ہوئے کہا کہ روسی فوج شمال مشرق اور جنوب میں یوکرین کے جوابی حملے سے بچ کر "صحیح انتخاب” کر رہی ہے اب تک ستمبر کے اوائل سے تقریباً 2,000 کلومیٹر کو آزاد کرایا جا چکا ہے۔حالیہ دنوں میں روسی فوج نے ہمیں اپنی بہترین کارکردگی دکھائی ہے روسی فوج فرار ہو رہی ہے اور فرار اس کے لیے صحیح آپشن ہے۔

    روس کو ڈرونز طیارے فراہم کرنے پر واشنگٹن کی کارروائی:امریکا نے ایران پر نئی…

    انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے یوکرین کی فوج نےاعلان کیا تھا کہ وہ کوبیانسک (مشرقی یوکرین) کے اہم سپلائی ٹاؤن میں داخل ہو گئی ہے، جس پر روسی افواج نے کئی ماہ سے قبضہ کر رکھا تھا۔

    یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانوی انٹیلیجنس نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ یوکرین کی افواج کوبیانسک کے قریب پہنچ رہی ہیں اور روس کے ڈونباس کے سپلائی راستوں کو خطرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب جمعہ کے روز روسی فوج نے روس کے ساتھ سرحد پر واقع اس علاقے میں یوکرین کی افواج کی جانب سے خلاف ورزی کے جواب میں یوکرین میں خارکیف کی طرف کمک بھیجنے کا اعلان کیا۔

    شمالی کوریا نے ایٹمی حملہ کرنے کا قانون منظور کرلیا

    خارکیف نے جمعرات کو اعلان کیا تھا کہ اس نے حالیہ دنوں میں شمال مشرقی یوکرین میں اس علاقے کے تقریباً 1,000 مربع کلومیٹر پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے اس میں بالا کلیا شہر بھی شامل ہے۔

    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ کیف فورسز نے ملک کے شمال مشرق میں روسی افواج سے 30 قصبوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہےکہ ماسکو کی جانب سے کمک کی تعیناتی سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس "بھاری قیمت” چکا رہا ہے جبکہ یورپی یونین کے 27 وزرائے خزانہ نے جمعہ کو یوکرین کو قرض کی شکل میں پانچ ارب یورو مالیت کی نئی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اسے جنگ کے اثرات سے نمٹنے میں مدد مل سکے۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ انہوں نے یوکرین میں روسی افواج کے ہاتھوں 400 سے زائد من مانی گرفتاریوں، جبری گمشدگیوں اور یوکرینی فورسز کی جانب سے اسی طرح کے درجنوں کیسز رپورٹ کیے ہیں۔

    مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے: پوتن

    دوسری جانب یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے روس کے حملے کے 200 دن مکمل ہونے کے موقع پر یوکرینی افواج کو کامیاب دفاع پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔ اس موقع پر یوکرینی صدر نے ایمرجنسی سروسز اور یوکرینی عوام کو بھی خراج تحسین پیش کیا ہے-

    اتوار کے روز اپنے خطاب میں زیلنسکی کا کہنا تھا کہ میں مسلح افواج کی جانب سے دشمن کے 2000 ٹینک، 4500 آرمرڈ گاڑیاں، 1000 سے زائد توپوں، 250 جہازوں، 200 ہیلی کاپٹر ، 1000 ڈرون، 15 کشتیاں اور ہزاروں دیگر فوجی سامان تباہ کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں مجھے یقین ہے کہ یوکرین اس مشکل راہ سے گزرتے ہوئے فتح حاصل کر لے گا۔

    امریکی ورلڈ آرڈرنہیں اب چلےگا’رشین ورلڈ:ولادیمیر پیوٹن نے نئی خارجہ پالیسی کی…

    یوکرینی افواج نے ملک کے شمال مشرقی حصے میں روسی افوج کے خلاف جوابی کارروائیاں شروع کر رکھی ہے کیف افواج کی جانب سے خارکیف کے علاقے میں پیش قدمی کے سبب روسی افواج کو بڑی تعداد میں ہتھیار اور فوجی سامانا چھوڑ کر پسپائی اختیار کرنا پڑی۔

  • مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے: پوتن

    مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے: پوتن

    ماسکو:روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے مغرب کی طرف سے ماسکو پر عائد پابندیوں کو "کم نظری” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پوری دنیا کے لیے خطرہ ہیں۔پوتن کا کہنا ہے کہ مغربی پابندیاں پوری دنیا کے لیے خطرہ:امریکہ دنیا کوخطرات میں دھکیل رہا ہے

    پیوتن نے یہ ریمارکس بدھ کو ملک کے مشرق بعید کے بندرگاہی شہر ولادی ووستوک میں ایسٹرن اکنامک فورم سے خطاب کے دوران کہے اور کہا کہ مغرب نے پوری دنیا پر اپنا تسلط مسلط کرنے کی "جارحانہ” کوشش سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

    "وبائی بیماری کی جگہ عالمی نوعیت کے نئے چیلنجز نے لے لی ہے، جو پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے، میں مغرب میں پابندیوں کے رش کے بارے میں بات کر رہا ہوں اور مغرب کی جانب سے دوسرے ممالک پر اپنا طریقہ کار مسلط کرنے کی صریح جارحانہ کوششوں کے بارے میں بات کر رہا ہوں۔ ان کی خودمختاری کو دور کرنا، انہیں ان کی مرضی کے تابع کرنے کے لیے،‘‘ انہوں نے کہا۔

    پوتن نے کہا کہ مغرب بین الاقوامی تعلقات میں "ناقابل واپسی ٹیکٹونک تبدیلیوں” کو تسلیم کرنے سے گریزاں رہا ہے اور یہ کہ ایشیا پیسیفک خطہ انسانی وسائل، سرمائے اور پیداواری صلاحیتوں کے لیے مقناطیس بن گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود مغربی ممالک پرانے عالمی نظام کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا فائدہ انہیں ہی پہنچا۔

    روسی صدر نے مزید کہا کہ یوکرین میں اس کے فوجی حملے کے جواب میں مغربی پابندیوں کے نفاذ کے بعد روس نے مشرق وسطیٰ کی منڈیوں میں داخل ہونے کے مزید مواقع دیکھے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ روس کو تنہا کر کے کوئی نہیں جیت سکے گا، یہ ناممکن ہے۔

    پوتن نے یہ بھی اصرار کیا کہ یوکرین میں فوجی کارروائیوں کا مقصد روس کی خودمختاری کو مضبوط کرنا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ یوکرین جاری جنگ کے دوران اناج برآمد کرنے کے قابل ہو۔

    روسی صدر نے یہ بھی متنبہ کیا کہ خوراک کی عالمی منڈی میں مسائل مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایک انسانی تباہی آنے والی ہے۔

    24 فروری کو یوکرین میں روس کے "خصوصی فوجی آپریشن” کے آغاز کے بعد سے، امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کی جانب سے ماسکو پر بے مثال پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    جاری جنگ اور یوکرین کی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی نے یوکرین کو اپنی زرعی مصنوعات کی ترسیل سے روک کر عالمی خوراک کی فراہمی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ جولائی میں، روس اور یوکرین نے اقوام متحدہ اور ترکی کے ساتھ اناج کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے پر ایک معاہدہ کیا تھا۔

    روس اور یوکرین مل کر گندم کی عالمی سپلائی کا تقریباً ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں۔خوراک کے بحران کے علاوہ مغرب کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں نے بھی یورپ میں توانائی کے بدترین بحران کو جنم دیا ہے۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • امریکی ورلڈ آرڈرنہیں اب چلےگا’رشین ورلڈ:ولادیمیر پیوٹن نے نئی خارجہ پالیسی کی منظوری دیدی

    امریکی ورلڈ آرڈرنہیں اب چلےگا’رشین ورلڈ:ولادیمیر پیوٹن نے نئی خارجہ پالیسی کی منظوری دیدی

    ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے نئی خارجہ پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔ "رشین ورلڈ” کے نام سے پالیسی میں بھارت اور چین کو خصوصی مقام دیا جائے گا جبکہ مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکا اور افریقہ سے تعلقات مزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔

    ولادیمیر پیوٹن نے روسی دنیا کے تصور کے گرد مبنی نئے خارجہ پالیسی نظریے کو منظوری دی۔ یہ تصور قدامت پسند نظریات کے حامل افراد استعمال کرتے رہے ہیں اور وہ روسی بولنے والوں کی حمایت میں بیرون ملک مداخلت کو جائز قرار دیتے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے خلاف جنگ شروع کرنے کے کوئی چھ ماہ بعد شائع ہونے والی 31 صفحات پر مشتمل اس انسانی ہمدردی کی پالیسی میں کہا گیا ہے روس کو روسی دنیا کی روایات اور نظریات کی حفاظت، تحفظ اور ترقی کی کوشش کرنی چاہئے۔

    اس پالیسی کے مطابق روسی فیڈریشن بیرون ملک مقیم اپنے ہم وطنوں کو ان کے حقوق کے حصول میں مدد فراہم کرتا ہے تاکہ ان کے مفادات کے تحفظ اور ان کی روسی ثقافتی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

    روس میں دائیں بازو کے خیالات کے ایسے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جو آج بھی سابقہ سوویت یونین کے جغرافیائی علاقے یعنی بالٹک سے وسطی ایشیا تک کے علاقے پر اپنا جائز حق مانتے ہیں۔ حالانکہ اس علاقے کے بہت سے ممالک کے علاوہ مغربی دنیا بھی اس حق کو ناجائز سمجھتی ہے۔

    نئی خارجہ پالیسی کے مطابق روس کوسلاوک ملکوں، چین اور بھارت کے ساتھ تعاون میں اضافہ کرنا چاہئے اور مشرق وسطیٰ، لاطینی امریکا اور افریقہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہئے۔ ماسکو کو جارجیا کے دو علاقوں ابخازیہ اور اوسیتیا کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنا چاہیے۔ ماسکو نے 2008 میں جارجیا کے خلاف جنگ کے بعد ان دونوں علاقوں کو آزاد تسلیم کیا تھا۔ اس کے علاوہ مشرقی یوکرین میں دو الگ ہونے والے علاقوں، خود ساختہ ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ اور لوہانسک عوامی جمہوریہ کو بھی مضبوط کرنا چاہئے۔

    اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ جب تک ماسکو کے خلاف پابندیاں نہیں اٹھائی جاتیں، اس وقت تک یورپ کو روسی گیس کی سپلائی دوبارہ نہیں شروع کی جائے گی۔ نورڈ اسٹریم 1 پائپ لائن کو بند کرنے کے فیصلے کی واحد وجہ مغربی ممالک کی پابندیاں ہیں۔

    پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

    وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

    باغی ٹی وی بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی آواز بن گیا ہے.

  • امریکہ نے تائیوان کے لیےمزید1 ارب 10 کروڑ ڈالرکا جدید اسلحہ روانہ کردیا

    امریکہ نے تائیوان کے لیےمزید1 ارب 10 کروڑ ڈالرکا جدید اسلحہ روانہ کردیا

    بیجنگ:امریکا نے تائیوان کے لیے 1 ارب 10 کروڑ ڈالر کے آرمز پیکج کا اعلان کر دیا۔خبر ایجنسی کے مطابق امریکا نے تائیوان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے نئے اسلحہ پیکج کی منظوری دے دی جو بائیڈن انتظامیہ کی طرف سے تائیوان کے لیے سب بڑا اسلحہ پیکج ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق تائیوان 60 ہرپون بلاک ٹو میزائل کی خریداری پر 355 ملین ڈالر خرچ کرے گا۔ اس سسٹم کے ذریعے سمندر کے راستے کسی بھی حملے کو ناکام بنایا جاسکے گا۔خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اسلحہ پیکج میں 856 ملین ڈالر کے 100 سے زائد سائیڈونڈر میزائل بھی شامل ہیں۔

     

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنر کی ملاقات

    واضح رہے کہ امریکہ تائیوان کو چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور تائیوان کے حوالے سے امریکہ اور چین کے مابین کچھ عرصے سے سرد جنگ جاری ہے تاہم اس میں شدت اس وقت آئی جب گزشتہ مہینے امریکی کانگریس کی اسپیکر نینسی پلوسی نے چین کے سخت انتباہ کے باوجود تائیوان کا دورہ کیا۔

    دوسری طرف ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اس ملک کی افواج روس کی جانب سے منعقدہ فوجی مشقوں میں شرکت کر رہی ہیں اور ماسکو کے ساتھ نئی دہلی کا فوجی تعاون کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    قابل ذکر ہے کہ روس کی جانب سے بحر جاپان اور روس کے مشرقی سمندروں میں ووسٹوک دو ہزار بائیس فوجی مشقوں کا سلسلہ جمعرات کی صبح سے شروع ہوچکا ہے جس میں چین اور ہندوستان سمیت گیارہ ممالک نے شرکت کی ہے۔

    ادھر یوکرین کی جنگ کے بہانے واشنگٹن مشقوں میں شریک ممالک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا تاہم تیرہ ممالک اس وسیع برّی، بحری اور فضائی فوجی مشقوں میں شامل ہوچکے ہیں۔ یہ مشقیں سات ستمبر تک جاری رہیں گی۔

  • یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت

    یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت

    کیف:یوکرین روس کے خلاف بڑی احتیاط سے کام لے:غلطی کی گنجائش نہیں:امریکہ واتحادیوں کی نصیحت ,اطلاعات کے مطابق امریکی اور مغربی عہدیداروں اور یوکرائنی ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ موجودہ یوکرائنی جوابی کارروائی کی تیاری میں واشنگٹن نےکیف پر زور دیا کہ وہ آپریشن کو اپنے مقاصد اور اس کے جغرافیہ دونوں میں محدود رکھے تاکہ متعدد محاذوں پر حد سے زیادہ توسیع اور الجھنے سے بچ سکے۔

    ذرائع نے بتایا کہ ان مباحثوں میں کیف کے ساتھ "جنگی کھیل” میں شامل ہونا شامل تھا – تجزیاتی مشقیں جن کامقصد یوکرائنی افواج کو یہ سمجھنےمیں مددکرنا تھا کہ مختلف منظرناموں میں کامیاب ہونے کے لیےانہیں کس طاقت کی سطح کواکٹھا کرنا ہوگا۔امریکی اوریوکرائنی حکام نے بتایا کہ یوکرینی ابتدائی طور پر ایک وسیع تر جوابی کارروائی پر غورکر رہے تھے، لیکن حالیہ ہفتوں میں، کھیرسن کےعلاقے میں، جنوب تک اپنے مشن کو محدود کر دیا۔

    سپریم کورٹ ،نیب قانون میں ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پرہوئی سماعت

     

    پینٹاگون کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل پیٹ رائڈر نےسی این این کو بتایا کہ "امریکہ کا یوکرین کے ساتھ متعدد سطحوں پر معمول کے مطابق ملٹری ٹو ملٹری ڈائیلاگ ہے۔ ہم ان مصروفیات کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔عام طورپرہم یوکرین کے باشندوں کو معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ انہیں بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے۔ وہ خطرات کا سامنا کرتے ہیں اور روسی جارحیت کے خلاف اپنے ملک کا دفاع کرتے ہیں۔ بالآخر، یوکرینی اپنی کارروائیوں کے حتمی فیصلے کر رہے ہیں۔”

    دنیا میں تیل کی قیمت گررہی جبکہ حکومت مہنگا کررہی. شیخ رشید

    حکام کا کہنا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ اب یوکرین اور روسی فوجوں کے درمیان برابری بڑھ گئی ہے۔ لیکن مغربی حکام نوزائیدہ یوکرائنی آپریشن کو – جو پیر کو جنوبی صوبے خرسن میں شروع ہوا تھا – کو ایک حقیقی "جوابی کارروائی” کا نام دینے سے ہچکچا رہے ہیں۔

    بارشوں اور سیلاب سےسندھ میں 100کلو میٹر چوڑی جھیل وجود میں آگئی،ناسا نے تصویر…

    تازہ ترین انٹیلی جنس سے واقف ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ یوکرین کے کھوئے ہوئے علاقے کو دوبارہ حاصل کرنے میں کتنا کامیاب ہونے کا امکان ہے یہ ایک کھلا سوال ہے۔ یوکرائنی حکام پہلے ہی نوٹ کر چکے ہیں کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر ایک سست کارروائی ہو گی، اور سزا کے طور پر سردی کا موسم آنے والا ہے اور پھر موسم بہار کی ابتدائی کیچڑ، یہ دونوں لڑائی کو روکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

  • روسی افواج کے تابڑتوڑحملے یوکرینی افواج کو بھاری جانی ومالی نقصان

    روسی افواج کے تابڑتوڑحملے یوکرینی افواج کو بھاری جانی ومالی نقصان

    ماسکو:یوکرین جنگ کو چھے مہینے ہوگئے لیکن اس جنگ کے عنقریب بند ہونے کے امکانات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ اس دوران روسی فوج کی جانب سے یوکرینی فوج کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں‎ نئے اعداد و شمار جاری کئے گئے ہیں ۔

    روسی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روس کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو انجام پانے والی روسی فوج کی ایک روزہ خصوصی کارروائی میں بارہ سو سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ پانچ یوکرینی فوجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔

    روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج نے اس ایک روزہ خصوصی فوجی آپریشن میں یوکرینی فوج کے چوراسی ٹینک، چھیالیس عام فوجی اورسینتیس بکتر بند اور آٹھ منی ٹرک تباہ کئے ہیں ۔

    دوسری جانب یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے یوکرین کے لئے فوجی تربیت کے مشن کے بارے میں یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی خبر دی ہے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بورل نے پراگ میں یورپی یونین کے وزرائے دفاع کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے موقع پر کہا ہے کہ صورت حال انتہائی ابتر بنی ہوئی ہے ۔ جوزف بورل کا کہنا ہے کہ یورپ، یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے لئے وزرائے دفاع کی اس نشست میں فوجی تربیت کے مشن کے منصوبے کے بارے میں گفتگو کر رہا ہے۔

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ نے کہا کہ فوجی تربیت کے اس مشن کے بارے میں یورپی ملکوں کے وزرائے دفاع کی جانب سے مجموعی طور پر سیاسی مفاہمت کے حصول کی اشد ضرورت ہے۔ اس سے قبل جوزف بوریل نے کہا تھا کہ یہ بات منطقی نظر آتی ہے کہ جو جنگ اب تک جاری رہی ہے اسے مادی حمایت سے بھی زیادہ دوسری چیزوں کی ضرورت ہے جن میں فوجی تربیت اور فوج کی تعمیر نو کی ضرورت بھی شامل ہے۔

    واضح رہے کہ یورپی ملکوں اور خاص طور سے امریکہ نے جنگ یوکرین میں روس کے خلاف پابندیاں عائد اور کیف کو مختلف قسم کے ہتھیار فراہم کر کے نہ صرف یہ کہ جنگ یوکرین کا خاتمہ کرانے میں کوئی مدد و تعاون نہیں کیا بلکہ اس جنگ کی آگ کے شعلے زیادہ سے زیادہ بھڑکانے میں جو کچھ بھی ان سے کرتے بنا وہ انھوں نے انجام دیا تاکہ جنگ و خونریزی کا بازار مسلسل گرم رہے۔

    یہ ایسی حالت میں ہے کہ روس نے بارہا اعلان کیا ہے کہ یورپی ملکوں کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی صرف جنگ طویل ہونے کا باعث بنے گی جبکہ ماسکو نے خبردار بھی کیا ہے کہ روس، یوکرین کو فراہم کئے جانے والے ہتھیاروں کو بھی تباہ کرنے اور ان ہتھیاروں کو نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا۔

  • یوکرین میں روس کے خلاف لڑنے والا ایک اور امریکی مارا گیا

    یوکرین میں روس کے خلاف لڑنے والا ایک اور امریکی مارا گیا

    واشنگٹن :امریکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایک اور امریکی شہری ہلاک ہوا جبکہ یوکرین کے مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا امریکی شہری یوکرین کی فوج کے آئی 344 بریگیڈ سے ہے۔ اس طرح روس اور یوکرین کی جنگ میں اب تک 6 امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر امریکی شہریوں کو یوکرین کا سفر نہ کرنے اور وہاں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ مقام پر جانے کی ہدایت کی ہے۔

    امریکہ نے یوکرین کے لئے تین ارب ڈالر کی نئی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے۔ کیف کے یوم آزادی کے موقع پر امریکی صدر جوبائیڈن کی جانب سے اعلان کردہ تین ارب ڈالر کی فوجی امداد کا پیکج اب تک کا سب سے بڑا امریکی پیکج ہے۔ امریکا اب تک یوکرین کو مجموعی طور پر تیرہ ارب پانچ کروڑ ڈالر سے زائد کی فوجی امداد فراہم کر چکا ہے۔

    یوکرین جنگ کو چھے مہینے پورے ہو گئے ہیں۔ امریکا اور یورپ یوکرین کو اب تک اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کر چکے ہیں جن میں انواع و اقسام کے جدید ترین اسلحے شامل ہیں۔

    روس کا کہنا ہے کہ یوکرین کے لئے امریکا اور یورپ کی جانب سے اسلحے کی ترسیل نے جنگ کے طول پکڑنے کے اسباب فراہم کئے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ یوکرین کی جنگ، دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ میں ہونے والی سب سے بڑی جنگ شمار ہوتی ہے جس میں دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی اور شہری مارے جا چکے ہیں

  • ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

    ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے

    کیف:ریلوے اسٹیشن پرمیزائل حملہ،بڑی تعداد میں یوکرینی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،اطلاعات کے مطابق یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ روس کی جانب سے ریلوے اسٹیشن پر میزائل حملے میں 25 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یوکرین کے یوم آزادی کے موقع پر مشرقی یوکرین میں روسی میزائل حملے میں 25 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ ایک مسافر ٹرین کو آگ لگ گئی۔

    امریکا کی یوکرین کیلئے مزید 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب میں یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ روسی راکٹ مشرقی یوکرین میں ٹرین سے ٹکرائے، مرنے والوں میں دو بچے شامل ہیں جن کی عمریں 6 اور 11 برس ہیں، بدقسمتی سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری طرف یوکرین کے یومِ آزادی پر دارالحکومت کیف سمیت دیگر شہروں میں کرفیو نافذ رہا اور ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد رہی۔امریکا، یونان، برطانیہ، جرمنی، بیلجیم اور کینیڈا میں یوکرین کے یومِ آزدی پر شہریوں نے ریلیاں نکالیں اور روس کی یوکرین میں کارروائی کی شدید مخالفت کی۔

    امریکہ کی یوکرین کومزید 800 ملین ڈالرز کی اضافی امداد

    دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کیلئے 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے، صدر بائیڈن نے کہا کہ امریکا کیف کو ہتھیاروں اور دیگر ساز و سامان کیلئے تقریباً 3 ارب ڈالر فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس امداد کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یوکرین طویل مدت تک اپنا دفاع جاری رکھ سکے۔

  • روس سے تجارت، امریکا کی ترکیہ پرپابندیاں عائد کرنے کی دھمکی

    روس سے تجارت، امریکا کی ترکیہ پرپابندیاں عائد کرنے کی دھمکی

    امریکا نے روس سے تجارتی تعلقات رکھنے کی صورت میں ترکیہ پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے دی۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کی جانب سے ترکیہ کی بڑی کاروباری شخصیات اور اداروں کو ایک خط بھیجا گیا ہے جس میں روس سے تجارت کرنے پرپابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔

    امریکا کی یوکرین کیلئے مزید 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد

    رپورٹ کے مطابق ترکیہ کی کاروباری شخصیات نے خط ملنے کی تصدیق کی ہے۔

    رواں ماہ کے آغاز میں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان اور ان کے روسی ہم منصب ولا دیمیرپیوٹن نے ایک ملاقات کے دوران دوطرفہ معاشی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔

    ترکیہ کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق روس اور ترکیہ کے درمیان تجارت میں مئی اورجولائی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔

    امریکی ڈپٹی وزیرخزانہ نے جون میں ترکیہ کا دورہ کیا تھا اور حکام کو روس سے تجارتی روابط رکھنے پر پابندیاں لگانے سے متعلق خبردار کیا تھا۔

    امریکی پارلیمانی اسپیکر نینسی پیلوسی کے شوہر کو پانچ دن جیل کی سزا

    ترکی کی طرف سے روسی تیل کی درآمد میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں فریق کریملن سے منسلک گیز پروم کے ذریعے برآمد کی جانے والی قدرتی گیس کے لیے روبل کی ادائیگیوں پر منتقلی پر رضامند ہو گئے ہیں۔

    امریکی نائب وزیر خزانہ والی اڈیمو نے جون میں انقرہ اور استنبول کا غیر معمولی دورہ کیا تاکہ واشنگٹن کی اس تشویش کا اظہار کیا جا سکے کہ روسی تاجروں اور بڑے کاروباری ادارے مغربی پابندیوں سے بچنے کے لیے ترک اداروں کو استعمال کر رہے ہیں۔

    نیٹو کے رکن ترکی نے ماسکو اور کیف دونوں کے ساتھ اچھی شرائط پر اس تنازعہ میں غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی ہے اور بین الاقوامی پابندیوں کی حکومت میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

    رہائش گاہ پر چھاپہ ، ڈونلڈ ٹرمپ نے محکمہ انصاف پر مقدمہ دائر کردیا